کچے تیل کے ریزرو اسٹاک کھولنے کا اعلان !

کچے تیل کی قیمت میں ایک سال میںقریب 60فیصدی اضافے کو دیکھتے ہوئے بھارت اور امریکہ سمیت تیل درآمد کرنے والے ملکوں نے اپنے ریزرو کا ایک حصہ بازار میں جاری کر نے کا جو فیصلہ لیا ہے اس سے فوری طور پر تو تیل کے دام گھٹیں گے ہی اس سے اس تیل پیدا کرنے والے ملکوں پر دباو¿ بننے کی بھی امید ہے جو جان بوجھ کر تیل پیدا کرتے ہیں اور دام بڑھاتے ہیں ۔ تیل اور گیس کی اونچی قیمتوں سے لڑ تی دنیا کے بڑے تیل کی سپلائی بڑھانے کا جو فیصلہ کیا ہے یہ تاریخی ہے ۔ امریکہ نے 5کروڑ اور بھارت نے 55لاکھ اور جاپان نے 42لاکھ بیرل تیل نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ 1990میں خلیجی جنگ کے چلتے بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمتوں میں بھار ی اچھال سے بھار ت کی غیر ملکی کرنسی اسٹاک میں بڑی گراوٹ آئی ہے ۔ تب ہمارے پاس صرف تین ہفتے کی درآمد کا پیسہ بچا تھا ۔ تیل کے امکانی بہران کو دیکھتے ہوئے اٹل بہاری واجپائی سرکار نے 1998میں ذخیرہ کرنے کی تجویز رکھی تھی۔ دنیا میں کافی لوگوں نے تیل کے حکمت عملی ریزرو ذخیرے کے بارے شاید پہلی بار سنا ہوگا اور یہ ضروری ہے کہ قدرتی آفات ،جنگ اور سپلائروں میں غیر متوقع رکارٹ سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی پیٹرولیم ذخائر بنائے جاتے ہیں ۔ بھار ت کے پاس مشرقی اور مغربی سمندری ساحلوں پر بنے زیر زمین ریزرو وائر میں 3.8کروڑ بیرل کچا تیل ایمر جنسی حا لات کیلئے ذخیرے کے طور رکھا ہے ۔ یہ بھنڈار آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم اور کرناٹک کے منگلورو میں ہیں ۔ اب کر ناٹک کے پڈور میںدوسرے مرحلے کے بھنڈار بنانے کی منظور 2018میں مودی سرکار نے دے دی تھی ۔ کچا تیل ذخیر ہ زمین کے نیچے پتھروں کی غاروں میں کیا جاتاہے ۔ اور ایمر جنسی میں تیل ذخیرہ کھولنے کے اعلان کے بعد کچے تیل کے داموں میں گراوٹ دیکھی گئی ہے ۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سرکاروں کے ریزرو تیل نکالنے کے فیصلے سے کیا انہیں سستا پیٹرول ڈیژل ملے گا۔ لیکن اس کے پیچھے کئی پہلوں ذمہ دارہیں ۔ ریفائنریاں کچے تیل کی اڈوانس خرید کرتی ہیں ایسے میں وہ فی الحال مہنگا تیل کو ریفائن کرہی ہیں ۔ ابھی کچے کے دام زیادہ گھٹنے کے آثار ہیں لیکن چناوی موسم میں روز روز پیٹرول ڈیژل کے دام مہنگا کرنے کا خطرہ سرکار مول نہیں لینا چاہتی اسی وجہ سے حا ل میں ضمنی چنا و¿ کے نتیجے بھاجپا کے کیلئے مایوس کن تھے ۔ پچھلے دنوں اندھن پر زیادہ اکسائز میں رعایت دی گئی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہو ا اس لئے اب یہ قدم اٹھا یا جا رہا ہے کہ ہمار ی سرکار کیلئے ریزرو اسٹاک جاری کرنا اس لئے بھی آسان ہے کیوں کہ کووڈ دور اس نے قریب 19ڈالر فی بیرل کچا تیل خریدا اور اپنا ریزرو اسٹاک کر لیا تھا ۔ لیکن تیل کے پیدا کرنے والے ممالک کی مہنگائی کے خلا ف اٹھائے گئے قدم کی تعریف کرنی چاہیے ۔ تیسرا سب سے بڑا ایمرجنسی حالات بھارت اب سعودی عرب پر منحصر کے بجائے درآمد کے دوسرے متبا دل پر بھی غور کر رہاہے ۔ امید کی جانی چاہئے کہ تیل درآمد کرنے والے دیشوں کے اس قدم صحیح معنی میں لیتے ہیں اور اس پر سر کار سے رد عمل ظاہر کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!