کشمیر وادی میں حالات تیزی سے بہتر ہوتے جارہے ہیں وہاں لوگوں میں روز مرہ کے کام کاج گیارہ دنوں کے بعد پھر سے شروع ہوگئے ہیں۔اس کے بعد ریاستی حکومت نے ٹیلی فون انٹرنیٹ وغیرہ کی پابندیا ں ہٹا دی ہے اور پوری ریاست میں سوموار کو اسکول کھل گئے اور زارت داخلہ کے مطابق حالانکہ کی دہشت گردانہ اندیشہ بنا ہوا ہے اور اس بارے میں خفیہ سرکار کو بار بار احتیاط برتنے کی صلاح دے رہی ہے کیونکہ پاکستان بھڑکانے کی پوری کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن ہماری فوج پوری طرح چوکس ہے ۔ جموں کو حاصل خصوصی درجہ کو ختم کردیا گیا تھا اور دو مرکزی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا اس کے بعد وادی کشمیر میں کشیدگی کے بعد اب حالات تیزی سے نارمل ہو رہے ہیں اور پیر کے روز اسکول کھلنے سے وادی میں بازاروں اور سڑکوں پر چہل پہل اور رونق دکھائی دی اور سڑکوں میں گاڑیاں اور عام دنوں کی طرح چلنے لگی ہیں ۔ جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری سبرا منیم سوامی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالات پوری طرح قابو میں ہے اور انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ پچھلے گیارہ دنوں میں ریاست میں نہ کوئی حادثہ ہوا اور نہ کسی کی کوئی جان گئی ہے اورنہ فائرنگ ہوئی تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے پابندیوں میں آہستہ نرمی دی جائے گی۔ گذشتہ جمعہ کو نماز کے بعد تشدد کی واردات نہ ہونا اچھا اشارہ ہے جموں کشمیر کے بائیس میں سے 12 ضلع میں کام کاج بحال ہوگیا ہے اور انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کا گڑھ ساﺅتھ شوپیاں کا بھی دورہ کیا اور وہاں کے مقامی لوگوں کے علاوہ سیکورٹی فورس کے لوگوں سے مل کر ان کا حوصلہ بڑھایا اور اسی طرح کشمیر کے 12 بارہ مولہ میں حالات ٹھیک ہے اور وہاں کے حکام کی مانتیں تو بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال نے ریاست میں لائن آرڈر پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں اور افسران کو چوکس رہنے کی صلاح دی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں کوتاہی نہ برتیں تاکہ عوام کو کوئی جانی و مالی نقصان پہونچ سکے۔ ریاست کے اندرونی علاقوں میں دہشت مخالف کاروائیاں اور قانونی نظام سے وابستہ تدابیر اور کنٹرول لائن پر دراندازی کے ایشوز پر سیکورٹی ایجنسیاں اور خفیہ ایجنسیوں میں تال میل اور مشترکہ کارروائی اسکیم کو قطعی شکل دے دی ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر کی وادی میں حالات آہستہ آہستہ نارمل ہوتے جارہے ہیں ۔ لیکن ڈھیل دینے کے پہلے ہی دن پتھر بازی شروع ہوگئی ہے اور سیکورٹی فورسز نے ان پر ط قابو کر لیا ہے ۔ پھر بھی ہماری سیکورٹی فورسز کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ جموں و کشمیر میں حالات نہ بگڑے۔
(انل نریندر)Translater
20 اگست 2019
پہلو خان کو کسی نے نہیں مارا ؟
دیس بھر میں سرخیوں میں چھائے رہے الور ضلع کے باشندے پہلو خان مآب لنچنگ معاملہ میں 6ملزمان کے عدالت سے بری ہوجانے پر تعجب بھی ہوا اور یہ چوکانے والا معاملہ ہے اور عدالت سے فیصلہ ایسے واقعات میں سب سے پہلا یہی واقعہ ہے اس معاملہ میں دنیا میں ان کئی شہروں سے بہتر مان سکتے ہیں جہاں انصاف کے ترازو کو مذہبی اور اقتدار کے دباو ¿ میں جب تک من مانی طریقے سے ایکطرفہ فیصلہ لیا جاتا ہے ۔ لیکن عدلیہ کی سرگرمی جیسی سرگرم ادارہ کا نظام تب بلا شبہ بہت مایوس کرتا ہے جب سیاسی اور سماجی نقطہ نظر سے کسی بڑے معاملے میں قصور وار آسانی سے بری ہوجاتے ہیں۔ غور طلب ہے کہ اپریل 2017 کو ہریانہ کے نوح میوات ضلع کے جے سنگھ پورہ گاﺅں کے باشندہ پہلوخان کو بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا اس وقت وہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ جے پور کے جانوروں کے بازار سے دودھ دینے والی بھیس خرید کر اپنے گھر لے جارہا تھا تبھی راجستھان کے ضلع الور کے بیروڈ پلیا کے پاس بھیڑ نے اس کی گاڑی رکوا کر اور پہلو خان اور ان کے دو بیٹوں سے مار پیٹ کی تھی جب اس واردات کی اطلاع پولیس کو ملی تو پولیس نے پہلو خان کو بہروڈ ایک اسپتال میں زحمی حالت میں داخل کرایا جہاں 4 اپریل کو پہلو خان کی موت ہو گئی اور اس معاملہ میں 2 اپریل کو مقدمہ درج ہوا۔ پولیس نے اس معاملہ میں پہلو خان کے دو بیٹوں سمیت اور 44 لوگوں کے بیان کورٹ میں درج کرائے تھے حالانکہ پہلو خان کے بڑے بیٹے ارشاد نے فیصلہ اپنے حق میں نہ آنے کے بعد کہا کہ پہلے انہیں ملزم کے فریق کی طرف سے مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں جس سے مقدمہ کمزور ہوا بتا دیں کہ اس معاملہ میں کل نو ملزم بنائے گئے تھے ان میں سے تین ملزمان کی عمر کم تھی اور انہیں نابالغ بتا کر چھوڑ دیا گیا اور عدالت نے چھ ملزمان کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا اور حالانکہ سبھی ملزمان کو کلین چٹ دے دی گئی تھی اور جس طرح سے یہ سبھی ملزم بری ہوئے ہیں وہ ہمارے نظام کے لچک ہونے کا زیادہ اشارہ دے رہے ہیں اور سچائی بیان کرتا ہے کہ وہ ہمارے عدالتوں کا کیا حال ہے اور البتہ سرکاری وکیل یہ کہہ کر اپنے ضمیر کے نہ مرنے کی خود گواہی ضرور دے رہے ہیں کہ وہ اس معاملہ کو بڑی عدالت میں چیلنج کرےں گے اور اس سارے معاملہ مےں ثبوتوں کی کمی کے چلتے کئی گواہ اپنے بیان سے پلٹ گئے اور اسے عدالت نظام کی کمزوری سے آگے سسٹم نا کام رہا اتنے مقبول ترین واردات کے ویڈیو کے سب ثبوت موجود تھے اس واردات کے گواہ سے انصاف کی میز پر جرم ثابت کرنے میں کہاں ثابت ہوگئی؟ ویڈو فوٹیج کو عدالت نے ثبوت نہیں مانا پہلو خان کے بیٹے ملزمان کو پہچاننے میں ناکام رہے جس شخص نے ویڈو بنایا تھا اس نے کورٹ میں آکرگواہی نہیں دی ۔ موبائل لوکیشنل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملزمان کے پاس اس وقت ان کا موبائل وہ موجود نہیں تھے۔ بہرحال پہلو خاں معاملہ میں آیا فیصلہ ناانصافی بھرا ہے بحر حال جنتا کا عدلیہ اور سرکار و عدلیہ کے ذریعے قصور واروں کو سزا نہ ملے اس نے لوگوں میں گہری مایوسی پیدا کی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ لوگوں میں ایسے لوگوں کے منصوبوں کو کون شہہ دے رہا ہے جو ظلم و تشدد کے خلاف بے خوف آمادہ ہیں ۔ نیو انڈیا جیسے حوصلہ افزاءوعدوں کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا اوپر والا ہی طے کرے گا کہ پہلو خان کی موت کیسے ہوئی ؟پہلو خان کی موت کیسے ہوئے اور کسی نے نہیں مارا؟
(انل نریندر)پہلے نیوکلیائی نو فرسٹ یوز کی پالیسی اب حالات پر منحصر
جموں و کشمیر میں 370 ہٹنے کے بعد مسلسل اشتعال انگیز بیان دینے والے اور نیوکلیائی ہتھیار کی دھمکی دینے والے پاکستان کو بھارت نے اسی لحظہ میں جواب دیا ہے ۔ چیف اور ڈیفنس مقرر کرنے کے مودی کے اعلان کے بعد وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت نیو کلیائی کے ہتھیار پر صبر کے اصول کے بدل سکتا ہے انہوں نے کہا کہ نو فرسٹ یوز بھارت کی نیو کلیائی پالیسی ہے لیکن مستقبل میں کیا ہوگا یہ حالات پر منحصر کرتا ہے اور یہ بیان حکومت کے فوجی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے اشارے ہیں ۔ بھارت کے سابق وزیر اعظم سورگیہ اٹل بہاری واجپئی کی پہلی برسی پر انہیں شردھانجلی دینے کوکھرن گئے وزیر دفاع لوٹنے کے بعد اپنے ٹوئیٹ میں جانکاری دی کہ حکومت نے اٹل سرکار نے 13 مئی 1998 کو کوکھرن میں دوسرا نیوکلیائی تجربہ کیا تھا پھر پاکستان نے بھی نیو کلیائی تجربہ کیا ۔ تب بھارت نے کہا تھا کہ وہ اس طاقت کا استعمال نہیں کرے گا اور بھارت نو فرسٹ یوز کی پالیسی پر چلے گا۔ کشمیر معاملہ میں عالمی برادری پوری طرح الگ تھلگ پڑے پاکستانی وزیر اعظم عمران خاں کی سرکار کو اور پاکستانی فوج کو اب یہ سمجھنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے اور نیو کلیائی ہتھیاروں کے آڑ میں بلیک میل کی پالیسی اپنا رکھی ہے اب اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور وہ بار بار جنگ کا جو ڈر دکھاتے رہتے ہیں وہ اس کے کھوکھلے پن کو ہی ظاہر کرتا ہے اور وزیر دفاع کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھاجپا سرکار کے عہد میں دیش مضبوط رہے گا ۔جس مضبوطی سے سرجیکل اسٹرائک کیا گیا اور ساتھ ہی 370 کو ہٹایا گیا اور اسی عزم کے ساتھ دیس کی سلامتی کے لئے انتظام کئے جائےں گے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس سے آگے بڑھ کر بھی فیصلہ لئے جائیں گے اور دبے الفاظ میں بھارت نے یہ بھی صاف کر دیا کہ پاکستان کی طرف سے بم حملہ کا انتظار نہیں کرے گا اور اگر ایسا ہونے والا ہے تو بھارت اس سے پہلے ہی جوابی کارروائی کرے گا خیال رہے کہ 2014 کے بھاجپا کے چناو ¿ منشور میں وعدہ کیا گیا تھا کہ ہتھیاروں کے استعمال کو لے کر سرکار پالیسی کا جائزہ لے گی اور تبدیلی کی جائے گی اور 2019 میں بھاجپا نے اپنے چناو ¿ منشور میں اس کا ذکر ہٹا لیا دیس کے وزیر اعظم کے پاس نیو کلیائی حملہ کا قطعی فیصلہ ہوتا ہے اور ان کے پاس اسمارٹ کارڈ ہوتا ہے اور اگر نیو کلیائی بم کو داغنے کے لئے اصلی بٹن نیو کلیائی کمان کی سب سے اول ٹیم کے پاس ہوتا ہے جو صحیح چینل سے ملی حکم پر کام کرتی ہے اور وزیر اعظم ہی آخری فیصلہ لے سکتے ہیں پہلا سیکورٹی امور کی کیبنٹ کمیٹی دوسرا قومی مشیر تیسرا چیف آف ڈیفنس اسٹاف کمیٹی ۔ پاکستانی حکومت اور فوج کے لئے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ اگر حالات نے بھارت کو اس عزم سے باہر نکالنے کے لئے مجبور کیا تو وہ ایسا کرنے میں دیری نہیں کرے گا پاکستان کے وزیر اعظم نے اب خود اعتراف کر لیا ہے جو ہوا وہ پاکستان ہی کی دین ہے ۔ انہوں نے پلوامہ آتنکی حملہ کے بعد فوجی کارروائی کر کے آگے بھی حملہ کرنے کا اشارہ دے دیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان نیوکلیائی حملہ کرنے کا سوچے بھی نہیں اور اگر اپنی بوکھلاہٹ میں ایسا کرنے کی ٹھان ہی لی تو بھارت جوابی کارروائی کے لئے انتظار نہیں کرے گا۔
(انل نریندر)
18 اگست 2019
اعظم خاں کی مشکلیں بڑھیں 27 کیس درج
سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور لوک سبھا ایم پی اعظم خاں کی مشکلیں بڑھتی نظر آرہی ہیں اور تازہ معاملہ میں ان پر الزام ہے کہ اترپردیش کے رامپور میں وہ جو یونیورسٹی چلا رہے ہیں وہ اسے دشمن پراپرٹی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس پر قبضہ کیا گیا ہے اس کے بعد انفورس منٹ ڈائریکٹریٹ نے پیسہ اکٹھا کرنے کے معاملہ کی جانچ کرنی شروع کردی ہے ۔ دشمن پراپرٹی اصل وہ پراپرٹی ہے جسے پاکستان بٹوارے کے ساتھ پاکستان گئے لوگ بھا چین جنگ کے بعد چین جاچکے لوک یہاں چھوٹ گئے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق پاکستانی شہریوں نے 9280 ایسی پراپرٹی چھوڑی ہے جبکہ چینی شہریوں نے 126 پراپرٹی چھوڑی ہے۔ رامپور سے لوک سبھا ایم پی اور اکھلیش یادو کے عہد میں ریاست کے کیبنٹ وزیر رہے اعظم خاں پر مرکزی ایجنسی پیسہ اکٹھا کرنے اور انسداد قانون کے تحت مقدمہ درج کرچکی ہے اب ای ڈی کے نشانہ پر محمد علی جوہر یونیورسٹی ہے ۔ جس اعظم خاں نے 2006 میں قائم کیا تھا اس یونیورسٹی میں 3 ہزار طالب علم پڑھتے ہیں اس یونیورسٹی 121 ایکڑ میں پھیلی ہوئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اگر زمین ہڑپنے اور دشمن پراپرٹی قبضہ کے الزامات صحیح پائے جاتے ہیں تو ای ڈی جلد ہی یونیوسٹی کیمپس کو ضبط کرسکتی ہے۔ پچھلے ایک مہینے میں اعظم خاں پر 27کیس درج ہوچکے ہیں ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ سب معاملے رامپور میں ان کی یونیورسٹی کے لئے کسانوں کی زمین ہڑپنے سے جڑے ہیں پولیس ایس پی اجے پال شرما نے بتایا کہ 11 جولائی سے قریب 2 درجن کسان ان کی زمین قبضہ کئے جانے کے الزام کو لے کر آچکے ہیں۔ ہم نے ان معاملوں میں 27 ایف آئی آر درج کئے ہیں اور جانچ جاری ہے اب رام پور میں زمین مافیا اعلان ہونے کے بعد اعظم خاں کو اپنی گرفتاری کا خوف ستا رہا ہے ۔ انہوں نے گرفتاری کے ڈر سے رامپور ضلع جج کی عدالت میں گئے ہیں اور اپنی امکانی گرفتاری سے بچنے کے لئے پیشگی ضمانت کے لئے عدالت میں عرضی دی ہے۔ زمین پر قبضہ کرنے کے علاوہ رامپور پولیس نے یونیورسٹی حکام کے خلاف 16 جون کو ایک فوجداری مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ معامل 250 سال پرانی رامپور کے اونیٹل کالج کے پرنسپل کی شکایت پر درج کیا گیا الزام ہے کہ وہاں سے قریب 9 ہزار کتابیں چوری کر کے انہیں جوہر یونیورسٹی میں رکھ دیا گیا ہے۔
(انل نریندر)وزیر اعظم کے خطاب سے نکلے پیغام اور اشارے
دہلی کے تاریخی لال قلعہ کی صفیل 15 اگست کو وزیر اعظم کا جو خطاب ہوتا ہے وہ نہ صرف اپنی سرکار کے کارناموں کو گنانا ہوتا ہے بلکہ امکانی حکمت عملی کو بھی ظاہر کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ہی اس سے بہت سے قومی اور بین الاقوامی پیغام دیئے جاتے ہیں اس مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسے ہی پیغام دیئے جیسے برننگ ایشو کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کو لے کر الگ الگ رد عمل سامنے آرہے ہیں اس لئے اس پر تقریر کرنا فطری تھا وزیر اعظم نے اسباب کی نشان دہی کی ہے جس کے چلتے اس دفعہ کو ہٹانا ضروری ہوگیا تھاآگے کا روڈ میپ کا بھی ذکر کیا مجھے یاد ہے کہ جب 2014 میں انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے سوچھ بھارت ابھیان کا اعلان کیا تھا تب شاید کسی کو احساس نہ تھا کہ وہ آنے والے وقت میں وہ عوامی تحریک کی شکل لے لے گا۔ جیسا انہوں نے لیا ۔ اس مرتبہ یوم آزادی کی 73 ویں سالگرہ پر انہوں نے پانی کی تحفظ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے گھر گھر پانی پہنچانے کے لئے انہوں نے پانی مشن کا اعلان کیا ہے۔اس مرتبہ عوامی بہبودی قدم کے علاوہ وزیر اعظم نے مہاتما گاندھی کی 150 ویں جینتی کو یادگار بنانے کے لئے 2 اکتوبر سے پلاسٹک الوداع مہم کا اعلان کردیا ہے ایک بار پھر وزیر اعظم کی قیادت کسوٹی پر ہوگی کیونکہ عام آدمی کی ساجھیداری کے بغیر یہ مہم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں بہت کچھ تذکرہ کیا لیکن جو اہم بات ہے وہ ہے بڑھتی آبادی کی چیلنجوں کو نشاندہی کرتے ہوئے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آبادی کے اقدامات کے بارے میں بھی سوچیں ۔ اور امکانی قدم اٹھائیں انہوں نے جس طرح صاف صاف لفظوں میں کہا کہ چھوٹا خاندان رکھنا بھی دیش بھکتی ظاہر کرنے کا کا طریقہ ہے اور ہر کسی کو سوچنا چاہئے کہ جو بچہ زمین پر آنے والا ہے اس کی ضروریات کی اشیاءاور اس کے خوردونوش کا انتظام کیسے کیا جائے گا اس کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے اور انہوں نے کہا کہ افواج کا کام ٹھیک ٹھاک چلانے کے لئے ایک چیف آف ڈیفنس کا بھی تقرری کردی ہے اور یہ مانگ کارگل جنگ کے وقت سے چلی آرہی تھی لیکن کنہیں وجوہات کے وجہ سے ٹلتی آرہی تھی۔ نئی چیلنوں کا سامنا کرنے کے لئے حکمت عملی سطح پر فیصلہ قابل تحسین ہے اور اپنی دوسری میعاد میں اپنے پہلے خطاب میں معیشت کو خاص توجہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ڈھانچہ بندی نظام پر سوا لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ اگلے پانچ سال میں بھارت کو ٹریلئن ڈالر اکنومی بنانے کا نشانہ کو دہراتے ہوئے کہا کہ 130 کروڑ آبادی اگر چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لے کر چل پڑیں تو یہ کام آسانی سے ممکن ہوسکتا ہے اور مینو فیکچر کو بڑھاوا دینے کی بات کہی اور پی ایم نے ہیتلھ وغیرہ کی سیکٹروں میں بہتری لانے کے ساتھ سیاحتی سیکٹر کو بھی مضبوط کرنے بھی زور دیا ہے اور دیش میں سیاحت کے فروغ میں بہت امکانات ہیں اور اگر اس پر ٹھیک سے توجہ دی جائے تویہ ایک نئے روزگار پیداکرنے اور محصول کے نقطہ نظر سے بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے ۔ مودی نے 92 منٹ کی تقریر میں زندگی کے مختلف پہلوو ¿ں کو چھونے کی کوشش کی لیکن ان کا اہم توجہ دو باتوں پر مرکوز تھیں ۔ سرکار 75 دنوں کے کارنامے اور امکانی ایجنڈا فطری تھا کہ وہ تین طلاق اور 370 اور 35اے ہٹائے جانے کا تذکرہ کرتے حریفوں کو آڑے ہاتھوں لینا نہیں بھولے ایسا بھی ہوا کہ انہوں نے سرکار کی پالیسی کو واضح کردیا ۔ یعنی ایک دیش ایک آئین دیکھنا اب یہ ہوگا کہ خود اعتمادی سے بھرپور وزیر اعظم اور ان کی حکومت اپنے دوسری میعاد کو اپنے عظم کو تعبیر کرنے میں کتنی کامیابی حاصل کرتی ہے اور پی ایم نے اپنے دوسرے عہد کے ابتداءمیں جیسے تاریخی فیصلہ لئے ہےں کہ لال قلعہ سے وزیر اعظم جو بھی اعلانات کئے ہیں وہ آنے والے وقت میں جو خاکہ کھینچا ہے ویسے میں واقعی یہ حقیقت ثابت ہوسکتی ہے۔
(انل نریند)17 اگست 2019
دیش کی حفاظت کے اہم حکمت عملی ساز اجیت ڈوبھال
چانکیہ جیسا دماغ اور بازی واﺅجیسا حوصلہ رکھنے والے ہندوستان کے حفاظت کے حکمت عملی ساز ماسٹر اجیت ڈوبھال کا نام بچہ بچہ جانتا ہے ،اہم حکمت عملی اور سفارتی امور میںان کی رائے اہم رہی ہے ۔1945میں اتراکھنڈ کے برہمن گڑوالی خاندان میں پیدا ہوئے اجیت ڈوبھال ۔ان کے والد فوج میں برگیڈیر تھے 1968میں آئی ٹی ایس امتحان میں ٹاپ کر کے کیرل بیچ کے آئی پی ایس افسر بنے 17سال کی ملازمت کے بعد ہی ملنے والا میڈل انہیں 6سال کی ملازمت میں ہی مل گیا۔ڈوبھال 33سال سے زیادہ وقت تک خفیہ افسر رہے انہیں را کے انڈر کور ایجنٹ کے طور پر سات سال مسلمان بن کر پاکستان میں رہے ۔آپریشن بلو اسٹار میں کامیابی کے ہیرو بنے ڈوبھال رکشہ والا بن کرسورن مندر میں گئے اور وہاں دہشت گر دوں کی جان کاری فوج کو دی ۔1987میں خارستانی دہشت گر دی کے وقت پاکستانی ایجنٹ بن کر دربار صاحب میں گئے اور 3دن دہشت گردوں کے ساتھ رہے اور دہشت گردوں کی ساری جانکاری لیکر آپریشن بلیک ٹھنڈر کو کامیابی سے انجام دیا ۔اور1988میں کیرتی جکر ملا آر ایس ایس کے قریب ہونے کی وجہ سے مودی سرکار نے انہیں قومی سلامتی مشیر بنا یا ۔بلوچستان میں را کو پھر سے سرگرم کیا اور بلوچستان کا اشو عالمی بنا یا جب کیرل کی 45نر سوں کا آئی ایس ایس نے اغوا کیا تو ڈوبھال خود عراق گئے ااور نرسوں کو بحفاظت لیکر آئے ۔انہیں راشٹر پتی میڈل بھی مل چکا ہے ۔2015مئی میں پہلا سرجیکل اسٹرائک آپریشن انہیں کی نگرانی میں انجام دیا گیا ۔2016ستمبر آزاد بھارت کی تاریخ میں 1971کے بعد یہ تاریخی دن تھا جس میں پچاس آتنکوادی مارے گئے تھے ۔پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں 3کلومیٹر اندر ہندوستانی فوج کھسی اور 40آتنکی مارے گئے ۔لیکن ان دو نوں سرجیکل اسٹرائک میں ہندوستان کا کوئی فوجی نہیں مرا ۔ڈوبھال کو ایک تو بازی راﺅ کہا جا تا ہے کہ میں دہلی جیت سکتا ہوں ۔دفعہ 370کے ہٹنے کے بعد سے ڈوبھال وادی کشمیر مودی جی کے مین آن دی اسپاٹ بنے ہوئے ہیں جو وہاں کے حالات پر پل پل کی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور سرکار کو جانکاری دے رہے ہیں اور ساتھ ہی مقامی لوگوں سے مل رہے ہیں اور ان کی پریشانیوں کا جائزہ لیکر افسران کو ہدایت دے رہے ہیں ۔انہوں نے وادی کی حفاظت کا جائزہ لےنے کے لئے شہر اور جنوبی کشمیر کے علاقوںکا ہوائی سروے کیا ہے ۔قومی سلامتی سے وابستہ زیادہ تر کاروائیوں کا سہرا اجیت ڈوبھال کو جا تا ہے ۔
(انل نریندر)ہانگ کانگ کے حالات دھماکہ خیزکبھی بھی بم پھٹ سکتا ہے
ہانگ کانگ میں پچھلے 2ماہ سے مظاہروں کا دور جاری ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔انتظامیہ اور چین کے لئے مشکلیںبڑھ رہی ہیں ۔واضح ہو جمہوریت نواز ہزاروں مظاہرین نے ہوائی اڈے پر دھرنا دیا ہوا ہے ۔جس وجہ سے پروازیں بند کرنی پڑی۔اس سے نہیں لگتا کہ تنازعہ کا کوئی حل نکلے گا ۔بلکہ معاملہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔وہاں ہنگامہ کی جڑ حوالگی کا بل ہے ۔جس میں یہ سہولت ہے کہ اگر کوئی شخص چین میں جرم کر کے ہانگ کانگ میں پناہ لیتا ہے تو اسے جانچ میں شامل ہونے کے لئے چین بھیج دیا جائیگا۔اگر یہ بل پاس ہوا تو چین کو ان علاقوں میں بھی مشتبہ افراد کو حوالہ کرنے کی اجازت مل جائیگی ،جن کے ساتھ ہانگ کانگ کے سمجھوتہ نہیں ہے ۔جیسے ملزم شخص کو تائیوان اور مکاﺅمیں بھی حوالہ کیا جا سکے گا ۔مظاہروکے دوران لوگوں کے ہاتھوں میں تختیوں پر لکھا تھا ہانگ کانگ ہمارا قتل کر رہا ہے اور وہ محفوظ نہیں رہ گیا ہے ۔لیکن اس کے بر عکس چین نے اس مظاہرے کے دوران وہاں کے پولیس حکام پر پیٹرول بم پھینکنے کے واقعات کو دہشت گر دی بتایا ہے ۔حالات کی پیچیدگی سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ وہاں حالات کتنے خراب ہیں۔تشدد پر مظاہرین پر قابوپانے کےلئے چین کی طرف سے دخل دیا جاسکتا ہے ۔سی سی ٹیوی چینل کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے میںکوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔غور طلب ہے کہ ہانگ کانگ ابھی بھی چین کا حصہ ہے وہاں ایک دیش 2نظام کے تحت حکمرانی کرنی ہوتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہانگ کانگ کے پاس آزادی ہے اور چین کے باقی شہریوں کے مقابلے اس کے شہریوں کے پاس کچھ مخصوص اختیارات ہیں ۔لیکن وہاں کے حوالگی بل میں کی گئی تبدیلی کے اعلان کے بعد چین کو ہانگ کانگ میں کسی بھی شخص کو حراست میں لیکر پوچھ تاچھ کر نے اور اسے واپس بھیجنے کو لیکر کئی اختیا ر حاصل ہو جائیںگے ۔باقی معاملوں پر چین کا جو رویہ رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے تازہ کوشش نے فطری طور پر وہاں کے لوگو ں کی پریشانی کو بڑھا دیا ہے ۔ہانگ کانگ کے باشندوںکا کہنا ہے کہ نئے بل کے لاگو ہونے کے بعد صرف یہاں کے لوگو ں پر چین کا قانون نافذ ہو گا بلکہ سیدھے طور پر ہانگ کانگ کی سرداری کو بھی متاثر کریگا ۔جون میں اس بل کو پاس کرانے کی کوشش کی گئی تو زبردت احتجاج شروع ہو گیا ۔چیف ایگزیٹکیٹوکےری لیم نے عوام کی بھاری مخالفت کو دیکھ تے ہوئے 15جون کا بل عارضی طور پر معطل رکھنے کا اعلان کردیا ۔لیکن مظاہرین ا سکو منسوخ کر نے کی مانگ کر رہے ہیں ۔کیری لیم کی ساخ ہانگ کانگ کی سیاست میں چین حمایتی نیتا کی ہے ۔1997میں برطانیہ اور چین کے درمیان ہوئے معاہدے سے چین کو اپنا یہ پرانہ جزیرہ واپس ملا۔سمجھوتہ میں ایک دیش اور دو نظام کے قیام کے بعد ہانگ کانگ کو اگلے 50برسوں کے لئے اپنی آزادی کے علاوہ ،بالادستی،قانون اور سیاست نظام کو بنائے رکھنے کی گارنٹی دی گئی ہے ۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ حوالگی بل پاس ہونے کے بعد نہ صرف یہاں کے لوگوں پر چین کا قانون نافذ ہوگا بلکہ یہ سیدھے طور پر ہانگ کانگ کی آزادی کو بھی متاثر کریگا۔چین کا ایسے معاملوں میں جو ریکارڈرہا ہے اسے دکھتے ہوئے اس اندیشہ سے انکا رنہیں کیا جا سکتا کہ اس قانون کے وجود میں آنے کے بعد شبہ کے دائرے میں آئے لوگوں کو منمانے الزامات کے تحت گرفتار اور اذیت دیجائے گی ۔ہانگ کانگ میں حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں چین اس طرف کی تحریکوں کو طاقت سے کچلتا ہے ۔کہیں ہانگ کانگ میں بھی ایسا نہ ہوں ؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...