Translater

02 مئی 2019

کیاپی ایم کے ہیلی کاپٹر کی جانچ ہو سکتی ہے ؟

سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹرایبنل (کیٹ)کی بنچ نے بنگلورو میں الیکشن کمیشن کے آئی اے ایس افسر محمد محسن کی معطلی کے حکم پر روک لگا دی ہے ۔اڑیشہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ہیلی کوپٹر کی جانچ کرنے پر انہیں معطل کر دیا گیا تھا ۔بتا دیں کہ چناﺅ کمیشن نے اڑ یشہ کے سنمبل پور میں ایس پی جی یافتہ پی ایم مودی کے ہیلی کاپٹر کی جانچ کو لے کر ''ذمہ داری کو باقاعدگی سے نہ نبھانے''کے الزام میں آئی ایس محسن کو معطل کر دیا گیا تھا ۔چناﺅ کمیشن کی جانب سے جاری حکم کے مطابق کرناٹک کیڈر کے 1996کے بیچ کے آئی اے ایس افسر محمد محسن نے 16اپریل کو ایس پی جی سیکورٹی سے جڑے الیکشن کمیشن کے حکم کی تعمیل نہیں کی وزیر اعظم نریندر مودی 16اپریل کو ایک چناﺅی ریلی کو خطاب کرنے کے لئے سنمبل پور گئے تھے ۔کیٹ کی بنچ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے چار دیگر معاملوں میں نوٹس جاری کر معاملے کی اگلی سماعت 6جون مقرر کی ہے ۔اپنے حکم میں کیٹ کے ممبر (جڈیشیل )ڈاکٹر کے سی سریش نے پایا کہ ایس پی جی سیکورٹی پائے لوگوں کو لے کر ایک فرمان ہے کہ کچھ یقینی بنیاد پر انہیں کچھ چیزوں سے چھوٹ حاصل ہے ۔کیٹ نے عرضی گزار کو وکیل کی عرضی کا بھی نوٹس لیا ہے ۔جس میں انہوںنے کہا کہ ایسی خبریں تھیں کہ وزیر اعظم کے قافلے سے بھاری سامان اتاریا گیا ۔اور انہیں دوسری گاڑیوں میں لے جایا گیا ۔اس میںکیا تھا؟پر سوال اُٹھائے گئے لیکن ممکنہ طور پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔کیٹ نے کہا کہ چناﺅ کارروائی کے دوران ایس پی جی کی سیکورٹییافتہ لوگوںکو سرپرستی اور سیکورٹی کے پختہ یقین دہانی دستیاب کرانے کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کچھ بھی اور سب کچھ کرنے کے اہل ہیں ۔کانگریس نے محسن کے خلاف چناﺅ کمیشن کی کارروائی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے افسر شاہی کو سزا دی اس کے تحت وزیر اعظم کی گاڑی کی جانچ سے چھوٹ نہیں ہے ۔پارٹی نے پوچھا کہ مودی ہیلی کاپٹر میں جو لے جا رہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ بھارت کے لوگ اسے دیکھیں ۔عام آدمی پارٹی نے ٹوئٹ کر کے مودی پر طنز کسا ۔اس نے پوچھا کہ وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر کی جانچ کرنے والے افسر کی معطلی چوکیدار اپنے ہی محفوظ سیل میں رہتا ہے کیا چوکیدار کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے ۔جن گائڈ لائنس کا تذکرہ چناﺅ کمیشن نے اپنے حکم میں کیا اس میں اس بارے میں کوئی واضح جانکاری نہیں ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں سے چھوٹ صرف وزیر اعظم اور دیگر سیاسی لوگوں کو ملے گی جنہیں کٹر پسند یا دہشت گردانہ سرگرمیوں سے جان کو خطرہ ہے ۔اسی وجہ سے انہیں ہائی سطح کی سیکورٹی کی ضرورت ہے ۔اور جن کی سیکورٹی ضرورتیں آئینی تقاضوں یا پارلیمنٹ یا آئینی اجلاسوں کے قوانین سے مقرر ہوتی ہیں اپوزیشن نے چناﺅ کمیشن کے اس قدم کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑی کی جانچ کرنے کا اپنا کام کر رہے ایک افسر کو چناﺅ کمیشن نے معطل کر دیا ہے ۔جس قاعدہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ وزیر اعظم کو کوئی چھوٹ نہیں دیتا ہے ۔

(انل نریندر)

01 مئی 2019

باپ بیٹے کی پارٹی ایک -چناﺅ الگ الگ

چھندواڑہ بھلے ہی دیش کا اکیلا ایک ایسہ پارلیمانی حلقہ ہے جہاں باپ بیٹے ایک ساتھ ایک پارٹی سے الگ الگ چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔والد اسمبلی کے لئے اور بیٹا لوک سبھا کے لئے میں بتا رہا ہوں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کملناتھ کے بارے میں ۔وہ اسمبلی کے لئے چناﺅ لڑ رہے ہیں بلکہ ان کے بیٹے نکل ناتھ جو لوک سبھا کے لئے چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔لیکن دونوں ایک ساتھ چناﺅ کمپین میں لگے ہیں اور دونوں کا ہی وکاس چناﺅی اشو ہے ۔چھندواڑہ پالیمانی حلقہ کی چالیس سال سے کملناتھ اور ان کا خاندان نمائندگی کرتا آرہا ہے کملناتھ وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے اس حلقہ سے نو مرتبہ چناﺅ میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔صرف ایک مرتبہ 1977میں ضمنی چناﺅ میں بھاجپا نیتا سندر لال پٹوا کامیاب ہوئے تھے اس مرتبہ چھندواڑہ پالیمانی حلقہ میں وکاس کا ہی اشو چھایا ہوا ہے ۔کملناتھ یوں تو ریاست میں کانگریس کے تمام لوک سبھا امیدواروں کے لئے چناﺅ مہم چلا رہے ہیں مگر بیچ بیچ میں چھندواڑہ اسمبلی حلقہ میں بھی آجاتے ہیں ۔کملناتھ کو وزیر اعلیٰ کا حلف لینے کے بعد چھ مہینے کے اندر ممبر اسمبلی منتخب ہونا ضروری ہے ۔اس لئے چھندواڑہ میں اسمبلی کا ضمنی چناﺅ ہو رہا ہے ۔یہ سیٹ ممبر اسمبلی دیپک سکسینا نے استعفیٰ دے کر یہ سیٹ کملناتھ کے لئے خالی کی ہے ۔وزیر اعلیٰ کے لڑکے نکلناتھ چھندواڑہ لوک سبھا چناﺅ میں اپنی سیاسی پاری کا آغاز کر رہے ہیں وہ چناﺅی ریلیوں میں کہتے ہیں کہ اپنے والد کملناتھ کی سیٹ کی نمائندگی کرنا بڑی چنوتی ہے وکاس کی جو لہر چل رہی ہے اسے جاری رکھیں گے کانگریس جہاں چھندواڑہ ماڈل کا ذکر کر رہی ہے وہیں بھاجپا مودی کے وکاس ماڈل کا تذکرہ کرنے میں لگی ہے کل ملا کر یہاں چناﺅ میں دو نیتاﺅں کے وکاس ماڈل آمنے سامنے ہیں ۔

(انل نریندر)

بہا رمیں دو سابق وزراءاعلیٰ نائب وزیر اعظم کے خاندانوں کی ساکھ داﺅں پر لگی

بہار میں کبھی وزیر اعلیٰ کی شکل میں ریاست کی خدمت کرنے والے خاندانوں کے ساتھ سابق نائب وزیر اعظم کے خاندان کی ساکھ بھی اس لوک سبھا چناﺅ میں داﺅں پر ہے جنتا کی نظروں میں ان کی ساکھ کتنی بچی ہے یہ تو نتیجوں کے بعد پتہ چلے گا دیکھنا ہے کہ اس چناﺅ میں اپنی خاندانی وراثت کو کون بچا پاتا ہے ؟قومی سیاست کے اہم ترین لیڈر سورگیہ نائب وزیر اعظم جگ جیون رام کی لڑکی نیرا کمار پھر ساسا رام لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کی امیدوار ہیں ۔وہ پندرہوں لو سبھا کی اسپیکر بھی رہ چکی ہیں ان کو کنبہ ذاتی طویل سیاسی تجربہ بھی ہے ۔ساسا رام حلقہ میں ان کے خاندان کو کافی مانا جاتا ہے اس حلقہ کی ترقی میں بابو جگ جیون رام کے ساتھ میرا کمار کا بھی بڑا اہم رول رہا ہے ۔وہیں سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی اس لوک سبھا چناﺅ میں گیا پارلیمنٹری حلقہ سے مہا گٹھ بندھن کے امیدوار ہیں 2014میں وہ جے ڈی یو کے امیدوار کے طور چناﺅ لڑئے تھے ۔اس چناﺅ میں ہارنے کے بعد ہی وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جیتن رام مانجھی کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنا کر ریاست کی کمان سونپ دی تھی بعد میں پارٹی نے ان سے نتیش کمار کے لئے عہدہ چھوڑنے کے لئے کہا تو انہوںنے انکار کر دیا اس کے بعد مانجھی کوپارٹی سے نکال دیا گیا ۔اسمبلی میں اکثریت نہ ثابت کر پانے پر انہیں 20فروری 2015کو استعفی دینا پڑا تھا بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو و سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی خاندان کا بھی اس چناﺅ میں سخت امتحان ہے ۔آر جے ڈی نے پاٹلی پتر سے لالو کی بیٹی میسا بھارتی کو میدان میں اتارا ہے ۔لوک سبھا چناﺅ 2014میں لالو خاندان کے خاص رہے رام کرپال یادو اور میسا بھارتی کے درمیان آمنے سامنے کی کڑی ٹکر ہے ۔وہیں دربھنگہ سے تین مرتبہ ایم پی رہ چکے کرتی آزاد کو بھاجپا سے اختلافات کے چلتے اپنا لوک سبھا حلقہ بھی چھوڑ کر جھارکھنڈ میں اپنا نیا حلقہ بنانا پڑا اس مرتبہ وہ کانگریس کے امیدوار کے طور پر دھن باد لوک سبھا حلقہ سے چناﺅ میدان میں ہیں ۔بہار کے سابق وزیر اعلیٰ سورگیہ کیدار پانڈے کے پوتے ششرت کیدار کو کانگریس نے بالمی کی نگر لوک سبھا حلقہ سے امیدوار بنایا کیدار پانڈے چمپارن حلقہ کے ایک بڑے با اثر لیڈر تھے ۔کیدار کے لڑکے سورگیہ منوج پانڈے کے بعد ان کے پوتے ششرت کیدار نے سیاست میں قدم رکھا ہے ۔دیکھیں یہ نئے امیدوار اپنے خاندانوں کی ساکھ بچانے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں؟

(انل نریندر)

کیا بھوپال میں 35سال کا کانگریسی سوکھا ختم کر پائیں گے؟

35سال !جی ہاں.... ،بھوپال سے کسی کانگریسی امیدوار کو لوک سبھا چناﺅ میںکامیاب ہوئے 35سال پورے ہو گئے ہیں اس نقطہ نظر سے مدھیہ پردیش کے دو مرتبہ وزیر اعلیٰ رہ چکے دگ وجے سنگھ کانگریس کے لئے امید کی کرن کی شکل میں ہیں ،دیکھنا یہ ہوگا کہ تین دہائیوں سے خشک سالی مٹا کر وہ کانگریس کے لئے تقریبابنجر ہو چکی بھوپال پارلیمانی سیٹ کی زمین پر ووٹوں کی فصل لہلہا پاتے ہیں یا نہیں ؟ایک دہائی تک مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ اور دو مرتبہ ریاستی کانگریس صدر کے ناطے دگ وجے سنگھ کو ریاست کے مسائل پر گہری واقفیت ہے اور ان پر پکڑ بھی ہے ۔تنازعات انہیں تقویت دیتے ہیں خاص طور پر آر ایس ایس ،ہندتو اور بھاجپا کو لے کر ان کو متنازعہ ٹوئٹس پر شوشل میڈیا میں جتنی ان پر تنقید ہوئی ہے شاید ہی کسی دوسرے نیتا کی ہوئی ہو عوامی رابطہ اور اندرونی خطرے سے محروم مقبولیت دگ وجے نے شاید یہ کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے مقابلے پر بھاجپا نے پرگیہ ٹھاکر کو اتارنے کے پیچھے بھاجپا کا ووٹوں کا پولارائزیشن کر نا ہے دگ وجے سنگھ بھاجپا کی چال کو سمجھ گئے ہیں۔ انہوں نے سادھوی کے میدان میں آتے ہی بھگوا دہشتگردی اور ہندتو جیسے موضوعات کو اٹھانا بند کر دیا ہے۔دگ وجے بھاجپا کے داﺅں میں تو نہیں آئے البتہ سادھوی خود غلطی کر بیٹھیں اور انہوںنے شہید افسر ہیمنت کرکرے کے بارے میں دئے بیان نے پورے دیشن میں زلزلہ سا لا دیا ہے ۔بھاجپا کو جب لگا کہ بے وجہ سادھوی نکتہ چینی کا شکار ہو ررہی ہیں۔ تو بھاجپا نے سادھوی سے معافی مانگنے کو کہا بھلے ہی سادھوی نے اپنا بیان واپس لے لیاہو جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو ہی گیا انہیں یہ سمجھ نہیں آیا کہ سیاست کتنا خطرناک کھیل ہے اور چناﺅ میں ہر بات کا اثر ہوتا ہے ۔ہیمنت کرکرے کا شراپ اس کے بعد بابری مسجد ڈھانے پر دئے بیانوں کے بعد اب پرگیہ ٹھاکر نے کانگریس امیدوار دگ وجے سنگھ کو آتنکی تک کہہ دیا ۔انہوںنے دگ وجے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ 16سال پہلے اوما دی دی (اوما بھارتی )نے اسے ہرایا تھا اور وہ سولہ سال تک منھ نہیں اُٹھا پایا اب پھر سے سر اُٹھا رہا ہے ۔تو اب دوسری سنیاسی سامنی آگئی ہے ۔جو اسکے کرموں کا در پردہ ثبوت ہے ۔ایک بار پھر دہشتگردی کو ختم کرنے کے لئے سنیاسی کو ختم ہونا پڑا ہے حالانکہ بعد میں پرگیہ ٹھاکر نے کہا کہ میں نے دگ وجے کو آتنکی نہیں کہا ۔

(انل نریندر)

30 اپریل 2019

چوتھے مرحلے میںNDA کو چاہیے 79%اسٹرائک ریٹ

بھارتےہ جتنا پارٹی کے سینئر لیڈر ومرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دعوی کیا ہے کہ دیش میں بھاجپا کی آندھی چل رہی ہے جس میں اپوزیشن کنبہ کی طرح اڑ جائے گی ۔وہ بستی میں چناوی ریلی سے خطاب کر رہے تھے کہا کہ تین مرحلے میں ہوئے پولنگ رجھان سے اپوزیشن گھبراگئی ہے اور ان میں مایوسی پھےل گئی ہے ۔ دیش میں بھاجپا کی سنامی چل رہی ہے لوک سبھا چناو ¿ کے چار مرحلے پورے ہوچکے ہیں چوتھے مرحلے میں 14ریاستوں میں 71سیٹوں پر ووٹ پڑے ہیں انہیں سیٹوں کے دم پر بھاجپا کو اپنے دم پر اکثریت اور این ڈی اے کو زبردست کامیابی ملتی تھی تب این ڈی اے نے ان 71سیٹو ں پر 79فیصدی قبضہ کیا تھا ان میں سے 45سیٹےں بھاجپانے جیتیں تھی ۔چوتھے مرحلے میں کئی دلچسپ مقابلے ہوئے ہیں۔ممبئی ،نارتھ ، سینٹرل لوک سیٹ پر مراٹھی او رمسلم ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں جہاں بھاجپا کی موجودہ ایم پی پونم مہاجن اور کانگریس سے سورگیہ سنیل دت کی بیٹی پریہ دت کے ساتھ مقابلہ ہے سال 2014میں پونم مہاجن نے پریہ دت کو ہرایاتھا ۔پونم اپنے پانچ سالہ کاموں پر ووٹ مانگ رہی ہیں جبکہ پریہ دت کا کہنا ہے کہ ان لڑا ئی جمہوریت بچانے کیلئے ہے ووٹر آبادی تناسب کے مطابق ،چناو ¿حلقے میں مراٹھی باشندوں کی بالادستی ہے ،اس کے بعد مسلمان نارتھ ہندوستانی ،گجراتی او رمارواڑی ،عیسائی اور ساو ¿تھ انڈین رہتے ہیں ۔2014میں پونم مہاجن نے اس وقت کے ایم پی پریہ دت کو اےک لاکھ چھیاسی ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا دیکھیں کیا پریہ دت پونم سے اس مرتبہ سیٹ چھین سکتی ہے ؟ممبئی نارتھ لوک سبھا سیٹ ایسا حلقہ ہے جہاں بھاجپا کے موجودہ ایم پی گوپال شیٹی کے خلاف کانگریس کو ہی امید وار طے نہیں کرپائی تھی ۔لیکن فلم اداکار ار ملا ماتونڈکر کو اس یٹ سے امید وار بنائے جانے سے کانگریس اب مقابلہ میں آتی دکھائی دے رہے ہے یہ رےاست میں بھاجپا کی سب سے پختہ سیٹوں میں ایک ہے اور سابق کونسلر کئی بار ممبر اسمبلی رہے شیٹی نے 1914کے عام چناو ¿ میں ممبئی کانگریس چیف سنجے نروپم کو 4.46لاکھ ووٹوں سے ہرایا تھا ۔اس مرتبہ چناو ¿ نہ لڑنے کی خواہش ظاہر کی تھی اس کے بعد کانگریسیوں میں مایوسی پےدا ہوگئی تھی انہوں نے کہا کہ ماتوند کر نے سیاسی اشو کو لیکر اپنی سادگی سے بات رکھنے سے کئی لوگوں کو چوکادیاہے ۔اب یہ بھی صاف کردیاکہ بھاجپا کو یہاں چنوتی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ےہ سیٹ اس کے لئے آسان ہونے والی نہیں ہے ممبئی کی 6لوک سبھا سیٹوں کی اگر باتیں کریں تو ساو ¿تھ ممبئی سب سے اہم ترین سیٹ ہے ۔یہاں ریاستی کانگریس صدر ملند دیو ڑا میدان میں ہےں ۔ان کامقابلہ شیوسینا کے موجود ایم پی اروند ساونت سے ہے اس مرتبہ ان کی پوزیشن مضبوط نظر آرہی ہے ۔ایم این ایس اس مرتبہ کانگریس ۔این سی پی کی حمایت میدان سے باہر ہے ۔اب ایک طرف فلم ستارے کی بات کرتے ہیں ۔چنڈی گڑھ سیٹ پر بھاجپا نے ایک مرتبہ پھر کرن کھیر کو میدان میں اتار اہے ان کا مقابلہ کانگریس کے سینئر لیڈر پون کمار بنسل سے ہے ان کے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی امید وار وسابق وزیر ہرموہن دھون بھی مید ا ن میں ہے بھاجپا کی امیدو ار کرن کھیر کو پارٹی کے اندر سے ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔پارٹی میں ٹکٹ کو لیکر کھینچ تان چل رہی تھی بھاجپا کے ٹکٹ کے لئے کئی مضبوط دعوےدار تھے کرن کھیر کو جہاں ایک طرف پون کمار بنسل ہر موہن دھون سے مقابلہ کرنا ہوگا وہیں پارٹی کے اندر ناراضگی بھی برداشت کرنی ہوگی ۔سال 2014کے لوک سبھا چناو ¿ میں آپ پارٹی نے فلم اسٹار گل پناگ کو میدان میں اتار کر چنوتی پیش کی تھی ۔اس مرتبہ چنڈی گڑھ کا مقابلہ سخت ہوگا کرن کھیر کو جیتنے کے لئے پورا دم خم لگا نا ہوگا اب ہٹ کر ہم ایک اور بہت مقبول مقابلے کی طرف بڑھتے ہیں یہ اترپردیش کا شہر اناو ¿ کا مقابلہ ۔بھاجپا اور کانگریس کے درمیا ن مانی جارہی چناوی لڑاکو اتحاد نے تکونہ مقابلہ میں بدل دیاہے یہاں مودی لہر میں 2014میں جیتی بھاجپا اس مرتبہ ووٹ بینک میں بکھرا و ¿ سے پریشان ہے تو 2009میں ریکارڈ توڑ ووٹ سے جیتنے والی کانگریس پھر مودی فیکٹر او رگٹھ بندھن سے پریشان ہے بہر حال نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن اس مرتبہ یکطرفہ پولنگ کے آثار نہیں ہے ۔پچھلے چناو ¿ میں سپا ،بسپا الگ الگ چناو ¿ لڑی تھی اور نو لاکھ سے زےادہ ووٹ حاصل کئے تھے ۔اس مرتبہ دونو ںساتھ ہیں اس سے چناوی تجزےہ بدل سکتے ہیں گٹھ بندھن نے یہاس ے ارون شنکر شکل عرف منا مہاراج کو میدان میں اتار اہے بڑی پارٹیوں میں اکیلے برہمن امید وار ہونے اور سپا بسپا کے ووٹ بینک کے سہارے وہ سخت چنوتی بنتے نظر آرہے ہیں وہیں بھاجپا موجود ہ ایم پی ساکشی مہار اج پر ہی بھروسہ جتایاتھا ۔بھاجپا مودی لہر اور راشٹر واد اشو کے سہار ے چناوی لڑائی کو آسان مان رہی ہے حالانکہ بھاجپا روایتی بڑی برادری ووٹ بینک گٹھ بندھن امید وار کی سیندھ ماری اور مسلم ووٹر وں میں اتحاد کو لیکر اس کی پریشانی بڑھا ئے ہوئے ہیں کانگریس نے اننو ٹنڈن کو چناو ¿ میدان میں اتار ا ہے ۔ان کے ٹرسٹ کے ذریعہ سے غریبو ں،بیمار وں ،آگ متاثرین کی مدد کو دیکھتے ہوئے جیت کی امید کررہی ہے ۔حالانکہ مسلمان اور نو اعلی ذاتوں کے ووٹوں میں بکھراو ¿ںسے تشویش بڑھی ہوئی ہے ۔پچھلی بار بھی انہیں تینوں امیدوار وں میں لڑا ئی ہوئی تھی ۔گذشتہ چناو ¿ میں چوتھے مرحلے میں بھاجپا اڈیشہ میں خالی ہاتھ رہی تھی ۔مغربی بنگال میں محض ایک سیٹ ملی تھی پارٹی کو ان دونوں ریاستوں میں اپنی سیٹیں بڑھانے کی چنوتی ہوگی پارٹی کے لئے خوش آئیں صورتحال ان ریاستوں میں اس کی بلا تنازعہ دوسری طاقت بن جانا ہے ۔حالانکہ دوسری طرف پچھلے چناو ¿ کے برعکس پارٹی کو بہار ،جھارکھنڈ او راترپردیش میں مضبو ط گٹھ بندھن کا سامنا کرپڑے گا ۔اس کے علا وہ پارٹی راجستھان ،مدھیہ پردیش جیسی ان ریاستوں میں کانگریس سے سیدھی چنوتی ملے گی جہاں اب وہ اقتد ار میں نہیں ہے ۔
(انل نریندر)


28 اپریل 2019

بھاجپا کے قلعے ہماچل کو کانگریس بھید پائے گی ؟

لوک سبھا چناو ¿ میں ہماچل پردیش کی کل 4سیٹوں کے لئے دونوں بھاجپا اور کانگریس نے پوری اپنی طاقت جھونک دی ہے ریاست کے تمام بڑے نیتاو ¿ں اور انکے لڑکو ںکی اس چناو ¿ میں ساجھیداری کانگریس کے امیدوار جیتے یا نہ جیتے لیکن پردیش کے تما م بڑے نیتا و ¿ں نے اپنے لڑکو ں کو پارٹی میں جگہ ضرور دلادی ہے ۔سوال یہ ہے کہ یہ بیٹے ان چاروں سیٹوں پر اپنے والد کی عز ت بچاپائیں گے یانہیں ؟بیٹا ہی نہیں سابق وزیر سکھرام نے اپنے پوتے تک کو پارٹی کا ٹکٹ دلوادیا بے شک اس کے لئے انہیں اس عمر میں اپنی وفاداریاں بدلنے کے الزام جھلنے پڑرہے ہیں وہ بھاجپا میں تھے لیکن اپنے پوتے کی خاطر کانگریس میں شامل ہوگئے ۔سکھرام کے بیٹے ریاستی حکومت میں بجلی منتری ہیں انہوں نے کبینٹ سے استعفی دینے سے انکا کردیا ہے بھاجپا کے لئے اب نہ اگلے جاتے ہیں او رنہی نگلے جارہے ہیں اس مرتبہ لوک سبھا چناو ¿ سے پہلے کانگریس پارٹی کی کنبہ پرستی کو زور دار ہوا دی ۔ان نیتاو ¿ں نے اپنے لڑکوں کیلئے 2022اسمبلی چناو ¿ کیلئے لائنچنگ پیڈ کا انتظام ضرور کیا ہے کیونکہ معا ملہ راہل گاندھی کو پی ایم بنانے کا ہے اسلئے اعلی کمان نے بھی کوئی حیل حجت نہیں کی ۔فروری کے مہینہ میں اعلی کمان نے پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر سکھوندر سنگھ سکھو کو عہد ہ سے ہٹاکر آنند شرما کے قریبی کلدیپ سنگھ راٹھو کو ذمہ داری سونپ دی ۔ایسے میں ویر بھدر سنگھ سمیت پارٹی کے بڑے نیتاو ¿ں کو اپنے اپنے لڑکوں پارٹی میں جگہ دلانے کا موقع مل گیا پارٹی کے بکھرے کبنہ اکٹھا کرنے کے لئے کلدیپ سنگھ راٹھور نے بھی لڑکوں کو بھی پارٹی میں جگہ دینے کی کنجوسی نہیں برتی ۔ہماچل پردیش میں سب سے اہم سیٹ ہمیر پور کی ہے یہاں سے بھاجپا کے چےف وہپ انوراگ ٹھاکر بھاجپا کو تین بار جتا چکے ہیں اور اس مرتبہ بھی بھاجپا نے ان پر بھروسہ جتایا ہے ۔ایسے میں اگر بھاجپا کی روایتی یا ہاٹ سیٹ کہا جائے تو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا بھاجپا کے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا اور سابق وزیر اعلی پریم کمار دھومل بھی اسی چناوی حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں ےہ سیٹ پردیش کا ایس درگ ہے جسے پچھلے کئی چناو ¿ میں کانگریس فتح نہیں کرپائی ۔اوناکے وکر م سنگھ 1996میں کانگریس ایم پی بنے تھے سنہ 1967سے اب تک ہوئے لوک سبھا چناو ¿ میں کانگریس 5بار ایک بار جنتا پارٹی تو 9بار بھاجپا یہاں کامیاب ہوئی ۔کانگریس پارٹی یہاں سے تجرباتی طور پر امید وار بدلتی رہی ہے لیکن اس کے باوجو د کامیابی نہیں ملی ۔اس سیٹ پر ذات برادری کے تجزیہ ہمیشہ سے حاوی رہے ہیں ۔اسے کے پیش نظر انتخابات میں پارٹیاں ٹکٹ بھی بانٹتی رہی ہیں یہ علاقہ راجپو ت اکثریتی مانا جاتاہے بھاجپا ک انوراگ ٹھاکر شاید اسی وجہ سے یہا سے تین بار چنے گئے ہیں اس سے پہلے بلاس پور کے شریش چندیل بھی تین بار اس حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں ۔پریم کمار دھومل بھی ایم پی رہے ہیں دیکھنا ہوگا بھاجپا کے اس قلعہ کوکیا اس بار بھید پائے گی ؟

(انل نریندر )

بھگوا دھاری مودی کے نشانہ پر باقی 241سیٹیں !

بابا وشوناتھ کی نگری کاشی میں جمعرات اور جمعہ کو مودی کا ایسا استقبال ہوا جو قابل بیاں ہے ۔ایسا شو پہلے کبھی نہیں دیکھا گےا وزیر وزعظم نریندرموی کے کاغذات نامزدگی کے دوران این ڈی اے کے سرکردہ لیڈروں کو وارنسی میں ایک ساتھ لاکر مودی نے ایک ساتھ کئی پیغام دیئے ۔سب سے اہم این ڈی اے ایکتا کا پیغام تھا 2014میں مودی کی نامزدگی میں بھی ایسی نیتاو ¿ں کی موجود گی نہیں نظر آئی ۔واقف کاروں کا کہنا ہے کہ نیتاو ¿ں کے میگا شو میں آج سے زےادہ آنے والی کل کی تشویش دکھائی دی بی جے پی اپنے بوتے پر اکثرےت نہیں حاصل کرپاتی تو دعوی کرسکتی ہے کہ وہ پہلے سے ہی این ڈی اے کو ساتھ لیکر چل رہی تھی ۔ساتھیوں کو نظر انداز کرنے کے الزام چھیل رہے مودی شاہ کا مقصد یہ بھی دکھا نا تھا ان پر غرور کا الزام غلط ہے ۔پرکاش سنگھ بادل ،نتیش کمار ،ادھو ٹھاکرے ،رام ولاس پاسوان ،انو پرےہ پٹیل وغیرہ کے علا وہ نارتھ ایسٹ کے ساتھی لیڈروں سے امت شاہ نے بات چیت کی پھر مودی ان سے ملے ۔بابا وشوناتھ کی نگری میں بھگوا کپڑے پہن کر وزیر اعظم نریندر مودی نے دیش کی باقی بچی لوک سبھا کی 241سیٹوں میں آنے والے ووٹروں کو بھی ایک سندیش دیا ۔2014کے لو ک سبھا چناو ¿ میں ان سیٹوں میں سے بھاجپانے 161سیٹیں جیتی تھیں ۔ان کے علاوہ باقی بچی سیٹوں میں سے زیادہ سے زیاد ہ بھاجپا اب بھی اپنی جھولی میں ڈالنا چا ہیے گی ۔کیونکہ یہی سیٹیں مرکز بننے والی حکومت کا مستقبل طے کرے گی ۔وزیر اعظم وارنسی سے دوسری مرتبہ چناو ¿ لڑنے کیلئے پرچہ داخل کرنے آئے تھے تاکہ 29اپریل کو 17سیٹوں پر ہونے والے چناو ¿ کیلئے ایک پیغام جائے ۔واضح ہو کہ چوتھے پانچوےں چھٹے اور ساتویں مرحلے میں اب 241سیٹوں کیلئے ووٹ پڑےں گے یہ ساری سیٹیں شمالی ہندوستان سے ہیں ۔کیونکہ جنوبی ہندوستان میں پولنگ پوری ہوچکی ہے یہاں بھاجپا کمزور دکھائی دی ۔مہاراشٹر ،مدھےہ پردیش ،راجستھان او راترپردیش ،ہماچل ،پنجاب ،ہریانہ ،دہلی ،آسام ،وبہار کے لئے ووٹ پڑ نے ہیں ۔اس پورے خطے میں بھا جپا کا اثر ہے اگر اس میں بھاجپا کی سیٹیں کم ہوئی تو مر کزی میں اقتد ار میں لوٹنا مشکل ہوگا ۔اس لئے وزیر اعظم نے طاقت کا مظاہر ہ کر کے باقی بچی 241سیٹوں کے ووٹروں کے پیغام دینے کی کوشش کی ہے ۔اپنے روڈ شو وگنگا آر تی کے دوران بھگوا کپڑے پہنے اور پہلی مئی کو وہ ایودھےا بھی جائےں گے ان ددنوں کوششوں کا مقصد سیدھے طور پر ہندو وٹ کومتحد کرنا ہے ۔

(انل نریندر )

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...