Translater

24 اپریل 2019

کم ووٹنگ سے کس کو خسارہ ؟سارا زور تیسرے مرحلے کی ووٹنگ پر مرکوز !

لوک سبھا چناو ¿ کے دوسرے مرحلے مےں پچھلے جمعہ کو جاری پولنگ کے اعداد شمار کے مطابق گےار ہ رےاستوں اور پوڈو چےری کی 95سےٹےوں پر69.13فےصد پولنگ ہوئی تھی جبکہ پہلے مرحلے مےں ےہ 69.43پولنگ ہوئی تھی ۔2014کی با ت کرےں تو عام چناو ¿ کے مرحلے مےں 69.62فےصد پولنگ ہوئی تھی کیا پہلے دومرحلوں کی ووٹنگ فےصد گرنے کا ٹرےنٹ اگلے مرحلوں مےں بھی جاری رہے گا ؟پہلے دومرحلوں مےں ہوئی دھیمی پولنگ کے بعد اب سےاسی پارٹےوں کی سب سے بڑی پرےشانی ےہ ہے 11اور 18اپریل کو ختم ہوئے دوسرے مرحلے کی 95سےٹےوںپر 2014کے مقابلے کم پولنگ ہوئی 186لوک سبھا سےٹوں پر تقرےبًا 68.3ووٹنگ درج ہوئی کل 23اپرےل کو ہوئے پولنگ فےصد کا پتہ نہےں لگ پاےا اس مےں 116لوک سبھا سےٹوںپر ووٹ پڑے تھے اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی آدھے سے زےادہ سیٹ پر چناو ¿مکمل ہوگےا ہے ۔اب تک کہ چناوی اعداد شمار کے مطابق شہری سیٹوں پر کم ووٹ پڑے خاص کر بنگلور و اور تامل ناڈو کے باقی شہروں مےں مانا جاتاتھا عام سے زےادہ ووٹنگ ہونے سے اےسا پےغام جاتا ہے کہ ےہ تبدیلی کی بھیڑ اکٹھا ہوئی ہے جبکہ ناراض ووٹ سے پیغام جاتا ہے کہ چناو ¿ کے تئیں ان کا جوش نہےں ہے جسے حکمراں فرےق اپنے لئے امےد کی شکل مےں دیکھتا ہے ۔لیکن یہ بھی اےک خیال دور ہوا ہے اب سب کی نظریں تیسرے مرحلے کی پولنگ پر لگی تھی ۔بھاجپا این ڈی اے کو ان انتخابات مےں اپنا قلعہ بچانا ہوگا ساتھ ہی جہاں کچھ انہےں نقصان نظر آےا تو اس کی بھرپائی پوری کرنی ہوگی ۔چھتےس گڑھ مےں 7لوک سبھا سےٹوں پر کانگرےس کو اپنی جےت کی امےد ہے کےوں کہ ےہاں کانگرےس کو اسمبلی انتخابات مےں کامےابی سے پر جوش دکھائی پڑ تی ہے حالانکہ 2014مےں بھاجپا نے کانگرےس کا صفاےا کردےا تھا ۔اسی تارےخ مےں کرناٹک کی باقی 14سےٹوں پر بھی ووٹ پڑے ۔اس مےں کانگرےس جنتا دل اےس اتحاد کو اسمبلی چناو ¿ کے طرز پر پوری طاقت لگانی ہوگی جبکہ اس مرحلے مےں ہوئی پولنگ سے مودی لہر پر پورا بھروسہ ہے ۔مہاراشٹر اور کرناٹک کی14 ۔14سےٹوں پر پچھلے چناو ¿ مےں اےن ڈی اے کا پلری بھاری رہا تھا ۔اس مرتبہ اےن ڈی اے کی اتحادی بڑھ گئے ہےں جنتا دل ےو بھاجپا کے ساتھ ہے مودی ٹےم کی کوشش ہوگی پچھلی 26مےں سے زےادہ سے زےادہ سےٹےں جےتے ۔ جبکہ اپوزےشن بھی کوئی کسر نہےں چھوڑے گا آخری مرحلے مےں بہار مےں جہاں پولنگ ہوگی ان مےں دربھنگہ ،عثمان پور ،حاجی پور ،مظفر پور وار مالمےکی نگر ،پٹنہ صاحب قابل ذکر شامل ہےں ۔23اپرےل کو وزےر اعظم نرےندرمودی اور بھاجپا صدر امت شاہ کی آبائی رےاست گجرات کی 26سےٹوں پر پولنگ مکمل ہوگئی ہے ۔2014مےں بی جے پی سبھی 26سےٹوں پر کامےاب رہی تھی ۔راجستھان کی 25سےٹوں پر چوتھے اور پانچوےں مرحلے مےں ووٹ پڑے گے اترپردےش کی 80سےٹوں مےں سے 16پر چناو ¿ مکمل ہوچکے ہےں اور باقی 64سےٹوں پر ووٹ ڈالنے ہےں ۔بھاجپا 2014مےں 57سےٹوں پر کامےا ب ہوئی تھی ۔ مغربی ےوپی کی 16سےٹوں کے بعد تےسرے مرحلے مےں اتحاد کو ان 10سےٹوں پر زور آزمائش کا سامنا کرنا پڑا جہاں ملائم خاندان کی ساکھ داو ¿ پر ہے سال 2014مےں سپا کو اپنا وجود بچائے رکھنے کے لحاظ سے ےہ علاقہ مدد گار ثابت ہوا ۔کل ملاکر اےک طرف اور دوسری طرف کانگرےس سپا ،بسپا اتحاد کی ساکھ داو ¿ پر لگی ہے ۔

(انل نرےندر)

پوری پارلیمانی سیٹ پر ترجمانو ںکی ٹکر !

بھگوان جگنناتھ نے بھی کبھی نہےں سوچا ہوگا ان کے ساتھ رہنے والے دونشان ےوں آپس مےں ٹکرائیں گے لےکن اس لوک سبھا چنا و ¿ مےں ایساہورہا ہے ۔بھگوان جگنناتھ کی پوری نگری مےں شنکھ اور پدم کے درمےان لڑائی ہے ۔دراصل بیجو جنتا دل کی علامت شنکھ اور بی جے پی کی علامت کمل (پدم )کے درمےان اس مرتبہ مقابلہ ہے ےہی نہیں تےنوں بڑی پارٹےوں بی جے ڈی اور بی جے پی ،کانگریس اپنے ترجمانوں کو یہاں میدان میں اتاراہے ۔بنےادی طور پر بی جے ڈی کی مضبوط مینڈےٹ والی سےٹ پر پچھلے دوچناو ¿ مےں جےت حاصل کررہے پنا کی مشرا پھر مےدان مےں ہے وہ 2009مےں کانگرےس چھوڑ کر بی جے ڈی مےں آئے تھے دوسری طرف بھاجپا نے اپنے قومی ترجمان سنبت پاترا کو ٹکٹ دےا ہے جو انوکھے طرےقہ سے اپنی موجودگی درج کرارہے ہےں ۔وہےں کانگرےس نے ستےہ پرکاش نائک کو ٹکٹ دےا ہے خاص بات ےہ ہے کہ ترجمانوں کی لڑائی مےں ووٹر طے نہےں کرپارہا ہے کہ کس کو اپنا قےمتی ووٹ دےں ۔؟ستےہ پرکاش نائک کانگرےس پردےش کمےٹی مےڈےا سےل کے چےف ہےں تقرےبًا 14لاکھ ووٹر اس پارلےمانی سےٹ پر عام طور پر 50فےصدی ووٹ بی جے ڈی کو ملتے آئے ہےں ۔پارلےمانی سےٹ کے تحت آنے والی 7اسمبلی سےٹوں مےں سے 5بی جے ڈی کے پاس ہے۔سنبت پاترا کی امےدواری کی ذرےعہ بھاجپانے اس مرتبہ باقی 4اسمبلی سےٹوں پر موجودگی درج کرائی ہے ووٹوں کے درمےان کبھی گےت گاکر کبھی مقامی لوگوں مےں گھل مل کر پاترانے اپنی چناو ¿ مہم مےں تےزی دےنے کی کوشش کی ہے ۔اس کے باوجو د بھاجپا پورا چناو ¿ وزےر اعظم نرےندرمودی مقبولےت کے اردگرد مرکوز رہا ہے ۔بھاجپا کے حق مےں بہتر ماحول کے پےچھے سنبت پاترا کو مودی کے نمائندے کے طور پر دےکھا جارہا ہے ۔وےد کی تعلےم حاصل کررہے آشےش دوبے کا کہنا تھاکہ پی اےم کودی اس کو اس مرتبہ موقعہ ضرور ملنا چاہئے ۔وہےں دوبار اےم پی رہ چکے پناکی مشرا کے تئےں رائے دھندگان مےں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔پوری کے عوام کہتے ہےں پناکی ہمارے نمائندے ہےں لےکن وہ ےہاں صر ف چناو ¿ کے وقت آتے ہےں عوام مےں نارضگی کی سب سے بڑی وجہ پناکی کا عوام کےلئے موجود نہ ہونا ہے مےندر وں کے اس شہر مےں جاری چناوی لڑا ئی مےں نرےندر مودی کی مقبولےت کا لٹمس ٹسٹ بھی ہوگا ۔2014کی مودی لہر مےں اڈےشہ مےں بھاجپا محض اےک سےٹ ہی جےت پائی تھی 21سےٹوں کی اس رےاست مےں باقی سےٹےں بی جے ڈی نے جےتی تھی ۔دھوتی کرتا پہنے ماتھے پر چندن لگا ئے پاترا مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہےں ۔بالاکو ٹ ائےر اسٹرائک کے بعد ےہاں وزےر اعظم کی مقبولےت بڑھی ہے بھاجپا ےہاں بڑھتے جرائم اور ٹورزم کو نظر انداز اور ماہی گےروہ کے مالی بحران کے اشو ےہاں قابل ذکر ہےں ۔ےہاں پارٹےوں کے ترجمانوں کی لڑائی تو ہے لےکن اونچے سطح پر مودی اور وزےر اعلی وبےجو جنتا دل چےف نوےن پٹنائک کا بھی اےک امتحان ہے پوری مےں تجربہ کار اےم پی پناکی مشرا سےاست کے پورانے کھلاڑی ہےں اور اتنی آسانی سے ہار مانے والے نہےں ہےں ۔وزےر اعظم مودی کی ساکھ اور کارناموں کے باوجود پہلی مرتبہ پوری سے چناو ¿ لڑ رہے ڈاکٹر سنبت پاترا کھارے پانی کمل کھلانے کی پوری کوشش کرےں گے ۔

(انل نرےندر)

23 اپریل 2019

سہ رخی مقابلے میں پھنسے شرد یادو !

بہار میں ہورہے تیسرے مرحلے کے چناوٌ میں آج دلچسپ مقابلہ مدھے پورا لوک سبھا سیٹ کے لئے ہونے جارہاہے ۔رام پوپ کا مدھےہ پورا گوپ کا نریندر کے بیچ کا ہے سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ سہ رخی اس چناوٌ لڑا ئی میں پھنسا مدھےہ پورا کا چناوی مقابلہ بھی تین یادو کے درمیان ہے حالانکہ اس چناوٌ میں جے ڈیو کے دنیش چند ریادو کا مقابلہ آرجے ڈی کے شرد یادو سے ہے یہاں کا یہ مقابلہ کا تیسرا کون جن ادھیکار پارٹی کے امید وار راجیش رنجن عرف پپویادو بنارہے ہیں لیکن درپردہ طور سے مدھےہ پورا کے لوک سبھا مہا سنگرام میں موجود آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو وجنتا دل یو کے قومی صدر نتیش کمار کی ساکھ بھی داوٌں پر لگ گئی ہے ۔آر جے ڈی امید وار شرد یادو جنتا دل یوسے ناراض ہوکر کئی سیاسی نیتا وٌں کو لےکر الگ پارٹی بنائی لیکن بعد میں لالو پرساد کو آر جے ڈی کی ممبر شپ دلاکر مدھےہ پورا کی جنگ میں شامل کرواکر نتیش کمار کے سامنے ایک چنوتی پیش کردی مدھےہ پورا کا چناوٌ شرد یادوں کےلئے بھی اس لئے اہم ہے کہ اس بار وہ چناوٌ جیت جاتے ہیں تو مدھےہ پورا سے پانچویں بار ایم پی بننے کا اعزاز حاصل ہوگا ۔پہلی بار شردیادو 1991میں جنتا دل سے چناوٌ لڑے تھے انکا مقابلہ اس وقت جنتاپارٹی کے نیتاآنند موہن سے ہوا تھا اور انہیں ہرایا تھا ۔تب جنتا دل امیدوار شرد یادوکو 437483ووٹ ملے تھے جبکہ آنند موہن کو ایک لاکھ باون ہزار ایک سو ایک ووٹ ملے تھے ۔مدھےہ پورا لوک سبھا سیٹ پر آج ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔یادو اگر اس چناوٌ میں یادو برادی کے لئے جیت کی کونجی ثابت ہوسکتے ہیں ۔یہاں تو اب افواہ گرم ہے کہ کون امیدوار غیر یادو ووٹروں کوزیادہ سے زیادہ اپنے حق میں کرسکتا ہے ؟آر جے ڈی کانگریس کے درمیان تکرار کی سب سے بڑی وجہ پپو یادو تھا وہ اتحاد کا حصہ بن کر مدھےہ پورا سے سیٹ چاہتے تھے لیکن آر جے ڈی نے انہیں ٹکٹ نہ دیکر شرد یادو کو کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا اب پپو یادو بطور آزاد امیدوار شرد یادو کی نیند حرام کرنے اترے ہیں اگر شرد یادو چناوٌ جیت جاتی ہیں تو یہ بات اہم نہیں بلکہ اصلی لڑا ئی لالو پرساد یادو ،تیجسوی یادو ونتیش کمار کے درمیا ن ہے ۔نتیش کمار کے کار نامے ونریندر مودی کی ساکھ یہ شرد یادو کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

گجرات میں کانگریس بنام بھاجپا لڑائی اہم کیوں !؟

گجرات میں آج یعنی 23اپریل کو ریاست کی سبھی 25سیٹوں کے لئے پولنگ ہونی ہے یہ وزیر اعظم اور بھاجپا صدر امت شاہ ونریندر مودی کی آبائی ریاست ہے بھاجپا یہاں قریب 20سال سے برسراقتدار ہے حالانکہ 2017کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور نوجوان لیڈروں کی تکونی (ہاردک پٹیل ،جنیش ،میوانی اور الپیش ٹھاکر)سے ملی سخت ٹکر کے بعد گجرات لوک سبھا چناوٌ بھاجپا کےلئے بے حد اہم بن گیا ہے ۔2017اسمبلی انتخابات میں بھاجپا کو 22سالہ اقتدار کو چنوتی دینے والی کانگریس بھلے ہی سرکار نہ بناپائی ہو لیکن اس نے بھاجپا کو 100سیٹوں کا نمبر تک پہنچنے سے روکا بلکہ اپنی سیٹوں میں اضافہ کر 78 سیٹیں جیتی اگر ہم لوک سبھا چناوٌ کی بات کریں تو 1991کے بعد سے بھاجپا کے کھاتے میں زیادہ سیٹیں آئی ہیں ۔بھاجپا نے 1991میں 20،1996میں 16،1998میں 19اور 1999میں 20،2004میں 14،2009میں 15اور 2014میں لوک سبھا کی سبھی 26سیٹیں جیتی تھی ۔2014لوک سبھا چناوٌ کے بعد نریند رمودی نے دہلی رخ کرلیا ۔2017میں بھاجپا کے لئے صورتحال کافی پیچدہ ہوگئی تھی لیکن امت شاہ نے چھاتی ٹھوک کر کہا تھا کہ وہ 150سے 182سیٹیں لائیں گے ۔پہلی بار پارٹی 100سیٹوں سے نیچی آگئی ہے ۔آج کے پس منظر میں کانگریس کی سب سے بڑی کمزوری شہری علاقوں میں ہے بے شک یہ بھا جپا کا گڑھ رہے ہوں لیکن دیہی علاقوںمیں بھاجپا کمزور رہی ہے لیکن بھاجپا اپنا بیس نہیں بناپائی ۔یہا ں کے لوگ ریاستی سرکا رکے کام کاج سے مطمئن نہیں ہیں کہیں پانی کا مسئلہ کہیں روزگار اور کسان کے اشو ہیں ۔کہیں امتیاز برتنا بتایاجاتاہے تو کہیں نیتا وٌں کا غرور روپانی سرکار کو لیکر جتنی ناراضگی ہے لیکن لوگ نریندر مودی کے تئیں نرم رویہ رکھتے ہیں راہل گاندھی میں تبدیلی کی آس لگا ہوئے ہیں ۔پرینکا کی سیاست میں آنے سے گجرات میں کافی فرق پڑ سکتا ہی ۔بھاجپا کے حق ایئر اسٹرائک ہے تو کانگریس کے حق میں انصاف اور کسانوں کی قرض معافی ۔نیرومودی ،مہول چوکسی ،وجے مالیہ کو بھگانے کے اشو کو کانگریس مدعی بنارہی ہے جبکہ بھاجپا حمایتی کہتے ہیں کہ بھگا تا وہی جسے ڈر ہوتا ہے او رانکو مودی کا ڈر تھا اس لئے وہ بھا گ گئے ۔صاف اشارہ ہے مودی آج بھی گجرات میں مقبول ہیں ۔سوراشٹر میں پانچ سیٹیں جنا گڑھ ،جام نگر ،پور بندر ،امریلی ،سریندر نگر اور نارتھ گجرات میں 4سیٹیں ہیں اور قبائلی علاقوں میں پانچ سیٹیں بھاجپا کے لئے چیلنج بھری ہیں ۔کانگریس پوری طرح گجرات کی 26سیٹوںپر توجہ نہیں د ے رہی ہے بلکہ وہ 13سیٹوں پر توجہ لگائے ہوئے ہے اور کم سے کم آٹھ یا 10سیٹیں جیتنے کی آس لگائے ہوئے ۔گجرات میں پانی کی قلت اور کسانوں کو پانی مہیا نہ ہوپانا بڑ ا اشو ہے ۔گجرات میں تین نوجوان لیڈر بڑا رول نبھاتے نظر آرہے ہیں ۔پارٹی دار آندولن کمیٹی کے نیتا ہارد ک پٹیل ،اونا کانڈ سے ابھر ے نیتا جگنیش میوانی ،او راوبی سی نیتا الپیش ٹھاکر نے بھاجپا کو کافی پریشان کیا ہوا تھا ۔ان نیتاوٌں نے بےروز گاری او ربھاجپا کی فرقہ پرستی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی ۔بھاجپا کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا لیکن کانگریس کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔بھاجپا اگر ایک سیٹ بھی ہار تی ہے تو اسی کو انقصان ہوگا ۔
(انل نریندر)

24سال کی تلخی بھلاکر ایک اسٹیج پر آئے مایاوتی ،ملائم

24پرانی دشمنی بھول کر بسپا چیف مایاوتی اور سپا کے سرپرست ملائم سنگھ یادو نے مین پوری میں ایک چناوی ریلی میں اسٹےج شیئر کیا اور مایاوتی نے باقاعدہ ملائم کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں بچھڑوں کا اصلی نیتا قرار دیا ۔1995میں ہوئے گیسٹ ہاوٌں کانڈ کے بعد سپا سے رشتہ توڑ چکی مایاوتی جب ریلی کے لئے مین پوری کے کرسچن کالج میدان میں پہنچی تو ان کا زور دارخیر مقدم کیا گیا ۔یہاں سے ملائم سنگھ یادو کو سپا ،بسپا ورکروں سے انہیں جیتا نے کی اپیل کی گئی ۔مایاوتی نے کہا میں ملائم کی حمایت میں ووٹ مانگنے آئی ہوں اور مفادہ عامہ میں کبھی کبھی کچھ مشکل فیصلے لینے پڑتے ہیں اور موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے سپا ،بسپا اتحاد کا فیصلہ لیا گیا ۔آپ مجھ سے جاننا چاہیں گے 2جون 1995کے گیسٹ ہاوٌ س کانڈ کے بعد بھی سپا ،بسپا اتحاد کیوں چناوٌ لڑ رہا ہے ۔یوپی میں دومرحلے کے چناوٌ کے بعد حکمراں بھاجپا کے حمایتوں کو لگ رہا ہے کہ زمین پر پولارائزیشن جاری ہے کسی کا دعوی ہے کہ مودی کا نام چل گیا تو اس کے بر عکس اپوزیشن زمین ہری بھری دیکھ رہے لوگوں کا دعوی ہے کہ پولا رائزیشن کا تجزیہ کے بدلے انکا دبدبہ حاوی ہے ۔پاکستان سے لےکر پرگیہ ٹھاکر تک پولارائزیشن کارڈ کے پتے بھاجپا کے پاس ہے ان کا اثر مسترد نہیں کیا جاسکتا ،لیکن دلت ،پسماندہ طبقے اقلیتوں کا تجزیہ کا گٹھ بندھن کا دعوی بھی کمزور نہیں ہے دونوں طرف سے پورا زور لگایا جارہا ہے محض ووٹر ہی سیاسی پارٹیوں او ر انکے حمایتیوں کے دعوے کی پڑتال کر سکتے ہیں بھاجپا نے قریب ڈھائی دہائی بعد ملائم ،مایاوتی کی مشترکہ ریلی پرطنزکرتے ہوئے کہا کہ ریلی سے صاف ہوگیا ہے کہ اترپردیش میںوزیر اعظم نریندر مودی کی آندھی چل رہی ہے ۔
24سال کی تلخی بھلاکر ایک اسٹیج پر آئے مایاوتی ،ملائم  اور انکا جنتا سے اتحاد بہت زیادمضبوط ہے بھاجپا نیتا شاہنواز حسین نے کہا کہ مودی کی آندھی سے بد حواس لوگ کھوکھلے پیڑ پر لپٹ رہے ہیں نہ سپا میں دم بچا ہی اور نہ ہی بسپا میں ۔دونوں کے عہد میں کرپشن ہوا ہے ،دونوں ہی کنبہ پرستی اور بھائی بھتیجا وادی ہی مین پوری کی یہ ریلی سپا ،بسپا کے ساتھ اسٹیج پر ہونے کہ سبب ہی کوئی اہم نہیں تھی بلکہ صوبے میں اتحاد کو منظور ی دلانے کے لحاظ سے بھی اس ریلی کی اہمیت ہے ایسا ہمارا ماننا ہے ۔سپا ،بسپا وسیع ذات برادری کی بنیا دنہیں ہے اترپردیش میں انکا بڑا نیٹ ورک بھی حریفوں کے لئے چنوتی ہے یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اس بار نشانے پر ہیں نریندرمودی ،۔سپا ،بسپا اتحاد تو یہ ثابت کرچکا ہے کہ انکا اتحاد مضبوط ہے اس اتحاد نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی گورکھپور سیٹ او رپھولپور میں لوک سبھا کا ضمنی چناوٌ جیت کر دکھا دیا ہے سپا بسپا کے ورکروں نے واقعی ہی دل مل جاتے ہیں تو بھاجپا کو یوپی میں بھاری نقصان ہوسکتا ہے ۔تیسرے مرحلے میں سپا کی ساکھ داوٌ پر ہے اس مرحلے میں ملائم خاندان کی گڑھ مین پوری ،فیر وز آباد اور بدایوں سےٹوں پر پولنگ ہونی ہی یہ تو ای وی ایم کھولنے سے پتہ چلے گا کہ کسکا پلڑا بھاری رہا ۔
(انیل نریندر )

21 اپریل 2019

پاکستان میں ایک لیٹر دودھ 120سے 180روپے !

پلوامہ حملے کے بعد سے بدلے حالات میں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ مہنگائی شرح چار گنا آخر کیوں بڑھ گئی۔ آتنکی حملہ 14فروری کو ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں خود بھارت نے سرجیکل اسٹرائک کیا تھا کیا اس کا پاکستان میں مہنگائی سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟ ہم یہ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ پلوامہ آتنکی حملہ سے پہلے مہنگائی شرح 2.2 فیصد تھی۔ جبکہ 60 دن بعد بڑھ کر اب یہ 9.4 ہوگئی ہے۔ مہنگائی کے سبب وہاں کی عوام پریشان ہے، وہاں کے کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی اخبار دی ڈان کے مطابق انتظامیہ نے دودھ کے دام 94 روپے کلو طے کئے ہیں لیکن زیادہ تر دودھ کاروباری 120 سے 180 روپے فی لیٹر بیچ رہے ہیں۔ یہاں پہلے دودھ 70روپے لیٹر بک رہا تھا۔ ڈیری ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت سے دام بڑھانے کی درخواست کی تھی جب اس نے نہیں مانی تب دودھ ڈیلروں نے خود ہی دودھ کے دام بڑھا دیئے۔ اس کے بعد انتظامیہ چھاپے مار رہا ہے اور اب تک گیار لاکھ روپے جرمانے کے طور پر وصول کرچکا ہے، اس کے علا وہ ٹماٹر جیسی سبزیاں 150روپے کلو بک رہی ہیں۔ ہندوستان میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان سے انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ چھین لیا تھا اور پاکستانی اجناس پر 200 فیصد ڈیوٹی لگادی تھی۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان جولائی 2018 سے جنوری 2019 تک سات ہزار آٹھ سو کروڑ روپے کی باہمی تجارت ہوئی تھی۔ جبکہ ہندوستان نے پاکستان سے17 سوکروڑ کا کاروبارکیا پاکستان نے بھارت سے 61.00 کروڑ روپے کا سامان منگایاتھا۔ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کو سافٹا سے بھی ہٹانے کی تیاری کرلی تھی۔ کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ ہی پاکستان میں دوائیاں بھی مہنگی ہوگئی ہیں اس کے بعد ڈرگ اتھارٹی نے کراچی، لاہور، پشا ور میں 28 دوا کمپنیوں پر چھاپہ ماری کی اور مقدمات درج کئے۔ پاکستان میں دوا صنعت کا کاروبار نوے لاکھ کروڑ روپے کا ہے حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان نہایت خطرناک دور سے گذ ر رہا ہے۔ دیش خستہ حالی کے دہانے پر ہے اور بھاری مدد پر منحصر ہے۔ سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی مالی مدد بھی کی ہے لیکن جب تک پاکستانی معیشت اپنے پاوں پر کھڑی نہیں ہوتی یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے اس کے چلتے پاکستانی عوام مہنگائی کے بوجھ سے دبتی چلی جارہی ہے ۔
(انل نرےندر)

جیٹ ایئر ویز کے بند ہونے سے ہزاروں سپنے ٹوٹے !

آخر کار وہی ہوا جس کا اندیشہ پچھلے کئی مہینوں سے تھا ۔جیٹ ائیر ویز نے بدھوار کو اپنی آخری اڑان امرتسرسے رات ساڑھے دس بجے ممبئی کے لئے بھری۔ حالانکہ اس کا کہنا ہے کہ پروازیں عارضی طور پر بند کی جارہی ہیں۔ اب پروازیں کب شروع ہونگی یہ اس کی نیلا می پر منحصر ہے۔ نیلامی میں شامل ہونےوالی کمپنیوں کے پاس 10مئی تک کا وقت ہے موجودہ سرکار یعنی مودی حکومت کے پانچ سالہ عہد میں بند ہونے والی جیٹ ایئر ویز ساتویں ایئر لائن ہے اس سے پہلے ائیر ویگوسس، ائےر کاسٹا ،ایمن کار نیوال، ائیردکن۔ ائیر اوڈیشہ۔ اور زوم ائیر بھی بند ہوگئی۔ ایک وقت دیش کی سب سے بڑی جہاز کمپنی رہی جیٹ کے بند ہونے کی وجہ جو بھی رہی ہو پر اس کا خمیازہ 20 ہزار ملازمین کو بھگتنا پڑیگا اور وہ آج سڑ ک پر آگئے ہیں۔ ہوم لون کی ای ایم آئی، بچوں کے اسکول کی فیس یہیں تک نہیں زندگی کے سارے خواب ایک پل میں ان کے ٹوٹ گئے ہوں۔ قریب دودہائی سے جیٹ کے ملازمین کی زندگی اچھی طرح گذررہی تھی، اچانک وہ ایسی مشکل سے دوچار ہے جس کے ختم ہونے کے آثار نظر نہےں آرہے ہےں کل ملاکر جےٹ کا مستقبل مےں ےقےن رکھنے والے لوگ کم ہے حالانکہ اس کے 20ہزار ملازمےن کو امےد ہے کہ ےہ ائےر لائن بہتر دن دےکھے گی چناوی سےزن مےں 20ہزار ملازمتوں کا خطروں مےں پڑنا اےک حد تک سےاسی طورپر حساس ترےن مسئلہ ہوسکتا ہے لےکن دےکھنے کی بات ےہ بھی ہے کہ صرف نوکرےاں بچانے کےلئے سرکاری بےنکوں کو اس بات کے کئے مجبور نہےں کےا جاسکتا ۔
کہ وہ جےٹ ائےر وےز مےں اپنی رقم لگائے ۔سرکاری بےنکوں ےا پراوےٹ سرماےہ داروں کو اپنے جائزے کے حساب سے ےہ طے کرنے کاحق ہے کہ انہےں اس کاروبار مےں سرماےہ لگا ناہے ےا نہےں ۔جےٹ اےئر وےز کی اس بدحالی کے لئے بہت حد تک اس کے چلانے والے نرےش گوئل ذمہ دار ہےں ۔گوئل برسوں سے اس زد پر اڑے رہے کہ وہ اپنی کمپنی کے انتظام کا حق نہےں چھوڑےں گے ۔اس بار اےسی تجاوےز آئی جن مےں سرماےہ دار نرےش گوئل کی جگہ اپنے من موافق منتظمہ ٹےم لگانا چاہتے تھے ۔لےکن گوئل کے ز د کے آگے ساری تجاوےز ضائع ہوگئی ۔حےرانی کی بات ےہ ہے 2012مےں اےسے ہی حالات مےںوجے مالےہ کی کنگ فشر ائےر لائن بند ہوگئی تھی ۔ا سکے باوجود کوئی سبق نہےں لےا گےا جہاں تک اس کے بند ہونے سے ہزارو ملازمےن سڑک پر آگئے ہےں ،وہےں جےٹ کی پروازےں بند ہونے سے ہوائی جہاز سروس سکٹر مےں مانگ اور سپلائی کا توازن بگڑ گےا ہے ۔جس کا اثر اس ہوائی سفر پر دکھائی دےنے لگا ہے حکومت کو دےکھنا چاہئے کہ چناو ¿ ضابطہ نافذکے درمےان وہ اس بحران کو دور کرانے مےں کےسے مداخلت کرسکتی ہے ۔اےئر لائنس مےں پھر سے جان ڈال سکتی ہے ؟ےہ اشو صرف اےک کمپنی اور اس کے ملازمےن کے مفاد ات سے نہےں جڑا ہے بلکہ اس کا تعلق پورے جہاز سےکٹر کے سرماےہ داروںکے بھروسے پر بھی ہے ۔اب سب معاملہ نےلامی پر منحصر ہے ۔اسٹےٹ بےنک آف انڈےا کے افسر نے بتاےا کہ جےٹ ائےر وےز مےں نئی جان ڈالنا اس پر منحصر کرےگا کہ خرےد ار کتنا پےسہ لگا رہے ہےں ؟اتحاد جےسی تجربہ کار اےئر لائنس اس کے لئے فائدہ مند ہوسکتی ہے ۔
(انل نرےندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...