Translater

12 فروری 2012

مالدیپ میں تختہ پلٹ کیا بھارت کے مفاد میں ہوگا؟

بھارت کی بدقسمتی کہیں یا پھر ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کہیں ہم اپنے پڑوسیوں کے معاملے میں فیل ہوتے جارہے ہیں۔ محض 400 کلو میٹر کی دوری پر واقع بحر ہند میں جزیروں میں بسا مالدیپ اب بھارت کے لئے ایک نئی تشویش کا سبب بنتا جارہا ہے۔بھارت کا پڑوس غیرسلامتی کے ماحول اور فوجی چنوتیاں پیدا کرتا رہتا ہے۔ مالدیپ میں تختہ پلٹ جیساواقعہ کچھ اسی طرح کی چنوتی کا اشارہ ہے۔ حالانکہ مالدیپ کے صدر محمد نشید نے اپنے دیش کو خون خرابے سے بچالیا۔ لیکن انہیں نہ صرف استعفیٰ ہی دینا پڑا بلکہ اب جیل یاترا بھی کرنی پڑرہی ہے۔ مالدیپ میں اس تبدیلی اقتدار کی خاص وجہ سابق ڈکٹیٹرمعمون عبدالقیوم کی مبینہ ہمدردی اور انتہا پسندوں کی رہائی کے لئے ایک سینئر جج کی گرفتاری کا حکم بن گیا۔ چار سال پہلے انسانی حقوق رضاکار اور اپنے سوالوں و ٹکراؤکے لئے قیوم عہد میں زیادہ تر جیل رہے۔ نشید میں تین لاکھ کی آبادی والے اس ملک میں جمہوری طور طریقوں والی تاریخی حکومت کی لیڈر شپ سنبھالی تھی۔پھر نشید نے اتنی بڑی گڑ بڑی کیا کردی کہ جنتا کو انہیں گدی سے اتارنے کا فیصلہ لینا پڑا۔ پہلی تو یہ کہ صدر نشید اقتدار میں آکر بھی کٹر رضاکار بنے رہے۔ اس مزاج کے نیتا بنے شخص میں سرکار چلانے کا سلیقہ و لچیلا پن کم ہوتا ہے۔ ایسے دیش میں جہاں جمہوریت کی روشنی تک نہیں پنپی ہو وہاں منمانی پالیسیاں نافذ کرنے اور انہیں کے مطابق نتیجے پانے کی اڑیل اپیل بھی تاناشاہی لگنے لگتی ہے۔ مالدیپ کی اصلاح اور جمہوری شکل سے چنے گئے پہلے صدر محمد نشید نے کئی ہفتوں کی سیاسی اتھل پتھل کے بعد مخالفین کے ساتھ پولیس کے مل جانے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ خود مبصرین کا خیال ہے کہ محمد نشید کے استعفے کو ایک عام واقعہ نہیں مانا جاسکتا۔ یہ صحیح معنی میں مالدیپ میں اصلاح پسند جمہوری نظام پر کٹر پسند طاقتوں کی کامیابی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے چناؤ میں کٹر پسند اہم کردار میں ہوں گے۔ دراصل مالدیپ کے لوگ چاہتے ہیں کے ان کے دیش کا صدر ایسا ہو جو اسلامی قانون کی ایمانداری سے تعمیل کرے اور محمد نشید ان کے اس نظریئے پر کھرے نہیں اتر پا رہے تھے۔ اس مکمل عمل کے پیچھے پاکستان اور چین اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ پاکستان یہ چاہتا ہے کہ مالدیپ کٹر پسندی کا گڑھ بن جائے تاکہ پاکستان اپنی ہند مخالف سرگرمیوں کو مالدیپ کے ذریعے انجام دے سکے۔ مالدیپ کے زیادہ تر نوجوان اعلی تعلیم کے لئے پاکستان جاتے ہیں اور وہاں جاکر تعلیم کے ساتھ ساتھ کٹر پسنداسلامی نظریئے کی خوبیوں سے روشناس ہوکر لوٹتے ہیں۔ مالدیپ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کی آبادی حالانکہ اتنی کٹر پسند نہیں ہے لیکن روایتی اسلامی نظریات سے وابستہ ہے لیکن آج کا اہم ذریعہ سیاحت ہے اس لئے مالدیپ میں عام شہریوں کے لئے الگ قاعدہ ہے اور سیاحوں کے لئے الگ۔ ارب اثر اور پیسے کی وجہ سے کٹرپسند اسلام کا اثر مالدیپ میں بڑھتا جارہا ہے۔ حالانکہ فوجی نظریئے سے مالدیپ کا کوئی حکمراں بھارت کو نظرانداز نہیں کرسکتا یا بھارت کے مفادات کے خلاف نہیں جاسکتا۔ نشید سے پہلے صدر معمون عبدالقیوم بھی بھارت کے دوست تھے اور 1988 ء میں ہندوستانی فوج نے قیوم کے خلاف بغاوت کو ناکام کیا تھا لیکن بھارت کا دوررس مفاد اسی میں ہے کہ اس جزیرے میں تمام دیشوں میں اصلاح اور جمہوری نظام بنا رہے۔ نشید اس لئے بھارت کے لئے اہم تھے کہ نئے صدر بھی کٹر پنتھی نہیں ہیں اور بھارت کے دوست ہیں لیکن ان کی پریشانی یہ ہے کہ مجلس میں ان کے حمایتی نہیں ہیں ۔ اندیشہ یہ ہے کہ عوامی ناراضگی کا فائدہ اٹھا کر کٹر پسند اپنی بالادستی نہ قائم کردیں۔ پولیس و فوج کی بغاوت یوں بھی طویل عدم استحکام پیدا کرسکتی ہے۔ اس بار تبدیلی اقتدار بالکل گھریلو توقعات کا معاملہ تھا اس لئے بھارت کا کسی طرح کا مداخلت نہ کرنا ہی صحیح تھا۔ 1988ء کی طرح تمل انتہا پسندوں کا حملہ نہیں تھا جب قیوم کے بلانے پر بھارت نے فوج بھیجی تھی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, India, Maldives, Vir Arjun

نریندرمودی کو ملی کلین چٹ

گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے تھوڑی راحت کی سانس ضرور لی ہوگی خبر ہے کہ گجرات دنگوں پر اپنی انترم رپورٹ میں اسپیشل جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) نے وزیر اعلی مودی کو کلین چٹ دینے سے متعلق اپنی رپورٹ میٹروپولیٹن عدالت کو سونپ دی ہے۔ فسادات میں مارے گئے سابق کانگریسی ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی عرضی پر جانچ ٹیم بنائی گئی تھی۔لفافے میں بند رپورٹ سماجی رضاکار تستا سیتل واڑ جن سنگھرش منچ اور ذکیہ کے وکیل کی موجودگی میں 13 فروری کو یہ رپورٹ عدالت میں کھولی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی مودی اور ان کے کیبنٹ ساتھیوں اور سرکاری افسران کے خلاف جانچ ٹیم کو کوئی ثبوت ہاتھ نہیں لگا ہے۔ گجرات دنگوں کے معاملوں سمیت کئی اہم اشوز پر خاص عدالت کا کردار نبھا رہے سینئر وکیل راجو رام چندرن نے بھی ایس آئی ٹی سے اتفاق کیا ہے۔ رام چندرن اور ایس آئی ٹی دونوں کا خیال ہے کہ گودھرا کانڈ میں مارے گئے کارسیوکوں کی لاش احمد آباد لانے کا فیصلہ صحیح تھا۔ مودی نے فساد روکنے کی پوری کوشش کی جبکہ ان کے خلاف آئی پی ایس افسر کی طرف سے دئے گئے ثبوت اور گواہی کو مخالفین کی سیاست سے مبنی مانتے ہوئے ان پر زیادہ غور نہیں کیا گیا۔
اوپر والے کا کھیل بھی نرالہ ہے۔ کئی بار اچھی دھوپ کھلی ہوتی ہے اور آسمان سے بارش ہونے لگتی ہے یا تیزی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں ایسے ہی قدرت کی طرح ہی مودی کو طوفانی تھپیڑوں کے ساتھ راحت دینے والی چھاؤں مل جاتی ہے۔ بدھوار کو گجرات ہائی کورٹ نے 2002ء میں گودھرا کانڈ کے بعد بھڑکے فسادات کے دوران مناسب کارروائی نہ کرنے اور لاپروائی برتنے کے ریمارکس کے ساتھ مودی سرکار کی مذمت کی تھی۔ عدالت نے ایک مفاد عامہ کی عرضی کو صحیح مانتے ہوئے فسادات کے دوران بڑے پیمانے پر مذہبی مقامات کے ڈھہ جانے کے لئے ریاستی سرکار کے نکمے پن کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ عدالتی حکم کی زخم پر24 گھنٹوں میں ہیں اس دوسری جانچ رپورٹ نے نہ صرف مرحم ہی لگا دیا بلکہ مودی کو کلین چٹ دے کر ایک بہت بڑے داغ کو دھو دیا۔ اگر اس رپورٹ کو صحیح مانا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اب اس کیس کو بند کردینا چاہئے۔ دو مختلف جانچ رپورٹوں نے مودی کو کلین چٹ دے دی ہے اور یہ صاف ہے کہ جو لوگ اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت مودی کو بدنام کرنے پر تلے ہیں وہ بری طرح سے ناکام ہوگئے ہیں۔ ایس آئی ٹی نے خودساختہ ثبوتوں اور گواہوں کو کوئی اہمیت نہیں دی اور صاف کہہ دیا کہ مودی کے خلاف سیاسی اغراز پر مبنی جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں۔ جمعرات کو عدالت میں دی گئی رپورٹ سرکاری طور پر افشاں نہیں ہوئی ہے لیکن انتظامی سطح پر ہی چھن چھن کر باہر آئی اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں فسادات کے لئے وزیر اعلی نریندر مودی کو پوری طرح سے الزام سے بری کردیا گیا ہے۔ 13 فروری کو جب یہ رپورٹ عدالت میں سرکاری طور سے کھولی جائے گی تب اس کے بارے میں اور مفصل جانکاری ملے گی فی الحال تو نریندر مودی کے لئے بہت بڑی اچھی خبر ہے جس سے انہوں نے راحت کی سانس ضرور لی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Narender Modi, Vir Arjun

11 فروری 2012

پہلے مرحلے کی پولنگ سے کانگریس اور سپا میں زیادہ جوش

اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کا پہلا دور پورا ہوگیا ہے۔بارش کے باوجود بدھوار کے روز ووٹوں کی بھی برسات ہوئی۔ اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلے میں پولنگ کے دوران بارش اور سرد ہوائیں بھی ووٹروں کا جوش ٹھنڈا نہیں کرسکیں۔ اسے ووٹروں کی بیداری کہیں یا انا ہزارے و چناؤ کمیشن کی مہم کا نتیجہ۔ آزادی کے بعد ریاست میں پہلی بار 62 فیصدی پولنگ ہوئی ہے۔ خاص بات یہ بھی رہی کہ پولنگ پوری طرح پرامن رہی نہیں تو یوپی چناوی تشدد کے لئے مشہور ہے لیکن پہلے فیس میں کہیں سے بھی تشدد تو دور چھوٹے موٹے جھگڑوں کی بھی شکایت نہیں ملی۔ بھاری پولنگ کو سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ڈھنگ سے لے رہی ہیں اور اپنے انداز سے مطلب نکال رہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ مانی جارہی ہے کہ ساری پولنگ کبھی بھی حکمراں پارٹی کو نہیں بھاتی مانا یہ ہی جاتا ہے کہ ووٹر اقتدار کے تئیں ناراضگی جتانے کیلئے ہمیشہ جذبہ دکھاتا ہے۔اس بار کے چناؤ میں سب سے بڑی پہیلی یہ ہے کہ اترپردیش کے قریب 46 فیصدی نوجوان ووٹر (18 سے39 برس) سے تقریباً55 لاکھ ووٹر 18 برس کے ہیں ۔ ایک کروڑ سے اوپر ایسے ووٹر ہیں جو پہلی بار اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ اہم اشو یہ بھی ہے کہ نوجوان طبقے کا یہ ووٹ کیا کرشمہ دکھائے گا؟ اس طبقے کو سیاست میں کم دلچسپ ہی بلکہ اپنے کیریئر اور مستقبل ، نوکری وغیرہ زیادہ اہم ہیں۔ نوجوان طبقہ چاہے شہری علاقے کا ہو یا دیہی علاقے کا وہ اپنے مستقبل کو لیکر کہیں زیادہ بے چین رہتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ وہ سیاست میں جھاڑو لگاکر کچھ صفائی کا کام کرسکتا ہے۔ کرپشن یا سیاست کے جرائمی ٹرینڈ کو قبول کرنے کے بجائے اس کو ختم کرنے میں دلچسپی دکھاتا ہے۔ اسی طبقے میں ریاست کی خوشحالی اور سرکار کے استحکام اور روز گار کے نئے مواقع جیسے اشو کو ترجیح دے کر تبدیلی لانے کی اہلیت ہے۔ اس لئے شاید ہر بڑی سیاسی پارٹی نے چاہے روزگار ہو یا مفت لیپ ٹاپ جیسے لالچ نوجوانوں کے سامنے رکھے ہیں۔ اس نئے طبقے کے ووٹروں کی وجہ سے اگر راہل گاندھی کانگریس کو تقویت دے رہے ہیں تو اکھلیش یادو سپا کے ترپ کے پتے بن گئے ہیں۔ بسپا اور بھاجپا میں اس طبقے کے طاقتور لیڈروں کی کمی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اترپردیش میں چناؤ کا آخری سیاسی نتیجہ جو بھی ہو پہلے مرحلے کی پولنگ نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ عام طور پر مایوس رہنے والے ووٹروں کا زمانہ گیا۔ ان امیدواروں کے لئے بھی امید کی کرن مدھم ہوگئی ہے جو محض 20-20 فیصدی ووٹ لیکر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ امید یہ جتائی جارہی ہے کہ باقی کے چھ مرحلوں میں60فیصدی کو بھی پار کرسکتا ہے۔ بہرحال ریاست کی 55 سیٹوں پر پر امن پولنگ کے باوجود چیلنج کم نہیں ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں اب تک جن 15 لاکھ سے زیادہ مشتبہ افراد کو پکڑا گیا ہے ان میں سے دو لاکھ سے زیادہ ان سیٹوں والے حلقوں کے ہیں۔ پوری ریاست میں اب تک 33 کروڑ نقدی کے ساتھ ساتھ 4345 غیر قانونی ہتھیار،6636 کارتوس اور 243415 لیٹر غیر قانونی شراب ضبط کی گئی ہے۔
بدھ کے روز ہوئے پہلے مرحلے کے چناؤ کے دوران کانگریس۔ سپا اوربسپا جیسی پارٹیوں کی سانسیں اٹکی رہیں۔ دوپہر سے پہلے بیحد دھیمی پولنگ رہی جس سے کانگریس کافی تشویش میں پڑ گئی لیکن شام کو آئی اچانک تیزی نے پارٹی میں نیا جوش بھردیا۔پہلے مرحلے کی پولنگ میں جن سیٹوں پر ووٹ پڑے ان میں کانگریس کو اچھی خاصی امید ہے۔ان 10 ضلعوں میں اسمبلی کی 55 سیٹیں آتی ہیں جن میں سے کانگریس کو 10سے15 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔ اس علاقے میں پارٹی کو دیگر پسماندہ طبقے اور مسلمان ووٹروں سے کافی امید ہے وہ کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ کو کانگریس اس لئے بھی اہم مان رہی ہے کیونکہ اس سے صوبے کا ٹرینڈ پتہ چلے گا۔ اس مرحلے میں کانگریس کی طرف سے ووٹروں کا رجحان بھی دکھائی دیا تو یہ باقی مرحلوں میں بھی اپنا اثر دکھا سکتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی کرم کانڈی ٹوٹکے جیسی وجہ ہی لگتی ہے۔ جن 10 ضلعوں میں 55 سیٹوں کے لئے پولنگ ہوئی ان علاقوں میں 2007 کے اسمبلی چناؤ اور 2009 کے لوک سبھا چناؤ کے نتیجوں کا تجزیہ اس کی ایک وجہ ہے۔ اس علاقے میں مسلم، دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات کے ووٹ زیادہ ہیں جن پر کانگریس نے پورے چناؤ کے دوران زور دیا ہے۔ کانگریس پولنگ سے ٹھیک پہلے یہ صاف اشارہ دینے میں لگی ہے کہ پارٹی اس بار اپنے دم پر ہی سرکار بنا لے گی۔ راہل گاندھی نے کئی جلسوں میں اور سونیا گاندھی نے اوناؤ میں اپنی آخری چناؤ ریلی میں کہا کانگریس کسی کے ساتھ تال میل نہیں کرے گی۔ اس سے صاف اشارہ دینا تھا کہ کانگریس سرکار بنانے کے لئے کافی مطمئن ہے۔ اس کے پیچھے ان موقعہ پرست ووٹروں کو بھی پٹانا تھا جو آخر تک دیکھتے رہتے ہیں کہ سرکار کس کی بنے گی۔ اگر کانگریس بہت حوصلہ افزا ہے تو جوش سماج وادی پارٹی میں بھی انتہا پر ہے۔ سپا کا دعوی ہے کہ اگلی سرکار اس کی ہی بنے گی۔ اکثریت میں کمی رہی تو اس کا بھی انتظام ہوجائے گا۔ پارٹی کا دعوی ہے اکھلیش یادو کی چناؤ ریلیوں میں جس قدر بھیڑ اکھٹی ہورہی ہے اس سے مستقبل کے اشارے صاف دکھائی پڑ رہے ہیں۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو پارٹی سے الگ رکھنے کے اکھلیش یادو کے فیصلے سے تمام ان طبقوں میں بھی پارٹی سے قربت بڑھی ہے جو سپا سے ماضی میں دور رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس بار بہوجن سماج پارٹی کے تمام قلعے ڈھہ جائیں گے۔کہنا ہوگا کہ یہ چناؤ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہوگا کے سبھی پارٹیوں نے اپنے روایتی ووٹ بینک کے علاوہ دوسروں پر خاص توجہ دی ہے۔ ان ووٹروں میں برہمن، راجپوت جیسی بڑی قومیں ، یادوں کو چھوڑ کر دوسرے پسماندہ طبقات وغیرہ وغیرہ ، مسلم ووٹ شامل ہیں۔ اور ان سبھی کے درمیان زبردست غور وخوض چل رہا ہے۔ کانگریس اور سپا کی طرف سے دلت قومیں بھی جاٹوں بنام غیر جاٹوں کی بنیاد پر اس منتھن کی کوشش ہوئی ہے۔ راہل گاندھی کا دلت خاندانوں کے بیچ جا کر اٹھنا بیٹھنا اسی نظریئے سے دیکھا جارہا ہے۔ بہرحال ان سبھی کی کوششوں کے آخری نتیجوں کو اپنے حق میں لیکر جو پارٹیاں دعوی کررہی ہیں ان میں کانگریس سب سے آگے ہے۔ اس کی وجہ بھی ہے کہ کانگریس کے پاس اس چناؤ میں پانا ہی پانا ہے کھونا کچھ نہیں ہے۔ کانگریس کے تجزیہ نگار اسی بنیاد پر مان رہے ہیں کہ اس مرحلے میں پڑے ووٹوں کواس کے حق میں مان لیا جائے تو اگلے مرحلے میں بھی ووٹروں کارجحان اثر دکھا سکتا ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

10 فروری 2012

کرناٹک ودھان سبھا میں ’ڈرٹی پکچر‘ کا قصہ

بھاجپا زیر اقتدار کرناٹک سرکار نے ایک بار پھر پارٹی کی جم کر فضیحت کروادی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت جب اترپردیش میں ودھان سبھا چناؤ کے ووٹ ڈلنے شروع ہوگئے ہیں۔سنسکرتک راشٹرواد کی جھنڈا بردار اس پارٹی کو کرناٹک کے اعلی نیتاؤں نے خاصہ کرارا جھٹکا دیا ہے۔ سرکار کے تین منتری ودھان سبھا میں ننگی لڑکیوں کی تصویریں یعنی بلو فلم دیکھتے ہوئے پکڑے گئے۔ ایک مقامی ٹی وی چینل نے اپنے کیمرے میں ان تین منتریوں کی کرتوت پکڑی۔اس سے جم کر ہنگامہ ہوا۔ اترپردیش کے چناؤ کو دیکھتے ہوئے پارٹی اعلی کمان نے بغیر دیری کے تینوں کے استعفے مانگ لئے جو منظور بھی ہوگئے ہیں۔ کرناٹک ودھان سبھا میں منگلوار کو جس وقت پاکستانی جھنڈا لہرانے پر بحث ہورہی تھی ٹھیک اسی وقت یہ تینوں نیتا اپنے موبائل کی کلیپنگ دیکھ رہے تھے۔ یہ ہی نہیں کچھ ہاٹ تصویریں دیکھ کر یہ ایک دوسرے سے اشلیل اشارے بھی کررہے تھے۔ یہ سب حرکتیں کیمرے میں قید ہوگئیں۔ مقامی چینل نے ان میں سے کچھ تصویریں شائع بھی کردیں۔ شرمسار کر دینے والی اس گھٹنا کے ایک دن پہلے ہی اس بات کو لیکر بحث جاری تھی کہ سرکار نے منگلور کے سمندری کنارے پر ریو پارٹی کی اجازت کیسے دی؟ الزام لگا تھا کہ ٹورزم کے بڑھاوے کے نام پر سرکار نے اس فحش ریو پارٹی کی اجازت دے دی۔ اسپارٹی میں ڈرگس اور شراب کا کھل کر استعمال کیا گیا۔ پارٹی میں کئی ودیشی لڑکیوں نے اپنے کپڑے اتار کر جشن منایا تھا۔ اس کی تصویریں بھی ایک چینل کے کیمرے میں آگئی تھیں،اسی درمیان اچھے کریکٹر کی دہائی دینے والی پارٹی کے منتریوں نے ودھان سبھا احاطے میں ہیں ڈرٹی پکچر دیکھ کر ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ اس تنازعے کے چلتے یوپی میں پارٹی کی چھوی کو دھکا لگ سکتا ہے۔اس معاملے سے شرمسار بھاجپا رہنماؤں نے پارٹی کی چھوی کو ہوئے نقصان کو کم کرنے کے لئے سہکارتا منتری لکشمن سابدی اور مہلا اور بال وکاس منتری سی سی پارٹل کو عہدہ چھوڑنے کے لئے کہا جبکہ تکنیکی منتری کرشنا پالیمر کو دونوں منتریوں کو مبینہ طور سے بلو فلم دینے کے لئے برخاست کردیا۔ اس سال یکم جنوری کو بیجا پور ضلع میں پاکستانی جھنڈا لہرانے پر منگلوار کو بحث چل رہی تھی اسی وقت سابدی اور پاٹل موبائل پر فحش فلم دیکھ رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق منتریوں کا استعفیٰ لینے کا دباؤ منگلوار رات میں لال کرشن اڈوانی نے بنایا تھا۔ اس کے بعد پارٹی ادھیکش نتن گڈکری نے تینوں سے استعفے مانگ لئے تھے۔ اعلی کمان نے مکھیہ منتری سے کہہ دیا تھا کہ آدھی رات تک تینوں منتریوں کے استعفے نہیں آتے تو انہیں برخاست کردیا جائے۔دہلی سے آئے اس فرمان کے بعد ہی تینوں نے آدھی رات کے بعد استعفیٰ بھیجا تھا۔ویسے کرناٹک کے سابق مکھیہ منتری بی ایس یدی یرپا نے میڈیا سے کہا تھا کہ منتریوں کے استعفے کے بعد اور چمتکار ہوجائے گا کیونکہ محض کچھ تصویریں دیکھنے کیلئے ہم نے اپنے منتریوں کو اتنی بڑی سزا دے دی ہے۔ یدی یرپا کے اس تبصرے کو لیکر دہلی میں بھاجپا کئی بڑے نیتا حیران ہیں۔ پارٹی ادھیکش نتن گڈکری نے کہا ہے کہ وہ ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے اپنے کسی نیتا کو رعایت نہیں دینے والے جبکہ کانگریس ایسی ہمت نہیں دکھاتی۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Dirty Pictures, Karnataka, Nitin Gadkari, Sex, Sexy Photo, Vir Arjun, Yadyurappa

09 فروری 2012

مغربی ممالک اپنی رائے سیریا پر نہیں تھونپ سکتے


سیریا کے اندرونی حالات بہت خراب ہیں۔وہاں ایک گرہ یدھ چھڑا ہوا ہے۔ وہاں راشٹرپتی برارالاسد کی فوج اور ان کا تختہ پلٹنے میں لگے باغیوں میں جم کر لڑائی ہورہی ہے۔منگلوار کو مختلف شہروں میں ہوئی کارروائی میں درجنوں لوگ مارے گئے۔ راشٹرپتی اسد کے فوجیوں نے ہومز شہر میں مورٹارڈ سے حملہ کیا جبکہ راجدھانی کے نزدیک ایک شہر میں بھی جارحانہ کارروائی کی۔ادھر سرکاری میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ مغربی عندلیب صوبے میں ہتھیار بند دہشت گردانہ حملے میں تین فوجی مارے گئے۔ سرکاری فوج مخالفوں پر ہیلی کاپٹروں اور ٹینکروں سے کارروائی کررہے ہیں۔ راجدھانی دمشق کے ارد گرد کے شہر باغیوں کے قبضے میں آگئے ہیں۔گذشتہ مارچ سے قریب سات ہزار اشخاص کی موت ہوچکی ہے۔ پچھلے دسمبر کو ارب لیگ نے سنگھرش روکنے کیلئے 200 آبزرور بھیجے تھے لیکن یہ بھی لڑائی روکنے میں ناکام رہے۔ باغیوں کی مدد امریکہ اور کچھ مغربی دیش کررہے ہیں۔ سیریا میں اپنے شہریوں کی حفاظت کو لیکر پریشان امریکہ نے اپنی امبیسی بن کردی ہے۔ امریکی ودیش منترالیہ کے ترجمان وکٹوریہ جولینڈ نے منگلوار کو کہا کہ سیریا میں امریکی امبیسڈر رابرٹ فوڈ سمیت امبیسی کی سبھی ملازموں کو واپس بلا لیا ہے۔ کئی خلیجی ممالک کے سہیوگ پریشد نے بھی سیریا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے دمشق سے اپنے امبیسڈروں کو واپس بلانے اور اپنے یہاں سیریا کے امبیسڈروں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ادھر سیریا کے راشٹرپتی الاسد نے ایک بار پھر ملک میں لڑائی روکنے اور اپوزیشن سے بات کرنے کا وعدہ کیا۔ الاسد نے یہ بھروسہ سیریا کے دورے پر گئے ودیش منتری سرگوئی لاروف کو دلایا۔ سیریائی اپوزیشن نے کہا ہے کہ راشٹرپتی کھوکھلے وعدے کررہے ہیں۔ سیریا میں روسی ودیش منتری کے سواگت میں ہزاروں کی بھیڑ دمشق کی سڑکوں کے کنارے جمع تھی۔ لوگ سڑکوں کے کنارے اور شہر کے اہم چوراہوں پر جھنڈے لیکر کھڑے تھے اور اسے ہلاکر سرگوئی لاروف کا استقبال کررہے تھے۔ باغی گذشتہ مارچ سے راشٹرپتی اسد کا تختہ پلٹنے کی سازش میں جٹے ہوئے ہیں لیکن اتنے دن گذرنے کے بعد بھی وہ جیت نہیں پائے۔ وجہ صاف ہے ،سیریا کی فوج اور عوام کا ایک بڑا حصہ پوری طرح اسد کے ساتھ ہے۔ سیریا ۔لیبیا نہیں جس کا آسانی سے تختہ پلٹ ہوسکتا ہے۔ یو ایس اے بھی ملک میں شانتی بحالی کی کوشش کررہا ہے لیکن یہ بھی ناکام رہا۔ اتحادی سبھا کی سکیورٹی کونسل میں جو پرستاؤ لایا گیا تھا اصل میں وہ ارب لیگ سے متاثر تھا۔ تقریباً دو دہائی بعد سکیورٹی کونسل میں لوٹے بھارت نے اس پرستاؤ کی تائید میں ووٹ دیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت نے مغربی ممالک کا دم چھلا بن کر یہ قدم اٹھایا۔ دراصل اس کا یہ قدم ارب لیگ اور سیریا کے ساتھ اس کے اتہاسک تعلقات پر منحصر ہے۔ یہ ہی نہیں سیریا کے خلاف کھڑے گلف کوآپریشن کونسل کے بحرین ، کویت،عمان، قطر، سعودی ارب اور یو اے ای میں تقریباً 50 لاکھ بھارتیہ کام کرتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھارت جمہوریت کی تائید اور امن قیام کے حق میں ہے اور چاہتا ہے کہ سیریا کے رہنماؤں کا فیصلہ اس دیش کے لوگ ہی کریں۔ یوروپی ممالک اور امریکہ کی نظر سیریا کے تیل پر ہوسکتی ہے لیکن سیریا پر کون راج کرے گا اس کا فیصلہ صرف وہاں کی عوام کی کر سکتی ہے۔

کیا جنرل سنگھ کے خلاف حکمت عملی کے تحت سازش رچی گئی؟



Published On 9th February 2012
انل نریندر
بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کے تنازعے کے پیچھے کیا اقتدار میں بیٹھے کچھ لوگوں نے سازش رچی تھی؟ کم سے کم آر ایس ایس کے مطابق تو یہ سارا تنازعہ ایک حکمت عملی کے تحت کھڑا کیا گیا ہے۔ آر ایس ایس نے اپنے اخبار آرگنائزر میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق اقتدار میں بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے جنرل وجے کمار سنگھ کو وقت سے پہلے ریٹائرڈ کرنے کی سازش پچھلے سال ہی تیار کرلی تھی۔ سنگھ نے اخبار آرگنائزر کے ذریعے سے فوج کے سربراہ کی کھل کر حمایت کی ہے اور ان کے خلاف سرکار کے سخت رخ کو جنرل سنگھ کی ایمانداری کا نتیجہ بتایا ہے اور کہا کہ کانگریس پارٹی کے لئے وہ ڈیفنس سودے میں آڑے آرہے ہیں۔ فوج کے سربراہ کے خلاف سرکار کے اندر اور باہر خاص طور سے کانگریس پارٹی کے اندر بیٹھے لوگوں کی سازش کا یہ دعوی ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے عمر کے تنازعے پر ان کی عرضی پر سرکار کو اپنا حکم واپس لینے کو کہا ہے۔ قانونی ماہرین اور واقف کار ذرائع نے اس بات کاپختہ امکان ظاہر کیا ہے کہ سرکار اپنا 30 دسمبر کا وہ حکم واپس لے لے گی جس کے ذریعے وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے فوج کے سربراہ کی آئینی عرضی کو مسترد کردیا تھا۔ وزیر دفاع کے ذریعے اپنی شکایت خارج ہونے پر ہی جنرل سنگھ نے 16 فروری کو سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس کی سماعت ہورہی ہے۔ سازش کے پہلو کی بنیاد کو گناتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اقتدار میں سینئر عہدے پر بیٹھے لوگوں نے طے کیا کہ جنرل سنگھ کی جگہ اپنا آدمی معمور کرنا چاہئے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ یوپی اے محاذ حکومت کے عہد میں بڑی تعداد میں ہوئے ڈیفنس سودوں کو اس تنازعے سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی ایمانداری سرکار کے اندر اور باہر اور کانگریس پارٹی کے ڈیفنس سودے کرنے والوں کو راس نہیں آرہی تھیں۔ 'واٹ اے شیم ڈاکٹر سنگھ 'کے عنوان سے اداریہ میں سنگھ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی خاموشی بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سنگھ نے صدر اور دیش کے سپریم کمانڈر سے درخواست کی ہے کہ انہیں مشکل کے اس دور میں وزیر اعظم کے سامنے اپنے من کی بات رکھنی چاہئے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ جب عزت پر کیچڑ اچھالی جارہی ہو تو چپ رہنا ٹھیک نہیں ہوتا۔ جنرل وی کے سنگھ نے آواز اٹھا کر ٹھیک ہی کیا ہے۔ جس طرح کا رد عمل ان کے قدم پر سامنے آیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ،سارا دیش ان کے ساتھ ہے۔ پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ ہماری تشویش سرکار کے فیصلے کو لیکر نہیں ہے بلکہ تشویش فیصلے لینے کے عمل کو لیکر ہے جو غلط ارادے سے لیا گیا لگتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ کی شکایت کو سرکار نے غور کے لائق نہیں مانا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس سپریم کورٹ جانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ سنگھ کے الزامات میں کتنا سچ ہے یہ تو سرکار ہی بہتر جانتی ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ معاملہ بڑی آسانی سے سلجھ سکتا تھا۔ جنرل سنگھ کی پیدائش آرمی ہسپتال میں اگر ہوئی تھی تو اس ہسپتال سے تاریخ پیدائش کیوں نہیں پوچھ سکتے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, RSS, Supreme Court, Vir Arjun

ششی کلا نے رچی تھی جے للتا کا تختہ پلٹ کی سازش



Published On 9th February 2012
انل نریندر
اقتدار کا نشہ بہت بری چیز ہے۔ ایک بار اس کا چسکا لگ جائے تو نہ تو رشتے داری آڑے آتی ہے اور نہ ہی دوستی۔ تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا اور ان کی سہیلی ششی کلا کی کہانی پچھلے 25 سالوں سے سیاست کے گلیاروں میں سنی جارہی ہے۔ لیکن اچانک خبر آئی کہ جے للتا نے نہ صرف ششی کلا بلکہ ان کے سارے رشتے داروں کو اپنے گھر سے ہی نکال دیا ہے۔ آخر دونوں سہیلیوں کے درمیان ایسا کیا ہوا کہ کبھی ششی کلا کے لڑکے کی شادی پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والی جے للتا نے ایسا سخت قدم اٹھایا۔ ''تہلکہ'' میگزین نے دعوی کیا ہے کہ ششی کلا نے صرف جے للتا کے چاروں طرف اپنے آدمی بٹھا رکھے تھے اور سرکار کے ہر فیصلے میں وہ دخل دے رہی تھیں بلکہ جے للتا کو سلو پوائزن دے کر تاملناڈو کا تاج پانے کی سازش رچی تھی۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور بھاجپا کی کرناٹک سرکار نے جے للتا کو بروقت آگاہ کر انہیں بچا لیا۔ جے للتا کو زہر دینے کا کام ششی کلا اپنی خاص نرس کی مدد سے انجام دے رہی تھی۔ مودی کے بتانے پر جے للتا نے ششی کلا اور ان کے رشتے داروں کی نگرانی کرانا شروع کردی اور آخر میں 17 دسمبر کو ششی کلا اور ان کے رشتے داروں سمیت 12 افراد کوپارٹی سے نکال دیا۔ تہلکہ کے مطابق مودی کے ذریعے آگاہ کئے جانے کے بعد جے للتا نے 'منرگڈی مافیہ' کی حرکتوں پر غور کرنا شروع کردیا۔ منرگڈی تروورو ضلع کا ایک قصبہ ہے اور ششی کلا یہیں کی رہنے والی ہے۔ تاملناڈو میں ششی کلا اور ان کے رشتے داروں کو منر گڈی مافیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ مافیہ جے للتا کا تختہ پلٹ کرنے کی سازش میں لگا ہوا تھا۔ وہ جے للتا کی بنگلورمیں چل رہے آمدنی سے زیادہ املاک کے معاملے میں پریشانیوں سے پیدا حالات کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ مودی نے جے للتا کو بتایا کہ ششی کلا اور ان کے خاندان کی ناجائز مانگوں کی وجہ سے بڑے سرمایہ کار تاملناڈو میں سرمایہ کاری کرنے سے کترارہے ہیں۔ ایک این آر آئی تاملناڈو میں پیسہ لگانے کے لئے آیا تھا لیکن جب اس سے منرگڈی مافیہ نے75 فیصدی حصہ مانگا تو اس نے گجرات کا رخ کرلیا۔ مودی نے یہ بات فوراً جے للتا کو بتائی۔ ایسے ہی ایک دو اور قصے سامنے آئے ۔ تہلکہ کے مطابق جے للتا کو یہ خفیہ جانکاری ملی تھی کہ برسوں سے جو دوائیاں لے رہی تھیں ان میں دھیما زہر ملا ہوا تھا۔ شک ہونے کے بعد اچانک جے للتا بغیرششی کلا کو کچھ بتائے شہر کے ایک نامی گرامی ڈاکٹر سے ملنے چلی گئی ساتھ میں ان دوائیوں کو بھی لے گئی جنہیں وہ روز کھاتی تھی۔ اس ڈاکٹر نے جے للتا اور انہیں دی جارہی دوائیوں کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ دوائیوں میں سلو پوائزن ملا ہوا ہے۔ وزیر اعلی کی دیکھ بھال کے لئے چنی گئی نرس کو ششی کلا نے ہی چنا تھا۔ اب بحث تو چاروں طرف چھڑی ہوئی ہے کہ جے للتا کی دیکھ بھال گجرات سے بھیجی گئی نرس کرتی ہے اس کے بعد جے للتا نے ششی کلا اور ان کے سبھی رشتے داروں کو گھر سے باہر نکال دیا ہے۔140 سے زیادہ ان نوکروں کی فوج کو بھی ہٹا دیا جنہیں ششی کلا 1989 سے اپنے گاؤں منرگڈی سے خاص طور سے لیکر آئی تھی۔ جے للتا کا یہ قدم اس لئے بھی چونکانے والا تھا کیونکہ پچھلے25 سالوں میں ششی کلا کی مرضی کے بغیر جے للتا کوئی قدم نہیں اٹھائی تھی لیکن اقتدار کے لالچ کے سامنے 25 سال کی دوستی و احسان سب کے سب دھرے رہ گئے اور ششی کلا نے جے للتا کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور یہاں تک کے انہیں مارنے تک کی سازش رچ ڈالی۔
AIADMK, Anil Narendra, Daily Pratap, Jayalalitha, shashikala, Tamil Nadu, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...