Translater

28 مئی 2011

دہلی بم دھماکہ: چیلنج یا وارننگ

 
Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

28مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

نئی دہلی کے انتہائی حساس ترین علاقے میں واقع ہائیکورٹ احاطے کے باہر ہوئے بم دھماکے نے کھلبلی مچا دی۔ کھلبلی اس لئے نہیں مچی کہ بم بہت طاقتور نہیں تھا اگر طاقتور ہوتا تو اس کے نتیجے میں زیادہ جان مال کا نقصان ہوتا۔ جہاں یہ واردات ہوئی ہے وہ نئی دہلی میں سب سے زیادہ حساس ترین علاقہ مانا جاتا ہے۔اس سے دو چار کلو میٹر دور راشٹرپتی بھون، نارتھ بلاک اور پارلیمنٹ کی متعلقہ عمارتیں بھی اسی علاقے میں واقع ہیں۔ یہ بم ایسے علاقے میں پھٹا ہے اس نے ان علاقوں کے لئے ایک چنوتی کھڑی کردی ہے۔اسی سے تھوڑی دور واقع نیشنل ڈیفنس کالج بھی ہے۔ یاد رہے شکاگو میں چل رہے مقدمے میں ڈیوڈ ہیڈلی نے اپنے بیان میں اس کالج کو نشانے پر بتایا تھا۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ انٹیلی جنس بیورو نے وارننگ دی تھی کہ اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد سے آتنکی بوکھلائے ہوئے ہیں اور وہ کبھی بھی بدلہ لے سکتے ہیں۔ چار دن پہلے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے انچارج کو ڈاک کے ذریعے ایک خط بھی ملا تھا جس میں لشکر طیبہ نام سے کسی نا معلوم تنظیم نے یہ خط بھیجا۔ وہ اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لینے کیلئے بھارت میں بم دھماکے کرے گا۔ خط میں25 مئی کی شام 5 بجے کا وقت دیا گیا تھا اور نئی دہلی اسٹیشن، چڑیا گھر، لال قلعہ اور ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس خط میں کانپور، لکھنؤ، احمد آباد، جے پور ، ناگپور، غازی آباد، ہریانہ اور مہاراشٹر میں بھی حملے کی بات لکھی ہے۔ یہ خط کسی کریم نامی شخص نے لکھا ہے جو اپنے آپ کو جموں و کشمیر میں لشکرطیبہ کا کمانڈر ہونے کا دعوی کررہا ہے۔
میرا خیال ہے کہ ایسے معاملوں میں میں پولیس کچھ زیادہ نہیں کرسکتی۔ کوسنے کو تو ہم دہلی پولیس کو کوس سکتے ہیں لیکن یہ بھی ہے کہ دہلی جیسے شہر میں جہاں لاکھوں آدمیوں کا روز آنا جانا ہے ایسے کروڈ بم حادثے کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔ ہاں کوئی پارلیمنٹ حملے یا ممبئی حملے جیسی واردات کو تو روکا جاسکتا ہے لیکن ایسے چھوٹے موٹے دھماکوں کو روک پانا انتہائی مشکل ہے۔ سوال اٹھتا ہے آخر اس دھماکے کا مقصد کیا تھا؟ کیا یہ آتنکی اپنی طاقت دکھانا چاہتے ہیں یا پھر کسی بڑے حملے کی ریہرسل تھا؟ قریب سوا دو سال کی خاموشی کے بعد جس طرح ہائیکورٹ کے باہر کم طاقت کا یہ دھماکوسامان رکھا گیا تھا اس سے اتنا تو صاف ہے کہ ان کا مقصد کسی کو مارنے کا نہیں تھا۔ وہ پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں تک پیغام پہنچانا چاہتے تھے کہ ہم اب بھی اتنا ہی سرگرم ہیں۔ بیشک بم کم طاقت کا تھا لیکن اگر بھیڑ والی جگہ پر رکھا گیا ہوتا تو کافی نقصان ہوسکتا تھا۔ آج کل پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں اے راجہ اور شاہد بلوا ، کنی موجھی جیسی بڑی ہستیاں مقدموں میں سماعت کے لئے لائی جارہی ہیں،اس لئے ان کی سلامتی ایک بڑا سوال ہے۔ اس لئے زیادہ چوکسی کی ضرورت ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں بوکھلائی ہوئی ہیں اور وہ کوئی بڑی واردات کرنے کے فراق میں ہیں۔ یہ تو شاید ریہرسل تھی اصل حملہ ابھی آگے ہوسکتا ہے۔
Tags: Delhi High Court, Bomb Blast, Red Fort, Airport, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap,

دل دہلانے والا سانحہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily


28مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

یہ کلیگ ہے اور اس کلیگ میں آدمی اوپر والے کی رحمت کو بھول چکا ہے۔اچھی صحت، اچھا خاندان اور صحیح سلامت بچے ، یہ آج کل خاص معنی نہیں رکھتے۔ ان سب کو تو آدمی مان کر چلتا ہے یعنی ’ٹیک ان فار گارنٹی‘ بہت کم لوگ ہی اوپر والے کا یہ شکریہ کرتے ہیں کہ اس نے آج کا دن صحیح سلامت رکھا۔ کوئی تو پیسے کے لئے بھاگ رہا ہے تو کوئی اقتدار کے لئے، کوئی پاور کے لئے۔ کبھی کبھی ایسا واقعہ سامنے آجاتا ہے جو آدمی کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ہم کیا پلاننگ کرتے ہیں، کیا بڑی بڑی اسکیمیں یا منصوبے بناتے ہیں جبکہ ہمیں اگلے پل کا پتہ نہیں ہوتا؟ کیا بہار کے مغربی چمپارن کے علاقے بیتیا کے باشندے جو پیلیا کے مرض میں مبتلا تھا ، اس کے خاندان والوں کو معلوم تھا کہ وہ جس ہیلی کاپٹر سے دہلی علاج کرانے جارہے ہیں وہ چھوٹا جہاز گر جائے گا اور سارے مارے جائیں گے؟ اپولو ہسپتال کا ایئر ایمبولنس مغربی چمپارن کے بیتیا کے باشندے مریض راہل راج 20 سال کو لیکر شام پونے چھ بجے پٹنہ سے دہلی کے لئے روانہ ہوتا ہے۔ جہاز میں راہل کے ساتھ اس کے چچیرے بھائی رتنیش اور نرس اور اپولو کے ایمرجنسی ڈاکٹرارشد اور ڈاکٹر راجیش سوار تھے۔ طیارے کے پائلٹ ہرپریت اور منجیت تھے۔ راہل کا علاج پٹنہ کے جگدیش میموریل ہسپتال میں کافی وقت سے چل رہا تھا۔ بدھوار کی شام اچانک طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد آناً فاناً میں دہلی کے اپولو ہسپتال میں اس کا علاج کرانے کے لئے ایئر ایمبولنس کا انتظام کیا گیا اور اسے دہلی کے لئے روانہ کیا گیا۔
پالم ایئر پورٹ پر اترنے کے انتظار میں طیارہ فرید آباد کے پاس اڑان بھر رہا تھا تبھی تیزی سے آندھی چلنے لگی۔ شاید اسی کی زد میں آکر طیارے کا توازن بگڑ گیا اور رات قریب ساڑھے دس بجے فرید آباد کی پروتیہ کالونی دو مکانوں پر گرا اور دھماکے کی آواز ہوئی ۔طیارہ کے گرتے ہی اس میں آگ لگ گئی۔ وہ دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اس حادثے میں آس پاس کے کچھ مکان بھی تباہ ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق جہاز پر سوار لوگوں کے علاوہ جن تین لوگوں کی لاشیں برآمد ہوئیں ان میں سرلا، دیپک اور شوبھا رام کی بیوی سویتا کی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگ لاپتہ بتائی جاتی ہیں۔
گھنی آبادی اور کنکریلی سڑک والے جس علاقے میں یہ ہیلی کاپٹر گرا، وہاں ایمولنس فائر برگیڈ کی گاڑیوں کو پہنچنے میں کافی پریشانی ہوئی۔ حادثے کے شکار مریض راہل راج کے موسا موکیش چودھری کا کہنا ہے راہل کی طبیعت بگڑنے پر انہوں نے شام کو ہی اپولو میں علاج اور ایمولنس کے لئے پیسے جمع کروائے تھے ۔ باقی کی تیاری کے لئے وہ دوسرے طیارے سے شام کو ہی دہلی پہنچ گئے تھے۔ فرید آباد کی پروتیہ کالونی میں آرام سے سو رہے سرلا، رانی، سویتا کا اتنا قصور تھا کہ جس علاقے میں ان کا گھر تھا وہیں جہاز آگرا۔ انہیں ہمیشہ کے لئے نجات دلا دی۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ اوپر والے کا بھگوان کا یا اللہ کا یا واہے گورو کا یا عیسیٰ مسیح کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس کی رحمت ہم سب پر بنی رہے۔
Tags: Faridabad, Apollo Hospital, Masroor Air Base, Masroor Air Base,Aircrash, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap,

27 مئی 2011

کیا پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily


27مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

کراچی کے مہران بحریہ کے ہوائی اڈے پر ہوئے آتنکی حملے نے وہاں کی غیر منظم سلامتی اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کو لیکر بھارت کابے چین ہونا فطری ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس معاملے میں بھارت کی تشویشات کو ظاہر کردیا ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ فوج کے ہیڈ کوارٹر پولیس ٹریننگ کیمپ کے بعد اب فوجی ہوائی اڈے پر خودکشی حملے جیسی آتنکی واردات روکنے میں پاکستانی مشینری کی ناکامی نے نہ صرف ہندوستان کے لئے تشویش کا باعث ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مہران اہم ٹھکانا ہونے کے باوجوداور اس سے وابستہ دیگر فوجی اداروں کے دفتر دور نہیں ہیں۔ یہ پاکستانی ایئر فورس کے مسرور مرکز کے قریب 40 کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ یہ نیوکلیائی ہتھیاروں کا ایک ڈپو مانا جاتا ہے۔ ایک ہندوستانی ڈیفنس ماہر کے مطابق پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے بڑے بحری ایئر بیس میں شمار ہوتا ہے۔ جدید سازو سامان اور طیاروں سے مسلح اس اڈے پر آتنکیوں کا اتنی آسانی سے حملہ کردینا ، یہ خفیہ ایجنسیوں کی خامیوں کا اشارہ کرتا ہے۔ اندرونی شخص کی مدد کے بغیر آتنکیوں کو بحری اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں چل سکتا تھا۔جس طرح وہ گھنٹوں اس میں ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ نیویارک ٹائمز نے خلاصہ کیا ہے کہ مہران فوجی اڈے کے پاس ہی مسرور ایئر فورس کا بیس ہے۔ جہاں پاکستان کا ایٹمی ذخیرہ ہے۔ یہاں کافی نیوکلیائی بم ہیں جنہیں مزائلوں اور جنگی جہازوں سے ممکنہ نشانوں پر مار کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکی ڈیفنس ماہرین کا اندازہ ہے پاکستان کے پاس اس وقت 100 نیوکلیائی بم ہیں۔
سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے اندر القاعدہ ،لشکر طیبہ جیسی آتنکی تنظیموں کی مدد کرنے والے موجود ہیں۔ ان کی مد د سے اگر آتنکی مسرور ایئر فورس بیس پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں؟ مان لیجئے بڑا حملہ ہوتا ہے اور اس حملے میں نیوکلیائی بم متاثر ہوجاتا ہے اور ریڈی ایکٹو کرنیں لیک ہوجاتی ہیں تو کیا ہوگا؟ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ اگر ان میں سے کچھ آتنکیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو کم سے کم چھوٹا اور ڈرٹی بم بنا سکتے ہیں۔ تیسرا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان فوج میں ان آتنکیوں کے ہمدرد آتنکیوں کو نیوکلیائی بم بنانے کی تکنیک مہیا کروا دیتے ہیں تو کیا ہوگا؟ ان سب امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاک اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر زیادہ توجہ دے اور اپنے اندر موجود بھیدیوں کی پہچان کرے اور اس بات کی جانچ کرے کہ مہران ایئر بیس پر جو حملہ ہوا ہے کیا اس میں کسی پاکستانی فوج کے راز داں کا ہاتھ تو نہیں تھا؟ امریکہ ابھی اس کو لیکر الجھن میں پڑا ہوا ہے۔ امریکی صدر کے سابق ڈیفنس ایڈوائزر جیک کراولی نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ہوئے اس حوصلہ افزاء حملے کے مد نظر امریکہ پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کی ہنگامی اسکیم پر غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں اور سامان کو قبضے میں لینے کی خفیہ اسکیم بنائی ہے۔ یہ تشویش کی بات ہے پاکستان اندرونی تال میل کھوتا جارہا ہے اور پھر یہ بھی کہنے سے نہیں تھکتا کہ ہم اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو اور بڑھائیں گے۔
Tags: Anil Narendra, Karachi, Mehran Aira Base, Pakistan, Atom Bomb, Masroor Air Base, Pakistan, Al Qaida, Lashkar e Toeba, Vir Arjun, Daily Pratap,  

آنکھ کی پتلی کا حال دیکھ تلملا اٹھے کروناندھی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

27مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
تمل زبان میں کنی موجھی کا مطلب ہوتا ہے آنکھ کی پتلی۔ ڈی ایم کے چیف ایم کروناندھی نے اپنی اس بیٹی کا نام برے پیار سے رکھا تھا کیونکہ کالی پتلی والی یہ بچی انہیں بہت پسند تھی۔ تبھی تو وہ جب تہاڑ جیل میں اپنی آنکھ کی اس پتلی بیٹی سے ملنے گئے تو گلے سے کنی کو لگاکر ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ اور کنی بھی ان کے گلے لگ کر رونے لگیں۔ کنی موجھی کو سہارا دینے کے لئے والد کروناندھی پورے لاؤ لشکر کے ساتھ تہاڑ جیل گئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ، داماد اور پوتا بھی تھا۔ پارٹی کے 8 ممبرپارلیمنٹ بھی جیل کمپلیکس تک آئے تھے لیکن انہیں جیلر کے کمرے تک جانے کی اجازت نہیں ملی۔ اندر ماں باپ، بیٹی داماد کے آنسو نکل رہے تھے تو باہرکچھ اور ہی نظارہ تھا۔ تہاڑ کی سکیورٹی میں تاملناڈو پولیس کی ڈیوٹی رہتی ہے اس لئے کچھ سپاہی اپنے دیش کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے باتیں کررہے تھے۔ چار سپاہی اور 8 ایم پی رونے کے انداز میں کھڑے تھے۔ جیسے ہی سامنے سے کروناندھی کا قافلہ آیا یہ ممبر پارلیمنٹ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔دو تامل سپاہی بھی اپنے آنسو نہیں روک پائے۔ پاس میں کھڑے ایک نیتا جی بولے یہ غم کے نہیں بلکہ وفاداری کے آنسو ہیں۔ ایسی وفاداری کے آنسو کبھی آپ نے بھی دیکھے ہیں؟ کروناندھی بغیر سونیا گاندھی سے ملے واپس چلے گئے۔
کانگریس اور ڈی ایم کے کے رشتے ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں۔ اس ٹکراؤ کے ماحول میں تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے اور آگ لگادی۔ انہوں نے سورگیہ راجیو گاندھی کے قتل میں ڈی ایم کے کا ہاتھ ہونے کا الزام لگادیا۔ منگلوار کو چناؤ جیتنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جے للتا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 1991 ء سے میں بھی لبریشن ٹائیگرز کے ڈر کے سائے میں جی رہی ہوں۔ ہم ہمیشہ سے کہتے آرہے ہیں کہ راجیو گاندھی کے قتل میں ڈی ایم کے درپردہ طور پر شامل تھا۔ جے للتا سے پوچھا گیا تھا کیا لبریشن ٹائیگرز کے سابق لیڈر سی پدمنابھن عرف کے پی نے واقعی یہ کہا تھا کہ اگر موقعہ ملا تو تامل جنگجو جے للتا کا قتل کردیں گے۔ جے للتا نے کہا کے ٹو جی گھوٹالے میں ہورہی قانونی کارروائی سے لوگوں کا عدلیہ میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ کنی موجھی کی طرف سے خاتون ہونے کا حوالہ دیکر عدالت سے ضمانت مانگنے پر انہوں نے کہا یہ دلیل بالکل غلط ہے۔ سیاست اور جرائم کے معاملوں میں خاتون ہونے کے سبب رعایت نہیں مانگی جاسکتی ہے۔
ڈی ایم کے ۔ کانگریس کو سبق سکھانے کیلئے بیتاب ہے لیکن اسے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے؟ اپنے محبوب ساتھی اے راجہ اور بیٹی کنی موجھی کے جیل چلے جانے سے کروناندھی ایک دم تمتمائے ہوئے ہیں۔ جیل میں بیٹی سے ملنے کے بعد ہر بار کی طرح وہ سونیا گاندھی سے ملنے نہیں گئے۔ خبر یہ ہے کہ ہوٹل تاج مان سنگھ میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سکریٹری جنرل ڈگوجے سنگھ سے بھی انہوں نے ملنے سے منع کردیا۔ کانگریس کے ساتھ 7 برسوں پرانی دوستی میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کروناندھی دہلی آئے اور کانگریس کے کسی بھی لیڈر سے ملے بغیر واپس چلے گئے۔ کروناندھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت ان کے 18 ممبران کانگریس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لہٰذا اب وہ صحیح موقعے کی تلاش میں ہیں۔ ویسے بھی چناؤ ہارنے کے بعد وہ کتنے ہی مورچوں پر ایک ساتھ محاذ نہیں کھول سکتے۔
Tags: Anil Narendra, 2G, kani Mozhi, Karunanidhi, DMK, Tamil Nadu, Sonia Gandhi, Digvijay Singh, Vir Arjun, Daily Pratap, 

26 مئی 2011

نکسلیوں کے پاس جدید ہتھیاروں سے تشدد بڑھنے کا اندیشہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

26مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ 26/11 ممبئی حملے کے بعد سے بھارت کے اوپر کوئی بڑا آتنکی حملہ نہیں ہوا لیکن وہیں بڑھتانکسلی تشدد تشویش کا موضوع ضرور ہے۔ ابھی دو دن پہلے چھتیس گڑھ کے گاریابند پولیس ضلع کے اڑیسہ جوڑی سرحدی علاقے میں گشت پر گئے ایک پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت12 پولیس والوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ خبروں کے مطابق سبھی نکسلیوں کے حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ پچھلے دنوں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا نکسلی مسئلہ بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دیش کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اس نکسلی تحریک سے متاثر ہے۔ نکسلی کھلے عام کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی تو نظم بدلنے کے لئے ہے، اقتدار بدلنے کے لئے نہیں۔ ہزاروں لوگ نکسلی اور ماؤوادی تشدد کا شکار ہوچکے ہیں۔ سرکار کی ٹال مٹول کی پالیسی کے سبب ان کا اثر بڑھتا جارہا ہے۔تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے جدید ہتھیاروغیرہ خرید رہے ہیں۔ اب تو نکسلی بھی ہتھیار استعمال کرنے لگے ہیں جو بھارتیہ فوج یا نیم فوجی فورس استعمال کرتے ہیں۔
بستر کے گھر نکسلی متاثرہ علاقوں میں نکسلیوں کے پاس موجود تکنیک سے ہماری خفیہ ایجنسیوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ نکسلی اب صرف بارودی سرنگ دھماکہ و اے کے 47- تک محدود نہیں رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے دعوؤں پر یقین کریں تو خفیہ رپورٹ میں نکسلیوں کے پاس انتہائی جدید راکٹ لانچر ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ وہیں خبر تو یہ بھی ہے کہ اب ان کے پاس دستی بموں کا ذخیرہ ہے اور زہریلی گیس چھوڑنے والے وسائل دستیاب ہیں۔ نکسلیوں کو چینی ہتھیار مل رہے ہیں۔ ان میں دستی بم، راکٹ لانچر وغیرہ شامل ہیں۔ سکیورٹی فورس کو حال میں قابل ذکر کامیابی ملی ہے اور اس سے نکسلی بوکھلا اٹھے ہیں۔ گذشتہ مہینوں میں گنجان جنگلوں میں مڈ بھیڑ اور تلاشی کارروائی کے دوران بھی نکسلیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سے پہلے بغیر روک ٹوک کی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہے تھے ۔ نکسلیوں کی اس بوکھلاہٹ کو پولیس کی کامیابی مانا جارہا ہے۔
2010 ء نکسلی تشدد کا سب سے خونی برس رہا ہے۔ پچھلے ایک سال میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ نکسلی تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔44 برس پہلے 1967 میں شروع ہوئی نکسلی تحریک کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا خونی سال تھا۔2010ء میں نکسلی متاثرہ 9 ریاستوں میں انہوں نے998 لوگوں کی جان لی ہے۔ ان میں پولیس ملازمین اور700 سے زیادہ عام شہری تھے۔ جموں کشمیر اور مشرقی ریاستوں میں دہشت گردانہ وارداتوں میں مارے گئے لوگوں سے یہ تعداد پانچ گنا زیادہ ہے۔ نکسلی تشدد کا شکار زیادہ تر وہ غریب قبائلی اور دیہاتی ہوئے جنہوں نے ان کی مخالفت کی یا پولیس کے مخبر بنے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے گذشتہ دسمبر میں اپنی رپورٹ میں ایک بار پھر نکسلی تشدد کو دیش کی سلامتی کے لئے زیادہ سنگین خطرہ بتا یا ہے۔ چدمبرم نے سکیورٹی فورس سے کہا کہ انہیں دفاعی ہونے کے بجائے جاریحانہ ہونے کی ضرورت ہے۔ مشکل یہ ہے کہ چدمبرم صاحب اور وزیراعظم کبھی تو سختی کی بات کرتے ہیں تو کبھی بات چیت کی اپیل کرتے ہیں نتیجہ یہ ہے سکیورٹی فورس کا یہ نہیں پتہ لگتا کہ سرکار کی پالیسی آخر کیا ہے۔
 Tags: 26/11, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, Naxalite, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

اسمبلی انتخابات میں مسلم پارٹیوں کو شاندار کامیابی ملی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

26مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ بدقسمتی ہی رہی ہے کے سیاست کے میدان میں انہیں اپنے فرقے کی کبھی صحیح لیڈرشپ نہیں ملی۔ بڑی سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ ان کا استعمال کیا اورووٹ بینک کی طرح ان سے برتاؤ کیا۔ اب یہ بات ہمارے مسلمان بھائیوں کو سمجھ میں آرہی ہے وہ اپنے کو سیاسی طور پرمنظم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ اچھی پیش رفت ہے۔ یوں تو آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی سیاست میں چھوٹی موٹی مسلم سیاسی پارٹیاں ہمیشہ میدان میں رہی ہیں لیکن اب انہیں شاندار کامیابی ملنے لگی ہے۔ حال ہی میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے نتائج بتاتے ہیں مسلمان قومی سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہوگئے ہیں اور وہ علاقائی مسلم پارٹیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی دکھانے لگے ہیں۔ کیرل میں مسلم لیگ او رآ سام میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو ملی کامیابی اور تاملناڈو میں نئی بنی مسلم پارٹی ایم ایس این کو بھی دو سیٹیں ملنا اس کا اشارہ کرتا ہے کہ اس کا اثر اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بھی پڑنا لازمی ہے۔ خاص کر اترپردیش میں مسلم سیاسی پارٹیوں میں مسلم ووٹ کیلئے زبردست زور آزمائش ہونے والی ہے۔یوں تو کیرل میں مسلم لیگ ہمیشہ سے ہی طاقتور رہی ہے لیکن اس مرتبہ اس نے کامیابی کے سبھی پرانے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ اس کے 24 میں سے20 امیدوار جیتے ہیں۔ وہیں آسام میں اے آئی یو ڈی ایم کی سیٹیں 10 سے بڑھ کر19 ہوگئی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ریاستوں کے مسلمانوں نے متحد ہوکر ان علاقائی مسلم پارٹیوں کو ووٹ دیا ہے۔ کیرل میں مسلم لیگ یوڈی ایف کا حصہ تھی تو اے آئی یو ڈی ایف نے آسام میں اکیلے چناؤ لڑوا کر اپنی طاقت دکھائی ہے۔ تاملناڈو میں ایم ایس این کے جے للتا محاذ کا اتحادی حصہ تھی لیکن چناؤ کے فوراً بعداس کا من جے للتا سے کھٹا ہوگیا کیونکہ انہوں نے اپنی حلف برداری تقریب میں نریندر مودی کو بلایا تھا۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی کامیابی میں مسلم ووٹوں کا اہم رول رہا ہے۔ روایتی طور پر مارکسوادی پارٹی کا ووٹ بینک رہے مسلمانوں نے اس مرتبہ ممتا کے تئیں اپنی ہمدردی و حمایت دکھائی۔ مسلم ووٹروں کے رخ کو ممتا کی طرف موڑنے میں مسلم تنظیم جمعیت العلمائے ہند کا اہم کردار رہا۔ آندھرا پردیش میں بھی ایک مسلم سیاسی پارٹی مجلس مشاورت کو حیدر آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اچھی کامیابی ملی ہے۔ اس کے لیڈر اویسی لوک سبھا کے ممبر ہیں۔
اترپردیش میں مسلم ووٹوں کا اہم کردار ہوگا۔ وہاں 6 سے7 مسلم پارٹیاں ریاست کے 18 فیصد مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کیلئے میدان میں ہوں گی۔ یوپی میں سب سے طاقتور پیس پارٹی ہے۔ اس نے پچھلے ضمنی چناؤ میں اچھے خاصے ووٹ حاصل کرکے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے لیکن اس کی پوری کوشش صوبے میں نہیں چل پائی اور زیادہ تر گورکھپور اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک ہی محدود ہے۔ حال ہی میں جماعت اسلامی نے بھی پارٹی بنائی ہے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا۔اے آئی یو ڈی ایف نے بھی یوپی کے چناؤ میں امیدوار اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے دیش کے مسلم ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک بھی شیعہ نہیں ہے۔ اس لئے کئی شیعہ تنظیموں نے بھی یہ محسوس کیا ہے کہ انہیں بھی منظم ہوکر اپنی پارٹی بنانا چاہئے تاکہ شیعوں کو ٹھیک نمائندگی مل سکے۔ یہ پارٹیاں کتنی کامیاب ہوتی ہیں یہ تو چناؤ کے بعد پتہ چلے گا لیکن اتنا ضرور ہے کچھ سیکولر پارٹیوں کی نیند حرام ضرور ہوگئی ہے۔
 Tags: Anil Narendra, Assam, Kerala, Muslim, State Elections, Tamil Nadu, Uttar Pradesh, West Bengal

25 مئی 2011

اوبامہ کی دھمکی کا پاکستان نے اسی انداز میں دیا جواب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے امریکہ آپریشن اسامہ کارروائی دوہرانے میں دیر نہیں کرے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران اوبامہ نے کہا اپنی سلامتی کے لئے وہ پاکستان میں دوبارہ اپنی فوج بھیجنے سے نہیں چوکیں گے۔ بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرتے ہیں لیکن امریکہ کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کے خلاف سازش اور رچی جائے،اس پر امریکہ کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کا سرغنہ پاکستان میں پایا جاتا ہے تو امریکہ فوج کو دوبارہ بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے تئیں پاکستان کا جو دوہرا پیمانہ اس کی بڑی بھول ہے۔ اسی وجہ سے بھارت اسے اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس ذہنیت سے دور ہٹ کر کام کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس بات کو محسوس کرے اس کے لئے سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اس کے گھر کے اندر ہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں روکے تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ پاشا نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل موٹیل کے ساتھ سنیچر کو ہوئی بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاشا نے موٹیل سے کہا کہ اگر آپ ڈرون حملے نہیں روکیں گے تو ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہوں گے۔ پاشا نے حال ہی میں پاکستانی ہوائی سرحد میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو امریکہ اور پاکستان کے فوجی اشتراک کو ایک جھٹکا بتایا۔ پاکستان کے دورے پر آئے موٹیل سی آئی اے کے آپریشنل افسر اور آئی ایس آئی افسروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔
دراصل ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی دوہری پالیسی کو سمجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا بھروسے مند اتحادی بتاتا ہے ، دوسری جانب آتنکوادیوں کو پوری سکیورٹی اور ٹریننگ ، پیسہ دیتا ہے۔ وہیں امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین کو آگے کردیتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چین کے تئیں دکھائی گئی بھائی چارگی نے کچھ امریکی ممبران کی بھنویں چڑھا دی ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کو اپنا سب سے اچھا دوست بتانے والا پاکستان امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مدد کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹ کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں سینیٹر جم رش نے کہا ہمارے ذریعے خرچ کئے گئے ایک ڈالر میں سے 40 فیصد ادھر سے آتے ہیں۔ امریکی لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم سے 40 فیصد ادھار لیکر اسے پاکستان کو نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد بھی پاکستان سرکار چین کو اپنا بھروسے مند دوست مانتا ہے۔

Tags: America, Anil Narendra, China, CIA, Daily Pratap, ISI, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Shuja Pasha, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...