Translater

12 جون 2014

کیا ہند۔ چین کے درمیان نیا باب لکھا جائے گا؟

نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے دو ہفتوں کے اندر چین کے وزیر خارجہ وانگ چی کا دورہ ہند اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے۔ کیا وانگ بھی نئی حکومت سے محض رابطہ قائم کرنے کی خانہ پوری کرنے کے لئے آئے تھے یا یہ ٹٹولنے آئے کہ نریندر مودی کی حکومت کا چین کے تئیں کیا موقف ہے؟ ہندوستان پہنچنے سے پہلے ایک ملاقات میں وانگ نے مودی کو چین کا دوست بتاتے ہوئے اس دورہ کا خاکہ بھی رکھ دیا اور کہا تھا کہ بھارت اور چین میں کافی یکسانیت ہے۔ چین بھارت کی ترقی کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس میں تعاون دینے کے لئے بے قرار ہے۔ چین بھارت کی نئی سرکار کے ساتھ کام کرنے کیلئے اتاولا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے فون پر بات چیت کی۔ چین نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اس کا خیر مقدم ہے لیکن ہندوستان چین پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔ پچھلے 10 سال میں ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کے زمانے میں چین کی فوج جب چاہے سرحد پار کر ہمارے علاقے میں کیمپ لگا کر بیٹھ جاتی تھی یا سرحد پر بن رہی ہماری سڑکوں تک کا بننابند کرادیتی تھی۔ جموں و کشمیر یا اروناچل کے لوگوں کو اپنے یہاں آنے کی اجازت ایسے شرائط پر دیتی تھی جو کہ بھارت کی سرداری پر سیدھا حملہ رہتا تھا۔ تعلقات بہتر بنانے کے لالچ میں چین کو ہم نے سب سے تجارتی سانجھیداری دی لیکن وہاں بھی اس کی منمانی جاری رہی۔ قریب40 ارب ڈالر کا سالانہ کاروبار خسارہ ہم ایسی ہی مجبوری جھیل رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں چین ساگر کے ویتنام والے حصے میں جب ہم نے تیل اور گیس کی تفتیش شروع کی تو چین کے جنگی جہازوں نے ہمیں وہاں سے نکالے جانے کی سیدھی دھمکی دے ڈالی۔ چناؤ کے دوران ایک ریلی میں نریندر مودی نے چین کو دبنگی سے باز رہنے کی وارننگ دے دی تھی۔ اس پر چین نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے کسی دیش کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کرنے کے لئے کبھی اپنی طرف سے نہیں اکسایا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر پرنب مکھرجی سے بات کرنے کے بعد کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان لمبی سرحد ہے جو مقرر نہیں ہے اس لئے وہاں پر اکثر وارداتیں ہوجاتی ہیں لیکن اس کا حل امن اور بات چیت سے ہی ہونا چاہئے۔ہماری کوشش ہوگی اس کا اثر ہمارے باہمی رشتوں پر نہ پڑے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاحوں کی آمدورفت بڑھانے کے لئے ویزا قاعدوں کو اور آسان بنانے پر بھی جلد ہی ایک نیا ویزا سمجھوتہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ سرحدی مسئلے کے حل کے لئے تیار ہیں لیکن جب تک یہ نہیں ہوتا تب تک بھارت اور چین سرحد پر امن اور استحکام بنائے رکھنے کے لئے عہد بند ہیں۔ بھارت کے ساتھ فوجی سانجھیداری کے رشتے کو مضبوط کرنے پر زور دیتے ہوئے چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ بھارت کی ترقی میں ہر طرح کا تعاون اور حمایت دینے کو تیار ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان اروناچل ہمیشہ تنازعے کا اشو رہا ہے۔ چین اروناچل پر اپنا حق جماتا ہے اور اس تنازعہ کے بارے میں وانگ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا حالانکہ اروناچل کولیکر کنٹروورسی ہے لیکن ہم نے وہاں کے لوگوں کو اسپیشل ویزا اس لئے دینے کی پالیسی اپنائی ہے کہ انہیں چین جانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ چین کی اس پالیسی سے اس علاقے کی سرداری کو لیکر مسئلہ کھڑا نہیں ہوگا۔ ہم اس اشو پر بات چیت کے لئے تیار ہیں ایک چین کی روایتی پالیسی کوقبول کئے بغیر نریندر مودی اس بگڑیل پڑوسی کو دیش کی طرف سے دو ٹوک پیغام دینے میں کامیاب رہے۔ اروناچل پر حق جتاکر بھارت کو مسلسل اکسانے والی حرکتوں کا جواب مودی نے بھی اسی انداز میں دے دیا۔ اروناچل کے نوجوان ایم پی کرن ریشیجو کو وزیرمملکت داخلہ کی کرسی پر بٹھا دیا گیااور سابق فوج کے سربراہ وی کے سنگھ کو نارتھ ایسٹ ریاستوں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں چین کے صدر ہوجنتاؤ بھارت آرہے ہیں تو ہمیں جہاں ان کا تہہ دل سے خیر مقدم کرنا چاہئے وہیں یہ بھی پوچھا جائے کہ پا ک کے قبضے والے کشمیر میں جس تیزی سے وہ اپنی فوج گھسا رہے ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ ہزاروں مربع میل کا ہندوستانی علاقہ چین نے دبا رکھا ہے اس کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔ چین کے نئے رویئے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ دونوں دیشوں کے تعلقات بہتر ہوں گی لیکن ہمیں چین کے قول اور فعل پر گہری نگاہ رکھنی ہوگی۔ چین پر پوری طرح سے بھروسہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

ایک طرف سورج کی مار تو دوسری طرف بجلی کٹوتی!

پورے شمالی ہند میں پچھلے کئی دنوں سے قہر کی گرمی پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں گرمی سے ہائے توبہ مچی ہوئی ہے۔ صبح اٹھتے ہی سورج تپنا شروع کردیتا ہے۔ دن چڑھتے چڑھتے اتنی تپش ہوجاتی ہے کہ سہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے غروب ہونے کے گھنٹوں بعد تک بھی گرمی کی تپش کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ چلچلاتی دھوپ اور آگ اگلتی سورج کی کرنیں اور گرمی سے پریشان لوگ ایتوار کے دن راجدھانی میں کچھ ایسا ہی محسوس کرنے کو اور دیکھنے کو ملا جب درجہ حرارت نے پچھلے62 سال کا ریکارڈ توڑتے ہوئے شہر کے پالم علاقے میں درجہ حرارت47.8 ڈگری سیلسیس تک ریکارڈ کیا گیا۔ تیز دھوپ اور لو کے تھپیڑوں سے گر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہوگیا۔ جیسے جیسے دن چڑھتا ہے سڑکوں پرعام زندگی ٹھہر سی جاتی ہے۔ کپڑوں سے سر ڈھکے لوگوں کا سڑک پر چلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مانا جاسکتا ہے گرمی کا موسم عام آدمی کے لئے زندگی محال کر دیتا ہے لیکن آبادی کے بڑھتے دباؤ اور ماحول میں گرمی پیدا کرنے والے انسانی سازو سامان کی وجہ سے سال در سال حالات بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔ گرمی سے بچاؤ کے وسائل پنکھا، کولر، ایئر کنڈیشن،فرج وغیرہ بجلی کی قلت کے سبب یہ سب بے معنی ہوتے جارہے ہیں۔چڑھتی گرمی کے درمیان بجلی کی کٹوتی نے دہلی کے شہریوں کا دن اور رات کی نیند اڑادی ہے۔ پچھلے10 دنوں سے چل رہا بجلی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں دو سے چھ گھنٹوں تک بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے۔ کہیں لوڈ شیڈنگ تو کہیں بجلی سازو سامان میں آرہی تکنیکی خرابی سے بجلی چلے جانے سے لوگوں کا جینا حرام ہورہا ہے۔ بجلی کی مانگ کے لئے لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ جگہ جگہ مظاہرے ہورہے ہیں، دھرنے دئے جارہے ہیں وہیں بجلی تقسیم کمپنیوں کا کہنا ہے پچھلے جمعہ کو آئی آندھری طوفان میں ٹرانسمیشن لائنوں اور ٹاور گرنے سے ڈسکام نیٹورکنگ سسٹم پر اثر پڑا ہے اور بجلی کی قلت سے دوچار دہلی کے لوگوں کو راحت دینے کے لئے دہلی کے تمام کاروباری مالس میں رات 10 بجے کے بعد بجلی سپلائی بند کردی جائے گی۔اس کے ساتھ ہی سرکاری دفاتر میں روزانہ ایک گھنٹے ایئر کنڈیشنر بند رکھے جائیں گے۔ دہلی دیش کا دل ہے اس لئے اس کے دل سے نکلی آواز دیش کے باقی حصوں کے لئے بھی ایک رہنما ہونی چاہئے۔ تمام ریاستوں کو اسی طرز پر بجلی کی فضول خرچی پرلگام لگانی ہوگی۔ بجلی بچانے کے اقدامات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ یہ کام کسی خاص موسم یا موقعہ پر نہیں بلکہ پورے سال کرنے ہوں گے تاکہ گرمی کے موسم میں بجلی اور پانی کی ضرورت کے حساب سے سپلائی ہوسکے۔گرمی میں آگ برساتے سورج پر تو انسان کا بس نہیں ہے لیکن جو قدم اس نے ان آفات سے نمٹنے کیلئے اپنے دم پر بنائے ہیں ان کا متوازن استعمال کہیں نہ کہیں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ماہرین اکثر دلیل دیتے ہیں کہ موسم کا اثر گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بدل رہا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے شہر سیمنٹ کے ہوچکے ہیں ،پیڑ کٹتے جارہے ہیں اس سے گرمی بڑھ رہی ہے لیکن 65 سال پہلے نہ تو کوئی گلوبل وارمنگ تھی اور نہ ہی پکے شہر بسے ہوئے تھے اور نہ ہی آبادی اتنی تھی تو پھر کیا وجہ تھی کہ 1952ء میں تقریباً اتنی ہی گرمی پڑی تھی؟
(انل نریندر)

11 جون 2014

گنگاکی صاف آبی لہر بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ مافیا بھی ہے!

یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ مودی سرکار کا مشن گنگا شروع ہوگیا ہے۔ گنگا کو پاک اور خوبصورت بنانے کے ساتھ اس کے ٹرانسپورٹ اور سیاحتی اور ماحولیاتی طور پر بہتر بنانے کے لئے مرکزی حکومت نے چار وزارتوں آبی وسائل، ٹرانسپورٹ، ٹورازم اور ماحولیات کو مل کر کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ آبی وسائل سکریٹری کی سربراہی میں ان چاروں وزاروں کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو ایک مہینے میں اپنی مفصل رپورٹ پیش کرے گی۔ پانی ہی زندگی ہے اور گنگا زندگی دینے والی ۔ اتراکھنڈ میں سمندر سے 14 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع گنگوتری گلیشیئرسے شروع ہونے والی یہ پوتر ندی خلیجی بنگال میں جاکر گرتی ہے۔دنیا کی بڑی ندیوں میں شامل گنگا بھارت کے ایک چوتھائی سے زیادہ جغرافیائی حصے کو اپنے پانی سے سینچتی ہے۔پانچ ریاستوں (اتراکھنڈ،یوپی، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال ) سے ہوکر گزرتی ہے۔ گنگا اپنی معاون ندیوں کے ساتھ دیش کے بڑے جغرافیائی حصے کے لئے سینچائی کا 12 مہینے کا ذریعہ ہے۔ ندی کی وجہ سے مچھلی صنعت بھی کافی پھل پھول رہی ہے۔ گنگا سیاحوں کو بھی اپنی طرف راغب کرتی ہے اور اس کے ساحل پر واقع ہری دوار، الہ آباد اور بنارس بڑے تیرتھ شہر ہیں۔ 25-25 کلو میٹرہے گنگا کی کل لمبائی۔190 فیصدی گنگا کا پانی سینچائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 40 ہزار لاشوں کا ہر برس گنگا کے کنارے پر انتم سنسکار کیا جاتا ہے۔17 بجلی گھروں سے حال ہی میں بجلی کی پیداوار ہوتی ہے اور 69 ہائیڈرو پاور پلان الکنندا اور بگھیرتی پر بنانے کی اسکیم ہے۔ دراصل گنگا کی پوتر تا اور اچھائیاں ہی اس کی دشمن بن گئی ہیں۔ لوگوں کی ناسمجھی اور غیر ذمہ دارانہ رویئے کی وجہ سے ندی میں مسلسل آلودگی کی وجہ سے کچھ مقامات پرتو اس کا پانی استعمال کرنے لائق بھی نہیں بچا ہے۔ یہ ندی مذہبی روایتوں کے ساتھ ساتھ اب صنعتی کچروں اور شہر سے نکلنے والے سینکڑوں نالوں کی گندگی نے دنیا کی سب سے بڑی اس پوتر گنگا ندی کی یہ حالت کردی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر روز گنگا میں 2 ارب لیٹر گندگی بہا دی جاتی ہے۔ گنگا کے کنارے بسے چھوٹے بڑے قریب 100 شہروں کے نالوں کا پانی بغیر صفائی کے گنگا میں ڈال دیا جاتا ہے۔ گنگا کو صاف کرنے ، پانی کو پینے لائق بنانا آسان کام نہیں ہے۔ سورگیہ راجیو گاندھی نے بھی گنگا ایکشن پلان بنایا تھا لیکن کچھ ٹھوس نہیں ہوسکا۔پہلی بار گنگا کی صفائی کے لئے نریند ر مودی کی میعادی پالیسی گنگا میا کے شردھالوؤں میں کافی خوشی ہے۔ مگر گنگوتری سے گنگا ساگر تک گنگا بھومی کو جوڑکر اس کا استعمال کرنے والے مافیاؤں میں کھلبلی ضرور مچ گئی ہے۔ یوپی ، بہار اور مغربی بنگال کی ہزاروں ایکڑ زمین ان مافیاؤں کے قبضے میں ہے اور ریاستی سرکار وں میں اس کی اچھی پیٹ ہے۔ گنگا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گنگا میں آلودگی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔وہیں گنگا کے مخالف عناصر بھی اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔ گنگا کی زمین میں مزدوروں کے چھوٹے بڑے گاؤں بسا دئے گئے ہیں۔ بڑے شہروں کے کنارے گنگا کی زمین پر مقامی لیڈروں و صنعتکاروں کے عالیشان بنگلے اور ڈیریاں اور فارم بن گئے ہیں اور اس سے نکلنے والی گندگی گنگا میں بہائی جاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گنگا صفائی مہم کے نام پر ریاستی سرکاروں نے جو حلف نامہ اور جو دلیل دی ہے وہ حقیقت سے پرے ہے۔گنگا صفائی کے نام پردیش ہی نہیں غیر ملکی انجمنوں نے بھی مودی سرکار کو اپنی حمایت دی ہے جس میں 80 ملکوں میں پھیلی آل انڈیا اور ورلڈ گائتری خاندان سب سے آگے ہے جس کے ہیڈ کوارٹر شانتی کنج، ہری دوار نے پچھلے جون میں مودی خود گئے تھے اور گنگا پر چل رہے کاموں کے لئے گائتری خاندان کے چیف ڈاکٹر پرنب پانڈیہ کی تعریف بھی کی تھی۔ سرکار ایسے سبھی اداروں کو بھی گنگا صفائی ابھیان میں شامل کرے گی جو گنگا کو پاک کرنے کیلئے کام کررہے ہیں۔ اس سے سرکار کو گنگا مافیہ کے خلاف عام جنتا سے حمایت ملے گی۔ کیونکہ جب تک ان مافیاؤں کو گنگا کی سرزمین سے نکالنا نہیں جائے گا تب تک گنگا کے پانی کی صاف ستھری لہر کا تصور پورا نہیں ہوسکتا۔ گنگا ایکشن پلان کو قطعی شکل دینے سے پہلے وزارت نے ایک سیٹیلائٹ سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے بعد ریاستی سرکار وں سے گنگا مافیاؤں کے تئیں نرمی کو لیکر ان سے جواب طلب کیا جائے گا۔
(انل نریندر)

10 جون 2014

ارون جیٹلی کے پہلے بجٹ سے زیادہ امیدیں نہ لگائیں!

نریندرمودی 30سال بعد ایک ایسی پارٹی کی حکومت کے وزیراعظم بنے ہیں جس کے پاس مکمل اکثریت ہے ملک کے عوام نے واضح اکثریت دے دی ہے تو اس نے نئی حکومت سے بہت زیادہ امیدیں بھی لگا رکھی ہے چناؤ کمپین کے دوران عوامی ریلیوں میں سرکار کا ایجنڈا پیش کیا تھا جس پر اب عمل کی باری ہے مودی کو گجرات کی خوشحالی کا عمل بردار مانا جاتا ہے ان کے سامنے دیش کی معیشت کوپٹری پر لانا، مہنگائی پر قابو پانا ، روزگار کے مواقع بڑھانے جیسے چیلنج ہے مودی حکومت کا پہلا بجٹ جولائی میں آئے گا پیشے سے وکیل وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو بنایا گیا ہے جوڑ توڑ کی سیاست میں ماہر جیٹلی اب مالی سیکٹر میں کیسے جوڑ توڑ میں ماہری دکھاتے ہیں یہ تو بجٹ سے پتہ چلے گا مودی حکومت کے لئے سب سے بڑی چنوتی ہے مہنگائی پر قابو پانا۔ دیش کی عوام سب سے زیادہ پریشان اور لاچار ہے مسلسل بڑھتی مہنگائی سے ۔ یوپی اے سرکار کی ہار میں سب سے بڑی وجہ یہ ہی تھی مودی سرکار نے مہنگائی نہ روکنے کے بہانے رکھے جسے پچھلی سرکار کی دین تھی تو عوام کا اس کا اچھااشارہ نہیں جائے گا مہنگائی پر پوری طرح قابو پانا ہے معیشت کا برا حال ہے مودی معیشت کو کیسے سدھاریں گے ان کی بھی اسکیموں کا ہمیں پتہ چلے گا۔ ان کے بجٹ سے سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے لئے انہیں ایسی اسکیم بنانی پڑے گی تاکہ دیش کے پھر سے دیش کی معیشت مضبوط ہوسکے۔ غیرملکی سرکاروں کا ہماری معاشی نظام پر بھروسہ بڑھے اور وہ ملک میں پیسہ لگانے کے لئے آگے آئیں دیش کی بڑی پریشانی یہ ہے کہ بڑھتی آبادی اور گھٹتا روزگار۔ نوجوانوں کا مودی کی غیرمتوقع جیت میں بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ ان کو امید ہے کہ ان کا مستقبل بہتر ہوگا۔ مودی ایک اندھیری سرنگ میں ایک کرن کی شکل میں سامنے آئے ہیں اور نوجوانوں نے انہیں سرپر بٹھا دیا ہے اس وجہ سے انہیں بہت امید ہے کہ نئے وزیراعظم روزگار کے سیکٹر میں بڑی کوشش کریں گے۔ سرکاری سیکٹرخالی اسامیاں بھرے گے۔ ایسے میں نئے مواقع ملے جس کے لئے انہیں نئی اسکیمیں بنانی ہوگی۔ اس کی جھلک انہیں بجٹ میں دکھانی چاہئے۔ صنعتی سیکٹر اہم ہے اور صنعتی دنیا میں وزیر خزانہ ارو ن جیٹلی کے ساتھ پچھلے بدھ کو پہلی ملاقات میں ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لئے ماحول بہتر بنانے کی اطلاعاتی مورچے پر ٹھوس پہل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ وزیرخزانہ کے ساتھ بجٹ سے پہلے منعقدہ ایک روایتی ملاقات میں صنعتی دنیا کے سربراہوں نے سب سے پہلے پچھلی تاریخ سے ٹیکس ترمیم کے اشو کو سلجھانے کو کہا ہے کیونکہ پچھلی سرکار نے پچھلی تاریخ کی ترمیم کی تھی صنعتی دنیا کے سربراہوں نے اس بات پر زور دیا ہے سرکاری خزانہ کو مضبوطی کے ساتھ اگر دوسری اقتصادی اصلاحات کو بڑھاوا دیا گیا تو اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھے گی۔ برآمد سیکٹر پر سروس ٹیکس کی چھوٹ دیئے جانے پر بھی زور دیا ہے۔ دیش کی 70 فیصدی آبادی زراعت منحصر ہے لیکن مہنگی ہوتی کھیتی اور سڑتی فصلیں اور پیداوار کی خاطر خواہ قیمت نہ ملنے کے سبب کسان خودکشی کررہے ہیں۔ کھیتی باڑی کو کسانوں کے لئے فائدہ مند بنانا ہوگا۔ زراعی پیداوار کے لئے ایک میکنیزم طے کرنے کی پالیسی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ساری توجہ اس بات پر ہونی چاہئے زراعتی سیکٹر میں پیداوار بڑھے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ وزیرخزانہ مہنگائی روکنے کے لئے بڑے قدم اٹھائے۔ خاص کر سپلائی سیکٹر میں توجہ دینی ہوگی۔ اس لئے زرعی سیکٹر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سنیچائی اسکیم ندیا جوڑوں اسکیموں پر توجہ دینی ہوگی۔ واقف کاروں کاکہناہے جٹیلی کے پہلے بجٹ میں زیادہ امید نہ رکھے۔ خود وزیر خزانہ ار ون جیٹیلی کاکہنا ہے پچھلی حکومت دیش کو بری حالت میں چھوڑ گئی ہے۔ایسے میں زیادہ افراد زر بڑھا ہوا ہے جی ڈی پی 5فیصد سے کم ہے ایسے کچھ زیادہ ممکن نہیں ہے وزیراعظم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانا ان کی سرکار کے لئے بڑی چنوتی ہے مودی سرکار نے اس کے لئے مورچہ بندی شروع کردی ہے ۔ اس کے تحت سنیچر کو کیبنٹ سیکریٹری اجیت سیٹ کی سربراہی میں بڑے افسروں نے موجودہ مالی صورت حال کے ساتھ ساتھ مانسون میں تاخیر اور افراد زر پر پڑنے والے اثر سے نپٹنے کے لئے تیاریوں کاجائزہ لیا۔ نریندر مودی کے پہلے بجٹ پر پورے دیش کی نظر لگی ہوگی۔ جنتا کو امید ہے اس سرکار کی ترجیحات مہنگائی روکنا ترقی بڑھانا اور سرکاری خزانے خسارے پر قابو رکھنا۔

 (انل نریندر)

مودی کے دورہ امریکہ سے دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ہوں گے

کہاوت ہے کہ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے نریندر مودی کو اپنی سرزمین پر پاؤں رکھنے کی اجازت تک نہ دینے والا امریکہ اب انہیں لال قالین پر بیٹھانے کی تیاری کررہا ہے۔ صدر براک اوبامہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر آخری ہفتے میں امریکہ جانے کا اراداہ کرلیا ہے۔ انہیں دنوں میں اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس نیویارک میں ہونا ہے امکان ہے کہ وزیراعظم کی حیثیت سے مودی بھی اس موقعے پر موجود رہیں گے اس سالانہ اجلاس کے دوران امریکہ میں تمام غیرملکی سینئر لیڈروں کی بھیڑ ہوتی ہے اور تنازعوں سے بچنے کے لئے امریکی صدر عام طور پر کسی سے ا لگ سے ملنا پسند نہیں کرتے لیکن مودی کے معاملے میں یہ روایت توڑتے دکھائی دے رہے ہیں یہ وہی امریکہ ہے جس نے پچھلے کئی برسوں سے تک مودی کو ویزا تک دینے سے انکار کیا اور بار بار بے عزت کیا۔ اب اگر اوبامہ پلٹی کھار ہے ہیں تو اس میں امریکہ کا مفاد زیادہ ہے معاملہ سیدھے امریکی اقتصادی اور فوجی مفادات سے وابستہ ہے ہندوستان کا خوردہ بازار ، ڈیفنس سودوں اور ایٹمی بھٹیوں کا معاملہ امریکہ کو بے چین کررہا ہے پچھلے کچھ مہینوں میں امریکہ اور بھارت کے رشتوں میں گراوٹ آئی ہے۔ اور یہ کہہ کشیدگی کے حالات بنے ہوئے ہیں غلط نہیں ہوگا۔ اور کچھ وقت سے پہلے امریکہ میں تعینات ہماری سفارت کار دیویانی کھوبرا گڑے کے ساتھ جو برتاؤ کیاتھا اس سے دونوں ملکوں کے رشتوں میں تلخی بڑھ گئی تھی ہندوستانیوں کے لئے ایم ون ویزا کے معاملے میں امریکہ کاامتیاز صاف دکھائی دے رہا تھا وزیراعظم نریندر مودی کی سرکار عہدے سنبھالنے کے بعد تعمیراتی سیکٹر میں سرگرم امریکہ کی طاقت ور لابی نے ہندوستان مخالف رویہ میں تبدیلی کرلی اور اس دباؤ گروپ کو امید ہے کہ وزیراعظم مودی کے عہد میں بھارت اورامریکہ کے درمیان کاروباری رشتے نہ مضبوط ہوں گے بلکہ اقتصادی و اصلاحات میں نیا سدھار ہوگا۔ امریکہ کی تجاری انجمن کے چیرمین اور سی او جیم ٹیمس کاکہنا ہے کہ امریکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو امید ہے کہ بھارت امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات پٹری پر واپس آجائیں گے۔اچھے چل رہے رشتوں میں دیویانی کے تنازعے نے کافی تلخی بڑھا دی تھی ایسے میں مودی کے اقتدار میں آنا دونوں ملکوں کے ڈپلومیٹک حکام کی نیند اڑانے کے لئے کافی تھا لیکن فریقین نے بربادی دکھائی اور آپسی رشتوں کو نئی بلندی دینا ضروری سمجھا۔ دونوں ملکوں کے مفادات کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ بھارت امریکہ پرانی باتوں کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ نریندر مودی جب امریکہ جائے اور اوبامہ سے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بارے میں تبادلہ خیال کریں اور امریکہ کی نئی انترم سفیرکیتھرین اسٹیفینس نئی دہلی آکر اپناعہدہ سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے پچھلی سفیر نینیسی پاول کی جگہ ذمے داری سنبھالی ہے جو 22 مئی کو بھارت چھوڑ گئی ہے۔ نئی سفیر نے ہندوستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں کامیاب تبدیلی اور انسداد دہشت گردی کے اقدام پر غور اور فروغ قانون میں تبدیلی اور لوگوں کے آپسی رشتوں کو بہتر بنانے پر بھی کام کرنے کی بات کہی ہے جس کاہم خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں مودی اور اوبامہ دونوں میں ملکوں میں بھائی چارتی اورہر ممکن سیکٹر میں آپسی اشتراک بڑھائیں گے۔

 (انل نریندر)

08 جون 2014

یوپی میں بڑھتے جرائم اور بے حس اکھلیش سرکار!

اترپردیش میں نہ تو جرم کم ہورہے ہیں اور نہ ہی اکھلیش سرکار قانون و انتظام پر قابو پا رہی ہے۔جرم لگاتار بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ سرکار کہتی ہے کہ وہ ایسے معاملوں کو روکنے کے لئے کڑے قدم اٹھا رہی ہے لیکن عام لوگوں کے درمیان اس کا الٹا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عام جنتا کو لگتا ہے کہ پولیس جو کارروائی کررہی ہے وہ صرف دکھاوے کے لئے ہے۔مقدمے درج ہوتے ہیں تو ان میں کئی طرح کی خامیاں چھوڑ دی جاتی ہیں۔ اس کا فائدہ مجرموں کوملتا ہے۔پھر بدایوں کی رونگٹے کھڑے کردینے والی بربر واردات اور ریپ کے دیگر واقعات کو دیکھ کر وزیر اعلی اکھلیش یادو کے ساتھ ساتھ دیگر سپا لیڈروں نے جس طرح کے بیان دئے ہیں اس سے انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا ہے ۔ یہ بیان یہ ہی بتاتے ہیں کہ سپا نیتاؤں کو نہ تو اپنی بھول کا احساس ہے اور نہ ہی وہ یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ اترپردیش انتظامیہ کی چھوی کس طرح تار تار ہورہی ہے؟ یہ عام بات نہیں کہ امریکی وزارت خارجہ سے لیکر اقوام متحدہ کے چیف تک حیرانی جتا رہے ہیں۔اس پر اترپردیش کے وزیر اعلی یہ کہہ رہے ہیں کہ اس طرح کے واقعات تو سب جگہ ہوتے رہتے ہیں۔ پارٹی کے اعلی لیڈر رام گوپال یادو نے پردیش کی بدحال تصویر کا ٹھیکرا تو میڈیا پر ہی پھوڑتے ہوئے کہا کہ کئی جگہوں پر جب لڑکیاں اور لڑکوں کے رشتے سامنے آجاتے ہیں تب اسے بلاتکار کہہ دیا جاتا ہے۔ایسے واقعات راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں بھی ہورہے ہیں لیکن وہ سرخیاں نہیں بن رہیں۔ میڈیا پر کھیج اتارتے ہوئے ملائم نے کہاملزمین کے خلاف کڑی کارروائی کی جارہی ہے۔ آپ اپنا کام کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔ بدایوں کا واقعہ ملزمین کی ہمت کو بیان کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ پولیس نے کس طرح ملزموں کی طرح برتاؤ کیا۔ جن پولیس ملازمین کو متاثرہ پریواروں کی مدد کرنی چاہئے تھی وہ کہہ رہے تھے کہ’ دیکھو کہیں انہیں پیڑ پر تو نہیں لٹکا دیا گیا۔‘ یہ پہلی بار نہیں جب اترپردیش میں پولیس نے اپرادھیوں جیسا برتاؤ کیا ہو یا پھران کی طرفداری کی ہو۔ سیتا پور میں ایک بچی کے ساتھ ریپ ہوا اور اس کی بھی ہتیا کر لا ش پیڑ پر لٹکا دی گئی۔ پولیس نے ہتیا کا کیس درج کر جانچ شروع کی۔پریوار والوں کے کہنے کے باوجود ریپ کا کیس درج نہیں کیا گیا۔اس سے لوگوں میں غلط پیغام گیا۔ ان بڑھتے واقعات پر روک لگائی جائے۔ یوپی کی سپا سرکار اس کا کوئیتسلی بخش جواب نہیں دے رہی ہے۔اس کے الٹ سپا کے نیتاؤں کے عجیب و غریب بیان آرہے ہیں۔ اس سے لوگوں کا غصہ اور بڑھ رہا ہے۔ بدقسمتی سے اترپردیش ان ریاستوں میں اول ہے جہاں پولیس برسراقتدار پارٹی کی سیاسی برانچ کی طرح کام کرتی ہے اور خاص کر تب جب سماجوادی پارٹی اقتدار میں آتی ہے۔20 دنوں کے اندر یوپی میں 17 نابالغوں سے بالاتکار کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ 15 نابالغ لڑکیوں کوریپ کے بعد موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ 60سے65 فیصدی ریپ یوپی میں رفع حاجت جاتے وقت انجام دئے جاتے ہیں۔یوپی انتظامیہ کہیں بھی پھرتی کے ساتھ کام نہیں کر پا رہا ہے۔ ہر معاملے میں ڈھیلا ڈھالا رویہ ہے اس سے سر پھیروں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ہر طرح کے جرم لگاتار بڑ ھ رہے ہیں۔درجنوں جرم ایسے ہیں جو درج ہی نہیں ہوتے۔ پولیس تھانوں میں عام شہری جانا پسند نہیں کرتے۔لوک سبھا چناؤ میں سپا کی فضیحت ہوتے سب نے دیکھی ہے۔ اگر یہ ہی حال رہا تو ڈھائی تین سال بعد ودھان سبھا چناؤ میں کیا سپا کا وہی حال ہوگا جو دہلی ودھان سبھا چناؤ میں کانگریس کا ہوا تھا یا لوک سبھا چناؤ میں بسپا کا ہوا تھا؟اگر اکھلیش سرکار اب بھی نہیں جاگی تو اس کو انجام بھگتنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔
(انل نریندر)

ارے بھائی آپ کا کیا ہوگا؟

لوک سبھا چناؤ نتائج نے عام آدمی پارٹی کو بری طرح ہلایا ہی نہیں بلکہ اس کے وجود کے لئے بھی گہرا سنکٹ پیدا کردیا ہے۔چناؤ میں اپنی ہار اور اپنی حالت کا جائزہ لینے کے بجائے پارٹی کے اندرونی جھگڑے سب کے سامنے آگئے ہیں۔ ’آپ ‘ پارٹی کے کئی بڑے نیتا پارٹی چھوڑ گئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ اب کھل کر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ بری پرفارمینس کے لئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں۔ لگ بھگ پارٹی کے سبھی چہرے پارٹی سے کنارہ کر چکے ہیں۔ پہلے ونود کمار بننی گئے، پھر اشونی اپادھیائے الگ ہوئے، شاذیہ علمی اور کیپٹن گوپا ناتھ نے پارٹی چھوڑی ، اس کے بعد ہریانہ میں ہار کی ذمہ داری لیتے ہوئے سینئر لیڈر یوگیندر یادو نے پارٹی کے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا، اب آپ پارٹی کے دو سنستھاپک ممبر منیش سسودیا اور یوگیندر یادو کا ایک دوسرے پر الزام در الزام کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ منیش سسودیا نے یوگیندر یادو کو جو خط لکھا ہے اس کا مضمون سوالوں کی ایک پوری فہرست کھڑا کررہا ہے۔فی الحال دونوں لیڈر میڈیا سے بات نہیں کررہے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ کچھ بڑا ہونے جارہا ہے۔ یہ اہم اس لئے بھی ہے کیونکہ اس کا اثرآنے والے ودھان سبھا چناؤ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ پارٹی کے ایک اور اہم لیڈر کمار وشواس بھی پارٹی سے کنارہ کرنے کے موڈ میں نظر آرہے ہیں۔ لوک سبھا چناؤ میں امیٹھی سے اپنی ضمانت ضبط کرانے کے بعد سے وہ پارٹی پروگراموں سے غائب ہیں۔ دہلی ودھان سبھا چناؤ میں عام آدمی پارٹی کی28 سیٹوں پرحیرت انگیز جیت کی سب سے بڑی وجہ جس طرح اروند کیجریوال تھے اسی طرح لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کے بکھراؤ کی اہم وجہ بھی کیجریوال ہی ہیں۔دہلی میں اپنی مرضی کا لوکپال نہیں بنا پانے کے نام پر سرکار سے استعفیٰ دینا ان کا آتم گھاتی قدم تھا۔دراصل انہوں نے یہ سوچا کہ انا آندولن کی بدولت جس طرح وہ دہلی میں بازی مار لے گئے اسی طرح دیش بھر میں ان کے نام کا ڈنکا بج سکتا ہے اور اگر وہ100سیٹیں بھی جیت پائے تو تیسرے مورچے کی یا پھر کانگریس کی مدد سے مرکز میں بھی سرکار بنا سکتے ہیں۔ پر مودی لہر کے چلتے عام آدمی پارٹی ہوا میں اڑ گئی۔ 438 میں سے425 سیٹوں پر عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی جس طرح ضمانت ضبط ہوئی اس سے ان کے سامنے ساری زمینی حقیقت آگئی۔اروند کیجریوال نے اپنے ذاتی عزائم کو پارٹی کے ہتوں سے ہمیشہ اوپر رکھا۔ کیجریوال کو میڈیا کوریج کا اتنا لالچ ہے کہ وہ لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے پی ایم عہدے کے امیدوار نریندر مودی کے خلاف وارانسی سے چناؤ لڑ گئے۔ کیجریوال جانتے تھے کہ اس سیٹ پر چناؤ لڑنے سے انہیں دیش بھر میں میڈیا کوریج ملے گی لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ ان کی وشوسنیاتا زیرو ہو چکی تھی اور ان کی چھوی بھگوڑے کی بن گئی تھی۔ اس کے علاوہ کیجریوال نے حال ہی میں جیل جاکر اپنا قد بڑھانے کے چکر میں ایک بار پھر منہ کی کھائی۔ شکروار کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں جب جج صاحبہ نے ان سے کہا کہ آپ گڈکری سے سمجھوتہ کیوں نہیں کر لیتے اور کیس ختم کردیں تو کیجریوال نے کہا کہ میں معافی نہیں مانگو گا اور کیس لڑوں گا۔ کیجریوال کے جیل جانے سے ان کے حق میں کوئی ہمدردی کی لہر پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک بار پھر یہی پیغام گیا کہ وہ خود کو قانون سے اوپر سمجھتے ہیں۔ آخر کار ہائی کورٹ کی پھٹکار کے بعد وہ مچلکہ بھرنے کو راضی ہوئے۔ یہ ہی نہیں اس کے بعد تو انہوں نے کئی کیسوں میں بانڈ بھرے ہیں۔ جس عام آدمی پارٹی کو اپنے قیام کے بعد سے لاکھوں کروڑوں روپے کا چندہ مل رہا تھا وہ محض چند روپے میں سمٹ جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کے سمرتھکوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ آرہی ہے۔اب آکر پارٹی کا سب سے بڑا برین مانے جانے والے یوگیندر یادو سے سیدھا اٹیک عام آدمی پارٹی کی چھوی کو پبلک میں لگاتار گرا رہا ہے۔ اگر خفیہ آکلن پر یقین کریں تو کچھ نیتا اب عام آدمی پارٹی کے اندر صرف اس لئے کہ پارٹی ٹوٹے، بکھرے اور بکھرتی جائے۔ کیجریوال چند لوگوں کو ساتھ لیکر اکیلے رہ جائیں۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...