Translater
11 جنوری 2025
شیش محل بنام راج محل
دہلی میں اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے درمیان جاری لفظوں کی جنگ میں دہلی انتخابات شیش محل بنام راج محل بن گئے ہیں۔ بی جے پی اور آپ کے لیڈروں کے درمیان لفظی جنگ بدھ کو دن بھر جاری رہی۔ اس دوران جو سب سے قابل ذکر بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ شیش محل بمقابلہ راج محل کو لے کر دہلی کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ ایک طرف عام آدمی پارٹی بی جے پی پر دہلی کے وزیر اعلیٰ آتشی کو وزیر اعلیٰ کے لیے الاٹ کیے گئے بنگلے سے بے دخل کرنے کا الزام لگا رہی ہے تو دوسری طرف بی جے پی وزیر اعلیٰ کے لیے الاٹ کیے گئے بنگلے کی مرمت میں مبینہ بدعنوانی کو ایشو بنا رہی ہے۔ وزیر اور اسے شیش محل کہتے ہیں۔ شیشم محل کا معاملہ کیا ہے؟ دراصل دہلی میں اروند کیجریوال نے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے اپنے لیے سرکاری گھر کی مرمت کروائی تھی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ سی ایم رہتے ہوئے اروند کیجریوال نے سرکاری رہائش گاہ کا جو نقشہ تیار کیا تھا اسے ہی بدل دیا۔ اسے 7 اسٹار ریزورٹ میں تبدیل کرنے پر تقریباً 80 سے 90 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ تاہم انتخابات سے قبل جاری کی گئی سی اے جی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دہلی حکومت نے اس بنگلے کی مرمت پر تقریباً 45 کروڑ روپے کا خرچ دکھایا ہے۔ بی جے پی نے کیجریوال کے لیے تیار کیے گئے اس بنگلے کا نام شیش محل رکھا ہے۔ جب بی جے پی نے شیش محل کو لے کر عام آدمی پارٹی پر حملہ کیا تو AAP نے وزیر اعظم کی رہائش کا مسئلہ اٹھایا۔ آپ کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کو 2700 کروڑ روپے کا محل بتایا ہے۔ بدھ کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ نریندر مودی سے لے کر بی جے پی کے سینئر لیڈروں تک دہلی کے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کو لے کر ایک ہی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اس میں منی بار ہے۔ اس میں سونے کا بیت الخلا اور ایک سوئمنگ پول ہے جب کہ نئی دہلی میں وزیر اعظم کا محل ہے جو 2700 کروڑ روپے میں بنایا گیا تھا۔ آپ ایم پی سنجے سنگھ نے مزید کہا، پی ایم فیشن ڈیزائنرز کو ناکام کر چکے ہیں۔ دن میں تین بار کپڑے تبدیل کریں۔ ہر ایک کا 10 لاکھ روپے کا PAN رکھیں۔ جوتوں کے 6700 جوڑے، 5000 سوٹ ہیں۔ ان کے گھر میں 300 کروڑ روپے کے قالین بچھائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ سونے کی تاریں جڑی ہوئی ہیں۔ 200 کروڑ روپے کا فانوس لگایا گیا ہے۔ پورے ملک کو دکھایا جائے کہ شاہی محل میں ہیرے کہاں ہیں۔ پی ایم مودی کو اپنا محل اس ملک کے عوام اور میڈیا کو دکھانا چاہیے۔ میں بی جے پی کو چیلنج کرتا ہوں کہ کل تمہارے جھوٹ کا پردہ فاش ہو جاتا۔ بدھ کو سنجے سنگھ اور سوربھ بھردواج وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پہنچے۔ یہاں اس نے میڈیا کے ساتھ اندر جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔ بی جے پی نے اے اے پی حکومت کے الزامات کا جواب دیا۔ بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے کہا، کیا دہلی کے پی ڈبلیو ڈی وزیر انتخابی ضابطہ اخلاق کا انتظار کر رہے تھے؟ کل سب کچھ وزیر پی ڈبلیو ڈی کے ہاتھ میں تھا پھر آپ کو سب کچھ نظر کیوں نہیں آیا؟ یہ بے بسی ہے یا جادوگری؟ دوسری جانب بی جے پی صدر وریندر سچدیوا سی ایم آتشی کی رہائش گاہ پہنچے۔ سچدیوا نے کہا، آج جب ضابطہ اخلاق نافذ ہو رہا ہے تو آپ ڈرامہ کر رہے ہیں۔ آتشی کے دو بنگلے ہیں، وہ شیش محل بھی چاہتا ہے۔ بی جے پی لیڈر انل وج نے کہا کہ غریب عام آدمی پارٹی کا بنگلہ شیش محل ہے۔ اس سے عام آدمی پارٹی ڈوب جائے گی۔ کانگریس لیڈر سندیپ ڈکشٹ نے عام آدمی پارٹی سے سوال کیا کہ آج کون خود کو عام آدمی کہتا ہے؟ کیا آپ نے جو گھر بنایا ہے وہ عام آدمی کے گھر جیسا ہے؟ دیکھنا یہ ہے کہ کس پارٹی کا ایشو زیادہ غالب آتا ہے یا پرانا ایشو ختم ہو کر نئے ایشوز سامنے آئیں گے۔
انل نریندر
09 جنوری 2025
حلف سے پہلے ٹرمپ مشکل میں پھنس سکتے ہیں؟
حلف برداری سے پہلے امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ہشمنی معاملے میں 10 جنوری کو ان کے خلاف سزا سنائی جائے گی اس میں ٹرمپ کو عدالت میں سماعت کے لئے موجود رہنا ہوگا ۔حلانکہ جج نے جیل نہ بھیجنے کے لئے اشارے دئے ہیں ۔عدالت کا یہ حکم صدر کی حیثیت سے حلف لینے سے دو ہفتے پہلے سے کم وقفہ میں آیا ہے ٹرمپ 20 جنوری کو امریکہ کے صدر کا حلف لیں گے ۔اس سے پہلے انہوںنے پورن اسٹار کو پیسے دینے کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا ۔اور اسے سیاسی سازش بتایا تھا ادھر نیویارک کے جج جوان یر مین نے اشارہ دیا ہے کے وہ ٹرمپ کو جیل کی سزا نہیں یا جرمانہ نہیں لگائےں گے بلکہ مشروت بری کریں گے ۔جج نے اپنے حکم میں لکھا کے نو منتخب صدر سماعت کے لئے شخصی طور سے یا ورچوئل طور سے عدالت میں موجود ہو سکتے ہیں ۔بتا دیں کے امریکہ کی تاریخ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے ان سے پہلے کسی بھی سابق یا موجودہ صدر پر کسی جرم کا الزام نہیں لگا ۔ٹرمپ امریکہ کے 47 وے صدر کے طور پر حلف لیں گے ان کی پارٹی ریپبلکن نے سنٹ میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے جہاں ان کے پاس 52 سیٹیں ہیں جبکہ ان کی حریف ڈیموکریٹ کے پاس 47 ہیں ۔ان پر الزام ہے کے پورن اسٹار ڈینیلس کے ساتھ انہوںنے 2006 میں جنسی تعلقات بنائے تھے اور یہ معاملہ 2016 کے صدارتی چناﺅ میں بھی خوب اچھلا تھا پورن اسٹار نے اس واقعہ کو جنتا کے سامنے لانے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد انہوںنے چب چاپ منھ بند رکھنے کے لئے پیسے دئے تھے ۔ان پر ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے کے الزام میں بھی قصوروار ٹھہرایا گیا ہے ٹرمپ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا اس معاملے میں کوئی سزا نہیں سنائی جانی چاہئے ۔آئین کا تقاضہ ہے کے اس معاملے کو فوراً خارج کر دیا جانا چاہئے تھا ۔اس پہلے ٹرمپ نے کئی دیلیلیں دی تھی کے وہ صدارتی چناﺅ جیتے ہیں وہیں جسٹس یرمل نے صدارتی چناﺅ میں جیت کے سبب معاملے کو خارج کرنے کے ٹرمپ کے پرستاﺅ کو خارج کر دیا اور سزا کے لئے تاریخ مقرر کر دی ۔یرمن نے لکھا کے جوری کے فیصلے کو درکنار کرنے پہلے حکمرانی کمزار ہو چائےگی ۔ڈونالڈ ٹرمپ کو اب تک تین اور معاملوں میں قصوروار ٹھہرایا گیا ایک کیس دستاویزوں میں گڑ بڑی سے متعلق ہے وہیں دو معاملے سال2020 کے صدارتی چناﺅ میں اپنی ہار کو پلٹنے کی ان کی مبینہ کوششوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔
(انل نریندر)
رمیش بدھوڑی کے بگڑے بول!
پچھلے ایک سال سے سرخیوں میں رہنے والے بی جے پی لیڈر و سابق ایم پی رمیش بدھوڑی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں ۔پہلے انہوںنے پارلیمانی میں ایک مسلم ایم پی پر قابل اعتراض تبصرہ کیا ہو یا 2024 لوک سبھا میں ٹکٹ کٹنا ہو یا پھر دہلی اسمبلی چناﺅ میں ٹکٹ دیا جانا ہو وہ سرخیوں میں بنے رہتے ہیں ۔اب بدھوڑی کانگریس نیتا ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی پر متنازعہ تبصرہ کو لیکر سرخیوں میں ہیں ۔ان کے بیان کی کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے مذمت کی ہے ۔کانگریس نے جہاں بی جے پی سے معافی کا مطالبہ کیا ہے وہیں دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کے خاتون وزیراعلیٰ کی بے عزتی کا بدلہ دہلی کی سبھی عورتےں لیں گی ۔سال2014 اور 2019 میں جنوبی دہلی سے ایم پی رہے رمیش بدھوڑی کو بی جے پی نے کالکاجی سیٹ سے اپنا امیدوار بنایا ہے اسی سیٹ سے دہلی کی وزیراعلیٰ آتشی ممبر اسمبلی ہیں ۔اور وہ پھر اس سیٹ پر چناﺅ لڑ رہی ہیں ۔وہیں کانگریس نے عآپ کی سابق لیڈر الکا لامبا کو اس سیٹ کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔رمیش بدھوڑی کا حال کا ایک ویڈیو وایرل ہو ا۔جس میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں میں بہترین سڑک بنانے کا وعدہ کرتا ہوں اپنے مبینہ طور پر بہار کی سڑکوں اور ہیما مالینی کو لیکر دئے گئے بیان کا بھی ذکر کیا اور اسی بیان میں نبدھوڑی نے بہترین سڑک بنانے کا وعدہ کیا ۔اس دوران پرینکا گاندھی کے بارے میں متنازعہ بات کہی جو انتہائی فحش بات کہی میں اسے دوہرانہ نہیں چاہتا اس تبصرہ کو لیکر کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے بدھوڑی کی تقریر کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا اوپر سے نیچے تک آر ایس ایس کے سنسکار آپ کو بھاجپا کے ان اوچھے لیڈروں میں نظر آ جائیں گے ۔کانگریس کی ترجمان سپریہ سرینیت نے اس بیان کو بے حد شرمناک بتایا اس خاتون مخالف زبان اور نظریہ کی خالک بھاجپا کی لیڈر شپ ہے ۔آتشی پر بیان کے لئے عاپ نے ایکس پر لکھا بی جے پی نے اپنا بھاجپا مخالف چہرہ دکھایا بی جے پی کے گالی باز لیڈر رمیش بدھوڑی نے خاتون وزیر اعلیٰ آتشی کے خلاف بھدی اور گندی زبان کا استعمال کیا بی جے پی نیتاﺅ نے بے شرمی کی ساری حدےں پار کر دی ایک خاتون وزیراعلیٰ کی بے عزی دہلی کی عوام برداشت نہیں کریں گی حلانکہ رمیش بدھوڑی نے جب ہائی کمان کا دباﺅ بنا تو اتوار کو عورتوں کے خلاف تبصرہ کرنے پر معافی مانگ لی اور اپنے ایکس پر لکھا میرا مقصد کسی کو بے عزت کرنے کا نہیں تھا کسی سلسلہ میں میرے دئے گئے بیان پر غلط نظریہ سیاسی فائدے کے لئے سوشل میڈیا پر بیان دے رہیں ہیں میرا مقصد کسی کو بے عزت کرنے کا نہیں تھا لیکن پھر بھی کسی شخص کو دکھ ہوا ہے تو میں افسوس ظاہر کرتا ہوں سوال یہ ہے کے تیر تو کمان سے نکل چکا ہے ۔منھ سے لفظ نکل گئے ہیں اب معافی مانگنے کا کیا فائدہ؟ جو نقصان ہونا تھا ہو گیا ۔رمیش بدھوڑی کا بیان دہلی اسمبلی چناﺅ پر کیا اثر ڈالے گا یہ دیکھنے والا ہوگا ۔افواہ تو یہ بھی ہے کے شائد بھاجپا کالکاجی سے اپنا امیدوار ہی بدل دے ۔دیکھےں آنے والے دو چار دن میں بدھوڑی جی کا کیا حشر ہوتا ہے۔
(انل نریندر)
07 جنوری 2025
ایک اورتفتیشی جرنلسٹ شہید ہوا !
چھتیس گڑھ کے ماو¿وادی متاثرہ بیجا پور کے ٹی وی جرنلسٹ مکیش چندراکر کی لاش تین جنوری کو ایک سیپٹک ٹینک سے برآمد کی گئی ۔مکیش کمار چندراکر 1جنوری 2025 کی شام سے ہی گھر سے لاپتہ تھے ۔وہ ایک آزاد صحافت کے طور پر این ڈی ٹی وی کے لئے کام کرتے تھے ۔اس کے علاوہ وہ یوٹیوب پر ایک مقبول چینل بستر جنشنگ بھی چلا رہے تھے جس میں بستر کی اندرونی خبریں نشر ہوتی تھیں ۔بستر میں ماو¿وادیوں کی طرف سے اغوا پولیس ملازمین یا دیہاتیوں کی رہائی میں مکیش نے کئی بار اہم ترین رول نبھایا تھا۔پریس کلب آف اندیا نے ایک بیان جاری کر مکیش چندراکر کے قتل کے مذمت اور مانگ کی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر معاملے کی جانچ پوری کی جائے اور قصورواروں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔بستر کے آئی جی پولیس سنور راج پی نے کہا کہ صحافی مکیش چندراکر کے بھائی کی شکایت کے بعد پولیس کی اسپیشل ٹیم جانچ کررہی تھی اور شام ہم نے چٹان کے پاس بستی میں ٹھیکیدار شریش چندرا کرکے کمپلیکس میں ایک سیپٹک ٹینک سے مکیش چندرا کر کی لاش برآمد کی ہے ۔اس معاملے سے مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی ۔مکیش کے موبائل کی آخری لوکیشن اور فون کال کی بنیاد پر جانچ جاری ہے۔اسی دوران ٹھیکیدار شریش چندراکر کی جانب سے اپنے مزدوروں کے لئے بنائے گئے رہائشی کمپلیکس میں پولیس نے چھان بین شروع کی تو انہیں ایک تازہ کنکریٹ کا ڈھال نظر آیا پتہ چلا کہ یہ پرانہ سیپٹک ٹینک ہے جس کے ڈھکن کو بند کرکے دو دن پہلے ہی کنکریٹ بچھائی گئی ۔پولیس نے شبہ کی بنیاد پر اس سیپٹک ٹینک کو توڑا تو پانی کے اندر مکیش کی لاش ملی ۔اس کی لاش پر گہرے چوٹ کے نشان تھے ۔مکش چندرا کرکے بڑے بھائی اور ٹی وی جرنلسٹ نے بتایا کہ بدھوار 1جنوری 2025 کی شام کو اس کا بھائی چندرا کر گھر سے گیا تھا ۔لیکن گھر والوں کو اگلی صبح پتہ چلا تو شروع میں تو مکیش نے سوچا کہ ان کے بھائی کسی خبر کے لئے آس پاس کے کسی علاقہ میں چلے گئے ہیں لیکن جب وہ آئے تو ان کا گھر اوران کا فون بند ملا تو انہیں پریشانی ہوئی ۔ان کے بھائی مطابق میں اور میں مکیش الگ الگ رہتے ہیں ۔بھائی سکیش نے کہا کہ ٹھیکیدار سریندر چندراکر کی جانب سے بنائی گئی سڑک کی تعمیر میں کرپشن کی ایک خبر این ڈی ٹی وی پر چلائی تھی جس کے بعد سرکار نے اس معاملے کی جانچ کا اعلان کر دیا تھا ۔بتایا جارہا ہے ٹھیکیدار شریش چندراکر اس خبر کے نشر سے بے حد پریشان تھے اور انہوں نے مکیش چندرا کر اپنے گھر ملنے کے لئے بلایا ۔شوشل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پہلے تو مکیش ملاقات کرنے سے ٹالتا رہا لیکن آخر پہلی جنوری کی شام کوشریش چندرا کر سے ملنے ان کے گھر گیا وہیں سے وہ غائب ہوگیا اور پھر 3جنوری کو ان کا سریش چندراکر کے ذریعے بنائے گئے مزدوروں کے مکانوں میں بنے ایک سیپٹک ٹینک سے ان کی لاش برآمد ہوئی ۔ایک تفتیشی صحافی اپنا فرض نبھاتے ہوئے شہید ہوا۔ہم مکیش چندراکر کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور ان کی کھوجی پتریکاریکتا کو سلام کرتے ہیں ۔امید کرتے ہیں پولیس قاتلوں کو جلد سے جلد تلاش کرے گی اور انہیں عدالت سے سخت سے سخت سزا دلوائے گی ۔ریاستی سرکار سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاست سے دور رکھیں اور مکیش چندراکر اور ان کے گھر والوں کو انصاف دلانے میںپوری مدد کریں ۔
(انل نریندر)
نتیش کمار پر قیاس آرائیاں!
کہا جاتا ہے سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے نہ ہی کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے ۔ہوتا ہے تو سیاسی مفاد ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کے سیاست میں کچھ بھی بے وجہ نہیں ہوتا ممکن ہے کے وجہ بعد میں پتہ چلے ۔بہار میں نتیش کمار کچھ بھی کھیل کرنے والے ہوتے ہیں اس کے اشارہ پہلے سے ہی ملنے لگتے ہیں ۔کئی بار لگتا ہے یہ تو ایک عام بات ہے لیکن کچھ وقت بعد غیر ضروری ہو جاتا ہے ۔نتیش کمار کی ایک تصویر پر خوب بحث ہو رہی ہے ۔اس میں وہ ہنستے ہوئے تیجسوی یادو کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور تیجسوی ہاتھ جوڑکر تھوڑا چھگ کر ہنس رہے ہیں ۔حالانکہ یہ ایک پروگرام کی تصویر ہے جہا حکمرا ں اور اپوزیشن فریق کا آنا ایک خانہ پوری رسم ہوتی ہے ۔درا صل عارف محمد خاں بہار کے گورنر کا حلف لے رہے تھے اس موقع پر نتیش کمار بھی موجود تھے اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو بھی تھے تینوں لیڈروں کی یہ تصویر آ ر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے اس بیان کے بعد آئی ہے جس میں انہوںنے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا نتیش کمار کے لئے ان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔بہار میں اسی برس اسمبلی چناﺅ ہونے ہیں اور اس ریاست کے سیاسی گلیاروں میں پچھلے کچھ دنوں سے نتیش کمار کو لیکر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے ان قیاس آرائیوں کو نتیش کمار کی خاموشی نے بھی ہوا دی ہے ۔در اصل بہار کی سیاسی سیاست کے دو بڑے نیتاﺅ کی پرانی کمیسٹری نے ایک بار بھر سیاسی چے مہ گوئیو ں کی آہٹ پیدا کر دی ہے۔جہاں راشٹریہ جنتا دل اور ابڈیا بلاک کے لیڈر لالو پرساد یادو نے وزیر اعلیٰ اور جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار کو اپنے ساتھ آنے کا دعوت نامہ دیا وہیں نتیش نے بھی براہ راست تردید کے بجائے ہنسی میں ٹال دیا اس کے بعد ہی قیاس آرائیوں کا وہ دور شروع ہوا جس میں سیاست کے سبھی گروپوں کے کان کھڑے کر دئے نتیش کمار محض ایسے لیڈر ہیں جو پچھلی ایک دھائی میں 4 بار بالی بدل کر بہار کے اقتدار میں بنے ہیں یہیں نہیں وہ آج بھی اہمیت کا حامل بنے ہوئے ہیں ۔لالو کے اس بیان کے بعد بہار میں کانگریس لیڈر شکیل احمد خاں نے بھی کہا گاندھیائی نظریہ میں یقین رکھنے والے لوگ گوڈ سے واسیوں سے الگ ہو جائیں گے ۔سب ساتھ ہیں نتیش کمار تو گاندھی جی کے 7 اپدیش اپنی ٹیبل پر رکھتے ہیں ۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نتیش سیاسی طور پر مضبوط ہیں اس لئے ان کی چرچہ ہوتی ہے ۔الگ بی جے پی نے نتیش کی پارٹی توڑی تو بھی ان کا ووٹ نہیں توڑ پائیں گے ۔نتیش کے بھروسہ ہی مرکزکی سرکار چل رہی ہے ۔یہ بات بی جے پی کو بھی معلوم ہے ۔کہا تو یہاں تک جارہا ہے کہ بی جے پی نے نتیش کمار پلٹی مارتے ہیں تو ان کی جے ڈی یو کو توڑ دیں گے اور ان کے بڑی تعداد میں ایم پی اور ممبر اسمبلی نتیش کا ساتھ چھوڑ دیں گے ۔بہار کے نائب وزیراعلیٰ بی جے پی لیڈر وجے کمار سنہا نے کہہ کر یہ سنسنی پھیلا دی ہے کہ اٹل جی کو سچی شردھانجلی یہی ہوگی کہ بہار میں بی جے پی کی مکمل اکثریت والی سرکار بنائی جائے ۔حالانکہ جلد ہی انہوں نے اس بیان سے کنارہ کر لیا لیکن تب تک نقصان بھی ہوچکا تھا ۔یہ نظریہ پہلے سے ہی بنا ہوا ہے کہ بی جے پی کی سیاست میں جے ڈی یو اور نتیش کی ضروریت جلد سے جلد خاتمہ چاہتی ہے ۔نتیش کی بے چینی تب سے بڑھ گئی ہے جب ایک چینل میں وزیرداخلہ امت شاہ نے اس سوال کیا کہ بہار میں پارٹی کا مکھیہ منتری کون ہوگا کے جواب میں کہہ دیا کہ یہ تو چناو¿ بعد ہی پارلیمانی بورڈ طے کرے گا اسی بیان سے نتیش بے چین ہوگئے اور انہوں نے سب طرف ہاتھ پاو¿ں مارنے شروع کر دئیے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نتیش مرکز سے سودے بازی کررہے ہیں یا پھر ایک بار پھر پلٹی مارنے جارہے ہیں ؟
(انل نریندر)
04 جنوری 2025
این بیرن سنگھ کی معافی پر سوال ؟
منی پور کے وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ نے مئی 2023 سے جاری شورش اور تشدد کے دور کو بے حد افسوس ناک بتاتے ہوئے ریاست کی عوام سے معافی مانگ لی ہے ۔انہوں نے سال کے آخری دن منگل کو کہا کہ ریاست میں جو کچھ ہو رہا ہے مجھے اس پر بے حد افسوس ہے میں منی پور کے لوگوں سے معافی مانگتا ہوں ۔ساتھ امید جتائی کہ اب نئے سال میں حالات میں بہتری آئے گی اور انہوں نے لوگوں سے بھی ماضی کو بھلا کو نئی زندگی کی شروعات کرنے کی اپیل کی ہے ۔بتا دیں کہ منی پور میں تین مئی 2023کو میتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی تب سے اب تک جاری تشدد میں 250لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں ۔5ہزار سے زیادہ گھر جلا دئیے گئے ہیں ۔60ہزار لوگ گھر چھوڑ کر راحت کیمپوں میں ہیں ۔وزارت داخلہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 2023 میں نارتھ ایسٹ میں ہوئے تشدد کے واقعا ت میں 77 فیصد منی پور کے تھے ۔اس برس 243 تشدد کے واقعات نارتھ ایسٹ میں ہوئے ان میں 187 واقعات منی پور میں ہیں۔آج بھی ذاتیہ تشدد میں مبتلا و زخمی منی پور کو مسئلے کے حل کا انتظار ہے ۔منی پور جلتا رہا اور حل ڈھونڈنے میں نا تو مرکز نے اور نا ہی ریاست کے وزیراعلیٰ بیرن سنگھ سرکار نے کبھی سیاسی قوت ارادی کا اظہار کیا ۔منی پور میں جو بھی خوفناک واقعات رونما ہوئے اور جس طرح سے اہم فرقوں میں میتئی اور کوکی کے درمیان خون خرابہ قتل ،ریپ آتش زنی کے واقعات کے بعد ہجرت شروع ہو گئی اس نے پوری ہندوستانی جمہوریت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔ریاست کی بیرن سنگھ کی قیادت والی بھاجپا سرکار کو اس ڈراورنے تشدد پر کنٹرول کرپانے کے لئے پہلی نظر میں ذمہ دار ٹھہرایاجانا تھا ۔اور دکھاوے کے لئے ٹھہرایا بھی گیا ۔ایک آسان سا سوال جس طرح سے مذمت تھی وہ آج بھی اسی طرح ہے۔آخر پردیش اور مرکز کی شکتی مان مودی سرکار تشدد پر لگام کیوں نہیں لگا سکی ؟ یہ یاد رکھا جائے جب منی پور جل رہا تھا اور قومی سطح پر سرخیاں بنا ہوا تھا تب بیرن سنگھ یا مرکزی سرکار کے سطح پر خاموشی رہی ؟ آج تک وزیراعظم نریندر مودی ایک بار بھی منی پور جانے اور عوام کو شانت کرنے کی کوشش کے لئے نہیں گئے ۔وہ دنیا بھر کی یاترا تو کررہے ہیں لیکن منی پور جانے سے پرہیز کیوں کرتے ہیں ؟ ایسے میں سوال ہے کہ وزیراعلیٰ کی اس معافی کا ریاست کے الگ الگ فرقوں کے لوگوں پر کیسا اور کتنا اثر پڑے گا؟ سوال اہم اس لئے بھی ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ الزام لڑائی سے شروع ہونے کے بعد خاموشی کی تلاش میں ہے ۔وزیراعلیٰ اور ریاست کی انتظامیہ کا رول منصفانہ نہیں ہے ۔الزام اگر پوری طرح سے غلط بھی ہو تب بھی پوری طرح سے صاف ہے کہ پردیش کے لوگوں کا ایک کھویا ہوا انہیں بھروسہ ختم ہو رہا ہے اور وہ شک کی نظروں سے دیکھتی ہے ۔ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ مرکز اور بھاجپا اعلیٰ کمان نے اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی وہاں کے حالات بد سے بدتر ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ کو کیوں نہیں بدلا ہے ؟ وہ بری طرح سے فیل ہو چکے ہیں ۔خود بھاجپا کے ممبر اسمبلی انہیں ہٹانے کی مانگ کررہے ہیں لیکن پتہ نہیں مرکز کی کیا مجبوری ہے ۔انہیں اپنے عہدے پر بٹھائے رکھنے کی ؟ این بیرن سنگھ جی آپ کی معافی کا کوئی مطلب نہیں اگر آپ دل سے پچھتا رہے ہیں تو اپنے عہدے سے خود استعفیٰ دیں اور کسی وزیراعلیٰ کو آنے دیں جو اس جلتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کر سکے ۔
موجودہ سیاست میں کیوں ہیں امبیڈکر ضروری!
بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکرایک بار پھر پچھلے کئی دنوں سے سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں وجہ پچھلے دنوں راجیہ سبھا میں دیا گیا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا ایک بیان ہے اس نے تمام اپوزیشن دلتوں اور پسماندہ و محروم طبقوں کو ان کی پارٹی پر حملہ آور ہونے کا موقع دے دیا ہے حالانکہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے یہی نہیں ان کے بیان پر وزیراعظم نریندر مودی نے بھی سوشل میڈیا ایکس پر کانگریس پر جوابی وار کیا ۔امت شاہ کو باقاعدہ پریس کانفرنس کرنی پڑی ۔اسی سے پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا اس تنازعہ سے کتنی بے چین ہے ۔آخر ڈاکٹر امبیڈکر آج کے وقت اور سیاست میں اتنے اہم کیوں ہیں ؟ ڈاکٹر امبیڈکر نے ایک انتہائی غربت سماج کو مضبوط بنانے کا خواب دیکھا وہ استحصال شدہ طبقوں کے حق آزادی اور باوقار زندگی کے لئے لو جگانے والے مانے جاتے ہیں ۔ایک تجزیہ نگار کا کہنا تھا ڈاکٹر امبیڈکر نے دلت سماج کی بھلائی کے لئے جیسا کا م کیا ہے ایسے میں اگر وہ سماج انہیں اپنا مسیحہ یا بھگوان مانتا ہے تو اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے ۔آزادی سے پہلے یا اس کے بعد اس سماج کے لئے امبیڈکر نے جتنا کام کیا اتنا کسی اور نے نہیں کیا ہے ۔ایک سابق آئی اے ایس افسر پی ایل پنیا کا کہنا ہے کہ اگر امبیڈکر نے سماجی تبدیلی کی لڑائی نا لڑی ہوتی تو ہم لوگ آئی اے ایس افسر نا بن کر آج بھی غلامی کی زندگی جی رہے ہوتے ۔بابا صاحب کی اصل لڑائی سماج میں برابری کے حق لئے تھی ساتھ ہی ان کی جدوجہد اس بات کے لئے بھی تھی کہ سیاسی امپاور سماج کے آخری شخص تک کیسے پہنچے ۔امبیڈکر نے صرف دلت طبقے کے لئے ہی نہیں بلکہ سماج کے لئے بھی پسماندہ لوگوں کی بہتری کے لئے بھی کام کیا ۔سال 2024 کے لوک سبھا چناو¿ میں اپوزیشن نے آئین اور ریزرویشن کے مسئلے پر ہی بھاجپا کو گھیرنے کی کوشش کی تھی ۔ایسا مانا جارہا ہے کہ وہ اس وجہ سے بھی بھاجپا اکیلے اکثریتی نمبر تک نا پہنچ سکی ۔آخر امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کہا کیا تھا جس پر اتنا ہائی ہلا مچ گیا ہے ؟ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں اپنی تقریر کے دوران ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی وراثت پر بولتے ہوئے کہہ گئے کہ اب یہ ایک فیشن ہوگیا ہے ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔امبیڈکر ۔اتنا نام اگر بھگوان کا لیتے تو سات جنموں تک سورگ مل جاتی۔وزیر داخلہ کی تقریر کے اسی پیرے پر اپوزیشن اعتراض جتا رہی ہے ۔دراصل ایک ایکسپرٹ کا ماننا ہے کہ بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر پر سیاسی پارٹیوںکے درمیان بھلے ہی ایک دوسرے پر الزام تراشی کے مرکز میں درج فہرست ذاتوں کے 20 سے 22 فیصد ووٹر ہیں اصلی لڑائی تو ووٹ بینک اور آئین بچانے کی ہے ۔یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ بھاجپا کا ایک طبقہ منو اسمرتی چاہتا ہے اور بابا رام دیو کے آئین کو بدلنا چاہتا ہے ۔2024 کے چناو¿ سے پہلے بھاجپا کے کئی لیڈروں نے اپیل کی تھی کہ ہمیں اس بار 400 پار سیٹیں چاہیے تاکہ ہم آئین بدل سکیں ۔اور پوری اپوزیشن امت شاہ سے معافی کی مانگ کررہی ہے ان کے استعفیٰ تک کی بات کر رہی ہے لیکن بی جے پی لیڈر شپ اسی بات پر اڑی ہوئی ہے کہ امت شاہ کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر اس پر سیاست کی جارہی ہے۔اپوزیشن امت شاہ کے اس بیان کو جنتا پر خاص کر دلتوں اور پسماندہ طبقوں پر کتنا اثر پڑا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔آج کے پش منظر میں اس لئے ضروری ہے کہ بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر صاحب کی آئین کے تئیں خدمات مشعل راہ ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا
مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...