Translater
11 اپریل 2021
لاک ڈاو ¿ن کے ڈر سے دہلی سے پھر ہجرت شروع!
راجدھانی دہلی میں نائٹ کرفیو لگنے کے بعد سے ہی یہاں کے مزدوروں کو اب دوبارہ لاک ڈاو¿ ن کا ڈر ستانے لگا ہے ۔ بسوں ٹرینوں اور ریلوے رزرویشن سینٹروں پر اچانک بھیڑ بڑھ گئی ہے ساتھ ہی تعمیراتی کمپنیاں اور سیکورٹی ایجنسیوں میں کام کرنے والے مزدور چھٹیوں کی درخواستیں دے رہے ہیں ایک مزدور کے مطابق جس طرح اچانک دہلی میں نائٹ کرفیو اعلان کر دیا گیا ہے اسی طرح اچانک لاک ڈاو¿ن کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے انہیں اندیشات کے پش نظر ان مزدوروں کیلئے پچھلے سال جیسی پریشانیاں کھڑی ہو جائیںگی اس سے بہتر یہی ہے کہ وہ ابھی سے اپنے گاو¿ں پہونچ جائیں ریلوے رزرویشن کاو¿نٹر پر آئے ایک شخص سریش کمار کے مطابق پچھلے سال انہوں نے قریب 350کلو میٹر کا پیدل راستہ طے کیا تھا کرائے نہ ملنے کے سبب مکان مالک نے ان کا سامان گھر کے باہر رکھ دیا تھا کام ملنا بند ہوگیا تھا کھانے تک کے لالے پڑ گئے تھے اس بار وہ لاک ڈاو¿ن نہیں چاہتے ۔کاپاسہیڑا کے باشندے کئی لوگ اور زیادہ پریشان ہیں اگر لاک ڈاو¿ن نہ بھی لگا اور بارڈر بند ہوگئے تو ان کام کا چھوٹ جائے گا بڑی مشکل سے وہ اپنی پرانی حالات سے باہر آپائے ہیں برے دنوں میں انتظامیہ اور پولس دونوں انہیں ہی ڈنڈے مارتے ہیں اس سے اچھا ہے کہ ابھی ٹرانسپورٹ دستیاب ہے اور وہ اپنے گھر واپس چلے جائیں ایسے ہی اشوک وہار کی ایک سندھ سیکورٹی سروس کے ڈائرکٹر پونم سنگھ نے بتایا کی نائٹ کرفیو کے بعد سے کئی لوگ چھٹیا مانگ رہے ہیں اور ایسا کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے زیادہ تر لوگ پچھلے وقت کو یاد کرکے سہم جاتے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں