Translater

15 جون 2014

ورلڈ کپ کی شاندار شروعات!

سانبا کی دھن پر تھرکتی رقاصاؤں،پٹ بل اور جنیفر لوپیزکی آواز کے جادو اور فٹبال کے لئے برازیل کی دیوانگی بیاں کرتی رنگا رنگ موسیقی ریزپیشکش کے درمیان اگلے ایک مہینے تک چلنے والے فٹبال کے مہاسمرکا آغاز ہوگیا۔اولے۔اولے انہی دو الگ الگ الفاظ کو ایک خوبصورت دھاگے میں پروتے ہوئے برازیل نے دنیا کے سب سے مقبول کھیل کے مہا کنبھ کا جمعرات کو زبردست سواگت کیا۔ ساؤپاولوکاکورن کیوئن ارینا اسٹیڈیم فٹبال کے چاہنے والوں سے پوری طرح سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ آخر برازیل فٹبال پریمیوں کے لئے یہ خاص لمحہ 64 سال کے لمبے انتظار کے بعد آیاتھا۔ امریکی سنگر جنیفر لوپیز امریکہ کے مشہور ریپر پٹ بل اور برازیل سنگر کلاؤڈیا لٹی نے مل کر جب فیفا ورلڈ کپ2014 کاباضابطہ گانا اولے اولے گایا تو اسٹیڈیم ہی نہیں بلکہ ٹی وی پر دیکھ رہے تمام فٹبال کے دیوانے بھی اپنے پیر تھرکنے سے نہیں روک سکے۔اس گیت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی2014ء ورلڈ کپ کا آغاز بھی ہوگیا۔ ورلڈ کپ 2014ء میں 32 ٹیمیں شرکت کررہی ہیں۔ برازیل کے12 شہروں میں میچ کھیلے جائیں گے۔ 32 دن تک چلے گا یہ ورلڈ کپ۔ کل 64 میچ کھیلے جائیں گے۔ کل انعامی رقم576 ملین ڈالر ہے جو گذشتہ ورلڈ کپ کے مقابلے37 فیصد زیادہ ہے۔ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی سبھی ٹیموں کو 1.5 ملین ڈالر (لگ بھگ9 کروڑ روپے) ملیں گے۔ چوتھے مقام پر رہنے والی ٹیم کو20 ملین ڈالر (لگ بھگ118 کروڑ روپے) ملیں گے۔ تیسرے مقام پر رہنے والی ٹیم کو22 ملین ڈالر (لگ بھگ 130 کروڑ روپے) ملیں گے۔ ٹورنامنٹ میں جو ٹیم دوسرے نمبر پر رہے گی اسے انعام میں 25 ملین ڈالر (لگ بھگ148 کروڑ روپے) ملیں گے اور جیتنے والی ٹیم کو چمچماتی ٹرافی کے علاوہ 35 ملین ڈالر(لگ بھگ207 کروڑ روپے) ملیں گے۔فٹبال ورلڈ کپ کے رنگ میں بھارت کے پردھان منتری نریندر مودی بھی رنگے دکھائی دے رہے ہیں۔ جمعرات کو انہوں ن ے2014ء فیفا ورلڈ کپ پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔اس موقعہ پر انہوں نے دیش کو نعرہ بھی دیا (جو کھیلے وہ ہی پلے) انہوں نے کہا امید ہے کہ فیفا ورلڈ کپ دنیا کے دیشوں کو جوڑنے میں کارگر ثابت ہوگا۔ ورلڈ کپ میں32 ٹیموں کے 736 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔اس میں حصہ لینے والی 32 ٹیموں کو چار ۔چار کے آٹھ گروپوں میں بانٹا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ میں کل64 میچ کھیلے جائیں گے ۔فیفا ورلڈ کپ میں تکنیک اہم رول نبھائے گی کیونکہ اس میں استعمال ہونے والی برازکا نامی فٹبال میں چھ ایچ ڈی کیمرے فٹ ہوں گے جو میدانی ایکشن کے 370 ڈگری کے سین دکھائیں گے۔ اس گیند کے ڈیزائن میں نیلے، سنتری اور ہرے رنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔بھارت واسیوں کو بہرحال تھوڑی مایوسی یوں ہے کہ برازیل میں کھیلے جارہے میچوں کے ٹائم ہمارے حساب سے صحیح نہیں ہیں۔ زیادہ تر میچ دیر رات کھیلے جائیں گے اور اتنی دیر جاگنا آسان نہیں ہوگا۔ بہرحال فٹبال کا مہا سمر شروع ہوچکا ہے اور اگلے 30 دن اس کا خمارہ ساری دنیا پر چڑھا رہے گا۔ مقابلہ کڑا ہے، برازیل، چین،ارجنٹینیا اہم دعویدار ہیں۔ برازیل کو پوری امید ہے کہ وہ ہی ورلڈ چمپئن ہوگا۔
(انل نریندر)

عراق میں ابو بکر البغدادی دوسرے اسامہ بن لادن!

عراق میں سنی دہشت گردوں نے دیش کے دوشہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ دو سال پہلے امریکی فوج عراق سے ہٹ گئی تھی اس کے بعد کے سب سے بڑے سنکٹ سے عراق روبرو ہے۔ عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موسل پر سنی دہشت گردوں نے منگلوار کو اور بدھوار کو بغداد کے نزدیک واقع بیزی اور صدام حسین کے آبائی شہر تکرت پر اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ لاوینٹ(آئی ایس آئی ایل) نے قبضہ کرلیا ہے۔ بغداد سے محض130 میل دور تیل ریفائنری کے لئے مشہور بیجی شہرکے لوگ جب صبح اٹھے تو دیکھا کہ 60 گاڑیوں میں آئے آتنکیوں نے شہر پر قبضہ کرلیا ہے اور فوجی چیک پوسٹ اور دیگر ادارے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ بیجی شہر کے جس پاور پلانٹ سے بغداد کو بجلی سپلائی ہوتی ہے وہ بھی آتنکیوں کے قبضے میں ہے۔ قریب6 مہینے پہلے آتنکیوں نے فالوجا شہر پر قبضہ کرلیا تھا، تب امریکہ نے کئی طرح کے فوجی سازو سامان عراق سرکار کو مہیا کرائے تھے لیکن بتاتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر ہتھیاروں پر آتنکیوں کا قبضہ ہوچکا ہے۔واشنگٹن تازہ حالات سے فکرمند ہے۔وہ ڈرون حملے سمیت دوسری فوجی مدد دینے کیلئے کئی متبادلوں پر غور کررہا ہے۔ امریکی وزارت داخلہ کی ترجمان جین پساکی نے کہا کہ امریکہ آئی ایس آئی ایل کے حملوں کے خلاف عراقی سرکار اور عراق کے نیتاؤں کے ساتھ مل کر مدد کرنے کے لئے کام کرنے کو پر عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو عراق بھیجنے کی کوئی یوجنا نہیں ہے۔ موسل پر آتنکی قبضے اور عراقی فوج کے بنا لڑے ہتھیار ڈال دینے سے پشچمی دیشوں کے سرکشا ماہرین فکرمند ہیں۔ آتنکیوں سے لوہا لینے کی جگہ فوجیوں نے اپنی وردی اتار کر عام لوگوں جیسے کپڑے پہن لئے اور بھاگ رہی بھیڑ کا حصہ ہوگئے۔ امریکہ نے عراقی فوج کی ٹریننگ پر لاکھوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ امریکہ سمیت پشچمی دیش تازہ واقعات سے حیران ہیں۔ آتنکیوں کا اگلا نشانہ بغداد ہے۔اس علاقے میں پھراشانتی ہونے کی آشنکا ہے۔ عراق میں راجدھانی بغداد کے بعد دوسرے سب سے بڑے شہر موسل پر قبضہ کرنے والی آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کے نیتا ابوبکر البغدادی کو ٹائم میگزین نے دنیا کا سب سے خطرناک آدمی قراردیا ہے۔ موسل پر قبضے کی رن نیتی تیار کرنے والے اس شخص کو فرانسیسی اخبار ’’لی مونڈے‘‘ نے نیا اوسامہ بن لادن کہا ہے۔ یہ تنظیم القاعدہ سے جڑی ہوئی مانی جاتی ہے۔اسی سے جڑے آتنکیوں نے موسل پر قبضہ کیا ہے۔ فالوجا شہر پر پہلے سے ہی اس تنظیم کا قبضہ ہے۔ سیریا میں اسعد سرکار کو سب سے بڑی چنوتی یہ ہی سنگٹھن دے رہا ہے۔ سنی آتنکیوں کے سنگٹھن کا نیتا ابوباکر البغدادی ہے اور اس کے پاس ہزاروں لڑاکا ہیں جن میں کئی ودیشی بھی ہیں۔ممکن ہے کہ کچھ سمرتھک القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ہو جائیں۔ موسل کی گھٹنا سے صاف ہے کہ کیسے سیریا میں چل رہی خانہ جنگی عراق تک پہنچ گئی ہے۔ماہرین اس واقعہ کونوری المالکی کی شیعہ اکثریت والی سرکار کے لئے خطرہ مان رہے ہیں۔ مالکی کے لئے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ اتنا طے ہے کہ ایک بار پھر علاقے میں اشانتی کا دور آگیا ہے۔
(انل نریندر)

14 جون 2014

کشمیری پنڈتوں کے جلد ہی اچھے دن آنے والے ہیں!

ہجرت کے درد کے درمیان اپنی وجود کی لڑائی لڑ رہے کشمیری پنڈتوں کے اچھے دن آنے والے ہیں کم سے کم لگ تو ایسا ہی رہا ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی گھاٹی میں واپسی اور بازآبادکاری کے لئے ایک بڑی یوجنا پر کام شروع ہوچکا ہے۔نریندر مودی سرکار نے اس مدعے کو اپنی فوقیت کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہے۔ بھاجپا کے چناوی مینی فیسٹو میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ وہ کشمیری پنڈتوں کو پورے سنمان کے ساتھ واپسی یقینی بنانے کے لئے پر عہد ہیں۔دہشت گردانہ واقعات کی وجہ سے 1990ء کے بعد گھاٹی سے ہجرت کرکے آئے کشمیری پنڈتوں کی تعداد بڑھ کر6-7 لاکھ ہوگئی ہے۔ یوجناؤں کے مطابق کشمیری مہاجروں کی واپسی اور باز آبادکاری کا یہ نیا پیکیج اس پیکیج سے زیادہ دلکش ہوگا جس کا اعلان سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپریل 2000ء میں کیا تھا۔ اس پیکیج میں پوری طرح یاجزوی طور سے برباد ہوئے مکانوں کی دوبارہ تعمیر کیلئے ہر خاندان کو ساڑھے سات لاکھ روپے کی مدد ،گرچکے مکانوں کے لئے ہر پریوار کو دو لاکھ روپے کی مدد اور1989ء میں افراتفری کے دوران اپنی جائیداد بیچ چکے لوگوں کے لئے گرو پ ہاؤسنگ سوسائٹی میں مکان خریدنے کے لئے فی خاندان ساڑھے سات لاکھ روپے کی مدد شامل ہے۔ افسران نے کہا کہ اگر وہ کہیں بھی غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں تو انہیں تحفظ فراہم کرایا جائے گا۔ جموں وکشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ مہاجر کشمیری پنڈت سمودائے کی گھاٹی میں واپسی کے لئے نریندر مودی سرکار کے ساتھ مل کر کام کرنے کا انتظار کررہے ہیں۔ عمر نے ٹوئٹ کیا میں نئی سرکار کے ساتھ کام کرنے کا انتظار کررہا ہوں۔ انہوں نے مہاجر پنڈت طبقے کی باعزت واپسی کی اسکیمیں پیش کی ہیں۔کھیر بھوانی اتسو پر جموں و کشمیر کے لوگوں کو شبھ کامنائیں دیتے ہوئے پردھان منتری دفتر کے ریاستی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دیش گھاٹی میں کشمیری پنڈتوں کی باعزت واپسی کے لئے پرعہد ہے۔کشمیری پنڈتوں کے کلیان کے لئے کام کررہے کاریہ کرتا منوج بھان نے کہا کہ کشمیری فرقے کے ہر ممبر واپس اپنے وطن جانا چاہتا ہے لیکن وہاں بہتر ماحول مناسب حفاظت اور آئینی تحفظ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہم کسی ٹورسٹ کی طرح واپس نہیں جانا چاہتے اور نہ ہی چھاونی والا جیون چاہتے ہیں۔یہ پوری طرح سے صاف ہونا چاہئے کہ سرکار کس طرح کا پنرواپس دینا چاہتا ہے؟بھان نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے لئے پیکیج میں فرقے کیلئے ودھان سبھا اور پارلیمانی سیٹوں میں ریزرویشن مالی مدد،تعلیمی اداروں میں ریزرویشن اور سی جی ایچ ایس (مرکزی سرکار کی صحت اسکیم) کی طرح کی اسکیم کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ ہجرت کے درد کے درمیان وجود کی لڑائی لڑ رہے کشمیری پنڈتوں نے آخر کار 25 سال بعد گذشتہ دنوں اپنے حق کیلئے سری نگر کے لال چوک کوچ کیا۔ حالانکہ پولیس نے انہیں لال چوک سے قریب 100 میٹر پہلے ہی روک لیا لیکن وہ اپنی آواز سرکار تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کشمیر مندر بل کو پاس کرنے، کشمیری پنڈتوں کی مذہبی جگہوں پر قبضوں کی جانچ سمیت دیگر مانگیں پوری نہ ہونے پر17 اگست سے آمرن انشن پر جانے کا اعلان کیا ہے۔کشمیری پنڈتوں کیلئے اقلیتی درجے کی مانگ بھی کی۔ پنڈتوں کے ذریعے لال چوک پر یا کشمیر میں بڑی ریلی کا یہ پہلا موقعہ تھا۔ 
(انل نریندر)

اس بار لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نہیں!

وزیر اعظم کے بھاشن کے بعد ہی سنسد کے پہلے اجلاس کا خاتمہ ہوگیا لیکن ابھی تک اپوزیشن لیڈر کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا کہ چناؤ میں کراری ہار جھیلنے والی کانگریس کو اپوزیشن لیڈرکے پد کی کرسی مل بھی پائے گی یا نہیں۔ اس کو لیکر برسراقتدار بھاجپا کے اعلی لیڈران میں بھی تذبذب کی حالت ہے۔ یہ ضرور ہے کہ پردھان منتری نریندر مودی شروعاتی دور میں ہی اپوزیشن کے ساتھ اچھے رشتے رکھنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے سوال پر ان کا رخ بھی صاف نہیں ہوپایا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 16 ویں لوک سبھا میں کانگریس کے پاس لوک سبھا کی اتنی بھی سیٹیں نہیں آئی ہیں کہ وہ قانونی طور سے اس کرسی کے لئے اپنا دعوی ٹھوک سکے کیونکہ اپوزیشن لیڈر کیلئے بھی ایوان میں اس کے پاس کم سے کم 54 ممبر ہونے چاہئیں لیکن اس بار پارٹی کو کل 44 سیٹیں ہی مل سکی ہیں۔ یہ ضرورت ہے کہ اتنی کم سیٹوں کے بعد بھی کانگریس کی حیثیت سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کی ہے۔ لوک سبھا میں سب سے بڑی پارٹی کو ہی اپوزیشن لیڈر کا پد ملتا ہے۔ یہ پد کیبنٹ رینک کا ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ کئی آئینی پوسٹ پر تقرریوں میں اپوزیشن لیڈر کی اہم حصہ داری رہتی ہے اس لئے کانگریس رہنما اس پوسٹ کو لینے کے لئے بے چین ہیں۔ گذشتہ دنوں سابق مرکزی وزیرویرپا موئلی بھی کہہ چکے ہیں کہ کانگریس کے پاس اس پوسٹ کی دعویداری کے لئے پورا اعدادو شمار نہیں ہے۔ پھر بھی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے ناطے کانگریس کا ہی اس پوسٹ پر حق بنتا ہے۔ یہ فیصلہ اسپیکر کی صوابدید پر ہے۔ اس معاملے میں کانگریس چیف سونیا گاندھی نے لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کو ایک خط بھیجا ہے۔ خط میں سونیا نے لوک تانترک رواداری کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی پوسٹ کانگریس کوملنا چاہئے۔قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے لوک سبھا میں اپنی پارٹی کالیڈر دل نیتا ملک ارجن کھڑگے کو بنایا ہے۔بھاجپا ذرائع کے مطابق سنسد سیشن کے دوران جس طرح سے راشٹرپتی کی تقریر پر چرچا کے دوران کانگریس کے نیتا کھڑگے نے مودی سرکار کے تئیں تیکھے تیور دکھائے ہیں ایسے میں بھاجپا لیڈر شپ اس مدعے پر کانگریس کے لئے کوئی کرپا دکھانے کے موڈ میں نہیں لگتی۔ یہ کوشش بھی چل رہی ہے کہ ترنمول کانگریس اور انا درمکھ کا ایک گٹھ بندھن ہوجائے تو ان دونوں دلوں کی مشترکہ طاقت لوک سبھا میں کانگریس سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ انا درمکھ کے 37 اور ترنمول کے34 سانسد ہیں۔ کوشش یہ ہورہی ہے کہ اگر ممتا اور جے للتا میں تال میل بن جائے تو انا درمکھ کے ہی نیتا کو اپوزیشن لیڈر کی پوسٹ دی جاسکتی ہے۔حالانکہ ان دونوں ہی پارٹیوں کی مکھیا پارٹی میں اپنے سوائے کسی اور کو اس اہم پوسٹ پر بٹھانے سے بچ رہی ہے۔ اگر 37 سانسدوں والی انا درمکھ اور34 سانسدوں والی ترنمول کی سانجھہ دعویداری نہیں ہوتی ہے تو برسر اقتدار خیمہ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس کو یہ پد دینے پر غور کرسکتا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس معاملے میں ابھی تک پردھان منتری نریندر مودی کچھ طے نہیں کرپائے ہیں اس لئے یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اب سونیا گاندھی نے خط لکھ کر پہل کردی ہے۔ ایسے میں امکان ہے کہ اس مدعے پر جلد ہی فیصلہ ہوجائے۔
(انل نریندر)

13 جون 2014

گڈ گورننس نریندر مودی اسٹائل!

مودی سرکار کو اقتدار سنبھالے ہوئے محض کچھ ہی دن ہوئے ہیں لیکن اقتدار کے گلیاروں میں ایک دم نئے قسم کی تصویر دکھائی دینے لگی ہے۔ وزارتوں کے بڑے بڑے افسر بھی ڈرے اور سہمے ہوئے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ لیٹ لطیف آنے کے عادی ہو چکے بڑے صاحب بھی اب آدھا گھنٹہ پہلے آکر اپنی کرسیوں میں جم جاتے ہیں۔ وزیر اعظم کے اچانک دورے کے خوف سے ہلکان ہیں کیونکہ پی ایم نے سیکریٹریوں کی بیٹھک میں آگاہ کردیا ہے کہ وہ وزارتوں میں کبھی بھی دورہ کرنے کے لئے آسکتے ہیں۔ انہیںیہ پسند نہیں ہے کہ سرکار کا کوئی بھی دفتر بے قاعدگی کا شکار ملے۔سہمے ہوئے کئی افسر گجرات کیڈر کے اعلی افسروں سے یہ جانکاری لے رہے ہیں کہ مودی جی کے دورہ کا طور طریقہ گاندھی نگر میں کس طرح کا رہتا تھا۔ان لوگوں کو بتایا گیا کہ مودی جی دفاتر کے ٹوائلٹ تک کا بھی معائنہ کر لیتے ہیں اگر وہاں گندگی ملی تو خفا ہوجاتے ہیں۔ مینکا گاندھی کی وزارت نے تو باقاعدہ ایک سرکولر جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دفتر کے وقت میں کوئی بھی پان یا گٹکھا نہیں کھائے گا۔ سگریٹ بھی دفتر کے اندر نہیں پی سکتا۔ ایسے میں مشکل ان افسروں کو آرہی ہے جو دھنواں دھار سگریٹ پینے کے عادی ہوچکے ہیں۔ وہ موقعہ دیکھ کر سگریٹ کا کش لگانے کے لئے باہر کا کوئی کونہ ڈھونڈنتے دکھائی پڑتے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ مودی کی دھمک ہی وزارتو ں میں قاعدگی لانے کے لئے کافی ہے۔کیبنٹ کی بیٹھک میں بھی وزیر اعظم اپنی ٹیم کو نصیحت دے چکے ہیں کہ وہ میڈیا کے اسٹنگ آپریشن سے بچ کررہیں۔ یہ تبھی ممکن ہے جبکہ وہ کسی طرح کی گڑ بڑی کا ارادہ نہیں رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے کرلیں کہ انجان لوگوں کے ساتھ کسی طرح کی بات نہیں کریں ورنہ ان کی زیرو ٹالرینس کی نیتی سب پر بھاری پڑے گی۔ مودی کا سارا زور گڈ گورننس پر ہے اس لئے کیبنٹ سکریٹری نے سبھی وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ سبھی طرح کے فارم چھوٹے کئے جائیں۔ ان میں غیر ضروری جانکاریاں نہ مانگی جائیں۔ فائلیں جلد نپٹانے کے لئے بھی کئی طرح کے فارمولے بنے ہیں۔ اسی کڑی میں کیبنٹ سکریٹری نے ہدایت دی ہے کہ سبھی فائلیں صرف 4 مرحلوں پر ہی نپٹائی جائیں تاکہ ضروری فائلوں میں کوئی دیری نہ ہو۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مہنگائی کم کرنے کو اپنی سرکار کی پہلی ترجیح بنائی ہے۔اس مدعے پر وزیرخزانہ ارون جیٹلی لگاتار سرگرم ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی خود صبح 9 بجے کے پہلے ہی ساؤتھ بلاک میں واقع دفتر میں پہنچ جاتے ہیں۔ ایک دن تو انہوں نے کیبنٹ سکریٹری کے دفتر میں ہیں کمپیوٹر کی اسکرین پر انگلی لگائی تو ان کی انگلی پر دھول کے کچھ ذرے آگئے۔ یہ دیکھ کر کیبنٹ سکریٹری بھی سٹپٹا گئے۔ اس پر مودی مسکرائے اور بولے اگر آپ کے بھی کمپیوٹر پر دھول جمے گی تو اس دیش کے نوکرشاہوں پر دھول کی تمام پرتیں جم جائیں گی۔ مودی لفٹ کی بجائے سیڑھیوں سے چڑھنا پسند کرتے ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ سیڑھیاں صاف ہونی چاہئیں۔ لوک سبھا چناؤ پرچار میں بھاجپا کی طرف سے ’اچھے دن آنے والے ہیں‘ کا نعرہ کافی مقبول ہوا تھا۔ پردھان منتری نے اپنا کام سنبھالتے ہی اس سمت میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار دلانے کے لئے وزارتوں میں قواعد تیز ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پرمرکزی سرکار کے دفاتر میں خالی جگہوں کی بھرتی کا کام تیز کرنے کی ہدایت دی گئیں ہیں۔ مرکزی پرسونل وزارت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہر محکمے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 20 جون تک پرسونل وزارت کو اپنی وزارت میں خالی جگہوں کی جانکاری دے دیں۔رہنما اصول ریلوے سے لیکراطلاع و نشریات کی وزارت میں سرگرمی دیکھی جارہی ہے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ وزارت اطلاع و نشریات کے گذشتہ پانچ سالوں میں 200 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔مالی ذرائع کی کمی کی وجہ سے فائننس کی وزارت ان اسامیوں کو بھرنے کی منظوری نہیں دے رہی تھی۔ وزارت ریلوے کے افسران بات چیت میں قبول کرتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ ہر سال ہورہی ہے لیکن اس حساب سے بھرتی نہیں ہورہی۔ اس سے کام کاج متاثر ہورہا ہے۔ نریندر مودی کے پی ایم بننے کے بعد اب لگنے لگا ہے کہ سرکار نام کی کوئی چیز ہے پرگذشتہ دس سالوں میں آئی گراوٹ سے ابھرنے میں تھوڑا وقت تو لگے گا۔ مودی نے شروعات تو اچھی کی ہے دیکھیں اس کے نتائج کب اور کتنے آتے ہیں؟
(انل نریندر)

تحریک طالبان کی بڑھتی طاقت و ہمت!

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوا حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آتنکی پاکستان میں جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ کرسکتے ہیں۔ طالبان نے ایسے وقت پر یہ چنوتی دی ہے جب پاکستان کی سرکار اورفوج کی طالبان سے لڑنے کی صلاحیت پر پہلے سے سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ پاکستان کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والے آتنکیوں کی منشا ایئرپورٹ پر لمبے وقت تک قبضہ جمائے رکھنے کی تھی۔ فوج کے مطابق آتنکی جہازوں اور ایئرپورٹ کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی تیاری کے ساتھ آئے تھے لیکن وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ یہ پہلی بار نہیں جبممنوعہ تنظیم تحریک طالبان نے جس نے اس تازہ حملے کی ذمہ داری لی ہے ،نے ہوائی اڈوں پر نشانہ سادھا ہے۔ اگست2013ء کو سکیورٹی فورسز کی پوشاک میں آئے آتنکیوں نے راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ایئرپورٹ اور چکلالہ ایئربیس پر حملہ کی ناکام کوشش کی۔ 15 دسمبر 2012ء کو آتنکیوں نے پیشاور ایئرپورٹ احاطے میں گھسنے کی کوشش میں پانچ راکٹ داغے اور دھماکہ خیز مادے سے لدی کار میں حملہ کیا جس میں9لوگ مارے گئے۔ 22 مئی 2011ء کو پاک۔ طالبان نے کراچی کے مہران نو سینک اڈے پر حملہ کیا جس میں18 سکیورٹی فورس کے جوان مارے گئے۔15 آتنکی ڈھیر کردئے گئے اور پاک ایئرفورس کے2 B3 اورین سرویلانس ایئرکرافٹ کو آتنکیوں نے اڑادیا۔سوموار دوپہر بعد نیم فوجی رینجرز کے ترجمان سبطین رضوی نے بتایا حملہ ختم ہوچکا ہے ، ہم نے علاقے کو سبھی آتنکیوں سے آزا د کرالیا ہے پرممنوعہ تنظیم تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری کا دعوی کیا ہے۔ٹی ٹی پی کے ترجمان شہید اللہ شاہد نے میڈیاکو جاری بیان میں کہا ہم نے یہ حملہ کیا ہے اور یہ پیغام پاکستان سرکار کے لئے ہے کہ گاؤں پر بم حملوں میں بے قصور لوگوں کے قتل کا جواب دینے کے لئے ہم ابھی زندہ ہیں۔ شاہد نے کہا کہ ہم نے ایک (محسود کے لئے) بدلہ لے لیا ہے۔ ہمیں سینکڑوں کے لئے بدلہ لینا ہے۔ دراصل پاکستان میں اس وقت اقدار کے دو مرکز ہیں جو حالات اور بگاڑ رہے ہیں۔ ایک طرف نواز شریف سرکار ہے تو دوسری جانب پاکستان فوج ہے۔ پردھان منتری نواز شریف کی سرکار طالبان سے شانتی وارتا کرنے کے حق میں ہے۔ اس شانتی وارتا کے لئے اس نے طالبان کی تمام شرطیں مان لی تھیں۔ یہاں تک کہ سرکاری کی طرف سے وارتا کا ر بھی ایسے چنے گئے تھے جو طالبان حمایتی مانے جاتے ہیں۔ فوج طالبان سے وارتا اور سمجھوتے کی مخالفت کررہی ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ پہلے پاکستانی طالبان کی طاقت کم کرنے کے لئے فوجی کارروائی ضروری ہے۔افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ خود پاکستانی سینا میں دو گٹ ہیں ایک گٹ طالبان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو دوسرا اس کے خلاف سخت فوجی کارروائی ضروری مانتا ہے۔ سرکار اب اگر شانتی وارتا جاری رکھتی ہے تو مانا جائے گا کہ طالبان کے آگے سرکار نے گھٹنے ٹیک دئے ہیں اور اگر طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرتی ہے تو ممکن ہے کہ طالبان اور زیادہ بڑے حملے ہیں۔کڑوی سچائی تو یہ ہے کہ پاکستان کا مقام آتنک واد سے متاثر دیشوں میں سب سے اوپر ہے۔ اس معاملے میں اس کی حالت عراق،سیریا اور افغانستان جیسے دیشوں کے جیسی نہیں بلکہ کچھ معاملوں میں ان سے بھی زیادہ خراب ہے۔ پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی کے 2013-18 کے مسودے کے مطابق وہاں 2001سے2013ء کے درمیان ہنسا کے 13721 واقعات ہوئے جو عراق میں ہوئے واقعات سے کچھ ہی کم ہے۔
پاکستانی اقتدار اعلی کے لئے اب طالبان بہت سنگین چنوتی بن گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ پاک فوج بھی اس سے مقابلہ کرنے میں اب اہل نہیں ہے۔بڑے پیمانے پر پاکستانی فوجی طالبان کے ہاتھوں مارے گئے ہیں جن میں ایک جنرل کے عہدے کا افسر بھی شامل ہے۔ دراصل پاکستان نے جو گرہ یدھ کے حالات بن رہے ہیں اس کے لئے آئی ایس آئی اور امریکہ دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔ آئی ایس آئی نے ان آتنکیوں کو پہلے سوویت سنگھ سے لڑنے کے لئے تیار کیا پھر بھارت کے خلاف ان کا استعمال کیا اورآج بوتل سے جن نکل چکا ہے اور سنبھالے نہیں سنبھل رہا۔ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے بیتاب ہورہا ہے ۔ امریکہ 13 سالوں میں طالبان کو کمزور نہیں کرپایا اب وہ افغانستان سے پنڈ چھڑاکر نکلنے کے لئے انہیں طالبانیوں سے سمجھوتہ کرنے میں جٹا ہے۔ بھارت کو بیحد محتاط رہنا ہوگا کیونکہ دونوں دیشوں کی سرکار سے ناخوش لوگ ایسے واقعات کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جیسے جماعت الدعوی کے سپریمو حافظ سعید نے کراچی ہوائی اڈے پر حملے کے لئے سیدھے مودی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پاکستان کی حالت اور بگڑنے کا امکان ہے کیونکہ امریکہ اسی سال افغانستان سے بھاگنے کی تیاری کررہا ہے۔
(انل نریندر)

12 جون 2014

کیا ہند۔ چین کے درمیان نیا باب لکھا جائے گا؟

نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے دو ہفتوں کے اندر چین کے وزیر خارجہ وانگ چی کا دورہ ہند اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے۔ کیا وانگ بھی نئی حکومت سے محض رابطہ قائم کرنے کی خانہ پوری کرنے کے لئے آئے تھے یا یہ ٹٹولنے آئے کہ نریندر مودی کی حکومت کا چین کے تئیں کیا موقف ہے؟ ہندوستان پہنچنے سے پہلے ایک ملاقات میں وانگ نے مودی کو چین کا دوست بتاتے ہوئے اس دورہ کا خاکہ بھی رکھ دیا اور کہا تھا کہ بھارت اور چین میں کافی یکسانیت ہے۔ چین بھارت کی ترقی کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس میں تعاون دینے کے لئے بے قرار ہے۔ چین بھارت کی نئی سرکار کے ساتھ کام کرنے کیلئے اتاولا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے فون پر بات چیت کی۔ چین نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اس کا خیر مقدم ہے لیکن ہندوستان چین پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔ پچھلے 10 سال میں ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کے زمانے میں چین کی فوج جب چاہے سرحد پار کر ہمارے علاقے میں کیمپ لگا کر بیٹھ جاتی تھی یا سرحد پر بن رہی ہماری سڑکوں تک کا بننابند کرادیتی تھی۔ جموں و کشمیر یا اروناچل کے لوگوں کو اپنے یہاں آنے کی اجازت ایسے شرائط پر دیتی تھی جو کہ بھارت کی سرداری پر سیدھا حملہ رہتا تھا۔ تعلقات بہتر بنانے کے لالچ میں چین کو ہم نے سب سے تجارتی سانجھیداری دی لیکن وہاں بھی اس کی منمانی جاری رہی۔ قریب40 ارب ڈالر کا سالانہ کاروبار خسارہ ہم ایسی ہی مجبوری جھیل رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں چین ساگر کے ویتنام والے حصے میں جب ہم نے تیل اور گیس کی تفتیش شروع کی تو چین کے جنگی جہازوں نے ہمیں وہاں سے نکالے جانے کی سیدھی دھمکی دے ڈالی۔ چناؤ کے دوران ایک ریلی میں نریندر مودی نے چین کو دبنگی سے باز رہنے کی وارننگ دے دی تھی۔ اس پر چین نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے کسی دیش کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کرنے کے لئے کبھی اپنی طرف سے نہیں اکسایا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر پرنب مکھرجی سے بات کرنے کے بعد کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان لمبی سرحد ہے جو مقرر نہیں ہے اس لئے وہاں پر اکثر وارداتیں ہوجاتی ہیں لیکن اس کا حل امن اور بات چیت سے ہی ہونا چاہئے۔ہماری کوشش ہوگی اس کا اثر ہمارے باہمی رشتوں پر نہ پڑے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاحوں کی آمدورفت بڑھانے کے لئے ویزا قاعدوں کو اور آسان بنانے پر بھی جلد ہی ایک نیا ویزا سمجھوتہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ سرحدی مسئلے کے حل کے لئے تیار ہیں لیکن جب تک یہ نہیں ہوتا تب تک بھارت اور چین سرحد پر امن اور استحکام بنائے رکھنے کے لئے عہد بند ہیں۔ بھارت کے ساتھ فوجی سانجھیداری کے رشتے کو مضبوط کرنے پر زور دیتے ہوئے چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ بھارت کی ترقی میں ہر طرح کا تعاون اور حمایت دینے کو تیار ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان اروناچل ہمیشہ تنازعے کا اشو رہا ہے۔ چین اروناچل پر اپنا حق جماتا ہے اور اس تنازعہ کے بارے میں وانگ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا حالانکہ اروناچل کولیکر کنٹروورسی ہے لیکن ہم نے وہاں کے لوگوں کو اسپیشل ویزا اس لئے دینے کی پالیسی اپنائی ہے کہ انہیں چین جانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ چین کی اس پالیسی سے اس علاقے کی سرداری کو لیکر مسئلہ کھڑا نہیں ہوگا۔ ہم اس اشو پر بات چیت کے لئے تیار ہیں ایک چین کی روایتی پالیسی کوقبول کئے بغیر نریندر مودی اس بگڑیل پڑوسی کو دیش کی طرف سے دو ٹوک پیغام دینے میں کامیاب رہے۔ اروناچل پر حق جتاکر بھارت کو مسلسل اکسانے والی حرکتوں کا جواب مودی نے بھی اسی انداز میں دے دیا۔ اروناچل کے نوجوان ایم پی کرن ریشیجو کو وزیرمملکت داخلہ کی کرسی پر بٹھا دیا گیااور سابق فوج کے سربراہ وی کے سنگھ کو نارتھ ایسٹ ریاستوں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں چین کے صدر ہوجنتاؤ بھارت آرہے ہیں تو ہمیں جہاں ان کا تہہ دل سے خیر مقدم کرنا چاہئے وہیں یہ بھی پوچھا جائے کہ پا ک کے قبضے والے کشمیر میں جس تیزی سے وہ اپنی فوج گھسا رہے ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ ہزاروں مربع میل کا ہندوستانی علاقہ چین نے دبا رکھا ہے اس کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔ چین کے نئے رویئے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ دونوں دیشوں کے تعلقات بہتر ہوں گی لیکن ہمیں چین کے قول اور فعل پر گہری نگاہ رکھنی ہوگی۔ چین پر پوری طرح سے بھروسہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...