Translater

01 اگست 2019

کرپٹ افسران پر سرجیکل اسٹرائک 2-کی تیاری

مودی سرکار کے دوسرے عہد میں کرپٹ اور سست افسران پر سرجیکل اسٹرائک جاری رہے گا۔پچھلے مہینے مالیات سروس سے وابسطہ افسران پر سخت کارروائی کا یہ سلسلہ شروع ہوا حکومت نے محکمہ محصولات کے بارہ سینئر افسران کو جنسی زیادتی کے الزامات میں باہر کا راستہ دکھایا تھا ۔بے شک یہ ضروری قدم ہے قابل تعریف بھی ہے ۔ان حکام کے خلاف لگے الزامات کی تفصیل میں جایں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سارے معاملے نہ صرف سنگین ہیں بلکہ پورے سسٹم اور جانکاری اور معاملوں کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے بھی مسلسل چل رہا تھا ۔مثال کے طور پر آپ ایک انکم ٹیکس کمشنر کا معاملہ ہی لے لیں ان کے خلاف آمدنی سے زیادہ املاک بنانے کے الزامات صحیح پائے گئے تھے اور الزامات کے سبب انہیں دس سال پہلے معطل کر دیا گیا تھا ۔ان کے خلاف کرپشن قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جو ابھی تک چل رہا ہے ۔اسی مقدمہ میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کرپشن روکنے کے ہمارے نظام میں کتنی خامیاں ہیں جب کسی ملازم کو معطل کر کے اس کے خلاف مقدم چلایا جاتا ہے تو اسے معطلی کے دوران اس کی تنخواہ کا ایک حصہ تب تک دیا جاتا ہے جب اس کے معاملے کا قطعی فیصلہ نہ ہو جائے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس معاملے میں آخری فیصلہ پچھلے دس سال سے لٹکا ہوا تھا پچھلے مہینے کرپٹ افسران پر سرجیکل اسٹرائک کا دوسرا حصہ اب کرپٹ آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے خلاف ایکشن لینے کی تیاری ہے ۔ذرائع کے مطابق پی ایم او نے ایسے دو سو افسران کے خلاف کرپشن اور دوسرے معاملات میں کی گئی شکایتوں کا جلد سے جلد نپٹارا کرنے کو کہا ہے ۔جانچ پوری ہونے کے بعد انہیں نوکری سے ہٹایا جا سکتا ہے پچھلے دنوں افسران کے ساتھ ملاقات میں پی ایم نے کرپشن کے التوا معاملوں پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی ۔پی ایم نے وزارت اور محکموں سے آنے والی شکایت اور اس کے خلاف ایکشن لینے میں سست روی پر گہرا اعتراض جتایا تھا ۔ریلوئے ،ڈاک،اور سپلائی سمیت آدھے درجن وزارتوں کے کرپشن سے جڑی شکایت کی فہرست پی ایم اوکو بھیجی گئی پی ایم نے پیش رفت جائزہ میٹنگ میں کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے کہ وزارتی سطح پر شکایت نہ سننے کے سبب پی ایم او میں اپنی شکایت لیکر آرہے ہیں مودی نے اپنی دوسری معیاد میں پی ایم بننے کے بعد اس طرح کی شکایتوں کو ٹالنے پر سخت وارنگ دیتے ہوئے کہا تھا اب ایسے معاملوں میں بلیک اینڈ وائٹ کارروائی ہوگی ۔یعنی جو ایماندار ہوں گے انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اور جو داغی پائے جائیں گے اب انہیں بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا ۔کرپشن سے نجات کے لئے سب سے ضروری یہ ہے کہ مقدمات کا نپٹارا جلد ہو اور سروس سے ہٹایا جانا لائق خیر مقدم ہے لیکن انتظامیہ سے کرپشن مٹانے کے لئے سب سے آگے بڑھ کر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔

(انل نریندر)

31 جولائی 2019

وراٹ اور روہت میں آپسی اختلافا ت سے ٹیم کو ہوتا نقصان

ٹیم انڈیا میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے اور آپسی گروپ بندی بڑھتی جا رہی ہے ۔اور ٹیم انڈیا کے سینر کھلاڑیوں میں اختلافات ہیں ہمیں ورلڈ کپ میں پتہ چلا تھا اب خبریں بھی آنے لگی ہیں ۔کپتان وراٹ کوہلی اور نائب کپتان روہت شرما کے درمیان ٹیم کی سیلکشن کو لے کر بھاری اختلاف ہے ۔حالانکہ وراٹ اور روہت کے درمیان ورلڈ کپ کے دوران ہی کچھ اہم فیصلوں پہ تنازعات ہونے کی خبریں آئیں تھیں ۔روہت شرما نے ٹیم میں محمد سمیع اور رویندر جڈیجا کو جگہ نہ دئے جانے کی مخالفت کی تھی سمیع کو صرف چار میچ کھلائے گئے جبکہ ان کا کھیل شاندار رہا ۔روہت نے جڈیجا کو بھی ورلڈ کپ میں شروع سے موقعہ دیے جانے کی حمایت کی تھی لیکن وراٹ اور کوچ روی شاشتری نے ان کی بات کو نہیں چلنے دیا کلدیپ کے فلاپ ہونے کے بعد جڈیجا کو موقعہ دیا گیا اس نے دیکھایا کہ وہ ایک منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں روہت نے سیمی فائنل میں ہار کے بعد بھی ٹیم کے سیلکشن کو لے کر اپنا اعتراض جتایا تھا ۔اب بھارت کی ونڈے ٹیم میںانہیں سینر کھلاڑیوں کے درمیان تلخی بڑھتی جا رہی ہے بی سی سی آئی کے ایک سینر منتظم نے کوشش بھی کی تھی کہ کوئی کھلاڑی سوشل میڈیا پر ٹیم میں اتحاد پر اختلاف کی بات ڈالتا ہے اس سے ٹیم کی ساخ کو نقصان ہوتا ہے ۔اس لئے ایسا کوئی پوسٹ نہ ڈالے لیکن اس بات کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا دراصل ٹیم میں کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو وراٹ کو بطور کپتا ن پسند نہیں کرتے کچھ کھلاڑیوں کی روہت کے ساتھ نہیں بنتی لیکن وراٹ کو کپتانی سے ہٹانا اتنا آسان بھی نہیں ہوگا ۔بورڈ کے ایک افسر نے بتایا کہ ٹیم میں تنازعوں کی خبروں پر توجہ دی جانی چاہیے ۔اور اس سے پہلے کہ ٹیم کی پرفارمینس پر فرق پڑے مسئلے کو حل کیا جائے ۔اگر ان اختلافات کو فوری طور پر دور نہیں کیا گیا تو یہ ٹیم کے لئے کافی خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے ٹیم کے جذبے پر بھی اثر پڑے گا ۔کنٹرول بورڈ کے افسر کا کہنا تھا کہ آپ کی ٹیم کے دو کپتان ہیں ہو سکتے ۔ان کی میڈیا ٹیم ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا کھیل نہیں کھیل سکتی ۔اس تنازعہ میں دونوں کوچوں کا بھی در پردہ اشتراک رہا ہے ۔روی شاشتری ،سنجے بانگڑ نے ٹیم میں اتحاد قائم کرنے کی جگہ گروپ بندی کو ہوا دی ہے ۔شاید انہیں بدلنے سے ٹیم انڈیا کی حالت بدل جائے ٹیم آج کل ویسٹ اینڈیز کے دورے پر ہے اور وہاں دونوں فارمیٹ میں روہت اور وراٹ کو کپتان بنایا گیا ہے ۔کپتان بنانے سے کام نہیں چلے گا اس کی اپنے مطابق ٹیم کے سیلکشن کی بھی پوری آزادی ہونی چاہیے ۔

(انل نریندر)

کانگریس لیڈر شپ بحران سے پارٹی کو بھاری نقصان

کانگریس صدر راہل گاندھی کو عہدے سے استعفیٰ دینے کے اتنے دن بعد بھی کانگریس لیڈر شپ کون طے کرے یہ ابھی تک فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے ۔راہل گاندھی کے استعفیٰ کے بعد قیادت کو لے کر صحیح تصویر سامنے نہ آنے کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے استعفیٰ کے بعد سے پارٹی لیڈروں میں جھگڑے بڑھ گئے ہیں اور پارٹی کا ڈسیپلین تار تار ہو رہا ہے ۔کوئی نیتا کسی کی نہیں سن رہا ہے ۔راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ میں کانگریس صدر بنانے کے سوا کوئی بڑا فیصلہ نہیں لیا اور جھگڑے اور دسیپلن کا حال یہ ہے کہ ہریانہ میں پردیش صدر اشوک تاور انچارج جنرل سیکریٹری غلام نبی آزاد،کے احکامات کو نہیں مان رہے ہیں ۔تاور کی بنائی چناﺅ سے متعلق کمیٹی کو جب آزاد نے توڑ دیا اور اس کمیٹی کی میٹنگ ہونے دی اسی طرح مہاراشٹر دہلی میں بھی لیڈر شپ کا بحران پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے ۔جب راہل گاندھی نے پارٹی صدارت سے اپنا استعفیٰ دیا تھا تو امید یہ کی جا رہی تھی کہ لوک سبھا میں پارٹی کی کراری شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے راہل کی طرح باقی سینر عہدیداران نے اپنا استعفیٰ نہیں دیا ۔ویسے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ راہل نے جب استعفیٰ کی پیش کش کی تھی تو پارٹی کی سپریم پالیسی ساز باڈی ورکنگ کمیٹی میں غور وخوض ہوتا اور پارٹی کا اتفاق رائے سے صدر چنا جاتا لیکن اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی کانگریس کو نیا صدر نہیں مل سکا ۔کانگریس کے سینر لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ راہل گاندھی کے استعفیٰ کے بعد قیادت کو لے کر شش و پنج سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ کانگریس میں بہتری لانے کا راستہ یہی ہے کہ ورکنگ کمیٹی سمیت پارٹی میں سبھی اہم ترین عہدوں کے لئے چناﺅ ہوں جس سے چنے جانے والے نیتاﺅں کو قبول کرنے میں مدد ملے ۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ کی رائے کی بھی حمایت کی گئی ہے ۔کہ کانگریس کی کمان نوجوان لیڈر کو سونپی جائے اس لئے کانگریس کے اندر ایک طبقہ کی طرف سے کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کو پارٹی کا نیا صدر بنائے جانے کی آواز اُٹھنے لگی ہے ۔اور پارٹی کے کئی سینر لیڈروں نے ان کی پرزور وکالت کی ہے ۔بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ان میں ہی اپنی دادی اندرا گاندھی کی طرح مشکل وقت میں پارٹی کو دوبارہ کھڑا کرنے کا دم خم ہے ۔ان نیتاﺅں نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ گاندھی پریوار سے باہر کے شخص کو پارٹی صدر بنایا گیا تو پارٹی میں بکھراﺅ ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا مرکزی سرکار کے سابق وزراءنٹور سنگھ ،بھگت چرن داس،جے پرکاش جیسوال،انل شاستری،اور ایم پی ششی تھرور نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ کانگریس صدر کے عہدے کے چناﺅ میں پرینکا ضرور حصہ لیں گی ۔سابق صدر پرنب مکھرجی کے لڑکے ابھیجیت مکھرجی بھی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اپنی دادی کی طرح ہی پرینکا گاندھی میں پارٹی کو اس مشکل دور سے نکالنے اور دوبارہ اقتدار میں لا کھڑا کرنے کی صلاحیت ہے دوسری طرف چناﺅی ہار کے بعد پچھلی 25مئی کی کانگریس ورکنگ کمیٹی میں صدرات سے اپنے استعفیٰ کی پیش کش کر کے راہل گاندھی نے صاف کر دیا تھا ان کے بعد ان کے خاندان کا کوئی اور شخص بھی یہ عہدہ نہیں سنبھالے گا ۔لیکن دقت یہ ہے کہ دو مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کانگریس پارٹی راہل کا متابادل ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو پائی اس درمیان سون بھدر میں آدیواسی قتل عام معاملے میں پرینکا گاندھی کے تیور دیکھ کر تمام پارٹی نیتاﺅں کو ان سے امید ہے کہ اب کانگریس کا کرناٹک سرکار کے زوال اور دیش بھر میں کانگریس پارٹی میں مچی بھگدڑ کو دیکھتے ہوے اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کانگریس کب تک اس اہم ترین معاملے میں فیصلہ لے گی ۔

(انل نریندر)

30 جولائی 2019

آئی ایس آئی اور فوج کے سربراہوں کو عمران اپنے ساتھ امریکہ کیوں لے گئے ؟

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا امریکی دورے سے لوٹنے پر اسلام آباد ہوائی اڈے پر ذبردست خیر مقدم کیا گیا ۔ان کی جماعت تحریک انصاف کے ورکر بڑی تعدار میں موجود تھے پاکستانی میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکہ کے کامیاب دورے سے لوٹے وزیر اعظم کا جس طرح زوردار استقبال ہوا اس پر خود عمران نے کہا کہ اس سے لگتا ہے کہ وہ کسی غیر ملکی دورے سے نہیں لوٹے بلکہ ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں ۔اس موقع پر پارٹی کے ورکر رقص اور گیت گا رہے تھے اور عمران کی حمایت میں نعرے لگ رہے تھے اس موقع پر عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں پاکستان کو عظمیم بنانا ہے شاعر علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق پاکستان کا عظیم ملک بننا یقینی ہے امریکی دورے کی کامیابی کو پاکستان کے لئے بڑی راحت ضرور مانا جا رہا ہے ۔ایک امریکی تجزیہ نگا رنے بھی عمران خان کے دورے کو خوشگوار تبدیلی سے تشبیہ دی ہے ۔مثلا امریکی مگزین غیر ملکی پالیسی نے بھی دورے کی تعریف کی ہے ۔دنیا کے کئی اخباروں اور ٹی وی چینلوں نے جو وسطی ایشیا ءپر گہری نظر رکھتے ہیں نے بھی عمران کی بڑی کامیابی قرار دی ہے ۔صاف نظر آتا ہے کہ عمران نے اور ان کے حمایتی فوجی اداروں نے صدر سے ملاقات سے پہلے اچھا ہوم ورک کیا تھا ۔وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان پہلی بار امریکہ گئے ان کے امریکی دورے نے فوج کا اہم رول رہا ہوگا چونکہ ان کے ساتھ فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوا اور آئی ایس آی چیف لیفینینٹ جنرل فیض حمید بھی تھے ۔عمران آخر فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہوں کو امریکہ کیوں لے کر گئے ؟کیا عمران کو وائٹ ہاﺅس آنے کا امریکہ دوبارہ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر پاکستان شدت پسندوں کے سلسلے میں اپنی پالیسیاں بدلتا ہے تو امریکہ سے اس کے رشتوں میں بہتری آئے گی ؟پاکستان میں سابق کمشنر شرت سمروال کہتے ہیں وہ پیسے مانگنے نہیں جا رہا ہے کہا گیا ہے کہ تجارت اور سرمایہ سب سے اہم ایجنڈا رہا ہوگا لیکن افغانستان نے قیام امن کا اشو بات چیت میں اہم رہا ہوگا ۔امریکہ کے لئے سب سے اہم طالبان ہے جو اس کی فوج کے خلاف افغانستان میں تباہی مچا رہا ہے ۔طالبان پر پاکستان کا کچھ دبدبہ ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ طالبان کے اشو پر امریکہ سے تعاون کرئے ۔ٹرمپ انتظامیہ یہ بھی جانتا ہے کہ فوج کی حمایت کے بغیر پاکستان میں کوئی بھی بڑا فیصلہ نافذ نہیں کیا جا سکتا عمران کے ساتھ امریکی کام سے بات چیت میں دونوں سربراہوں نے معاونت کی تھی امریکہ کی کوشش ہے کہ جنرل باجوا اور آئی ایس آئی چیف حمید کو ساتھ بٹھا کر ان سے ٹھوس یقین دہانی مانگی کہ مستقبل میں سرکار اور دونوں فوج کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے پاکستان کے لئے اس کی اقتصادی اور فوجی حکمت عملی کو لے کر امریکہ بہت اہم ہے چونکہ اہم اشو افغانستان ہی رہا اور اس پر فوج اور آئی ایس آئی چیف اہم رول نبھا سکتے ہیں ۔امریکہ کے رخ میں تبدیلی تو ہوئی ہے آئی ایم ایف نے پاکستان کو بلیک آﺅٹ کر دیا تھا اسے امریکہ روک سکتا تھا لیکن اس نے روکا نہیں کل ملا کر عمران خاں کا یہ دورہ امریکہ پاکستان کے لئے بہت اہم تھا پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے آپسی رشتوں کو پھر سے پٹری پر لایا جائے کیونکہ اس میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی اہم رول ہوگا۔اس لئے عمران خان جنرل باجوا اور آئی ایس آئی چیف لیفنینٹ جنرل حمید کو اپنے ساتھ امریکہ لے گئے تھے ۔

(انل نریندر)

آر ٹی آئی ترمیمی بل جمہورےت پر حملہ ہے !

راجیہ سبھامیں بھاری احتجاج کے بعد بھی آرٹی آئی ترمیم بل کو حل پاس کرنے پر اپوزیشن کی الگ الگ پارٹیوں سے وابستہ 17ممبران پارلیمنٹ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے چیئر مین کو خط لکھا ہے ۔بلوںکو بغیر کسی جائزہ لینے کے بغیر پاس کراناپارلیمانی روایت کے خلاف ہے ۔این ڈی اے سرکار کی طرف سے بغیر عام لوگوں کی مشورے سے پیش یہ ترمیمی بل انفارمیشن کمیشنوں کی مختاری کو سنگین طور سے متاثر کرتا ہے جو اطلاعات حق (آرٹی آئی )قانون کے تحت قطعی فیصلہ کن ہے ۔سال 2005میں پاس آرٹی آئی ایکٹ یقینی طور پر دیش کی عوام کیلئے مضبوط قوانین میں سے ایک رہا ہے اطلاع حاصل کرنے کے لئے اس کے تحت ہر برس 60لاکھ درخواستیں دی جاتی ہیں اس لئے بھارت کا آرٹی آئی قانون مشینری کی شفافیت یقےنی کرنے کے معاملہ میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قانون ہے ۔لو گ تمام مسئلوں پر سرکار کی جواب دہی یقینی کرانے کیلئے اس قانون کا استعمال کرتے ہیں پھر چاہئے معاملہ راشن سے جڑا یا پینشن سے ۔بڑے گھوٹالے ،سرکار ملازمین کی پراپرٹی سے لیکر انسانی حقوق کے خلاف جڑی اطلاعات بھی مانگی جاتی ہےں اس ستعمال دیش کے طاقتور لوگوں سے جواب مانگنے کیلئے بھی کیا جارہا ہے یعنی جمہوری سسٹم میں اقتدار کے بٹوارے کو یقینی بنانے کی اس سمت میں یہ کام بخوبی کام کرتا ہے اسی وجہ سے طاقتور لوگ ،سرکار افسر ونیتا اسے کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ہیں اس لئے انہیں اس میں کامیابی مل گئی ہے ۔آر ٹی آئی ایکٹ 2005میں آرٹی آئی ترمیمی بل 2019مرکزی حکومت کو مرکزی اور ریاستی اطلاعاتی کمیشنوں کے انفارمیشن کمشنروں کی ملازمت میعاد ،تنخواہ بھتے اور دیگر شرائط کو طے کرنے کیلئے قاعدہ بنانے کیلئے حق دینے کی تجویز ہے ۔سینٹر ل انفارمیشن کمیشن کے ساتھ سابق اطلاعاتی کمیشنروں نے ترامیم کو اطلاعاتی کمیشن کی مختاری اور لوگوں کے جاننے کی بنیادی حق پر سیدھا حملہ قرار دیاہے ۔انہوںنے حکومت سے غیر ضروری ترامیم کو واپس لینے کی بھی درخواست کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سرکار اس بارے میں ایماندار نہیں ہے ۔وہ یہ ترامیم کیوں لا رہی ہے؟ایک ایم پی دیپک سندھو نے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ ایک سماجی تحریک کے ذریعہ سے آیا تھا اور آر ٹی آئی ترمیم بل پر جنتا سے کسی بھی طرح کا تبادلہ خیال کرنے میں سرکار کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔اب کوئی بڑا گھوٹالہ سامنے نہیں آئے گا ۔آر ٹی آئی قانون کو کمزور کر کے مودی سرکار نے بد عنوان افراد کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں ۔اس قانون کو اور جنتا کا ہاتھ مضبوط کرنے والے اس قانون میں ترمیم کر کے بدعنوان لوگوں کے ہاتھ مضبوط ہو ں گے آر ٹی آئی قانو اس اصول پر بنا تھا کہ جنتا کو یہ جاننے کا حق ہے کہ دیش کیسے چلتا ہے ؟اس کے لئے اطلاعاتی کمیشن کو مختاری دی گئی کہ وہ سرکاری کنٹرول سے آزاد ہوگا ۔انفارمیشن کمشنروں کی تقرری تنخواہ بھتے اور معیاد یہ سب سپریم کے کورٹ کے جج اور چناﺅ کمشنروں کے برابر ہوگا یعنی سرکاری مداخلت سے آزاد اب چونکہ یہ سرکار ایماندار ہے اس لئے اس میں قانون کو ہی بدل دیا اب اطلاعاتی کمیشن مختار نہیں ہوگا اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری اور معیاد تنخواہ بھتے وغیرہ اب مرکزی حکومت مقرر کرئے گی یعنی یہ سب جسے چاہے جتنے وقت کے لئے رکھے گی ۔جب چاہے گی تو ہٹا دے گی یعنی اب انفارمیشن کمیشن ایک اور پنجرے کا طوطہ بن کر کام کرئے گا ۔آر ٹی آئی قانو اب دنیا کا سب سے بہتر سوئل حق قانو نہیں رہے گا اب اس جمہوریت میں سارے اختیارات صرف چند گنے چنے لوگوں کے ہاتھ میں ہوں گے جمہوریت کا فیڈرل ڈھانچہ اپنی قسمت پر روئے گا۔

(انل نریندر)

28 جولائی 2019

ہما داس پورے دیش کو آپ پر فخر ہے

ہمارے دیش میں کرکٹ کا اتنا بول بالا ہے کہ کھیل شائقین کا دھیان کھیلوں پر کم ہی جاتا ہے اور ٹیلنٹ کا راستہ کانٹوں بھرا ہو سکتا ہے ۔کچھ عرصہ تک کے لئے رکاوٹ نظر آسکتی ہے ۔لیکن اسے اپنے مقام تک پہنچانے سے مستقل طور پر کوئی روک نہیں سکتا میں بات کر رہا ہوں بھارت کی اُڑن پری ہماد اس کی دیش کی نئی اُڑن پری نے حال ہی میں چیک جمہوریہ کے نود پریسٹو ناڈ میں 2جی گرا پری میں عورتوں کی چار سو میٹر دوڑ میں سیزن بیسٹ 52.09سیکنڈ کے ساتھ گولڈ میڈیل حاصل کیا ایک مہینے کے اندر ان کا یہ پانچواں گولڈ میڈیل ہے 2جولائی کو یوروپ میں اور سات اور تیرہ جولائی کو چیک جمہوریہ میں اور سترہ جولائی کو ٹابور گراپی میں الگ الگ مقابلوں میں گولڈ میڈیل حاصل کیا ہماد اس پہلی ایسی ہندوستانی کھلاڑی بن گئی ہیں جنہوںنے عالمی دوڑ چمپین شپ ٹریک میں گولڈ میڈیل حاصل کیا ہے ۔18سالہ ہما اسم کے ڈبرو شہرکے پاس ایک چھوٹے سے گاﺅں کی رہنی والی ہیں انہوںنے محض دو سال میں اپنا نام بین الا اقوامی سطح پر درج کرایا ہے ۔ہما بے حد غریب کنبے سے تعلق رکھتی ہیں ان کے والد کا نام رنجیت داس ہے اور وہ کسان ہیں ۔شروع میں پانچ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہما کو شروع سے فٹ بال میں دلچسپی تھی اور وہ اسکول میں لڑکوں کے ساتھ فٹبال کھیلا کرتی تھیں ۔ہمیشہ سے ہی اسے وہ اپنا کیرئیر بنانا چاہتی تھیں وہ گاﺅں میں آنے والی گاڑیوں کے ساتھ دوڑ لگاتی تھی وہ لڑکوں کو ریس میں ہرا دیا کرتی تھیں یہ دیکھ کر ان کی پی ٹی ٹیچر نے انہیں ریسلر بننے کی صلاح دی مقامی کوچ نپن داس کی صلاح مان کر ہما نے ضلع سطح کی 100اور دو سو میٹر کے مقابلے میں حصہ لیا ہما کی لگن کو دیکھتے ہوئے نپن داس نے انہیں گوہاٹی لے کر آئے یہیں سے ہی ہما داس کا کیرئیر ایتھلیٹ کے طور پر شروع ہوا ہما داس کرکٹ کے مقابلے اپنی تاریخی کارناموں کو بہت توجہ نہ ملنے سے دکھی ہیں ۔کہتی ہیں 11سیکنڈ دوڑنے کے لئے برسوں ایڈیاں گھس جاتی ہیں کوئی ایتھلیٹ روز صبح چار بجے اُٹھ کر آٹھ آٹھ گھنٹے پریکٹس کرتا ہے ایسے میں اگر دیش اس کے کارناموں کو نظر انداز کر دے تو اسے کیسا لگے گا ۔آپ خو د ہی اندازہ لگا سکتے ہیں براہ مہربانی ہمیں بھی کرکٹروں جیسا پیار دیں ہمارے دیش میں بد قستمی سے لمبے عرصے سے دور دراز علاقوں میں غریب پریواروں کے بچے الگ الگ کھیلوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ مقامی سطح پر کھیلیں تو وہ اچھے کھلاڑی بن سکتے ہیں لیکن کھیل کے لئے موقوں اور سہولیات کی کمی میں انہیں آگے نہیں بڑھتے کا موقعہ ملتا ۔ہما داس انہیں میں سے ایک ہیں جنہوںنے بہت کم وقت میں یہ ثابت کر دکھایا کہ اکثر وقت پر ٹیلنٹ کی پہچان ہو اور انہیں موقعہ دیا جائے کوئی سہولت مل جائے تو وہ دنیا میں دیش کا نام روشن کر سکتی ہیں ۔

(انل نریندر)

ٹریررستان ہے پاکستان آخر مانیں عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ امریکی دورے کے دوران امریکی ممبران پارلیمنٹ کے سامنے سچائی قبول کر لی ہے ۔جسے پاکستان شروع سے مسترد کرتا رہا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی تیس سے چالیس ہزار دہشتگرد موجود ہیں ۔جنہوںنے افغانستان اور کشمیر میں ٹرینگ لی اور وہاں لڑے بھی ہیں ۔ایک وقت ہمارے دیش میں چالیس ہزار دہشتگرد موجود تھے لیکن پہلے کی پاکستانی حکومتوں نے یہ بات چھپائی عمران نے یہ بھی مانا کہ چودہ فروری کو پلوامہ میں ہوئے حملے کے لئے جیش محمد ذمہ دار ہے ۔یہ پہلی بار ہے جب پاکستانی حکومت یا اس کے وزیر اعظم نے سیدھے سیدھے قبول کیا ہے کہ پلوامہ حملے میں جیش محمد کا ہاتھ تھا ۔جن کا آقا پاکستا ن میں ہے سال در سال جس پاکستان پر دہشگردی کی نرسری ہونے کا الزم لگتا رہا ہے آخر وہاں کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اس سچائی کا اعتراف کر لیا ہے ۔امریکہ میں خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سال بھر پہلے الزام لگا چکے ہیں کہ پاکستان سے ان کے دیش کو جھوٹ اور دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں ملا ۔دراصل عمران نے ایسے وقت میں امریکہ کا دورہ کیا جب ان کا ملک مالی طور سے خستہ حال ہو چکا ہے اور وہ خود چوطرفہ دباﺅ میں ہے ۔وہیں امریکہ کو افغانستان سے اپنی فوج کی واپسی کی لئے پاکستان کی ضرورت ہے اب تک پاکستان کی سرکار جس سچائی کو چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہے اسے وہیں کے وزیر اعظم کے ذریعہ پبلک طور پر بیان دینے کا مقصد کیا ہے؟دراصل پاکستان ابھی ایک طرف مالی بحران سے لڑ رہا ہے دوسری طرف اس کے خلاف دہشتگردی کے مالی مدد کے معاملے میں مالی کارروائی ٹاس فور س کے ذریعہ کارروائی کا خطرہ مڈرا رہا ہے ۔عمران کسی بھی طرح امریکہ کا بھروسہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔تاکہ اپنے دیش کو مالی بحران سے نکال سکیں اس لئے دہشتگردی کے معاملے میں ان کا اعتراف کس کو ہمت کی طرح نہیں بلکہ ایک اور چھلاوے کی طرح دیکھا جانا چاہیے ۔جو کسی طرح سے امریکہ کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں اگر دہشتگردوں کو پناہ دینے کی سچائی نہیں چھپا سکتے تو ایسے میں عمران سرکار کے لئے یہی موزوں تھا کہ اسے تسلیم کر اس کے خلاف اپنی حکومت کے عزم دکھا کر پاکستان کی ساکھ کو بدلیں ۔تاکہ بین الا اقوامی ہمدردی حاصل کر کچھ فائدہ اُٹھایا جا سکے اس لئے بغیر داڑھی والا طالبان خان کے نام سے مشہور عمران کی کئی باتوں پر ایک دم یقین کر لینا مشکل ہے اس لئے عمران کے امریکہ جانے سے پہلے جمعتہ الدوةاور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے سرغنا ں حافظ محمد سعید کو حراست میں لینے کا ناٹک کیا ۔اگر عمران یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی سرکار آنے پر ہی پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارراوئی شروع ہوئی تو یہ سچ نہیں ہے ۔عمران کے برسر اقتدار ہونے سے پہلے سے ہی پاکستان میں دہشتگردوں پر کارروائی جاری تھی ۔طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کی وجہ سے پاکستانی مفادات کو چوٹ پہنچ رہی تھی یہ ایران کی ایمانداری کا اعتراف نہیں بلکہ پلوامہ حملے کو مقامی آتنکوادیوں کی کرتوت بتانا ان کی ذہنیت کو دکھاتا ہے ۔ایسے میں بھارت کو یہ ضرور کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا اعتراف دہشتگردی پر نگرانی رکھنے والے فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کی اکتوبر میں ہونے والی میٹنگ میں پاکستان پر شکنجہ کسنے کی بنیاد بنے عمران کو ادھر اُدھر کی بات کرنے کے بجائے اپنی سرزمین پر بھارت مخالف آتنکی تنظیموں کی سرگرمیوں پر سخت کارروائی کر کے دکھانا ہوگا۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...