Translater

03 اپریل 2013

نریندر مودی کی بڑھتی مقبولیت کاورلڈ میں بھی ڈنکا

چڑھتے سورج کو دیر سویر سبھی سلام کرتے ہیں۔ترقی کے بل پر گجرات میں تیسری بار جیت کا ڈنکا بجانے اور وزیر اعظم کی کرسی کی دوڑ میں سب سے آگے نظر آنے والے وزیر اعلی نریندر مودی سے میل جول بڑھانے کے لئے گذشتہ جمعرات کو خود امریکی ممبران پارلیمنٹ اور صنعت کاروں کا ایک نمائندہ وفد آگے آیا اور اس کے پہلے یوروپی یونین اور برطانیہ کے نمائندے ان سے ملاقات کر ان کی ترقی کا گن گان کرچکے ہیں۔ 3 امریکی ممبران پارلیمنٹ سمیت18 پارلیمانی نمائندہ وفد نے نہ صرف مودی سے ملاقات کی بلکہ انہیں امریکہ آنے کی بھی دعوت دی۔ ان ممبران نے یہ بھی یقین دلایا کہ وہ دیگر ممبران کے ساتھ امریکی انتظامیہ سے مل کر مودی کو ویزا دلانے کی کوشش کریں گے۔ یہ دعوت اس لحاظ سے بھاجپا اور مودی کے لئے لائق تحسین بات ہے کہ یوروپ کے بعد اب امریکہ میں بھی مودی کی اہمیت کو سمجھا جارہا ہے۔ کم سے کم اہمیت سمجھنے کی شروعات تو ہوہی رہی ہے لیکن واقف کاروں کا خیال ہے دعوت دینے کا مطب ویزا دینے نہیں ہے۔ کیا یہ ایم پی امریکی انتظامیہ کو مطمئن کر پائیں گے اس کا جواب وقت ہی دے پائے گا لیکن یہ صحیح ہے گجرات میں امریکی کاروباریوں کے لئے سرمایہ کاری کی کافی بھرپور امکانات کے بارے میں امریکہ میں لابنگ کی شروعات ہورہی ہے۔ سچ تو یہ ہے اس کا کوئی جواز نہیں کے ایک سے بڑھ کر ایک کٹر تاناشاہوں کو گلے لگانے والا اپنی سرزمین پر ان کی مہمان نوازی کرنے والا امریکہ اسبنیاد پر مودی کی مخالفت کرتا رہے کہ گجرات میں 2002ء میں جو خوفناک فساد ہوئے تھے انہیں روکنے میں مودی ناکام رہے تھے۔ ایک تو اس سلسلے میں نریندر مودی کو سپریم کورٹ سے کلین چٹ مل چکی ہے اور دوسرے وہ مسلسل تین بار بھاری اکثریت سے اسمبلی چناؤ جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دیش کی جنتا کا ایک بڑا طبقہ بھی امکانی وزیر اعظم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ حال ہی میں اپوزیشن لیڈروں میں ان کے بڑھتے قد کا کوئی اس وقت لیڈر نہیں ہے فی الحال یہ طے نہیں ہوا کہ مودی وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے دیگر ممالک ان ملکوں پر کسی طرح کی پابندی لگائیں۔ لیکن مودی کا نام آئے اور کانگریس اور اس کے حمایتی چپ بیٹھے رہیں؟ شکاگو سے شائع اخبار ’ہائی انڈیا‘ کے مطابق اس نمائندہ وفد میں شامل ہونے کے لئے امریکی تاجروں سے7 ہزار سے16 ہزار (قریب ڈیڑھ لاکھ سے8 لاکھ روپے) فی شخص سے پیسہ لیا گیا۔ قانون کے مطابق امریکی کانگریس کے ممبر کسی طرح کے تحفے یا سفر کے اسپانسر کو قبول نہیں کرسکتے۔ بھاجپا نیتا وجے جولی نے مودی سے امریکی نمائندہ وفد کے ممبران سے ملاقات کے نام پر پیسے لینے کی بات کو غلط بتایا ہے۔ انہوں نے کہا اس میں کوئی سچائی نہیں جبکہ کانگریس ترجمان شکیل احمد کا کہنا تھا اس واقعے سے صاف ہے کہ نریندر مودی امریکی ویزا پانے کے لئے اس قدر بے چین ہیں کے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔مودی کو دیش سے معافی مانگنی چاہئے۔ جہاں تک مودی کے سیاسی مخالفین کی بات ہے یہ افسوسناک ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نریندر مودی کو اچھوت بنانے کے لئے ان کی طرف سے کی جارہی سخت محنت کے باوجود گجرات کے وزیر اعلی کی مقبولیت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ امریکی ممبران نے جس طرح گجرات جا کر مودی کے درپر دستک دی اور انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی اس سے بھی نریندر مودی کی مقبولیت ہی بڑھے گی۔
(انل نریندر)

کوٹ لکھپت جیل میں ہندوستانی قیدی چمیل سنگھ کی موت کا معاملہ

پاکستان نے ایک بار پھر بربریت کی ساری حدیں پار کردیں ہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پاکستان کی کوٹ لکھپت جیل میں مارے گئے چمیل سنگھ کے جسم کے اندر کے سارے اہم اعضا نکالے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستان نے بھارتیہ قیدی چمیل سنگھ کی لاش اٹاری سرحد پر ہندوستانی حکام کو13 مارچ کو سونپی۔ جموں ضلع کے باشندے چمیل سنگھ کی جنوری میں مشتبہ حالت میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں موت ہوئی تھی۔ وہ غلطی سے 2008ء میں سرحد پار کر پاکستان چلے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے کے دوران ڈاکٹروں نے پایا ان کے جسم میں دل ،گردہ، جگر جیسے کئی اہم اعضا نہیں تھے ایسے حالات میں موت کے اسباب کے بارے میں پتہ لگانا ممکن نہیں ہوتا۔ ناجائز طریقے سے پاکستان میں داخل ہونے کے الزام میں پانچ برس کی سزا کاٹ رہے 40 سالہ چمیل سنگھ کی موت مبینہ طور پر جیل کے حکام کی پٹائی کے سبب ہوئی تھی۔ تکلیف دہ بات یہ بھی ہے کہ چمیل سنگھ کی سزا 2015ء میں پوری ہونے والی تھی۔ کوٹ لکھپت جیل میں اس وقت 33 ہندوستانی قیدی بند ہیں۔ بھارت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی جیل میں ہندوستانی قید چمیل سنگھ کی کن حالات میں موت اس بارے میں مفصل رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی ایک کاپی بھارت کو سونپے۔ بھارت چمیل سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لئے پاکستان پر مسلسل دباؤ بنا رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران ایک ہندوستانی افسر کے موجود رہنے کے سلسلے میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان پر ہندوستانی افسر نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران ہندوستانی ہائی کمیشن کا کوئی افسر موجود نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم ایک تکنیکی میڈیکل کارروائی ہے جس میں ڈپلومیٹک مشن کے ممبران کا کوئی رول نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے اسلام آباد میں موجود ہندوستانی افسر اس معاملے میں یا سابقہ کسی دیگر معاملے میں کسی بھی پوسٹ مارٹم کے دوران موجود نہیں رہے۔ انہوں نے چمیل سنگھ کے پوسٹ مارٹم کرا نے میں دیری کے لئے پاکستان کی نکتہ چینی کی تھی۔انہوں نے کہا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پاکستانی حکام نے کیوں پوسٹ مارٹم کرانے اور لاش کو سونپنے کے لئے تقریباً دو مہینے کا وقت لیا۔ بھارت پاکستان کو اس سلسلے میں کئی ریمائنڈر بھیج چکا ہے لیکن ابھی تک پاکستان نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ ابتدائی رپورٹ میں پاکستان کی طرف سے کہا گیا تھاکہ چمیل سنگھ کی لاش پر چار چوٹ کے نشان پائے گئے تھے۔ اس میں دائیں گھٹنے کے جوڑ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، بائیں گھٹنے کے جوڑ سے دو ایک کھرونچ اور اوپری حصے پر چوٹ کا نشان تھا اور اندرونی حصے میں بھی زخم تھے۔ چمیل سنگھ کو سرکاری جناح ہسپتال میں ڈاکٹروں نے مردہ قراردیا تھا۔ دھوکہ دھڑی کے معاملے میں کورٹ لکھپت جیل میں 42 مہینے کی سزا پوری کرنے والے عیسائی وکیل تحسین خاں نے دعوی کیا کہ چمیل سنگھ کی جیل ملازم کے ذریعے پٹائی کرنے کے بعد ہی موت ہوئی تھی۔
(انل نریندر)

02 اپریل 2013

راجناتھ کی نئی :ٹیم صحیح سمت میں صحیح قدم

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ نے اپنی نئی ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔ میری رائے میں یہ ایک صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔ کسی بھی ٹیم کا اعلان آسان نہیں ہوتا۔ کہیں نہ کہیں کچھ لوگوں کی نظروں میں خامیاں رہ جاتی ہیں اور وہ انہیں لیکر تنقید کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ کس مقصد سے یہ ٹیم بنائی جارہی ہے، اور جو لوگ ٹیم میں شامل کئے گئے ہیں کیا وہ اس کے حقدار ہوسکتے ہیں؟ بھاجپا کا 2014ء کا لوک سبھا چناؤ روڈ میپ صاف ہے۔اسے ان چناؤمیں200 سیٹیں جیتنی ہوں گی تب جاکر وہ اقتدار کا خواب دیکھ سکتی ہے۔ اس کے لئے اسے پہلے اپنا گھر مضبوط کرنا ہوگا۔ راجناتھ سنگھ کے ذریعے اپنی ٹیم کی تشکیل اور پارلیمانی بورڈ کو پھر سے بنانے میں نریندر مودی کے بڑھتے اثر کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ نریندر مودی نہ صرف خود پورے زور شور کے ساتھ پارٹی کی سپریم باڈی پارلیمانی بورڈ میں واپسی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ انہیں اپنے بھروسے مند کئی لوگوں کو اہم عہدے دلانے میں بھی کامیابی ملی ہے۔ راجناتھ سنگھ نے سماجی ، سیاسی اور علاقائی توازن بناتے ہوئے جو ٹیم اعلان کی ہے اس میں تقریباً ایک درجن مودی حمایتیوں کو جگہ ملی ہے۔ سینٹرل سیاست میں مودی نے زور دار طریقے سے اپنی موجودگی درج کرادی ہے۔ 6 سال پہلے پارٹی کی جس سپریم فیصلہ لینے والی تنظیم پارلیمانی بورڈ سے انہیں انہی راجناتھ سنگھ نے ہٹایاتھا۔ اسی میں انہی راجناتھ سنگھ نے مودی کوا پنی شرطوں پر لانے کو ایک طرح سے مجبور کیا ہے۔ا ب وہ اس جگہ کھڑے ہوگئے ہیں جہاں لوک سبھا و اسمبلی انتخابات کیلئے دعویداروں کا مستقبل طے کریں گے۔ مشن2014ء کو ذہن میں رکھ کر تیار کردہ ٹیم میں راجناتھ سنگھ نے ورون گاندھی کے ذریعے ایک بڑی چال چلنے کی تیاری کی ہے۔ ورون کے ذریعے ایک تیر سے دو نشانے لگانے کی کوشش کی ہے ۔ ورون گاندھی کو لاکر انہوں نے یہ پیغام تو دے دیا ہے کہ وہ اترپردیش کو زیادہ اہمیت دینے جارہے ہیں ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ بی جے پی اب نوجوان چہروں کو آگے بڑھانے میں کوئی قباحت نہیں کرے گی۔ ورون گاندھی کی ساکھ سے ہندوتو کو بھی تقویت ملتی ہے اور اگر کانگریس کے پاس راہل گاندھی ہے تو بھاجپا کے پاس ورون گاندھی ہیں۔ پارٹی مانتی ہے کہ یوپی میں جب تک بی جے پی شاندار کارکردگی نہیں دکھاتی اس کے لئے دہلی کے اقتدار کا راستہ آسان نہیں۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں اہم کردار نبھا چکی تیز طرار اور ہندوتو کی مضبوط علامت اما بھارتی کو اپ پردھان بنا کر صاف اشارہ دیا ہے کہ پارٹی اپنے بنیادی اصولوں پر لوٹے گی۔ دوسری طرف بہار میں جنتا دل (یو) کے ساتھ بنتے بگڑتے رشتوں کے درمیان مودی حمایتی سی پی ٹھاکر و رامیشور چورسیہ ٹیم میں آئے تو راجیو پرتاپ روڑی، شاہنواز حسین، ایس ایس اہلوالیہ کو شامل کرکے راجناتھ سنگھ نے جتادیا ہے کہ ان کی نظروں میں بہار کتنا اہمیت کا حامل ہے۔ کرناٹک اسمبلی چناؤ کے پیش نظر اننت کمار کے ساتھ ساتھ سدانند گوڑا کو بھی سینٹرل کمیٹی میں جگہ اس لئے دی گئی ہے کہ راجناتھ سنگھ کی نئی ٹیم میں تین خوبیاں نظر آرہی ہیں۔ جنرل سکریٹریوں کی اوسط عمر50 سال ہے ۔جس سے نوجوان لیڈر شپ کو ترجیح دئے جانے کی نیت صاف جھلکتی ہے۔ 40 فیصدی عورتوں کو ٹیم میں جگہ ملی ہے۔ ٹیم میں سبھی طبقوں کو نمائندگی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساتھ ساتھ بنیادی ورکروں کو نظرانداز نہیں کیا گیا ہے۔ ٹیم راجناتھ کے سامنے اب تین اہمیت بڑی چنوتیاں ہیں۔ کرناٹک اور دیگر ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں بہتر کارکردگی دکھانا،جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومتیں ہیں ان میں اقتدار برقرار رکھنا اور جن میں نہیں ہیں وہاں اقتدار میں آنا۔ این ڈی اے پارٹیوں سے بہتر تعلق بنانے کی سمت میں کام ضروری ہوگا۔ بہتر ہوگا کے جیسے اٹل جی نے جارج فرنانڈیز کو یہ کام دے رکھا تھا اسی طرز پر ایک دو لیڈروں کویہ کام سونپا جائے کہ وہ کنبے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے بڑھانے کی کوشش کریں۔ نریندر مودی کی ساکھ کو قومی سطح پر قابل قبول بنانا یہ بھی ٹیم راجناتھ کے لئے ایک اہم چیلنج بھرا کام ہوگا۔ ہر ٹیم کے اعلان کے بعد تھوڑی ناراضگی تو ہوتی ہے لیکن ان کو سمجھا بجھا کر لائن پر لایا جاتا ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ میری رائے میں یہ راجناتھ سنگھ کا صحیح سمت صحیح قدم ہے۔ باقی تو آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

تاملناڈو میں سیاسی لڑائی کا شکار آئی پی ایل6-

سارے کرکٹ شائقین آئی پی ایل شروع ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ 20۔ٹوئنٹی میچوں سے اچھی تفریح مل جاتی ہے اور یہ اتنے لمبے بھی نہیں ہوتے کے عام آدمی کو اس کو دیکھنے کے لئے خاص پروگرام بنانا پڑے۔ لیکن اس سال آئی پی ایل6- کو ایک زبردست جھٹکا لگا ہے۔ یہ اتنہائی افسوس کی بات ہے کہ سیاسی اسباب سے سیاسی لڑائی کو کرکٹ میدان میں اتاردیا گیا ہے۔ تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے ریاست میں سنہالی مخالف جذبات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو خط لکھ کر کہا کہ ریاست (تاملناڈو) میں آئی پی ایل میچوں کو تبھی کھیلنے کی اجازت ملے گی جب ان میچوں میں سری لنکا کا کوئی کھلاڑی، امپائر، افسریا اس کا ساتھی اسٹاف شامل نہ ہو۔ اس کے بعد آئی پی ایل گورننگ کونسل نے فیصلہ کیا ہے سری لنکائی کرکٹر چنئی میں ہونے والے آئی پی ایل میچوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ سری لنکا کے13 کھلاڑی 3 اپریل سے شروع ہونے والے آئی پی ایل6- میں حصہ لیں گے۔ چنئی سپرکنگ کے گھریلو میدان پر کل 10 میچ ہوں گے جن میں ایلیمنیشن کے دو میچ بھی ہیں اوروہ جگہ برقرار رہے گی۔ سری لنکا کے سابق کپتان ارجن راناتنگا نے کرکٹ بورڈ اور حکومت کی سری لنکائی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت دینے کے فیصلے کی تنقید کرتے ہوئے اسے سری لنکا کے خلاف لگائے جارہے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی حمایت قراردیا ہے۔رانا تنگا کا کہنا تھا کہ اس بات کو نظر انداز کردیا گیا ہے کہ جے للتا اور کروناندھی دونوں سری لنکائی کھلاڑیوں کو تاملناڈو میں کھیلنے سے اس لئے روکنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سری لنکا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔اس لئے تاملناڈو کو چھوڑ کر دیگر ہندوستانی ریاستوں میں کھیلنے کا مطلب ہمارے دیش کے خلاف لگائے گئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کی حمایت ہے۔ رانا تنگا نے تاملناڈو کے دونوں لیڈروں پر کھیلوں کے ساتھ سیاست کرنے کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ تاملناڈو میں چناؤ کے وقت کو چھوڑ کر کبھی اتر ،کبھی مشرقی (سری لنکا) کے تاملوں کی بہبود کے لئے فکرمند نظر نہیں آئے۔ ادھر سری لنکائی کھلاڑیوں کو چنئی میں نہ کھیلنے ،آئی پی ایل گورننگ کونسل کے فیصلے پر کئی فرنچائزی ٹیموں نے گھیری ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایسا کرنے کے بجائے میچوں کو چنئی سے باہر کیوں نہیں منعقد کرایاگیا۔اس بات کی بھی ناراضگی ہے کہ گورننگ کونسل نے اس معاملے میں ان سے کوئی صلاح مشورہ کئے بغیر ایکطرفہ فیصلہ لے لیا۔ ایسا کرتے وقت پہلے کے اپنے فیصلے کو بھی نظرانداز کیا ہے ساتھ ہی انہیں اس بات کی بھی فکر ہے بدلے حالات میں چنئی سپر کنگ کو گھریلو حالات کا فائدہ ملے گا۔ چنئی سپر کنگ میں دو سری لنکائی کھلاڑی مکیلا دھننجے اور پل شیکھر شامل ہیں۔ لیکن ٹیم میں ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ دوسری ٹیموں میں تو کئی ایسے سری لنکائی کھلاڑی ہیں جو کافی اہم ہیں۔ ان میں کمارسنگاکارا، مہلا جے وردھنے، متھیا مرلی دھرن، ملنگا اور تلک رتنے ، دلشان جیسے سرکردہ کھلاڑی شامل ہیں جو کسی بھی ٹیم کے لئے بیحد اہم ہیں۔ سپر کنگ کو چھوڑ کر آٹھوں ٹیموں کے افسران سرکاری طور سے کچھ بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ نہ ہی وہ اسے لیکر کوئی باقاعدہ شکایت درج کرانے جارہے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کو لیکر ناراض ہیں کے گورننگ کونسل نے پچھلے فیصلے کی تعمیل کیوں نہیں کی۔ بینگلورو میں دو بم دھماکے کے بعد اور حیدر آباد میں تلنگانہ اشو پر احتجاج بھڑکنے کے سبب وہاں میچوں کا مقام منتقل کردیا گیا تھا لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ کل ملاکر یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ تاملناڈو کی دو پارٹیوں میں لگی سیاسی دوڑ کا شکار آئی پی ایل6- بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

31 مارچ 2013

ملائم سنگھ کی تلخی، نشانے پر یوپی اے اور کانگریس

پچھلے کچھ دنوں سے سپا چیف ملائم سنگھ یادو اور کانگریس پارٹی میں تلخی بڑھ گئی ہے۔ یہ تکرار کہاں جاکر بند ہوگی کہا نہیں جاسکتا لیکن جس طرح سے دونوں فریق ایک دوسرے کو دھمکا رہے ہیں اس سے نہیں لگتا کہ ان کا ساتھ اب زیادہ دن چلنے والا ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے کانگریس کو دھوکے باز اور چالاک لوگوں کی پارٹی قراردیا ہے۔ بدھوار کو سیفئی میں ملائم پورے جوش میں نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ جنتا مرکز کی یوپی اے سرکار کے کرپشن سے اب تنگ آچکی ہے۔ کانگریس سے لوگوں کی رقبت ختم ہوچکی ہے۔ لوگوں کے پاس اب تیسرا مورچہ ہی متبادل ہے۔ ادھر اعظم خاں نے بھی کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ راہل اور پرینکا گاندھی سکے کے دو پہلوں ہیں۔ جس میں سے راہل کھوٹے سکے ہیں۔ یوپی اے سرکار کی سب سے بڑی ساتھی رہی ڈی ایم کے کے حمایت واپسی کے بعد ملائم سنگھ نے سیاسی داؤ پیچ تیز کردئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بھاجپا کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی کی جم کر تعریف کردی۔ تنگ آکر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس کو مسترد کرتے ہوئے ساؤتھ افریقہ سے لوٹتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا چناؤ اپنے وقت پر2014 میں ہیں ہوں گے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ سماجوادی پارٹی حمایت واپس لے سکتی ہے تو لے لے۔ لیکن ملائم نے کہا کہ یوپی اے سے حمایت واپسی کے بارے میں ا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ملائم نے کہا کہ کانگریس اپنی سرکار سی بی آئی اور ا نکم ٹیکس محکمے کے ذریعے بچا رہی ہے۔ کانگریس ہمیشہ سے اپنی سرکار بچانے کے لئے دونوں محکموں کو ہتھیار بناتی ہے۔ کانگریس بھروسے مند پارٹی کبھی نہیں رہے۔ کانگریس کے پاس بہت سے پتتے ہیں۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے وہ لاتی ہے۔ میڈیا کی طاقت بھی کانگریس کے ساتھ ہے۔ دہلی میں روز آبروریزی ہوتی ہے لیکن میڈیا یوپی کے معاملے زیادہ اچھالتا ہے۔ ملائم سنگھ ایک نہیں درجن بار کہہ چکے ہیں یہ یوپی اے سرکار اپنی میعاد پوری نہیں کرسکے گی۔ اب انہوں نے کہا کہ نومبر میں عام چناؤ ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ کانگریس نے2014ء کے لوک سبھا چناؤ کی تیاری نومبر 2012ء سے ہی شروع کردی ہے لیکن ڈی ایم کے کی حمایت واپسی کے بعد پارٹی اور سرکار میں بے چینی ضرور بڑھی ہے۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی ملائم سنگھ پر جیسے ہی بجٹ ختم ہوتا ہے ہلہ بول دے گی۔ قانون و نظام کے ساتھ ساتھ بھاجپا کے تئیں ملائم کی نرمی سے درجن بھر اشوز پر سپا سرکار کو گھیرا جائے گا۔ اترپردیش چناؤ کے برعکس یہ تحریک ان سے نہ شروع ہوکر بلاک اور تحصیل و ضلع اور پردیش سطح پر چھیڑی جائے گی۔ کانگریس مان رہی ہے کہ لیفٹ پارٹیاں بسپا جیسی پارٹی ابھی چناؤ نہیں چاہتیں۔ لیفٹ مورچہ مغربی بنگال میں جہاں ممتا بنرجی سرکار کے خلاف لوگوں کا غصہ بڑھنے کا انتظار کررہا ہے وہیں مایاوتی بھی مان رہی ہیں کہ اترپردیش میں ہر دن سپا سرکار کے خلاف اقتدار مخالف لہر زور پکڑ رہی ہے۔ ادھر ڈی ایم کے بھی سرکار سے باہر جانے کے باوجود مرکز کے خلاف تلخ نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ ان حالات میں ملائم کی حمایت واپس لینے سے بھی سرکار شاید ہی مشکل میں پڑے۔ ابھی فی الحال یوپی اے سرکار اور کانگریس کی ترجیح پارلیمنٹ سے بجٹ پاس کرانے کی ہے اس لئے کانگریس بجٹ اجلاس نمٹتے ہی ملائم اور اکھلیش سرکار کے خلاف اترپردیش میں زور دار مہم چھیڑے گی۔ پارلیمنٹ میں سپا کے ساتھ کی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ ان دنوں کانگریس اترپردیش میں تنظیم کو مضبوط کرنے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہے۔ ملائم کا ہلہ بول کیا رنگ لاتا ہے اور کب لاتا ہے یہ کہنا مشکل ہے۔
(انل نریندر)

لیاقت کی گرفتاری : جموں و کشمیر و دہلی پولیس آمنے سامنے

دہشت پھیلانے کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار حزب المجاہدین کے دہشت گرد سید لیاقت علی شاہ کی گرفتاری تنازعات میں گھر گئی ہے اور گرفتاری کو لے کر ایک بار پھر دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان ٹکراؤ سامنے آگیا ہے۔ اب مرکزی سرکار اس معاملے کی جانچ قومی سراغ رساں ایجنسی آئی این اے کو سونپ دینے کے اشو پر پس و پیش میں ہے۔ دہلی پولیس کا دعوی ہے کہ وہ نیپال سے گورکھپور کے راستے راجدھانی دہلی میں ہولی کے موقعے پر دہشت پھیلانے کے لئے آرہا تھا۔ اس کے پاس سے ایک اے کے۔56 رائفل، تین دستی بم اور دو میگزین،30 کارتوس برآمد کئے گئے۔ وہیں جموں و کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تو خود سپردگی کرنے کے لئے بھارت آرہا تھا جس سے ریاستی سرکار کی بازآبادکاری پالیسی کے فائدہ اٹھاسکے۔ ظاہر ہے جموں و کشمیر پولیس یا دہلی پولیس دونوں میں سے ایک تو سچ نہیں بول رہی ہے۔ دہشت گردی اس دیش کے لئے کتنا سنگین مسئلہ بن گیا ہے لیکن اس واقعہ سے صاف ہے کہ اس کے تئیں سرکار سنجیدہ دکھائی نہیں پڑتی۔ لیاقت بازآبادکاری کے لئے آرہا تھا یا تباہی مچانے اس کا خاندان اس کے ساتھ تھا یا نہیں اس کی صحیح جانکاری نہ ہو پانا سرکار کی نااہلیت نہیں ہے تو کیا ہے؟ آتنک واد پر ایسی غفلت دیش اورشہریوں کی سلامتی کے لئے کتنی خطرناک ہے شاید سرکار یہ سمجھنے کو تیار نہیں؟پہلے بھی بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ جیسے واقعات کو لیکر پولیس کی کارروائی پر سوال کھڑے کئے جاتے رہے ہیں۔ ان تنازعوں میں دیش کی سلامتی سے زیادہ سیاست ہی سامنے آئی ہے۔اب جموں و کشمیر پولیس نے لیاقت کو ریاست کی بازآبادکار پالیسی کے تحت حوالگی کے لئے بھارت آرہے سابق دہشت گرد بتا کر دہلی پولیس کے دعوے پر سوال کھڑے کردئے ہیں جبکہ دہلی پولیس کے مطابق لیاقت علی دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کا گرگا ہے اور اپنے پاکستانی آقاؤں کی ہدایت پر تباہی مچانے بھارت لوٹ رہا تھا۔ اس سچائی کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تصدیق ہونی چاہئے کہ کہیں جموں و کشمیر اسمبلی کے اس سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر اس گرفتاری کو لیکر سیاست تو نہیں ہورہی ہے، کیونکہ پچھلے 23 سال سے دہشت گردی کی تپش جھیل رہی ریاست میں دہشت گردی اور سیاست کے مبینہ میل جول پر پہلے بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ چاہے وہ پی ڈی پی سرکار کی دہشت گردی کے تئیں نرم پالیسی رہی ہو یا موجودہ نیشنل کانفرس و کانگریس اتحاد کی سرکار کی بازآبادکاری پالیسی رہی ہو۔ مرکز ی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ لیاقت کی گرفتاری سے جڑے سوالوں کے جواب کے لئے تفتیش این آئی اے کو سونپی ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ این آئی اے کن کن نکتوں کی جانچ کرے گی؟ لیکن یہ طے ہے کہ این آئی اے کو لیاقت علی کو حراست میں لیکر اس سے پوچھ تاچھ کرنی پڑے گی۔لیکن لیاقت کیا کہے گا وہ کیوں مانے گا دہلی میں فدائین حملے کے لئے آیاتھا؟ اس اشو پر دہلی پولیس بیک فٹ پر ہے۔ اسے اپنے ذرائع بتانے پڑیں گے۔ کچھ فون نمبروں پر بات چیت پکڑی ہے وہ بھی بتانی پڑے گی۔ اب سبھی پہلواین آئی اے کے افسروں کو بتانے پڑ سکتے ہیں۔ این آئی اے کو بھی یہ دیکھنا پڑے گا کہ جامع مسجد کے قریب گیسٹ ہاؤس سے ملے اتنے خطرناک ہتھیار کس کے ہیں۔ وہاں کیسے پہنچے۔ وہاں کہاں سے آئے دو شخص اصل میں کون تھے۔ہوٹل اسٹاف کا کیا کہنا ہے۔ادھر خبر آئی ہے کہ لیاقت کی گرفتاری سے حزب المجاہدین میں کھلبلی ہے۔ آپریشن کے فیل ہونے سے آتنکی سکتے میں ہیں۔ ایک بڑے دہلی پولیس افسر کی مانیں تو کچھ اسی سلسلے کی ایک کال خفیہ ایجنسیوں نے پکڑی ہے۔ جموں وکشمیر سے کچھ لوگوں نے پاکستان میں آقاؤں کو فون پر لیاقت کی گرفتاری کی خبردی تھی۔ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ جو اے کے۔56 رائفل جامع مسجد علاقے سے برآمد ہوئی وہ چین میں بنی ہے۔ گیسٹ ہاؤس میں جس آتنکی نے کمرہ بک کرایاتھا اس نے اپنانام محمد اور پتہ بھوانی ہریانہ کا لکھوایا تھا جو فرضی پائے گئے۔ ادھر اسپیشل سیل کے حکام نے بتایا لیاقت کی گرفتاری میں مسلح فورس کی بھی مدد لی گئی تھی۔ لیاقت علی شاہ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے مظفر آباد کا رہنے والا ہے۔ اس کے پاس سے ایک مہاجر کارڈ ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مہاجر بن کر وہ اپنی بیوی و بچے کے ساتھ رہتا تھا۔ بتادیں کے اس کارڈ کے ہولڈر کو وہاں کی سرکار کی طرف سے 15 ہزار روپے ماہانہ کی مدد ملتی تھی۔
(انل نریندر)

30 مارچ 2013

آتنک واد کو بڑھاوا دینے کا کام کررہے ہیں عمر عبداللہ

دہلی پولیس کے ذریعے گرفتار حزب المجاہدین کے جنگجو لیاقت شاہ معاملے میں ایک نیامتنازعہ موڑ اس وقت آیا جب جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے لیاقت معاملے میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے سے بات چیت کی۔اس کے بعد وزیر داخلہ نے لیاقت کی گرفتاری معاملے کو دہلی سرکار سے این آئی اے کو منتقل کردیا۔ عمر عبداللہ نے سوال کیا کیا لیاقت سرنڈر ہونے کے لئے اپنے خاندان کے ساتھ آیا؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ عمر عبداللہ کس منہ سے یہ سوال جواب کرسکتے ہیں؟نیشنل پینتھرز پارٹی کے چیف پروفیسر بھیم سنگھ نے حکومت ہند کو خبردار کیا ہے کہ سرنڈر کردہ آتنکوادیوں کی باز آبادکاری کی پالیسی کے بہانے عمر سرکار آتنک واد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ جس سے جموں و کشمیر میں آئی ایس آئی کے ادھورے ایجنڈے کو پورا کیا جارہا ہے۔ ایک ایمرجنسی پریس کانفرنس میں پروفیسر بھیم سنگھ نے کئی سوال اٹھائے جنہیں مبینہ باز آبادکاری پالیسی کو سمجھنے کے لئے ان کے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ ایک پاکستانی شہری کو نیپال میں داخل ہونے کیسے دیا گیا؟ پھر یہ لوگ سرحد پار کر بھارت میں کیسے داخل ہوئے؟ کیا باز آبادکاری پالیسی پاکستان اور نیپال کے ساتھ کئے گئے بین الاقوامی معاہدے سے بھی اوپر ہے جو ان کے شہری بھارت میں داخل ہوسکیں؟ کیا نیپال سمجھوتے کے تحت غیر ملکیوں کو نیپال کے راستے بھارت میں بغیر شناختی کارڈ داخل ہونے کی اجازت ہے؟ باز آبادکاری پالیسی سیدھے سیدھے بھارت کے آئین میں مداخلت کرتی ہے۔ خاص کر شہری قانون کے تحت۔ایک پاکستانی شہری کو ہندوستان میں داخل ہونے کیسے دیا گیا اور پھر اسے جموں و کشمیر میں گھسنے میں ریاستی حکومت نے مدد دی۔ جس میں بھارت حکومت کا درپردہ تعاون رہا؟ جموں و کشمیر پولیس نے مرکزی وزیر داخلہ کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ آتنکی بھارت میں خودسپردگی کرنے والے ہیں لیکن اس معاملے سے اس پر شش و پنج بنا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کے سینئر افسر کے مطابق بازآبادکاری عمل کے تحت آئندہ دنوں میں چار آتنکی بھارت میں داخل ہونے والے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو ان میں ایک آتنکی کشمیر کے ڈوڈہ علاقے کا کمانڈر رہ چکا ہے جبکہ دو آتنکی پلوامہ وادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکومت ہند نے خود تسلیم کیا ہے کہ قریب250 ایسے لوگ اپنے آپ کو کشمیری بتاتے ہیں۔ دہلی کے راستے جموں و کشمیر میں داخل ہونے دیا گیا جن کے پاس جموں وکشمیر سرکارکے شناختی کارڈ تھے۔ یہ کارڈ ان لوگوں کو جاری کئے جاتے ہیں جن کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں اور جو نیپال میں داخل ہوتے ہیں۔ جموں وکشمیر کے وزیر اعلی اور آئی ایس آئی کے درمیان ایک یقینی معاہدے کے تحت جموں و کشمیر میں بسائے جاتے ہیں، یہ کہنا ہے پروفیسر بھیم سنگھ کا۔ اور یہ سراسر دھوکہ دھڑی ہے اور قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ مرکزی سرکار بھی اس پر فکر مند ہے تبھی تو ان باز آبادکاری پالیسی کا جائزہ لینے کی بات کررہی ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...