Translater

29 ستمبر 2018

مالدیپ کو لیکر بھارت۔ چین میں کریز

مالدیپ کی پہچان دنیا بھر میں ایک خوبصورت سیاحتی مقام کی شکل میں مانی جاتی ہے لیکن حالیہ برسوں میں اس دیش کی اہمیت بھارت اور چین کے لئے حکمت عملی شکل میں بڑھی ہے۔ بحر ہند میں چین اپنا دبدبہ بڑھانے کے لئے کئی ملکوں میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے تو دوسری طرف بھارت چین کو روکنے کیلئے چاہتا ہے کہ وہ ان ملکوں میں اپنی موجودگی مضبوط کرے۔ چین عالمی کاروبار اور ڈھانچہ بندی پلان کے ذریعے ان ملکوں میں تیزی سے اپنے پاؤں جما رہا ہے۔ 200 جزیروں والے 90 ہزار مربع کلو میٹر کا یہ دیش سمندری جہازوں کے لئے اہم ترین راستہ ہے۔ بھارت اور چین دونوں چاہتے ہیں کہ ان کی بحریہ حکمت عملی کے دائرہ میں یہ علاقہ رہے۔ مالدیپ میں اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کے اقتدار میں آنا اس لئے راحت کی خبر ہے کیونکہ صدارتی چناؤ میں شکست کھائے عبداللہ یامین ہندوستانی مفادات کو زبردست طریقے پر نظر انداز کرنے کے ساتھ ہی تاناشاہی تیور دکھانے لگے تھے۔ بھارت کی تشویش کا سبب صرف یہ نہیں تھا کہ یامین چین کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے تھے بلکہ یہ بھی تھا کہ وہ کٹر پسند عناصر کے تئیں نرمی برت رہے تھے۔ اس کا ایک ثبوت گزشتہ دنوں اس وقت ملا جب کچھ لوگوں نے ایک برطانوی آرٹسٹ کے ذریعے سمندری ساحل پر بنائی گئی نقاشیوں کو اس لئے توڑ ڈالا کہ اسلام میں کسی بھی کشیدہ کاری یا بت پرستی پر روک ہے۔ یہ واقعہ شاید اس لئے رونما ہوا کیونکہ بطور صدر یامین بھی اس طرح کی مورتیوں کے طور طریقوں پر مشہور ان بتوں کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔ حالانکہ نومبر میں صدارتی عہدے پر فائز ہونے والے محمد صالح بھارت حمایتی مانے جاتے ہیں لیکن نئی دہلی کو اس کے تئیں ذرا چوکس رہنا ہوگا کہ وہ کہیں چین کے دباؤ یا لالچ میں نہ آجائے۔ بھارت کو صرف اس سے خوش نہیں ہونا چاہئے جیت حاصل کرنے والے اتحاد کے نیتا و سابق صدر نشید اس پر زور دے رہے ہیں کہ ہندوستان کی نئی حکومت کو چین کے ساتھ کئے گئے سمجھوتوں پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ کیونکہ کئی دیشوں میں اس طرح کے قواعد کے بعد وہی ہوا جیسا چین۔ بھارت کے عالمی رشتوں میں یہ عام رائے بن رہی ہے کہ جہاں جہاں چین ہو گا وہاں وہاں بھارت مضبوط نہیں رہ سکتا۔ مالدیپ سے لکشدیپ کی دوری محض 1200 کلو میٹر کی ہے۔ ایسے میں بھارت نہیں چاہتا کہ چینی پڑوسی دیشوں کے ذریعے قریب پہنچے۔ یامین نے چین کے پیسوں سے مالدیپ میں تعمیراتی کام شروع کئے جس میں راجدھانی مالے میں ایک ایئرپورٹ بنانا شامل ہے۔ بھلے ہی چین یہ صفائی دیتا رہے کہ بھارت کی گھیرا بندی میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن پہلے سری لنکا پھر نیپال اور اب مالدیپ میں وہ اپنی جڑیں جمانے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ بھارت کو ان دیشوں سے دور کرنے کے لئے ہیں۔
(انل نریندر)

گٹر میں گھٹ کر مرے 1700 غریب ایک بھی ذمہ دار کو سزا نہیں

ایک طرف تو اسرو 2022 میں خلا میں انسان بھیجنے کی تیاری کررہا ہے اور اس کے لئے وہ 10 ہزار کروڑ روپے بھی خرچ کرے گا۔ وہیں دوسری طرف آج بھی دیش میں گٹر صاف کرتے ہوئے ہر سال قریب 100 لوگوں کی موت ہورہی ہے۔ دیش کی راجدھانی دہلی میں ہی سیور کی صفائی کے دوران پھر کچھ مزدوروں کی موت ہوگئی۔ دہلی کے جنتر منتر پر دو دن پہلے لوگوں کی سیور میں دم گھٹنے سے موت ہوئی تھی۔ صفائی کرمچاریوں نے ایک دھرنا اور مظاہرہ کیا۔ ’’اسٹاپ کلنگ اس‘‘ کے اس آندولن میں طالبعلم ،رضاکار اور تھیٹر کی دنیا کے لوگ وکیل و عام شہریوں نے حصہ لیا۔ رضاکار بیجواڑہ ولسن نے اعلان کیا کہ اب اگر سیور میں کوئی موت ہوئی تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ولسن نے کہا کہ ہم یہاں پیسوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے وقار اور اپنی عزت اور جینے کا حق مانگنے کے لئے آئے ہیں۔ جب سیور کی ہاتھوں سے صفائی کئی سال پہلے بند ہوگئی ہے تو کیوں اب بھی مزدور ان کی صفائی کے دوران مر رہے ہیں؟ آندولن کے ذریعے پی ایم مودی کو ایک میمورنڈم بھی دیا گیا ہے۔ اس میں مانگ کی گئی ہے کہ سیور میں موت ہونے پر معاوضہ 25 لاکھ روپے ملے۔ بھارت سرکار موتوں کی ذمہ داری لے اور افسران معافی مانگیں۔ سپریم کورٹ کے 2011 کے فیصلے پر سختی سے عمل ہو۔ سیور کی صفائی 100 فیصد مشینوں کے ذریعے ہوئے۔ صفائی ملازمین کے بچوں کو کالج تک پڑھائی اور پبلک اور پرائیویٹ اسکولوں میں مفت تعلیم دی جائے۔ سوچھ بھارت مشن اسکیم کے تحت لاکھوں ٹوائلٹ بنائے جارہے ہیں جن کے لئے سیپٹک ٹینک کی بھی ضرورت بڑھے گی ایسے میں ہم مان رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں مسئلہ اور بڑھ جائے گا۔ ہاتھوں سے صفائی انتظام کو ختم کرنے کے لئے سال2014-15 میں 570 کروڑ روپے کا بجٹ تھا جو 2017-18 میں صرف پانچ کروڑ روپے رہ گیا جبکہ سوچھ بھارت مشن کا بجٹ 2014-15 میں 4541 کروڑ روپے تھا جو 2017-18 میں بڑھ کر 16248 کروڑ روپے ہوگیا۔ میگسیسے ایوارڈ یافتہ ویجواڑا ولسن کی تنظیم دلتوں اور گندگی اٹھانے والوں کے لئے کام کرتی ہے۔ اوسطاً ہر برس971 مزدور گٹر کی صفائی میں مرتے ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے ایسے معاملوں میں آج تک ایک بھی ذمہ دار کو سزا نہیں ملی ہے۔ اس پر ہماری انجمن نے مرکز سے لیکر ریاستی سرکار تک کئی آر ٹی آئی داخل کی ہیں۔ ان میں پتہ چلا کسی بھی ریاست کی پولیس نے اس معاملہ میں ایک بھی چارج شیٹ داخل نہیں کی۔ الٹے سرکار کے پاس پورا ڈاٹا تک نہیں ہے۔ 2017 میں 28 سالہ مہلا ڈائریکٹر دیویا بھارتی نے سیور کی صفائی کرنے والے ملازمین کی ایک دستاویزی فلم ’کوشش‘ بنائی تھی۔ اس کا قومی سطح پر خوب تذکرہ ہوا۔ دیویا کہتی ہیں سیور صفائی کرنے والوں کی تعداد اس لئے بھی شرمناک ہے کیونکہ یہ تعداد آتنک وادیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے جوانوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ ہم تو صرف شہروں میں مرنے والوں کی اعدادو شمار اکھٹے کرتے ہیں جبکہ گاؤں اور چھوٹے قصبوں میں صفائی ملازمین کی موت کی تعداد تو سامنے ہی نہیں آپاتی۔
(انل نریندر)

28 ستمبر 2018

سکم میں چینی سرحد سے لگا ہوا ہندوستانی ہوائی اڈہ

نارتھ ایسٹ میں ہندوستانی سرحد کے پاس چین تین ہوائی اڈوں کی تعمیر کررہا ہے۔ سکم پر وہ اپنا دعوی جتاتا رہا ہے۔ سکم کے ناتھولہ اور دیگر دروں میں کئی بار ہندوستانی چینی فوجیوں کی جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔ کچھ دن پہلے میں نے جے پی دتہ کی فلم ’پلٹن‘ دیکھی تھی۔بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ 1967 میں ہندوستانی فوجیوں نے نہ صرف چینیوں کو کھدیڑا تھا بلکہ دونوں دیشوں میں بین الاقوامی بارڈر دکھانے کے لئے ایک کانٹے دار باڑھ بھی تیار کی تھی۔ اس کے روکنے کیلئے چینیوں نے پوری طاقت کے ساتھ ہمارے فوجیوں پر حملہ کیا جس کا ہمارے بہادر جوانوں نے منہ توڑ جواب دیا۔ آخر میں چین نے نہ صرف سرنڈر کیا بلکہ اس کانٹے دار باڑھ کو مان بھی لیا۔ یہ آج بھی موجود ہے ۔1962 کی ہار کا ہم نے چینیوں سے 1967 میں بدلہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ چین یہ سمجھ گیا ہے کہ بھارت اب 1962 کا بھارت نہیں ہے۔ ہمارے سکیورٹی جوان اب ان کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ سکم کے اس نئے ہوائی اڈہ کی سماجی اہمیت تو ہے ہی یہ چینیوں کو منہ توڑ جواب بھی ہے۔ سکم کے ایک چھوٹے سے گاؤں واکیونگ سے قریب دو کلو میٹر دور ایک پہاڑی پر اس ہوائی اڈہ کو تیار کیا گیا ہے۔ چاروں طرف پہاڑیاں نیچے بہتا پانی ،یہاں آنے والے مسافروں کو جنت کا سا احساس کرا دے گا۔ اسے تیار کرنے کے لئے پہاڑ کاٹا گیا اور اس کے ملبے سے بھرائی کی گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس ہوائی اڈہ کا پیر کو افتتاح کیا۔ مودی نے اس ہوائی اڈہ کے افتتاح کے بعد ایک ریلی سے خطاب میں کہا مرکز کی موجودہ سرکار سکم سمیت نارتھ ایسٹ میں بنیادی ڈھانچہ اور جذباتی دونوں طرح کی کنکٹیوٹی کو فروغ دینے کا کام تیزی سے کررہی ہے۔ ہم نارتھ ایسٹ کو دیش کے وکاس کا انجن بنانا چاہتے ہیں اور اس سمت میں کام کررہے ہیں۔ سات سال لگے اسے تیار کرنے میں۔ 2008 میں اس ہوائی اڈہ کو منظوری ملی تھی۔2009 میں اس کی تعمیر شروع ہوئی۔ 900 ایکڑ میں تیار کیاگیا ہے یہ خوبصورت ہوائی اڈہ۔ اس میں 605 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ یہ ایئرپورٹ اس لئے خاص ہے کیونکہ یہ سمندر کی سطح سے 4500 فٹ کی اونچائی پر ہے۔ تعمیر کے دوران مٹی میں ضرورت کے حساب سے تبدیلی کی گئی۔تعمیرات میں ہمارے انجینئروں نے جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ کا استعمال کیا۔ یہ سکم کی راجدھانی گنٹوک سے صرف 35 کلو میٹر دوری پر ہے۔ یہ فیصلہ صرف 1.5 گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہندوستانی انجینئروں کا ایک اور شاندار کارنامہ ہے۔ اس سے چین کو اسی زبان میں جواب ہے۔ بھارت نے اس کی تعمیر سے انہیں سمجھا دیا ہے کہ ان کی تیاریوں کا ہم مناسب جواب دیں گے۔ چین اس ہوائی اڈہ سے خوش نہیں ہوگا اور کہے گا کہ آپ نے ہمارے خطے میں اس کی تعمیر کیوں کی ہے؟ لیکن 1967 کو یاد کرکے زیادہ کچھ رد عمل شاید نہ دکھائے۔
(انل نریندر)

کیا جرائم پیشہ کو سیاست میں آنے سے روکا جاسکتا ہے

سپریم کورٹ نے منگلوار کو کہا کہ سیاست کا جرائم کرن کینسر ہے لیکن یہ لاعلاج نہیں ہے۔ اس کا جلد حل نکالنا چاہئے تاکہ ہماری جمہوریت کے لئے خطرناک نہ بن جائے۔ داغیوں کو چناؤ لڑنے سے روکنے کے لئے دائر عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے آئینی بنچ نے یہ رائے زنی کی۔ عدالت نے کہا سنگین جرائم کے معاملوں کا سامنا کررہے لوگوں کو سیاست میں اینٹری سے روکا جانا چاہئے کیونکہ سیاست کی گندی دھارا کو صاف کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں سدھار بھی۔ وہ بھی سماج کا آرکٹیکٹ نہیں ہوتا۔یہ بات منگلوار کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگئی ہے۔ اس لئے سیاست کو جرائم سے پاک کرنا ہے تو اس کے لئے پارلیمنٹ سے قانون بنانے کے ساتھ سماجی بیداری جگانے کی لمبی جدوجہد کرنی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے داغی نیتاؤں کے چناوی مستقبل پر کوئی سیدھا فیصلہ بھلے ہی نہ دیا ہو لیکن یہ کہہ کراس کے لئے پارلیمنٹ کو خود قانون بنانا چاہئے، مرکز اور پارلیمنٹ کے پالے میں گیند ڈال دی ہے۔ یعنی عدالت عظمی نے پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ جنتا کو کسے کیسے نمائندوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟ عدالت نے مانا کہ محض چارج شیٹ کی بنیاد پر نہ تو ممبران اسمبلی یا ایم پی پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی نہ انہیں چناؤ لڑنے سے روکا جاسکتا۔ یہ تو پارلیمنٹ کو قانون بنا کر طے کرنا ہوگا۔ وہ عوام کے نمائندوں کے جرائم یا کرپشن کے معاملوں میں کیا اور کیسا رخ اپنانا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور دیگر جج صاحبان کی بنچ نے جو فیصلہ دیا وہ عدالت کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا ہے کسی بھی امیدوار کو محض اس بنیاد پر چناؤ لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا کہ اس پر چارج شیٹ دائر ہوچکی ہے۔ یہ بات آئینی دستاویز کے اس اصول کا حصہ ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص جب تک قصوروار ثابت نہ ہوجائے تب تک وہ بے قصور ہے۔ عدالت کے فیصلے کا دوسرا حصہ کہتا ہے کہ قانون بنانے کا حق آئین سازیہ کا ہے۔ عدالت کا کام ہے قانون کی تشریح کرنا۔ اس لئے اگر جرائم پیشہ کو سیاست میں آنے سے روکنا ہے تو اس کے لئے پارلیمنٹ کو قانون بنانا چاہئے، سیاست کے جرائم کرن نے جمہوریت کو خاصہ نقصان پہنچا یا ہے اور اس کا خمیازہ نچلے طبقے کے لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جنہیں لگتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے نظام کو جوابدہ بنا سکتے ہیں۔ جہاں تک سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ کا سوال ہے اس میں شبہ ہے کہ وہ اس سمت میں کوئی ٹھوس کارروائی کریں کیونکہ ہر ایک پارٹی کے لئے سب سے اہم سیٹ جیتنا ہے۔ اس کے چلتے وہ صرف جیتنے والا امیدوار دیکھتی ہیں بھلے ہی وہ ایک جرائم پیشہ ہی کیوں نہ ہو؟
(انل نریندر)

27 ستمبر 2018

امت شاہ۔ کیجریوال کی ٹوئٹر وار

ابھی تک دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کا نام تک لینے سے کترانے والے بھاجپا صدر امت شاہ نے پوروانچل مہا کمبھ کی ریلی میں تقریر کے دوران کیجریوال پر کئی سیدھے حملے بولے۔ معاملہ تب دلچسپ ہوگیا جب بی جے پی کے ٹوئٹر ہینڈر سے امت شاہ کی کہی گئی باتیں ٹوئٹ کی گئیں تو اس کے جواب میں کیجریوال ٹوئٹر پر جواب دینے لگے۔ شاہ نے دہلی کی سبھی ساتوں سیٹیں جیتنے کا دعوی بھی کیا۔ اس ٹوئٹر وار میں منوج تیواری بھی کود پڑے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ کیجریوال جی دہلی کی جنتا نے آپ کو بڑی امید سے چنا تھا لیکن آپ نے ان کے بھروسے کو تار تار کردیا۔ دہلی کے وزیر اعلی آپ کو کام کرنا ہے، آپ کو پبلک ڈیبیٹ کا بہت شوق ہے نہ۔ نئی دہلی کے کسی بھی ورکر کو چن لیں۔ امت شاہ کے سوالوں کا ایک ایک کرکے جواب کیجریوال نے دیا۔ امت شاہ۔۔۔ کیجریوال جی چار برسوں میں آپ نے دہلی کے لوگوں کے کتنے کام کئے؟ دہلی کے وزیر اعلی کا ایک ہی منتر ہے جھوٹ بولنا، زور سے بولنا، پبلک میں بولنا اور بار بار جھوٹ بولنا۔ اس کے جواب میں کیجریوال نے کہا جتنے کام مودی جی نے چار سال میں کئے اس سے دس گنا زیادہ ہم نے کئے ہیں۔ مودی جی نے جتنے عوام مخالف اور غلط کام کئے؟ آپ کو دہلی کے لوگوں نے دو ہی کام دئے تھے صفائی اور پولیس۔ آپ نے دونوں کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ امت شاہ یوپی کے مشرقی حصے ، اور بہار اور جھارکھنڈ کے لئے کانگریس سرکار نے 13 ویں مالی کمیشن میں محض 4 لاکھ کروڑ روپے دئے۔ مودی سرکار نے 34 ویں مالی کمیشن میں 1380000 روپے پوروانچل کی ترقی کے لئے دئے ہیں۔ کیجریوال آپ نے دہلی کو 14 ویں مالی کمیشن میں کتنے روپے دئے؟ محض 325 کروڑ روپے۔ دہلی میں تو پوروانچل کے لوگ رہتے ہیں ان کے وکاس کے لئے کیوں نہیں پیسے دئے؟ دہلی میں رہنے والے پوروانچل کے لوگوں کے خلاف مرکزی سرکار کا بھید بھاؤ کیوں؟ آپ نے تو ہماری ہستی مٹانے کی بہت کوشش کی لیکن اوپر والا ہمارے ساتھ ہے۔ بتائیے کب اور کہاں ڈیبیٹ کریں گے۔ 9 مئی2014 کو امت شاہ ٹوئٹ کیا تھا کہ اگر 17 مئی کے بعد کیجریوال سیاست میں رہے تو میں ضرور ان سے بحث کروں گا۔ اروند کیجریوال نے ایتوار کو بھاجپا صدر امت شاہ کو رام لیلا میدان میں کھلی بحث کی چنوتی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ جی آئیے اور پبلک منچ سے رام لیلا میدان میں مرکزی سرکار اور دہلی سرکار کے کاموں پر کھلی بحث کرتے ہیں۔ کیجریوال نے کہا مودی جی نے چار سال میں جتنے کام کئے اس سے دس گنا ہم نے تین سال میں کرکے دکھا دئے ہیں۔ مودی جی نے عوام مخالف کام کئے، غلط فیصلے لئے ۔ میں نے ایک بھی ایسا کام نہیں کیا۔ جیسے جیسے چناؤ قریب آتے جائیں گے ،خاص کر 2019 کے لوک سبھا چناؤ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی میں ٹکرار بڑھتی جائے گی۔ اگر امت شاہ دہلی ساتوں سیٹوں پر جیت کا دعوی کررہے ہیں تو کیجریوال بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم ساتوں سیٹوں پر جیت درج کریں گے۔
(انل نریندر)

امریکہ اور چین میں چھڑی خطرناک ٹریڈ وار

چین اور امریکہ کے درمیان آج کل ایک ٹریڈ وار چھڑی ہوئی ہے۔اس ٹریڈ وار یعنی کاروباری جنگ کا اثر بھارت سمیت دیگر ملکوں پر بھی پڑنا طے ہے۔ یہ کاروباری جنگ کیا ہے، اس کا کیا اثر ہوتا ہے؟ جب ایک دیش دوسرے دیش کے تئیں سرپرستی والا رویہ اپناتا ہے یعنی وہاں سے درآمد ہونے والی چیزوں اور سروسز پر ٹیکس بڑھاتا ہے تو دوسرا دیش بھی اسی انداز میں جوابی کارروائی کرتا ہے۔ ایسے ہی سنرکشن وادی پالیسیوں کے اثر کو ٹریڈ وار یعنی کاروباری جنگ کہتے ہیں۔ اس کی شروعات تب ہوتی ہے جب ایک دیش کو دوسرے دیش کی کاروباری پالیسیاں نامناسب محسوس ہوتی ہیں یا وہ دیش روزگار پیدا کرنے کے لئے گھریلو مینوفیکچرنگ کو بڑھاوا دینے کو درآمد شدہ چیزوں پر کرایہ بڑھاتا ہے جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس ارادے سے چین کے خلاف کاروباری جنگ کاآغاز کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین سے درآمد شدہ 200 ارب ڈالر کی چیزوں پر لگایا گیا نیا ٹیکس پیر سے نافذ ہوگیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اب تک چین سے درآمد شدہ 250 ارب ڈالر کی چیزوں پر ٹیکس لگا چکا ہے۔ یہ امریکہ کو ہونے والے چین کے ایکسپورٹ کا قریب آدھا حصہ ہے۔ ادھر چین نے امریکہ کے خلاف کاروبار میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے وہاں سے درآمد شدہ کئی چیزوں پر پیر کو نیا ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے اور امریکہ پر دھمکانے کا الزام لگایا ہے۔ ٹکنالوجی کو لیکر دونوں ملکوں کے درمیان اس کاروباری ٹکراؤ کے درمیان چین نے اس طرح کا اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاملہ میں دبے گا نہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پونتیو نے کہا ہے کہ ہم جیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم ایک نتیجہ حاصل کرنے جارہے ہیں جو چین کو عالمی طاقت کی طرح سے برتاؤ کرنے پر مجبور کرے گا۔چین کے ایکسائز محکمے نے کہا ہے کہ اس نے 5207 امریکی چیزوں پر پانچ فیصد اور دس فیصد فاضل ٹیکس لینا شروع کردیا ہے۔ اس میں شہد سے لیکر صنعتی کیمیکل تک شامل ہے۔ چینی ایسی 60 ارب ڈالر کی چیزیں سالانہ امریکہ سے منگاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری بات چیت بھی ٹوٹتی نظر آرہی ہے۔ چین نے امریکہ جانے والے اپنے ایک نمائندہ وفد کا دورہ بھی منسوخ کردیا ہے۔ روس کے جنگی جہاز خریدنے پرچین کی فوجی ایجنسی پر امریکہ کی پابندی سے ناراض چین نے امریکہ کے ساتھ اپنے فوجی مذاکرات بھی منسوخ کردئے ہیں۔ چین نے امریکی سفیر کو طلب کیا ہے اور فوجی سمجھوتہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا یہ پابندی چین کے ذریعے روس سے پچھلے سال دس ایتھیوپیتھس جنگی جہاز اور اسی برس سطح سے ہوا میں مار کرنے والی ایس 400- میزائلیں خریدنے کے سبب لگائی گئی ہے۔ چین کے فوجی ترجمان نے کہا کہ روس سے جنگی جہاز اور میزائل خریدنا دو سرداری والے دیشوں کے درمیان تعاون کے لئے اٹھایا گیا عام قدم ہے اور امریکہ کو اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ چین امریکہ کے درمیان جاری یہ ٹریڈ وار اپنی انتہا پر پہنچ رہی ہے اور یہ دنیا بھر کے لئے سنکٹ کا اشارہ ہے۔
(انل نریندر)

26 ستمبر 2018

مودی کا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی داؤ

ہمارے دیش میں پبلک ہیلتھ سروسز کی بدحالی کسی سے چھپی نہیں ہے۔ جو سرکاری اسپتال ہیں ان کی خدمات کا برا حال سب کو معلوم ہے اور نجی اسپتالوں میں علاج کتنا مہنگا ہے اس کے چلتے غریب آدمی علاج کرانے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔ چھوٹی سے چھوٹی بیماری کے لئے لاکھوں کا بل بن جاتا ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ اچانک موت کے منہ میں اسی وجہ سے چلے جاتے ہیں۔اس مسئلہ سے نجات پانے کے لئے وزیر اعظم نے ایک ہیلتھ اسکیم آیوشمان بھارت یعنی ’’آروگیہ ‘‘ کی شروعات کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے رسمی شروعات کے بعد منگل 23 ستمبر سے پنڈت دین دیال اپادھیائے جینتی سے دیش کے25 راجیوں میں یہ یوجنا لاگو ہوگئی۔ یوجنا کے مطابق دیش میں 10 کروڑ کنبوں کا پانچ لاکھ روپے کا بیمہ سرکار مفت کرے گی اور اس کے بدلے علاج کیش لیس ہوگا۔ سرکار کے مطابق پورے دیش میں 15 ہزار سے زیادہ اسپتالوں نے آیوشمان یوجنا سے جڑنے کے لئے پینل میں شمولیت کے لئے درخواست دی ہے۔ سرکار کا ٹارگیٹ ہے کہ اسکیم لانچ ہونے کے ایک ہفتے کے اندر کم سے کم ایک کروڑ سے زیادہ کنبوں کو بیمہ کارڈ مل جانا چاہئے۔ اس کے لئے خاندانوں کی نشاندہی کرنے کا کام کردیا گیا ہے۔ مریضوں کو کیش لیس سہولت لینے میں دقت نہ پڑے اس کے لئے سبھی ضلعوں میں ایک کو آرڈی نیشن کمیٹی بنانے کو کہا گیا ہے جو معاملہ نمٹانے کو دیکھے گی۔ مریض پورے دیش میں کہیں بھی اسپتال میں اس کیش لیس سہولیت سے علاج کراسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس اسکیم کو گیم چینجر بتایا ہے۔ اگر یہ صحیح طرح لاگو ہوجاتی ہے تو اس کا بی جے پی کو بھاری فائدہ ہوگا۔ لیکن دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ پرائیویٹ اسپتال اصلیت میں غریبوں کا مفت علاج کرتے ہیں یا نہیں؟ دوسری بات یہ جو بیمہ کمپنیاں ہیں وہ کیش کلیم سیٹل کرنے میں ایماندار بھی ہیں ؟ عام طور پر کلیم سیٹل کرتے وقت بیمہ کمپنیاں اسے سیٹل نہ کرنے کا بہانہ بناتی رہتی ہیں اور پھر راجیوں میں اس کی کامیابی میں بڑا رول ہوگا۔ اس کیم پر موجودہ مالی سال میں قریب ساڑھے تیس کروڑ روپے کا بوجھ پڑنے والا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے لئے مرکزی سرکار 60فیصدی اور ریاستی سرکار40 فیصدی پیسہ مہیا کرائے گی۔ ہیلتھ اور تعلیم سے وابستہ ایسی اسکیموں کے ٹارگیٹ تک نہ پہنچنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ ریاستی حکومتیں اپنے حصے کا پیسہ دستیاب نہیں کراپاتی۔ اور نہ یوجنا کو ٹھیک سے لاگو کرنے کی سمت میں سنجیدگی دکھاتی ہیں۔ اس لئے اس سمت میں ریاستی سرکاروں کی مستعدی بہت ضروری ہے۔ مودی سرکار اور بی جے پی 2019 عام چناؤ سے پہلے اس اسکیم کو گیم چینجر کی شکل میں دیکھ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی نے پارٹی اور سبھی بی جے پی حکومتوں کو اگلے کچھ مہینے تک پوری توجہ اس اسکیم پر بہتر طریقے سے عمل درآمد کرنے کو کہاہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...