Translater

30 مارچ 2023

بر خاستگی غیر ملکی میڈیا کی نظروںمیں !

کانگریس نیتا راہل گاندھی کی ایم پی ممبر شپ منسوخ ہونے کو لیکر رد عملوں کا دور جاری ہے۔مجرمانہ ہتک عزت کے اس معاملے میں سورت کی ایک عدالت نے راہل کو دو سال کی جیل کی سزا سنائی اس کے بعد ان کی لوک سبھا کی ممبرشپ منسوخ ہو گئی ۔ راہل گاندھی نے اس مسئلے پر اپنی بات رکھی اور کہاکہ معاملہ عدالت کا ہے اس بارے میں میں کوئی رائے زنی نہیں کروںگا۔ حالاںکہ انہوںنے وزیر اعظم مودی اور اڈانی گروپ کے درمیان کے رشتوں پر سوال اٹھایا اور پوچھے کئی سوال ۔ انہوںنے الزام لگایا کی میری ممبرشپ منسوخ کی گئی کیوں کہ پی ایم میرے اگلے امکانی بھاشن سے ڈرے ہوئے تھے۔ جو اڈانی پر ہونے والی تھی ۔ راہل گاندھی کی لوک سبھا ممبر شپ منسوخ ہونے کے مسئلے پر غیر ملکی میڈیانے بھی اس پر اپنی رائے زنی کی ہے۔ برطانوی اخبار د گارڈین نے عنوان دیا ہے ’ہتک عزت معاملے میں اپوزیشن لیڈر کا اخراج‘ اخبار لکھتا ہے کہ بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ہتک عزت معاملے میں سزا ملنے کے 24گھنٹے کے بعد ہی انہیں پارلیمنٹ کے ایم پی شپ سے ہٹادیا گیا۔ راہل فوراً جیل نہیں جائیںگے کیوںکہ انہیں فوری ضمانت مل چکی ہے ۔ اب اگر ہائی کورٹ ان کی سزا پر روک لگا دیتا ہے تو لوک سبھا کی ممبری کیلئے پھر سے اہل ہو جائیںگے ۔ اخبار نے سیاسی معاملوں کے ایکسپرٹ عاصم علی کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ بی جے پی کے راہل کے بیان پر مرکوز کرنے سے حیران ہیں ۔ مجھے سمجھ مین نہیں آرہا ہے کہ یہ کیسے حکمت عملی ہے چوںکہ اس سے راہل اور کانگریس کو ہی فائدہ ہوگا۔ بی جے پی راہل سے عدم محفوظ محسوس کرتی ہے ۔ اور ا س سے کانگریس کی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سرکاری مودی کی تنقید بر داشت نہیں کر سکتی ہے ۔ امریکہ اخبار نیویارک ٹائمز نے عنوان دیا ہے کہ ’راہل گاہل گاندھی کو ایم پی شپ سے ہٹاکر کے مودی کو بھارت کی اکثریتی فرقے کی روایت کو ختم کرنے والا ہندو راشٹر وادی نیتا بتایا تھا۔ جو دیش کی جمہوریت کو ختم کرسکتا ہے۔ جمعہ کو مودی کے ساتھیوں نے ان کا یہ کام پورا کردیا ۔ اخبار کے مطابق پی ایم کے امکانی حریفوں کو مات دینے کیلئے ان کے ساتھیوں نے یہ سب سے بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ اور احتجاج کی آواز کے خلاف کورٹ گئی تھی ۔واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے ’بھارت میں مودی کے نکتہ چیں راہل گاندھی کو پارلیمنٹ سے نکالا ‘ وہ حالیہ مہینوں میں کرپشن کا اشو اٹھاکر اور مودی سرکار پر بھارت کی جمہوریت کی بنیاد بگاڑنے کا الزام لگاکر ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کرتے رہے ۔پچھلے سال راہل گاندھی نے ایک مقبول ایکتا مارچ نکالا تھا اور مودی سرکار پر دیش کو بانٹنے کاالزام لگایا تھا۔ اپوزیشن مودی کی پارٹی بی جے پی کو حال کے برسوں میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرتی تقریر اور تشدد بھڑکانے کا قصور وار مانتے ہیں ۔ حالاںکہ بی جے پی ان الزامات سے انکار کرتی ہے اور انکی حمایت کرتی ہے ۔ گجرات سے ایک چائے بیچنے والے کے بیٹے نے دیش کی حالت میں بہتری لادی ہے ۔ (انل نریندر)

28 مارچ 2023

یوگی نے بنا یا ریکارڈ !

اتر پردیش میں مسلسل چھ برس تک وزیر اعلیٰ بنے رہنے کا ریکارڈ بنانے کے بعدیوگی آدتیہ ناتھ اتوار کی صبح ایودھیا میں ہنومان گڑھی میں سنکٹ موچن ہنومان جی اور رام للا کے درشن اور پوجن کیا ۔ اور آرتی اور پریکرمہ کی ۔اتر پردیش میں اسمبلی چناو¿ میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں سرکار بنائی تھی ۔یوگی نے 19مارچ 2017کو پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے تھے ۔2022کے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کو دوبارہ اکثریت ملنے کے بعد یوگی 25مارچ 2022کو پھر وزیر اعلیٰ بنے۔یوگی نے چھٹے برس کی میعاد پوری ہونے کے بعد ریاست میں سب سے زیادہ وقت تک وزیر اعلیٰ بننے کا ریکارڈ اتوار کو پورا کرلیا۔ یوگی ایودھیا گئے اور ہنومان جی کے درشن کر انہوںنے خوشحال صحت مند اترپردیش کی کامنا کی ۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے رام للا کے درشن کئے ۔ اور رام مندر تعمیر کی پروگریس کے بارے جانا ۔ لکھنو¿ میں سنیچر کو ایک تقریب میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے وزیر اعلیٰ کی شکل میں یوگی آدتیہ ناتھ کی میعاد کے چھ سال پورے ہونے پر کہا کہ شاید آپ لوگوں کو اس بات کی جانکاری نہیں ہوگی کہ آج تاریخ کا اہم دن ہے ۔ چوں کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے بطور وزیر اعلیٰ چھ سال پورے کر لئے ہیں۔ اور اب تک اتنے لمبے وقت تک کوئی وزیر اعلیٰ نہیں رہا ۔ ڈاکٹر سمپورن جی اب تک کے سب سے زیادہ وقت تک رہنے والے وزیر اعلیٰ تھے لیکن ان کے ریکارڈ کو کسی نے نہیں توڑا ۔ یوگی ہی ہے جنہوںنے اسے توڑا ہے۔ دسمبر 1954کو پہلی بار اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ۔ ان کی میعاد اپریل 1957تک رہی ۔ ڈاکٹر سمپورن آنند نے دوبارہ 10اپریل 1957کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا اور چھ دسمبر 1960تک وہ اس عہدے پر بنے رہے ۔ ہم یوگی آدتیہ ناتھ جی کو اس ریکارڈ کیلئے بدھائی دیتے ہیں ۔ اور ہمیں امید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ ان کی پاری لمبی ہے اور اسی طرح اترپردیش کا وکاس کرتے ہو ئے مافیاو¿ں کی صفائی بھی کرتے رہیں۔ (انل نریندر)

دیش میں جمہوریت کیلئے پریس کی آزادی ضروری !

الگ الگ نظریات کے احترام کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے بدھوار کو کہا کہ نااتفاقی کو نفرت میں نہیں بدلنا چاہئے اور ناہی نفرت کو تشدد میں بدلنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔نئی دہلی میں رام ناتھ گوئنکہ قابل قدر صحافت ایوارڈ کے 16ویں تقریب میں چیف جسٹس چندر چوڑ مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوئے تھے انہوںنے کہا کہ ہمارے دیش کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے کئی صحافی ناگزیں حالات میں کام کرتے ہیں ۔ لیکن ان حالات اور احتجاجوں کا سامنا کرتے ہوئے اٹل رہتے ہیں یہ ٹھیک ویسی خوبی ہے ،جسے گنوانانہیں چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ صحافیوں کی شکل میں ہو سکتا ہے ہم اس نظریہ سے متفق نہ ہو ںجو کسی صحافی نے اپنانا ہو یا جس نتیجے پر پہنچے ہوں ۔میں بھی خود کو کئی دفعہ صحافیوں سے غیر مطمئن پاتا ہوں آخر کار ہم میں سے کون اور دیگر سبھی لوگ متفق ہیں ؟ لیکن عدم اتفاقی کو نفرت میں نہیں بدلنا چاہئے اور نفرت کو تشدد میں نہیں بدلنا چاہئے ۔ جمہوریت کیلئے آزاد پریس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا دیش کی جمہوریت کے چوتھا ستون ہے اور اس طرح جمہوریت کا ایک اہم جز ءہے ۔ایک طریقہ کار صحت مند جمہوریت کو ایک ایسے ادارے کی شکل میں صحافت کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے جو حکمراںسرکار سے مشکل سوال پوچھ سکے ۔ یا جیسا کہ عام طور پر جانا جاتا ہے،اقتدار سے سچ بولیں ،کسی بھی جمہوریت کی کی اقتدار سے سمجھوتہ تب کیا جا تا ہے جب پریس کو ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے۔ الگ کسی دیش کو جمہوریت میں بنے رہنا ہے تو پریس کو آزاد رہنا ہوگا ۔ انہوںنے کہ ذمہ دار صحافت سچائی کی کرن ہے جو ہمیں بہتر مستقبل کی طرف لے جاتی ہے یہ انجن جو سچائی ،انصاف اور برابری کی تلاش کی بنیا دپر جمہوریت کو آگے بڑھاتی ہے ۔ ڈیجیٹل دور کی چنوتیوں میں صحافیوں کیلئے رپورٹینگ میں پختہ غیر جانبدار اور ذمہ داری کے پیمانوں کو بنائے رکھنا پہلے سے بھی زیادہ اہم ہے۔ چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انڈین ایکسپریس کے چیف ایڈیٹر راج کمل جھاں نے کہا کہ آزاد پریس کیلئے آپ کے نظریات اور چتاو¿نیوںسے ہمار ا یہ بھروسہ پختہ ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ صحافیوں اور صحافت کیلئے ایک دھورو تارا بنا رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ سال در سال ایک کے بعد ایک معاملے اس چکر سے آگے کی راہ کو روشن کیا ہے ۔ اور عدالتیں ہماری آزادی کو بنائے رکھنے کیلئے حکمراں فریق پر دباو¿ بناتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب روشنی ہلکی ہوتی ہے جب ایک رپورٹر کو آتنک وادیوں کیلئے بنے قانون کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے ۔ دیگر کسی سوال پوچھنے کیلئے ، ایک کارٹون بنانے کیلئے اسے جیل میں ڈال دیا جاتاہے ۔تب ہم دھورو تارے کی طرف دیکھتے ہیں اور ہمیں روشنی ملتی ہے۔ (انل نریندر)

23 مارچ 2023

پارلیمنٹ میں ڈیڈ لاک ختم کرنے کا سوال!

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے سنیچر کو کہا کہ پارلیمنٹ میں تعطل ختم کرنے کیلئے کوئی بیچ کا راستہ نہیں ہے۔ چوںکہ اڈانی گروپ سے معاملے میں جے پی سی کی تشکیل کی اپوزیشن کی مانگ پر کوئی سمجھوتہ ہو سکتا راہل گاندھی کے معافی مانگنے کا سوال ہی اٹھتا۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کے 16پارٹیوں کا جے پی سی سے جانچ کی مانگ کرنے سے بوکھلائی ہوئی ہے اس لئے وہ تھریڈی مہم’ ڈسٹارٹ ‘ یہ یوں کہیے کہ برنام کر نا اور اشو سے توجہ بھٹکانے میں لگی ہے۔رمیش نے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن کی جے پی سی کی تشکیل کی مانگ سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی راہل گاندھی سے معافی کی مانگ کر رہی ہے جبکہ انہوںنے ایسا کچھ نہیں کہا ہے ۔جیسا کہ حکمراں فریق بتارہا ہے۔ ان کے اس بیان سے ایک دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو کہا تھا کہ اگر اپوزیشن بات چیت کیلئے آگے آئے تو پارلیمنٹ میں جاری موجودہ ڈیڈلاک کو ختم کیا جا سکتا ہے تو کانگریس جنرل سیکریٹری نے کہا کہ میں کوئی بیچ کا راستہ نہیں دیکھتا کیوں کہ بی جے پی کی ہماری مانگ کو لیکر کوئی سمجھو تہ نہیں کرنا چاہتی اور راہل گاندھی کے معافی کا سوال ہی نہیں اٹھتا ۔ انہوںنے کہا کہ جے پی سی سے جڑی اپوزیشن کی مانگ سے دھیان بھٹکانے کیلئے بھاجپا معافی کی مانگ کررہی ہے۔ وہ معافی کس لئے مانگے اور کس کے لئے مانگیں انہوں نے ایساکچھ کہا۔ مجھے لگتا ہے کہ 16اپوزیشن پارٹیوںنے مل کر جے پی سی کی مانگ کی ہے اس سے سرکار بوکھلا گئی ہے اور اس لئے انہوںنے تھریڈی گمراہی مہم شروع کی ہوئی ہے۔ کانگریس جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نے چین،جاپان ،ساو¿تھ کوریا اور کچھ دیگر ملکوںمیں بھارت کی اپوزیشن پارٹیوں کی نکتہ چینی کی اور سیاسی اشو بیرن ملک میں اٹھائے ۔ انہوںنے کہ کہ اگر کسی کو معافی مانگنی چاہئے تو وہ پر دھان منتری ہیں۔ انہوںنے ڈیڈلاک لگایا ہوا ہے تاکہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جائے لیکن ڈیڈلاک کیلئے اپوزیشن کو ذمہ دار ٹھہرانے کوشش ہوتی ہے۔تاکہ ہماری ساکھ خراب کی جائے کانگریس نے اڈانی تنازعہ سے جڑے کسی طرح کی گڑبڑی کی شکایت سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل جانچ سمیتی سے کرانے کے وزیر داخلہ امت شاہ کی دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کا بیان اڈانی گروپ کو بچانے کا دباو¿ ہے۔ ہم اڈانی کے ہیں اور کو ن سیریز کی 32کی مسٹری کی طرح رمیش نے سنیچر کو سرکار پر تین سوال داغے ۔ ابھی تو ہمیں تعطل ختم ہونے کی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ویسے عام طور پر پارلیمنٹ چلانا سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ (انل نریندر)

ایک بار پھر آمنے سامنے !

وزیر قانون کرن ریجیجو نے سنیچر کو پھر سے ججوں کی تقرری کیلئے کالیجیم سسٹم پر نکتہ چینی کی ہے۔یہ کانگریس پارٹی کے دیدہ دلیری کا نتیجہ ہے ایک پروگرام میں ریجیجو نے کہا کہ ہم کالیجیم سسٹم کو فولو کریںگے لیکن ججوں کی تقرری حکم سے نہیں ہو سکتی ۔ یہ پوری طرح انتظامی معاملہ ہے ریجیجو نے پروگرام کے دوران آئینی لکشمن ریکھا کی بھی بات کہی ۔انہوںنے حیرانی جتاتے ہوئے سوال کیا لیکن جج صاحبان انتظامی تقرریوں کا حصہ بنتے ہیں تو عدلیہ کاموں کو کون کرے گا؟ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نے سرکار کو ہدایت دی ہے کہ وہ نیا قانون بننے تک چیف الیکشن کمشنر اور دیگر چناو¿ کمشنروں کا سلیکشن کر نے کیلئے وزیر اعظم ،بھارت کے چیف جسٹس اور لوک سبھا میں حکمراں پارٹی کی ممبری والی ایک نفری کمیٹی بنائے وہیں انہوںنے دعویٰ کیا کہ کچھ ریٹائرڈ جج اور ورکر ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیںکہ ہندوستانی عدلیہ اپوزیشن پارٹی کا رول نبھائے انہوںنے کہا کہ یہ بھارت مخالف گروہ کا حصہ ہے ۔ ریجیجو نے کہا کہ کچھ لوگ عدالت میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ براہ کرم سرکار پر لگام لگائیں سرکا ر کی پالیسی بدلیں ۔ وہیں بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کالیجیم سسٹم کا بچاو¿ کرتے ہوئے کہا کہ ہر سسٹم صحیح نہیں ہے لیکن یہ سب سے اچھا سسٹم ہے جسے ہم نے ڈیولپ کیا ہے ۔ میں اس اشو پر وزیر کے ساتھ الجھنا نہیں چاہتا ہماری الگ الگ رائے ہو سکتی ہے۔ میں ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے لئے ان کے من احترام ہے۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ معاملوں میں کیسا فیصلہ لینا ہے اس کو لیکر سرکار کی طرف سے بالکل کوئی دباو¿ نہیں ہے۔ جج کی شکل میں اپنے 23سالہ میعاد میں مجھے کسی نے نہیں کہا کہ کس طرح فیصلہ لینا ہے ۔چناو¿ کمیشن کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ پر کوئی دباو¿ نہیں ہے میں کسی محکمے کی سربراہی کر رہے کسی معاون ملازم بات کرکے یہ بھی نہیں پوچھوں گا کہ اس معاملے میں کیا چل رہا ہے۔کچھ حدیں ایسی ہوتی ہیںجو ہم اپنے بناتے ہیں ۔ یہ ہماری ٹریننگ کا حصہ ہے ۔عدلیہ کے سامنے 4.32کروڑ معاملے زیر التویٰ ہونے کی چنوتی کی مسئلے پر سی جے آئی نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ معاملوں کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن یہ انصاف کیلئے عدالتوںمیں اتنا لوگوں کے یقین کو دکھاتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ججوں کے ٹرولنگ کے اشو پر جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ اتیوادی نظریات کے شور سے متاثر نہیں ہونا زیادہ اہم ہے۔میں ٹویٹر نہیں فولو کرتا مجھے لگتا ہے کہ ہمارے لئے یہ اہم ہے کہ ہم دقیہ نوسی نظریات کے شور سے متاثر نہ ہوں ۔مجھے لگتا ہے کہ سوشل میڈیا صرف ایک تکنیک نہیں ہے یہ اس وقت کا حصہ ہے ۔ آج کل یہ چلن ہے کہ عدالت میں کہے جانے والے ہر لفظ کا لائیو ٹویٹ کیا جاتا ہے ۔ اور یہ ہم پر بھی بھاری بوجھ ڈالتاہے ۔ (انل نریندر)

21 مارچ 2023

نشانے پر سپریم کورٹ !

مہاراشٹر کی مہا وکاس اگھاڑی (این وی اے)حکومت گرنے میں گورنر کے رول پر پچھلے دنوں دئے گئے سخت ریمارکس کے بعد جس طرح سے دیش کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کوٹرو ل کئے جانے لگا وہ صرف افسوس ناک ہے اور حیرت میں ڈالنے والا بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر چلا یہ ابھیان اتنا سنگین تھا کہ ممبران پارلیمنت کے ایک گروپ نے صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو سے مل کر معاملے میں دخل دینے کی درخواست کی ۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ کی آن لائن ٹرولنگ کے معاملے میں 13اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ صدر کو خط لکھا ہے ۔ انصاف کے راستے میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے ان سے فوری اس معاملے صدر جمہوریہ سے فوراً ایکشن لینے کی مانگ کی ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کو کہنا تھا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی آئینی بنچ مہاراشٹر میں سرکار کی تشکیل اور گورنر کے رو ل کے معاملے میں ایک اہم ترین آئینی اشو پر سماعت کررہی ہے۔ خط میں آگے کہا گیا ہے ۔یہ معاملہ زیر سماعت ہے اس درمیان مہا راشٹر میں حکمراں پارٹی کے مفاد کیلئے امکانی طور سے ہمدردی رکھنے والے ٹرول آرمی نے بھارت کے چیف جسٹس کے ایک جارحیت دکھائی ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ لفظ اور میٹر گندہ ہے۔ قابل ملامت ہے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لاکھں میں لوگوں نے دیکھا ہے ۔یہ خط کانگریس ایم پی ویوک تنکھا نے لکھا ہے۔ اور پایمنٹ کے ایم پی دگ وجے سنگھ ،گتی سنگھ سہگل ، پرمود تیوای ، رنجیت رنجن ،عمران پر تاپ گڑھی ،عام آدمی پارٹی کے اوگھو چڈھا اور شیو سیبا یو بی ٹی ایم پی پرینکا چترویدی جیا بچن رام گوپالیادو کیلئے ذریوے دستخط شدہ ہے۔ خط میں تنکھا نے لکھا کہ اس مسئلے پر وینکٹ رمنا کو بھی الگ سے خط لکھا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مہارزژٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے فلور ٹیسٹ کیلئے ہاو¿س بلانے کی کاروائی جائز ہے ، سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے بعد آن لائن ٹرولز نے چیف جسٹس آف انڈیا اور عدالت پر حملہ شروع کردیا ہے ۔ گورنر کے عہدے کے مبینہ بجا استعمال سے متعلق ایک اشو کے سماعت کے بعد آن لائن ٹرولز نے سی جے آئی اور عدلیہ پر کٹاکش شروع کردیا ۔ گورنر کے عہدے کے بیجا استعمال کے معاملے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ وقت نے ایسے معاملوںمیں تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے۔ تمل ناڈر ،کیرل ،راجستھان تلنگانا ،چھتیس گڑھ محربی بنگال سے متعلق شکایت ہے کہ گورنر آفس کا رویہ ایسا ہے کہ جس سے ریاستی حکومت کا کام کاج متاثر ہو رہا ہے ۔ دہلی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ (انل نریندر)

مجھے پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع ملے!

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لندن میں دئے گئے اپنے بیان پر پارلیمنٹ میں جاری حکمراں فریق کے سنگرام پر جوابی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں اڈانی اشو پر ان کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالوں کو بھٹکانے کیلئے حکومت کی جانب سے یہ تماشہ کیا جار ہا ہے۔ انہوںنے صاف لفظوںمیں کہا: میں ایک ایم پی ہوں اورمیرے اوپر پارلیمنٹ میں الزام لگے ہیں میں ان کا جواب دوںگا۔اگر دیش میں جمہوریت ہے تو مجھے پارلیمنت میں بولنے کا موقع ملے گا۔ لندن سے لوٹے راہل گاندھی جمعرات کو لوک سبھا میں آئے مگر ہاو¿س فوراً ملتوی کردیا گیا ۔ اس کے بعد انہوںنے لوک سبھا میں کانگریس کے نیتا ادھیر رنجن چودھری کے ساتھ جاکر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی اور اپنا موقف رکھنے کیلئے وقت دینے کی درخواست کی بعد میں صحافیوں سے بات چیت میں راہل گاندھی نے کہا کہ میں نے اسپیکر سے درخواست کی ہے کہ حکومت کے چار چار وزرا ءنے مجھ پر جو الزام لگائی ہے میں ممبر پارلیمنٹ ہونے کے ناطے میرا حق ہے کہ ہاو¿س میںاس کا جواب دوں ۔ اسپیکر نے میری باتیں تو سنیں لیکن کوئی پختہ یقین دہانی نہیں ملی ۔ حالاںکہ میںنے امید نہیں چھوڑی ہے ۔ اب مجھے بولنے کا موقع ملے!راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ انہوںنے لندن میں کچھ بھی بھارت مخالف بات نہیں کی ہے۔ پارلیمنٹ میں پیدا تعطل کو لیکر راہل کا کہنا تھا کہ یہ پوری کوشش مسئلہ سے دھیان ہٹانے کیلئے ہے ۔اصل میں سرکار اڈانی اشو پر ڈری ہوئی ہے اس لئے یہ پورا تماشہ رچا گیا ہے۔ادھر اسپیکر اوم برلا پورے ہنگامے سے سخت ناراض ہیں۔جمعہ کو جیسے ہی ہاو¿س کی کاروائی شروع ہوئی تو راہل گاندھی کو بولنے کی مانگ کرتے ہوئے کانگریس کے کئی ایم پی ویل میں آگئے اور اس کے بعد حکمراں جماعت کے لوگوںنے بھی راہل کے لندن میں بیانات کو لیکر ان سے امعافی مانگنے کی مانگ کرتے ہوئے اپنی سیٹوں پر ہی کھڑے ہوکر ہنگامہ شروع کر دیا ۔ قریب 20منٹ چلے ہنگامے کے دوران اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ میں سبھی کو بولنے کا موقع دوںگا۔ جب ہاو¿س میں امن بنا رہے گا۔ ممبران پارلیمنٹ نے ان کی اپیل کو نظر انداز کردیا ۔ جس کے بعد پورے دن کیلئے ہاو¿س ملتوی کردیا گیا۔ وہیں کانگریسی نیتاو¿ں کا الزام ہے کہ لوک سبھا میں کاروائی کے دوران جان بوجھ کرپارلیمنٹ ٹی وی پر سیدھے نشریات کی آواز بند کر دی گئی ۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ویڈیومیوٹ کرپارلیمنٹ میں آوازیں دبائی جا رہی ہےں ۔جو جمہوریت کیلئے خطرہ ہے وہیں لوک سیکریٹریٹ نے اس کے پیچھے تکنیکی گڑبڑی کو حوالہ دیا ہے۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے ٹویٹ کیا کہ حکمراں فریق کے ہنگامے کے درمیان اپوزیشن ممبران نے پارٹی کے ایم پی راہل گاندھی کو بولنے دینے کی مانگ اٹھائی اس کاروائی کے ٹیلی کاسٹ کے دوران اچانک آواز بند ہوگئی ،جمہورت میں یہ کیسا سسٹم ہے ۔ راہل گاندھی پر حکمراں فریق کے وزراءنے بھی سنگین الزام لگائے ہیں۔ہمار خیا ل ہے کہ راہل گاندھی کو اپنا مو قف رکھنے کا موقع ملنا چاہئے ۔اگر ہمارے دیش میں جمہوریت مضبوط ہے تو سبھی کو اپنا موقف رکھنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...