Translater

07 ستمبر 2016

نریندر مودی کے دورۂ ویتنام سے چین تلملایا

وزیر اعظم نریندر مودی کا ہر داؤ مخالفین کو چت کرنے والا رہتا ہے۔چین کے ہانگجو میں 4-5 ستمبر میں منعقد جی ۔20 شکھرسمیلن میں شرکت کرنے سے عین پہلے ویتنام کا دورہ بھی ان کی ڈپلومیٹک چال ہے ۔ متنازعہ دکشنی چین سمندر پر چین ہمیشہ دعوی کرتا آیا ہے اور ویتنام جیسے دیش اس کے دعوے کو نکارتے رہے ہیں۔چین سے پہلے ویتنام پہنچ کر مودی نے ایک تیر سے کئی نشانے سادھنے کی کوشش کی ہے۔بھارت۔ ویتنام کا 13 واں سب سے بڑا ایکسپوٹر دیش ہے۔ ویتنام کے دورہ پر وزیر اعظم نے جتادیا ہے کہ دکشنی پورب ایشیا میں بھارت اپنی مضبوط پہل قدمی جاری رکھے گا۔اس موقعہ پر بھارت نے ویتنام کے ساتھ ڈیفنس، آئی ٹی، اسپیس، صحت وغیرہ میدانوں میں 12 معاہدے کئے۔ بھارت نے دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے کے لئے ویتنام کو50 کروڑ امریکی ڈالر قرض دینے کا اعلان بھی کیا۔ 70 کے دہے کو یاد کریں توہمارے ملک کی وام پنتھی فضا میں میرا نام، تیرا نام، ویتنام۔ویتنام کے نعرے گھونجتے تھے۔ تب ویتنام پر امریکہ نے حملہ کردیا تھا اور وہاں آزادی کی لڑائی چل رہی تھی۔ ساری دنیا میں امریکی سامراجیہ کے خلاف ماحول تھا لیکن گزشتہ صدی کے آخری دور میں ہی سوویت یونین کے ڈھے جانے اور چین کے ویتنام پر حملہ کردینے سے حالات ایک دم بدل گئے۔ ویتنام اب چین کی وستار وادی نیتیوں کے برعکس ایک اہم پرتیک بن گیا ہے۔ اس لئے بھارت کے نئے قرار کا ڈپلومیٹک نظریہ بھی اسی کے ارد گرد سمٹا ہوا ہے۔سب سے اہم سوال دکشنی چین ساگر کا ہے جو ایک نئے ٹکراؤ کا مرکز بنتا جارہا ہے۔ مگر چین اس کے تقریباً90فیصد حصوں پر اپنا دعوی جتا تا ہے۔ یہیں بحر ہند کو بحر اوقیانوس سے جوڑتا ہے۔ چین کے اس دعوے کو ویتنام ۔فلپن جیسے تمام چھوٹے دیش چنوتی دے رہے ہیں جن کے ٹٹ پر یہ ساگر لہراتا ہے۔ فلپن کی ہی اپیل پر بین الاقوامی عدالت نے چین کے دعوے کو نامعقول ٹھہرایا ہے جسے چین ماننے سے انکار کررہا ہے۔ دراصل دکشنی چین ساگر میں عرب ممالک سے بھی زیادہ تیل اور معدنیات کا بھنڈار بتایا جاتا ہے اسی وجہ سے چین کی اس پر نظر ہے۔ امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک بھی اس ساگر پر چین کے دبدبے سے خوش نہیں ہو سکتے۔ ایسے میں دکشنی چین ساگر میں طاقت کا توازن بنائے رکھنے کیلئے بھارت نے ویتنام کو اسٹریٹیجک روپ سے مضبوط کرنے کی جو نیتی اپنائی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ جس طرح پی او کے کو لیکر چین پاکستان کا ساتھ دیتا رہتا ہے بھارت بھی اسی طرز پر ویتنام سے رشتے مضبوط کررہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا ویتنام ہوکر چین پہنچنا چین کو راس نہیں آیا ہے اسی لئے چین نے مودی کے ویتنام دورہ کودونوں کے ذریعے مشترکہ طور سے دباؤ بنانے کی کارروائی قرار دی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ بھارت۔ ویتنام اس سے سودے بازی کررہے ہیں۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ دکشنی چین ساگر تنازعہ کی وجہ سے گزشتہ کچھ وقت سے بیجنگ اور ہنوئی کے رشتے اتنے اچھے نہیں رہ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ویتنام کے لوگ بیجنگ کو لیکر منفی سوچنے لگے ہیں۔ ان حالات میں مودی کا دورۂ ویتنام بنا شبہ بھارت کے ذریعے کئی ڈپلومیسیوں کا حصہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نئی دہلی اور ہنوئی مشترکہ طور سے بیجنگ پر دباؤ بنا سکتے ہیں۔ گزشتہ 15 سالوں میں یہ پہلی بار ہے جب کوئی بھارتیہ وزیر اعظم ویتنام کا دورہ کررہا ہے جبکہ اتنے وقت میں چین کے تین سابق صدور کے ساتھ موجودہ صدر شی جنگ پنگ اور وزیر اعظم لی کے کیمانگ ویتنام کے دورے کرتے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

کشمیر میں کرفیو کی بھاری قیمت عوام کو چکانا پڑ رہی ہے

کشمیر میں کرفیو کے 57 دن ہوگئے ہیں۔ دیش ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اتنا لمبا کرفیو شاید ہی لگا ہو۔ سری نگر میں 15 لاکھ لوگ 8 جولائی سی کرفیو اور کرٹینا تاروں کے قبضے میں ہیں۔اسکول ، کالج بند ہیں، دوکان ویاپار ٹھپ ہوچکا ہے۔ نوکری والے بے بس ہوکر گھروں میں بیٹھے ہیں۔ اب تک 69 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ6500 جوان ، 4 ہزار عام کشمیری گھائل ہوچکے ہیں۔ کشمیر میں اس سیزن میں فی دن 12 ہزار کے قریب سیاہ آتے تھے لیکن اب 200 کے قریب مشکل سے آرہے ہیں۔ 8 جولائی کو سب سے زیادہ 16367 اشخاص نے بابا امرناتھ کے درشن کئے۔ تشدد بھڑکنے کے بعد تعداد روز گھٹتی گئی اسی وجہ سے اس بار گزشتہ 10 سالوں میں سب سے کم 220490 لوگوں نے ہی درشن کئے۔ جموں ضلع میں 300 ہوٹل ،لانج سب کے سب خالی ہیں۔ تقریباً 250 کروڑ کا نقصان ہوچکا ہے۔ کٹرہ میں بھی ہوٹل ، لانچ خالی ہیں۔ جموں کے ہوٹلوں کو100 کروڑ کا نقصان اور کٹرہ میں کل 500 کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ ہے۔ کشمیر میں بزنس ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ 6500 کروڑ روپے کا نقصان کشمیر کے بزنس کو ہوا ہے یعنی ہر دن لگ بھگ 130 کروڑ روپے کا۔ انڈسٹریل سیکٹر کو روز 80 کروڑ روپے کا نقصان یعنی کل4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان قرض و بجلی کے بقایا چکانے میں راحت کی مانگ اٹھنے لگی ہے۔ بینکوں کے بند ہونے سے ویاپاریوں کا 1 ہزار کروڑ روپے کا پیمنٹ اٹکا ہوا ہے۔ روز کمانے کھانے والوں کو تو دال روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ 28 پیٹرول ۔ڈیزل ٹینکروں پر بھیڑ اور پتھر باز حملہ کرچکے ہیں جس کے چلتے ٹینکر والے ہڑتال کرچکے ہیں۔ ہر دن گھاٹی میں 20 لاکھ لیٹر پیٹرو۔ ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کشمیر میں سبزیاں باہر سے آتی ہیں ان کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ گاؤں سے ہر روز 400 لیٹر دودھ آتا تھا اب بمشکل آدھا آرہا ہے۔ 9 جولائی سے پری پیڈ فون پر آؤٹ گوئنگ بند ہے۔ 15اگست کے آس پاس کئی بار ان کمنگ بند کردی گئی۔موبائل انٹرنیٹ پوری طرح سے بند ہے۔ براڈ بینڈ انٹر نیٹ بہرحال چل رہا ہے۔ جہاں تک بچوں کی پڑھائی کا سوال ہے 31 جولائی کو10 ہزار بچے میڈیکل اور انجینئرنگ داخلہ امتحان میں شامل ہوئے۔ سری نگر کے ریناواڑی کی مسجد میں کرفیو اسکول کھلا۔200 بچوں کو پہنچانے20 والنٹیر آئے۔ 512 میں سے صرف 1704 امیدوار سول سروسز امتحان اور 4888 ایڈمنسٹریٹو سروس امتحان میں شامل ہوئے۔ یونیورسٹی میں امتحان رد کردئے گئے ہیں۔ کشمیر میں شادیوں کا سیزن عیدالفطر کے بعد6-7 جولائی سے شروع ہونا تھا۔ ہر سال جولائی سے اگست کے درمیان 10 ہزار شادیاں ہوتی تھیں 90فیصد شادیاں کرفیو کی وجہ سے ٹل گئیں۔آخریہ ساری قیمت کس کو چکانی پڑ رہی ہے کشمیر عوام کو۔
(انل نریندر)

06 ستمبر 2016

آر ایس ایس بنام راہل گاندھی

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آر ایس ایس کے بارے میں دئے گئے بیان پر مقدمہ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں اپنی عرضی بھی واپس لے لی۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ خود کو راشٹروادی بتانے والے سنگھ کے لوگ آزادی کی لہر کے وقت کہاں تھے؟ انگریزوں کو دیش سے بھگانے کی لڑائی میں سبھی مذاہب کے لوگوں نے تعاون دیا تھا لیکن سنگھ کے لوگ کہیں نظر نہیں آئے۔ خیال رہے سال2014ء کے عام چناؤ کے دوران راہل گاندھی نے ایک تقریر میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے مہاتماگاندھی کو گولی ماری تھی اور یہ لوگ گاندھی کی بات کرتے ہیں۔ اس بیان کے بعد راجیش مہادیو کرتکے نے شکایت درج کرائی تھی۔ جمعرات کو راہل گاندھی کی طرف سے سپریم کورٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ سنگھ کے بارے میں دئے گئے اپنے بیان پر قائم ہیں اور اسے نہیں بدلیں گے۔ کانگریس نیتا و وکیل کپل سبل نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم تھے، قائم ہیں اور رہیں گے اسے نہیں بدلیں گے۔ پچھلی سماعت پر کپل سبل نے کورٹ میں بتایا تھا کہ راہل نے سنگھ پر نہیں بلکہ اس سے جڑے کچھ لوگوں پر قتل کرنے کے بارے میں الزام لگایا تھا۔ راہل کے اس بیان کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ ایک دھارمک انجمن کے طورپر سنگھ گاندھی کے قتل کے لئے ذمہ دار نہیں ہے صرف کچھ لوگوں نے اسے مارا تھا۔ راہل کے اس رخ پلٹنے پر آر ایس ایس کے میڈیا چیف منموہن وید نے کہا کہ آخر کیوں راہل گاندھی دو برسوں سے سماعت ٹال رہے ہیں ، بہانے سے یا کچھ اور بات ہے؟ کیا یہ سچ کا سامنا کرنے سے ڈر رہے ہیں؟ وہ یو ٹرن لینا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سنگھ کو لیکر اپنا متنازعہ بیان واپس لینے سے راہل گاندھی کے انکار کے بعد بھاجپا اور کانگریس کی زبانی جنگ تیز ہونا فطری ہی ہے۔ سنگھ پر دی گئی بیان بازی کو لیکر دوبارہ یو ٹرن لینے والے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے سامنے بھاجپا نے نیا سوال رکھا ہے۔ 1984 ء کے سکھ دنگے اور ایمرجنسی کی یاد دلاتے ہوئے حکمراں پارٹی کے قومی سکریٹری شری کانت شرما نے پوچھا سنگھ کا کردار اور ضمیر کو لیکر ہے۔ دیش کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو صحیح تھے یا راہل گاندھی؟ شری کانت نے کہا کہ اترپردیش میں چناوی ماحول کو ذہن میں رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے سپریم کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے 1962ء میں چین کے ساتھ ہوئی جنگ میں آر ایس ایس کے رول کو دیکھتے ہوئے ہی پنڈت نہرو نے 26 جنوری کی پریڈ میں حصہ لینے کے لئے سنگھ کو مدعو کیا تھا لیکن وہ جاتنے تھے کہ سنگھ راشٹروادی ہے شری کانت نے کہا کہ لوگ جانتے ہیں کہ راہل خود 5 ہزار کروڑ روپے کے کرپشن کے معاملے میں مچلکے پر ضمانت کے بعد باہر ہیں اور 1984ء کے دنگوں میں بہت سے لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔وقت آنے پر جنتا اس کامعقول جواب دے گی۔ راہل گاندھی کے انکار سے دوسروں اور کانگریس نے اب اس اشو پر دوہری لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک طرح سے اس نے پورے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی تیاری کرلی ہے۔ عدالت میں راہل ہتک عزت کا مقدمہ لڑیں تو دوسری طرف سیاست کے میدان میں سنگھ ۔ بھاجپا کو جنتا کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔ سنگھ پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کون اصلی ہندو ہے ، راہل اس کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ کیونکہ کوئی ہندو گاندھی جی کو نہیں مارسکتا۔ کانگریس نے ہتک عزت کے اس معاملے کو اترپردیش کے چناؤ کیلئے بھاجپا ۔ سنگھ کا مشترکہ ایجنڈا بتایا ہے اور بھاجپا اور سنگھ پر حملے سے صاف ہے کانگریس اس معاملے کے سیاسی استعمال سے چوکنا نہیں چاہتی۔ اس لئے سپریم کورٹ سے ادھر راہل گاندھی نے معاملہ واپس لیا ادھر کانگریس کے میڈیا محکمے کے چیئرمین رندیپ سرجے والا نے پریس کانفرنس میں بھاجپا پر زبردست لفظی حملہ کیا ہے۔اب مقدمہ چلے گا، دیکھیں مقدمے میں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟
(انل نریندر)

برے پھنسے سہارا شری : اِدھر کنواں تو اُدھر کھائی

26 اگست کو سپریم کورٹ نے سہارا چیف سبرت رائے کی پیرول 18 ستمبر تک بڑھا دی تھی۔ رائے نے کورٹ سے کہا تھا کہ وہ 300 کروڑ روپے اور جمع کردیں گے۔ سہارا اب تک ضمانت کی شرط کیلئے 5 ہزار کروڑ ہی جمع کرچکا ہے اور ابھی وہ تہاڑ جیل سے باہر ہیں جبکہ اتنی زبردست رقم بطور گارنٹی جمع کرانی ہے اس سے پہلے 6 مئی کو سپریم کورٹ سبرت رائے کو ان کی ماں کی آخری رسوم میں شامل ہونے کے لئے 4 ہفتے کی پیرول پر جیل سے چھوڑا تھا۔ کورٹ کے حکم کے بعد اب سیبی سہارا کی کچھ جائیداد کی نیلامی بھی کر رہا ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں سبرت رائے کے وکیل کپل سبل نے دعوی کیا کہ کمپنی نے سرمایہ کاروں کے 25 ہزار کروڑ روپے لوٹا دئے ہیں وہ بھی نقدی میں ۔ اس پر عدالت نے حیرانی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا کہ 25 ہزار کروڑ روپے کہاں سے آئے؟ اسے ہضم کرپانا مشکل ہورہا ہے۔ یہ کافی بڑی رقم ہے۔ پیسے سونے سے تو بٹور نہیں لیں گے۔کورٹ نے سہارا سے کہا آپ اتنا پیسہ کہاں سے لائے ہیں اس کا ذریعہ بھی ہمیں بتائیے۔ کیا منقولہ یا غیر منقولہ کمپنیوں سے یہ رقم ادھار میں ملی ہے؟ یا بینک کھاتوں سے رقم نکلی ہے؟ یا پھر سبھی پراپرٹی بیچ کر اکٹھی کی گئی ہے؟ ان تین متبادل کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ اتنی بڑی رقم اکٹھی کرنے کے معاملے کی سماعت چیف جسٹس پی ۔ ایس ۔ ٹھاکر کی بنچ کررہی تھی۔ سہارا کی طرف سے کپل سبل پیروی کررہے تھے۔ عدالت نے کپل سبل سے کہا حالانکہ ہم آپ کے کلائنٹ پر قطعی شبہ نہیں کررہے ہیں لیکن انہوں نے سرمایہ کاروں کو ہزاروں کروڑ روپے کیسے دئے وہ بھی نقد میں اور محض دو مہینے میں۔ لیکن اس پورے معاملے پر یقین کرنا تھوڑا مشکل ہورہا ہے اس پر سبل نے دلیل دی کہ سہارا گروپ نے اپنے سبھی سرمایہ کاروں سے پیسے نقدی میں ادا کرنے کے احکامات دئے ہیں جسے سیبی نے اس پر مقدمہ کررکھا ہے۔ اگر کورٹ کو بلیک منی کا اندیشہ ہے تو سہارا گروپ کسی بھی جانچ کے لئے تیار ہے لیکن اگر یہ بلیک منی کا معاملہ ہے تو سیبی کیسے جانچ کرسکتی ہے؟ اس پر عدالت نے کہا یہ آپ کا دعوی ہے لیکن سیبی کا بہت آسان سا سوال ہے کہ آپ اتنی بڑی رقم کہاں سے لائے؟ آپ مجھے یہ بتادیجئے کہ اگر آپ 25 ہزار کروڑ روپے کیش میں لے آئے؟ اس کا کیس بند کرلیا جائے گا۔ پیسے کا ذریعہ بتانا بزنس ہاؤس کی ذمہ داری ہے چائے جائز ہو یا ناجائز۔ عدالت نے اگلی سماعت کے لئے 16 ستمبر تاریخ طے کردی ہے۔ سہارا چیف فی الحال پیرول پر ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ ثبوت دیتے ہیں کہ آپ سبھی سرمایہ کاروں کے پیسے واپس کرچکے ہیں تو ہم منٹوں میں معاملے کو رفع دفع کردیں گے۔ برے پھنسے سہارا شری ادھر کنوا تو ادھر کھائی۔
(انل نریندر)

04 ستمبر 2016

آر ایس ایس کی تاریخ میں پہلی بغاوت

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ عرف آر ایس ایس کی تاریخ میںیہ شاید پہلی بار ہے جب اس تنظیم میں ورکروں میں بغاوت ہوئی ہے۔ اس سے دنیا کی اس سب سے بڑی تنظیم میں ہلچل مچنا فطری ہی ہے۔ میں گوا میں آر ایس ایس میں ہوئی بغاوت کے بارے میں بات کررہا ہوں۔ گوا میں اسٹیٹ چیف سبھاش ویلنگر کی برخاستگی کے احتجاج میں 600 آر ایس ایس ورکروں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب آر ایس ایس گوا کے نام سے یہ لوگ اگلے سال چناؤ تک سنگھ کے یکساں سرگرمیاں چلائیں گے۔ آر ایس ایس میں اس بغاوت کے بعد فی الحال دو گروپ بن گئے ہیں۔ گوا میں سنگھ پریوار کے اندر مچے گھمسان میں سنگھ کی اندرونی رسہ کشی اور باہری چہرے پر سوال اٹھے ہیں۔ ان سوالات کا سنگھ اور بھاجپا کے اہم ٹکراؤ کے ساتھ وسیع سماجی آئیڈیالوجی سے بھی ناطہ ہے۔ 68 سالہ سبھاش ویلنگر کو اسٹیٹ کے سنگھ چیف کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد جس طرح سے سنگھ کے 600 پرچارکوں نے تنظیم چھوڑ کر اگلے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو ہرانے کا اعلان کیا ہے اس سے جہاں نریندر مودی اور سنگھ کے عہدے دار سنجے جوشی کے تنازعے کی یاد تازہ ہوگئی ہے ، وہیں مبینہ طور پر کلچرل سنگٹھن کے سیاسی حوصلے کے خطرے بھی اجاگر ہورہے ہیں۔ یہ نئی تنظیم نہ صرف راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ بلکہ اس کی سیاسی یونٹ بھاجپا کو بھی چنوتی دے سکتی ہے۔ گوا سنگھ میں ویلنگر کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں پہلے سنگھ کے عہدیداران نے اسٹیٹ آر ایس ایس چیف سبھاش ویلنگر کی برخاستگی کے احتجاج میں استعفیٰ دیا اور اس کے بعد نئی تنظیم کا اعلان بھی کردیا گیا۔ آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ ویلنگر سیاست کررہے ہیں اور وہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری طرف ویلنگر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے 54 سال کے سنگھ کے ورکرکی حیثیت سے زندگی میں کئی نیتا تیار کئے ہیں اور وہ نئی پارٹی بنا کر پھر نئے نیتا تیار کرلیں گے ۔ ویلنگر کھلے عام وزیر دفاع منوہر پاریکر پر دھوکہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں اور ان دنوں کی یاد دلا رہے ہیں جب ان کی انگلی پکڑ کر انہیں سیاست سکھائی تھی۔ گوا یونٹ کے باغیانہ تیور بتاتے ہیں کہ سنگھ کے ان ورکروں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے، جنہیں ساری زندگی کلچرل ورکر اور تیاگ کرنے کا حلف دلایا جاتا ہے اور چناؤ آنے پر پرچار میں جھونک دیا جاتا ہے۔ ویلنگر نے جمعرات کو بتایا کہ ہم نے ناگپور میں واقع سنگھ کے ہیڈ کوارٹر سے ناطہ توڑ لیا ہے لیکن سب لوگ پہلے والا کردار نبھاتے رہیں گے۔ ہمارے پاس پوری مشینری ہے ، شاکھائیں بھی پہلے کی طرح لگیں گی، سنگھ کی گوا یونٹ کے لئے یہ خطرناک ہوسکتی ہیں اور اگر جلد اس کو کنٹرول میں نہیں کیا گیا تو یہ آگ پھیل سکتی ہے۔
(انل نریندر)

برجپال تیوتیا کو مارنے کیلئے 100گولیاں چلائی تھیں

مراد نگر شوٹ آؤٹ میں بھاجپا نیتا برجپال تیوتیا پر ہوئے حملہ کا معاملہ پولیس نے تقریباً سلجھانے کا دعوی کیا ہے۔ منگل کو حملہ کے اہم ملزم منیش کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس نے11 جون1999 ء کو دہلی میں اپنے والد سریش دیوان کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے تیوتیا پر حملہ کی سازش رچی تھی۔ حملے کا منصوبہ اس سال اپریل میں بنایا گیاتھا جو کئی بار ناکام ہوچکا تھا۔ 2 شارپ شوٹر کو 10-10 لاکھ روپے دیکر انہیں سازش میں شامل کیا گیا تھا۔ منیش کی گرفتاری کے بعد ایس ٹی ایف نے پوری سازش کا پردہ فاش کردیا ہے۔ ایس ٹی ایف کے ایس ٹی ہمانشو کمار نے بتایا کہ منیش نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے والد سریش دیوان کو دہلی کے شکر پور تھانہ علاقہ میں ہلاک کردیا گیا تھا اور قتل میں برجپال تیوتیا کو نامزد کیا گیا تھا بعد میں مقدمہ میں فائنل رپورٹ درج کردی گئی تھی۔ اس کے باوجود منیش برجپال تیوتیا کو قتل کا قصوروار مانتا تھا۔ حملے کے بعد سے ہی منیش پولیس سے بچنے کیلئے جگہ بدل رہاتھا اور دو بار سرنڈر کی کوشش بھی کرچکا تھا۔ اس بار بھی منیش عدالت میں سرنڈر کی کوشش میں تھا اسی دوران ایس ٹی ایف کی ٹیم نے مراد نگر علاقے سے اسے گرفتار کرلیا۔ برجپال تیوتیا پر ہوئے قاتلانہ حملہ میں ایس ٹی ایف اور پولیس ٹیم نے اب تک7 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ 4 ماہ سے برجپال تیوتیا کی سکیورٹی کو ذہن میں رکھ کر سازش رچی جا رہی تھی۔ بھاجپا نیتا کے ساتھ چلنے والے بندوقچی کی وجہ سے بڑا گینگ تیار کیا گیاتھا اور بلٹ پروف پزیرو کار کے شیشے توڑنے کیلئے فائنچونر میں کلہاڑی اور ہتھوڑا بھی رکھے گئے تھے۔ ایس ٹی ایف کے ایس پی ہمانشو کمار نے بتایا 11 اگست کو جب برجپال پر حملہ ہوا تھا اس دوران وہ اسکارپیو کار میں سوار تھے۔ ان کی بلٹ پروف پزیرو کی ونڈ شیلڈ کا وائپر کام نہیں کررہا تھا اسی وجہ سے اسکارپیو میں نکلے تھے۔ بدمعاشوں کو برجپال کے پزیرو کار میں سوار نہ ہونے کی اطلاع ملنے پر حملہ کیا تھا۔ ملزمان نے پزیرو کا شیشہ توڑنے کیلئے ہتھوڑا و کلہاڑی کا استعمال کیا تھا۔ ملزمان کا پلان تھا کہ دو لوگ شیشے پر وار کر اسے توڑیں گے اور دیگر دو گولیاں چلا کر حملہ کریں گے۔ گنر ساتھ ہونے کی وجہ سے بڑا گینگ بنا کر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے لئے کروڑوں روپے اکٹھا کرنے کے لئے اس نے اپنی زمین بھی بیچ ڈالی تھی۔ پچھلے ایک سال سے وہ حملے کی تیاری کررہا تھا حملے میں برجپال تیوتیا کو 6 گولیاں لگیں جبکہ اس کے ساتھ کار میں بیٹے چار پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ سمیت 5 لوگوں کو بھی گولیاں لگی تھیں۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2016

بلوچستان، گلگت ، بلتستان، مقبوضہ کشمیر کے بعد اب سندھ

بلوچستان، گلگت، بلتستان کے بعد اب سندھ میں بھی پاکستان سے آزادی کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے۔ کٹرپسندوں کی اذیتوں سے عاجز آکر سندھ کے میر پور خاص میں پیر کو مقامی لوگوں نے الگ سندھ دیش بنانے کی مانگ کرتے ہوئے نعرے لگائے مظاہرے کئے۔ یہ ہی نہیں چین ، پاکستان اقتصادی گلیارے کے احتجاج میں سندھی اور بلوچ لیڈروں نے برطانیہ میں چینی سفارتخانے کے سامنے مظاہرے کئے ہیں۔ بتادیں کہ سندھ پاکستان کاجنوب مشرقی صوبہ ہے۔ پاکستان کا جی ڈی پی میں سندھ کا تقریباً 30 فیصدی اشتراک ہے۔ دیش کے چار صوبوں میں علاقائی مربع کلو میٹر کے حساب سے یہ تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ علاقہ بھارت سے گئے مسلمانوں اور پاکستان کے ہندوؤں کا گڑھ ہے۔ پاکستان کے 93 فیصدی ہندو یہاں رہتے ہیں، ویسے صوبے کی آبادی کا یہ کل 5 فیصدہیں۔ آزادی سے پہلے یہاں گجراتی کاروباریوں کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی۔ لندن میں مظاہرین نے پاکستان کے خلاف جم کر نعرے لگائے۔ اس دوران ’ہے حق ہمارا آزادی‘ اور ’سی وی سی ای سی نہیں چاہئے‘ کے نعرے لگے۔ مظاہرین نے بلوچستان کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کے بھی نعرے لگائے۔ مظاہرین کہہ رہے تھے کہ’ قدم بڑھاؤ مودی جی ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ ۔ ورلڈ سندھی کانگریس کے چیئرمین لکھو لدانانے کہا کہ ہم سی وی ایسی (چین۔ پاکستان اکنومک کاریڈور) پروجیکٹ کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔ بتادیں کہ بلوچستان پر چین نے بھارت کو دھمکی دی ہے ۔ کہا کہ اگر بھارت کی کسی بھی حرکت سے اس کی 46 بلین ڈالر (308,200 کروڑ روپے) لاگت والی چین ۔ پاکستان اکنومک کاریڈور پروجیکٹ میں گڑ بڑی پیدا ہوتی ہے تو بیجنگ چپ نہیں بیٹھے گا، وہ بلوچستان مسئلے پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوجائے گا۔ دوسری طرف جغرافیائی حصے پر گہری نظر رکھنے والے پڑوسی دیش پاکستان کے خرافاتی کے نتیجے سامنے اس کے گھر میں ہی اب آگ لگ گئی ہے۔ اب اس کا سندھ بھی سلگ اٹھا ہے۔ الگ دیش کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے۔ سرکار کے استحصال سے بلوچستان کافی عرصے سے دہک رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے شورش ماحول کو بارود کی گند نے آلودہ کردیا ہے۔لوگ سڑک پر آچکے ہیں۔ پاکستانی فوج بے دردی سے سرکار مخالف تحریکوں کو کچل رہی ہے۔ گلگت۔ بلتستان کی تصویر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ لوگ عالمی برادری سے اپیل کررہے ہیں ناکام ملک کا تمغہ پاچکا پاکستان چاروں طرف سے اپنے ہی لوگوں سے گھر چکا ہے۔ بتادیں کہ چین جو اقتصادی گلیارہ بنا رہا ہے وہ چین کے شنگیانگ صوبے کو پاکستان کے چاہ بہار بندرگاہ سے جوڑنے کے لئے مقبوضہ کشمیر سے گزرتا ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...