Translater

07 اپریل 2013

راہل گاندھی کا کنفیوژ، بے سمت مایوسی بھراخطاب

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی صنعتی انجمن سی آئی آئی کے سالانہ اجلاس میں کئی گئی تقریرکو بہت اہمیت دی گئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ یہ راہل گاندھی کا گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو جواب ہوگا لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ مجھے تو راہل گاندھی کی تقریر سے مایوسی ہی ہوئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کیا سی سی آئی کا اسٹیج ایسی سیاسی تقریر کے لئے صحیح اسٹیج تھا؟ آپ غریبوں کی بات دیش کے سب سے امیروں کے اسٹیج سے کررہے ہوں؟ پھر آپ تقریر سے کس کو سندیش دے رہے تھے ، اپنی سرکار کو یا پھر اپنی پارٹی کو؟ اگر آج کانگریس فیل ہورہی ہے تو اس کی ذمہ دار نہ تو اپوزیشن ہے اور نہ ہی عوام۔ آزادی کے 65 سال میں کانگریس پارٹی نے56 سال حکومت کی ہے۔ کل13 برس ہی غیرکانگریسی حکومتوں کا عہد رہا۔ اگر خامیاں ہیں تو وہ بنیادی طور پر کانگریس عہد کی ہیں۔ راہل گاندھی نے جو تقریر کی وہ محض ایک ویژن ہی مانی جاسکتی ہے۔ ویژن ہونا آدھی بات ہے لیکن اکیلے خواب دیکھنا اور سبز باغ دکھانے سے کام نہیں چلتا۔ آپ نے جن مسائل کو رکھا ہے ان کو صحیح کیسے کیا جائے گا ، اس کے بارے میں تو ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ آپ نے کوئی روڈ میپ نہیں دیا۔ ہاں بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر آپ ساتھ ساتھ مسائل کا حل بھی رکھتے۔ پھر آپ نے جو کہا اگر میں اسے ٹھیک سے سمجھ سکا ہوں تو آپ پورے پالیٹیکل سسٹم کو ہی بدلنا چاہتے ہیں۔لیکن یہ تلخ سچائی ہوسکتی ہے کے دیش کے سیاسی نظام پانچ ہزار ممبران اسمبلی و ممبران پارلیمنٹ چلا رہے ہیں لیکن اس بنیاد پر پارلیمانی نظام و جمہوریت کو مسترد نہیں کیا جاسکتا بلکہ راہل گاندھی سے پوچھنا چاہئے کہ پچھلے9 برسوں سے اقتدار میں ہونے کے باوجود ان کی سرکار و پارٹی کو عام آدمی کے مفاد میں قدم اٹھانے سے کس نے روکا ہے؟وہ عام آدمی کے ہاتھ میں طاقت دینے کی بات کررہے ہیں جبکہ ان کی حکومت سہولیتیں دے کر چناوی فائدہ اٹھانے پر ہی زیادہ بھروسہ کرتی ہے۔ راہل نے ترقی میںآرہی رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ان کا حل ہونا چاہئے لیکن وہ یہ نہیں بتا سکے کے کانگریس کی قیادت والی مرکزی سرکار پچھلے9 برسوں کے دوران وہ سب کیوں نہیں کرسکی؟ نہ ہی انہوں نے یہ بتایا کہ وہ خود بھی اس پوزیشن میں تو تھی ہی کے سرکار سے ان کا حل نکلوا لے۔ راہل گاندھی کی تقریر انہی کی لائنوں میں تھی جو راجیو گاندھی نے برسوں پہلے ممبئی میں کی تھی۔ راجیو نے تو کانگریس پارٹی کو اقتدار کے دلالوں کی پارٹی تک کہہ دیا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنے برسوں میں ان کی پارٹی میں کیا بہتری آئی ہے؟ کیا وہ اور ان کی ماتا شری اس پوزیشن میں نہیں تھیں کے ان کی پارٹی میں آئی گراوٹ کو روک سکیں؟ ایسی لوک لبھاونی باتوں سے ترقی سے محروم لوگوں کو متاثر تو کیا جاسکتا ہے لیکن انہیں کوئی راحت نہیں دی جاسکتی۔ کانگریس کے کئی سرکردہ لیڈر راہل بنام مودی لڑائی بتانے سے چوکتے نہیں لیکن بنیادی فرق کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔ نریندر مودی جارحانہ انداز میں خیالی باتیں کرتے ہیں اور دیش کو آگے کیسے بڑھایا جائے اس کی بات نہیں کرتے ، وہ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے کردکھایا ہے۔ نریندر مودی کے قول اور فعل میں فرق نہیں ہے کیونکہ وہ تیسری بار اسمبلی چناؤ جیت چکے ہیں۔ راہل تین ریاستوں کے چناؤ ہار چکے ہیں۔مودی کے نشانے پر مرکزی سرکار اور کانگریس پارٹی ہے جبکہ راہل کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ انہیں اپنی بات پرکھرا اترنا ہے لیکن ساتھ ساتھ اپنی پارٹی اور سرکار کو بچانا بھی ہے۔ راہل بدقسمتی سے آج جس جگہ پر ہیں وہاں سے وہ اقتدار کی سیاست کی برائیوں کو آسانی سے ختم نہیں کرسکتے۔ لیکن وہ تو کانگریس کے اس چلن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بھی نہیں دکھائی دئے جن میں اسمبلی چناؤ کے بعد باہری آدمی کو وزیر اعلی بنادیا جاتا ہے۔ راہل نے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں کہیں مہنگائی ،کرپشن، دہشت گردی، آتنک واد یعنی عام آدمی کو متاثر کرنے والے اشوز کی کوئی بات نہیں کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نظریئے میں اور موجودہ وزیرا عظم منموہن سنگھ کے نظریئے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ راہل نے کہا پریس والے مجھ سے پوچھتے ہیں کے آپ شادی کب کررہے ہو۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کے باس آپ پردھان منتری کب بن رہے ہو، کئی کہتے ہیں آپ پی ایم نہیں بن پاؤ گے۔ یہ سب غیر ضروری سوالات ہیں، ہوائی باتیں ہیں ۔اصل بات یہ ہی ہے کہ 1 ارب لوگوں کو خوشحال کیسے بنایا جائے تاکہ ان کے مسائل دور ہوں۔ ہم شادی کی بات سے راہل سے متفق ہیں۔ یہ ان کی ذاتی زندگی کا معاملہ ہے اس میں کوئی سوال جواب نہیں ہوسکتا لیکن وزیر اعظم بننا یا نہ بننا یہ تو اہم ہے۔
آپ کہتے ہیں پردھان منتری کی بات نہ کریں تو براہ کرم بتائیں کے اگر آپ وزیر اعظم بننا نہیں چاہتے تو ان مسائل کو کون دور کرے گا؟ جنتا ؟ اگر جنتا ہی ان کو حل کرنے میں اہل ہوتی تو دیش میں نہ تو ممبر پارلیمنٹ کی ضرورت ہوتی نہ اسمبلیوں سے لیکر گرام پنچایتوں کی ضرورت رہتی۔ سوال یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ خود راہل گاندھی بطور ایم پی پارلیمنٹ میں اب تک ان کا رول کیا رہا ہے اور وہ سوائے کلوتی معاملے میں ہم نے راہل کو ایک ہی اشو پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ کانگریسیوں کی طرف سے راہل کی تقریر کی چاہے جتنی واہ واہی کی جارہی ہو لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے خطاب میں کنفیوژن اور دیش کو موجودہ چیلنجوں سے نکالنے اور ایک نئے دور میں لے جانے کی کہیں بھی کوئی جھلک نہیں دکھائی دی۔ اب ان کی تقریر کا پارٹی سطح پر جیسے بچاؤ کیا جارہا ہے وہ نہرو گاندھی پریوار کو رہنما سمجھنے کی پارٹی کی ذہنیت کی ہی مثال ہے۔ ترقی اور معیشت کے نام پر لائیو(سیدھا) ٹیلی کاسٹ جو سیاسی بازی گری بحث کے مرکز میں لائی جارہی ہے اس سے شاید ہی کوئی سمت مل سکتی ہو۔ جیسا کے میں نے کہا کہ ہم راہل کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ہماری شبھ کامنائیں بھی ان کے ساتھ ہیں لیکن سی آئی آئی میں جو تقریر کی وہ مایوس کن تھی اور امیدوں پر کہیں کھری نہیں اترتی۔
(انل نریندر)

06 اپریل 2013

اقتدار کے دو مرکز کو لیکر دگوجے بنام جناردن میں گھمسان

اقتدار کے دو مرکز کے مسئلے پر کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ اپنے قدم واپس کھینچنے کو تیار نہیں ہیں۔ دگوجے سنگھ نے دوہرایا کے میں نے جو کچھ کہا ہے میں اس پر قائم ہوں۔ میں نے وہ آن ریکارڈ کہا ہے۔ اس تنازعے کو چھیڑتے ہوئے کانگریس سکریٹری جنرل اور میڈیا انچارج جناردن دویدی نے میڈیا سے کہا کانگریس صدر اور وزیر اعظم کے درمیان بہتر تال میل ہے اور دونوں کے بیچ جو رشتہ ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ شاید مستقبل کے لئے بھی وہ ایک مثال ہے۔ اس بیان کے بعد یہ قیاس آرائیاں لگنی شروع ہوگئی ہیں کہ یوپی اے ۔III کی صورت میں یہ تجربہ دوہرا سکتی ہے۔ دگوجے سنگھ اور جناردن دویدی کے پاور کے دو مرکز فیل یا فائد ے مند کی بحث نے سیاسی تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی مبصروں کا کہنا ہے کہ جنریشن چینج کے دور سے گذررہی ہے اور پارٹی خود کو تبدیلی کے لئے ابھی پوری طرح تیار نہیں کرپائی ہے۔ اس کا خاطر خواہ اثر نہ صرف پارٹی پر پڑ سکتا ہے بلکہ کہیں نہ کہیں یہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ساکھ پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ دراصل کانگریس بحرانی دور سے گذر رہی ہے۔ راہل کے جوش اور پرانے لیڈروں کے ہوش کے درمیان تال میل بٹھانے اور ان کے میعار کو بنائے رکھنے میں دقتیں صاف نظر آرہی ہیں۔ جہاں راہل اپنے حساب سے پارٹی کو نئے ویژن کے ساتھ آگے لے جانا چاہتے ہیں وہیں دوسری طرف دوسرا طبقہ تبدیلی کی رفتار کو لے کر فکر مند ہے۔ یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ اگر دگوجے سنگھ راہل گاندھی کے بھروسے مند ہیں وہیں جناردن دویدی سونیا گاندھی کے وفادار ہیں ،آخر ماجرہ کیا ہے؟ ان بیانوں کے پیچھے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟ پہلا اگر لوک سبھا چناؤ کے بعد کانگریس کو امید سے کم سیٹیں ملتی ہیں تو شاید راہل گاندھی وزیر اعظم بننا پسند نہیں کریں گے اور ایسے میں منموہن سنگھ یا ایسے دوسرے پاور سینٹر کی ضرورت پڑے گی جو سرکار کی باگ ڈور سنبھالے۔ ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ راہل اتحاد کی سیاست سے اتنے زیادہ مطمئن نہیں رہے ہیں وہ وزیر اعظم تبھی بنیں گے جب انہیں لگے گا کے وہ اپنے طریقے سے فیصلے لے سکیں گے۔ ایسے میں205 سے زیادہ سیٹیں آنے پر ہیں راہل گاندھی وزیر اعظم بننے کی سوچیں گے۔ کانگریس 2014ء میں لوک سبھا چناؤ کو راہل بنام نریندر مودی نہیں بنانا چاہتی۔ ایسے میں مودی بنام منموہن کا ہی متبادل کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ سونیا گاندھی بطور کانگریس صدر ناکام نہیں ہوئی ہیں۔ انہی کی وجہ سے یوپی اے 9 سال سے اقتدار میں ہے۔ اگر سونیا نہ ہوتیں تو کانگریس اتنے طویل عرصے تک اقتدار میں نہ رہتی۔ فیل اگر کوئی ہے تو وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ ہیں۔ ان کی اقتصادی پالیسیاں ، ان کی سرکار کی انتہائی خراب پرفارمینس کانگریس کو ڈوبا رہی ہے۔ اس نقطہ نظر سے دگوجے سنگھ صحیح کہہ رہے ہیں کہ اقتدار کے دو مرکز (منموہن اور سونیا) ناکام ہیں۔ پارٹی کو اندرونی جمہوریت کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ اچھا سسٹم ہے کے تنظیم اور سرکار کی کمان الگ الگ ہاتھوں میں ہے۔ این ڈی اے کے عہد میں یہ ہی سسٹم تھا۔ اٹل جی پردھان منتری تھے اور اڈوانی جی ڈپٹی وزیر اعظم۔ اٹل جی اپنے اتحادی ساتھیوں سے بہتر تال میل کے ساتھ کام دیکھتے تھے اسی لئے انہوں نے شری جارج فرنانڈیز کو اپنے ساتھ لگائے رکھا تھا۔ اڈوانی جی پارٹی کی تنظیم اور سرکار کی کارگذاری پر پوری توجہ دیتے تھے تبھی تو وہ جاکر کامیاب ہوئے۔ ایسا نہرو، شاستری، اندرا گاندھی کے وزیر اعظم کے عہد میں بھی ہوا تھا جب کانگریس کی کمان یو این دیور ، کامراج اور نیلم سنجیوا ریڈی سے لیکر شنکر دیال شرما سمیت کئی لوگوں کے ہاتھوں میں رہی البتہ نرسمہا راؤ اور راجیوگاندھی کانگریس کے دو پردھان منتری تھے جو اپنی پوری میعاد میں پارٹی کے صدر بھی رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سونیا ،منموہن کی جوڑی پارٹی کی اندرونی جمہوریت سے نہیں بلکہ سیاسی حالات سے پیدا ہوئی ہے۔ جس میں منموہن سنگھ بری طرح ناکام رہے ہیں۔ سوال اقتدار کے ایک مرکز کا نہیں ہے اجتماعی ذمہ داری کا بھی ہے جس کی موجودہ سسٹم میں کمی دکھائی پڑتی ہے۔ اس کے ساتھ کانگریس کو جلد ہی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کے کیا لوک سبھا چناؤ 2014ء اسی جوڑی کی قیادت میں لڑنا چاہتی ہے؟ حقیقت میں یہ صورتحال کانگریس کی پریشانی کو ہی دکھا رہی ہے جسے آج نہیں کل یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کون نمبر 2 کا ہے۔ راہل گاندھی کا رول چناؤ میں کس طرح کا رہے گا؟
(انل نریندر)

جیل میں بند مسلم لڑکوں کو راحت دینے کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں

مسلم فرقے میں اپنی پکڑ بنانے کی سمت میں قدم بڑھاتے ہوئے منموہن سنگھ سرکار نے طے کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے معاملوں میں ملزم بے قصور لڑکوں کے معاملوں کی سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے مطالبے پر غور کرے گی۔دہشت گردی کی سرگرمیوں کے الزام میں جیل میں بند بے قصور لڑکوں کے لئے انصاف کی مانگ کررہے لیڈروں اور ممبران پارلیمنٹ کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے بعد وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا ہم ان کے مطالبات پر غور کریں گے۔ مارکسوادی لیڈر اے بی بردھن کی قیادت والے اس نمائندہ وفد نے 14 نکاتی مانگوں پر مشتمل ایک میمورنڈم سونپا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بے قصور چاہے وہ کسی مذہب یا گروپ سے تعلق رکھتا ہو، زبردستی دہشت گردی کے الزام میں پولیس کو انہیں گرفتار نہیں کرنا چاہئے اور ایسے معاملوں میں عدالتی کارروائی جتنی جلدی ہوسکے ہونی چاہئے اور بے قصور رہا ہونے چاہئیں۔ لیکن سوال یہاں یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر یہ پہل جیلوں میں بند ایک فرقے کے لڑکوں کے لئے ہی کیوں کی جارہی ہے؟ کیا یہ راحت دیش کے ہر ایک شہری کو نہیں ملنی چاہئے؟ چاہے وہ کسی بھی ذات ،مذہب، فرقے یا خطے کا ہو؟ ہم نے تو ہمیشہ سے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق معاملوں کا جلد نپٹارہ ہونا چاہئے۔ برسوں لگ جاتے ہیں فیصلہ آنے پر۔ کئی کیسوں میں تو آخر میں جب فیصلہ آتا ہے تو ملزم بری ہوجاتا ہے ۔ تب تک وہ کئی سال جیل میں گذار چکا ہوتا ہے ۔ اس کی زندگی تو تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔ سرکار کی ٹائمنگ کو دیکھ کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ کیا یہ پہل 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر کی جارہی ہے۔ اس پہل سے تو یہ ہی اشارہ ملتا ہے کہ مبینہ گناہگارمسلم لڑکوں کو راحت دینے کے نام پر چناوی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ شبہ اس وقت پکا ہوجاتا ہے جب مرکزی حکومت نئے سرے سے پسماندہ مسلمانوں کو ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دینے کا عزم جتارہی ہے۔جہاں تک آتنک واد کے معاملوں میں بے قصور مسلم لڑکوں کو راحت دینے کی بات ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کئی مسلم نوجوان دہشت گردی سرگرمیوں میں ملوث جیلوں میں بند ہیں اور ان کے معاملے بھی قریب قریب ویسے ہی ہیں جیسے مسلم لڑکوں کے اور پھر صرف مسلم لڑکوں کے دہشت گردی سے متعلق الزامات کی ہی بات کیوں آج پورے دیش میں لاکھوں نوجوان جیلوں میں بند ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزام ثابت نہیں ہوسکے۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں ہزاروں قیدی موجود ہیں جنہیں زیر سماعت جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ کچھ معاملوں میں تو لوگ دہائیوں سے جیلوں میں ہیں آخر ایسے لوگوں کا خیال کیوں نہیں کیا جاتا؟ تہاڑ میں تو کچھ قیدی ایسے بھی ہیں جن کی کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں اور بس وہ ضمانتی نہ ہونے کے سبب تہاڑ میں سڑ رہے ہیں۔ سرکار کی منشا چاہے کچھ بھی ہو لیکن جنتا کے بیچ یہ ہی پیغام جائے گا کہ ایک بار پھر ووٹ بینک کی سیاست کی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

05 اپریل 2013

کیگ رپورٹ نے دہلی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا

دہلی اسمبلی میں بھارت کے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل (کیگ) کی 2013 کی جو رپورٹ آئی ہے اس سے دہلی سرکار کی کارگزاری پر کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ رپورٹ میں سرکار کی تمام اسکیموں سے نتیجے نہ آنے کے علاوہ جنتا کے پیسے کی بربادی کے لئے مختلف محکموں میں خالی پڑے عہدے اور کام کی دھیمی رفتار اور پروجیکٹ کے تعمیل نہ ہونے اور وصولی میں لاپروائی اور پلاننگ کی کمی اور منظوری ملنے میں لیٹ لطیفی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ منگلوار کو دہلی اسمبلی میں رکھی گئی کیگ رپورٹ میں سرکار کے جن محکموں ، پروجیکٹ اور اسکیم کے کھاتوں کی جانچ کی گئی ان پر اپنی رائے زنی میں کیگ نے کچھ اسی طرح کے الزام لگائے اور گنائے ہیں۔ دہلی میں عورتوں کو محفوظ بتانے والی دہلی کی وزیر اعلی خود اس معاملے میں ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑی ہیں۔ ایک طرف جہاں پولیس کے لئے پیسہ دیری سے جاری ہوا وہیں پولیس بھی 4.33 کروڑ روپے کا استعمال نہیں کرپائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ محکمے میں جم کر گھوٹالہ ہوا ہے۔نامناسب رعایتیں دے کر کمپنی کوفائدہ پہنچایا گیا ہے۔ یہ ہی نہیں سیویج مینجمنٹ میں بھی کم ہی کام ہوا ہے۔ دہلی جل بورڈ نے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد ایک ایم جی صلاحیت کا سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا۔ یہ ہی نہیں کام میں تاخیر ہونے پر ٹھیکیدار پر جرمانہ تک نہیں لگایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے جواہرلعل نہرو قومی شہری مشن کے تحت نشانوں کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ سرکار نے فیصلے لینے میں دیری کی جس کے چلتے جمنا ندی کے پل کی لاگت672 کروڑ روپے بڑھ گئی۔ کیگ کو 243 ایسے معاملے ملے ہیں جہاں الاٹ شدہ رقم کا 20 فیصدی سے زیادہ یا 5 کروڑ روپے سے زیادہ کا استعمال نہیں ہوا۔ 22 معاملوں میں تو 50-50 کروڑ سے زیادہ کی رقم بچ گئی۔ نو گرانٹس کی 42 اسکیموں میں 100 فیصدی رقم جوں کے توں بچی رہ گئی۔ ایسی کچھ اسکیموں میں شہری ترقی کے لئے 300.94 کروڑ روپے کی مدد رقم پاور کوبنائے رکھنے کے فنڈ کے لئے اکویٹی کے لئے200 کروڑ روپے کا انتظام تھا۔ جل بورڈ کو سیویج اور پانی سپلائی کے کاموں کے لئے70 کروڑ روپے ، سڑک بنانے کے لئے کارپوریشن کو50.6 کروڑ روپے کا قرض اور ضلع و دیگر سڑکوں کے لئے 50 کروڑ روپے دئے گئے تھے۔ ان اسکیموں پر 2011-12 کے مالی سال کے ختم ہونے تک پیسہ خرچ کرنا تھا لیکن وہ نہیں ہوا۔ دوسری طرف 2310 کروڑ روپے کی ٹیکس وصولی نہیں ہوسکی۔ ٹیکس وصولی سسٹم میں کم اندازہ اور چھوٹ کے نامناسب دعوؤں اور دیگر خامیوں کے چلتے سرکاری خزانے کو 2300 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ کیگ کا کہنا ہے دور اندیشی کی کمی کے چلتے یہ نقصان ہوا۔ سی اے جی نے دہلی سرکار کے ہسپتالوں کا بھی جائزہ لیا۔ 
مشرقی دہلی کے گوروتیغ بہادر اسپتال میں 2009-12 میں ایمبولنس کا استعمال مریضوں کی جگہ دوائیں لانے یا ڈاکٹروں کو ان کے گھر چھوڑنے یا لاشوں کو مردہ گھر لانے لے جانے یا بینک سے نقدی وغیرہ لانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ جس ایمبولنس کا استعمال مریضوں کے لئے کیا جانا تھا اس میں زندگی بخش آلات بھی ندارد تھے۔ دہلی سرکار کے سب سے بڑے لوک نائک ہسپتال میں 3 برس کے دوران مریضوں کو لانے لے جانے کے لئے ایمبولنس 1 ایک ہے جو 324 کلو میٹرہی چلی۔ جی ٹی بی ہسپتال میں مارچ2010 میں 7.17 کروڑ روپے کی لاگت سے سٹی اسکین مشین خریدی گئی۔ اس کو جولائی 2010ء میں قائم کیا جانا تھا لیکن مشین لگانے میں 20 ماہ کا وقت لگا۔ سی اے جی کی رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب اسی برس دہلی اسمبلی کے چناؤ ہونے ہیں۔ اپوزیشن اس رپورٹ کو خوب اچھالے گی۔ دہلی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ نے کہا کہ کیگ کی رپورٹ میں دہلی سرکار کے ہر ایک محکمے میں زبردست کرپشن اور بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں ،کمپنیوں و ٹھیکیداروں کی ملی بھگت اور مجرمانہ لاپرواہی ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا بھاجپا شنگلو کمیٹی، لوک آیکت، سی بی سی ، سی بی آئی کے ذریعے اجاگر کئے گئے اسکنڈلوں کے ساتھ سی اے جی کی رپورٹ کو بھی شامل کرکے دہلی سرکار کے خلاف چارج شیٹ تیار کرے گی ۔ اسے لیکر دہلی کی گلی گلی محلے میں جنتا کے دربار میں جائے گی اور اسمبلی چناؤ میں اسے اہم اشو بنائے گی۔
(انل نریندر)

ڈرگس کیس میں پھنستے جارہے ہیں ویجندر سنگھ

بیجنگ اولمپک میں تانبے کا میڈل جیتنے والے مکے باز ویجندر سنگھ منشیات معاملے میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ خیال رہے کہ کینیڈا کے باشندے مبینہ نشیلی ادویہ کے اسمگلر کہلو عرف روبی کو پولیس نے 3 مارچ کو گرفتار کیا تھا اور چنڈی گڑھ کے باہری علاقے میں واقع ان کے گھر سے 130 کروڑ روپے مالیت کی 26 کلو گرام ہیروئن ضبط کی تھی۔ ویجندر کی بیوی ارچنا کی کار کہلو کے مکان کے پاس سے پولیس نے برآمد کی تھی۔ یہیں سے ویجندر کا اس ڈرگس معاملے سے وابستہ ہونے پر سوالیہ نشان کھڑا ہوا ہے، جس پر جانچ شروع ہوئی۔ اس ڈرگس تنازعے کو ختم کرنے کی مہم کے تحت بھارت سرکار کے وزارت کھیل نے پیرکو قومی ڈوپنگ انسداد ایجنسی (ناڈا) کو فوراً اسٹار مکے باز ویجندر سنگھ کا ڈوپ ٹیسٹ (نشے کی جانچ)کرنے کی ہدایت دی۔ جن پر پنجاب پولیس نے ہیروئن لینے کا الزام لگایا ہے۔ناڈا کے ڈائریکٹر جنرل مکل چٹرجی کو بھیجے گئے احکام میں وزارت کھیل نے کہا کے میڈیا میں بیجنگ اولمپک میں تانبے کا میڈل جیتنے والے ویجندر کے ذریعے مبینہ طور سے ہیروئن لینے سے متعلق خبریں مایوس کن تھیں اس لئے انہیں ناڈا کو اس مکے باز کا نشہ ٹیسٹ کرنے کا حکم دینا پڑا۔ یہ حالانکہ ٹورنامنٹ کے باہر کی جانچ کرنے والی ایجنسی سے ہوگی۔ 
وزارت کے ذریعے جاری پریس ریلیز میں کھیلوں کا آئیکون کھلاڑی کے سلسلے میں اس طرح کی رپورٹ مایوس کن ہے۔ اس سے دیش کے دیگر کھلاڑیوں کا حوصلہ گرے گا۔ ویجندر نے ہیروئن لینے سے انکار کیا ہے اور اس تازہ معلومات کے سلسلے میں ان کی رائے نہیں لی جاسکی۔ پنجاب پولیس نے دو دن پہلے دعوی کیا تھا کہ ویجندر نے این آر آئی انوپ سنگھ کہلو سمیت ڈرگس اسمگلر سے ہیروئن حاصل کرنے کے بعد اس کا 12 بار استعمال کیا۔ پنجاب پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک کی گئی جانچ کے مطابق ویجندر نے 12 مرتبہ اور رام سنگھ نے قریب5 مرتبہ ہیروئن کھائی۔ کینیڈا کے باشندے اور منشیات اسمگلر کہلو عرف روبی 3 مارچ سے ہی پولیس حراست میں ہے۔ پنجاب پولیس کے ترجمان نے کہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ مکے باز رام سنگھ اور ویجندر سنگھ نے دسمبر2012 سے فروری 2013 کے درمیان کہلو اور ان کے ساتھی راکی سے نجی استعمال کے لئے ہیروئن لی تھی۔ ویجندر سنگھ کے معاملے کولیکر پیر کو فتح گڑھ صاحب پولیس کو جھٹکا لگا۔ پولیس نے ویجندر کے بال اور خون کے نمونے لینے کے لئے عدالت میں عرضی دائر کرنے کیلئے ضلع اٹارنی جنرل سے اجازت مانگی تھی لیکن اس نے یہ عرضی لوٹا دی۔ انہوں نے کہا کہ ویجندر کے خلاف کوئی کیس درج نہیں ہے اور نہ ہی انہیں ابھی تک گرفتار کیا گیا ہے ایسے میں ان کے بال اور خون کے نمونے نہیں لئے جاسکتے۔ پہلے پولیس ان پر مقدمہ درج کرے ،تبھی سیمپل لینے کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ویجندر سنگھ نے اپنے شاندار کیریئر پر دھبہ لگا لیا ہے۔ بالی ووڈ اور گلیمر کی دنیا نے انہیں تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک پرومسنگ باکسر کو اس حال میں دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ باقی کھلاڑیوں کے لئے یہ ایک وارننگ بھی ہے۔
(انل نریندر)

04 اپریل 2013

کینسر کے مریضوں کو سپریم کورٹ نے دی بڑی راحت

مریضوں کے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر کینسر کی دوا پر اپنا حق جمانے کی دلیل دینے والی سوئٹزرلینڈ کی کمپنی نورٹیز کو بھارت کی سپریم کورٹ نے زبردست جھٹکا دیا ہے۔ جو کئی معنوں میں تاریخی و دوررس نتائج والا فیصلہ سنایا ہے۔سوئس کمپنی کی اس عرضی کو خارج کردیا جس میں اس نے گلیویک دوا پر پیٹنٹ کے اختیار کا دعوی کیا تھا۔ ساتھ ہی ہندوستانی کمپنیوں کو اس کے سستے(جینیرک) ایڈیشن کو بنانے سے روکنے کی اپیل کی تھی۔ یہ کمپنی 7 سال سے گلیویک کو بھارت میں پیٹنٹ کرانے کی قانونی لڑائی لڑ رہی تھی اس پر دنیا بھر کی فارما کمپنیوں کی نگاہیں لگا تھیں۔ گلیویک دوا کو خون و کھال و دیگر طرح کے کینسر کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کمپنی کا دعوی تھا کہ گلیویک میں زیادہ میٹلک اجزا کا استعمال ہوا تھا جو نیا پروڈکٹ ہے لہٰذا کمپنی کو اس دوا کا پیٹنٹ ملنا چاہئے۔ دوسری دلیل یہ بھی دی گئی تھی کہ دوا میں صرف اجزا کا ہی مرکب نہیں بدلا ہے برسوں سے تحقیق ہوئی ہے اس لئے یہ ایورگریننگ پیٹنٹ کا معاملہ نہیں ہے۔ تیسری دلیل یہ تھی کہ ہمارا مقصد غریب مریضوں سے پیسہ کمانا نہیں ہے۔85 فیصد غریبوں کا علاج مفت ہوتا ہے۔ ہم انہی اصولوں کی بنیاد پرلڑائی لڑ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کے پیٹنٹ کا حق صرف اصل ایجاد پر ہی دیا جاتا ہے۔ ایک ہی ایجاد کو دوبارہ ایجاد نہیں مانا جاسکتا۔ ایمینیٹو میرولیٹ کوئی نہیں ایجاد نہیں ہے۔ اس کی جانکاری پہلے سے ہی موجود ہے ۔ صرف اس بنیاد پر پیٹنٹ نہیں مل سکتا فیصلے سے غیرملکی کمپنیوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جب جب نئی ایجاد ہوں گی پیٹنٹ کا اختیار ضرور ملے گا۔ یہ دعوی بھارتیہ پیٹنٹ قانون کے تحت مقرر تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ نورٹیز کی طرح فائجر اور روم ہولڈنگ اے جی جیسی کمپنیاں بھی پیٹنٹ کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے گلیویک پیٹنٹ کی عرضی کو خارج کرکے غریبوں کو بری راحت دی ہے۔ کینسر کی دوا عام طور پر سوا لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ اب یہ صرف 10 ہزار روپے میں ملنے کی امید ہے۔ اس تاریخی فیصلے کا عالمی دوا کاروبار پر دور رس اثر پڑنا طے ہے۔ اس کی اہمیت اسی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی دوا کمپنی نورٹیز کو گلیویک کا پیٹنٹ دے دیا جاتا ہے تو وہ ہمارے یہاں مریضوں سے ہر مہینے سوا لاکھ روپے تک وصولنے کے لئے آزاد ہوجاتیں جبکہ اس فارمولے کی سستی دوائیں محض 8سے40 ہزار روپے میں بازارمیں دستیاب ہیں۔ اصل میں یہ ایک بڑا کھیل ہے جس میں بڑی بین الاقوامی کمپنیاں پہلے سے موجود دواؤں میں معمولی ردو بدل کرکے یا پھر ان کا نام بدل کر انجام دیتی ہیں۔ جس گلیویک کے پیٹنٹ کے لئے دعوی کیا جارہا تھا وہ یعنی نئے فارمولے سے نہیں بنی بلکہ 15 برس پہلے بازار میں اتاری جاچکی دوا کی نئی شکل ہے۔ اس دوا کی مانگ کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کے نورٹیز دنیا بھر میں 4 ارب ڈالر کی گلیویک دوا فروخت کر چکی ہے۔ نورٹیز کمپنی نے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ فیصلہ مریضوں کے لئے بڑا جھٹکا ہے اس سے کینسر کی بیماری کے اسباب و علاج کے متبادل مہیا نہیں رہنے سے میڈیکل ترقی میں رکاوٹ آئے گی۔ لیکن ہم بھارت میں پیٹنٹ کے لئے دعوی کرتے رہیں گے۔ دوسری طرف اس فیصلے سے بھارت کے کینسر مریضوں کے لئے گلیویک جینیرک سیریز کو تیار کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ جینیرک(سستی) دواؤں کے دام پیٹنٹ دواؤں کی قیمتوں سے بہت کم ہوتے ہیں جبکہ یہ دوائیں بھی اتنی ہی کارگر ہوتی ہیں جتنی پیٹنٹ شدہ۔ نورٹیز کی گلیویک دوا کی ایک مہینے کی خوراک تقریباً1 لاکھ20 ہزار روپے بنتی ہے۔ وہیں ہندوستانی کمپنیوں کی جانب سے جینیرک دوا پر خرچ 8 سے10 ہزار روپے مہینہ ہی آئے گا۔
(انل نریندر)

دیپک بھاردواج قتل کیس میں دہلی پولیس کو شاندار کامیابی

ارب پتی بسپا لیڈر و ریئل اسٹریٹ کاروباری دیپک بھاردواج کے قتل کی گتھی میں دہلی پولیس کو شاندار کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ اس نے اس معاملے کو سلجھا لینے کا دعوی کیا ہے۔ پیر کو پولیس دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔پٹیالہ ہاؤس کوٹ کے باہر بنیادی ملزم پرشوتم اور سنیل کو پولیس نے گرفتار کیا ۔ دونوں قاتلوں کو پکڑنے کے ساتھ پولیس نے اس اسکوڈا گاڑی سمیت ڈرائیور اور مالک راکیش کو بھی دبوچ لیا ہے۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے پولیس حراست میں ہے۔ اس معاملے میں اب تک 4 لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ان ملزمان سے ہوئی پوچھ تاچھ کی بنیاد پر پولیس نے ان دو لوگوں کو بھی علی پور علاقے سے حراست میں لے لیا ہے جنہوں نے بنیادی ملزمان کو ہتھیار مہیا کرانے میں مدد کی تھی۔ حالانکہ انہیں ابھی سرکاری طور پر گرفتار نہیں دکھایا گیا ہے۔ کرائم برانچ نے دونوں کو پکڑ کر ساؤتھ دہلی پولیس کے حوالے کردیا۔ حالانکہ پولیس کیس کی گتھی سلجھانے کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن ابھی بھی قتل کے اسباب کا انکشاف نہیں ہو پایا۔ ویسے بنیادی ملزم تک پولیس کے ہاتھ نہیں پہنچ سکے۔ پولیس کی کرائم برانچ نے پچھلے ہفتے ساؤتھ دہلی کے راجوکڑی میں واقع نتیش فارم ہاؤس میں دیپک بھاردواج کو تین گولیاں مارنے والے مشتبہ حملہ آور پرشوتم رانا اور سنیل مان کو ڈرامائی انداز میں پکڑا۔ ان دونوں پر ہی دیپک کو مارنے کا شبہ ہے۔ دونوں شارپ شوٹر بتائے جاتے ہیں جنہیں دیپک بھاردواج کے قتل کے لئے ان کے کسی قریبی رشتے دار کے ذریعے سپاری دینے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ یہ دونوں پیر کو سرنڈر کرنے کے ارادے سے پٹیالہ ہاؤس کورٹ پہنچے تھے۔ پرشوتم گیٹ نمبر3 سے داخل ہوا لیکن پولیس اسے پہچان کر وہاں سے لے گئی اور اسی درمیان سنیل کسی طرح میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ پرشانت شرما کی کورٹ میں جاکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد مجسٹریٹ کے آنے پر سنیل کے وکیل نے سرنڈر اپلیکیشن دیتے ہوئے کارروائی کرنے کی اپیل کی لیکن عدالت نے اس کی سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ پولیس ملازمین سے سنیل و دیگر لوگوں کو باہر لے جانے کو کہا۔ باہر موجود کرائم برانچ کے پولیس ملازمین سنیل کو لے جانے لگے تو انہیں کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ دیپک بھاردواج قتل کیس میں بنیادی ملزم پرشوتم عرف مونو(30 سال) نے ہی گولیاں ماری تھیں۔ اس شوٹ آؤٹ میں مونو کا ساتھ سنیل مان (26 سال) نے دیا۔ علی پور کے چھوٹا شیوراج مندر کے قریب رہنے والا مان دہلی یونیورسٹی کے سوامی شردھانندکالج میں تھرڈ ایئر کا اسٹوڈنٹ رہ چکا ہے۔ اس اسکوڈا کے ڈرائیور کا نام امت مان بتایا جاتا ہے وہ جہانگیر پوری کا باشندہ ہے۔ یہ اس اسکوڈا کار کو چلا رہا تھا جس میں سوار ہوکر پرشوتم، سنیل قتل کرنے کے بعد فرار ہوئے تھے۔ دیپک بھاردواج کا قتل 26 مارچ کو ہوا تھا۔ دہلی پولیس اس قتل کانڈ کو ایک ہفتے میں سلجھانے کے لئے مبارکباد کی مستحق ہے۔ جلد یہ بھی انکشاف ہوجائے گا کہ سپاری کس نے دی اور کیوں دی؟
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...