Translater

18 فروری 2012

ایران کے مشتعل رویئے کا مغربی ممالک کیا جواب دیں گے؟



Published On 18th February 2012
انل نریندر
ایران کسی کے آگے جھکنے والا نہیں ہے یہ ہی اس کی روایت رہی ہے اور اسی روایت پر وہ قائم ہے۔ مغربی ممالک کے بڑھتے دباؤ کا لگتا ہے الٹا اثر ہوا ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ مشتعل ہوگیا ہے۔ ایران نے مغربی ممالک کے خلاف بدھ کے روز سخت رویہ اختیار کرلیا ہے۔ امریکہ اور یوروپی ممالک کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے نہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کا اعلان کیا بلکہ یوروپی ملکوں کی تیل سپلائی روکنے کی دھمکی بھی دے دی۔ تہران میں ایک تقریب کے دوران ایرانی صدر احمدی نژاد نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بے وجہ کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے، ان میں اب کوئی دم نہیں بچا ہے۔ ضرورت پڑی تو ایران اسے بھی سبق سکھا سکتا ہے۔ خلیجے فارس میں فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بعد ایران نے بدھ کو اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کی نمائش بھی کی۔ مغربی ممالک کے ذریعے مسلسل دی جارہی دھمکیوں اور پابندیوں کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس نے نیوکلیائی بھٹی میں استعمال ہونے والے چوتھی پیڑھی کے ملکی سینٹری فیوز(ایندھن کی چھڑیں) بنا لی ہیں۔ خودصدر احمدی نژاد نے نارتھ تہران میں واقع نیوکلیائی بھٹی میں سینٹری فیوز لگایا اور ایران کے سرکاری ٹی وی نے اس کو براہ راست دکھایا۔ محمود احمدی نژاد نے بعد میں اعلان کیا کہ جلد ہی تہران دنیا کی چنندہ نیوکلیائی طاقتوں میں شمار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 9 ہزار سینٹری فیوز تیار کر لئے ہیں اور بھٹی میں سینٹری فیوزچھڑیں لگانے کے بعد احمدی نژاد نے کہا ایران پر پابندی لگائی گئی ہیں اور مزید بندیشیں لگانے کی تجویز ہے لیکن اس سے تہران کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ مغربی ممالک نہیں چاہتے علم اور ترقی پوری دنیا میں پھیلے جو دیش ترقی کرنا چاہتے ہیں انہیں ان دباؤ اور اڑچنوں سے لڑنا پڑے گا۔
ایران دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ عراق، کویت کے تیل کنوؤں پر قبضہ کرنے کا فارمولہ امریکہ لگتا ہے یہاں بھی آزمانا چاہتا ہے لیکن روس ، چین اور ہندوستان کا ساتھ ملنے کی وجہ سے وہ براہ راست کارروائی نہیں کرپارہا ہے۔ یوروپ کی 18 فیصدی تیل کی ضرورت ایران سے درآمدسے ہوتی ہے۔بدھ کو خبر آئی کے ایران نے نیدر لینڈ، اٹلی، اسپین، یونان، پرتگال اور فرانس کی تیل سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ادھر امریکہ ۔اسرائیل کا خیال ہے کہ ایرانی ایٹمی ہتھیار اس لئے بنا رہے ہیں تاکہ اسرائیل پر حملہ کرسکیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا فروغ دینے والا ملک ہے۔اس کی آتنکی مہم اجاگر ہوچکی ہے وہ ہمارے بے قصور سفارتکاروں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایران کے خلاف لکشمن ریکھا کھینچنی چاہئے۔ وہ دنیا کے امن اور استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ امریکہ بھارت پر ایران کے خلاف کھڑا ہونے کے لئے دباؤ بنا سکتا ہے لیکن بھارت کو اس دباؤ میں نہیں آنا چاہئے۔ ایران کے ساتھ رشتوں کو کیسے چلانا ہے اس پر کسی تیسرے ملک کی مرضی نہیں چلے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور یہ مغربی دیش احمدی نژاد کی تازہ دھمکیوں اور اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے ارادوں سے کیسے نمٹتے ہیں؟ وسطی ایشیا میں حالات کشیدہ بنتے جارہے ہیں، چھوٹی سی بھی چنگاری آگ میں بدل سکتی ہے۔
Ahmedi Nejad, America, Anil Narendra, Atom Bomb, Atomic Reactor, Daily Pratap, Iran, Vir Arjun

اور اب ایک سرکاری ڈاکٹر جوڑے سے ملے 35 کروڑ روپے



Published On 18th February 2012
انل نریندر
سرکاری محکموں میں کرپشن کا بول بالا چونکانے والا ہے۔ کچھ سرکاری افسران نے تو ناجائز املاک بنانے کی دوڑ کی ساری حدیں پار کردی ہیں۔ ایک ایسی مثال ہمیں پچھلے دنوں مدھیہ پردیش سے ملی ہے۔ مدھیہ پردیش لوک آیکت ٹیم نے پچھلے دنوں ایک سرکاری ڈاکٹر جوڑے کے اجین اور ناگدہ میں واقع گھر پر چھاپہ مارا۔ ضلع کے محکمہ صحت میں کام کررہے ڈاکٹر ونود و ڈاکٹر ودیا لہری کے پاس آمدنی سے زیادہ کروڑوں روپے کی املاک ملی ہے۔پانچ مکان، ایک پیٹرول پمپ، گودام، 150 بیگھہ زمین،پوہا فیکٹری کا پتہ چلا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ان کی املاک کی کل مالیت35 کروڑ روپے مانی جارہی ہے۔ لوک آیکت ایس پی ارون مشرا نے بتایا کہ اندرا نگر کے باشندے ڈاکٹر ونود لہری اور ان کی اہلیہ ودیا لہری 22 برسوں سے سرکاری ملازمت میں ہیں۔ دونوں ہی دو برس سے معطل ہونے کے سبب جوائنٹ ڈائریکٹر دفتر اجین میں رہ رہے ہیں۔ انہیں اب تک کی اس سرکاری نوکری میں قریب80 لاکھ روپے تنخواہ ملی ہے۔ ڈاکٹر جوڑے کی اتنی آمدنی ہوتی ہے کہ وہ ہاتھوں سے نوٹ نہیں گن پاتے تھے۔ ان کے گھر پر نوٹ گننے کی مشین بھی ملی ہے۔ لوک آیکت کی دوسری ٹیم جب ناگدہ میں ڈاکٹر لہری کے اسپتال روڈ پر واقع مکان کی تلاشی لی گئی تو وہ مکان دیکھ کر چونک پڑا کیونکہ وہاں مکان نہیں بلکہ محل بنا ہوا تھا۔ کافی عرصے سے بند پڑے اس محل کے اندر جدید نرسنگ ہوم اور ایک سوئمنگ پول بھی ملا ہے۔ جوڑے پر بدعنوانی انسداد ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔جوڑے کی املاک کی مالیت کے تخمینے کے بعد اس کی قیمت کا صحیح اندازہ لگ سکے گا۔ ادھر ذرائع کے مطابق لوک آیکت املاک کی قیمت 35 کروڑ سے زیادہ مانتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ڈاکٹر جون 2010 ء سے معطل چل رہے ہیں۔ ناگدہ سروس سینٹر میں شکایتوں کے چلتے معطل ہوئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار اب اس ڈاکٹرجوڑے کے خلاف کیا کارروائی کرے گی؟ ان معاملوں میں بہار نے اچھی پہل کی ہے۔ حال ہی میں پٹنہ کی مونیٹرنگ عدالت کے اسپیشل جج رمیش چندر مشر نے ایک فروری کو بہار کے سابق ڈی جی پی نارائن مشر کی آمدنی سے قریب ایک کروڑ40 لاکھ روپے سے زیادہ کی املاک ضبط کرنے کے احکامات دئے۔ بہار میں کرپشن کے خلاف جاری مہم میں یہ پہلا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ایک طرف جہاں ٹوجی اسپیکٹرم لائسنس کو منسوخ کروانے کے لئے لوگوں کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے وہیں بہار سرکار نے ایک نیا قانون بنوا کر اپنی مسلح پولیس کے افسر کی املاک کو ضبط کروانے میں کامیابی پائی ہے۔ اس سے پہلے بھی پٹنہ کی مونٹیرنگ عدالت بہار کیڈر کے آئی ایس افسر ایس ایس ورما سمیت کئی سرکاری ملازمین کی املاک ضبط کرچکا ہے۔ ورما کے پٹنہ میں واقع نجی مکان میں اب سرکاری اسکول چل رہا ہے۔ نگرانی عدالت پٹنہ فائننشیل آفس کے سابق افسر گریش کمار، گیانگم کے سابق افسر یوگیندر سنگھ اور محکمہ جنگلات کے افسر بھولا پرساد جیسے کئی دیگر متنازعہ افسروں کی بھی املاک ضبط کرنے کے بھی احکامات دے چکی ہے۔ سوال صرف سیاسی قوت ارادی کا ہے اور بہار نے راستہ دکھا دیا ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار کو بھی بہار سے سبق لینا چاہئے۔
Anil Narendra, Black Money, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun

17 فروری 2012

دہلی،طبلس وبنکاک دھماکوں کا کوئی آپسی رشتہ ہے؟


Published On 17th February 2012
انل نریندر
دہلی کے انتہائی محفوظ ترین مانے جانے والے علاقے میں اسرائیلی سفارت خانے کی کار کو نشانہ بنانے اور جارجیا کی راجدھانی میں ناکام بم دھماکے کی کوشش کے24 گھنٹے بعد تھائی لینڈکی راجدھانی بنکاک میں مسلسل تین دھماکے ثابت کرتے ہیں کہ یہ دہشت گرد جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ایک بار پھر سے ثابت ہوگیا ہے کہ پوری دنیاآج دہشت گردی کی جکڑ میں پھنس چکی ہے۔ منگلوار کو بنکاک میں محض 100 میٹر کے دائرے میں تین دھماکے ہوئے۔ واقعہ میں حملہ آور سمیت پانچ لوگ زخمی ہوئے۔ موقعہ سے ملے شناختی کارڈ سے حملہ آور کے ایرانی ہونے کااندیشہ ہے اس کی شناخت یوہادی کی شکل میں ہوئی ہے۔ اس نے راجدھانی بنکاک کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم پھینکے۔تیسرا بم پیڑ سے ٹکرانے کے سبب یوہادی کے ہی پیر کے پاس آکر پھٹا۔ جس سے وہ بھی زخمی ہوگیا۔ اس کے ایک اور ایرانی مددگار محمد ایزائی کو بھی گرفتار کیاگیا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں نے حملے کی دہلی وجارجیا کے واقعہ سے تار جڑے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیاہے۔ اس واردات میں حملہ آور سمیت تین تھائی مرد اور خاتون بھی زخمی ہوئی ہے۔ تھائی وزیراعظم چنگلک شیونراترا نے پولیس اور دیش کی قومی خفیہ ایجنسیوں کے تہرے دھماکے کی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ تھائی وزیرخارجہ کو ایران سے بات کرنے کو کہا ہے ۔تھائی وزیراعظم شیونراترا یوم جمہوریہ پر نئی دہلی میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف لائی تھی۔ کیا ان کا دورہ دہلی میں پہلے دھماکے پھر بنکاک میں دھماکے ان میں کوئی آپسی کنکشن ہے؟ تھائی پولیس کے جنرل جاسٹی پرناکت نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز نے راجدھانی میں حملہ آور کے کرایہ کے مکان سے بھی دھماکوں سامان برآمد کئے ہیں۔ مقامی میڈیاکے مطابق ایرانی نژاد شہری نے ٹیکسی روک کر ڈرائیور سے کہیں چلنے کو کہا لیکن ڈرائیور کے منع کرنے سے وہ ناراض ہوگیا اور اس نے ٹیکسی پر بم سے حملہ کردیا۔ وہاں کھڑے پولیس ملازم نے جب یہ واقعہ دیکھا تو وہ ٹیکسی کے پاس پہنچے حملہ آور نے پولیس ملازمین پر بموں سے حملہ کردیا لیکن سیکورٹی ملازمین کی قسمت اچھی تھی اور یہ بم ایک پیڑ سے ٹکرا گیا اور خودحملہ آور آگرا۔ حملہ آور دھماکے سے حملہ آور کا پیر اڑ گیا اورحملہ آور کو پکڑ لیاگیا۔ موقعہ واردات سے ایک پاسپورٹ برآمد ہوا ہے جس سے پتہ چلا کہ حملہ آور کانام سائیریب یوہادی ہے۔ اور وہ ایران کارہنے والا ہے اس سے پہلے وسطی بنکاک کے اقامائی علاقے میں ایک گھر میں دھماکہ ہوا۔ حملہ آور سمیت دواور ایرانی اسی گھر میں کرایہ دار کی شکل میں رہتے تھے۔ سرکاری ترجمان کیتیا یاسنک نے کہا کہ پولیس نے رپورٹ دی ہیں کہ مکان کااستعمال بم بنانے کے لئے کیا جاتا تھا۔ یہاں سے دھماکو سامان اور ریموٹ کنٹرول ڈیٹونیشن ڈیوائس ملے ہیں۔ فی الحال بنکاک کے واقعہ اور نئی دہلی اور جارجیا کے واقعہ اگرکوئی تعلق نہیں قائم ہوسکا لیکن اسرائیل کے محکمہ خارجہ کے ترجمان چنگال پالمود نے یروشلم میں کہا کہ ہم کسی بھی امکان سے انکار نہیں کررہے ہیں۔ ان حملوں سے ایران ساری دنیا کی نظروں میں آگیا ہے۔ پہلے سے ہی اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کے وجہ سے مغربی ملکوں کی آنکھوں کی کرکری بنے ایران کے لئے اب یہ نئی مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ امریکہ ایران پر اور دباؤ ڈالے گا۔
Bangkok, Bomb Blast, Delhi, Delhi Bomb Case, Iran, Israil, Tiblis

لالواُبائے:رشوت کھائی تو وہ پیسہ کہاں ہے؟


Published On 17th February 2012
انل نریندر
بہار کے سابق وزیراعلی وسابق ریل وزیر لالو پرساد یادو منگل کے روز سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ان پر 950 کروڑ روپے کے چارہ گھوٹالہ کا الزام ہے۔ سماعت کے دوران لالو اسی انداز میں پیش آئے جس طرح وہ پارلیمنٹ میں جرح کرتے وقت دکھائی پڑتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خاص انداز میں پونے دوگھنٹے تک سی بی آئی کے اسپیشل جج پی کے سنگھ کی عدالت میں بیان درج کرایا۔ اسی دوران لالو جی نے خود پر لگائے الزامات کو پوری طرح سے مستردکرتے ہوئے الٹے سی بی آئی کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ کرڈالی؟ لالو نے کہا کہ ''چارہ گھوٹالے بازوں نے رشوت میں ہم کو کروڑوں روپے دیا تو او پیسہ کہا ہے ؟بھئی میرے پاس تو نہیں ہے۔ سی بی آئی دعوی کررہی ہے کہ میرا پیسہ ہے تو لا کر مجھے دے دیں۔ شام بہاری سنہا تو سورگ میں ہیں ان کو بلایا جائے۔ تب ہی نہ بتائیں گے۔ ہم کو کتناپیسہ گھوس میں دیا ہے لالو پرساد کے پیٹ میں کوئی بات نہیں پچتا ہے ہم کو گھوس ملا ہوتا تو کورٹ میں بھی سچ سچ بتا دیتے۔ دراصل ہم کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے یہ سب کچھ سازش رچی گئی ہے'' عدلیہ اور بھگوان پر عقیدت ظاہر کرتے ہوئے لالو کہتے ہیں اوپر والا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ میرے پر ایسا آروپ لگایا ہے کہ دھرتی پھٹ جائے۔ اور ہم اسی میں سماجائیں۔ جانتے ہیں حضورت سی بی آئی والا لوگ میرا گھینی، کنگھا، بھینسیں سب کا خرچہ میری املاک میں جوڑ لیا ہے۔یہ کیسا انصاف ہے حضور۔مدعی ہم اور مدعالیہ بھی ہم بن گئے۔ ہم ہی نے جانچ کی تمناکی۔ کاغذ پتر دستیاب کرایا اور ہم ہی کو پھنسا دیا گیا۔ ہم سازش کرتے تو سارے کاغذ میں آگ نہیں لگادیتے۔ جب جج موصوف نے لالو سے سوال کیا تو لالو بولے۔ حضور جو سوال ہم کو دیا گیا وہ انگریزی میں ہے۔ ہمارا انگریزی کمزور ہے۔ جب پڑھنے کاٹائم تھا تب ہم گائے گؤ چراتے تھے ۔ ہندی میں لکھنے سے بات ٹھیک سے سمجھ میں آجائے گی۔ کورٹ نے آپ کو ہندی میں ہی دیا جائے گا۔ تاکہ صحیح بات سامنے آسکے۔ لالو پرساد نے کہا کہ سر میں نے بھی پٹنہ لاء کالج سے قانون کی ڈگری لیا ہے۔ جج صاحب نے کہا کہ میں بھی وہیں کا اسٹوڈینٹ رہا ہوں۔ آپ سے جونیئر ہوں آپ کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقعہ دیاجائے گا۔ لالو بولے۔ حضور ۔ ای لوگ کہتاہے کہ ہم سوئز بینک میں پیسہ رکھے ہیں۔ سوئز جانا کو دور ہے؟ این ڈی اے والا لوگ یوا ین وشواس کو بولا ہم گورنر بنادیں گے۔ اور ہم کو پھنسا دیں گے۔ جج نے پوچھا آپ پر چارہ گھوٹالہ بازوں سے ہوائی ٹکٹ اورہوٹل میں ٹھہرنے کاخرچ لینے کا الزام ہے۔ لالو نے کہا کہ بہار سرکار کااپنا ہیلی کاپٹر ہے ٹی اے اور ڈی اے بھی ملتا تھا۔ ہم کیوں خرچہ لیتے؟ وزیراعلی اور وزیر خزانہ کی حیثیت سے میں نے کیا کیا یہ فائل پر لکھا ہوا ہے۔ سی بی آئی کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ لالو نے کورٹ کو بتایا کہ بھارت کی تاریخ میں یہ پہلاموقعہ ہے جب میری گرفتاری کے لئے فوج کو بلانے کے لئے خط لکھا گیا تھا۔ جب کہ میں خود سرینڈر کی بات کہہ چکا تھا۔ فوج نے آنے سے انکار کردیاتھا۔ لالو نے جیسے ہی پوچھ ڈالا۔ حضور سی بی آئی کو سزا دینے کاکوئی پراؤ دھان ہے ہی نہیں جس کو چاہے اسے پھنسا دیتی ہے۔ کہیں کاروڑا کہیں کاپتھر جوڑ کر ہم کو پھنسادیا۔ یہ لوگ انداز پر گریاپکڑرہاہے۔
CBI, Corruption, Fodder Scam, Lalu Prasad Yadav

16 فروری 2012

زیادہ ترآتنکی حملے 13تاریخ کو کیوں؟


Published On 16th February 2012
انل نریندر
اسے محض اتفاق ہی ماناجائے کہ ہندوستان میں زیادہ ترآتنکی بم دھماکوں کی وارداتیں 13 تاریخ کو ہی ہوتی ہے یا پھر اس 13کی کچھ خاص اہمیت ہے؟ زیادہ بم واقعہ 13فروری کو ہوا ہے تقریباً ہردھماکہ کی تاریخ 13ہی ہے ستمبر 2008 کو بھی راجدھانی میں 13تاریخ کو ہی بم دھماکہ ہوا تھا۔ ممبئی میں پچھلے سال جولائی میں بھی 13 تاریخ کو سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے۔ پنے میں جرمن بیکری بھی دھماکہ بھی 13کو ہواتھا۔ 2001میں پارلیمنٹ کمپلیکس احاطے میں بھی 13تاریخ دسمبر کو بھی آتنکی حملہ ہوا تھا۔ ہمارے ماہرین اب اس بات کی جانچ میں لگے ہوئے ہیں 13 تاریخ کی ان آتنکوادیوں کے لئے کیا خاص اہمیت ہے۔ وزیراعظم رہائش گاہ کے پاس جو حملہ ہوا ٹھیک اسی طرح کا تھا جو اسی سال 11جنوری کو ایران کی راجدھانی تہران میں ہواتھا۔ جس میں ایران کے ایک نیوکلیائی سائنس داں مستعفی احمدی روشن کاقتل ہوگیا تھا۔ اس حملے میں بھی دو موٹر سائیکل سوار قاتلوں نے روشن کی پجیرو کار پر اسی طرح کا اسٹیکی بم لگادیا تھا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ سائنس داں کی موقعہ پر موت ہوگئی تھی۔ نئی دہلی کے واقعہ میں انوا سوار سبھی مسافر خوش قسمتی سے بچ گئے تھے کہ جلدی میں نوجوان صحیح جگہ پر بم نہیں لگاسکا۔ جانچ کرنے والے حکام کی مانے تو اگر یہی بم کار کے پیچھے بجائے کسی دروازے پر لگایا گیا ہوتا اس سے کہیں زیادہ نقصان ہوتا۔ بتایاجارہا ہے کہ حملہ آور دروازے پر لگانے میں کامیاب نہیں ہونے کی وجہ سے پیچھے لگاگئے ۔ دھماکے کاسارا اثر کار کی پچھلی سیٹ پر ہی پڑا۔ حملہ اتنازور دار تھاکہ کارکے ٹکڑے اور بم کے ٹکڑے اسرائیلی ڈپلومیٹ کی بیوی تال یہوشوا کی پیٹھ میں جاگھسے۔ اگر یہی بم کار کے دروازے یا ایندھن کے ٹینک کے قریب لگایاگیا ہوتا توان کابچنا ناممکن تھا۔ داد دینی ہوگی انوا کار ڈرائیور منوج شرماکی۔ خودزخمی ہونے کے باوجود اپناحوصلہ نہیں چھوڑا۔ اور گاڑی سے خاتون ڈپلومیٹ کو نکالا ایک آٹو روک کر سب سے پہلے وہ اسے محفوظ مقام پر لے گیا۔اسرائیلی سفارت خانے میں پہنچانے کے بعد تال یہوشوا کو پاس کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرایاگیا۔ جہاں ڈاکٹرو ں نے اس کے پیٹھ سے لوہے کے کچھ ریزوں کو آپریشن سے نکالا۔ راجدھانی میں اورنگ زیب روڈ پر انوا گاڑی میں اسٹیکی بم سے دھماکہ کامعاملے بھلے ہی دیش میں پہلا ہو۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں یہ عام ہے ایک یقینی نشانے کو لگانے کے لئے اس کا استعمال کیاجاتا ہے۔ ہالی ووڈ سے متاثر ہو کر بالی ووڈ میں اب یہ استعمال میں آنے لگا ہے۔ اسٹیکی بم کااستعمال جیمز بونڈ سریز کی فلموں کے علاوہ جاسوسی فلموں میں بھی دکھایاجاتا ہے۔ سلویسٹر سلون کی فلم اسپیشلسٹ میں اسٹیکی بم کا استعمال دکھایا گیا ہے اس بم کی خاصیت یہ ہے کہ اپنے نشانے کو ہی نقصان پہنچانا آس پاس اس کا کم اثر ہوتا ہے۔ سائز میںیہ بہت چھوٹاہوتا ہے۔ اور اسے چھپانے کا طریقہ آسان ہوتا ہے۔ بالی ووڈ میں اس بم کا استعمال سنی دیول کی فلم ''جو بولے سو نہال '' میں حال ہی شاہ رخ خاں کی فلم ''ڈان نمبر2میں کیاگیا۔ پولیس کے اعلی افسر بھی مان رہے ہیں کہ غیرملکی سفارت کاروں کی گاڑی کو اڑانے کافارمولہ فلموں سے لیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے۔ حالانکہ نکسلی اس طرح کے بم کا استعمال کرتے ہیں لیکن آتنک وادی جنگ میں اوریہ بھارت میں پہلی بار استعمال کیاگیا ہے.
Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Hizbullah, Iran, Israil, Vir Arjun

اترپردیش میں چل رہا ہے ایک سائلینٹ کرنٹ


Published On 16th February 2012
انل نریندر
ایسا کون سا اشوہے جسے یوپی کے لیڈر سمجھ نہیں پارہے ہیں اور جنتا سمجھ رہی ہے؟ منڈل کمنڈل کے بھڑکاؤ اور اشتعال آمیز ماحول میں بھی جب اترپردیش میں 57 فیصدی سے زیادہ پولنگ نہیں ہوئی لیکن اس مرتبہ پتہ نہیں کون سا کرنٹ انڈر کرنٹ چل رہا ہے کہ اتنی بھاری پولنگ ہورہی ہے۔ سطح پر بالکل امن ہے نہ کسی کااحتجاج اورنہ ہی کسی کے حق میں ہوا صاف چل رہی ہے۔ مگرپھر بھی پولنگ 60 فیصدی کے قریب رہی ۔ اترپردیش میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ یہ کرشمہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پہلے دومرحلے کی پولنگ میں اچھی آبادی کا ڈسٹنگ شن سے پاس ہونا؟پہلے مرحلے میں بارش کے باوجود مردوں سے زیادہ پولنگ فیصد عورتوں کا تھا۔زیادہ پولنگ کو اترپردیش میں حکمراں مخالف لہر کی شکل میں دیکھاجاتا ہے۔اس بے حد آسان سے کے خیال کے لئے پچھلی دہائیوں میں نتیجہ ہی ذمہ دار ہے 1985کے بعد کسی بھی حکمراں پارٹی مسلسل دوسری بار سرکار بنانے میں ناکام رہی۔ایسے میں بڑی پولنگ کو سپا بھاجپا وکانگریس ظاہری طورپرحکمراں بسپا مخالف لہر کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ کانگریس کو توراہل کا کرشمہ دکھائی دے رہاہے۔ سپا کو بسپا سرکار کا کرپشن تو بھاجپا کومرکزی حکومت کے خلاف یوپی کے لوگوں کاغصہ مگر ایسا کیا ہے کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ووٹر بھاری تعداد سڑکوں میں اترے۔ آزادی سے اب تک ہوئے کل 15انتخابات میں کبھی اس طرح سڑکوں پر پولنگ کے نہیں نکلی۔ ایمرجنسی کے بعد 1977میں ہو یا پھر 1991میں رام جنم بھومی تحریک کی لہر نے بھی پولنگ فیصد 55فیصدی کے پاس ر ہی۔ بھاجپا کو روکنے کے لئے 1993 میں سماجی انصاف دلت سیاست کو کانشی رام اورملائم نے کٹھ جوڑ کر سماجی تبدیلی کابگل پھونکا۔ لیکن پولنگ 60 فیصدی کے جادوئی نمبر تک نہیں پہنچ سکی۔ 6 مارچ کو نتیجہ آنے سے پہلے تک سیاسی پنڈت اور پارٹی اپنی دلیل اورحساب کتاب پیش کرے گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہوا کے مزاج کوکوئی نہیں بھانپ رہا ہے۔ اگرپولنگ میں عورتوں اور نوجوانوں کی بڑھتی ساجھے داری سے ہماری جمہوریت کے مضبوط ہونے کے صاف اشارے ہیں کہ کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی تحریک کااثر صاف دکھائی پڑرہا ہے تب ہی تو کچھ ووٹروں نے رائٹ ٹو ریجکیٹ( مسترد کرنے کا حق) کامتبادل بھی استعمال کیاہے لیکن اترپردیش کے مشرقی علاقے میں دومرحلوں میں ہوئی پولنگ سے جو ہوا چلی ہے وہ مغربی حصے تک آتے آتے بدل بھی سکتی ہے اس علاقے میں فیصلے کی چابی مسلمانوں اور جاٹوں کے ہاتھوں میں ہے ۔عام طورپر مغربی یوپی میں جاٹوں کا دبدبہ مانا جاتاہے جاٹوں کی لیڈر کی شکل میں چودھری اجیت سنگھ قریب دودہائیوں سے اپنادبدبہ بنائے ہوئے ہیں کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے اجیت سنگھ کو کل 54 سیٹیں ملی تھی۔ اگرزمینی سطح پر یہ سمجھوتہ صحیح معنوں نافذ ہوتا تو دونوں کانگریس اور راشٹریہ لوک دل کو فائدہ ہوگا۔ مغربی یوپی میں مسلمانوں ووٹوں کی خاص اہمیت ہے حالانکہ حکمراں ہونے کے ناطے مغربی اترپردیش میں بی ایس پی کے تئیں ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اس علاقے کی زیادہ ترسیٹوں پر خاص مقابلہ بی ایس پی سے ہی ہے دراصل بی ایس پی کے 20 فیصدی دلت ووٹ اس کا بڑا ہتھیار ہے مقامی سطح پر دلتوں کے علاوہ سبھی ذاتیں اپنے درمیان کا امیدوار ڈھونڈرہی ہے۔ صرف دلت ہی بہن جی کے اشارے میں ووٹ دیتے ہیں ۔علاقے میں بسپا کے علاوہ مسلمان سپا اور کانگریس کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو بسپا ہی فائدے میں رہے گی۔ اگرمسلمان ووٹ متحد ہوا بسپا ہی سب سے زیادہ خسارے میں رہے گی۔ پورے مغربی اترپردیش میں ہر سیٹ پر ذات پات تغذیہ الگ الگ ہے کچھ علاقوں میں بھاجپا بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ خاص طورپر شہری علاقوں میں اس کااثر صاف دکھائی پڑرہاہے اس مرتبہ کاچناؤ بہت کچھ امیدواروں پر منحصر کرے گا۔ کل ملا کر دیکھنا یہ ہے کہ جو ہوا پہلے دور کی پولنگ میں چلی وہ تیسرے دور میں بھی برقرار رہتی ہے.
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Mayawati, Mulayam Singh Yadav, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

15 فروری 2012

بے شک دھماکہ دہلی میں ہوا لیکن نشانے پر اسرائیل تھا


Published On 15th February 2012
انل نریندر
دہلی میں پچھلے کئی مہینوں سے کوئی آتنکی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ اورہمیں لگنے لگا تھا آخر کار ہماری سیکورٹی ایجنسیوں نے آتنک واد پر کچھ حد تک قابو پالیا ہے ۔7ستمبر 2011 کو دہلی ہائی کورٹ میں بم دھماکہ ہواتھا جس میں 15لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے بے شک جو دھماکہ ہوا وہ انتہائی سنگین ہے اس میں حالانکہ کسی کی موت تو نہیں ہوئی لیکن یہ کئی پہلوؤں سے ہائی کورٹ کمپلیکس کے باہر ہوئے دھماکے سے زیادہ تشویش کا باعث ہے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دھماکہ ایسی جگہ ہوا جو دیش کا سب سے انتہائی محفوظ ترین علاقہ مانا جاتا ہے وزیراعظم کی رہائش گاہ سے محض 500 میٹر کی دوری پر پیر کے روز دوپہر اسرائیلی سفارت خانہ کی کار میں زور داردھماکہ ہوا دھماکے بعد کار میں آگ لگ گئی جس سے اس میں سوار ایک اسرائیلی خاتون ڈپلومیٹ افسر سمیت چار افراد زخمی ہوگئے ۔موٹر سائیکل سوار آتنکی نے میکنٹک ڈیوائس ( اسٹیکی بم) سے چلتی ہوئی انوا گاڑی میں دھماکہ کیا۔ اس کار کے بگل میں چل رہی ہے دو دیگرکاروں کو نقصان پہنچا۔ اس واردات میں اسرائیلی سفارت کار اس کا ڈرائیور انڈیکا کار میں سوار دو دیگر لوگ زخمی ہوئے ہیں۔زخمی سفارت کار کو چندرگپت مارگ پر واقع پرائمر اسپتال کے آئی سی یو میں رکھاگیا ہے باقی تینوں زخمیوں کو رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل کرایاگیا ہے جس جگہ یہ دھماکہ ہوا وہ انتہائی وی آئی پی علاقہ ہے جہاں دونوں طرف بڑے نیتا اور وزراء کے بنگلے ہیں۔پولیس کمشنر بی کے گپتاکے مطابق سفارت خانے میں ایڈمنسٹریٹو اتاشی کے عہدے پر مامور خاتون ڈپلومیٹ یہوا تین اورنگ زیب روڈ پرواقع امریکن اسکول میں پڑھ رہے اپنے بچوں کو لینے جارہی تھی تب ہی دوپہر بعد قریب سوا تین بجے اورنگ زیب روڈ پر واقع مرکزی وزیر مکل واسنک کے بنگلے کے سامنے ان کی چلتی انووا کار (109 سی ڈی 35) میں دھماکہ ہوگیا۔ پولیس کو ملے ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ لال رنگ کی موٹر سائیکل پر سوار ہیلٹ میٹ لگائے لڑکے نے چلتی کار میں پیچھے سے میکنٹ ڈیوائس چپکائی اور تیزی سے فرار ہوگیا۔ پولیس افسران کے مطابق جس طرح کا بم استعمال اس حملے میں ہوا ہے وہ پہلی بار دیکھاگیا ہے اسے اسٹیکی بم کہاجاتا ہے۔ عام طور پر فوج ہی اس کااستعمال کرتی ہے۔اسٹیکی بم ایسا بم ہوتا ہے جسے چلتے چلتے کسی بھی گاڑی پر چپکا دیاجاتا ہے۔اس میں چپکن کا کام بم کے ساتھ لگی میکٹنٹ یعنی چبنک کرتی ہے جو کارلوہے کی باڈی پر ہلکے سے چھوتے ہی چپک جاتی ہے دہلی پولیس کے سینئر بتاتے ہیں کہ اس میں پلاسٹک دھماکوں کااستعمال ہلکے بن کے لئے کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بم پھٹنے کی ٹائم سیٹنک میکانیزیم بھی اپنے میں نہیں ہے۔ اس طرح بم کا استعمال ہونا ہماری فوج سیکورٹی کے لئے ایک سنگین چنوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بم یا تو بیرونی ملک سے لایاگیا ہے یا پھر فوج کے کسی ڈپو سے چرایاگیا ہے میں نے فلموں میں دیکھا ہے اس طرح کے بم کو چلتے ٹینک پر چپکا دیا جاتا ہے جسے ٹینک اڑ جاتا ہے یہ دھماکہ محص اتفاق نہیں تھا۔ پیر کو ہی جارجیا کی راجدھانی تبلسی میں واقع اسرائیل سفارت خانے پر ایسا ہی حملے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیلی ریڈیوں نے کہا ہے کہ ایک ملازم نے دھماکوں سے مسلح ایک بار سفارت خانے کے پاس کار کودیکھا تھا اور اس نے پولیس کو خبر دی تھی پولیس نے وہاں پہنچ کر بم کوناکارہ کردیا بعد میں اس میں واقعہ کے جانکاری سفارت خانے کو دی گئی۔ اس کے بعد دنیا بھر اسرائیلی سفارت خانوں کو ہائی الرٹ جاری کردیاگیاتھا۔ قابل غور ہے کہ حالیہ مہینوں میں آذر بائیجان ،تھائی لینڈ اوردیگر مقامات پر بھی اسرائیلی عمارتوں پر حملے کی سازش ناکام کی گئی ہے۔ تھائی لینڈ میں تو پچھلے ماہ ایک حزب اللہ وابسطہ لبنان کے ایک شخص کو گرفتار کیاگیا ہے اس کے پاس سے دھماکہ کا سامان بھی برآمد ہواتھا۔ چونکہ نشانے پر اسرائیلی تھے اس لئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے اسلامی کٹر پسندوں کاہاتھ ہوسکتا ہے۔ا سرائیلی وزیراعظم نے واردات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے آتنکی تنظیم حزب اللہ اور ایران کاہاتھ ہے اس سے پہلے 25/11 کے ممبئی آتنکی حملے میں رباب ہاؤس کونشانہ بنایاگیا تھا جہاں سات اسرائیلی مارے گئے تھے حزب اللہ لبنان کی مسلم کٹر پسند تنظیم ہے اور سیاسی پارٹی ہے۔ اتوار کو اس کے ایک بڑے لیڈر عماد مغنی کی چوتھی برسی تھی مغنی ایک میزائل حملے میں مارا گیا تھا۔ حزب اللہ نے مغنی کی موت کے لئے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو ذمے دار ٹھہرا کر بدلا لینے کی قسم کھائی ہے ایران میں بھی ایک بڑے قانون ساز کو پچھلے دنوں میزائل حملے میں ماردیاگیاتھا۔ ایران نے بھی اسرائیل کے ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا اس حملے میں ایک ایرانی آتنکی تنظیم عمادموچھیا کانام بھی آرہا ہے اب تک دیش میں کتنے آتنکی واقعات ہوئے ہیں اس میں کبھی اس تنظیم کا نام نہیں آیا ہے۔ حالانکہ پولیس کا خیال ہے کہ تنظیم کا خاص مقصد اسرائیلی شہریوں کو نقصان پہنچانا تھا کچھ لوگ تو یہ بھی کہے رہے ہیں ایران نے پاکستانی آتنکیوں کے ذریعہ واردات کوانجام دیا ہوگا۔ اس سلسلے میں زیادہ شبہ حزب المجاہدین اورلشکر طیبہ پر جاتا ہے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ 26/11حملے میں بھی اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایاگیاتھا۔واردات کے پیچھے کوئی بھی ہو۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ انہیں مقامی مدد ضرور ملی ہے کیونکہ موٹر سائیکل سوار ایک ہندوستانی ہی ہوگا۔میکنٹ بم کا استعمال نہ صرف دہلی پولیس بلکہ تمام سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے تشویش کا باعث ہونی چاہئے۔ بلکہ ابتک اس طرح کے بموں کااستعمال ایران اور کچھ عرب ممالک میں ہوتا آیا ہے۔ ذرائع کی مانے تو دہلی میں ہوئے اس حملے میں نائٹروگلیسرین، سلفر ،پوٹاشیم کیروریٹ کااستعمال کیاگیا ہے۔ نائٹروگلیسرین کااستعمال اسی طرح کے دھماکوں میں کیا جاتا ہے۔عرب ممالک اوراسرائیل کے درمیان لڑائی میں اب بھارت بھی آگیا ہے۔ پیر کو یہ واقعہ ہمارے اندرونی اسباب سے نہیں ہوا ہے یہ تشویش کی بات ہے اسرائیل اس حملے کا بدلہ ضرور لے گا۔ عیسائی بنام اسلام لڑائی آج کی نہیں بلکہ ہزاروں برس پرانی چلی آرہی ہے۔ ایران پر کسی بھی وقت اب اسرائیل ، امریکہ، حملہ کرسکتاہے۔ کہیں دہلی کے اس دھماکے سے معاملے اور زیادہ نہ بڑھ جائے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Delhi High Court, Israil, Terrorist, Vir Arjun

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...