Translater

09 اپریل 2022

کیا آریہ سماج شادی کا سرٹیفکیٹ دے سکتا ہے ؟

کیاآریہ سماج مندر میں ہوئی شادی میں سپیشل میرج ایکٹ کے تقاضوں کی تعمیر کرنی ہوگی ؟ سپریم کورٹ میں اٹھے اس سوال کا بڑی عدالت نے محاسبہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔معاملے میں داخل عرضی پر نوٹس جاری کیا ۔مدھیہ بھارت آریائی پرتی ندھی سبھا نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ مین چنوتی دی ہے جس میں ہائی کورٹ نے آریہ سماج مندر میں ہونے والی شادی کو اسپیشل میرج ایکٹ کی شرائط کو لاگو کرنے کو کہا ہے ۔سپریم کورٹ نے معاملے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی ہے ۔مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مدھیہ بھارت آریہ پرتی ندھی سبھا کو کہا تھا کہ وہ سپیشل میرج ایکٹ کے تقاضوں کو لاگو کرے اس کے ساتھ ہی آریہ سماج مندر میں ہونے والی شادی میں اسپیشل میرج ایکٹ کے تقاضوں کو لاگو کیا جائے ۔جس کے تحت شادی سے پہلے نوٹس وغیرہ جاری کرنا شامل ہے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے کہا تھا سپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہی میرج سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرے گا ۔سبھا میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو چنوتی دی ہے سپریم کورٹ کے جسٹس کے ایم جوشو کی سربراہی والی بنچ نے نوٹس جاری کر ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی ہے ۔آریہ سبھا کی طرف سے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ان کے وکیل شیام دیوان نے دلیل دی ہے کہ ہائی کورٹ میں تو حکم دیا ہے اس پر روک لگائی جائے ۔آریہ سماج مندر میں اگر شادی ہوتی ہے تو دونوں فرقی ہندو ہونے چاہیں اور کسی بھی شرط کی ضرورت نہیں ۔اسپیشل میرج ایکٹ کے تقاضہ جس میں نوٹس جاری کرنا ،شادی کو لیکراعتراض مانگنا وغیرہ آتے ہیں چاہے آریہ سماج مندر میں ہونے والی شادی کے لئے نہیں ہو سکتا ۔ایسی پہلے سے شرط آریہ سماج میرج ایکٹ اور ہندو میرج ایکٹ کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔ (انل نریندر)

ستیندر جین اور سنجے راوت پر ای دی کا شکنجہ!

انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ آمدنی سے زیادہ جائیداد معاملے سے جڑے منی لانڈرنگ تفتیش کے تحت دہلی کے وزیر صحت و برقیات اور بجلی ستیندر جین اور ان کی اہلیہ ورشتہ داروں کی 4.81کروڑ روپے کی جائیدادیں قرق کر دی گئی ہیں ۔ای ڈی حکام نے بتایا کہ جن کمپنیوں کا اثاثہ ضبط کیاگیا ہے ان میں جین کی بھی ملکیت تھی ۔ای ڈی نے 2018میں جین سے اس معاملے میں پوچھ تاچھ کی تھی ۔جانچ میں پتہ چلا کہ 2015-16کے درمیان جین کی ملکیت وکنٹرول والی کمپنیوں میں فرضی کمپنیوں کے ذریعے 4.81کروڑ جمع کئے گئے ۔یہ رقم چھوٹے فرضی پیمنٹ کی شکل میں جمع ہوئی تھی ۔فرضی کمپنیوں کو رقم حوالے سے کولکاتہ سے ملی تھی ´۔ای ڈی نے پایا کہ جین کی کمپنیوں میں آئی رقم سے دہلی و آس پاس کے علاقوں میں زمین خریدی گئی اور پہلے سے خریدی زراعتی زمین کے قرض میں ادا کی گئی ۔ای ڈی نے اگست 2017میں داخل سی بی آئی کی ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر ستیندرجین کے خلاف آمدنی سے زیادہ جائیداد معاملے میں منی لانڈرنگ کی جانچ شروع کی تھی ادھر ای ڈی نے سیو سینا کے ایم پی سنجے راوت کی بیوی و ان کے خاندان کے افراد کی 11.15کروڑ کے اثاثے ضبط کئے ہیں ۔ان میں سنجے راوت کی بیوی ورشاءو سپنا پارکھر کے نام پر چالیس علی باغ میں آٹھ پلاٹ اور ممبئی کے دادر میں فلیٹ شامل ہیں ۔سنجے کے قریبی پروین روات وی بلکھر و ٹھانے میں زمین قرق کی گئی ۔سپنابھی سنجے راوت کی قریبی کی بیوی ہے ۔ای ڈی نے منی لانڈرنگ انسداد قانون کے تحت انترم آرڈر جاری کیا تھا ۔مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے سنکٹ مورچک کہے جانے والے سنجے راوت پر 10.34کروڑ کے پترا مال ری ڈولمپنٹ سے جڑے گھوٹالے میں شکنجہ کسا گیا ہے ۔سنجے نے راشٹریہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو کوخط لکھا تھا کہ ای ڈی ان کے رشتہ داروں و دوستوں کے خلاف اپنے اختیارات کا بے جا استعمال کررہی ہے ۔پروین راوت کی فروری میں گرفتاری ہو چکی ہے ۔ای ڈی نے سنجے کی بیوی ماددھوری نے 2010میں ورشاءکے بغیر سود 55لاکھ روپے کا قرض دیا تھا جس میں سنجے نے ممبی میں فلیٹ خریدا تھا ای دی کی کاروائی کے بعد سنجے راوت نے ٹوئیٹ کیا استیہ میو جیتے ،چاہے میری پراپرٹی ضبط کر ،گولی مار دو ،یا جیل بھیج دو میں ڈرنے والا نہیں ہوں ۔سنجے راوت نے کہا کہ میں بالا صاحب ٹھاکرے کا چیلا ہوں اور کچھ جھک نہیں سکتا ۔سنجے راوت نے کہا پراپرٹی کا مطلب آخر کیا ہوتا ہے ۔کیا میں میہول چوکسی ہوں ،نیرو ومودی ہوں یا پھر میں وجے مالیہ ہوں یا پھر میں امبانی یا اڈانی جیسا نہیں ہوں میں جس گھر میں رہتا ہوں وہ چھوٹا سا ہے ۔میرا جو آبائی جگہ مکان ہے وہ عالیشان ہے ۔وہاں ایک ایکڑ زمین بھی نہیں ہے ۔جو بھی ہم نے کیا وہ بھی محنت سے کی کمائی سے خریدا ہے جو 2009میں لی گئی تھی زمین ۔ (انل نریندر)

08 اپریل 2022

فلم دی کشمیر فائلز سے بوکھلایا پاکستان!

فلم دی کشمیر فائلز سے بنے ماحول کے درمیان کشمیری پنڈتوں کی وادی میں واپسی کی خبروں سے پاکستان میں بوکھلاہٹ ہے ۔پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے آتنکی تنظیموں کو غیر کشمیریوں پر حملوں کا خوف بنا دیا ہے ۔ایک طرح کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی کا ماحول بگاڑنے اوردوسرے سری امرناتھ یاترا میں رکاوٹ ڈالنے کے منصوبے سے دہشت گردوں کی وارداتیں تیز کرنے کو کہا ہے ۔خفیہ ایجنسیوں سے جڑے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان پریشان ہے کہ اگر پنڈتوں کی وادی میں واپسی جذوی کامیابی مل گئی تو پچھلے تین چاردہائیوں سے آئی ایس آئی کی سازش پر پانی پھر سکتا ہے ۔اس وجہ سے سرحد پار سے دہشت گردوں کوہدایت ملی ہے کہ زیادہ سے زیادہ باہری لوگوں کو نشانہ بنایا جائے سخطی کے چلتے اس کی کمان اب علاقہ میں سرگرم پاکستانی دہشت گردوں کو سونپی گئی ہے اس کام میں جنوبی کشمیر میں سرگرم مقامی انڈر گراو¿نڈ نیٹورک کا استعمال کیا جا رہا ہے جو پہلے ٹوہ لے کر دہشت گردوں تک اطلاعات پہونچا رہے ہیں ۔اس کے بعد آتنکی پہونچ کرواردات انجام دیتے ہیں آئی جی کشمیر پولیس وجے کمار کا کہناہے کہ پورے حالات پر نظر ہے ۔جلد ہی اس طرح کے واقعات پر شکنجہ کش دیا جائے گا ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔ذرائع بتاتے ہیں کہ پلوامہ کے لسی دوہرا اور دیگر علاقوں میں صنعتی کارخانے ہیں جہاںروزانہ باہر سے مال لے کر گاڑیاں پہونچتی ہیں ساتھ ہی غیر کشمیری محنت مزدوری کر کے گزارا کرتے ہیں ایسے میں انہیں نشانہ بنا کر آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں ۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دہشت گرد امرناتھ یاترا کے دوران بھی خلل ڈال سکتے ہیں تاکہ دوسری ریاستوں سے لوگ یہاں کم تعداد میں پہونچیں۔ (انل نریندر)

گورکھناتھ مندر پر آتنکی حملہ!

گورکھپور میں گورکھناتھ مندر پر اتوار کی رات ہوئے حملے کے تار خطرناک دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس سے جڑے ہیں ۔گورکھپور کے سو ل لائن کے باشندے حملہ آور مرتضی عباسی کے لیپ ٹاپ سے جانچ ایجنسیوں کو اہم سراغ ملے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سیریا میں آئی ایس آئی ایس کے دہشت گردوں کے رابطے میں تھا اور لون ولف اٹیک کی تیاری کررہا تھا ۔اس معاملے کی جانچ پوری یوپی اے ٹی ایس کو سونپ دی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے احکامات دئیے ہیں کہ اے ٹی ایف کے ساتھ ایس ٹی ایف بھی اس واقعہ کا خلاصہ کرنے کے لئے مشترکہ طور پر کام کرے گی ۔پیر کو لوک بھون کے میڈیا سینٹر میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں پردیش کے اپر چیف سیکریٹری ابھیناش کمار اوستھی اور اے ڈی جے قانون و انتظام پرشانت کمار نے مشترکہ طور پر کہا کہ یہ حملہ ایک سنگین سازش کا حصہ ہے اور دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے یہ آتنکی واقعہ ہے ۔حملہ آور شخص آتنکی واقعے کو انجام دینے کی بدنیتی سے مندر کمپلیکس میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ضلع پولیس و پی ایس ای کے بہادر جوانوں نے اسے ناکام کر دیا ۔ان جوانوں نے پورے تحمل کے ساتھ کاروائی کی ۔ذرا سی چوک ہونے پر حملہ آور درشن کرنے والے لوگوں کوبھی نقصان پہوچنا سکتا تھا ۔واردات میں حملہ آور کے ذریعے پی ایس ای کے دوجوانوں کو شدید طور پر زخمی بھی کیا گیا ۔گورکھناتھ مندر کی حفاظت میں تعینات پی ایس ای جوانوں پر دھاردار ہتھیار سے حملہ کرنے کا ملزم مرتضیٰ احمد عباسی کے موبائل لیپ ٹاپ سے کئی سراغ اے ٹی ایس کے ہاتھ لگے ہیں ۔جانچ میں سامنے آئے ثبوتوں کی بنیاد پر اے ٹی ایس کی ٹیم حملہ آور کا آتنکی کنکشن تلاشنے نیپال گئی ہے ۔احمد عبادسی کے خلاف پولیس نے دو الگ الگ مقدمے درج کئے ہیں پہلے مقدمے میں پولیس نے اقدام قتل اور لوٹ کی کوشش اور مذہبی نفرت پھیلانے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے سمیت مختلف سنگین دفعات لگائیں ہیں ۔دوسرا مقدمہ ہتھیار ایکٹ کے تحت درج کیا ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ اتوا ر کو ہوئے حملے سے پہلے مرکزی ایجنسیوں نے اپنے الرٹ میں اس کا اندیشہ جتایا تھا ۔ذرائع کی مانیں تو یوپی چناو¿ کے بعد صوبہ میں بھاجپا سرکار بننے سے بوکھلائی آتنکی تنظیم مسلسل آتنکی حملے کی سازش تیار رکر ہی ہیں ۔قریب 20دن پہلے نیپال کے راستے یوپی میں گھس پیٹ ہونے کے سراغ بھی خفیہ ایجنسیوں کو ملے تھے ۔حالانکہ اس سے دہشت گردوں کی پہچان اور حملے کی جگہ پر پختہ جانکاری نہیں تھی ۔جانچ ایجنسیوں کو اندیشہ تھا کہ آتنکی تنظیم ایودھیا ،کاشی ،متھورا کے علاوہ گورکھناتھ مندر کو بھی نشانہ بنانے کی تیاری میں ہے ۔پی سی کے مستعد جوانوں نے ایک بڑا آتنکی حملہ ناکام کر دیا ہے ۔اس بار پوری چوکسی برتنی ہوگی ۔یہ آتنکی تنظیمیں بوکھلائی ہوئی ہیں ۔لیکن پھر کئی اور کوشش کر سکتی ہیں ۔ (انل نریندر)

07 اپریل 2022

سری لنکا جیسے حالات نہ ہوجائیں!

وزیر اعظم نریندر مودی کی سینئر افسروں کے ساتھ ہوئی ملاقات میں کچھ افسران نے کئی ریاستوں کے ذریعے اعلا ن کردہ لبھاونی اسکیموں پر تشویش جتائی ہے اور دعویٰ کیا کہ وہ مالی طور سے صحیح نہیں ہے۔ اور یہ اسکیمیں انہیں سری لنکا جیسے حالات کی طرف لے جا سکتی ہیں ۔ یہ بات ذرائع نے اتوار کو بتائی ۔واضح ہو کہ وزیر اعظم مودی نے سنیچر کو اپنے سرکاری مکان پر اپنے ایک کیمپ آفس میں سبھی محکموں کے سیکریٹریوں کے ساتھ چار گھنٹے تک میٹنگ کی تھی جس میں این ایس اے چیف اجیت ڈوبھال ،وزیر اعظم کے پرسنل سیکریٹری پی کے مشرا اور کیبنٹ سیکریٹری راجیو گوکھلے کے علاوہ مر کزی سرکار کے دیگر افسران بھی شامل ہوئے تھے ۔ میٹنگ میںسبھی افسران نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں ایک لبھاونی اسکیم کا ذکر کیا جو اقتصادی طور کمزرو حالت میں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دیگر ریا ستوں میںاسی طرح کی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مالی طور سے ناقابل عمل ہے ۔ اور ریاستوں کو سری لنکا جیسی تنگی کے حالات کی طرف لے جا سکتی ہےں ۔ وزیر اعظم نے افسروں سے صاف طور سے کہا کہ وہ کمیوں کی تنگ نظری کی ذہنیت سے باہر نکل کر بہتر انتظام کی نئی چنوتی کا سامنا کریں ۔ وزیر اعظم نے بڑی ترقیاتی اسکیموں کو نہ لینے کے بہانے کے طور پر غریبی کا حوالہ دینے کی پرانی کہانی کو چھوڑ دیں اور ان سے ایک بڑا نظریہ اپنا نے کو کہا۔ کووڈ 19-وبا ءکے دوران سیکریٹریوں نے جس طرح ساتھ مل کر ایک ٹیم کی طرح کام کیا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ انہیں بھارت سرکار کے سیکریٹریوں کی شکل میںکام کرنا چاہیے نہ کہ صرف اپنے مطالبے کا سیکریٹریوں کی حیثیت میں اور ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ ذرائع کے دعویٰ کیا کہ 24سے زیادہ سیکریٹریوں نے اپنے خیالات رکھے اور وزیر اعظم کے ساتھ اپنے نظریہ کو شیئر کیا جنہوں نے ان سب کو توجہ سے سنا ۔ 2014کے بعد سے وزیر اعظم کی سیکریٹریوں کے ساتھ یہ نویں میٹنگ تھی۔ (انل نریندر)

صحافی سے دہشت گرد زندگی کی کہانی !

جموں و کشمیر کے رعنا واری علاقے میں بدھ کے روز سیکورٹی فورسیز اور دہشت گردوں کے درمیان مڈبھیڑ میں لشکر طیبہ کے دو دہشت گرد مارے گئے ۔ کشمیر کے آئی جی پی وجے کمار نے بتایا کہ مارے گئے دہشت گردوں میں سے ایک کے پاس میڈیا کا شناختی کارڈ تھا کمار نے ٹویٹ کیا کہ مارے گئے ایک دہشت گرد کے پاس میڈیا کا جو شناختی کارڈ ملا اس سے میڈیا کے غلط استعمال کا صاف اشارہ ملتا ہے ۔ شناختی کارڈ میں لکھا ہے امام رئیس احمد بٹ اور وہ ویلی میڈیا سروس کا چیف ایڈیٹر ہے ۔ اس سماچار ایجنسی کا کوئی پتا نہیں ہے۔ دوسرے دہشت گرد میں پہچان ہلا ل احمد کے طور پر ہوئی ہے۔ آئی جی پی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن محکمہ اور صحافیو کی انڈین پریس کونسل کی گائڈ لائنز کی تعمیل کرنا چاہئے ورنہ پولیس اس سلسلے میں کاروائی کرے گی۔ انہوں نے الزام لگا یا کہ پاکستان اور کشمیر کے کچھ صحافیوں کے ذریعے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے ۔پولیس چیف نے کہا کہ میں صحا فیوں سے ملک مخالف سرگرمیوں ، لوگوں کو اکسانے یا جھوٹی خبریں پھیلانے کی جیسی حرکتوں میں شامل نہ ہونے کی اپیل کرتاہوں ۔ پولیس کو دہشت گردوں کے شہر کے رعنا واری علاقے میں چھپے ہونے کی جانکاری ملی تھی ۔ پولیس نے علاقے کی گھیرا بندی کر کاروائی شروع کی تھی اور اس دوران دہشت گر دوں کو گائڈنگ کرنے کی کاروائی مڈ بھیڑ میں تبدیل ہوگئی ۔مارے گئے دونوں دہشت گرد اننت ناگ ضع کے باشندے تھے ۔ رئیس احمد بھٹ 2021میں دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے سے پہلے وہ ایک صحافی تھا اور ضلع میں قتل کے کئی واقعات میں ملوث تھا ۔ بھٹ کچھ لوگوں کو نشانہ بنانے سری نگر آیا تھا۔ ہمیں بر وقت اس سلسلے میں معلومات مل گئیں اور کاروائی شروع کی گئی ۔ وہ عام شہریوں کے قتل کے واقعات میں شامل تھا اس کے خلاف دو ایف آئی آر درج ہیں ۔اور سری نگر جموں پولیس نے بتایا کہ سوپور شہر میں سی آر پی ایف کے ایک بنکر پر گرینیڈ پھینکنے والی عورت کی پہچان ہو گئی ہے۔ یہ بر قع پہنے ہوئی تھی جلد ہی اس کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس خاتون نے سی آر پی ایف کے بنکر پر ایک گولہ پھینکا تھا جس میں دھماکہ سے پولیس اور سی آر پی ایف کے جوان زخمی ہو گئے تھے ۔ اور عورت کا موقع پر لگئے سی سی ٹی وی کیمرے میں پوری حرکت ریکارڈ ہو گئی ہے۔ اب آتنکی تنطیم عورتوں کا بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل کیا جائے لگا ہے۔ (انل نریندر)

06 اپریل 2022

پی ایم مودی کو ختم کردوں گا!

ای میل کے ذریعے نریندر مودی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ دھمکی بھرا ای میل آنے کے بعد خفیہ ایجنسیاں الرٹ ہو گئیں ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ای آئی اے کی ممبئی برانچ کو بھیجے گئے ای میل میں پی ایم کو مارنے کی دھمکی دی گئی ہے ، جس میں کہاگیا ہے کہ 20سلیپر سیل تیار ہیں جن کے پاس 20کلو آرڈی ایکس ہے ۔ ای میل کرنے والے نے لکھا ہے کہ وہ خود کشی کر رہا ہے تاکہ مودی کو مارنے کی شازش کا پر دہ فاش نہ ہو سکے ۔ ای میل ملنے کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں تفصیل اکٹھی کر رہیں ہیں ۔ پی ایم مودی کو مارنے کی سازش کے سلسلے میں جو ای میل آیا ہے اس کا ذریعہ کیاہے؟ ای میل کے مطابق حملے کی پلاننگ تیار ہو چکی ہے۔ ا ی میل لکھنے والے نے اپنے آپ کو بہت سے آتنکی گروپوں سے بھی جوڑا ہے ۔ نیشنل تفتیش رساں ایجنسی (این آئی اے) نے دھمکی بھرے ای میل کو خفیہ اور دیگر سیکورٹی ایجنیسوں کو بھیج دیا ہے جس ای میل آئی ڈی سے یہ میل بھیجا گیا ہے اس کی گہرائی سے پڑتال جاری ہے۔ پچھلے سال جون میں 22سالہ لڑکے سلمان نے پولیس کو فون کرکے پی ایم کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی ۔ پولیس کی جانچ میں سامنے آیا تھاکہ ملزم پہلے ہی ضمانت پر جیل سے باہر آیا تھا اس کے خلاف پہلے سے ہی پانچ کیس درج تھے ۔ ملزم نے شروعاتی پوچھ تاچھ میں بتایا تھا کہ اس نے دوبارہ جیل کے اندر جانے کیلئے یہ ٹیلی فون کیا تھا۔پی ایم مودی کو دھمکی سے متعلق ای میل کی جانچ ہونے کے بعد ہی ملزم گرفت میں آسکے گا۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...