Translater
23 فروری 2022
ایک ساتھ پہلی مرتبہ 38 دہشت گردوں کو سزائے موت!
کئی بار فیصلہ جب آتا ہے بہت سی یادیں دھندلی پڑ جاتی ہیں ۔جمعہ کو سپیشل عدالت نے جب احمد آباد میں 2008 کے بم دھماکوں کے قصورواروں کو سزا سنائی تو لوگوں کو یہ یاد دلانا پڑا کہ اس دن کتنی بڑی ت باہی گجرات کے اس شہر میں دیکھی گئی تھی ۔26 جولائی کی شام ایک کے بعد ایک 70 منٹ کے اندر شہر کے الگ الگ حصوں میں 21 بم دھماکے ہوئے تھے ۔جن میں 56 لوگوں کی جان چلی گئی تھی اور200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے ۔سازش کا پردہ فاش کرنے میں حالانکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے زیادہ وقت نہیں لگایا اور ایک سال کے اندر ہی معاملے میں مقدمہ درج ہو گیا ۔کل 76 لوگوں کو ملزم بنایا گیا ۔اور اب جب 13 سال کی عدالتی کاروائی کے بعد فیصلہ آیا تو ان میں 38 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور 11 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے اسپیشل کورٹ کے جج اے آر پریل نے 8 فروری کو 49 لوگوں کو قصوروار قرار دیا تھا ۔اور 28 لوگوں کو بری کر دیا تھا ۔آزاد بھارت میں پہلی بار ایک ساتھ اتنے قصورواروں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے ۔اس سے پہلے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے 1991 ویں میں ہوئے قتل کے معاملے میں تمل ناڈو کی ٹاڈا عدالت نے 1998 میں سبھی 26 قصورواروں کو موت کی سزا سنائی تھی ۔سرکار وکیل سدھیر برھم بھٹ نے کہا کہ دھماکوں میں نریندر مو دی کے قتل کی سازش تھی ۔جو تب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے ۔اور بچاو¿ وکیل امت پٹیل نے بتایا جج نے معاملے کو بہت ہی اہم بتایا سبھی قصوروار 8 جیلوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے زریعے عدالت کے سامنے موجود رہے احمد آباد جیل دہلی کی تہاڑ جیل اور بھوپال ،گیا بینگلورو ، کیرل ،ممبئی جیل میں رکھا گیا ہے ۔غور طلب ہے کہ احمد آباد بم دھماکے میں کچھ اور ملزمان کی بعد میں گرفتاری ہوئی ۔جن کے معاملوں کی ابھی سماعت شروع نہیں ہو پائی ۔26 جولائی 2008 کو 70منٹ کے اندر بم دھماکوں نے احمد آباد کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔دہشت گردوں نے بھیڑ بھاڑ اور بازار والے علاقے میں ٹفن میں بم نسب کئے تھے ۔اور سائیکل پر رکھ دیا گیا تھا اور دھماکے سے کچھ منٹ پہلے چینلوں اور میڈیاکو دھماکوں کی وارننگ دیتے ہوئے ای میل بھی کرایا گیا ۔سلسلے وار بم دھماکوں میں 56 لوگ مارے گئے تھے اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے اور زبردست بربادی ہوئی تھی ۔بتایا گیا ہے کہ یہ انڈین مجاہدین اور سینی نے دھماکے گودرا کانڈ کا بدلا لینے کے لئے کئے تھے ۔یہ الگ بات ہے کہ ان دھماکوں میں اقلیتی فرقہ کے کچھ لوگ بھی مارے گئے تھے ۔اس واردات سے پتہ چلتا ہے کہ وارانسی اور جے پور میں ایسے دھماکے کئے گئے تھے اور احمد آباد کے بعد سورت میں بھی 29 جگہوں پر بم پائے گئے تھے ۔خوش قسمتی سے یہ پھٹ نہیں پائے ۔ان قصورواروں کے سامنے اوپری عدالت جانے کا دروازہ بے شک کھلا ہے لیکن اسپیشل عدالت کے اس فیصلے کی اہمیت یہ ہے کہ دیش کو دہلانے والے معاملے میں سخت سے سخت سزا دے کر اس نے تباہ کن طاقتوں کو سخت سندیش دینے کی کوشش کی ہے ۔
(انل نریندر )
22 فروری 2022
دہلی پولیس کی قربانی و وقف کا کوئی مول نہیں!
دیش کی آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت دہلی پولیس کے یوم تاسیس کے 75ویں برس پر منائی گئی تقریب میں مہمان خصوصی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی پولیس پریڈ کی سلامی لی اور پریڈ کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہر پولیس ملازم کے سامنے پہلی چنوتی اپنی خوشیا ں لٹاکر ہماری اور آپ کی خوشیا ں بنائے رکھنے کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس ملازم ہمیشہ سماج میں اپنے نظام بنائے رکھنے میں اپنی پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں ۔ پولیس ملازم کی قربانی ،خود کو وقف کرنے اور اس کی فرض ایمانداری کی کوئی مول سے نہیں پرکھا جاسکتا۔اس موقع پر امت شاہ نے کووڈ 19-وبا کے دوران دہلی پولیس کے جوانوں نے فرنٹ لائن پر کھڑے ہوکر لوگوں کی خدمت کی ہے۔ لوگوں کو اسپتال میں بھرتی کرایا ہو یا ان کے گھر آکسیجن سلینڈر پہونچا یا ہو وہ کبھی پیچھے نہیں رہے ۔یہاں تک کہ دہلی پولیس کے جوانوں نے لاشوں کا انتم سنسکار بھی کیا ۔ اس دوران 79جوانوں نے نا گذیں حالات میں اپنی جان تک کہ قربانی دے دی۔مر کزی وزیر داخلہ نے شہید جوانوں کو شردھانجلی پیش کی اور کہا کہ دہلی پولیس نے ناتھ ایسٹ دہلی میں دنگو کے دوران قابل تحسین کاروائی کی ہے ۔ خاص طور سے فساد کی منصفانہ اور سختی سے جانچ کیلئے میں دہلی پولیس کو بدھائی دیتا ہوں ۔ انہوں نے دہلی پولیس کو اگلے پانچ سال 25سال کے اچھے مقاصد کے اصول کیلئے باقاعدہ روڈ میپ تیا ر کرنے کی نصیحت دی ۔بتادیں کہ 16فرروی کو دہلی پولیس کے یوم تاسیس کے 75ویں برس میں انٹر ہو گئی ہے ۔دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے اس موقع پر کہا کہ 1948میںدہلی پولیس آزاد پولیس فور س کی شکل میں وجود میں آئی تھی ۔75برسوں کے ساتھ دہلی پولیس نے پولیسنگ کے مختلف سیکٹر میں اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ۔ اس موقع پر امت شاہ نے سات پولیس بلڈنگ پروجیکٹ کا افتتاح کیا ۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کمشنر راکیش استھا نہ نے ای-نیوز لیٹر قصہ خاکی کا لانچ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس میں اس برس پانچ ہزار جوانوں کو پروموشن ملا ہے۔اور اس کے علاوہ 48جوانوں کو آو¿ٹ آف ٹرم پروموشن ملاہے ۔ اور 45جوانوں کو غیر معمولی کام کیلئے نوازا گیاہے۔ دہلی پولیس نے بلا شبہ دہلی کے شہریوں کو محفوظ رکھنے میں لائق تحسین کام کیاہے۔راجدھانی دہلی ہونے کے سبب آئے دن کوئی نہ کوئی خطرہ بنا رہتا ہے۔حال ہی میں دہشت گردوں پلان کو دہلی پولیس نے ناکام کیا ہے۔ ان کی خدمت کا کوئی مول نہیں ہے۔
(انل نریندر)
کیجریوال پر لگے الزامات کی جانچ ہوگی!
پنجاب میں پولنگ سے محض دو دن پہلے علیٰحدگی پسندی پر سیاسی درجہ حرارت انتہا کو پہنچ گیا عام آدمی پارٹی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال پر ان کے پرانے ساتھی کمار وشواس کے الزامات پر جمعہ کو اپوزیشن نے جارحانہ رخ اپنا لیا ۔خالصطانی علیحدگی پسندوں سے رشتوں کو لیکر کیجریوال کے خلاف کمار وشواس کے دعوو¿ں کی وزارت داخلہ جانچ کروائے گا ۔ جمعہ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پبجاب کے وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی کو خط لکھ کر یہ جانکاری دی اور معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی یقین دہائی کرائی۔اس سے پہلے وزیر اعلیٰ وزیر اعظم کو خط لکھکر معاملے کی جانچ کی مانگ کی تھی ۔امیت شاہ نے چنی کو خط لکھا کہ عام آدمی پارٹی اور ممنوعہ سکھ فار جسٹس کے درمیان مبینہ رشتوں کی جانچ کرائی جائے گی۔ امیت شاہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت سرکار نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے ۔اور وہ شخصی طور سے یہ یقینی کریں گے معاملے کو تفصیل سے دیکھا جائے ۔کمار وشواس کی طرف سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروندکیجریوال پر خالصتانی حمایتیوں کا ساتھ دینے کا الزام لگائے جانے کے بعد پنجاب کی سیاست گرما گئی ہے۔ کمار وشواس نے ایک انٹر ویو میں کیجریوال پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ یا خالصتان کا وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔اس الزام کو لیکر وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ کسی کو بھی دیش کے اتحا داور سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے نہیں دیا جائے گا۔ شاہ نے کہا کہ یہ بے حد قابل مذمت ہے کہ اقتدار میں آنے کیلئے کچھ لوگ علیحدگی پسندوں سے ہاتھ ملانے و پنجاب اور دیش کو توڑ نے کی حد تک چلے جاتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ چنی نے وزیر اعظم کو لکھے خط کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں سکھ فار جسٹس (ایس ایف جے )کا ایک خط ملا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ گروپ مسلسل عام آدمی پارٹی رابطے میں ہے ۔ایس ایف جے کے خط میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے 2017کے پنجاب اسمبلی چناو¿ میں عآپ کو حمایت دی تھی اور اسی طرح اس چناو¿ میں بھی حمایت کرے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا ایس ایف جے ووٹوں کو عآپ پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے ۔چنی نے اپنے خط میں کہا کہ سیاست کے علاوہ پنجاب کے لوگوں نے علیحدگی پسندی سے لڑتے ہوئے بھار ی قیمت چکائی ہے۔بصد احترام وزیر اعظم کو ہر پنجابی کی پریشانی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔الزام بہت سنگین ہے معاملے کی گہر ی جانچ ہونے چاہیے ،ثبوتوں کی بنیا دپر قصور ثابت ہونا چاہئے ۔ ہوائی الزمات سے کام نہیں چلے گا۔
(انل نریندر)
20 فروری 2022
ہر شہر ی کے بنیادی حقوق کی حفاظت کریں گے !
سپریم کورٹ نے کرناٹک کے حجاب تنازعہ میں دخل دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسے قومی سطح پر طول نہ دینا چاہئے ۔ بڑی عدالت نے ہر شہری کے بنیاد اختیارات کی حفاظت کا بھروسہ دیتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضی پر یہ نصیحت دی کہ تنازعہ کو قومی سطح پر پھیلا نا نہیں چاہیے ۔اگر کسی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو عدالت مناسب وقت پر دخل دے گی ۔ چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی والی بنچ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے انترم حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کررہی تھی ۔ جس میں حکم پر روک لگانے کی درخواست کی گئی تھی ۔عرضی گزار کے وکیل سے بنچ نے اس مسئلے کو قومی سطح پر لانا نا منا سب ہے؟ کسی کے آئینی حقوق کی خلا ف ورزی ہوتی ہے تو اس میں مداخلت کریںگے ۔ اس پر وکیل دیو دت نے کہا کہ عدالت نے طلبہ کو مذہبی پہچان دکھانے سے روک دیا اس مطلب آئین دفعہ 25کو معطل کرنا ہے ۔اس کے دور رس اثرات ہوںگے مساجد ،مدارس کے ڈاکٹر جے ہلی فیڈریشن ووقف ادارے نے اپنے رول کے بارے میں دلیل دی اور قطعی حکم نے مسلم اورغیر مسلم طالبات میں فرق کرکے سیدھے سیکولرزم پر حملہ کیا ہے ۔یہ آئین کی بنیادی ڈھا چے کا حصہ ہے۔چیف جسٹس نے بچا و¿ اور دفاع کے وکیل سے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔سبھی شہریوں کے آئینی حقوق کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
(انل نریندر)
کیا فلم منا بھائی ایم بی بی ایس دیکھی ہے!
پرائیویٹ میڈیکل کالج میں سیٹیں بڑھانے کیلئے فرضی مریض بھر تی کئے جانے کی حقیقت جان کر سپریم کورٹ بھی حیرا ن ہو گئی ہے۔بڑی عدالت نے مریضوں کی طرف سے پیش ایک وکیل سے پوچھا کہ کیا آپ نے فلم منا بھائی ایم بی بی ایس دیکھی ہے؟جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ و جسٹس سور یہ کانت کی بنچ نے پیر کو پھولے میں اناصاحب بڑھائک پاٹل میڈیکل کالج کے معاملے میں سماعت کررہی تھی ۔ بنچ نے کالج کے وکیل سے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جہاں اطفال میڈیکل وارڈ میں سبھی بچوں کو بغیر کسی بیماری کے بھر تی کیا گیا تھا ۔اسپتال میں فرضی مریض کیسے تھے؟ مکر سنکرانتی پر بیماری ختم نہیں ہوتی ہے ۔یہ معاملہ فرضی ریکارد کا ہے۔ این ایم سی نے جنوری میں ایک اچانک معائنہ کے بعد کالج میں ایم بی بی ایس کورس کیلئے طلبہ کی تعداد سو سے بڑھا کر 150کرنے کی اجازت واپس لے لی تھی ۔ اتنا ہی نہیں پہلے سے 100طلبہ کے داخلے کی کاروائی بھی معطل کردی ۔اس فیصلے کو کالج نے بمبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں پہونچ گیا ہے۔
(انل نریندر)
گھونگھٹ،پگڑی ،کراس پر روک نہیں تو حجاب پر کیوں؟
کرناٹک ہائی کورٹ میں بدھ کو چوتھے روز حجاب پہننے سے روکنے کے خلاف مسلم طالبات کی لڑکیوں پر سماعت ہوئی چیف جسٹس ریتو رتر اوستھی ،جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس جے ایم کھوجی کی بنچ نے عرضی گزاروں کی طرف سے پیش وکیل نے کہا کہ گھونگھٹ ،دوپٹہ ،پگڑی اور بندی جیسے دھارمک علامتیں لوگ پہن اوڑھ رہے ہیں۔صر ف حجا ب کیوں نشانہ بنا یا جا رہا ہے؟ایک عرضی گزار کی طرف سے پیس ہوئے وکیل روی ورما کمار نے کہا کہ سماج کے سبھی طبقوں میں بہت سے مذہبی نشان ہیں،چوڑی پہنی جاتی ہے،کیا یہ مذہبی نشان نہیں ہے؟چوڑی پہننے اور ماتھے پر بندی لگانے والی لڑکی کو باہر نہیں کیا جا رہا کراس پہننے پر روک نہیںہے؟صرف غریب مسلم طالبات ہی پابندی کے دائرے میںکیوں؟ان کے مذہب کی بنیا د پرانہیں کلا س باہر کیا جا رہاہے۔یہ آئین کی دفعہ 15کی خلاف ورزی ہے۔بدھ کے روز بھی حجا ب پہنی مسلم طالبات کو کلا س میں جانے نہیں دیا گیا یہ امتیاز پر مبنی ہے۔ کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا ۔ہمارا موقف نہیں سنا جا رہا ہے سیدھے سزا دی جارہی ہے۔اس سے زیا دہ اور کیا ہو سکتاہے؟دراصل ریاست میں تعلیمی اداروں میں حجا ب پر روک لگانے کے بعد معاملہ ہائی کورٹ پہونچا ہے ۔ انترم حکم میں عدالت نے جمع کو حجاب اور بھگوا گمچھے جیسی چیزیں پہن کر آنے پر روک لگا دی تھی اور اسکول کھولنے کو کہا تھا۔ اس سے پہلے طالبات کی طرف سے وکیل دیو دت کایت نے اپنا موقف رکھا تھا اور دلیل دی تھی کہ حجاب اسلام کا ضروری حصہ ہے مگر ریاست آئین کے تحت ملے حقوق میں دخل اندازی نہیں کر سکتی ہے۔
(انل نریندر)
19 فروری 2022
وزیر اعلیٰ کے متنازعہ بیا ن پر مچا ہنگامہ!
پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کے ذریعے دئے گئے متنازعہ بیان پر سیاسی طوفان کھڑا ہو گیاہے ۔دراصل ،سوشل میڈیا پر پوسٹ ایک ویڈیوکے مطابق منگل کے روز پنجاب کے روپ نگر میں ایک روڈ شو کے دوران چنی نے کہا کہ پرینکا گاندھی پنجاب کی بہو ہیں ۔اتر پردیش ،بہار ،دہلی کے یہ بھیا جو پنجاب میں راج کرنا چاہتے ہیں اب انہیں ریاست میں گھسنے نہیں دیں گے ۔ عام آدمی پارٹی نے وزیر اعلیٰ چنی کے اس بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے ۔عآپ کے قومی کنوینر و دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے تبصرے کو بے شرمناک قرار دیا ہے۔وزیر اعلیٰ کیجریوال نے کہا کہ ہم کسی بھی شخص یا کسی فرقہ خاص کے خلا ف کئے گئے غلط رائے زنیوں کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔کیجریوال کا کہنا تھا کہ گزشتہ میں ان کی کھال کو لیکر طعنہ مارتے ہوئے کہا تھا کہ جب بھگونت مان نے کہا کہ پرینکا گاندھی اتر پردیش سے جوڑی ہوئیں ہیں تو کیجریوال نے کہا کہ وہ بھی بھیا ہے ۔وہیں بسپا چیف مایا وتی نے بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے یوپی بہار کے لوگوں کی بے عزتی کی ہے وہ انتہائی شرمنا ک ہے ایسے میں ان دونوں ریاستوں کے لوگ کانگریس کو پنجا ب و یوپی میں بھی ہو رہے اسمبلی چناو¿ میں ضرور سبق سکھائیں گے۔دوسرے طرف بہار کے وزیر آبی وسائل و اطلاعات و رابطہ عامہ سنجے کمار جھاں نے چنی کے تبصرے کو بہودہ بتایا اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ان کے تبصرے کو ہندوستان کے اتحاد پر حملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنے اس نیتا کی اس حرکت کیلئے معافی مانگے ۔سنجے جھاں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو بہار کی مجموعی وراثت کی یاد بھی دلائی ۔چناو¿ کے دنوں میں اس طرح کے تبصرے سے کانگریس پارٹی کو بھاری نقصا ن ہو سکتاہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...