Translater

21 اپریل 2020

ہوم ڈیلیوری بوائے کی پریشانی !

15اپریل سے شروع لاک ڈاو ¿ن 2کے دوران سرکار 20اپریل سے کئی خدمات میں راحت دے رہی ہے اور چھوٹ کے زمرے میں ای کامرس کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔یہ کمپنیاں ہوم ڈیلوری کی سیوا دیتی ہیں مگر جس طرح سے حال ہی میں دہلی میں پیزا ڈیلیوری بوائے میں کورونا پوزیٹو ملا وہ تشویش کا باعث ضرور ہے ۔لاک ڈاو ¿ ن کے دوران آپ تو گھر میں رہتے ہیں کہیں باہر نہیں جاتے لہذا شوشل ڈسٹینسنگ تو اپنے آ پ میں ہو جاتا ہے جب آپ باہر نہیں نکلیں گے تو کسی کے ساتھ سماجی میل ملاپ کا سوا ل ہی نہیں اٹھتا لیکن گھر بیٹھے بیٹھے بچوں نے پیزا منگوا لیا اوریہی آپ کی موت کا سبب بن جائے تو اس میں آپ کی کیا غلطی ہے ؟ ہوا یہی کہ پیزا گھر پر ڈیلیور ہوگیا اور ڈیلیوری بوائے کو کورونا وائرس تھا اسے بھی شاید یہ پتہ نہیں ہوگا اس نے جہاں جہاں پیزا ڈیلور کروایا گیا وہاں وہاں کورونا انفکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا لہذا ایک پیزا ڈیلوری بوائے کی وجہ سے جوا س کے رابطے میں آئے تھے ان کو تنہائی میں رکھ دیا گیا ۔پیزا بوائے کے کورونا اسپاٹ ہو جانے کے بعد کئی کالونیوں نے اپنی اپنی سطح پر قدم اٹھانے شروع کر دیے ہیں جیسے ہاو ¿سنگ سوسائٹی میں ڈیلوری بوائے کے داخلے پر روک لگا دی گئی ہے ۔اگر کسی کا سامان آتا ہے تو لوگ بیری کیٹ تک آکر اپنا سامان لے رہے ہیں ۔ہم سندر نگر میں رہتے ہین ہماری آرڈبلیو اے نے بھی یہی انتظام کیا ہوا ہے ۔گیٹ کے اندر کسی ڈیلوری بوائے کو آنے کی اجاذت نہیں ۔ہمارے گھر گھر کا سامان آتا ہے توکوئی آدمی گیٹ تک جاتا ہے اور سامان لے آتا ہے تو مقامی لوگوں کو پولیس اور آر ڈبلیو اے سمجھا رہی ہے کہ وہ سبزی ،پھل فروشوں سے زیادہ خریداری کریں ۔کچھ کالونیوں نے تو مقامی دوکانداروں کی پہچان کرکے 100سے زیادہ ٹوکن بانٹ دیے ہیں اور خریداری کے لئے صبح 7سے 12اور شام 5سے رات 9بجے تک وقت متعین کیا ہے ۔لوگوں کا کہنا ے کہ سختی سے لاک ڈاو ¿ن کی تعمیل کرنے میں مدد مل رہی ہے آپ بھی کوئی خطرہ مول نا لیں ۔پارسل کو سینی ٹائز ضرور کرلیں محفوظ رہیں ۔
(انل نریندر)

مولانامحمد سعد کاندھولوی پر کستا شکنجہ!

نظام الدین کے تبلیغی مرکز میں مذہب کے نام پر جاری ملک مخالف سرگرمیوں کی پرتیں شروع ہو گئی ہیں ۔اس کڑی میں لاک ڈاو ¿ن سے پہلے مرکز کے کھاتوں میں بیرون ممالک سے بے شمار دولت آئی تھی ایسا مانا جارہا ہے کہ تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا محمد سعد کاندھلوی کے خلا ف انفورس مینٹ ڈائرکٹریٹ کی جانب سے منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ کے تحت یعنی حوالہ قانون کے تحت مقدمہ درج کئے جانے کے ساتھ ان پر قانونی شکنجہ اور کس گیا ہے ۔نظام الدین میں تبلیغی مرکز کے پروگرام سے پہلے بینکوں کی جانب سے ایک الرٹ جاری کیاگیا تھا کہ ان کے مرکز کے اکاو ¿نٹ میں پیسے کی آمد تیزی سے بڑھی تھی ۔بینک نے اپنے الرٹ میں کہا تھا کہ مرکز کے کھاتے میں اچانک زیادہ پیسہ آگیا ۔جو بیرونی ممالک سے آرہا ہے ۔بینک کے حکام نے مولانا سعد سے ملاقات کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن وہ نہیں ملا اور اس کے پیچھے اسباب جاننے اور بینک الرٹ کو نظر انداز کرنے کے معاملے میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے جماعت کے اکاو ¿نٹنٹ سے جواب مانگا ہے وہیں مرکز کے بینک خاتوں کو لیکر ای ڈی نے مقدمہ درج کر کاروائی شروع کردی ہے ۔ابتدائی جانچ میں پتہ چلا کہ 13سے 15مارچ کے درمیان بیرون ممالک سے بہت بڑی رقم آئی تھی ۔سعد کی جو شخصیت رہی ہے اس میں بینک کے ہدایتوں کی خلاف ورزی ہوئی بینک کے حکام نے ملنے کے لئے وقت مانگا لیکن مصروفیت کا حوالہ دیکر مولانا سعد نے ملنے سے منع کر دیا ۔حالانکہ بینک انتظامیہ نے کھاتے سے لین دین پر روک نہیں لگائی پولیس نے بھی بینک سے جانکاری لیکر جماعت کے سی اے کو نوٹس دیکر جواب مانگا ۔چونکہ اب مولانا سعد سے پوچھ تا چھ ہو رہی ہے ممکن ہے کہ متعدد معلومات سامنے آئیں ۔پولیس کے ذریعے در ج ایف آئی آر جس میں اب غیر ارادتاً قتل کا معاملہ بھی جڑ گیا ہے اور حوالہ معاملے کو ایک ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے ۔انفورس مینٹ محکمہ کے آجانے کا مطلب ہے کہ ان کی ملک اور بیرون ملک میں پروپرٹی کی تفصیل نکلے گی ادھر مولانا سعد اور تبلیغی جماعت سے جڑے غیر ملکی شہریوں پر مقدمہ کرنے تیاری شروع کر دی ہے ۔پولیس کمشنر ایس این سریواستو نے کرائم برانچ کو ہدایت دی ہے کہ تبلیغی جماعت سے جڑا کوئی بھی غیرملکی شہری کرائم برانچ کے جانکاری کے بغیر دیش چھوڑ کرجانا نہیں چاہیے ۔غور طلب ہے کہ جماعت سے جڑے 1309غیر ملکی تھے ان میں سے 225دہلی میں ہی تھے ۔ذرائع کا کہنا ہے ای ڈی جی کے شکنجے سے بچنے کے لئے مولانا سعد بار بار اپنی رہائش بدل رہا ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مولانا سعد پرائیویٹ ڈاکٹروں کے رابطے میں تھا اور کورونا جانچ بھی کرائی تھی حالانکہ اس کی رپورٹ نگیٹو آئی ہے ۔ایسا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سعد پر شکنجہ کشنے لگا ہے اور پکڑے جانے پر کئی راز کھلیں گے ۔
(انل نریندر)

اپنے دیش سے کہیں زیادہ ہم بھارت میں محفوظ!

پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ بھارت میں کام کرنے والے غیر ملکی افراد کورونا بیماری کے چلتے بھارت میں ہی پھنس گئے ہیں ۔ان کے ملکوں کی انتظامیہ اور حکومتیں انہیں واپش اپنے دیش لے جانا چاہتی ہیں ۔ہزاروں کی تعداد میں پھنسے امریکیوں کو وطن واپس لانے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ نے پوری تیاری کر لی ہے لیکن امریکیوں نے اپنے دیش لوٹنے سے انکار کر دیا ۔ان کا کہنا تھا کیونکہ ہم اپنے وطن سے زیادہ بھارت میں زیادہ محفوظ ہیں اب خبر آئی ہے لاک ڈاو ¿ن کے پہلے فتح پور آئے غیر ملکی سیاحوں میں سے پندرہ ملکوں کے 74سیاح الگ الگ ہوٹلوں میں رکے ہوئے ہیں ان میں سے کورونا سے سب سے زیادہ متاثر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے سیاحوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنے دیش سے کہیں زیادہ بھارت میں یا ادیہ پور میں ہیں ۔حالانکہ ان کے دیش اور سفارت خانے جو فیصلہ کریں گے اسے ماننا پڑے گا لیکن شخصی طور سے لاک ڈاو ¿ن کے بعد ادے پور سے جانے کی جلدی نہیں کریںگے ۔یہ سیاح مارچ کے مہینے میں ادے پور آئے تھے لیکن لاک ڈاو ¿ن کے سبب پروازیں بند ہونے سے واپس نہیں جا پائے حالانکہ کچھ سیاح ایسے بھی ہیں جو اپنے دیش لوٹنا چاہتے ہیں لیکن واپس نا جاپائے ان کے لئے اعلیٰ سطح پر بات چیت چل رہی ہے ۔محکمہ سیاحت میں ڈپٹی ڈائرکٹر سکھا سکسینا کا کہناہے کہ جن ملکون کی لے جانے والی فلائٹ کے بارے میں جانکاری آرہی ہے۔اس سے انہیں واقف کرایا جارہا ہے ۔اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو انہیں یہاں سے نکالا جا رہا ہے کچھ ویزا توسیع کا پروسس پوچھ رہے ہیں ۔49سیاحوں کے علاوہ ابھی کسی کی نکالنے کی فلائٹ کی جانکاری نہیں آئی ہے ۔تین سیاح میکولم ،ریمنڈ،مکولا فرونس اور کیتھلین میری 20مارچ کو برطانیہ سے ادے پور آئے تھے ۔اور وہاں کے اچھے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں حالات نازک ہیں اور گھر والوں سے روزانہ ویڈیو کال ہوتی ہے ۔برطانوی حکومت جو فیصلہ لے گی اس کی تعمیل کریںگے حالانکہ ہم وہاںسے زیادہ محفوظ بھارت میں ہیں ہوٹل اسٹاف ہمارا پور ا خیال رکھ رہا ہے ایسے ہی فرانس کی ایک خاتون ٹیکلین ماریہ قریب ایک مہینے سے گج ویلا ہوٹل میں رکی ہوئی ہیں کہنا ہے میں جانتی ہوں کہ کورونا سے فرانس کے حالات خراب ہوئے ہیں میں یہاں زیادہ محفوظ ہوں او ر حالات ٹھیک ہونے کے بعد ہی یہاں سے جاو ¿ں گی ۔امریکہ کی جسٹن کہتی ہیں کہ امریکہ سے زیادہ ادے پور میں محفوظ ہیں یہاں لوگ انفکشن روکنے میں مدد کر رہے ہیں ۔وہ گھر میں ہیں اور دوسروں سے دور بھی مجھے بھی یہی طریقہ محفوظ لگ رہا ہے ۔بھارت میں پھنسے غیر ملکیوں کا اپنے وطن نا لوٹنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں مشکل گھڑی میں ان کو پیار اور خیال مل رہا ہے ۔اور ایک دن وہ ضرور اپنے دیش لوٹیں گے ۔
(انل نریندر)

19 اپریل 2020

اسکول کالجوں میں چھایہ سناٹا!

کورونا وائرس کے سبب اسکولوں و کالجوں یونیورسٹیوں کے بند ہونے سے دنیا کے 191ملکوں میں 157کروڑ طلبہ کی تعلیم ٹھپ ہو گئی ہے ۔مختلف کورسز میں داخلہ لینے والے کل طلبہ 91.3فیصد ہیں ۔یہ جانکاری یونسکو کی ایک مطالعہ ذاتی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے ۔اس میں بتایا گیا ہے کہ اسکول بند ہونے کا سب سے زیادہ اثر کمزور طبقوں کے طلبہ و لڑکیوں پر پڑا ہے ۔یونیسکو کی عالمی نگرانی اسٹڈی رپورٹ کے مطابق 14اپریل 2020تک ایک سو اکیاون ملکوں میں 15075,270054طالب علموں کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے اس میں لڑکیوں کی تعداد75کروڑ ہے ۔روس آسٹریلیا ،امریکہ ،کناڈا ،گرین لینڈ سمیت کئی ملکوں میں مقامی طور پر مکمل بند ہے ۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے ۔حالانکہ رپورٹ میں ان ملکوں کی تعداد شامل نہیں ہے ۔بھارت میں لاک ڈاو ¿ن کے سبب 32کروڑ طالب علموں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے ۔اس میں 15.81کروڑ لڑکیا ں 16.25کروڑ لڑکے شامل ہیں ۔برطانیہ میں 1.54کروڑ طالب علم کوروناوائرس کی وجہ سے اسکول کالج بند ہونے سے متاثر ہوئے ہیں اور وہ دو ماہ سے گھر بیٹھے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر )

ڈبلیو ایچ او نے جاری کی رمضان کےلئے ایڈوائزری !

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کورونا وائرس کووڈ19-کے پیش نظر اگلے ہفتہ سے شروع ہونے جارہے رمضان شریف کے لئے قواعد و ضوابط جاری کر دئے ہیں جہاں تک ممکن ہو تراویخ یا افطار وغیرہ میں اکھٹے ہونے سے بچیں ۔اس کے بدلے ٹیلی ویزن کے ذریعے تراویح و نمازوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔اگر ایسا کیا جاتا ہے تو تراویح و نمازمیں شامل ہونے والوں کی تعداد بے حد کم ہو اور سماجی اور پوری صاف صفائی کے قواعد کی تعمیل ہو مسلم کلنڈر کے رمضان کے مقدس مہینہ 24یا 25اپریل سے شروع ہونے والا ہے پورے مہینہ مسلم فرقے کے لوگ دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور شام میں ایک ساتھ افطار کے وقت روزہ کھولتے ہیں اور ساتھ ہی مساجد میں جاکر نماز اداکرنے و تراویح پڑھنے کی روایت ہے ۔قواعد و ضوابط میں کہا گیا ہے کہ ہر حال میں لوگوں کے درمیان کم سے کم ایک میٹر کی دوری رکھی جانی چاہییے ساتھ ہی افطار کے دوران پہلے سے پیک کھانے پینے کے سامان کا انتظام ہونا چاہیے اور وضو کے لئے پانی و صابن کا خاطر خواہ بہتر انتظام ہونا چاہیے عالمی صحت ادارے نے صلاح دی ہے مسجدوں میں نماز پڑھتے وقت بیٹھنے کے لئے ہر شخص کو اپنی اپنی جا نماز لانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے روزے کے کورونا وائرس سے کسی طرح کے تعلق کے بارے میں کوئی اسٹڈی نہیں ہے ۔لیکن اپنی ہیلتھ کے پیش نظر دوری بنائے رکھنی چاہیے ۔مرکزی وزیراوقلیتی امور مختارعباس نقوی نے بھی یہی اپیل کی ہے اور وقف بورڈوں کے تمام ملازمین سے کہا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں عبادت ،افطار ،تراویح ،اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں وزارت داخلہ ریاستی حکومتیں و سینٹرل وقف کونسل کو ڈبلیو ایچ او کی ہدایتوں پر عمل میں نیک نیتی سے کام کریں نقوی نے کہا کورونا کی چنوتیوں کے پیش نظر دیش بھر میں مندروں گردواروں ،گرجا گروں و مساجد یا پبلک مقامات پر سبھی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں ممنوع ہیں ۔
(انل نریندر)

چند جوکروں کی وجہ سے پھیل رہا ہے کورونا!

کورونا وائر س سے لوگوں کو بچانے کے لئے اداکار سلمان خان مسلسل بیداری پھیلانے میں لگے ہیں جمعرات کو انہوں نے دس منٹ کاانہوں نے شوشل میڈیا پر ڈالا اس میں انہوں نے پولیس ڈاکٹر اور نرسوں پر پتھر پھیکنے کو بیوقوفی بھرا قدم بتایا کہا کہ چند جوکروں کی وجہ سے یہ بیماری پھیل رہی ہے انہوں نے آگاہ کیا کہ دعا کرو کہ لوگوں کو سمجھانے کے لئے کہیں ملیٹری نا بلانی پڑے ۔پڑھیے ان کے پیغام کے ایڈٹ شدہ حصے یہ بگ بوس کی شروعات نہیں ہے یہ زندگی کا بگ باس شروع ہو گیا ہے ۔کچھ لوگ ہیں جو قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں پہلے ایسا لگا کہ فلو ختم ہوجائے گا جلدہی گھر چلے جائیں گے پھر لاک ڈاو ¿ن ہوا اور معاملہ سنگین ہوگیا ۔سرکار نے صرف اتناہی کہا کہ باہر مت نکلو ،شوشل گیدرنگ نا کرو ،دوستو یارو سے نا ملو،خاندان کے ساتھ رہو یہ ہم سبھی کے لئے اچھا ہے ۔نماز پڑھنا ہے تو گھر پر ہی کرو ،پوجا کرنی ہے تو گھر پر ہی کرو۔ہم نے بچپن میں سیکھا تھا کہ بھگوان اللہ ہمارے اندر موجود ہے ۔ہاں ہمیں ضرور بھگوان اللہ کے پاس جانا ہے ؟اگر پریوار کے ساتھ جانا ہے تو گھر سے باہر نکلو ۔اگر آپ کے ایکشن صحیح ہوتے ہیں تو اب تک یہ لاک ڈاو ¿ںختم ہو چکا ہوتا۔ڈاکٹر ،نرس ،پولیس اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کررہے ہیں ۔اب جو ڈاکٹر پولیس بینک اور نرس اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں اور آ پ کی جان بچا رہے ہیں ان پر ہی پتھر برسا رہے ہو ۔۔۔جو پوزیٹو آرہے ہیں وہ اسپتال سے بھاگ رہے ہیں ایسا کرکے زندگی کے بجائے موت کی طرف جانا ہے؟چند لوگوں کی وجہ سے جس کے دماغ میں یہ چل رہا ہے انہیں کچھ نہیں ہوگا تو ان کی وجہ سے کئی لوگوں کی جانیں جائیںگی ۔میں ان کی بات سمجھ سکتا ہوں جن کے پاس کھانے کو نہیں ہے ۔میں ان کو سلام کرتا ہوں اگر چند جوکروں کی وجہ سے یہ بیماری پھیل رہی ہے تو اتنے لوگوں کو کورونا وائرس نہیں ہوتا سب اپنے کا م پر لگ گئے ہوتے ۔ہربات کے دو پہلو ہوتے ہیں ہم سب رہیں یا پھر کوئی نا رہے شکریہ ادا کرو پولیس ،ڈاکٹروں ،نرسوں کا اور جن کو ہوا ان کا احترام کرو احتیاط برتو کہ یہ بیمار ی آگے نا پھیلے دعا کرو آپ کو سمجھانے کے لئے ورنہ ملیٹری نا بلانی پڑے ۔سلمان
(انل نریندر)

18 اپریل 2020

کسی کوکرائے کی چنتا اور کہیں نکل جانے کا ڈر!

راجدھانی میں کافی تعداد میں ایسے طلبہ ہیں جو لاک ڈاو ¿ن کے بعد اپنے گھروں پر نہیں جا پائے اور کسی سبب سے طالب علم یہیں رکے ہوئے ہیں کئی علاقوں میں پیینگ گیسٹ یا کرائے کے مکان میں رکے طالب علموں کو کئی مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے جن کے بارے میں وہ کھل کر نہیں بتا پا رہے ہیں کہیں ایسانا ہو کہ مکان مالک انہیں گھر سے باہر نکا ل دے دہلی میں بھاری تعداد میں باہر ی ریاستوں کے طالب علم رہتے ہیں ۔لاک ڈاو ¿ن کے دوران کوئی اینٹرینس کی تیاری یا یونیورسٹی میں چلنے والی کلاسوں کے اچانک بند ہونے سے یہ طلبہ یہیں رک گئے کسی کو ٹیوشن پڑھانی تھی تو کوئی خود کسی اسکول میں ٹیچری کرتا ہے ۔بڑی تعداد میں ایسے لڑکے مکرجی نگر ،سول لائن ،منیرکا ،لکشمی نگر ،بیر سرائے ،کملا نگر،جامعہ نگر کے علاقوں میں یہ لڑکے پینگ گیسٹ ہاو ¿س یا کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ۔لاک ڈاو ¿ن کے سبب ان کے دھندے چوپٹ ہونے سے بہت سی مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔میڈیا نے وزیر اعلیٰ کیجریوال کے ذریعے کرایہ ملتوی کرنے یا قسطوں میں لینے کے بارے میں لینے کے لئے مکان مالکوں سے اپیل کے بعد رد عمل جاننے کے لئے میڈیا کے نمائندوں نے مکان مالکوں سے فون پر رابطہ قائم کر ان سے کرایا نا دینے کے بارے میں رائے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ مشکل گھڑی میں وہ کرایہ لینے کے حق میں نہیں وہیں ایک پی جی کے مالک نے کہا کہ ان کے ہاں رہنے والے لڑکے بچوں کی طرح ہیں اوروہ ان پر دباو ¿ نہیں ڈال رہے ہیں ایسے ہی کئی طالب علموں کا فون آرہا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مکان مالکوں سے کہا ہے کہ ابھی ہمارا سامان ان کے یہاں ہے جب لوٹیں گے تو کرایہ دیں گے ۔بہرحال پچھلے کچھ دنوں سے ڈاکٹروں کابھی یہی مسئلہ تھا مکان مالک کہہ رہے تھے کہ کرایہ دو یا خالی کر دو ایسے مشکل وقت میں جب پورا دیش پریشان ہے ایسے میں مکان مالکوں میں تھوڑی دریا دلی دکھانی چاہیے ۔اور کرایہ نہیں لینا چاہیے۔
(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...