Translater

13 جون 2013

اصل لڑائی اڈوانی بنام مودی نہیں سنگھ بنام اڈوانی ہے

بھاجپا کے سرپرست اعلی لال کرشن اڈوانی کے پارٹی کے سبھی اہم عہدوں سے استعفے کولیکر پیدا بحران آخر کار منگل کے روز ان کے ذریعے اپنے استعفے واپس لئے جانے کے فیصلے کے بعد ختم ہوگیا۔ پارٹی کے قومی صدر راجناتھ سنگھ نے خود اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے اڈوانی کے ساتھ فون پر بات چیت کی اور بھاجپا کے پارلیمانی بورڈ کے فیصلے کو مانتے ہوئے قومی مفاد میں پارٹی کا مارگ درشن کرتے رہنے کی اپیل کی تھی۔ دراصل یہ لڑائی یا تنازعہ اڈوانی بنام مودی سے شروع ہوا تھا۔ ہمیں نہیں لگتا یہ تنازعہ اڈوانی بنام آر ایس ایس ہے ۔ کچھ باتیں تحریرمیں لائی جانے والی باتیں نہیں ہوتی لیکن جو باتیں تحریر میں لائی گئی ہیں ان کے اپنے الگ معنی ہیں۔ اڈوانی نے اپنے استعفے میں کئی باتیں لکھی ہیں ان میں سب سے اہم اس کے نشانے پر پارٹی لیڈر شپ ہے۔’’ میرے لئے عرصے سے یہ مشکل ۔۔۔ پارٹی کس طرح کام کررہی ہے۔۔۔‘‘اڈوانی کے خط میں یہ لائنیں پارٹی کے کام کرنے کے طریقے اور آگے کی سمت پر سوال اٹھاتی ہیں۔ اڈوانی کچھ مہینوں سے پارٹی کے اندر چل رہے واقعات کو دیکھ اور سمجھ رہے تھے۔ صدر راجناتھ سنگھ کے کام کرنے کے طریقے کو ’’ڈبل گیم‘‘ کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ کئی طرح کی بحث کے باوجود دھرمیندر پردھان کو پھر سے پارٹی عہدہ دینا اپنے لوگوں کو سنگھ کے ساتھ مل کر بنوانا، گجرات میں سنگین الزامات سے گھرے امت شاہ کو جنرل سکریٹری بناکر اور پھر یوپی کا انچارج بنانا یہ سب سنگھ کی اجازت کے بعد ہی راجناتھ نے کیا ہے۔ بحث تو یہاں تک ہے کہ امت شاہ کو یوپی کا انچارج اس لئے بنایا گیا کے مودی کو بنارس سے چناؤ لڑنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس پیشکش سے مودی کو نارتھ انڈیا میں اینٹری دلانا ہے اور وارانسی کی قیادت کرتے رہے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی سیٹ کو بھی خطرہ ہے۔ اڈوانی نے کبھی بھی نریندر مودی کی مخالفت نہیں کی۔ اڈوانی سنگھ اور راجناتھ سنگھ سے ناراض ہیں۔ اڈوانی اس بات سے حیران تھے کہ مودی معاملے پر سنگھ نے یہ پروپگنڈہ کیوں کیا۔ اڈوانی ہوں یا نہ ہوں،مودی پر فیصلہ ہوگا۔ پارٹی کے بڑے نیتا کے بارے میں احترام اور صبر کی زبان کو ترک کرکے جو کچھ گوا اور دیگر مقامات پر کہا گیا اس کے بعد پارٹی میں رہنے کا مطلب کیا بنتا ہے؟ بھاجپا بھلے ہی اپنے روٹھے بابا کو منانے میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن لگتا ہے کہ سنگھ اب اڈوانی سے نجات چاہتا ہے۔ سنگھ کے معاون صدر سریش سونی کے کہنے پر بھی بھاجپا نے گوا کانفرنس میں نریندر مودی کو لیکرفیصلہ کیا جبکہ پارٹی کا ایک بڑا طبقہ چاہتا تھا یہ اعلان اڈوانی کی موجودگی میں ہو۔ سنگھ نے صاف کہہ دیا کہ اڈوانی کے اس قدم سے بھاجپا کو نقصان ہونا تھا وہ تو ہوہی گیا۔ اب اس کی بھرپائی نہیں ہوسکتی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سنگھ نے پچھلے دنوں کہہ دیا تھا کہ اڈوانی سے لیکر ڈاکٹر جوشی سمیت ان سبھی بزرگ لیڈروں کو چناوی سیاست سے ہٹ جانا چاہئے جن کی عمریں 70 سال ہوچکی ہیں۔ اس پر اڈوانی نے سنگھ سے کہا کہ وہ ابھی صحت مندہیں اور ان کے سیاست میں رہنے سے عمر کو کوئی جواز نہیں بنایا جانا چاہئے۔ دراصل سنگھ اور اڈوانی کے درمیان سانپ سیڑھی کا کھیل کافی عرصے سے جاری ہے۔ نتن گڈکری کی دوبارہ تاجپوشی میں اڈوانی کے رول کو سنگھ بھولا نہیں ہے۔ سنگھ کسی بھی قیمت پر بھاجپا کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ اڈوانی سمیت پارٹی کا ایک بہت بڑا گروپ بھاجپا کو سنگھ کے چنگل سے نکالنا چاہتا ہے۔ راجناتھ سنگھ سنگھ کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اڈوانی اور سنگھ کے خیمے کے درمیان اہم مذاکرات کاروں کے رول میں شامل پارٹی کے ایک سینئر نیتا کی مانیں تو ایک طرف سنگھ میں جہاں اڈوانی کو اس بات کے لئے راضی کرلیا کے وہ چناؤ کمیٹی کے علاوہ دوسری کمیٹی کی تشکیل کی مانگ کو چھوڑدیں گے ساتھ ہی گوا میں ہوئے فیصلے کا وہ سنمان کریں گے ۔ وہیں دوسری طرف سنگھ نے اڈوانی کو یقین دلایا کہ مستقبل میں پارٹی کے ذریعے جب بھی وزیراعظم کا امیدوار طے کیا جائے گا اس فیصلے میں ان سے رائے لی جائے گی اور ان کے بغیرآگے نہیں بڑھے گی۔ ساتھ ہی سنگھ کے چیف نے پارٹی صدر راجناتھ سنگھ کو صلاح دی کہ وہ پارٹی کے بزرگ لیڈروں کے مشورہ پر خاص توجہ دیں۔ رام لال کا رول اور سریش سونی کا طریقہ کار پر جائزہ لینے کی سنگھ نے اڈوانی کو یقین دہانی کرائی ہے۔اس پورے معاملے سے ایک بات تو صاف ہوگئی ہے کہ پارٹی کے اندر اور باہر جو لوگ اڈوانی کو ختم مان چکے تھے ان کو ایک بار پھر دکھا دیا گیا کہ ابھی پارٹی میں ان کو درکنار کرکے ایک طرفہ فیصلے کرنا آسان نہیں ہے۔
 (انل نریندر)

کیپٹن کوُ ل مہندر سنگھ دھونی کی سالانہ کمائی

بھارت میں کرکٹ کھلاڑیوں کی کمائی کا حساب نہیں۔ جو کامیاب ہیں یا اپنے کیریئر کو صحیح طریقے سے بھنانے میں ماہر ہے اس پر اوپر والا دولت کی ایسی بارش کررہا ہے جس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ میںیہاں خاص طور پر ٹیم انڈیا کے کپتان مسٹر کول یعنی مہندر سنگھ دھونی کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی مفادات کے ٹکراؤ کو لیکر بیشک اس وقت تنازعات میں گھرے ہوں لیکن سب سے زیادہ کمائی کرنے والے دنیا کے 100 کھلاڑیوں میں وہ 16 ویں مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کی سالانہ آمدنی 3 کروڑ15 لاکھ ڈالر یعنی (179 کروڑ روپے ) ہے۔ وہ فارمولہ I- اسٹار فرنائینڈو اولانسو (3 کروڑ ڈالر) ٹینس بادشاہ ماواک جوکاوک (2.69 کرور ڈالر) تیز ایتھلیٹ اوزین بورڈ سے کہیں زیادہ آگے ہیں۔ بزنس میگزین فاربیس نے اپنے سالانہ سروے میں پچھلے ایک برس کی کمائی کی بنیاد پر یہ اعدادو شمار پیش کئے ہیں۔ گولف کے بے تاج بادشاہ امریکہ کے ٹائیگر ونڈس ایک بار پھر کمائی میں نمبر ون ہیں۔ ان کی سالانہ کمائی 7 کروڑ80 لاکھ ڈالر ہے جبکہ گرینڈ سلیم خطاب پر قبضہ کرنے والے سوئزرلینڈ کے راجرفیڈرر 7 کروڑ10 لاکھ ڈالردوسرے مقام پر ہیں۔ ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر کی کمائی 2 کروڑ20 لاکھ ڈالر ہے جس میں 1 کروڑ80 لاکھ ڈالر اسپانسر شپ سے اور 40 لاکھ ڈالر کی کمائی ایوارڈ رقم کی شامل ہے۔ کمائی کی دنیا کی100 بڑی کھیل ہستیوں میں صرف2 کرکٹر ہیں اور وہ دونوں ہندوستان سے ہیں۔ کبھی کبھی اتنے پیسوں کے ساتھ تنازعات بھی ہوجاتے ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی بھی ایک ایسے ہی تنازعے میں پھنستے جارہے ہیں۔ ان کے اوپر ایک نیا الزام لگ رہا ہے۔ ایک انگریزی اخبار کی خبر کے مطابق اسپاٹس مارکنگ فرم رتی اسپوٹ مینجمنٹ میں دھونی کی15 فیصدی حصے داری ہے۔ یہ کمپنی ٹیم انڈیا میں کھیلنے والے چار دوسرے کھلاڑیوں کا بھی انتظام دیکھتی ہے۔ کمپنی دھونی کے قریبی دوست اور کاروبار میں ساتھی ارون پانڈے چلاتے ہیں۔ یہ کمپنی ان کی کاروباری زندگی کو بھی دیکھتی ہے۔ یہ کمپنی کئی طرح کے کاروباری اداروں سے جڑی ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق کم سے کم دو معاملے میں مالکانہ اور مفادات کے ٹکراؤ کے حالات بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ چنئی سپر کنگ کے مالک سری نواسن کی کمپنی انڈیا سیمنٹرکس میں دھونی وائس پریسیڈنٹ ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مہندر سنگھ دھونی کی رتی اسپاٹس میں 15 فیصدی کی حصے داری ہے اسی وجہ سے مفادات کے امکانی ٹکراؤ کا سوال اٹھ رہا ہے۔ اس نے یہ بھی دعوی کیا کہ کمپنی آر پی سنگھ ،سریش رینا، رویندر جڈیجہ اور پرگیان اوجھا کا بھی انتظام دیکھتی ہے۔ ان میں جڈیجہ ،رینا اور چنئی سپرکنگ کے لئے آئی پی ایل میں کھیلتے ہیں۔ 2010ء میں دھونی نے رتی اسپاٹس کے ساتھ210 کروڑ روپے یعنی سالانہ 70 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ بھارتی کرکٹ میں سب سے مہنگا معاہدہ تھا۔ جب شری جگموہن ڈالمیا سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا مفادات کے ٹکراؤ کے اس معاملے پر چمپئن ٹرافی کے خاتمے پر جانچ کی جاسکتی ہے۔ اگر ان الزامات میں سچائی پائی گئی تو بی سی سی آئی اپنے قانون کے مطابق کارروائی کرسکتی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کے کرکٹ میں پیسہ آرہا ہے اور وہ دن جا چکے جب کسی بین الاقوامی کھلاڑی کے پاس دو بلے ہی ہوا کرتے تھے یا کھیل میں اچھا خاصا کیریئر چھوڑ کر کوئی پکی نوکری ڈھونڈ لیتا تھا۔ لیکن اس پیسے کے ساتھ جو برائیاں سامنے آئی ہیں وہ اس خوشی کو کم کرتی ہیں۔ کھیل کا کمرشل ہونا کوئی برائی نہیں ۔تجارت کے ساتھ پیسہ آتا ہے جو کھیل کو اچھی طرح چلانے کیلئے ضروری ہے لیکن جو کاروبار ہو وہ صاف ستھرا ہو۔ اچھے کاروبار کے اقتصادی اوراخلاقی تقاضوں کے مطابق ہو۔ دھونی اچھے کھلاڑی ہیں، اچھے کپتان ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن متنازعہ بورڈ چیئرمین این سری نواسن کے ساتھ ان کے کاروباری رشتے و رتی اسپاٹس سے ان کی سانجھیداری کو لیکر اٹھے سوالوں کا دیش کی جنتا جواب ضرور چاہے گی۔

 (انل نریندر)

12 جون 2013

نریندر مودی نے پہنا کانٹوں کا تاج اندر باہر دونوں جگہ چنوتیاں

آخر کاروہی ہوا جس کی امیدکی جارہی تھی۔ بی جے پی میں نریندر مودی کا طوفان کسی سے روکے نہیں رک رہا اور گوا میں چناؤ مہم کی کمان گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو سونپ دی گئی ہے۔ بھاجپا پر نریندر مودی نے جس طرح سے آر ایس ایس کے ذریعے حاوی ہوکر خود کو پارٹی کے آئندہ کے لیڈر کی شکل میں پیش کروایا ، اس پر تنازعہ کھڑا ہونا فطری ہی تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کے آج کی تاریخ میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں اگر کوئی کرشمائی چہرہ ہے تو وہ نریندر مودی ہیں۔ 2014ء کے چناؤ میں اگر بھاجپا کو 200 سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں لانی ہیں تو مودی کو آگے کرنا ہوگا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مودی سب کو ساتھ لیکر چلیں۔ اس سال کے آخر تک کئی اہم ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں۔ ان میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، دہلی وغیرہ شامل ہیں جن کے چناؤ کافی اہم مانے جارہے ہیں۔ ان انتخابات کا سیدھا اثر 2014ء کے لوک سبھا چناؤ پر پڑے گا۔ ان ریاستوں میں وہاں کی حکومتیں وزیراعلی کی ساکھ اور سرکار کی کارگزاری یہ وہ اہم نکتے ہوں گے جن پر ووٹر ووٹ دیں گے۔مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ میں شری شیو راج چوہان و ڈاکٹر رمن سنگھ کے کام پر ووٹ ملے گا وہاں مودی کے چہرے کا شاید ہی کوئی فائدہ ملے۔ اس نقطہ نظرسے مختلف بھاجپا حکمراں ریاستوں میں وہاں کے وزرائے اعلی کا رول بھی اتنا ہی اہم بن جاتا ہے جتنا قومی سطح پر نریندر مودی کا ہے۔ انہیں برپائی کرنا بھاری پڑ سکتا ہے۔ ہر چناؤ سے پہلے ایسی کمیٹی قائم ہوتی ہے اور اسکی کمان کسی بڑے نیتا کو سونپی جاتی رہی ہے لیکن یہ پہلی بار چناؤ مہم کی قیادت والا معاملہ شدید بحران اور تنازعات کے ماحول میں طے ہوا۔ یہ بھی شاید پہلی بار ہوا کہ لال کرشن اڈوانی ایگزیکٹو کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں مودی کو ابھی سے وزیراعظم کے عہدے پر امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی پارٹی کے اندر چل رہی کوششوں سے اڈوانی خیمہ خفا ہے۔ حالانکہ جس چالاکی سے راجدھان سنگھ سنگھ کے اشاروں پر مودی کو چناوی کمان دے کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اس عہدے کی دوڑ میں مودی کی ٹکر کا کوئی اور لیڈر نہیں ہے اور اسکی مخالفت اب سامنے آرہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے پرائیویٹ لمیٹڈ نہیں جہاں کچھ لوگ اپنی مرضی سبھی پرزبردستی تھونپ سکیں۔ اس حساب سے تو کانگریس اور بھاجپا دونوں ہی یکساں ہوجائیں گی۔ جہاں ایک طرف سونیا گاندھی پر ہر بات کا فیصلہ چھوڑا جاتا ہے وہیں بھاجپا میں اب نریندر مودی کریں گے۔ برسوں سے کڑی محنت اور مشقت کرنے والے لیڈروں کو یوں نظر انداز کرنابھاجپا کے مفاد میں نہیں ہے۔ سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہئے اور یہ نظریہ نریندر مودی میں نہیں ہے۔ وہ عام طور پرہٹلر اسٹائل سے کام کرتے ہیں۔ کچھ معاملوں میں حالانکہ ایسے ہی اسٹائل کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کچھ میں سب کو ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ نریندر مودی اور اسکے حمایتی پری پول اتحاد سے فکرمند نہیں ہیں۔ چناؤ میں کون ساتھ آتا ہے یا نہیں اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں لگتی۔ وہ اس کی جگہ پوسٹ پول اتحاد میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا نظریہ صاف ہے پہلے بھاجپا اپنے دم خم پر اتنی سیٹیں تو لے آئے کے این ڈی اے وجود میں برقرار رہ سکے۔ ابھی سے نتیش کمار اینڈ کمپنی فکر کرنے لگے تو 2014ء کا لوک سبھا چناؤ کیسے لڑیں گے؟ اگر پارٹی اچھی تعداد میں سیٹیں لاتی ہے تو مختلف پارٹیاں اپنے آپ اس کے پاس سرکار بنانے کے لئے مدد کو آجائیں گی۔ راجناتھ سنگھ اورآر ایس ایس کولگتا ہے کہ مودی کی جو حال میں ساکھ اور مقبولیت بنی ہے اس کا فائدہ پارٹی کو مل سکتا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ درمیانے طبقے کے ساتھ نوجوان پیڑھی مودی کو ہی پسند کرتی ہے۔ راہل گاندھی ماڈرن ایج کے برعکس مودی ہی کھڑے ہوسکتے ہیں اڈوانی نہیں۔ بہرحال یہ نظریاتی ٹکراؤ کسی ایک شخص کو آگے بڑھانے سے ختم نہیں ہونے والا ہے۔ دونوں فریقین کی دلیلیں اپنی جگہ وزن دار ہیں لیکن بھاجپا کی بدقسمتی یہ ہے کہ اپنے نظریاتی بحرانوں کے سبب وہ ہمیشہ ایک ہی پریشان زدہ پارٹی کی شکل میں نظر آتی ہے۔ اس کے ورکروں اور جنتا میں غلط سندیش جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اتنے نامعقول حالات کے چلتے بھی بھاجپا اس کا فائدہ نہیں اٹھا رہی ہے۔ کانگریس کا حقیقی متبادل نہیں بن پارہی ہے۔ جنتا کی نبض پرکھنے والے نریندر مودی کو بھاجپا کی طرف سے صرف ذمہ داری ہی نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج ملا ہے۔ وہ بھاجپا کی اندرونی سیاست کے ساتھ ساتھ دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کے نشانے پر آگئے ہیں۔ گوا کے ایک ہوٹل میں چلے دو روزہ منتھن میں ایک نئے مودی کا جنم ہوا ہے۔ انہیں بھاجپا ورکروں و آر ایس ایس کی بہ نسبت زیادہ ذمہ داری ملی ہے لیکن اس ذمہ داری کو سنبھالنے میں انہیں بڑی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں اپنی پارٹی میں ان لیڈروں سے بھی چنوتی ملے گی جو برسوں سے وزیر اعظم بننے کے تمنا لئے ہوئے ہیں۔ وہ ہتھیار ڈالنے والے نہیں ہیں۔ مودی نے گجرات ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی کینٹین سے کام کی شروعات کی تھی اور آر ایس ایس سے جڑے ہونے کے سبب وہ کام چھوڑ کر سنگھ کے پرچارک بنے۔ پارٹی نے انہیں ہماچل کا انچارج بنایا اور پھر گجرات بھیجا اور وہ پارٹی کے جنرل سکریٹری بنے۔ کیشو بھائی پٹیل کو ہرانے کے بعد انہیں 2002 ء میں گجرات کا وزیر اعلی بنایا گیا۔ تبھی گجرات میں فسادات ہوگئے۔ اس وقت وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے انہیں ہٹانے کی تیاری کرلی تھی لیکن لال کرشن اڈوانی نے انہیں بچا لیا اور مودی مضبوط ہوتے چلے گئے۔ ہیرین پاٹھک کا ٹکٹ کٹوانے سے لیکرامت شاہ کو یوپی کی کمان سنبھالوانے تک نریندر مودی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے دل کی بات کرتے ہیں۔ وہ سیاست میں ایسے منجھے ہوئے سیاسی لیڈر ہیں جو اپنی ہی پارٹی کے نیتاؤں کا مستقبل کچلنے سے کتراتے نہیں۔ ان کے اس ہٹلری طریق�ۂ کار سے خود سنگھ اور آر ایس ایس بھی زیادہ خوش نہیں ہے لیکن ان کی مصیبت یہ ہے کہ ان تنظیموں کو اس میں اپنا اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے امید نظر آتی ہے۔ مودی کو آگے لانا بی جے پی کے لئے ایک صحیح قدم ہے یا غلط یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ مکمل طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ اب تک نریندر مودی کولیکر کنٹھا اور آشا کے مخالف معاملوں میں پارٹی اندر اندر گھل رہی تھی اس سے وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
(انل نریندر)


11 جون 2013

پھر کھٹائی میں پڑی اندرونی سلامتی کیلئے این سی ٹی سی کی تشکیل

دیش کی اندرونی سلامتی پر غو و خوض کے لئے بلائی گئی وزرائے اعلی کی میٹنگ سیاسی گھمسان میں بدل گئی اور بیحد افسوسناک اور بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس بات کی ضرورت تو سبھی مانتے ہیں کہ دہشت گردی سے کارگر ڈھنگ سے نمٹنے کے لئے قومی سطح پر ایک مشینری قائم کی جائے اس لئے کہ دہشت گردی ایک منظم کرائم ہے جس کے تار پورے دیش میں پھیلے ہوئے ہیں ،سرحد پار بھی ۔ مگر اس سمت میں این سی ٹی سی یعنی قومی دہشت گردی انسداد مرکز کے طور پر مرکزی وزرات داخلہ کی پہل کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ شاید ہی نکلے۔ اندرونی سلامتی کے مسئلے پر گذشتہ بدھوار کو مرکز کی جانب سے بلائی گئی وزرائے اعلی کی میٹنگ میں ایک بار پھر جس طرح سے ریاستوں کے اعتراض سامنے آئے اس سے لگتا ہے کہ این سی ٹی سی کی تشکیل فی الحال تو کھٹائی میں پڑتی نظر آرہی ہے اور شاید 2014ء کے لوک سبھا چناؤ سے پہلے اس کا قیام شاید ہی ممکن ہوسکے۔ اس میٹنگ میں نہ تو انسداد دہشت گردی سینٹر یعنی این سی ٹی سی پر کوئی اتفاق رائے ہو پایا اور نہ ہی نکسلیوں سے کیسے نمٹا جائے اس پر کوئی ٹھوس حکمت عملی مرتب ہوئی؟ کیونکہ این سی ٹی سی کی کچھ شقوں پر کانگریسی وزرائے اعلی نے بھی اعتراض ظاہر کیا اس لئے مرکزی حکومت محض غیر کانگریس حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلی پر ہی الزام نہیں جڑ سکتی کہ وہ اندرونی سلامتی کے مسئلے پر سیاست کررہے ہیں۔ این سی ٹی سی پر ریاستوں کے اعتراضات کو قطعی بے بنیاد نہیں مانا جاسکتا۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے میٹنگ میں بنا لاگ لپیٹ کے سرکار اور کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا جہاں عشرت جہاں معاملے سے مڈ بھیڑ میں خود کو پھنسانے کا الزام لگادیا وہیں وزیراعظم کو بھی چیلنج کرڈالا کہ اگر آپ کو ہم سے لڑنا ہے تو سیاسی طور پر لڑیئے اس میں ایجنسیوں کا استعمال غلط ہے۔ مودی نے وزرائے اعلی کی بھری کانفرنس میں یہ کہہ کر سب کو حیرت زدہ کردیا۔ اپنی تقریر میں مودی نے اس کانفرنس کے انعقاد کے جواز کو ہی سرے سے مسترد کردیا۔ نکسلی و دہشت گردی پر سرکاری پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سیدھے کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قومی مشاورتی کمیٹی نے ماؤوادیوں کے ہونے کا بیان دے کر حکمراں مشینری پر سیدھا حملہ بول دیا اور انہوں نے کہا پچھلے 10 سال میں ایسے کئی اجلاس ہوئے لیکن وزرائے اعلی کی تجویز پر سرکار نے کیا کارروائی کی اس بارے میں دیش کے سامنے وائٹ پیپر لایا جانا چاہئے۔ پچھلے دنوں ہوئے نکسلی تشدد کے واقعے کے پس منظر میں انہوں نے یوپی اے سرکار کو ہی اس حالت کے لئے ذمہ دار ٹھہرادیا۔ انہوں نے تلخ انداز میں کہا جو لوگ نکسلیوں کے ساتھ جڑے ہیں انہیں کبھی پلاننگ کمیشن تو کبھی قومی مشاورتی کونسل میں رکھ لیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کے اس الزام کو بھی ہلکے سے نہیں لیا جاسکتا۔ دیش کی دو بڑی جانچ ایجنسیوں انٹیلی جنس بیورو اور سی بی آئی کو ایک دوسرے کے مقابلے کھڑا کردیا گیا ہے۔ مودی کے اس الزام کے پیچھے عشرت مڈ بھیڑ کانڈ ہے جس میں چند مبینہ دہشت گردوں کو پولیس نے مار گرایا۔ اس مڈ بھیڑ کی جانچ سی بی آئی کررہی ہے جبکہ جانچ کے دائرے میں آئی بی کے ایک سابق افسر بھی آگئے ہیں جن پر غلط اطلاع دینے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ وزیر خزانہ پی چدمبرم اس الزام کو سی بی آئی کے کام کاج میں مداخلت بتا کر مودی کی تنقید کررہے ہیں۔ دوسری طرف جب مودی نے دہشت گردی کے خلاف سخت قانون کی مانگ کی تو چدمبرم پوٹا اور ٹاڈا جیسے دہشت گرد انسداد قانون کا حوالہ دیکر بی جے پی کو اقلیتی مخالف بتاتے ہوئے کہا کہ اس کو لیکر کافی سیاست ہوئی تھی اور بعد میں انہیں منسوخ کردیا گیا ۔اب بتائیے کے اس اجلاس میں نکسلی اور ماؤوادی دہشت گرد جیسے پیچیدہ مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈا جارہا تھا یا آنے والے لوک سبھا چناؤ میں ووٹ بٹورنے کی سیاست جاری تھی۔ شکر ہے کہ آخر میں نکسلی متاثرہ ریاستوں کو یہ ہوش آگیا کہ وہ کس وجہ سے یہاں اکھٹے ہوئے ہیں۔ طے ہوا کہ نکسلیوں کی کمر توڑنے کے لئے ان کی حکمت عملی کا توڑ کیا جائے اور اس کے لئے جنگلوں میں تیندوپتے کی تجارت کو نجی ٹھیکیداروں کے ہاتھوں سے نکال کر سرکاری ہاتھوں میں دے دیا جائے ۔ بیشک بیڑی بنانے میں استعمال ہونے والے تیندوپتوں کے کاروبار میں لگے تاجروں سے نکسلی کافی پیسہ وصولتے ہیں لیکن سرکاری ہاتھوں میںآنے کے بعد اس پر کنٹرول ہونے کیا کیا گارنٹی ہے؟ کیا سرکار ی ملازم نکسلیوں کے گڑھ میں گھسنے کی ہمت دکھا پائیں گے؟
(انل نریندر)

یوپی حکومت کو مشتبہ دہشت گردی کیس واپس لینے پر عدالتی روک

اترپردیش کی اکھلیش یادو سرکار ووٹ بینک کی سیاست کے چلتے بار بار عدلیہ سے ٹکرا رہی ہے۔ تازہ معاملہ یوپی کے مختلف اضلاع میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف درج کیس واپس لینے کا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے پردیش میں ہوئے سیریل بم دھماکوں میں ملوث مبینہ دہشت گردوں کو ریاستی حکومت کے ذریعے رہا کرانے و مقدموں کو واپس لینے کی کارروائی پر انترم روک لگادی ہے۔ بنچ نے معاملے کی سماعت کیلئے ایک سینئر بنچ کو معاملہ ٹرانسفر کردیا ہے۔ لکھنؤ کی بنچ نے عرضی کو نظرثانی کے لئے قبول کرلیا ہے۔ جسٹس راجیو شرما ،مہندر دیال کی ڈویژن بنچ نے یہ حکم رنجنا اگنی ہوتری سمیت 6 وکیلوں کی جانب سے دائر عرضی پر اڈوکیٹ ہری شنکر جین کو سننے کے بعد دیا ہے۔ حکومت نے بنچ کے اس حکم پر ایک مختصر حلف نامہ پیش کیا جس میں دہشت گردی کے معاملوں سے جڑے 8 مقدموں کا حوالہ دیا گیا۔ سرکار کی جانب سے دلیل دی گئی کہ عرضی مفاد عامہ کی شکل میں نہیں مانی جاسکتی اسے خارج کیا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی کہا کہ اس میں سابق الہ آباد اور لکھنؤ میں دو معاملوں میں بنچ ایسی عرضیاں خارج کرچکی ہے۔ جواب میں عرضی گذار کے وکیل ہری شنکر جین نے کہا کہ ماضی گذشتہ میں دائر عرضیوں کے معاملے میں نہ تو مرکزی سرکار سے منظوری لینے کا اشو اٹھا اور نہ ہی بنچ نے اس پر غور کیا۔ ایسی صورت میں عرضی سماعت لائق ہے۔ عرضی گذار کی دلیل تھی کہ دہشت گردی سے جڑے ان مقدموں کو پردیش سرکار مرکزی حکومت کی منظوری کے بغیر واپس نہیں لے سکتی۔ یہ بھی کہا گیا کہ سرکار مذہبی بنیادپر بھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں لے سکتی صرف دلیل سننے کے بعد عدالت ہذا نے مقدمہ واپس لینے کی کارروائی روکنے کے احکامات دئے۔ ساتھ ہی کہا یہ معاملہ بیحد اہمیت کا حامل ہے لہٰذا بڑی بنچ میں سماعت کے لئے سونپے جانے کی منظوری الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مانگی گئی ہے۔ عرضی میں یہ بھی دلیل دی گئی کہ سیریل بلاسٹ معاملوں میں اے ٹی ایس نے کافی کوشش کر بہت سے دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ریاستی سرکار کا یہ کام غلط ہے اور اس سے دیش کی سلامتی اور ایکتا میں رکاوٹ پڑتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیض آباد، بنارس ، لکھنؤ کی عدالتوں میں اور دیش کے بہت سے شہروں جیسے ممبئی، احمد آباد، حیدر آباد اور کئی مذہبی مقامات پر دھماکے کرنے کے جرم میں گرفتار کئے گئے مبینہ دہشت گردوں کو بری کیا جانا قانون کی منشا کے خلاف ہے۔ جہاں ہم اترپردیش سرکار کے موقف سے متفق نہیں وہیں یہ بھی کہنا چاہیں گے کے عدالتوں کو ایسے معاملوں میں جلد فیصلے لینے چاہئیں۔ اگر کوئی بے قصور پولیس کے ذریعے زبردستی پھنسایا گیا ہے تو اسے انصاف ضرور ملنا چاہئے اور بھی جلد سے جلد۔ سالوں سال ایسے حساس معاملے لٹکے رہتے ہیں۔ تاریخ پر تاریخ پڑتی رہتی ہے اور آخر میں وہ بے قصور پائے جاتے ہیں یہ نہیں ہونا چاہئے۔ عدالتوں کو ایسے معاملوں میں چھوٹی چھوٹی تاریخیں دے کر معاملوں کو نپٹا دینا چاہئے۔ عدالت اتنا تو کرسکتی ہے کہ وہ ابتدائی دور میںیہ دیکھنے کی کوش کرے کہ پہلی نظرمیں وہ شخص دہشت گردی کی سرگرمیوں میں شامل لگتا ہے یا پھر زبردستی پولیس نے اسے پھنسایا ہے۔

 (انل نریندر)

09 جون 2013

گوروناتھ میپپن کے بعد اب شلپا شیٹھی اور راج کندرا؟

دہلی پولیس نے جمعرات کو یہ سنسنی خیز دعوی کیا کہ اسپاٹ فکسنگ معاملے میں راجستھان رائلس ٹیم کے مالک بھی شامل ہیں۔ راج کندرا نہ صرف سٹے بازی میں شامل تھے بلکہ اپنی ہی ٹیم پر سٹہ لگاتے تھے۔ خیال رہے کہ یہ دوسرا معاملہ ہے جب ٹیم کے مالک خود سٹے بازی میں ملوث ہوں۔ پہلا معاملہ چنئی سپر کنگ کے مالک اور سی ای او گوروناتھ میپنن کا ہے جب آئی پی ایل ٹیمپوں کے کرتا دھرتا ہی سٹے بازی میں ملوث ہوں تو پھر یہ امیدکرنا بے معنی ہے کہ وہ اپنی ٹیموں کے کرکٹروں پر نظر رکھ سکیں کہ کہیں وہ سٹے بازی کے کھیل میں تو شامل نہیں ہیں۔ اگر دہلی پولیس کی باتوں پر یقین کیا جائے تو دونوں میاں بیوی یعنی راج کندرااور شلپا شیٹھی سٹہ لگاتے تھے۔ پولیس نے یہ دعوی بدھوار کو راج کندرا اور ان کے دوست امیش گوئنکا سے پوچھ تاچھ کے بعد کیا ہے۔ راج کندرا اور امیش گوئنکا سے پوچھ تاچھ میں سامنے آیا کہ راج سیدھے طور پر 7 سٹوریوں کے رابطے میں تھے جبکہ دیگر 6 سے وہ اپنے ساتھی امیش کے ذریعے جڑے تھے۔ راج کندرا نے آئی پی ایل میچوں میں قریب3 سال سے سٹے بازی کرکے قریب 1 کروڑ روپے گنوائے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے خود پوچھ تاچھ کے دوران پولیس کے سامنے دیا۔ بتایا کہ وہ اکثر اپنی ٹیم کے حق میں ہی داؤ لگاتے تھے۔ سٹہ لگانے کی بات قبول کرنے کے بعد اب راج کندرا پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ وہیں پولیس جانچ میں پتہ چلا ہے کہ لندن میں پیدا راج کندرا جو این آر آئی بزنس مین ہے، بنیادی طور سے ان کے آباو اجداد پنجاب سے ہی تھے اور میچوں میں سٹہ لگانے کا ان کا شوق پرانا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ برطانیہ میں گھریلو اور قومی اور بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں سٹہ لگاتے رہے ہیں۔ راج برطانیہ میں بیٹھ کر اپنے بزنس پارٹنر امیش گوئنکا کے ساتھ سٹے بازی کا کھیل کھیلا کرتاہے۔ دہلی پولیس کے مطابق شلپا شیٹی نے بھی دہلی۔ کولکتہ میں ہوئے میچ میں سٹہ لگایا تھا۔ حالانکہ ابھی تو پولیس یہ کہہ رہی ہے کندرا کی گرفتاری کے لئے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جس کی بنیاد پر کندرا کو گرفتار کیا جاسکے۔ گلوبنگ ایکٹ کے تحت گرفتاری کے لئے پولیس کے پاس ریکوری وغیرہ ہونی چاہئے جو کہ پولیس کے پاس نہیں ہے۔ حالانکہ مستقبل میں گرفتاری سے انکار نہیں کررہی ہے۔ راج کندرا اس کے ساتھی امیش گوئنکا کے نام کا انکشاف پہلی بار سدھارتھ ترویدی نے بھی پوچھ تاچھ میں کیا تھا۔ اسپاٹ فکسنگ معاملے میں سدھارتھ کو اسپیشل سیل نے سرکاری گواہ بنا لیا۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹیم کے مالکوں نے کھلاڑیوں پر نظررکھی نہ بی سی سی آئی نے۔ شاید بی سی سی آئی کو بھی اس سے کوئی مطلب نہیں رہا ہوگا اس کے قاعدے قانون کی تعمیل ہورہی ہے یا نہیں؟ کیا آج بی سی سی آئی یہ دعوی کرسکتی ہے کہ آئی پی ایل ٹیموں کے ان دونوں ملکوں کے علاوہ دیگر کوئی اس طرح کے کام میں ملوث نہیں ہے؟ مشکل تو یہ ہے کہ بی سی سی آئی نے اپنی طرف سے اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے اس کی ساکھ گرتی ہو۔ بھروسے پر تھوڑی زک ضرور لگے گی۔ چیئرمین کو ہٹانے پر جس ڈھنگ سے لیپا پوتی کی گئی اس سے اس کے بھروسے پر اور دھکا لگا ہے۔ فی الحال تو یہ کہنا مشکل ہے کہ اسپاٹ فکسنگ کی جڑیں کتنی گہری ہیں لیکن اتنے لوگ شامل ہونے کی بات سامنے آنے سے یہ تو طے ہے کہ یہ کھیل لمبا ہے۔ بھلے ہی سٹے بازی اسپاٹ فکسنگ کی طرح سنگین جرم کے زمرے میں نہیں آتی لیکن یہ بھی قطعی طور پر منظور نہیں کے آئی پی ایل ٹیموں کے کنوینر یا مالک سٹوریوں کے ساتھ مل کر سٹہ کھیلیں اور اپنی ٹیموں پر سٹہ لگانے میں کوئی جھجھک نہ کریں۔ کھیل کے اس طرح کے کاروبار میں تبدیلی ہونے سے کرکٹ کے بھروسے پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ بی سی سی آئی کو نہ صرف آئی پی ایل کی بلکہ اپنے اور دیش کے بھروسے کو بحال کرنا ہوگا۔ بدقسمتی سے اس کے کہیں اور تار ابھی تک نظر نہیں آئے۔
(انل نریندر)

تیسری بار ہوئی میاں نواز شریف کی تاجپوشی

دیکھا جائے تو پاکستان کی پوری تاریخ میں جمہوری طریقے سے تبدیلی اقتدار ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ جس دیش میں فوج ہمیشہ اقتدار پر حاوی رہی ہو یہاں چناؤ جیت کر آنا میاں نواز شریف کی ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام کی جیت ہے۔قومی اسمبلی جیت کر نواز تیسری مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے ہیں جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ پہلے بھی وہ دو بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں لیکن دونوں بار کسی منتخبہ سرکار کو غیر جمہوری طریقے سے گرادیا گیا۔ موجودہ سیاسی ماحول کو لانے میں سابق صدر آصف زرداری کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ تمام تضاد اور سیاسی چال بازیوں کے درمیان انہوں نے پورے پانچ سال جمہوری سرکار چلا کر پاکستان میں جمہوریت کی بنیاد مضبوط کی۔ اب تک پاک فوج کے اقتدار میں بڑھتے اثر کو بھی کم کیا ہے۔ اس درمیان پاکستانی فوج اور اکثر اس کی شے پر کام کرنے والی وہاں کی عدالتوں نے پی پی پی حکومت کے راستے میں تمام روڑے اٹکانے کی کوشش کی تھی۔ اس کے دو وزیر اعظم عدلیہ کے حکم پر ہٹائے گئے پھر بھی سرکار چلتی رہی۔ پاکستانی سماج کے لئے یہ بات بہت بڑا کارنامہ ہے اور اس سے نکلے موقعے کا استعمال نواز شریف کو اپنی جمہوریت کی بنیاد اور بھی زیادہ مضبوط بنانے میں کرنا چاہئے۔ اس کے لئے ان کے پاس اچھی خاصی اکثریت ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے پاکستانی پارلیمنٹ میں حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان ابھی ویسی کوئی تلخی نہیں ہے جس کا استعمال وہاں کی جمہوریت مخالف طاقتیں بڑی آسانی سے کر لے جاتی تھیں۔ نواز شریف نے اپنی تقریر میں چار ترجیحات بیان کی ہیں۔ ان میں بجلی کا بحران دور کرنا، معیشت کا ڈھانچہ درست کرنا ان کی سب سے اولین ترجیح ہے ۔کرپشن دور کرنے، اندرونی سلامتی کے حالات بہتر بنانے کی بات بھی انہوں نے کی ہے۔ بھارت کے لئے پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونا ، وہاں کی سیاست میں ٹھہراؤ آنا اچھی خبر ہے لیکن چاہتے ہوئے بھی میاں نواز بھارت کے تئیں پاکستان پالیسی میں زیادہ تبدیلی نہ کرپائے۔ حلف لینے کے بعد اپنی تقریر میں غیر ملکی محاذ پر صرف چین کے ساتھ رشتوں کا ذکر کرنا اس کا واضح اشارہ ہے۔ امریکی ڈرون حملوں کا تو ذکر کیا ہی تقریر کے دوران انہوں نے بھارت کے ساتھ رشتوں کا معمولی سا بھی ذکر نہیں کیا۔ پاکستانی علاقے سے ہوکر پاکستانی بندرگاہ گوادر اور چین کے شنگ چیانگ علاقے کو جوڑنے والی سڑک اور پلے لائن کا بھی خاص طور پر ذکر کرنا یہ اشارہ دیتا ہے کہ پاکستان کا آج سب سے بڑا دوست چین ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت سے رشتوں کو لیکر پاک فوج اور جہادی تنظیموں کا سخت رویہ ہے۔ اس کے پیش نظر ہی نواز اپنی تقریر میں بھارت کے ساتھ رشتوں کا کوئی ذکر کرنے سے بچے۔ نواز نے خارجی اور وزارت دفاع کو اپنے پاس رکھ کر یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ خارجی اور دفاع پالیسی اپنے حساب سے چلائیں گے لیکن ہمیں شبہ ہے کہ ان دونوں معاملوں پر پاکستانی فوج کا فیصلہ آخری ہوسکتا ہے۔ ہم نواز شریف کو تیسری بار وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)


نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...