Translater

24 اگست 2019

چدمبرم کی گرفتاری کا ہائی وولٹیج ڈرامہ

آئی این ایکس میڈیا معاملے میں گرفتاری سے بچنے کے لئے 27گھنٹے تک روپوش رہے ۔سابق وزیر خزانہ و داخلہ پی چدمبرم کو ڈرامائی انداز میں آخر کار بدھ کی رات گرفتار کر لیا گیا ۔ان کے جور باغ میں واقع مکان پر تقریبا ایک گھنٹے چلے ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد سی بی آئی انہیں اپنے ہیڈ کوارٹر لے گئی سی بی آئی کے ترجمان کے مطابق کورٹ کے ذریعہ جاری غیر ضمانتی وارنٹ کی بنیاد پر چدمبرم کو گرفتار کیا گیا ۔ وہ منگل کی شام سے لا پتہ تھے لیکن رات سوا آٹھ بجے اچانک کانگریس سینر لیڈروں کے ساتھ پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرنے پہنچ گئے اور خود بے گناہ بتایا اور بولے وہ قانون سے بھاگ نہیں رہے بلکہ قانون کا سہارا لے رہے ہیں ۔چدمبرم کے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں موجود رہنے کی خبر ملتے ہی سی بی آئی کی ٹیم وہاں پہنچی قریب سات منٹ بیان دینے کے بعد چدمبرم سابق وزیر و ان کے وکیل کپل سبل اور ابھیشک منو سنگھوی کے ساتھ اپنے گھر کے لئے روانہ ہوئے اور ان کے پیچھے پیچھے سی بی آئی کی تین ٹیمیں بھی ان کے گھر پہنچ گئیں ۔مین گیٹ بند ہونے سے تین افسران کو بار بار دروازہ کھلوانے کی درخواست کے بعد دروازہ نہ کھلنے پر انہیں مجبوراََ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہونا پڑا اور گیٹ کھولا اسی درمیان انفورسمینٹ ڈاریکٹریٹ کی ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی بڑی تعداد میں کانگریسی ورکر بھی وہاں جمع ہوگئے اور انہوں نے افسران کو ورکروں کی بھاری مخالفت جھیلنی پڑی ۔سی بی آئی چدمبرم کو لے کر گھر سے نکلی تو ایک ورکر اس کار پر چڑھ گیا۔ جس میں چدمبرم کو لے جایا جا رہا تھا اس درمیان بی جے پی کے ورکر بھی وہاں احتجاج کرنے پہنچ گئے اور دونوں پارٹیوں کے ورکروں میں جھڑپیں ہونے لگیں ۔سی بی آئی نے حالات بگڑتے دیکھ دہلی پولس اور سی آر پی ایف کے جوانوں کو بھی بلا لیا ۔چدمبرم کو جس سی بی آئی ہیڈ کوارٹر میں لے جایا گیا اس کا افتتاح بھی اپریل 2011میں انہوںنے اور اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کیا تھا اور اس پروگرام میں بطور مہمان خصوصی چدمبرم شامل ہوئے تھے ۔ان کی قانونی لڑائی لڑ رہے کپل سبل بھی تھے ۔چناﺅ میں زبردست ہار کے بعد سے بکھری کانگریس پہلی بار چدمبرم کے حق میں ایک ساتھ کھڑی دکھای دی سپریم کورٹ میں سماعت جمعہ کو طے ہونے کے بعد کپل سبل نے احمد پٹیل کے ذریعہ سونیا گاندھی کو اس کی اطلاع دلائی اور سونیا کے کہنے پر پارٹی کے نیتاﺅں نے حکمت عملی تیار کی کہ اب انہیں بھگوڑا دکھانے کے بجائے حالات کا مقابلہ کیا جائے شام ساڑھے چھ بجے طے ہوا کہ وہ سامنے آکر پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کریں گے سات بجے فون پر سونیا گاندھی نے چدمبرم کو پریس کانفرنس کے لئے بلایا پہلے چدمبرم کو ساتھ رکھنے کا ذکر نہیں تھا اب پارٹی سے سیاسی بدلے کی کارروائی کا اشو بنانے کے لئے تیار ہے ۔چدمبرم کے پیچھے ایک ساتھ کھڑے کانگریس کے نیتاﺅں کا خیال ہے کہ مودی سرکار اب پارٹی کے کچھ دیگر سینر لیڈروں کو نشانہ بنا سکتی ہے ۔مستقبل کے خطرے کو دیکھتے ہوئے کانگریس اب زیادہ چوکس اور مستعد ہو گئی ہے پارٹی سیکریٹری جنرل پرینکا واڈرا اور راہل گاندھی کے ٹوئٹ میں پارٹی نے صاف پیغام دیا تھا کہ ہمیں چدمبرم کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہنا ہے ۔اسی کے تحت پارٹی ہیڈ کوارٹر میں چدمبرم کے ساتھ پریس کانفرنس میں احمد پٹیل ،وینو گوپال ،غلام نبی آزاد،ملک ارجن کھڑگے ،کپل سبل،احمد پٹیل اور منو سنگھوی ،سلمان خورشید وغیرہ موجود تھے ۔پارٹی اس معاملہ کو سیاسی لڑائی کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے ۔کانگریسی کھل کر کہہ رہے ہیں کہ وزیر داخلہ امت شاہ چدمبرم سے بدلہ لے رہے ہیں ۔سہراب الدین کیس معاملے میں چدمبرم نے امت شاہ کو جیل بھجوایا تھا اسی کا بدلہ وہ لے رہے ہیں ساتھ ہی کانگریس یہ بھی پیغام دینا چاہتی ہے کہ سی بی آئی ای ڈی کی جو بھی کارروائی ہو رہی ہے وہ اقتدار کا بے جا استعمال ہے ۔اور سیاسی بدلے کے جذبے سے کارروائی کی جا رہی ہے ۔چدمبرم تو اس کڑی میں پہلے شکار ہیں رابرٹ وڈرا،راہل گاندھی،اور خود سونیا گاندھی کا بھی نمبر آسکتا ہے جس طرح سے سی بی آئی نے چدمبرم کو گرفتار کیا اس کی ضرورت نہیں تھی، سی بی آئی کے سابق جوائنٹ ڈائیکریٹر ایم کے سنگھ کے مطابق اس طرح سے چدمبر م کو گرفتار کیا جانا سی بی آئی کی زیادتی ہے جس سے بچا جا سکتا تھا ۔یہ صحیح ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔لیکن مقدمہ کو دیکھنا پڑئے گا کہ کیس ہے کیا ؟یہ معاملہ بہت پرانا ہے دس سال کے بعد 2017میں مقدمہ درج کیا گیا اندرانی مکھرجی نے جو خود اپنی لڑکی کے قتل کے الزام میں جیل میں بند ہیں ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے ۔وہ اس مقدمہ میں سی بی آئی کے کہنے پر سرکار ی گواہ بن جاتی ہیں اور ان کے بیان پر چدمبرم کے خلاف معاملے کی جانچ ہو رہی ہے ۔جانچ کو پورا کیا جانا عدالت کے سامنے رکھا جانا اور یہ جو مقدمہ ہے اس کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ معاملہ پرانا ہے اس کی جو بنیاد ہے ان ساری باتوں کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ سی بی آئی کا زیادہ ہی سخت کی رروائی ہے ۔آخر سی بی آئی جمعہ تک کیوں نہیں انتظار کر سکی ۔سپریم کورٹ میں چدمبرم کی ضمانت کی ارضی پر سماعت ہونے والی تھی ؟ایسی کیا جلدی تھی ؟اب یہ معاملہ پوری طرح سیاسی بن گیا ہے ۔مودی جنتا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ طاقت کے زور پر طاقتور لوگوں کو جیل بھیج سکتے ہیں ۔مودی امت شاہ یہ بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سرکار کرپشن کے خلاف مضبوطی سے لڑئے گی اور یہی اس کا مضبوط ارادہ ہے ۔

(انل نریندر)

23 اگست 2019

پاکستانی فوج کے چیف جنرل قمرباجوا مزید تین سال تک عہدے پر فائض رہیں گے

پاکستان کے موجودہ فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوا اسی سال نومبر میں ریٹائر ہونے والے تھے لیکن پچھلے پیر کو پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ موجودہ جنرل باجوا مزید تین سال کے لئے فوج کے چیف بنے رہیں گے اس سے پہلے 2010میں اس وقت کے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ان کے عہدہ معیاد میں توسیع دی گئی تھی 58سالہ باجوا کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے نومبر 2016میں فوج کا چیف مقرر کیا تھا انہوںنے ان سے سینر تین جنرلوں کو در کنار کرتے ہوئے باجوا کو فوج کا چیف بنایا تھا ۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس فیصلے پر کہا کہ افغانستان میں قیام امن کی کارروائی اور بھارت کے ساتھ کشمیر پر بڑھی تلخی کو لے کر یہ ضروری فیصلہ ہے ۔اور یہ پاکستان کی سلامتی سے بھی جڑا ہے ۔پاکستان کے پاس دنیا کے چھٹی سب سے بڑی فورس ہے جس کا دیش کے نیوکلیائی ہتھیاروں پر بھی کنٹرول ہے ۔پاکستانی فوج نے پاکستان کے بننے کے بعد وہاں کئی حکمرانوں کے تختہ پلٹ کئے اور اب تک آدھے وقت تک دیش پر فوج کا ہی راج رہا ہے ۔عمران خان کو پاکستان کا وزیر اعظم بنانے میں جنرل باجوا کا اہم رول تھا ۔یہ کہا جائے کہ عمران نے جو فیور باجوا کا کیا ہے وہ انہوںنے اس کا ریٹررن کر دیا ہے ۔کئی دنوں سے یہ قیاس آرئیاں جاری تھیں کہ وزیر اعظم جنرل باجوا کو دوسری معیاد دے سکتے ہیں کیونکہ دونوں مل کر کام کرتے ہیں یہ پی ایم عمران خان کے حالیہ امریکی دورے پر باجوا بھی ان کے ساتھ تھے پاک فوج کے چیف کی تقرری پی ایم و ان کی سرکار کی ترجیح ہے ۔سب سے سینر افسر کو فوج کا چیف بنائے جانے کی روایت کا پروٹوکول نہیں رکھا جاتا پی ایم و سرکار کے ذریعہ تقرری کو صدر ہی منظوری دیتے ہیں ۔2016میں فوج کا چیف بننے کے بعد پاکستان میں فوجی حکومت کے قیام کے اندیشہ بنے تھے لیکن ان کو مسترد کرنے والا جنرل باجوا ہیں جنہوںنے حکومت پر فوجی حکمرانی کی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ۔پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو باجوا کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی مانا جاتا ہے فوج کے چیف کی معیاد کو بڑھایا جانا غیر مناسب قدم بتاتے ہوئے پاکستان کی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلس پارٹی کے سینر ممبر فرحت اللہ بابر نے ٹوئٹ کیا کہ مضبوط ادارے کسی خاص شخص پر انحصار نہیں کرتے چاہے وہ شخص کتنا بھی مضبوط ،اہل اور ٹیلنٹ والا کیوں نہ ہو ؟جیسے مزیدار بات یہ ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان فوج کے چیف کی معیاد کے بڑھانے کے حق میں نہیں تھے اور ایسا کرنا فوج کے قواعد کو بدلنے کا کام ہے جو ادارے کی شکل میں فوج کو کمزور کرتا ہے ۔عمران کا یہ بیان 2010میں اس وقت دیا گیا تھا جب پی پی کے فوج کے چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی معیاد کو بڑھائے جانے کے بعد آیا تھا ۔لیکن آج جو پاکستان کے اندرونی حالات ہیں ہم عمران خان کے ذریعہ جنرل باجوا کی معیاد میں توسیع کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں ۔

(انل نریندر)

بالا کوٹ کے ہوائی جانبازوں کوویرتا سمّان

تینوں افواج کے سپریم کمانڈر صدر جمہوریہ کی جانب سے ہر سال کی طرح اس سال بھی یوم آزادی پر بہادری ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا اور اس سال بالا کوٹ ائیر اسٹرائک کے اعزازوں میں چھایا رہا ۔پاکستان کے بالا کوٹ میں ائیر اسٹرائیک کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے ایف16جنگی جہاز کو مار گرانے والے وند کمانڈر ابھنند ن وردمان کو ویر چکر سے نوازہ گیا۔کمانڈر ابھنندن نے پاکستان کے انتہائی جدید ترین ایف 16جنگی جہاز کو اپنے مگ 21وائسن سے مار گرایا تھا ۔اس دوران ان کا جہاز حادثہ کا شکار ہو گیا تھا جس سے وہ پاک سرحد میں پہنچ گئے اور تین دن تک قیدی رہے ۔بتا دیں کہ ویر چکر جنگ کے دوران بہادری کے لئے دیا جانے والا تیسرا سب سے بڑا فوجی اعجاز ہے ۔وہیں بالا کوٹ میں جیش محمد کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے والے جنگی جہاز کے دوسرے پائلٹ ونگ کمانڈر امت رنجن اسوائڈرن لیڈر راہل بوناپا،پنکج منڈے ،بی ایس ریڈی اور ششانگ سنگھ کو ائیر فورس میڈیل سے نوازہ جائے گا۔بالا کوٹ میں ائیر اسٹرائیک کے بعد کشمیر میں پاکستان کے جہازوں کی گھس پیٹھ کے دوران فائٹر کنٹرول کی ذمہ داری سنبھالنے والی اسکوائیڈرن لیڈر منٹی اگروال کو جنگ سروس میڈیل دیا جائے گا۔اس مرتبہ بہادری ایوارڈ پانے والوں میں منٹی اکیلی خاتون ہیں ۔ان کو یہ ایوارڈ بالا کوٹ ہوائی حملہ کے بعد بھارت پاک میں ہوائی جنگ کے دوران دئے گئے تعاون کے لئے دیا جائے گا ۔جب پاکستانی جنگی جہازوں نے ان کے ائیر بیس سے اڑان بھری۔ اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے راستہ ہندوستانی فضائی حدود میں داخل کرنے کے لئے آگے بڑھے تبھی منٹی اگروال جو اس وقت ائیر فورس کے راڈرار کنٹرول اسٹیشن پر تعینات تھیں نے وائیو سینا کے ائیر بیس کو مطلع کر دیا جہاں ونگ کمانڈر ابھنندن سمیت کئی ہندوستانی جنگی پائلٹ ہائی الرٹ پر تھے فائیٹر کنٹرولر کا رول نبھانے والی منٹی اگروال سے اطلاع ملتے ہی ابھنندن وردھمان نے اڑان بھری اور اپنی ہوائی سرحد پر پہنچ گئے اس درمیان منٹی اگروال ابھنند ن کو پل پل پاکستانی جیٹ کی پوزیشن کے بارے میں انہیں بتاتی رہی جس سے ابھنند ن آپریشن کو پورا کرنے میں کامیاب رہے ۔اس کے علاوہ پلوامہ حملہ کے ماسٹر مائنڈ غازی رشید کا صفایا کرنے والے آر آر رائیفلس کے میجر وبھوتی شنکر ڈوڈیال سمیت اتراکھنڈ کے سات جوانوں کو یوم آزادی کے موقع پر بہادری ایوارڈس کا اعلان کیا تھا ،میجر ڈوڈیال کو (بعد از مرگ)کو شوریہ چکر ان کے دوست رہے میجر چتریش برشٹ (بعد از مرگ )کو فوجی میڈیل سے نوازہ گیا۔میجر ڈوڈیال اور میجر برشٹ دونوں ہی دہرادون کے رہنے والے تھے اور ساتھ ساتھ فوج میں شامل ہوئے تھے اور اسی برس فروری میں شہید ہوئے تھے ۔میجر ڈوڈیال آتنکیوں کے ساتھ چلی مڈ بھیڑ اور فوجی کارروائی کے دوران شہید ہوئے تھے ۔ہم ان جانبازوں کو سلام کرتے ہیں ۔جے ہند۔

(انل نریندر)

22 اگست 2019

بڑھتی آبادی کو روکنا بھی ہے دیش بھکتی !

دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اس میں سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ بھارت کی آبادی بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے یہی حالات رہے تو سال 2027تک ہم چین کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائیں گے ۔عالمی آبادی پر اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت کی حالت یہ ہے کہ 27.30کروڑ لوگ بڑھ جائیں گے 2019سے 2050تک کی امکانی آبادی پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صدی کے آخر تک ہندوستان کی آبادی 150کروڑ ہو جائے گی ۔وہیں آبادی کو کنٹرول کرنے کی پالیسیوں کے سبب چین کی آبادی 110کروڑ پر رک جائے گی ۔40.30کروڑ کی آبادی کے ساتھ پاکستان پانچویں نمبر پر رہے گا ۔15اگست کو لال قلعہ سے دیش سے خطاب کرتے ہوئے 90منٹ کی تقریر میں جس اہم مسئلہ کا ذکر وزیر اعظم نے کیا تھا وہ ہے دیش کی بڑھتی آبادی ۔انہوںنے لوگوں سے پوچھا تھا کہ وہ دیش کی آبادی پر قابو کرنے کےلئے کیا کر رہے ہیں ۔اور کیا کر سکتے ہیں ؟مودی نے کہا کہ بے تحاشہ بڑھتی آبادی سبھی کے لئے تشویش کا موضوع ہونا چاہیے سماج کا ایک چھوٹا طبقہ اپنے خاندان کو چھوٹا رکھتا ہے وہ احترام کا حقدار ہے اور وہ جو کر رہے ہیں وہ بھی ایک طرح کی دیش بھگتی ہے ۔یہ شاید پہلی بار ہے جب پی ایم مودی نے اپنے الفاظ کے ذریعہ بڑھتی آبادی کا اشو اُٹھایا ہے اور دیش میں بڑھتی آبادی دھماکوں صوتحال جتانا اور اس کے روک تھام کے لئے ہر شہری کو جوابدہی طے کرنے کے لئے متحد ہو کر آگے بڑھنے کی اپیل اور مثبت اثر رول ادا کر سکتا ہے ۔بڑھتی آبادی اور گھٹتے پانی و دیگر وسائل سے یہ تو طے ہے کہ اگر مرکز سمیت ریاستی سرکاروں کے ساتھ ہر نوجوان الرٹ نہیں ہو اتو آنے والی پیڑھیوں کے لئے سنگین مسئلہ کھڑے ہو جائیں گے ۔خاندانی منصوبہ بندی کو مرضی سے اپنانا ہوگا اور اس کے لئے تحریک چلانی ہوگی ایسے ہی مرکز ریاستی حکومتیں پہلے سے ہی زیادہ سہولتیں اور رعایتں دے کر ہم دو ہمارے دو کے پلان کی طرف جو کوششیں کر رہی ہیں اس میں تیزی لانی ہوگی ۔دیش کو خاندانی منصوبہ بندی میں سختی کا تجربہ 1975-1976میں امرجنسی کے دوران ہو چکا ہے اس سے سب سے بہتر راستہ ہے کہ سماجی بیدادی لانا ۔وزیر اعظم مودی کے مطابق اب وقت آگیا ہے جب دیش چھوٹے کنبوں کی پیروی کرئے کیونکہ اگر پڑھے لکھے لوگ تندرست نہیں ہوں گے تو نہ دیش ترقی کرئے گا اور نہ ہی خاندان خوش رہے گا ۔اس وقت ایک ارب 30کروڑ والا ہمارا دیش دنیا کا سب سے زیادہ دوسرا دیش بن گیا ہے ۔اگر لوگ دیش کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ فیملی پلانگ کے ذریعہ بھی دیش بھکتی دکھا سکتے ہیں ۔

(انل نریندر)

اور اب ہڈا نے دکھاے باغی تیور!

حال ہی میں سونیا گاندھی نے ایک بار پھر پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تو کانگریسیوں میں یہ امید جاگی کہ اب پارٹی موجودہ بحران سے نکل جائے گی پارٹی میں گروپ بندی اور ڈیسپلین شکنی و اسے چھوڑنے کا ٹرینڈ ختم ہو جاے لیکن ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سنیر لیڈر بھوپیندر سنگھ ہڈا نے پارٹی سے بغاوتی تیور دکھا دئے ہیں ہڈا اپنی ہی پارٹی سے باغی ہو گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہریانہ کانگریس میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ۔قیاس آرئیاں جاری ہیں کہ وہ اپنی نئی پارٹی کا اعلان کریں گے اور روہتک میں ایک بڑی ریلی کر کے انہوں نے اتوار کو پارٹی ہائی کمان کے سامنے ایک طرح کی طاقت کا مظاہر ہ بھی کر ڈلا ہے ۔ہڈا کے ساتھ اسٹیج پر کانگریس کے 16میں سے 13ممبر اسمبلی موجود تھے ۔ہڈا کے باغی ہونے کا یہ پہلا اشارہ تب ملا جب انہوں نے جموں و کشمیر سے 370ہٹائے جانے کی سرکار کی کھل کر ہمایت کی جبکہ کانگریس پارٹی اس کی مخالفت کر رہی تھی ہڈا نے روہتک میں مہا پریوررتن ریلی میں جو تیور دکھائے وہ بھی یہی اشارہ کرتے ہیں کہ پارٹی میں اب کچھ ٹھیک ٹھا ک نہیں ہے ۔وہ سبھی بندھنوں سے نجات پا کر آئے ہیں اور جنتا کے لئے مفاد کی لڑائی میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کو تیار ہیں ۔مگر اتنے برسوں کے بعد ان کی باغی ہونے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔اپنی پارٹی لائن سے ہٹ کر بولتے ہوئے ہڈا نے اپنی پارٹی کی خامیاں گنوانا شروع کر دیں واضح ہو کہ ہریانہ کانگریس میں رسہ کشی کافی عرصہ سے جاری ہے اور پردیش کے نیتا وقتاََ فوقتاََ دہلی میں پارٹی ہائی کمان سے مل کر شکایت کرتے رہے ہیں ۔حالانکہ پردیش صدر اشوک تور پر راہل گاندھی کو کافی بھروسہ ہے اب جب پارٹی کی کمان ایک مرتبہ پھر سونیا گاندھی کے ہاتھ میں آگئی ہے تو ہڈا کے قریبی مانے جانے والے نیتاﺅں کو لگتا ہے کہ شاید اب ہریانہ کانگریس میں رد و بدل ہوگی ہریانہ میں کانگریس کی کارکردگی بہت خراب رہی ہے ۔اور حال ہی میں ہوئے عام چناﺅ میں اسے ایک بھی سیٹ نہیں مل پائی ہریانہ کی سیاست پر نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ اتنی بڑی ریلی منعقد کر کے بھوپیندر سنگھ ہڈ انے کانگریس ہائی کمان کو یہ اشارہ بھی دینے کی کوشش کی کہ وہ آج بھی ہریانہ میں پارٹی کے سب سے مقبول لیڈر ہیں اور دوسروں کے مقابلے میں ان کا سیاسی قد بھی بڑا ہے ۔سونیا گاندھی و ان کے خاندان کے لئے ہڈا کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔رابرٹ واڈرا کیس میں ہڈ ابھی اہم ترین شخص ہیں ۔اگر بھاجپا ہڈا کو توڑ لیتی ہے تو اس کا اثر رابرٹ واڈرا کیس پر پڑ سکتا ہے ۔پتہ چلا ہے کہ ہڈا پنی نئی پارٹی کا اعلان کرنے والے تھے لیکن کانگریس صدر سونیا گاندھی سے فون پر بات چیت کے بعد انہوںنے فیصلہ سونیا کی طرف سے مثبت یقین دہانی کے بعد ٹال دیا ہے ۔اب ہڈا نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر دی ہے ان کے حماہیتوں نے یہ امید لگائی ہوئی تھی کہ ہڈا اتوار کو مہا پریورتن ریلی میں اپنی الگ پارٹی کا اعلان کریں گے لیکن ایسا ہوا نہیں اس کا سہرا سونیا گاندھی کو جاتا ہے پردیش سطح پر نیتا بڑی بڑی باتیں بھلے ہی کر لیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ کانگریس کی تنظیم ضلع سطح پر ہے اور نہ ہی بڑے سطح پر ہے ۔ایسے میں کہیں چناﺅ لڑا جا تا ہے ؟ویسے ہریانہ میں ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے جب کانگریس کے کسی بڑے نیتا نے پارٹی سے بغاوت کی ہو ۔سال 1971میں چودہری دیو ی لا ل نے کانگریس سے بغاوت کر لوک دل بنائی تھی پھر بنسی لال نے بھی ایسا ہی کیا اگر ہڈا نئی پارٹی بناتے ہیں تو یقینی طور پر کانگریس کو ہریانہ میں نقصان ہوگا اکیلے ہریانہ میں ہی کانگریس نے گروپ بندی نہیں ہے ۔کئی اور ریاستوں میں بھی کم و بیش یہی حالت ہے کانگریس لیڈر شپ کو اس سے سوجھ بوجھ کے ساتھ نمٹنا ہوگا ۔اگر کانگریس کے ساتھ ساتھ اسے پالیسی ساز پہلو پر بھی توجہ دینی ہوگی اگر ایسا نہیں کیا ہریانہ جیسا حال دیگر ریاستوں میں بھی ہو سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

21 اگست 2019

اسلام آباد میں لگے اکھنڈ بھارت کے بینر

یوروپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں مقیم بلوچ فرقے کے لوگوں نے 11اگست کو یوم بلوچستان منایا اس موقع پر منعقدہ سیمینار میں عالمی برادری سے ماں کی گئی کہ پاکستان کے شکنجہ سے ہمیں آزاد کرایا جائے ساتھ ہی آزادی ملنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہرایا اس موقع پر بلوچ فریڈم فرنٹ نے ٹوئیٹ کر دنیا کو بتایا کہ برطانیوی حکومت کے دوران 11 اگست 1947 کو بلوچستان کو آزاد ملک اعلان کیا گیا تھا لیکن 27 مارچ 1948 کو پاکستانی فوج نے بلوچستان پر قبضہ کر کے اسے غلام بنا لیا تھا اور اسے کلپت صبح کا نام دے دیا تھا تبھی سے بلوچ آبادی اپنی آزادی کے لئے جدو جہد میں لگی ہے قابل غور ہے کہ پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا تھا، برلن میں بلوچ نیشنل مومینٹ اس پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفع370 کو ختم کرنے پر پاکستان اپنی چھاتی پیٹ رہا ہے لیکن وہ خود اپنے یہاں بلوچستانیوں پر جو ظلم ڈھا رہا ہے ان کی بات نہیں کرتا حیرانی نہیں ہونی چائے جبکہ حال ہی میں پاکستانی راجدھانی اسلام آباد میں کئی جگہ اکھنڈ بھارت کی ہمایت میں بینر دکھائی دیئے۔ ان علاقوں میں اہم ترین عمارتیں ہیں جیسے پاکستانی پارلیمنٹ وزیر اعظم کی رہائش گاہ شامل ہے ان بینروں پر شیو سینا کے نیتا سنجے راوت کا وہ بیان لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آج جموں و کشمیر لیا ہے کل بلوچستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر لیں گے اور مجھے یقین ہے کہ دیس کے وزیر اعظم نریندر مودی اکھنڈ بھارت کا سپنا پورا کریں گے اس سلسلے میں پولیس نے چھاپا ماری کر کے تین لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے اور اسلام آباد میں ایسے پوسٹر دکھائی دینے سے پاکستان اس قدر بوکھلا گیا ہے کہ وہاں کے انتظامیہ نے ایم سی ڈی کو نوٹس جاری کر کے کہا کہ وہ وہ چوبیس گھنٹوں میں بتائے کہ پوسٹر کو ہٹانے میں پانچ گھنٹے کےوں لگے ۔ کہا کہا جارہا ہے کہ ان بینروں اور پوسٹروں کو راتوں رات اسلام آباد میں لگا دیا گیا تھا صبح ہونے پر سب سے پہلے اپنے کام پر اپنے مقامی لوگوں نے انہیں دیکھا ۔ بینروں کے بارے میں خبر پھیلنے سے اسلام آباد کے باشندوں کے درمیان غصہ پھیل گیا اور کہا کہ اسلام آباد میں کون ایسے کارناموں کو انجام دے سکتا ہے مقامی لوگوں نے کہا کہ یہ ہماری قانون و نظام کی ناکامی ہے کہ راجدھانی کہ سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے اہم علاقہ ہے اور اس طرح کے بینر لگائے گئے اور ہماری ایجنسیاں انہیں روک تک نہیں پائیں ظاہر ہے کہ یہ علاقہ پاکستان نیشنل اسمبلی اور پی ایم ہاو ¿س ایجنٹلی جنس بیرو اور آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے نزدیک ہے یہاں کئی ملکوں کے سفارت خانے اور وزارت خارجہ بڑے سرکاری دفاتر کی عمارتیں بھی ہیں ایسے میں بھارت کی حمایت میں لگنے والے بینروں کا لگنا ضلع انتظامیہ اور پاکستانی پولیس اور ایجنسوں کو سوالوں کے گھیرے میں لے آیا ہے ۔

(انل نریندر)

مندی کی مار سے متاثر ہماری معیشت

وزیر اعظم نریندر مودی نے مالی سال 2024-25 تک بھارت کو پانچ عرب امریکی عرب والی معیشت بنانے کا جو نشانہ رکھا ہے وہ کافی بھرا ہے اس وقت ہندوستان کی معیشت قریب 2.7 عرب امریکی ڈالر کی ہے اب موجودہ حالت حولہ افزاءنہیں مانی جاسکتی کیونکہ بھارت مندی کے دور سے گزر ہے اقتصادی سروے کا اندازہ ہے کہ وزیر اعظم کے طے کردہ نشانہ تک دیش کی گھریلو پیداوار کو ہر سال 8 فیصدی کی شرح سے بڑھنا ہوگا اس نشانہ کے برعکس دیس کی معیشت میں ترقی کی رفتار سست ہوگئی ہے پچھلے تین سال سے ایسا ہورہا ہے صنعت کے بہت سے سیکٹر ترقی کی شرح کئی سال سے نیچلی سطح تک پہونچ گئی ہے دیس کی معیشت کی صحت کیسی ہے اس کا اندازہ ہم ان پانچ اشاروں سے لگا سکتے ہیں۔ پہلا جی ڈی پی دیس کے گھریلو فسکل پیدا وار یعنی جی ڈی پی پچھلے برسوں میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے ۔ 2016-17 میں جی ڈی پی 8.2 فیصدی تھی جو 2017-18 میں گھٹ کر 7.2 فیصدی رہ گئی سال 2018-19 میں گر کر 6.8 فیصدی ہوگئی سرکاری اعداد و شمار پر غور کریں تو سال 2019 کی جنوری سے مارچ کے درمیان جی ڈی پی ترقی شرح 5.8فیصد رہ گئی ہے جو پچھلے پانچ سال میں سب سے کم ہے۔صرف تین سال میں ترقی شرح کی رفتار 1.5 فیصد کی کمی بہت بڑی کمی ہے۔ جی ڈی پی ترقی کی شرح گھٹنے کی وجہ سے لوگوں کی آمدنی ، کھپت ، بچت ، سرمایہ کاری اور سب پر اثر پڑرہا ہے ترقی شرح گھٹنے سے لوگوں کی آمدنی پر برا اثر پر رہا ہے۔ مجبوراً لوگ اپنے خرچوں میں کٹوتی کرنی پڑرہی ہے گراہکوں کی خریداری میں کمی آگئی ہے اور سب سے زیادہ کمی کا آثر آٹو پر پڑا ہے سب سے زیادہ کمی کار کمپنی ماروتی کی فروخت 16.68 فیصد تک گری ہے دوپہیہ ہیرو ہنڈا موٹر کار کی بکری 12.45 فیصد گری ہے اور یہ پرائیوٹ کمپنیوں کے اعداد و شمار ہےں بکری کی گراوٹ سے اعداد گرنے کے لئے لوگ اپنے نوکریوں میں کٹوتی کر رہی ہے اور دیس بھر میں آٹو موبائل ڈیلروں نے پچھلے تین مہینوں میں لوگوں کی چھٹنی کی ہے ۔ یہ اعداد وشمار فیڈریشن آف آٹو موبائلس ڈیلرس ایسوسی ایشن کے ہیں۔ ملازمتوں میں یہ کٹوتی ، آٹو صنعت میں کی گئی اس کٹوتی سے الگ ہے ۔ اب اپریل 2019 سے پہلے کے 18 مہینوں کے دوران دیس کے 271 شہروں میں گاڑیوں کے 288 شو روم بند ہوگئے اس کی وجہ سے 32 لوگ بے روزگار ہوگئے کھپت کی کمی کی وجہ سے ٹاٹا موٹرز جیسی کمپنی کو اپنے گاڑیوں کے پروڈکشن میں کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کل پرزے اور دوسرے آٹو سیکٹر سے جڑے لوگوں پر برا اثر پڑ رہا ہے جیسے جمشید پور اور آس پاس کے علاقوں میں 30 فولادی کمپنیاں بند ہونے کے دہانے پر کھڑی ہیں ایک درجہ کے قریب کمپنیاں تو پہلے ہی بند ہوچکی ہیں معیشت کی ترقی کی رفتار دھیمی ہونے کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سےکٹر پر بھی ہوا ہے اور بلڈروں کا کہنا ہے کہ دیس کے 30 بڑے شہروں میں 12.76 لاکھ مکان بکنے کے لئے بنے پڑے ہیں اس کا مطلب ہے ان شہروں میں جو مکان فروخت کے لئے تیار ہے ان کا کوئی خریدار نہیں ہے آمدنی بڑھ نہیں رہی ہے اور بچت کی رقم بغیر بکے ہوئے مکانوں میں پھنسی ہوئی ہے اور معیشت کی دوسری پریشانیوں کی وجہ سے گھریلو بچت پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے گھریلو بچت کی جو رقم بینکوں میں جمع ہوا کرتی تھی اسی پر وہ کاروباریوں کو قرض دیا کرتے تھے ۔ جب بچت میں گراوٹ آتی ہے بینکوں کے قرض دینے کی رفتار بھی گھٹ جاتی ہے اور آج ملک کے بینکوں کا حال بہت برا ہے اور بینکوں کے پاس قرض دینے کے لئے پیسہ نہیں اورعام طور پر جب گھریلو بازار میں کھپت کم ہوتی ہے تو ہندوستانی صنعتکار اپنا سامان برآمد کرنے اور بیرون ملک میں اپنے سامان کا بازار تلاشتے ہیں اور لیکن آج حالت یہ ہے کہ غیر ملکی بازار میں ہندوستانی سامان کے خریدار نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے ہندوستان کا ایکسپورٹ مسلسل گھٹتا جارہا ہے مئی کے مہینہ میں برآمداد کی ترقی کی شرح 3.9 فیصد تھی لیکن اس سال جون میں یہ گھٹ کر -9.7 گراوٹ آئی ہے یہ اکتالیس مہینوں میں سب سے کم برآمدات شرح ہے ۔ اگر معیشت پر بحران کے بادل ہوں تو اس کا اثر غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی پڑتا ہے اپریل 2019 بھارت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 3.3 عرب ڈالر تھی لیکن مئی مہینہ میں یہ گھٹ کر 5.1 ارب رہ گئی۔ مودی سرکار کا پہلا عہد شاندار تھا لیکن جلد ہی وہ بے سمت ہوگیا معیشت میں ڈھانچہ بند تبدیلیوں کے جس بلیو پرنٹ کا اعلان ہوا تھا اسے 2015 کے آخرمیں ہی ٹھنڈے بستہ میں ڈال دیا گیا۔ مزدوری ، زمین سے جڑے قوانین سے اصلاحات ادھوری ہےں زرعی سیکٹر کی ترقی کی شرح کی کمی سے نمٹنے کے لئے میک ان انڈیا کی شروعات کی گئی تھی لیکن اس کا بھی برا حال ہے ۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کو ہربڑی میں اٹھائے گئے قدموں کا سیدھا اثر معیشت پر پڑا ہے ۔ ٹیکس اصلاحات کی جو امید تھی وہ اس سال کے بجٹ میں کوئی نظر نہیں آئی۔ وزارت کے مالیات کے حکام کے ذریعے پی ایم او کو بار بار آگاہ کئے جانے کے باوجود منموہن سرکار سے وراثت میں ملی دیس کی بدحال بینکنگ اور مالی نظام کی خامیوں کو دور کرنے کی پالیسیاں بنانے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ۔ پچھلی کئی دہائیوں میں ایسا کئی بار پہلے بھی ہوا ہے جبکہ وزارت مالیات میں ایسا کوئی اعلیٰ افسر نہیں ہے جس کے پاس معیشت میں پی ایم ڈی کی ڈگری ہو اور جو معیشت کی بڑھتی چنوتیوں سے نمٹنے کے لئے سرکاری پالیسیاں بنانے میں مدد کر سکے ۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...