Translater

07 مئی 2019

نارتھ ایسٹ دلّی ہاٹ سیٹ بنی

قومی راجدھانی دلی کی نارتھ ایسٹ سیٹ صحیح معنوں میں 2019بڑے مقابلے والی ہائی پروفائل سیٹ بن گئی ہے ۔منفی اثر کے باوجود ٹکٹ کٹنے کی قیاص آرائیوں کے درمیان بھاجپا نے اپنے پردیش صدر اور اداکار منوج تیواری کو پندرہ سال سی ایم رہتے ہوئے وکاس کا دوسرا نام کہلائی جانے والی شیلا دکشت کی مقبولیت اور عام آدمی پارٹی سے جڑنے کی کوشش کرنے والی ریاست میں برسراقتدار عآپ کے نیتا دلیپ پانڈے کے دعوں سے اس سیٹ پر لڑائی دلچسپ ہو گئی ہے ۔پورے ہندوستان کی طرح منوج تیواری کو مودی کی ساکھ کا ہی سہارا ہے ۔پانچ سال ایم پی رہے منوج تیواری نے باقی سب کچھ کیا ہے لیکن اپنے پارلیمانی حلقہ پر بالکل توجہ نہیں دی ۔مسلم و پسماندہ لوگوں کی اکثریت والے اس پارلیمانی حلقہ میں تین اہم امیدوار برہمن ہیں ۔یہی نہیں منوج تیواری اور دلیپ پانڈے خود کو پروانچلی اور شیلا دکشت خود کو پوروانچل کی بہو بتاتی ہیں ۔وکاس کے پیمانے پر باقی دہلی سے بہت پیچھے چھوٹی شمال مشرقی دہلی میں تینوں نیتاﺅں سے اپنی سیا سی بساط بچھا دی ہے ۔عآپ امیدوار دلیپ پانڈے گذشتہ قریب چھ مہینے سے اس علاقہ کی گلی گلی کی خاک چھان رہے ہیں وہیں بھاجپا اور کانگریس کے امیدوار اپنی چناﺅ مہم بھی پوری تیزی کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔بھاجپا کے لئے پچھلی کارکردگی دہرانے کی چنوتی ہے تو ساتھ ساتھ شیلا دکشت کو ہرانے کی بھی ہے ۔کانگریس نے آپ پارٹی کے ساتھ اس لئے سمجھوتہ نہیں کیا کیونکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس پانا چاہتی ہے اور اسے ایسا کرنے کے لئے شیلا دکشت جیسی بہتر امیدوار نہیں ملتی۔دہلی کی ترقی کے لیے جتنا کام شیلا دکشت نے کیا کسی اور نے نہیں کیا اس لئے کانگریس کو پوری امید ہے کہ شیلا دکشت یہ سیٹ جیت لیں گی ۔یہاں تکونہ مقابلہ ہونے کی وجہ سے کانگریس اور عآپ دونوں کے ووٹ آپس میں بٹنے کا خطرہ ہے ۔پچھلے اسمبلی چناﺅ میں مصطفی آباد سے بی جے پی کے جگدیش پردھان اس لئے جیتے تھے کہ مسلم ووٹ کانگریس اور آپ میں بٹ گیا تھا ۔اور بی جے پی کو فائدہ ہوا تھا ۔اسمبلی میں تو کانگریس کو لوگوں نے مسترد کر دیا تھا لیکن ایم سی ڈی چناﺅ میں اس نے کچھ واپسی کی ایسے میں آپ کا ووٹ کانگریس کاٹ سکتی ہے ۔کل ملا کر مقابلہ کانٹے کا ہے لیکن شیلا جی کا پلڑا بھاری ہے ۔
(انل نریندر )

05 مئی 2019

بڑا چناﺅی دنگل: سلطانپور

سلطانپور لوک سبھا حلقہ میں اس مرتبہ مقابلہ بے حد دلچسپ ہے ۔پیلی بھیت ،سے سات مرتبہ ایم رہیں مینکا گاندھی کے مقابلے میں کانگریس امیدوار ڈاکٹر سنجے سنگھ ہیں وہ 2009سے یہاں ایم پی رہے ہیں وہیں گٹھ بندھن سے بسپا امیدوار چندربھان سنگھ ہیں جو یہاں سے کئی بار ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں ۔ان میں بھاجپا امیدوار مینکا گاندھی اپنے بیٹے ورون گاندھی کے ذریعہ کرائے گئے ترقیاتی کاموں کو سامنے رکھ کر لوگوں کے درمیان ہیں جبکہ ڈاکٹر سنجے سنگھ اور چندربھان سنگھ مقامی ہونے پر خود اعتمادی سے لبریز ہیں ۔سلطانپور میں کل 18لاکھ 11ہزار 770ووٹر ہیں ان میں 9لاکھ 47ہزار 618مرد اور 8لاکھ 64ہزار 59عورتیں ہیں ۔16ویں لوک سبھا کے چناﺅ میں سلطانپور کے ووٹروں نے ورون گاندھی کو 4لاکھ دس ہزار ووٹ دئے تھے ۔جبکہ کانگریس کے موجودہ امیدوار ڈاکٹر سنجے سنگھ کی بیوی امیتا سنگھ صرف 42ہزار ووٹوں سے تشفی کرنی پڑی تھی ۔ایسے میں کانگریس کے کبھی گڑھ رہے سلطانپور میں کانگریس کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرنا مشکل نہیں ہے ۔رہی بات 16ویں لوک سبھا کے چناﺅ کی تو اس سیٹ سے سپا بسپا کے امیدواروں کو ملے ووٹوں کے مقابلے بھی کم دلچسپی نہیں ہے ۔بسپا کے شکیل احمد کو 16ویں لوک سبھا چناﺅ میں 2لاکھ 28ہزار بسپا امیدوار پون پانڈے کو 2لاکھ 31ہزار ووٹ ملے تھے اپنے دونوں امیدواروں کو 16ویں لوک سبھا کے چناﺅ میں ملے ووٹوں کو ایک ساتھ کر سپا بسپا اپنی مضبوطی کا دعوہ ٹھوک رہی ہیں ۔ایسے میں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ دونوں پارٹیاں ووٹروں کو ایک ساتھ لا پانے میں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں ؟کبھی مہاراجاﺅں کی سلطنت رہے سلطانپور کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے گٹھ کے طور پر قائم کیا ہے ۔لوک سبھا سیٹ سے اب تک آٹھ مرتبہ کانگریس چار مرتبہ بھاجپا اور ایک بار بار جنتا پارٹی اور جنتا دل کے امیدوار کامیاب ہو چکے ہیں ۔کل ملا کر سلطانپور سے سولہویں لوک سبھا کے چناﺅ میں مقابلہ بے حد دلچسپ ہے ۔

(انل نریندر)

چوکا لگانے اور کھاتہ کھولنے کی لڑائی

دھرم کرم و موکش کی نگری سارڑن حلقہ گوتم رشی کی تپو بھومی ہے ۔اور ددھیچ رشی بھی یہاں کے تھے۔دوسری طرف سیاسی طور سے لوک نائک جے پرکاش نارائن کی سمپورن انقلاب کی تاریخ یہاں کے چپے چپے کو آج بھیطاقتوربنائے ہوئے ہے۔لوک سبھا چناﺅ میں یہاں بارہ امیدوار ہیں اہم مقابلہ این ڈی اے امیدواربھاجپا کے قومی ترجمان و ایم پی راجیو پرتاپ روڑی اور مہا گٹھ بندھن کے امیدوار و آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے سمدھی چندرکا رائے کے درمیان نظر آرہا ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ دورغہ پرسادرائے کے لڑکے مدرکا رائے اس حلقہ سے ممبر اسمبلی ہیں ۔روڑی یہاں سے چوتھی بار چناﺅ جیتنے کے لئے مشقت کر رہے ہیں ۔دوسری طرف چندرکا کی چنوتی لالو کی سیاسی کرم بھومی سارڑن کو پھر سے حاصل کرنا ہے ۔یہاں ووٹر خاموش ہیں سارڑن میں چھ مئی کو ووٹ پڑنے ہیں ۔جے پی راجیندر اور بھوجپوری کے شیکسپیر بھکاری ٹھاکر جیسی وبھوتیوں کو اپنی گود میں سمائے سارڑن گنگا گنڈک اور سرجیو ندیوں سے گھر ا ہے ۔بابا ہریہر ناتھ ،ابھا مندر ،اور عالمی شہرت یافتہ سونپور پربھومیل ہے۔سے بھی ان کی پہچان ہے چھ وزیر اعلیٰ دینے والے اس پارلیمانی حلقہ میں اس مرتبہ دو دھرندر تال ٹھوک رہے ہیں ۔یہ لوک سبھا حلقہ رگھونشیوں کا گڑھ رہا ہے ۔ان دونوں کے درمیان دہایوں سے اقتدار کا سنگم ہوتا ہے ۔2008کے حد بندی کے بعد سارڑن لوک سبھا حلقہ کے قیام ہوا ۔لالو پرساد یادو یہاں سے چار بار جیتے اور ریکارڑ بنایا ۔روڑی بے شک ابھی جمے ہوئے ہیں لالو اس دنگل سے بھلے ہی باہر ہیں لیکن ان کی شخصیت کی چمک آج بھی سارڑن میں زندہ ہے ۔روڑی کو مرکزی وزیر تک کے سیاسی سفر طے کرنے میں سارڑن کی دھرتی کا نام پرچھائی کی طرح جڑا ہے ۔اگر چندرکا رائے لالو کے دم خم پر چناﺅ لڑ رہے ہیں تو روڑی پی ایم مودی کی مقبولیت پر چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔اپوزیشن گٹھ بندھن یہاں بے روزگاری چھپرا شہر میں پانی بھراﺅ ،سنیچائی کے بہتر سسٹم نہ ہونے سے ٹوپو لینڈ ہل کا مسئلہ اُٹھ رہا ہے ۔تو روڑی قومی سلامتی کے علاوہ بہتر سڑک پہلی بار پہنچی اور بجلی سروسٹیشن بنا ۔این ڈی اے کا وکاس کا ایجنڈا کی دھوم ہے۔

(انل نریندر)

اب 12سیٹوں پر شہ-مات کا کھیل شروع

راجستھان کے پہلے مرحلے کی پولنگ ہونے کے بعد اب لڑائی کا مرکز راجدھانی جے پور بن گیا ہے ۔ریاست کی باقی بچی جن سیٹوں کے لئے چھ مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے اس میں راجدھانی جے پور اور اس سے وابسطہ سیٹیں شامل ہیں ۔آخر مرحلے والی 12سیٹوں میں سب سے دلچسپ مقابلہ جے پور دیہات سیٹ پر ہو رہا ہے ۔یہاں لڑائی دیش کا نام روشن کرنے والی دو نامور شخصیتوں کے درمیان ہے ۔بھاجپا کی طرف سے نشانہ باز سلور میڈل ونر راجوردھن سنگھ راٹھور ہیں ۔تو دوسری طرف کانگریس کے ٹکٹ پر گولڈ میڈل ونر کرشنا پنیا لڑ رہی ہیں ۔راٹھور 2014میں سیاست میں آئے تھے ۔اور اسی سیٹ سے ایم پی بن کر مرکز ی وزیر بنے ہیں ۔ادھر کرشنا پنیا 2018کے اسمبلی چناﺅ میں کانگریس کے ٹکٹ پر چورو ضلع کی سبل پور سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں ۔پارٹی نے انہیں جے پور دیہات سے میدان میںراجوردھن سنگھ روٹھور کے خلاف اتارا ہے ۔جے پور دیہات کی چناﺅ ی لڑائی کو ذات پات کے تجزیوں کی وجہ سے کانٹے کی ٹکر مانا جا رہا ہے ۔اس سیٹ پر قریب پانچ لاکھ جاٹ ووٹ ہیں ۔اور کرشنا پنیا بھی جاٹ ہیں۔اس کے علاوہ ایک لاکھ مسلمان ووٹ ہیں ۔جو کانگریس کے حامی مانے جاتے ہیں ۔جے پور دیہات میں آٹھ اسمبلی حلقوں میں سے پانچ پر کانگریس کا قبضہ ہے ۔باقی سیٹیں بھاجپا کے حصے میں ہیں ۔اور ایک سیٹ آزاد کے پاس ہے ۔جنہوںنے کانگریس کو حمایت دے رکھی ہے ۔باقی سیٹیں بی جے پی کے حصے میں ہیں ۔وہی راٹھور کی سب سے بڑی طاقت ہیں وہ راجپوت برادری سے آتے ہیں ۔اگر پنیا کے حق میں جاٹ ووٹروں کا پولرائزیشن ہو سکتا ہے تو راٹھور کے حق میں پوری راجپورت برادری کھڑی ہو سکتی ہے ۔ویسے بی جے پی کی کوشش جس طرح سے دیگر سیٹوں پر نظر آئی وہاں دیگر سیٹوں پر ذات پات کی صف بندی کو کاٹ کرنے کے لئے راشٹرواد کے اشوکو بھناتی دکھائی پڑ رہی ہے ۔اُدھر جے پور شہر سیٹ پر بی جے پی مضبوط ہے ۔کانگریس نے اس سیٹ پر سابق میر لوتی کھیڑ وال کو ٹکٹ دیا ہے ۔ان کا مقابلہ موجودہ ایم پی رام چرن گورا سے ہے جو پچھلے چناﺅ میں راجستھان میں سب سے زیادہ ووٹوں سے جیتے تھے ۔یہ سیٹ بی جے پی کے دبدبے والی مانی جاتی ہے ۔اب راجستھان کی بارہ سیٹیں جیتنے کے لئے شہ مات کا کھیل شروع ہو چکا ہے ۔

(انل نریندر)

03 مئی 2019

دہلی کی جنگ سہ رخی ہونے سے کس کو فائدہ ؟

راجدھانے دہلی کے لوک سبھا چناو ¿ کے لئے تصویر صاف ہوگئی ہے کہ 26اپریل کو نام واپسی کا آخری دن گذنے کے بعد کانگریس اور عام آدمی پارٹی میں اتحاد نہ ہونے سے دہلی میں مقابلہ سہ رخی ہوگیا ہے 12مئی کو دہلی کی ساتوں سیٹوں پر 1.43کروڑ ووٹر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے پچھلے تین مہینے سے کانگریس او رآپ کے درمیان کو اتحاد کو لیکر بحث اور فارمولہ نکالنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں ۔آخر یہ اتحاد کیوں نہیں ہوا؟کیا تھی پردے کی پےچھے کی کہانی ؟اس میں صاف ہے کہ اتحاد کو لیکر کانگریس کا رخ تھا کہ صرف دہلی کے لئے بات ہو جبکہ عام آدمی پارٹی چاہتی تھی اگر پنجاب ،گوانہیں تو ہریانہ اور چنڈ ھی گڑھ شامل ہو ۔کانگریس بڑی پکچر دیکھ رہی تھی ان کے نشانہ پر لوک سبھا کے ساتھ ساتھ 2020میں ہونے والا دہلی اسمبلی کا چناو ¿ بھی ہے ۔4-3فارمولہ پر بھی بات چلی لیکن کجریوال کی چنڈھی گڑھ ،ہریانہ کو اتحاد میں شامل کرنے کی زد سے ٹوٹ گئی اب دہلی میں بھاجپا کانگریس اور عآپ کا تکونہ مقابلہ ہوگا اور ساتوں سیٹوں پر 164امیدور مید ان میں ہونگے اب اس طرح کے حالات بن گئے ہیں دہلی میں عآپ پارٹی کی دوپارٹیوں سے محاظ آرائی کرنی پڑےگی ایک طرف بھاجپا کو ہرانے کے لئے پارٹی لڑے گی دوسری طرف مودی مخالف ووٹوں کو بٹنے سے روکنا ہے ۔کانگریس کی حکمت عملی صاف ہے اس نے اپنے مضبوط امیدوار میدان میں اتارے ہیں اقلیت اور دلت ووٹ ہماراہے یہ دعوی کانگریس کے بڑے نیتا نے کیاہے عآپ کو کچھ سیٹیں مل بھی گئی تو وہ زیادہ معاملہ نہیں ہوگا جبکہ کانگریس مرکزی سر کار میں بڑا رول نبھا سکتی ہے ۔وہیں عآپ پارٹی کو بھروسہ اس نے پچھلے چار پانچ سالوں میں مضبوط کیڈر بنایا ہے اور اس کے پوری دہلی میں ورکروں کا جال بچھاہے اس لئے وہ اقلیتوں دلتوں کا بھروسہ بھی جیتے گئی بھاجپا کو ہرانے کی پوزیشن میں وہیں ہے عآپ کے لئے چنوتی ہے یہ چناو ¿ قومی اشوز پر ہورہاہے اس کے لئے مفید پوائنٹ یہ کہ اس چناو ¿ میں زیادہ تر ریاستوں میں علاقائی پارٹیاں بی جے پی سے لوہا لےتی نظر آرہی ہے ۔کانگریس نے ایک بار پھر وزیر اعلی اروند کجریوال پر ان کی پارٹی کو بھاجپا کی بی ٹیم قرار دیا ہے ۔چاندی چو ک لوک سبھا حلقہ سے کانگریس امید وار جے پرکاش اگروال ،بھاجپا کے ڈاکٹر ہرش وردھن کو ٹکر دینے کی پوزیشن میں ہے ۔ساو ¿تھ دہلی سے عآپ کے امید وار گوروچڈھا بھی اپنا مقابلہ بھاجپا سے مان رہے ہیں اس معاملہ میں کانگریس امید وار بھی پےچھے نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ تمام سروے میں آپ تیسرے نمبر پر ہے پارٹی کے ترجمان جیتندر کوچر کہتے ہیں کہ دہلی کے لوگوں کو پتہ ہے کہ مرکز میں کانگریس کا اقتدار قائم ہونا ہے اس لئے کانگریس کا سیدھامقابلہ بھاجپا سے ہے پارٹی ہرسیٹ پر بھاجپا کوٹکر دے رہی ہے ۔بھاجپا کے دونوں ہاتھوں میں لڈ و ہے اس کا اندازہ ہے کہ دہلی کی اس چناوی جنگ میں کانگریس اور عآپ پارٹی ایک دوسرے کے ووٹ کاٹے گی اور اس کا فائدہ بھاجپا کو ہوگا اور وہ سہ رخہ مقابلہ سیدھی نکل جائے گی ۔2014کے عام چناو ¿ میں تینوں پارٹیوں ووٹ فیصد کا تجزےہ کیا جائے تو سب سے زیادہ ووٹ 46.6فیصد بھاجپا کو ملے تھے ۔کانگریس کو 15.2اور عآپ کو 33.1فیصدی ووٹ ملے اگر کانگریس اور عآپ کے ووٹ جوڑ دیئے جائے تو یہ نمبر 41.3فیصد ہوجاتاہے جو بھاجپا سے قریب 2فیصد زیادہ ہے کانگریس بھاجپانے اپنے پرانے چہروں پر داو ¿ لگایاہے بھاجپا بھی آخری وقت تک دونوں پارٹیوں کے داو ¿ں کو پرکھتی رہی ہے ۔دلت ایم پی اودت راج کا ٹکٹ کٹنے سے فیصلہ بھاجپا کے لئے بھاری نہ پڑ جائے ؟کل ملاکر کانگریس اور عآپ کے الگ الگ لڑنے سے بھاجپا کے لئے لڑا ئی تھوڑی آسان ضرور نظر آرہی ہے مگر کانگریس نے جس طرح واپسی کی شش کررہی ہے اس بھاجپا راہ ضرور مشکل ہوئی ہے ۔

(انل نریندر)

چار مرحلوں کے چناﺅ کے بعد سیاسی حریف چاروں خانے چت

لوک سبھا چناو ¿ میں پولنگ کے چار مرحلے گذرنے کے بعد دعو ¿ں اور امکانات کے درمیان سبھی سیاسی پارٹیوں نے ایک ایک سیٹ پر اپنی ضرب تقسیم کرنا شروع کردی ہے ۔اپوزیشن پارٹیاں پردے کے پیچھے کچھ مسئلوں پر آپسی اتفاق رائے بنانے کی کوشش کررہی ہیں تاک آخری مرحلوں میں تجزیوں کو بدلا جاسکے ۔چوتھا مرحلے کے چناو ¿ آتے آتے جس طر ح بیروزگار ی ایک باڑا اشو بن کر ابھراہے اس سے اپوزیشن کی امید وں پر پر لگنے لگے ہیں ۔چناو ¿ کے ابتدائی دور میں جس طر ح قومی سلامتی او ردہشت گردی دیش میں بڑا اشو بن کر ابھرہا تھا اور بھاجپا نے راشٹر واد کو اپنا چناوی ہتھیار بناکر جار حانہ مہم سے اپوزیشن کی ہوا نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔پچھلے ہفتے ایک سروے میں جو انکشاف ہوا ہے اس میں 28اعشارےہ 42فیصد لوگوں نے بیروزگاری پر تشویش ظاہر کی تھی اور 11اعشارےہ 74فیصد لوگوں کی نظر میں سکورٹی بڑااشو تھا اس سے پہلے مارچ میں پول کے مطابق دہشت گردی اور قومیت اہم اشوتھا ۔اپوزیشن کےلئے بیروزگاری اشو پر تشویش سے اپوزیشن کو ہمت ملی ہے کیونکہ مدھےہ پردیش ،راجستھان ،گجرات ،پنجاب ،دہلی ،جھارکھنڈ اور ساو ¿تھ کی ریاستوں میں بیروزگاری لوگوں کی اہم تشویش ہے ۔لیکن بھاجپا قومی سلامتی او رراشٹرواد کے اشو پر سوار ہوکر دوبارہ واپسی کی کوشش میں لگی ہے ۔وہیں کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن روزگار کو بڑا شو بنارہی ہے کانگریس صدر راہل گاندھی بیروزگاری کو لیکر لگاتار مودی سرکار پر حملہ آور ہے وہ چناو ¿ سے پہلے دوکروڑ روزگار کے مودی کے دعوے پر تفصیل طلب کرتے آرہے ہیں تو وہیں نوٹ بندی سے روز گار میں کمی کو لیکر مودی سرکار پر حملہ آور ہیں ۔کانگریس نے اپنے چناو ¿ منشور میں بیروزگاری کو بڑا اشو بنایاہے اور راہل گاندھی چناوی گھماسان میں اسے بھلانے کولیکر کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے ہیں ۔مظفر پور میں ایک چناوی ریلی میں دعوی کیا کہ اب تک کہ چناو ¿ میں حریف چاروں خانے چت ہوگئے ہیں اور پانچویں مرحلے میں اور صاف ہوجائے گا کہ اپوزیشن کی ہار کتنی بڑی اور این ڈی اے کی جیت کتنی شاندار ہوگی ےہ لہر نہیں للکار ہے پھر ایک کے بعد مودی سرکار ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں مرکز میں سرکار بنانے کے لئے چناو ¿ نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ وہ اپنے ممبران کی تعداد بڑھانے کے لئے چھٹ پٹارہے ہیں مودی نے کہا ان مفاد پرست مہاملاوٹیوں کو سال 2019لوک سبھا چناو ¿ میں اتنی سیٹیں نہیں ملنے والی ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کا رتبہ حاصل کرپائے کیونکہ اپوزیشن لیڈر بننے کےلئے لوک سبھا کی کل سیٹوں کا 10فیصد حصہ جیتنا 
ضروری ہوتا ہے او رچار مرحلو ںکے چناو ¿ کے بعد صاف ہوگےاہے کہ انہیں اتنی سیٹیں ملنے والی نہیں ہیں ۔
(انل نریندر)

02 مئی 2019

بھاجپا کو 400 سیٹیں ملیں گی اور کانگریس کو 50 بھی نہیں

لوک سبھا چناﺅ کے چوتھے مرحلے کی پولنگ ختم ہو گئی ہے ۔اس مرحلے میں 72پارلیمانی سیٹوں پر ووٹ پڑنے کے بعد اب کل ملا کر 304لوک سبھا سیٹوں پر ووٹ پڑ چکے ہیں ۔اور ای وی ایم میں نتیجے بند ہو گئے ہیں ۔سبھی پارٹیاں اپنا اندازہ لگانے میں لگ گئی ہیں ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو دعوی کیا تھا کہ ان چناﺅ میں کانگریس کو پچاس سیٹیں بھی نہیں ملیں گی ۔شیو سینا چیف ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہوئی ممبئی کی ایک ریلی میں انہوںنے یہ دعوی کیا تھا وہیں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا ہے کہ دیش کے ہر شہری اور ووٹر کی ایک ہی خواہش ہے کہ نریندر مودی پھرسے وزیر اعظم بنیں اب کوئی بھی طاقت انہیں وزیر اعظم بننے سے روک نہیں سکتی ۔اب بھاجپا پورے دیش میں 400لو ک سبھا سیٹیں جیتے گی ۔وہیں کانگریس کے سینر لیڈر پی چتمبرم نے دعوی کیا کہ چار مرحلوں کے بعد کانگریس اور اس کے ساتھیوںنے بھاجپا این ڈی اے پر قابل قدر بڑھت بنا لی ہے ۔انہوںنے وزیر اعظم کے دعوی کے پس منظر میں یہ رائے زنی کی ہے ۔واضح ہو کہ پچھلے چناﺅ میں کراری شکست کا سامنا کرنے والی کانگریس نے اس مرتبہ حکمت عملی بدلی اور ورکروں میں جوش بڑھانے کے لئے اپنے کئی سرکردہ لیڈوں کو چناﺅی میدان میں اتارا ۔پارٹی کے سرکردہ نیتاﺅں کے اہم کردار چناﺅی انتظام میں ہوتا ہے کانگریس پارٹی نے اس مرتبہ جن سرکردہ نیتاﺅں کو میدان میں اتارا ہے ان میں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیندر سنگھ ہڈا اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت اور دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت وغیرہ درجنوں نیتا شامل ہیں ۔کانگریس کے سینر لیڈر جے رام رمیش نے آنند شرما کی ایک ریلی میں دعوہ کیا کہ تیسرے مرحلے تک دیش کی 300سے زیادہ سیٹوں پر چناﺅ ختم ہو چکے ہیں ۔ان میں جو رخ سامنے آیا ہے نریندر مودی سرکار کی مرکز سے جانے کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے ۔انہوںنے آگے کہا کہ وزیر نریندر مودی کے چال ڈھال اور ہاﺅ بھاو سے ہار کا ڈر صاف دکھائی دینے لگا ہے انہوںنے کہا کہ مودی سرکار پچھلے پانچ برسوں کے عہد میں دھوکہ ،دھمکی،اور ڈرامہ بازی پر چلی مودی جی نے کبھی غلطی سے بھی سچ نہیں بولا اور لوگوں کو بے وقوف بناتے رہے ۔چھوتھا مرحلہ بھاجپا اور ان کے ساتھیوں کے لئے انتہائی اہم ترین تھا ۔کیونکہ یہاں سے ان کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے ۔اب جب ای وی ایم کھلیں گی تو کس کا مستقبل صحیح ثابت ہوتا ہے یہ دیکھنے کی بات ہے۔

(انل نریندر) 

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...