Translater

22 مارچ 2017

سنگھ کے پرچارک سے وزیر اعلی بننے تک ترویندر سنگھ راوت

اتراکھنڈ میں ترویندر سنگھ راوت کی رہنمائی میں نئی حکومت نے ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ آر ایس ایس سے لیکر اتراکھنڈ کے 9ویں وزیر اعلی تک کا سفر طے کرنے والے ترویندر سنگھ راوت کے بارے میں کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ ترویندر سنگھ راوت پوڑی ضلع کے جہری کھال بلاک خیراسون گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ دیو بھومی مانے جانے والے اتراکھنڈ نے ایک نہیں دو وزیر اعلی دئے ہیں ترویندر اور یوگی آدتیہ ناتھ۔یوگی کی بھی پیدائش اتراکھنڈ کی ہی ہے۔ ترویندر سنگھ کے والد پرتاپ سنگھ راوت ہندوستانی فوج کی بی ای جی رڑکی کور میں ملازم تھے۔ ترویندر سنگھ 9 بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ شروع سے ہی خاموش طبعیت والے ترویندر نے لیس ڈاؤن کے جہری کھال ڈگری کالج سے گریجویٹ اور گڑھوال یونیورسٹی شری نگر سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔شری نگریونیورسٹی سے ہی صحافت میں ایم اے کرنے کے بعد 1984 ء میں دہرہ دون چلے گئے۔ یہاں بھی انہیں آر ایس ایس میں اہم عہدوں پر ذمہ داری سونپی گئی۔ وہاں سنگھ کے پرچارک کا کردار نبھانے کے بعد ترویندر سنگھ راوت میرٹھ ضلع کے پرچارک بنے۔ ان کے کام سے سنگھ اتنا متاثر ہوا کہ انہیں اتراکھنڈ بننے کے بعد 2002ء میں بھاجپا ٹکٹ پر کانگریس کے ویریندر موہن انیال کے خلاف اتار دیا گیا۔ 2002ء میں ترویندر سنگھ نے ڈوئی والا سے پہلی بار اسمبلی چناؤ لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ 2017ء کے اسمبلی چناؤ میں راوت ایک بار پھرڈوئی والا اسمبلی چناؤ میں میدان میں اترے اور انہوں نے کانگریس کے ہیرا سنگھ بشٹ کو کراری شکست دی۔ بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ اور پردھان نریندر مودی سے راوت کی نزدیکیوں اور سنگھ کے بھروسے مند سیوک ہونے کی وجہ سے وہ آج وزیر اعلی کی کرسی تک پہنچے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اور وزیر اعظم کو بھروسہ ہے کہ اتراکھنڈ ترویندر سنگھ راوت کے راج میں تیزی سے بدلے گا۔ اس لئے بھی ہریش راوت کے مقابلہ میں ترویندر ایک بیلاگ اور تیزی سے کوالٹی تبدیلیوں کے فیصلے لینے والے نیتا ہیں۔ لو پروفائل کے ہوتے ہوئے بھی کام کرنے میں استاد مانے جاتے ہیں پھر آج بھرپور اکثریت کے چلتے ان کی پوزیشن ہریش راوت جیسی ڈانواڈول یا حریفوں کی سازشوں کے اندیشے سے بھی آزاد ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ اتراکھنڈ میں بھاجپا کی غیر معمولی کامیابی کانگریس کے سرکردہ باغیوں کی مقبولیت و مضبوط مینڈیٹ کا بہت یوگدان رہا اسی وجہ سے 9 نفری کیبنٹ جس میں 7 کیبنٹ اور 2 وزیر مملکت کے وزیر ہیں۔کانگریس کے5 باغیوں کو بھی جگہ مل گئی ہے۔ دراصل اس چھوٹی سی پہاڑی ریاست کی بہادر جنتا نے جتنی قربانیاں اپنے ایک اعلی ریاست کے خواب کی تعبیر میں دی ہیں اس تناسب میں ان کی توقعات پوری کرنے کی آدھی ادھوری کوشش بھی اس ریاست کی لیڈر شپ نے نہیں کی ہے۔ امید یہی تھی کہ الگ ریاست بننے کے بعد اتراکھنڈ کی لیڈرشپ یہاں کے جغرافیائی پیچیدگیوں کے مطابق ترقی کا نیا ماڈل کھڑا کرے گی مگر ترقی کے محاذ پرکوشش تراہی کے علاقوں میں ٹیکس چھوٹ کا فائدہ حاصل کرنے میں لگے کچھ کارخانوں تک محدود رہی۔ یہاں کے لیڈر اپنی گدی کی پریشانی سے نہیں نکل پائے جیسا کہ چھوٹی ریاستوں کے ساتھ عام طور پر ہوتا ہے۔ ممبران اسمبلی کا چھوٹا سا گروپ بھی سرکار مضبوط کرنے کی صلاحیت پا کر سودے بازی میں لگ جاتا ہے۔ ذات اور علاقائیت کی بنیاد پر ترویندر سنگھ راوت کیبنٹ میں راوت عہد میں ٹھہر گئے اتراکھنڈ کو ترقی کے راستے پر لے جانے کے ساتھ ساتھ مودی کے اہم ٹارگیٹ 2019ء میں اقتدار کی واپسی طے کرنے کی دوہری ذمہ داری ہے۔ حلف برداری میں مودی سمیت بھاجپا کے تمام سرکردہ لیڈروں کی موجودگی کا یہی مطلب ہے۔ ہم شری ترویندر سنگھ راوت کو بدھائی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جنتا نے ان میں جو بھروسہ ظاہر کیا ہے وہ اس پر کھرا اتریں گے۔
(انل نریندر)

بھارت میں 2050ء تک ہوں گے سب سے زیادہ مسلمان

امریکہ میں واقع نیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ میں سال 2010ء سے 2050ء کے درمیان پوری دنیا میں مسلمانوں کی آبادی میں تقریباً 73 فیصدی اضافہ ہونے کی بات کہیں گئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سال2050ء میں بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا دیش بن جائے گا۔ بھارت انڈونیشیا کو پچھاڑ دے گا ساتھ ہی دنیامیں تیسری بڑی آبادی ہندوؤں کی ہوگی۔ امریکی ایجنسی نیو ریسرچ سینٹر نے پچھلے دنوں جاری رپورٹ میں یہ دعوی کیا تھا۔ اس وقت دنیا میں ابھی سب سے زیادہ آبادی عیسائیوں کی ہے ، دوسرے نمبر پر مسلمان ، تیسرے نمبر پر ناستک، چوتھے نمبر پر ہندو ہیں۔ رپورٹ میں 2010ء سے 2050ء کے دوران الگ الگ مذاہب کو ماننے والوں کی آبادی میں جو اندازہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق دنیا میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے مقابلے میں مسلم آبادی بڑھ کر دوگنی کے قریب ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق صدی کے آخر تک دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان73 فیصد ہوں گے جبکہ عیسائی 35 اور ہندو 34 فیصد بڑھیں گے۔ یعنی 2050 ء تک مسلمانوں کی آبادی کا قریب 30 فیصد (2.8 ارب) اور عیسائی آبادی 31 فیصدی (2.9 ارب) ہوگی۔ 2010ء میں دنیا میں 1.6 ارب (قریب 23 فیصدی) مسلمان جبکہ 2.17 ارب عیسائی تھے لیکن اگر سال 2050ء کے بعد کی موجودہ بڑھت اسی حساب سے رہی تو مسلمانوں کی آبادی 2070 ء تک دنیا میں سب سے زیادہ ہوجائے گی۔ ابھی دنیا میں سب سے زیادہ آبادی عیسائیوں کی مانی جاتی ہے لیکن اگر یہ آبادی کی رفتار بڑھتی رہی تو جلد ہی وہ دوسرے نمبر پر پہنچ جائیں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے بھارت میں 2050ء تک مسلمانوں کی آبادی 30 کروڑ تک پہنچ جائے گی لیکن وہ اقلیت بنے رہیں گے۔ اس میعاد میں امریکہ میں بھی مسلمانوں کی آبادی بڑھے گی۔ مسلمانوں کی آبادی اضافی شرح باقی مذاہب سے زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ پیدائش کی وجہ سے مسلم آبادی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ایک مسلم خاتون کے اوسطاً 3 بچے ہوتے ہیں جبکہ باقی مذاہب میں یہ اوسط 2 یا 3 کا ہے۔مسلم آبادی میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی ہے۔ 2010ء میں نوجوانوں کی اوسط عمر 23 سال تھی۔ غیر مسلم لڑکوں کی اوسطاً عمر 30 سال تھی۔ نوجوان آبادی کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کی بڑھی آبادی یا تو بچے پیدا کررہی ہے یا مستقبل میں کرے گی لیکن بودھ اکلوتا مذہب ہے جس کی آبادی گھٹنے کی بات کہی گئی ہے۔ بودھ آبادی 2050ء تک -0.3 فیصدی گھٹنے کا اندازہ ہے۔ چین ، جاپان اور تھائی لینڈ جیسے ملکوں میں آبادی بودھ دھرم ماننے والوں کی ہے لیکن یہ آبادی لگاتار گھٹ رہی ہے۔
(انل نریندر)

21 مارچ 2017

جیتے تو جنتا کا مینڈیٹ۔ہارے تو ای وی ایم قصوروار

جیتے تو جنتا کا مینڈیٹ۔ہارے تو ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے الزام۔ اس طرح کے الزام عام طور پر چناؤ میں بری طرح سے ناکارہ ثابت ہوئے ہیں۔ نیتا و سیاسی پارٹیاں ایسے الزام لگاتے رہے ہیں۔ تازہ معاملہ حال ہی میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کا ہے۔ بسپا چیف مایاوتی نے سب سے پہلے اپنی ہار کے پیچھے ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کو وجہ بتایا تو اکھلیش یادو نے کہا انہوں نے جوکا ہے اس کی جانچ ہونی چاہئے۔ کانگریس نے بھی اس کا نوٹس لیا تو اروند کیجریوال نے بھی الزام لگادیا کہ ای وی ایم کے ذریعے سے ان کے ووٹ اکالی دل اور کانگریس کو ٹرانسفر کردئے گئے حالانکہ اگر مشین کی کرپاسے ہی جیت اور ہار ہوتی تو بھاجپا کو کہیں بھی چناؤ ہارنا نہیں تھا۔ چناؤ کمیشن بار بار صفائی دے رہا ہے کہ اس طرح کے الزام بے بنیاد ہیں اور ای وی ایم کے ذریعے پولنگ پوری طرح سے محفوظ ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ای وی ایم سے چناؤ کرانے میں24 سال لگے ہیں، ہیکنگ کا آج تک کوئی ثبوت نہیں دے پایا پھر بھی یہ لوگ ایسے بیہودہ اور بے بنیاد الزامات لگانے سے باز نہیں آتے۔ انہیں اس بات کی بھی کوئی فکر نہیں کہ آپ کے الزاموں سے بھارت کا جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے۔ چناؤ سسٹم میں جنتا کا اعتماد اور یقین بالاتر ہے۔ ای وی ایم کے نام پر اسے داغدار کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہئے۔ ای وی ایم کے بارے میں کچھ بنیادی حقائق میں قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ای وی ایم میں انٹر نیٹ کا کوئی کنکشن نہیں ہوتا اس لئے اسے آن لائن ہوکر ہیک نہیں کیا جاسکتا۔ کس بوتھ پر کونسی ای وی ایم جائے گی اس کے لئے ریڈ مائی زون کی کارروائی ہوتی ہے اور سبھی ای وی ایم کو پہلے سے لوک سبھا حلقے کے مطابق پھر اسمبلی کے حلقے کے مطابق اور سب سے آخرمیں بوتھ وار مقرر کیا جاتا ہے اور پولنگ پارٹی کو ایک دن پہلے ہی ان مشینوں کو بھیجنے کے وقت کا پتہ چلتا ہے اور اس کے پاس کس سیریز کی ای وی ایم آئی ہے ایسے میں آخری وقت تک پولنگ پارٹی کو پتہ نہیں رہتا کہ ان کے ہاتھ میں کونسی ای وی ایم آنے والی ہے۔ بنیادی طور پر ای وی ایم میں دو مشینیں ہوتی ہیں، بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ۔ حال ہی میں اس میں ایک تیسری یونٹ بھی وی وی پی اے ٹی کو بھی جوڑا گیا ہے جو 7سیکنڈ کے لئے ووٹر کو ایک پرچہ دکھاتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ووٹر نے اپنا ووٹ کس پارٹی کو دیا ہے۔ ایسے میں پولنگ بوتھ پر ہی معلومات ہوسکتی ہے کہ اس کا ووٹ صحیح پڑا ہے یا نہیں۔ ووٹنگ سے پہلے سبھی ای وی ایم کی خفیہ طور پر جانچ کی جاتی ہے اور سبھی طرح سے صحیح پائے جانے کے بعد ہی ای وی ایم کو ووٹنگ کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ سب سے بڑی بات ووٹنگ کے دن صبح پولنگ شروع ہونے سے پہلے پولنگ مرکز کی پولنگ پارٹی کے ذریعے سبھی امیدواروں کو پولنگ مرکز انچارج یا پولنگ ایجنٹ کے سامنے پولنگ شرو ع کرانے سے پہلے بناوٹی پولنگ کی جاتی ہے اور سبھی پولنگ ایجنٹ سے مشین میں ووٹ ڈالنے کو کہا جاتا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ سبھی امیدواروں کے حق میں ووٹ پڑ رہا ہے یا نہیں۔ ایسے میں اگر کسی مشین میں ٹیمپنگ یا تکنیکی گڑبڑی ہوگی تو پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی پکڑ لی جائے گی۔ ’موک‘ پولنگ کے بعد سبھی امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ پولنگ مرکز کی پولنگ پارٹی کے انچارج کو صحیح موک پول کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ اس سرٹیفکیٹ کے ملنے کے بعد ہی متعلقہ پولنگ سینٹرمیں ووٹنگ شروچ کی جاتی ہے۔ ایسے میں جو امیدوار ای وی ایم میں ٹیمپرنگ کی بات کررہا ہے وہ اپنے پولنگ ایجنٹ سے اس بارے میں واقف ہوسکتے ہیں۔ پولنگ شروع ہونے کے بعد پولنگ مرکز میں مشین کی بیٹری ڈاؤن یا کوئی دیگر تکنیکی خرابی ہو لیکن ووٹر کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے ہر پولنگ مرکز میں ایک رجسٹر بنایا جاتا ہے اس رجسٹر میں پولنگ کرنے والے ووٹروں کی تفصیلات رہتی ہیں اور رجسٹر میں جتنے ووٹر کی تفصیل ہوتی ہے اتنے ہی ووٹروں کی تعداد ای وی ایم میں بھی ہوتی ہے ۔گنتی والے دن ان کا آپس میں ملان پولنگ انچارج کی رپورٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ میں ای وی ایم ٹمپرنگ سے متعلق جتنے بھی معاملے آج تک گئے ہیں ان میں سے کسی بھی معاملے میں ای وی ایم میں ٹمپرنگ ثابت نہیں ہوپائی۔ خود چناؤ کمیشن عام لوگوں کو بلاتا ہے کہ وہ لوگ چناؤ کمیشن میں جاکر ای وی ایم کی تکنیک کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنے دعوے پیش کریں لیکن پچھلے24 سال سے جب سے ای وی ایم ووٹنگ شروع ہوئی ہے آج تک کوئی بھی دعوی ثابت نہیں ہوا۔ جو لوگ اپنی ہار کے لئے ای وی ایم کو قصور وار ٹھہرارہے ہیں وہ بغیرثبوت ایسا صرف اس لئے کررہے ہیں تاکہ اپنے حمایتیوں کو گمراہ کر سکیں۔ شاید وہ محاسبہ کرنے سے بھی بچنا چاہ رہے ہوں اور اس سچائی کو تسلیم کرنے سے بھی اپنے ہار کے لئے وہ خود ذمہ دار ہیں ان نیتاؤں کو اپنی چناوی حکمت عملی کا تجزیہ کرنا چاہئے اور جمہوریت کی بنیاد پر بیہودہ الزامات سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

جسٹس کرنن نے عدلیہ کی ساکھ داؤں پر لگائی

ہماری جوڈیشیری کی کامیابی یقینی طور سے بہت وسیع ہیں اور ہماری عدلیہ نے کئی طرح سے تاریخ رقم کی ہے لیکن گزشتہ ہفتے جو واقعہ ہوا ہے وہ ضرور پریشان کرنے والا ہے۔ اگر اسے مضحکہ خیز کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ میں بات کررہا ہوں کولکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سی۔ ایس۔ کرنن کی۔ ان کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے ، جس میں ہمیں سمجھ نہیں آرہا ہے سپریم کورٹ آگے کیا کرے گا؟ مغربی بنگال کے ڈی جی پی سجیت دھر پرکائست جمعہ کو جب جسٹس کرنن کے خلاف ان کے گھر ضمانتی وارنٹ لے کر پہنچے تو جسٹس کرنن نے یہ وارنٹ لینے سے صاف انکار کردیا اور نہ ہی جسٹس کرنن نے کسی کاغذ پر دستخط کئے نہ ہی 31 مارچ کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔ الٹے جسٹس کرنن نے سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کو خط لکھ کرضمانتی وارنٹ خارج کرنے کی اطلاع دی۔ خط کو حکم بتاتے ہوئے انہوں نے لکھا جائز اسباب کی بنیاد پر وارنٹ (ضمانتی) خارج کرتا ہوں۔ ایک دلت جج کو پریشان کرنے کے لئے اسے نیچا دکھانے والے کام کئے جارہے ہیں۔ میری اپیل ہے کہ یہ ٹارچر بند کر ہماری عدالتوں کی ساکھ اور عزت بحال کریں۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ میرے خلاف سپریم کورٹ نے وارنٹ جاری کر خود کو مذاق کا موضوع بنا لیا ہے۔ اب اس معاملے میں سپریم کورٹ کے سامنے بھی دھرم سنکٹ کھڑا کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو ہٹا نہیں سکتا۔ کسی بھی جج کو ہٹانے کا ایک واحد طریقہ یہی ہے کہ اس کے خلاف پارلیمنٹ سے امپیچمنٹ پاس کیا جائے۔ ابھی تک ایک ہی موقعہ پر ایسا ہوا ہے اس میں بھی معاملہ پارلیمٹ کے ایک ایوان سے دوسرے ایوان تک پہنچتا ہے اس کے پہلے ہی جج موصوف نے خود ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ معامہ اتنے آگے جائے یہ کبھی کوئی نہیں چاہتا لیکن یہ معاملہ جس سطح پر پہنچ گیا ہے اس سے بہتر تو شاید امپیچمنٹ ہی رہتا۔ کچھ بھی ہو اس معاملے کو جلد ہی کسی انجام پر پہنچا کر ختم کرنا ہوگا ورنہ خود عدلیہ کی ساکھ بھی داؤں پر لگے گی۔ اس وجہ سے اس بار کوئی باہری عناصر نہیں ہے بلکہ اس کی اندرونی مکینیزم ہی ہوگی۔
(انل نریندر)

19 مارچ 2017

بھاجپا کے سبھی کونسلروں کے ٹکٹ کاٹنے پر ناراضگی

اترپردیش۔ اتراکھنڈ میں زبردست کامیابی کے بعد بھاجپا کی اب پوری توجہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پر ہے۔ ان میں بھاجپا اقتدار میں ہے۔ بیشک ایم سی ڈی چناؤ میں اشو مختلف ہوتے ہیں اور ان کی اہمیت اسمبلی انتخابات جتنی نہیں ہوتی لیکن دہلی اسمبلی چناؤ میں نہ بھولنے والی ہار کے بعد ان کارپوریشن چناؤ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ لگتا ہے کہ بھاجپا ہائی کمان اس بار میونسپل چناؤ جیتنے کیلئے پوری طاقت لگا دے گا۔ راجدھانی میں تین میونسپل کارپوریشنوں میں بھاجپا کے 153 کونسلر ہیں۔ ان میں سے کئی کونسلر ایسے بھی ہیں، جو کئی بار کونسلری کا چناؤ لڑے اور کامیاب بھی ہوئے۔ خبر ہے کہ بھاجپا اعلی کمان سبھی کونسلروں کو بدلنا چاہتی ہے۔ بھاجپا اعلی کمان کے فیصلے پر اگر عمل ہوا تو سبھی 153 کونسلروں کا ٹکٹ کٹ جائے گا۔ اس سے کونسلر سکتے میں آگئے ہیں۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں کامیابی کا پرچم لہرانے کے مقصد سے بھاجپا نے پارشد بندی کا داؤں چلا۔ بھاجپا اسے وزیر اعظم نریندر مودی کا’نیو انڈیا‘کا نظریہ بتا کر ناراض موجودہ کونسلروں کے زخموں پر مرہم لگانے کی حتی الامکان کوشش میں لگا ہوا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ناراض کونسلروں نے نیا ٹھکانا تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ کئی موجودہ کونسلروں نے تو کانگریس ، عام آدمی پارٹی اور سوراج انڈیا میں اپنی گوٹیاں بٹھانی شروع کردی ہیں۔ کانگریس کے کئی لیڈروں نے بھاجپا کے کئی کونسلروں سے رابطہ قائم کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ کئی کونسلروں کا کہنا ہے پارٹی اعلی کمان نے انہیں ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کرکے ایک طرح سے ان کے دامن پر کرپٹ ہونے کا دھبہ لگا دیا ہے۔ بھاجپا کے دو کمیٹیوں کے چیئرمین نے کانگریس کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اتنا ہی نہیں بسپا کے ایک کونسلر نے بھی کانگریس اعلی کمان سے گزارش کی ہے۔ حالانکہ کانگریس ان کونسلروں پر داؤں لگانے سے ہچکچا رہی ہے۔ بھاجپا اعلی کمان کا یہ فیصلہ صحیح نہیں لگتا۔ سبھی کونسلر کرپٹ نہیں ہیں۔ بتادیں کہ میونسپل چناؤ کو لیکر کرائے گئے انٹرنل سروے میں 153 میں سے 25 کونسلروں کو ان کے کام اور پہچان کی بنیاد پر اول مانا گیا ہے اور چناؤ میں زبردست اکثریت سے جیت حاصل کرتے بتائے گئے ہیں۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد میونسپل سسٹم کو چلانے میں تجربے کی کمی کا بحران کھڑا ہوسکتا ہے ایسے میں بہتر یہی ہوگا کہ اچھی ساکھ اور تجربہ کار ان 25 میونسپل کونسلروں کو ٹکٹ دے دیا جائے۔ اس سے پارٹی میں ٹکٹ کٹنے کی مخالفت اور پرانے لیڈروں کی ناراضگی کافی حد تک دور ہوسکتی ہے۔ عام طور پر یہ خیال ہے کہ بھاجپا کے 153 میونسپل کونسلروں میں سے زیادہ تر ایم سی ڈی کے کام کاج میں پوری طرح سے ناکام ہوئے ہیں۔ بھاجپا نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کے کونسلروں نے کارپوریشن کے ذریعے سے دہلی کی جنتا کو لوٹا ہے۔ اس لئے بھاجپا اب انہیں دوبارہ موقعہ نہیں دے رہی ہے۔ عام آدمی کے ترجمان دلیپ پانڈے نے کہا کہ ان کونسلروں کے خلاف جنتا میں زبردست ناراضگی ہے۔ بھاجپا اور کانگریس نے پچھلے 20 برسوں سے میونسپل کارپوریشن کو کرپشن کا اڈہ اور دہلی کو کچرے کا ڈبہ بنا دیا ہے۔ بھاجپا اعلی کمان کے لئے اس بار امیدواروں کے انتخاب کا عمل آسان نہیں ہوگا۔ بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ 19 مارچ کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک ریلی کرنے والے تھے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ملتوی کردی گئی ہے۔ کونسلروں میں اتنا غصہ اور بے چینی ہے کہ گزشتہ جمعرات کو پردیش آفس میں منعقدہ کونسلروں کی ماہانہ میٹنگ میں 80 فیصدی کونسلر شامل نہیں ہوئے۔ موجودہ کونسلروں اور ان کے رشتے داروں کا ٹکٹ کاٹنے جانے کے فیصلے کے بعد میونسپل کونسلروں کی یہ پہلی ماہانہ میٹنگ تھی۔ امید کی جاتی ہے بھاجپا اعلی کمان اس بار یوپی کی غلطی نہیں دوہرائے گا۔ میونسپل کارپوریشن میں قابل اقلیتی امیدواروں کو بھی ٹکٹ دینا چاہئے۔ مسلمانوں نے جو بھروسہ بھاجپا پر جتایا ہے اسے آگے بڑھانا چاہئے۔
(انل نریندر)

نظام الدین درگاہ کے گدی نشیں پاک میں لاپتہ

دنیا کی مشہور درگاہ حضرت نظام الدین اولیا کے گدی نشیں سمیت دو ہندوستانی سجادوں کے غائب ہونے کی خبر سے ڈپلومیٹک اور مذہبی حلقوں میں ہلچل مچنا فطری ہی ہے۔ آصف نظامی اور ناظم نظامی نامی یہ دو سجادے نظام الدین درگاہ کے بہت اہم ترین نام ہیں اور وہ پاکستان میں لاہور کے داتادربار درگاہ کے بلاوے پر وہاں گئے تھے۔ لاہور سے کراچی کے لئے فلائٹ میں سوار ہوئے تھے۔ ان کے گھروالوں کے مطابق آصف کو کراچی جانے کی اجازت دے دی گئی لیکن ادھورے سفری کاغذات کی وجہ سے ناظم کو لاہور ہوائی اڈے پر ہی روک لیا گیا۔ ایک ذرائع کے مطابق اس کے بعد ناظم لاہور ایئر پورٹ سے لاپتہ ہوگئے جبکہ آصف کراچی ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔غور طلب ہے کہ آصف اور ناظم لاہور میں اس درگاہ کی زیارت سے پہلے 8 مارچ کو کراچی میں اپنے رشتے داروں سے ملنے گئے تھے۔ نظام الدین درگاہ اور داتا دربار کے گدی نشینوں کو ایک دوسرے کے یہاں زیارت کے لئے آنے جانے کی روایت رہی ہے۔ دراصل حکومت دونوں سجادوں کی سکیورٹی کو لیکر فکر مند ہے۔ حضرت نظام الدین اولیا ؒ کی درگاہ کے یہ دونوں سجادے صوفی روایت کو ماننے والے ہیں۔ حکومت کو اندیشہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس یا کسی دیگر کٹر پسند تنظیم نے پاکستان میں انہیں اغوا کرلیا ہو؟ غور طلب ہے کہ حال ہی میں پاکستان نے کٹر پسندوں نے ایک صوفی کی درگاہ پر حملہ کرکے 72 لوگوں کو مار ڈالا تھا۔ پاکستان حکومت بھی اس معاملے کو لیکر کافی پریشان ہے۔ ہم حضرت نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ کے ان دو عمر دراز پیر زادوں آصف علی نظامی اور ناظم نظامی کی بخیریت واپسی کے لئے دعا کرتے ہیں اور ان کے کنبے والوں کے مطابق نظامی کو کچھ لوگوں نے لاہور ایئر پورٹ پر جہاز سے اتار لیا جبکہ آصف علی نظامی کراچی ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد وہاں سے لاپتہ ہوگئے۔ دونوں ٹورسٹ ویزا پر پاکستان گئے تھے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں دہشت گرد مسلسل اسلام کی صوفی ازم کو ماننے والوں کے خلاف حملہ کرتے رہے ہیں۔ داتا دربار پر بھی دہشت گرد حملہ پہلے ہی کرچکے ہیں۔ پچھلے سال داتادربار میں ہمیشہ قوالی گانے والے امجد صابری کا بھی قتل کردیا گیا تھا جبکہ ابھی حال ہی میں صوبہ سندھ میں واقعہ بیحد پرانی و سبھی مذاہب کے لوگوں میں احترام کے طور پر مقبول لال شاہ باز مست قلند درگاہ پر فدائی حملے میں 100 سے زیادہ بے قصور لوگوں کا قتل ہوا تھا۔ ہم امیدکرتے ہیں ہندوستان سے گئے پیر زادوں کی بخیریت واپسی کیلئے حکومت ہند اپنی طرف سے کوشش میں کوئی کسر باقی نہ رکھے گی۔
(انل نریندر)

18 مارچ 2017

فتوؤں سے ڈرنے والی نہیں ہوں، گاتی رہوں گی:ناہید

ایک بار پھر ان مولویوں کے فتوؤں کی سیاست زیر بحث ہے۔ آسام میں کچھ کٹر پسند مولویوں نے انڈین آئیڈیل جونیئر میں رنراپ رہی 16 سالہ لڑکی گلوکارہ ناہید آفرین کے خلاف تازہ فتویٰ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے خلاف 46 مولویوں ، انجمنوں اور لوگوں کے نام جاری فتوے میں کہا گیا ہے کہ ناہید انڈین آئیڈیل کے فائنل سے دور رہیں۔ ایسے پروگرام نئی پیڑھی کو تباہ کریں گے۔ اس طرح کے منورنجن کے پروگرام جاری رکھے گئے تو اللہ کا قہر نازل ہوگا۔ جادو، رقص، ناٹک، تھیٹرشریعت کے خلاف ہیں اور اس کی خلاف ورزی کر مسجد ،عیدگاہ، مدرسوں اور قبرستان سے گھرے میدان میں میوزیکل نائٹ کا انعقاد کیا گیا تو لوگوں پر اللہ کا قہر ٹوٹ پڑتا ہے۔ ناہید آفرین نے حال ہی میں سوناکشی سنہا کی فلم ’اکیرا‘ کے لئے پلے بیک سنگنگ دے چکی ہیں۔ابھی25 مارچ کو آسام میں ناہیدکا میوزیکل شو ہونا ہے۔ فتوے پر ناہید نے کہا کہ موسیقی اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اس میں شایدخدا کی سوغات ہے اور میرا خیال رہے کہ اس کا صحیح طریقے سے استعمال ہونا چاہئے۔ ایسا کرنا خدا کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ میرے والد کا کہنا ہے ہمارے مذہبی پیشواؤں نے کہا ہے کہ میرے گانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ آسام میں اقلیتوں کی کئی جانی مانی ہستیوں نے ناہید کی حمایت کی ہے۔ ناہید نے کہا کہ اللہ نے ہی مجھے آواز بخشی ہے۔ اسی خدا نے مجھے تحفے کے طور پر موسیقی دی ہے ،اگر میں اس کا صحیح استعمال نہ کروں تو آخر کار خدا کو ہی نظرانداز کروں گی۔ مجھے دھمکی اس لئے دی گئی ہے کیونکہ میں لڑکی ہوں، لڑکا ہوتا تو انہیں کوئی دقت نہ ہوتی۔ ناہید نے مولویوں کے جواب میں مناسب ہی کہا ہے کہ اگر اپنی موسیقی جاری نہیں رکھے گی تو خدا کی نعمت کو نظر انداز کرے گی۔ دراصل خدا کو تو مولوی ہی نظر انداز کررہے ہیں جونہ تو ایک بچی کے ٹیلنٹ کا احترام کررہے ہیں اور نہ ہی ہندوستانی برصغیر میں اسلام اور موسیقی کے طویل رشتے کی قدر کررہے ہیں۔ کئی بار ایسے فتوے ان نوجوان ہنرمندوں اور ان کے خاندانوں کے درمیان خوف پیدا کرتے ہیں جو میڈیا اور فلمی دنیا میں جگہ بناتے جارہے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ کشمیر کی لڑکی زائرہ وسیم کے ساتھ بھی ہوا تھا جس نے عامر خان کی فلم ’’دنگل‘‘ میں پہلوان کی بیٹی کا رول نبھایا تھا۔ ہندوستانی برصغیر کا فن اور موسیقی دنیا ہندواور مسلمانوں میں سانجھی وراثت کی شاندار مثال پیش کرتی ہے۔ استاد ولایت خان، استاد بڑے غلام علی خان، استاد عبدالکریم خان، استاد بسم اللہ خان، بیگم اختر، شمشاد بیگم، نور جہاں سے لیکر آج کے گلوکاروں کی فہرست بہت لمبی ہے جسے بچانا ہوگا۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...