Translater
30 مارچ 2024
کیا آئی ایس خراسان نے روس پر حملہ کیا؟
روسی صدر ولادی میر پیوتن اور اس کے زیر اثر میڈیا مسلسل کہہ رہا ہے کہ جمعہ کو ماسکو کے تھیٹر پر حملے کی ذمہ داری یوکرین پر ڈالی جا سکتے۔ لیکن اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس خراسان) نے قبول کر لی ہے۔ حملہ آوروں نے نہ صرف کروکس ہال میں موجود لوگوں پر بندوقوں سے فائرنگ کی بلکہ عمارت کو بھی آگ لگا دی۔ روس کی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں نہ صرف کنسرٹ ہال کی چھت گرتی دکھائی دے رہی ہے بلکہ شہتیر کو بھی گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حملے میں 137 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انگریزی میں اس شدت پسند تنظیم کو IS کہا جاتا ہے جو کہ نام نہاد اسلامک اسٹیٹ کی مختصر شکل ہے۔ یہ تنظیم دراصل بین الاقوامی طور پر اعلان کردہ دہشت گرد گروپ نام نہاد اسلامک اسٹیٹ کا حصہ ہے۔ اس کا پورا بیان افغانستان، ایران اور پاکستان پر مرکوز ہے۔ اس تنظیم نے اپنا نام گڈ گورننس رکھا ہے کیونکہ جن ممالک میں یہ سرگرم ہے وہاں کا علاقہ اسلامی خلافت کی تاریخ میں اسی نام سے جانا جاتا تھا۔ نام نہاد دولتِ اسلامیہ پچھلے نو سالوں سے خطے میں سرگرم ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں یہ پیرنٹ اسلامک اسٹیٹ کی سب سے خطرناک شاخ کے طور پر ابھری ہے، جو اپنی بے رحمی اور کاروبار کی کمی کے لیے مشہور ہے۔ یہ شدت پسند تنظیم شام اور عراق میں موجود اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر اسلامی دنیا میں ایک نام نہاد خلافت کا نظام لانا چاہتی ہے جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق سخت قوانین نافذ کر سکے۔ یہ تنظیم افغانستان میں حکمران گروپ طالبان کے خلاف بھی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس سال اس نے کابل میں روسی سفارت خانے کو بھی نشانہ بنایا تھا جس میں چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل ہسپتالوں، بس سٹینڈز اور پولیس اہلکاروں کو بھی یہ گروہ نشانہ بنا چکا ہے۔ رواں برس جنوری میں اسلامک اسٹیٹ گروپ نے ایرانی ریاست ویریان میں ہونے والے دو خودکش حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی، جن میں 100 کے قریب ایرانی شہری ہلاک ہوئے تھے۔روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق گرفتار ہونے والے چاروں افراد کا تعلق تانک سے تھا۔ وسطی ایشیائی ملک تاجکستان۔جو پہلے سوویت یونین کا حصہ تھا۔ گڈ گورننس کی جانب سے دولتِ اسلامیہ پر حملہ کرنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یہ تنظیم دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ روس، امریکہ، یورپ، یہودی، عیسائی، شیعہ مسلمان اور مسلم اکثریتی ممالک کے حکمران بھی اس کی دشمنی کی فہرست میں شامل ہیں۔اسلامک اسٹیٹ کی روس سے مبینہ دشمنی۔1990-2000 کی دہائی میں چیچنیا کے دارالحکومت میں روسی فوج کی گاڑی یہ ردعمل کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں روس نے شام میں خانہ جنگی میں صدر الاسد کی حمایت کی ہے اور روسی فضائیہ نے وہاں متعدد بمباری کی ہے۔ ان کارروائیوں میں بڑی تعداد میں مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ کے جنگجو مارے گئے۔ یہ روس کو ایک عیسائی ملک سمجھتا ہے اور اس گینگ کی جانب سے ماسکو پر حملے کے بعد پوسٹ کی گئی ویڈیو میں عیسائیوں کو مارنے کی بات کی گئی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ روس اس وقت یوکرین میں الجھا ہوا ہے، ایسی صورتحال میں روس ایک آسان ہدف ہوسکتا ہے جہاں ہتھیار بھی آسانی سے دستیاب ہوں۔ یہ حملہ یوکرین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔
(انل نریندر)
بھاجپا کی بڑھتی خود اعتمادی !
جیسے جیسے 2024 کے لوک سبھا انتخابات قریب آرہے ہیں، بی جے پی کی خود اعتمادی بڑھتی جار ہی ہے۔ بی جے پی کو لگتا ہے کہ وہ خود ہی 370 کو عبور کر لے گی۔ اس لیے وہ اپنے اتحادیوں سے الگ ہو رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک اتحادی جماعتیں بی جے پی اتحاد سے الگ ہو رہی ہیں۔ یہ رجحان ہریانہ میں جے جے پی سے شروع ہوا، اس کے بعد یہ بیجو جنتا دل اور اب شرومنی اکالی دل تک پہنچ گیا ہے۔ ہریانہ میں ساڑھے چار سال تک جے جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت رہی، لیکن اچانک بی جے پی نے نہ صرف اپنا وزیر اعلیٰ بدل دیا بلکہ خود کو جے جے پی سے بھی دور کر لیا۔ اس کے بعد بی جے ڈی (بیجو جنتا دل) آئی۔ بی جے پی اور بی جے ڈی کے درمیان اتحاد پر دو ہفتوں سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ اس وقت ہوا جب بی جے پی کے اڈیشہ ریاستی صدر منموہن سمل نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی ریاست کی تمام 21 لوک سبھا اور 147 اسمبلی سیٹوں پر اکیلے الیکشن لڑے گی۔ لیکن سوشل میڈیا پوسٹ جس کے ذریعہ سمل نے یہ اعلان کیا اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ بی جے پی نے انتخابات کے بعد بی جے ڈی کے ساتھ غیر رسمی معاہدے کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ سبھل نے کہا کہ یہ فیصلہ اڈیشہ کی شناخت، فخر اور لوگوں کے مفاد سے متعلق مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ دراصل، بی جے ڈی نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں 114 اور لوک سبھا انتخابات میں 12 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بی جے ڈی خود اسمبلی کی 147 میں سے 100 سیٹوں پر الیکشن لڑنا چاہتی تھی۔ بی جے پی لوک سبھا کی 27 میں سے 14 سیٹوں پر دعویٰ کر رہی تھی۔ جبکہ وہ نصف اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑنا چاہتی تھیں۔ بی جے پی کے فارمولے کے تحت بی جے ڈی کو اپنے کئی ایم ایل اے اور ایم پی کے ٹکٹ منسوخ کرنے پڑے۔ اس کی وجہ سے وہ انتخابات سے پہلے بغاوت کا ڈر تھا۔بی جے پی نے کچھ لوک سبھا سیٹوں پر بی جے ڈی کے ممبران اسمبلی کو اپنے نشان پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف لوک سبھا انتخابات سے پہلے شرومنی اکالی دل کے ساتھ پنجاب میں بی جے پی کی سیٹ ٹوٹنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا اور بات چیت ٹوٹ گئی۔ پنجاب میں جہاں اکالی دل کی شرائط کے ساتھ مقامی بی جے پی لیڈروں کے اعتراضات اتحاد میں رکاوٹ بنے، وہیں کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹوں کی تعداد کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اتحاد کے لیے اکالی دل نے کسانوں کی تحریک اور اٹاری سرحد کو تجارت کے لیے کھولنے کے تناظر میں کچھ ٹھوس یقین دہانیاں کرنے کی شرط رکھی۔ جب بی جے پی قیادت نے اس پر ریاستی یونٹ کے لیڈروں سے بات کی تو زیادہ تر لیڈر اتحاد کے حق میں نہیں تھے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ، سنیل جاکھڑ سمیت کئی لیڈروں نے کہا کہ یہ بی جے پی کے لیے سکھ ووٹروں میں دخل اندازی کرنے کا بڑا موقع ہے۔ اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ لدھیانہ کے ایم پی رونیت سنگھ بٹو کی بی جے پی میں شمولیت کی رضامندی کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ان لیڈروں نے کہا کہ مقامی سطح پر سکھوں میں بی جے پی سے کوئی ناراضگی نہیں ہے، ایسے میں پارٹی کو سکھ شناخت سے متعلق سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔ مودی حکومت کا دور، حمایت کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے۔ بی جے پی کو اکیلے لڑنے کا کیا فائدہ ہوگا؟ یہ تو 4 جون کو ہی پتہ چلے گا۔ جب ووٹوں کی گنتی ہو گی۔
(انل نریندر)
28 مارچ 2024
جیل سے ہی چلائیں گے سرکار کیجریوال!
ابھی سیاسی حلقوں میں یہ بحث چل رہی تھی کہ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے گرفتار ہونے کے بعد دہلی کی حکومت کا کیا ہوگا ۔کیا وہ استعفیٰ دیں گے اور کوئی دوسرے ممبر اسمبلی کو دہلی سونپیں گے ۔یا پھر تہاڑ جیل سے ہی سرکار چلائیں گے ؟ وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر اکھٹے ہوئے عآپ نیتاو¿ں اور ورکروں کا صاف کہنا تھا کیجریوال استعفیٰ نہیں دیں گے اور گرفتاری کے بعد بھی جیل سے ہی سرکار چلائیں گے ۔ا ن کا یہ کہنا ہی تھا کہ کیجریوال جی کا پہلا حکم تہاڑ سے آگیا ۔ای ڈی حراست میں رہ کر سرکار چلانے کے دوران اپنا پہلا حکم دیتے ہوئے وزیر پانی آتشی کو چہل کے کچھ علاقوں میں پانی و سیور سے متعلق مسئلوں کو حل کرنے کے لئے کہا ۔وزیر آتشی نے ان کے حکم کو میڈیا کے سامنے پڑھا ۔وزیراعلیٰ کیجریوال نے اپنے حکم میں کہا کہ دہلی کے کچھ علاقوں میں پانی و سیور کی کافی دشواریاں ہو رہی ہیں ۔اسے لیکر میں فکر مند ہوں ۔چونکہ میں جیل میں ہوں اس جملے سے لوگوں کو ذرا بھی تکلیف نہیں ہونی چاہیے ۔گرمیاں آگئی ہیں جہاں پانی کی کمی ہے وہاں مناسب تعداد میں ٹینکروں کا انتظام کیا جائے ۔چیف سیکریٹری سمیت دیگر حکام کو مناسب حکم دیجئے تاکہ جنتا کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔جنتا کے مسائل کا فوراً اور منظم طریقے سے حل ہونا چاہیے ۔ضرورت پڑنے پر لیفٹیننٹ صاحب کا بھی تعاون لیں ۔وہ بھی آپ کی ضرورمدد کریں گے ۔قانون کیا کہتا ہے ؟ واقف کار کہتے ہیں استعفیٰ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے کیوں کہ گرفتاری ہونے سے قصور ثابت نہیں مانا جاسکتا ۔ایسے میں کسی سی ایم کی گرفتاری ہونے سے ان کا عہدہ نہیں جا سکتا ۔دوسری طرف ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ دیکھنا ہوگا جیل سے سرکار چلانا کتنا پریٹیکل ہوگا ۔جمہوری روایت کے کتنے مطابق ہوگا ۔اس کے لئے جیل قواعد سے لیکر تمام پہلوو¿ں پر کافی کچھ منحصر کرے گا ۔لوک سبھا کے سابق سیکریٹری جرنل اور آئینی ماہر پی ڈی پی اچاریہ کا کہنا ہے کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کیبنیٹ میٹنگ ہوتی ہے ۔لیکن جہاں تک کیبنیٹ میٹنگ یا وزیروں کے ساتھ میٹنگ کا سوال ہے تو اس کے لئے جیل انتطامیہ کی منظوری ضروری ہوگی ۔اگر جیل انتظامیہ سے منظور ی نہیں ملتی تو کیبنیٹ کی میٹنگ ممکن نہیں ہوسکتی ۔اگر کیجریوال استعفیٰ نہیں دیتے تو جیل اتھارٹی پر کافی کچھ منحصر کرتا ہے ۔اگر وزیراعلیٰ جیل سے سرکار چلانا چاہیں گے اور جیل اتھارٹی اس کے لئے اجازت دے گی تو ایسا کیا جاسکتا ہے ۔ایڈووکیٹ اشونی اپادھیائے بتاتے ہیں کہ پچھلے سال انہوں نے سپریم کورٹ میں ان کی ایک عرضی دی تھی جو وزیرجیل جاتا ہے اسے عہدے سے محروم کیا جانا چاہیے ۔تب سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ عوامی رائے نمائندگان ایکٹ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جو وزیرکو عہدے سے استعفیٰ دینا ضروری کرتی ہے ۔لیفٹننٹ کورنر کے پاس کسی بھی عمارت کو جیل میں بدلنے کی پاور ہے ۔اور اگر کیجیروال انہیں نظر بند کرنے کے لئے منا سکتے ہیں تو اس سے انہیں دہلی سرکار کے یومیہ کام کاج کا حصہ بننے میں کافی مدد ملے گی ۔ادھر بھاجپا دہلی میں صدر راج لگانے کی مانگ کررہی ہے ۔
(انل نریندر)
سی جے آئی کی ٹرولنگ !
چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ان کے ساتھ حال ہی میں ہوئے اس واقعہ کو یاد کیا جب ایک سماعت کے دوران کمر درد کے سبب انہیں اپنی کرسی ٹھیک کرنے کی وجہ سے تنازعہ کھڑا کیا گیا اور انہیں ٹرول کیا گیا ۔اور شوشل میڈیا پر شاطرانہ رویہ کا سامنا کرنا پڑا ۔بنگلورو میں منعقدہ ایک پروگرام میں انہوں نے جوڈیشیل حکام کے لئے پنشن منیجمنٹ اور زندگی کے طرز و کام کے درمیان توازن بنائے رکھنے کی ضرورت پر زور ڈالا ۔جسٹس چندرچوڑ کرناٹک اسٹیٹ جوڈیشیل آفیسر فیڈریشن کی جانب سے منعقدہ ایک سمپوزیم میں بول رہے تھے ۔انہوں نے کہا عدلیہ جج کے پاس کافی کم وقت ہوتا ہے وہ خاندان اور اپنی دیکھ بھال کے لئے وقت نہیں نکال پانے کے سبب انہیں مناسب طریقے سے کام کرنے کی مشقت کرنی پڑ سکتی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کشیدگی کا اژالہ کرنا اور کام کاج و زندگی کے درمیان تواژن بنانے کی صلاحیت پوری طرح سے انصاف فراہمی سے جڑی ہوئی ہے ۔دوسروں کے زخم بھرنے سے پہلے آ پ کو اپنے زخم بھرنا سیکھنا چاہیے ۔یہ بات جج صاحبان پر بھی لاگو ہوتی ہے ۔انہوں نے جوڈیشیل حکام کے وسیع پیمانے پر منعقدہ سمپوزیم کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے ایک حالیہ شخصی تجربہ کو شیئر کیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک اہم سماعت کی لائیو اسٹریمنگ کی بنیاد پر حال ہی میں ان کی تنقید کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ محض چار پانچ دن پہلے جب میں ایک معاملے کی سماعت کررہا تھا میری پیٹھ میں تھوڑا درد ہورہا تھا اس لئے میں نے بس اتنا کیا تھا کہ اپنی کہنیاں عدالت میں اپنی کرسی پر رکھ دیں اور میں نے کرسی پر اپنی سمت بدل لی ۔انہوں نے کہا کہ شوشل میڈیا پر کئی تبصرے کئے گئے جن میں الزام لگایا گیا کہ چیف جسٹس اتنے مغرور ہیں کہ وہ عدالت میں ایک اہم ترین بحث کے بیچ اٹھ گئے ۔چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ انہوں نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ کرسی پر رخ بدلنے کے لئے کیا تھا ۔24 برسوں سے عدلیہ کام کرنا تھوڑا ایک اچھا تجربہ ہو سکتا ہے ۔جو میں نے کیا ہے ۔انہوں نے کہا میں عدالت سے باہر نہیں گیا میں نے صرف اپنی سمت بدلی لیکن مجھے کافی بدتمیزی ٹرولنگ کا شکار ہونا پڑا ۔لیکن میرا خیال ہے کہ ہمارے کندھے کافی چوڑے ہیں اور ہمارے کام کو لیکر عام لوگوں کا ہم پر پورا بھروسہ ہے ۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججوں میں یکساں ہی تعلق عدالتوں میں (ججوں کو حفاظت نہیں ملنے ) کے سلسلے میں انہوں نے ایک واردات کو بھی یاد کیا جس میں ایک نوجوان دیوانی جج کو وار کے ایک ممبر نے دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اس کے ساتھ ٹھیک برتاو¿ نہیں کیا تو وہ ان کا تبادلہ کروا دے گا ۔کام کاج اور زندگی کے درمیان تواژن اور کشیدگی مینجمنٹ اس دوروزہ سمپوزیم کے موضوعات میں سے ایک تھا ۔اس بارے میں چیف جسٹس نے کہا کشیدگی اژالہ کی صلاحیت ایک جج کی زندگی میں اہم ہے ۔خاص کر ضلع عدالتوں کیلئے انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں آنے والے کئی لوگ اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کو لیکر کشیدگی میں رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی شکل میں میں نے بہت سے وکیلوں اور موکلوں کو دیکھا ہے ۔جب وہ عدالت میں اپنی حد پار کرجاتے ہیں اس کا جواب یہ نہیں کہ انہیں توہین عدالت کا نوٹس دلوا دیں ۔یہ سمجھنا ضروری ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ حد کیوں پار کی ہے ؟
(انل نریندر)
23 مارچ 2024
چراغ پر مہربان ،پارس کو ٹھینگا !
بھارتیہ جنتا پارٹی (بھاجپا ) آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں بہار کی 17 سیٹ جنتا دل (یونائیٹڈ ) 16 سیٹ اور چراغ پاسوان کی قیادت والی لوک جن شکتی پارٹی (لوجپا) 5 سیٹ پر چناو¿ لڑے گی ۔سیٹ بٹوارے کو لیکر ہوئے سمجھوتہ میں این ڈی اے میں شامل مرکزی وزیر پشو پتی پارس کی رہنمائی والی راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے دعوے کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے ۔اور اسے ایک بھی شیٹ نہیں دی گئی ۔پارس خود حاجی پور لوک سبھا سیٹ سے ایم پی ہیں او رایل جے پی میں ہوئی ٹوٹ ہونے کے بعد پارٹی کے چاردیگر ایم پی بھی ان کے ساتھ ہیں ۔پشو پتی پارس کا کہنا ہے کہ میں نے ایمانداری سے این ڈی اے کی خدمت کی ۔نریندر مودی بڑے نیتا ہیں ۔بااحترام لیڈر ہیں لیکن ہماری پارٹی کے ساتھ شخصی طور سے میرے ساتھ ناانصافی ہوئی اس لئے میں بھارت سرکار کی کیبنیٹ منتری کے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں ۔پشو پتی کمار پارس لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر رام ولاس پاسوان کے بھائی ہیں ۔لوک جن شکتی پارٹی کے چراغ پاسوان کو ان کے چاچا و مرکزی وزیر پشوپتی کمار پارس سے زیادہ اہمیت دینے کے پیچھے بھاجپا پر چراغ کا کوئی دباو¿ نہیں ۔بلکہ اس کے پیچھے بھاجپا کی 400 پار کرنے کی حکمت عملی ہے ۔موجودہ سیاسی حالات میں چراغ پاسوان بھاجپا کو ان کے چاچا پشو پتی کمار پارس سے زیادہ فائدہ مند دکھائی دے رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بھاجپا نے چاچا کو درکنار کر بھتیجے کو ترجیح دی ۔پشوپتی پارس کو نظر انداز کرنے کے پیچھے اب چاچا کی جگہ بھتیجہ ۔بھاجپا کی پہلی پسند ہوگئی ہے ۔اس کے پیچھے بھاجپا کی تیسری بار اقتدار میں اانے کے لئے بھاجپا کی چناوی حکمت عملی رہی ہے ۔دراصل بھاجپا نے اس بار 400 پار کا نعرہ دیا ہے اور اپنے ٹارگیٹ کو حاصل کرنے کے لئے بھاجپا کسی طرح کا خطرہ مول لینے کے بجائے ایک ایک سیٹ کا گہرائی سے جائزہ کر اپنی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔چراغ کو چاچا سے زیادہ اہمیت دینا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ یہ سیاسی تجزیہ نگار بھی مانتے ہیں کہ جنتا کے بیچ جو سیاسی حیثیت چراغ کے والد رام ولاس پاسوان کی تھی وہ پشو پتی پارس کی نہیں ہے ۔اپنے بھائی کی کرپاسے ہی پشو پتی پارس ایم پی بنے تھے ۔رام ولاس پاسوان کے ندھن کے بعد یہ پہلا لوک سبھا چناو¿ ہے ۔ایسے میں رام ولاس پاسوان کے ندھن سے ان کے حمایتیوں کی ہمدردی کا فائدہ پشو پتی پارس کو نہیں بلکہ چراغ پاسوان کو ملے گا ۔این ڈی میں پشو پتی پارس یہ بے عزتی کے ملنے کے بعدجہاں یہ مانا جارہا تھا کہ وہ کوئی بڑا اعلان کریں گے ۔لیکن انہوں نے کیبنیٹ سے استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی بڑا اعلان ابھی تک نہیں کیا ہے ۔یہ ہی نہیں استعفیٰ کے اعلان کے بعد انہوں نے وزیراعظم کو بڑے قد کا لیڈر بتاتے ہوئے ان کی تعریف بھی کی۔دراصل پشو پتی پارس ابھی بھی این ڈی اے و بھاجپا سے کوئی سمان جنک پیش کش کی امید لگائے ہوئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پارس نے چپ چاپ بے عزتی تو سہہ لی لیکن ابھی تک این ڈی اے و بھاجپا کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔بھاجپا کے کچھ نیتا چاہتے تھے چاچابھتیجہ مل کر چناو¿ لڑیں لیکن بھتیجہ آخر کار اپنے چاچا پر بھاری پڑ گیا ۔پشوپتی کیا انڈیا الائنس میں جا سکے ہیں؟
(انل نریندر)
پوتن کی ریکارڈ توڑ جیت !
ولادیمیر پوتن پانچویں بار روس کے صدر چنے گئے ہیں اب ان کی میعاد 2030 تک ہوگی ۔اس چناو¿ میں پوتن کو ریکاڈ 87 فیصدی ووٹ ملے ۔اس سے پہلے چناو¿ میں انہیں 76.7 فیصدی ووٹ ملے تھے ۔حالانکہ ان کے سامنے کوئی مضبوط حریف نہیں تھا ۔کیونکہ کرملن روس کی سیاسی مشینر ی و چناو¿ پر سخت کنٹرول رکھتا ہے ۔مغربی دیشوں کے کئی لیڈروں نے اس چناو¿ پر نکتہ چینی کی ہے ۔ان کا کہنا ہے چناو¿ آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوئے ۔چناو¿ پر نکتہ چینی کرنے والوں میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی شامل ہیں ۔انہوں نے پوتن کو ایسا تاناشاہ بتایا ہے جس پر اقتدار کا نشہ حاوی ہے ۔71 سال کے ہو چکے پوتن 1999 میں پہلی بار صدر چنے گئے تھے جو اسٹالن کے بعد روس پر حکومت کرنے والے دوسرے لیڈر ہیں ۔وہ اسٹالن کا بھی ریکارڈ توڑ دیں گے ۔یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ تیسرے سال میں داخل ہو گئی ہے ۔اس جنگ میں روسیوں کی موتیں مسلسل ہو رہی ہیں ۔وہیں اس جنگ کی وجہ سے مغربی دیشوں نے روس کو الگ تھلگ کر دیا ہے ۔صحافی اودرئی سولہ توف معزولی میں لندن میں رہ رہے ہیں ۔انہیں 2020 میں روس چھوڑنے کو مجبور کیا گیا تھا ۔وہ کہتے ہیں کہ پوتن جانتے ہیں کہ دیش میں ہونے والی ہر طرح کی سیاسی بحث کو کیسے دبایا جائے ۔وہ کہتے ہیں کہ پوتن اس میں بہت ماہر ہیں ۔وہ اپنے سیاسی حریفوں کو ہٹانے میں سچ میں بہت اچھے ہیں ۔2024 کے چناو¿ پولنگ پر صرف تین دیگر امیدواروں کے نام تھے ۔اس میں سے کوئی بھی پوتن کے لئے حقیقی چیلنج ثابت نہیں ہوا ۔ان سبھی نے راشٹریہ پتی اور یوکرین میں جاری جنگ دونوں کے لئے حمایت دی ۔صدرکے حریفوں سے خطرہ ہوتا ہے تو یا تو جیل میں ڈال دیا گیا یا مار دیا گیا یا کسی دیگر طریقے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔حالانکہ کرملن اس میں کسی بھی طرح سے شامل ہونے سے انکار کرتا ہے ۔صدارتی چناو¿ شروع ہونے سے ٹھیک ایک مہینے پہلے پوتن کے کتر حریف 47 سالہ ایلکسی ویلنی کی جیل میں موت ہو گئی تھی ۔قابل ذکر ہے 1999 میں اس وقت کے روسی سدر بورس یلسن کے استعفیٰ کے بعد پوتن پہلی بار نگراں صدر بنے اور پھر 2000 میں صدر بنے تھے ۔آئینی مجبوری کے چلتے جب 2008 میں انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا تب انہوں نے اپنے ساتھی دیمیک میداف کو صدر بنایا اور انہیں خود دیش کے وزیراعظم بن گئے ۔آئینی ترمیم کے ذریعے پوتن پھر 2012 اور 2018 میں صدر بنے پھر 2020 میں کی گئی آئینی ترمیم سے ان کی 2036 تک ان کے صدر بننے کا راستہ کھل گیا ہے ۔ظاہر ہے زیادہ تر تانہ شاہوں کی طرح پوتن بھی لمبے عرصے تک اقتدار مین رہنا چاہتے ہیں ۔چناو¿ نتائج کے فوراً بعد پوتن نے امریکہ کی قیادت والے نیٹو کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مغربی ملکوں نے یوکرین میں اپنی فوج تعینات کی تو تیسری جنگ عظیم چھیڑنے کا امکان ہے ۔دوسری روسی صدر کی اس سخت وارننگ پر فرانس کے صدر مینول میکروں کے آئے بیان کے سلسلے میں آیا جس میں انہوں نے یوکرین میں فرانس اور نیٹو کے فوجیوں کو تعینات کرنے کے بارے میں کہا تھا ۔امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی پوتن کو ظالم ،قاتل اور تانہ شاہ اور جنگی مجرم بتایا تھا ۔پوتن اگلے 6 برسوں تک مضبوطی کے ساتھ اقتدار میں بنے رہیں گے اور امریکہ و مغربی دیشوں کو اس بات کا دھیان رکھنا ہوگا۔
(انل نریندر)
21 مارچ 2024
ساو ¿تھ کی 129 سیٹیں فیصلہ کن ہوںگی!
عام چناو¿ میں اس مرتبہ ۵ساو¿تھ ہندوستانی ریاستوں کی 129 سیٹوں کا رول اہم ہونے جا رہا ہے ۔ایک طرف بھاجپا اپنے مشن 370 میں سے ان سیٹوں پر بڑی جیت حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔وہیں کانگریس کو ساو¿تھ سے بڑی امیدیں ہیں ۔ان دونوں سیاسی پارٹیوں کے علاوہ ڈی ایم کے وائی ایس آر ،بی آر ایس اور مقامی پارٹیاں جیسے کمیونشٹ ،علاقائی پارٹیاں بھی اپنی علاقائی دبدبہ بچائے رکھنے میں لگی ہیں ۔ایسے میں یہ سیٹیں قومی و علاقائی پارٹیوں کے لئے بے حد اہم ہو گئی ہیں ۔کرناٹک ،کیرل ،تملناڈو،آندھرا پردیش، اور تلنگانہ میں سے صرف ۲ریاست ایسی ہیں جہاں پچھلے چناو¿ میں بھاجپا نے سیٹیں جیتی تھیں ۔اس میں بھاجپا نے کرناٹک میں 25 اور تلنگانہ میں 4 سیٹیں جیتی تھیں ۔باقی ۳ ریاستوں میں ان کا کھاتہ تک نہیں کھل پایا تھا ۔اس کے باوجود جنوبی ریاستوں میں سب سے زیادہ سیٹیں بھاجپا کے پاس ہیں ۔ساو¿تھ کی باقی 100 سیٹوں پر بھاجپا نے پچھلے 5 برسوںمیں کافی کام کیا ہے اور اسے ان میں سے کچھ سیٹیں جیتنے کی بھی امید ہے ۔تملناڈو میں پروگریسو سیکولر اتحاد نے پچھلی مرتبہ اچھی پرفارمنس دی تھی ۔ڈی ایم کے کی قیادت میں کانگریس و لیفٹ پارٹیاں شامل تھیں ۔اس نے 39 میں سے 38 سیٹیں جیتی تھیں ۔یہ اتحاد اس بار بھی ہے اور اسے اپنی پرفارمنس دہرانے کی امید ہے ۔آندھرا پردیش میں بھاجپا نے کے ڈی پی اور جن سینا سے اتحاد کیا ہے ۔پچھلی بار 25 میں سے 22 سیٹیں جیت کر وائی ایس آر نے شاندار پرفارمنس دی تھی اور ٹی ڈی پی کو محض تین سیٹیں ملی تھیں ۔بھاجپا کوئی سیٹ نہیں جیت سکی تھی لیکن اس مرتبہ بھاجپا ٹی ڈی پی ،جن سینا اتحاد نے وآئی ایس آر کانگریس کے لئے چیلنج کھڑا کر دیا ہے ۔تلنگانہ میں اس بار بھی مقابلہ دلچسپ ہوگا ۔پچھلی بار بی آر ایس نے 9 بھاجپا نے 4 کانگریس نے 3 ، ایم آئی ایم نے 1 سیٹ جیتی تھی ۔یہاں کل 17 سیٹیں ہیں ۔ اس بار کانگریس وہاں اقتدار میں ہے ۔ڈی آر ایس کمزور ہوئی ہے ۔بھاجپا نے بھی بنیادی سطح پر اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کی ہے ۔کرناٹک میں پچھلے عام چناو¿ میں بھاجپا کی پرفارمنس شاندار رہی تھی ۔اس نے 28 میں سے 25 سیٹیں جیتی تھیں ۔کانگریس اور جے ڈی ایس 1-1 سیٹ جیت پائی تھی جبکہ ایک سیٹ آزاد امیدوار نے جیتی تھی ۔اس بار سیدھا مقابلہ بھاجپا اور کانگریس کے درمیان ہونے کے آثار ہیں ۔یہاں کانگریس اقتدار میں ہے اور ڈی کے شیو کمار جیسے ایک ہوشیار سیاستداں کانگریس کے پاس ہے ۔اس لئے وہاں سے بھاجپا کو پرانی تاریخ دہرانا مشکل ہوگی ۔کیرل میں پچھلی بار کانگریس کی پرفارمنس شاندار رہی تھی اس میں 20 میں 15 سیٹیں جیتی تھی ۔جبکہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور آر ایس پی ایک ایک سیٹ پر کامیاب ہوئی تھی جبکہ کمیونسٹ پارٹی اور آر ایس پی ایک ایک سیٹ جیت پائی تھی ۔دو سیٹیں انڈین مسلم لیگ اور ایک سیٹ کے سی ایم نے جیتی تھی ۔بھاجپا کے ووٹ فیصد وہاں بڑھ کر 13 فیصدی تک ہوا لیکن وہ کوئی سیٹ نہ جیت پائی ۔بھاجپا کو امید ہے کہ اس مرتبہ یہاں اس کا کھاتا کھل سکتا ہے ۔پورے دیش کی طرح بھاجپا کا ٹرمپ کارڈ وزیراعظم نریندر مودی ہیں ۔اور مودی جی مسلسل ساو¿تھ انڈیا کے مندروں میں متھا ٹھیک رہے ہیں ۔چناوی ریلیوں میں بھی بھاجپا کا زور ساو¿تھ پر ہوگا ۔کانگریس کے لئے بھی ساو¿تھ انڈیا میں اچھی پرفرامنس کرنے کی چنوتی ہے ۔راہل گاندھی کی پہلی یاترا بھی کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...