Translater

23 جون 2016

سوشل میڈیا اور آتنکی حملے

مقامی کٹر پسند تنظیم لوگوں میں دہشت پیدا کرنے کے لئے خطرناک آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کا نام استعمال کرنے کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔ آئی ایس کے نام پر کئی فرضی دھمکیاں ملنے کے بعد بھارت کی خفیہ ایجنسیاں چوکس ہوگئی ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق آئی ایس کا نام لیکر مقامی آتنکی تنظیم اور کٹر پسند طاقتیں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے فراق میں ہیں۔ حقیقت میں ان کا آئی ایس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق دھمکیوں کا مقصد ڈر پھیلانا اور سکیورٹی ایجنسیوں کو گمراہ کرنا ہے تاکہ پختہ حکمت عملی نہ بنا سکیں۔ اس کے پیش نظر خفیہ ایجنسیوں نے خط ، ٹیلیفون سوشل میڈیا میں ہورہے گمراہ کن پروپگنڈہ کے تئیں سکیورٹی فورسز کو چوکس کیا۔ ایسے معاملوں میں مقامی آتنکی ماڈول پر نظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔ کیرل، مغربی بنگال، آندھرا پردیش ، تلنگانہ، مغربی اترپردیش میں آئی ایس سے ہمدردی رکھنے والے عناصر کی ایسی حرکت سامنے آئی ہے۔ اگر سوشل میڈیا پر دہشت گردوں سے جڑے حمایتیوں اور ہمدردی رکھنے والوں کی سرگرمیوں پر سب نظررکھیں تو نہ صرف ایسے عناصر کا پتہ چلتا ہے بلکہ کئی آتنکی حملے بھی روکے جاسکتے ہیں۔ یہ بار اسٹڈی کرنے والوں نے اسلامک اسٹیٹ کے حملوں سے پہلے اس کے حمایتیوں کی آن لائن سرگرمیوں کا وسیع مطالع کرنے کے بعد کہی ہے۔ سائنس میگزین میں شائع اس اسٹڈی کے مطابق ایک روسی سوشل سائٹ پر 2015ء میں آئی ایس حمایتیوں کی پوسٹ کے مطابق نتیجہ نکلا کہ کسی بھی حملے سے ایک ہفتے پہلے آئی ایس کے مختلف فورم میں جڑے حمایتیوں کے درمیان نظریات کا تبادلہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ بین الاقوامی حکام اور سوشل میڈیا کے اسٹیج سے پہریداروں کی کڑی نگرانی کے باوجود آئی ایس انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی بھرتی کرلیتا ہے اس دہشت گرد گروپ کے حمایتیوں نے مختلف سائٹ پر اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں۔ اتنا ہی نہیں وہ چیٹ ایپ ٹیلی گرام پر بھی موجود ہیں۔ روسی اسپیشل نیٹورکنگ سائٹ ’’ویفونکتے‘‘ پر موجود آئی ایس کی 196 آن لائنس کمیونٹی کا نمبر سامنے آیا ہے۔ نمبر سے انہوں نے نتیجہ نکالا ہے کہ حمایتی تیزی کے ساتھ مالی وسائل کی تکنیک کی جانکاری اور ڈرون حملوں سے بچنے وغیرہ کے معاملوں پر تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ آئی ایس این ، خلیفہ فزیشین جیسے ہیش ٹیک کو فالو کرتے ہوئے کسی بھی دن 134000 لوگ اس روسی سائٹ پر آئی ایس کے حق میں ہونے والی بات چیت میں شامل رہتے ہیں۔ اسٹڈی کرنے والوں نے بتایا کہ دنیا میں کہیں بھی ہوئے آتنکی حملوں سے پہلے یوزر آن لائن کمیونٹی بیس بنا دیتے ہیں۔ یہ بڑی تیزی کے ساتھ آئی ایس سے وابستہ گروپوں سے جڑ جاتے ہیں۔
(انل نریندر)

22 جون 2016

پنجاب کی حقیقت دکھاتی ’’اڑتا پنجاب‘‘

نشے کے مسئلے کو لیکر بنی فلم ’اڑتا پنجاب‘ جمعہ کے روز جب پنجاب و دیش کے مختلف حصوں میں سنیما گھروں میں ایک ساتھ ریلیز ہوئی تو اسے دیکھنے کیلئے لوگوں میں اتنا کریز تھا کہ امرتسر سے لیکر چنڈی گڑھ اور دہلی میں سارے سنیما گھر ہاؤس فل رہے۔ سبھی جگہ لڑکوں اور بڑے افراد کی کافی بھیڑ دکھائی دی۔ میں نے بھی اس کریزی فلم کو دیکھا۔ اس فلم میں کئی طرح کے تنازعے ہوئے اور ابھی بھی ہورہے ہیں۔ اس کا ریلیز ہونا بھی ایک بڑا واقعہ اور کامیابی دونوں ہیں۔بہرحال، اس کے باوجود یہ کہنا تو پڑے گا ہی کہ ہدایتکار ابھیشیک چوبے نے ایک ایسی فلم بنائی ہے جس کا تعلق ایک بہت بڑے سماجی مسئلے سے ہے یعنی نشہ (ڈرگس) کی لت اور اس کا کاروبار۔ یہ بھی سچ ہے کہ پنجاب میں نشے کی بڑھتی لت کو لیکر پچھلے کئی برسوں سے مسلسل خبریں آتی رہی ہیں۔ میں نے اسی کالم میں کئی بار پنجاب میں پھیلتے ڈرگس کے بارے میں لکھا ہے اور یہ وہاں کا سیاسی اشو بھی بنتا جارہا ہے۔ حال ہی میں پٹھانکوٹ ایئربیس حملہ کے پیچھے بھی ڈرگس ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ فلم دیکھنے کے بعد اگر ہم سیاسی بحث کو چھوڑ بھی دیں تو بھی یہ ماننا پڑے گا کہ ہدایت کار نے یہ دکھانے میں کامیابی پائی ہے کہ کس طرح نشے کا پورا کاروبار سماج کو اس کے اداروں کو اور فن کو اور پنجاب کی نوجواں پیڑھی کو برباد کررہا ہے۔ ’اڑتا پنجاب‘ فلم ایک دو نہیں چار کرداروں کی کہانی ہے جو کسی بھی شہر میں مل سکتی ہے۔ ٹامی سنگھ عرف دنگ برو( شاہدکپور) ایک پاپ اسٹار ہے اور ایک زبردست نشیڑی بھی ہے اس کے ہزاروں لاکھوں فین ہیں جو اس کے گیتوں کو صرف اس لئے پسند کرتے ہیں کیونکہ ان گیتوں کے الفاظ میں کہیں نہ کہیں ڈرگس (نشے ) کا ذکر ہوتا ہے جو ٹامی جیسے لوگوں تک پہنچتی ہے۔انسپکٹر سرتاج (دلجیت ) و اس کے ساتھی پولیس ملازمین کی بدولت جو رشوت لیکر نشے کے کاروباریوں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں بلا روک ٹوک آنے دیتا ہے لیکن ایک دن جب سرتاج کا اپنا چھوٹا بھائی بلی نشے کی لت کے سبب ہسپتال پہنچتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ لت کس طرح پنجاب کو تباہ کررہی ہے۔ بلّی کا علاج کررہی ڈاکٹرپریتی سہانی (کرینہ کپور) سرتاج کو بتاتی ہے کہ کس طرح سے پنجاب کے ہرنوجوان کی رگ رگ میں نشہ خون بن کر دوڑ رہا ہے۔ دونوں ڈرگس کے ریکٹ کا پردہ فاش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ ادھر کہیں دور پنکی (عالیہ بھٹ) نامی لڑکی بہار سے ہاکی پلیئر بننے کے لالچ میں آکر نشے کے سوداگروں کے ہاتھ لگ جاتی ہے۔ دلچسپ اور رونگٹے کھڑے کردینے والے واقعات ان چاروں کردارو ں کو آس پاس میں ایک کڑی کی طرح جوڑ دیتے ہیں اور تب اجاگر ہوتی ہے نشے کے کاروبار کی حقیقت۔ فلم یہ بھی دکھاتی ہے کہ جب کسی علاقے میں کوئی اس طرح کا نا جائز کاروبار پھیلتا ہے تو اس کی زد میں صرف وہاں کے بنیادی باشندے ہی نہیں باہر سے آکر وہاں بسے لوگ بھی پھنس جاتے ہیں یعنی نشہ صرف پنجاب کو یا پنجابی نوجوانوں کو ہی برباد نہیں کررہا ہے بلکہ ایک قومی مسئلہ بن گیا ہے۔ فلم کی مخالفت کرنے والے یا اسے پنجاب مخالف بتانے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہدایتکار نے پنجاب کی سماجی زندگی کے اس پہلوکو دکھایا ہے جس سے نمٹنا ریاست کی اور دیش کی بھی بنیادی ترجیح ہونی چاہئے۔ ان کو پنجاب کی ساکھ سے زیادہ پنجاب کے مستقبل پر فکر کرنی چاہئے۔ اڑتاپنجاب میں صرف نشے سے گرفت لوگ ہی نہیں بلکہ اس سے بچانے کی ترکیب میں لگے لوگ بھی ہیں جیسے سرتاج اور ڈاکٹر پریتی سہانی۔ فلم ’’شاندار‘‘ میں شاہد، عالیہ بھٹ کی جوڑی اتنی جاندار تھی اس سے کہیں زیادہ شاندار اس فلم میں جمی ہے۔ان کے درمیان لو اینگل نہیں ہے، لیکن جو بھی اینگل ہے وہ ہے بڑا پیارا۔’ہائی وے‘ اور’’ ٹو اسٹیٹ‘‘ کے بعد یہ عالیہ کی اب تک کی سب سے زیادہ اچھی پرفارمینس ہے۔ شاہد گلیمرس دکھائی دینے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے ڈی گلیمرس دکھائی دینا ۔ فلم میں ان کا لک ایسا ہے جو کہ انسان آئینے میں خود کو دیکھ کر ڈر جائے۔ فلم میں دلجیت دوسانچ کا سرتاج والا انداز دیکھ کر پتہ لگتا ہے کہ یہ بندہ محض پانچ برسوں میں پنجابی فلموں کا سپر اسٹار کیسے بنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کرینہ کپور کا کردار بھی اہم ہے۔اسے لکھا بھی اچھے ڈھنگ سے گیا ہے یہاں تعریف کرنی ہوگی ابھیشیک چوبے اور سجیت شرما کی جنہوں نے فلم کی دو خاتون کرداروں کو کافی مضبوطی دی ہے۔ فلم امت ترویدی کے میوزک اور لبھاونے گانوں کی وجہ سے بھی راغب کرتی ہے۔ باکس آفس کے نظریئے سے فلم ہٹ ہے اور تقریباً35 کروڑ روپے کے بجٹ میں اب تک پہلے دن11 کروڑ روپے اور سنیچر کو13 کروڑ کا بزنس کرلیا ہے ۔ آخر میں اگر آپ ’اڑتا پنجاب‘ کو صرف اس تنازعے کی وجہ سے دیکھنا چاہتے ہیں تو گھر بیٹھ سکتے ہیں کیونکہ اس فلم کو دیکھنے کی اور بھی وجوہات ہیں تنازعہ تو ایک بہانہ ہے ۔ سچ یہ ہے کہ گالیوں اور سچے مکالموں سے بھری ’’اڑتا پنجاب‘‘ آپ کی تالیاں نہیں آپ کی توجہ مانگتی ہے وہ بھی دیش کے سامنے ایک انتہائی سنگین مسئلے پر بنی ہے۔
(انل نریندر)

برطانوی خاتون ایم پی کا بے رحمانہ قتل

برطانیہ میں آج کل ایک اشو خاص طور سے چھایا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ کیا برطانیہ کو یوروپی یونین میں رہنا ہے یا نہیں؟ کچھ دن پہلے یوروپی فیڈریشن میں برطانیہ کے بنے رہنے کے پختہ اور مثبتکاکس کو جمعرات کو ان کے پارلیمانی حلقہ بیٹلے اینڈ اسپین کے ورسٹل علاقہ میں قتل کردیا گیا تھا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق 52 سالہ تھاٹھامس میئر نے پہلے کاکس کو گولی ماری بعد میں انہیں چھورا گھونپا۔ کاکس کے قتل کے الزام میں تھامس میئر کو سنیچر کو لندن کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس پر قتل و سنگین طور پر جسم کو نقصان پہنچانے بندوق و دیگر خطرناک ہتھیار رکھنے سمیت کئی سنگین الزامات عائد کئے گئے۔ جج نے جب اس سے نام پوچھا تو اس نے جواب دیا ’’غداروں کی موت برطانیہ کی آزادی‘‘ پھرسے نام پوچھے جانے پر اس نے پھر سے یہی جواب دیا۔اس کے بعد وکیلوں سے پوچھ کر جج نے اس کے نام کی تصدیق کی۔ پتہ اور پیدائش پوچھے جانے پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ قریب15 منٹ کی سماعت کے بعد پھرسے پولیس حراست میں بھیج دیا گیا لیبر پارٹی کی 41 سالہ ایم پی جے کاکس کے قتل سے پورا برطانیہ صدمے میں ہے۔ قتل کا اسباب کا ابھی تک پتہ نہیں چل پایا۔ میئر کے ساؤتھ کٹر پنتھی نظریات سے متاثر ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ پولیس اسی کو بنیاد بنا کر جانچ کررہی ہے۔ غور طلب ہے کہ کاکس کا قتل ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوروپی یونین سے باہر ہونے کے مسئلے پر برطانیہ میں 23 جون کو ریفرنڈم ہونا ہے۔ قتل کے بعد سے دونوں خیموں نے اپنی کمپین ملتوی کررکھی ہے۔ مانا جارہا ہے قتل سے پیدا ہمدردی کا فائدہ یوروپی یونین میں بنے رہنے کے لئے کمپین چلا رہے لوگوں کو مل سکتا ہے جبکہ اس سے پہلے آئے تمام جائزوں میں برطانیہ کے باہر جانے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ ایک تازہ سروے کے مطابق 39 فیصد لوگ یوروپی یونین میں رہنے کے حق میں ہیں جبکہ 46 فیصد برطانیہ کے لوگ کہہ رہے ہیں برطانیہ کو یوروپی یونین سے باہر آجاناچاہئے۔11 فیصد جنتا ابھی طے نہیں کرپائی کہ رہیں یا ہٹیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ یوروپی یونین میں بنا رہے۔ انہوں نے جو کاکس کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو یوروپی یونین میں بنے رہنے میں زیادہ فائدہ ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کے لئے جو راستہ یوروپی یونین کے لئے کھلتا ہے وہ گریٹ بریٹن سے ہی گزرتا ہے۔ چین کے صدر جیپنگ نے کہا کہ ہم ایک خوشحال یوروپ و یونائیٹڈ یوروپی یونین کو دیکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ برطانیہ یوروپی یونین میں رہ کر زیادہ اہم کردار نبھائے۔ کاکس کے بے رحمانہ قتل نے ایک بار پھر مغربی ممالک میں بڑھتے بندوق کلچر پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ ایم پی کاکس کا مرنا چھوٹی واردات نہیں ہے۔
(انل نریندر)

21 جون 2016

بھارت این ایس جی ممبر بننے کے قریب پہنچ کر بھی دور

بھارت نیوکلیائی سپلائر گروپ (این ایس جی) داخلے کیلئے بہت قریب پہنچ گیا لیکن چین نے یہ کہہ کر این ایس جی گروپ کی میٹنگ میں بھارت کی ممبر شپ کاایجنڈا شامل نہیں ہے۔ اس سے بھارت کی کوششوں کو دھکا لگا ہے خیال رہے چین اب تک اڑنگا بازی لگاتا آرہا تھا چین نے پہلے مانا تھا کہ بھارت این ایس جی ممبر شپ حاصل کرنے کے لئے بے حد قریب ہے چین کا خیال ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو امریکہ، سوئزر لینڈ، میکسیکو و گریٹ برطانیہ سے حمایت مل چکی ہے لیکن اس گروپ میں بھارت کی انٹری سے جنوبی ایشیا میں سیاسی توازن کو دھکا لگے گا ساتھ ہی پورے ایشیا خطہ میں امن کو خطرہ پیدا ہوگا اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ اس کا قریبی ساتھی پاکستان پیچھے چھوٹ جائے گا۔ بھارت پاک نیوکلیائی توازن ٹوٹ جائے گا ۔ چین کاکہناہے کہ این ایس جی کی ممبر شپ کے لئے بھارت کو اتنا زیادہ حمایت ملنے کے پیچھے ایک اہم وجہ ہے امریکہ کی وجہ سے بھارت کو این ایس جی کو ممبر شپ کے لئے حمایت مل رہی ہے اس کاکہناہے کہ امریکہ کی طرف سے بھارت کو اپنے ساتھی کی طرح برتاؤ کرنے کے چلتے کچھ ملکوں کا سمرتھن ملا ہے۔ چین کو اصل دقت اس بات سے ہے کہ اگر بھارت این ایس جی کا ممبر بن گیا تو ساؤتھ ایشیا میں بھارت کا دبدبہ بڑھے گا۔ بھارت کو ہمیشہ اپنے کمزور اور کمتر سمجھنے والا چین اسے اپنے برابر نہیں چاہتا۔ بھارت کی ممبر شپ سے پڑوس میں دخل بھی بڑھ جائے گا۔یہاں بتادیں کہ ویٹو والا معاملہ تو نہیں ہے لیکن این ایس جی کی واحد شرط ہے کہ عام اتفاق رائے۔ اس لئے اس کامانا ضروری ہے کہ سیدھے دباؤ بنانے کے ساتھ ساتھ اب پاکستان جیسے چھوٹے ملکوں کو بھی اکسارہا ہے۔ ان میں سے پہلے نیوزی لینڈ بیترا بدل بھارت کے حق میں آگیا ہے۔ امکان ہے کہ ترکی اور افریقہ بھی ساتھ آسکتے ہیں امریکہ کی حمایت کے پیچھے اس کی ڈپلومیسی اور اقتصادی پالیسی ہے وہ بھارت کو چین کے ہم برابری کھڑا کرناچاہتا ہے وہی وہ بھارت میں تین ایٹمی پٹیاں لگانا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری نیوکلیائی سامان بھارت کو آسانی سے مل سکے گا۔ این ایس جی کا ممبربننے سے بھارت کو نیوکلیائی تکنیک اور یورنیم بغیر کسی خاص فائدے سے حاصل ہوسکے گا۔ نیوکلیائی بھٹیوں سے نکلنے والے کچرے کااضلاع کرنے میں بھی ممبرملکوں سے مدد ملے گی۔ ساؤتھ ایشیا بھارت چین میں برابر کھڑا ہوجائے گا۔ بھارت کو سب سے زیادہ یہی ہوگا کہ اگر بھارت کو این ایس جی کو ممبر شپ مل جاتی ہے تو اس کا رتبہ بڑھ جائے گا۔ نیوکلیر سپلائرز گروپ سال 1974 میں بھارت کے نیوکلیائی تجربے کے بعد تین سال میں یعنی 1975میں بنا تھا۔یعنی جس کلب کی شروعات بھارت کی مخالفت کرنے کے لئے تھی اگر بھارت اس کا ممبر بن جاتا ہے تو یہ اس کے لئے ایک بڑا کارنامہ ہوگا۔ بھارت کی ساکھ نیوکلیائی کفیل دیش کی بنے گی اگر بھارت اس اہم کلب کا ممبر بنتا ہے تو یہ وزیراعظم نریندر مودی کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔
(انل نریندر)

آسٹریلیا نے بیشک گولڈ جیتا لیکن دل تو انڈیا نے جیتے

جمعہ کو لندن میں کھیلی گئی ایف آئی اے چمپینس ہاکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے والی بھارتیہ مینس ٹیم نے بیشک گولڈ میڈل نہ حاصل کیا ہو لیکن مینس ٹیم کو متنازعہ شوٹ آؤٹ میں ورلڈ چمپئن آسٹریلیا کے ہاتھوں 3-1 کے ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ اور اپنے سلور میڈل تک ہی تسلی کرنی پڑی ویسے بھارت نے فائنل میں کہیں بہتر کھیل کامظاہرہ کیا ۔ میچ مقررہ وقت میں 0-0 میں برابر رہا ہے۔ بھارت نے دوسرے ہاف میں غضب کا مظاہرہ کیا اور تیسرے چوتھے کوارٹر میں ورلڈ چمیپن آسٹریلیا کے پسینے چھڑا دیئے لیکن اتنے دباؤ بنانے کے بعد بھی آسٹریلیا گول میں بال نہیں ڈال پایا بھارت ٹیم کے فائنل میں قابل تعریف تھا کیونکہ اسی ٹورنامنٹ لیگ اسٹیج پر آسٹریلیا نے بھارت کو آسانی سے ہرا دیا تھا۔ کپتان و بھارت کے گول کیپر پی آر شری جوش نے کئی پینلٹی کورنر بچائے۔ بتادیں کہ یہ سلور میڈل 1980 میں ماسکو اولمپک یعنی چھتیس برس بعد بھارت ایچ آئی ایم کے کسی بڑے ٹورنامنٹ کے خطابی مقابلے میں پہنچا اور میڈل حاصل کیا اس سے پہلے بھارت نے 1982میں تانبہ کا میڈل جیتا تھا جب مقررہ وقت میں دونوں ٹیمیں برابری( 0-0) پر رہیں تو میچ کے فیصلے کے لئے پینلٹی کورنر شوٹ آؤٹ کا سہارا لیا گیا یہاں آسٹریلیا کی دوسری کوشش پر تنازعہ کھڑا ہوا۔ دراصل بھارتیہ گول کیپر پی آر شری جیش نے آسٹریلیا کو دوسری کوشش کرنے سے روک دیا تھا اور گیند ان کے پیروں میں پھنس گئی تھیں آسٹریلیا ئی کھلاڑی نے احتجاج جتاتے ہوئے ریفرر مانگا اور ویڈیو ایمپلائر نے ریپلے دکھانے کے بعد دوسری کوشش کی جس پر آسٹریلیا نے گول کر شوٹ آؤٹ میں 2-0 کی بڑھت بنا لی ۔ بھارتیہ کوچ رولیٹ میس اس فیصلے پر بے حد ناراضگی جتائی اس احتجاج کی وجہ سے سرکاری نتیجہ اعلان کرنے میں قریب ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔ ریویلی ہاکی اینڈ ٹینٹس سینٹر میں کھیلے گئے سانس روکنے والے مقابلے میں آسٹریلیائی گول کیپر ٹائلر روویل ہیرو ثابت ہوئے انہوں نے حریف بھارتیہ ٹیم کو شوٹ آؤٹ میں صرف ایک گول ہی کرنے کاموقعہ دیا۔ دیش میں ہاکی کی سب سے بڑی تنظیم ہاکی انڈیا نے بھارتیہ مین ٹیم کے کھلاڑیوں کو اور کوچ رولیٹ اولیہ میس کو نقد انعام دینے کااعلان کیا۔ ٹیم کے کھلاڑیوں اور چیف کوچ کو دو دولاکھ روپئے نقد انعام دینے کااعلان کیا۔ ٹیم کے دیگر کوچ اور سپورٹ اسٹاف کو ایک ایک لاکھ روپئے کانقد انعام دیاجائے گا۔ ہم بھارتیہ ہاکی ٹیم اس شاندار کھیل کے لئے مبارک باد دیتے ہیں اور ریو اولمپک کے لئے بیسٹ آف لک کہتے ہیں۔
(انل نریندر)

19 جون 2016

جے این یو میں ملک دشمن نعروں کا ویڈیو صحیح پایا گیا

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک پروگرام کے دوران9 فروری کو کچھ طلبا کے ذریعے ملک دشمن نعرے لگانے والے ملزمان پر شکنجہ اور کس سکتا ہے۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ملزمان کے خلاف جانچ تیز کردی ہے۔ جمعرات کو بھی سیل کے 6 افسران نے جے این یو پہنچ کر ایڈمیشن بلاک میں ماسٹر مائنڈ عمر خالد اور انربان بھٹاچاریہ سمیت دو طلبا سے قریب 3 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی۔ عمر بدھوار کو دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے اکھل بھارتیہ وددیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے مظاہرہ کر پولیس پر جے این یو کے 9 فروری کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے پولیس بچ رہی ہے جبکہ اس متنازعہ پروگرام کا ویڈیو صحیح پایا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 9 فروری کے پروگرام کا ایک پرائیویٹ چینل کا ویڈیو جانچ میں صحیح پایا گیا ہے۔ ویڈیو میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ دیش کے خودساختہ سرکولر قوم پرستوں نے اس کی سچائی پر کئی سوال کھڑے کئے تھے۔ ویڈیو کو سی ایف ایس ایل بھیجا گیا۔ اس ویڈیو سے ہی جے این یو میں ملک دشمن نعرے لگانے والے ملزمان کے خلاف بغاوت کا معاملہ درج ہوا تھا۔پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ چینل کے ویڈیو کو لودھی کالونی میں واقع سی بی آئی کے سی ایف ایس ایل لیباریٹری میں بھیجا گیا تھا ۔ اس نے8 جون کو دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کو رپورٹ سونپ دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی ہے۔
پولیس نے جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے چیئرمین کنہیا، انربان بھٹاچاریہ اور عمر خالد کو گرفتار کیا تھا۔ سبھی اب ضمانت پرباہر ہیں۔اس سے پہلے دہلی پولیس نے اس متنازعہ پروگرام کے جو پانچ ویڈیو گجرات لیب بھیجے تھے وہ بھی صحیح پائے گئے۔ ان ویڈیو کے ساتھ بھی کوئی چھیڑ چھاڑ سامنے نہیں آئی۔ اسے اس وقت کے پروگرام کو دیکھ رہے لوگوں نے اپنے موبائل سے بنایا تھا۔اب اسپیشل سیل کو کنہیا کمار کی آواز کے نمونوں کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ تب ان خودساختہ طاقتوں نے دلیل پیش کی تھی کہ ویڈیو فٹیج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور طالبعلم لیڈروں کو بلا وجہ پریشان کرنے کے مقصد سے پولیس نے یہ کیس درج کیا ہے۔ مرکزی سرکارپر بھی جے این یو کو بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔تب ان طلبا کی گرفتاری کو لیکر دیش بھر میں مخالفانہ آوازیں اٹھی تھیں۔ اب چونکہ ویڈیو کی سچائی پرسارے الزام ہٹ گئے ہیں اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا ہے امید کی جاتی ہے کہ دہلی پولیس اس معاملے میں باقی جانچ کو تیز کرے گی۔ بتادیں کنہیا نے تو ضمانت کے بعد بھی دیش دشمن تقریریں کی ہیں۔ دیکھیں عدالتیں اس کی مشروط ضمانت پر کیا کارروائی کرتی ہیں۔
(انل نریندر)

عام آدمی پارٹی میں عدم رواداری کا سوال

سوراج اور لوکپال جیسے اشو پر عام آدمی پارٹی عوام کے بیچ میں متبادل سیاست کے دعوے کے ساتھ آئی تھی۔ دکھ کی بات ہے کہ الگ ساکھ بنانے والی پارٹی اپنے اندر ہی جمہوریت کا قتل کررہی ہے۔ ہر بات پر جنتا سے رائے شماری کروانے والی اور محلہ سبھا کی بات کرنے والی پارٹی نہیں چاہتی کہ اس کے نیتا جنتا کے بیچ میں وہ رائے رکھیں جسے وہ صحیح نہیں مانتے۔ گوپال رائے کے ٹرانسپورٹ وزارت چھوڑنے پر عام آدمی پارٹی کی تیز طرار لیڈر الکا لانبہ کو پارٹی کے ترجمان کے عہدے سے ہٹا دئے جانے پر سوال اٹھنے فطری ہی ہیں۔ غور طلب ہے کہ ایب پر مبنی بس سیوا اسکیم میں عاپ کے نیتا اور وزیر گوپال رائے پر ایک پرائیویٹ کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے الزام لگے تھے۔ تنازعے میں آنے کے بعد اس معاملے کی جانچ چل رہی ہے۔ اس درمیان کام کا بوجھ زیادہ ہونے اور صحت ٹھیک نہ ہونے کا سبب بتا کر گوپال رائے سے ان کے عہدے سے استعفیٰ دلوایا گیا۔ اس سلسلے میں الکا لانبہ نے کہہ دیا کہ پریمیم بس گھوٹالے میں الزام لگنے پر گوپال رائے نے استعفیٰ دیا ہے تاکہ جانچ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اعلانیہ طور پر یہ عام آدمی پارٹی کی لائن نہیں تھی۔ اس مسئلے پر وزیر اعلی اروند کیجریوال کا موقف تھا کہ گوپال رائے خراب صحت کے سبب ٹرانسپورٹ محکمہ چھوڑا ہے۔
ظاہر ہے الکا لانبہ کے بیان نے اپوزیشن کو یہ کہنے کا موقعہ دے دیا ہے کہ گھوٹالے کے الزام کے چلتے ہی گوپال رائے کو عہدہ چھوڑنا پڑا۔ کرپشن مخالف مہم کی پہچان والی پارٹی کے لئے یہ اس لئے بھی ایک پریشانی والی صورتحال ہے کہ فی الحال پارلیمانی سکریٹری بل کو صدر کے ذریعے لوٹا دینے کے بعد عام آدمی پارٹی کے21 ممبران اسمبلی پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ جس تیزی سے الکا لانبہ کو ترجمانی کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اس سے فطری طور پر یہ سوال اٹھے کہ کیا عاپ کے اندر عدم رواداری کی آواز اٹھانے کی جگہ نہیں بچی ہے۔ کیجریوال آئے دن نریندر مودی پر عدم رواداری کا الزام لگاتے ہوئے نہیں ٹھکتے ،ان کے گھر میں کیا ہورہا ہے اس پر وہ کوئی بات نہیں کرتے۔ الکا لانبہ کا کیس پہلا نہیں ہے اس سے پہلے بھی مخالفانہ آوازوں کو درکنار کردیا جاتا رہا ہے اور پھر پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن معاملے میں پارٹی میں بڑا ٹکراؤ سامنے آیا تھا۔ الکا لانبہ چاندنی چوک جیسے اہم ترین حلقے کی عام آدمی پارٹی کی ممبر اسمبلی ہیں۔ کانگریس سے آئی الکا لانبہ تیز طرار ساکھ کی نیتا ہیں۔ وہ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین کی پریسیڈنٹ بھی رہ چکی ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا الکا لانبہ کو سچ بولنے کی سزا دی گئی ہے یا پھر وجہ کوئی اور ہی ہے؟
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...