Translater

17 جولائی 2019

رشی کیش کا تاریخی لکشمن جھولا پل بند ہوا

تاریخی رشی کیش میں گنگا ندی پر بنا لکشمن جھولا بند کر دیا گیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 90سال پرانا یہ پل زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا ۔لکشمن جھولا پل ٹہری ضلع کے تبوون گاﺅں کو ندی کے مغربی کنارے پر واقع کوڑی ضلع کے جونک سے جوڑتا ہے ۔پل گنگا ندی پر 1929میں بنا تھا لکشمن جھولا رشی کیش آنے والے شردھالوﺅں اور سیاحوں کے لئے کشش کا اہم مرکز رہا ہے ۔اتراکھنڈ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اوم پرکاش نے بتایا کہ یہ پل ماہرین کے ٹیم کی سفارش کے بعد بند کیا گیا ہے ۔پل کے زیادہ تر حصہ بہت کمزرو ہیں یا گرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔پل پر حال ہی میں لوگوں کی آمد رفت بڑھ جانے سے یہ ایک طرف سے جھکا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔اسی کو ذہن میں رکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔پل بند ہونے سے پریشانی بڑھ سکتی ہے کیونکہ لکشمن جھولے سے دو کلو میٹر پہلے دوسرا جھولا پل شیو آنند جھولا (رام جھولا)ہے ۔اب اس پر بھیڑ کا دباﺅ بڑھے گا بتایا جاتا ہے کہ لکشمن نے اسی جگہ پر جوٹ کی رسیوں سے ندی پار کی تھی ۔بعد میں اسی جگہ جھولا بنا دیا گیا اس پل پر گنگا کی سوگندھ ،سنیاسی جیسی فلموں کی شوٹنگ ہوئی تھی اور ٹی وی سیریل سی آئی ڈی کی بھی شوٹنگ یہاں ہوئی اس پل کی چھ فٹ چوڑائی ہے ۔یو پی کا پہلا سسپیشن برج تھا جو جیپ کے راستہ کے لائق تھا ۔بعد میں اس پر چار پہیوں کی گاڑیوں کی آمد رفت روک دی گئی ۔1450فٹ اس پل کی لمبائی ہے ۔یہ بغیر کسی سسپیشن تکنیک کے بنا ہے جس میں کوئی پایا نہیں ہے ۔1930میں 11اپریل کو لکشمن جھولا عوام کے لئے کھولا گیا تھا ۔1927سے1929کے درمیان لکشمن جھولا پل کی تعمیر اترپریش(اس وقت یونائیٹڈ پروینس)پی ڈبلیو محکمہ نے بنوایا تھا ۔1924میں پرانا لکشمن جھولا پل سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا ۔پرانا پل 284فٹ لمبا تھا جو موجودہ پل سے تھوڑا نیچے تھا یہ پل کو میعاد پوری کر چکے لکشمن جھولا پل کو عام آدمی کے لئے خطرہ مانتے ہوئے انتظامیہ نے اسے بند کرنے کے احکامات دو دن پہلے جاری کئے تھے لیکن لوگوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے پی ڈبلیو ڈی نے نریندر نگر کھنڈ کے پل کو دونوں طرف بنیا لگا کر صرف پیدل چلنے کی چھوٹ دینی پڑی اتوار کو پل پر دو پہیہ گاڑی نہ چلے لیکن پیدل آمد رفت پورے دن جاری رہے ۔علاقہ کی ممبر اسمبلی رتو کھنڈی نے بھی افسران کے ساتھ پل کے انتظامات کا جائزہ لیا اس کے بعد ہی پی ڈبیلو ڈی کے افسران پل بند کرنے کا فیصلہ لے چکے ہیں ۔وزیر اعلیٰ تروندر سنگھ راوت نے دھرادون میں اتوار کو کہا کہ رشی کیش کے پوتر شہر گنگا ندی پر لکشمن جھولا پل کے ساتھ ساتھ ایک نیا پل بنایا جائے گا ۔

(انل نریندر)

16 جولائی 2019

ऐतिहासिक लक्ष्मण झूला पुल बंद किया गया

ऐतिहासिक ऋषिकेश में गंगा नदी पर बना लक्ष्मण झूला पुल बंद कर दिया गया है। विशेषज्ञों का मानना है कि 90 साल पुराना यह पुल अधिक भार सहन नहीं कर सकता। लक्ष्मण झूला पुल टिहरी जिले के तपोवन गांव को नदी के पश्चिमी तट पर स्थित पौड़ी जिले के जोंक से जोड़ता है। पुल गंगा नदी पर 1929 में बना था। लक्ष्मण झूला ऋषिकेश आने वाले श्रद्धालुओं और पर्यटकों के लिए आकर्षण का मुख्य केंद्र रहा है। उत्तराखंड के अतिरिक्त मुख्य सचिव ओम प्रकाश ने बताया कि यह पुल विशेषज्ञों की टीम के सुझाव के बाद बंद कर दिया गया है। पुल के ज्यादातर हिस्से बहुत कमजोर हैं या गिरने की स्थिति में हैं। पुल पर हाल में लोगों की आवाजाही बढ़ गई और यह एक तरफ झुका हुआ प्रतीत होता है। इसे ध्यान में रखकर यह फैसला किया गया है। पुल के बंद होने से परेशानी बढ़ सकती है क्योकिं लक्ष्मण झूले से दो किलोमीटर पहले दूसरा झूला पुल शिवानंद झूला (राम झूला) है। अब इस पर दबाव बढ़ेगा। बताया जाता है कि लक्ष्मण ने इसी स्थान पर जूट की रस्सियों से नदी पार की थी। बाद में इसी जगह झूला बना। इस पूल पर गंगा की सौगंध, संन्यासी जैसी फिल्मों की शूटिंग हुई है। टीवी धारावाहिक सीआईडी की शूटिंग भी यहां हुई है। इस पुल की छह फुट चौड़ाई है। उत्तर प्रदेश का पहला सस्पैंशन ब्रिज था जो जीप चलाने योग्य था। बाद में चार पहिया वाहनों का परिचालन रोक दिया गया। 450 फुट है पुल की लंबाई, यह बिना किसी सस्पैंशन तकनीक वाला ब्रिज है जिसमें कोई पाया नहीं है। 11 अप्रैल 1930 को लक्ष्मण झूला जनता के लिए खोला गया था। 1927 से 1929 के बीच लक्ष्मण झूला पुल का निर्माण उत्तर प्रदेश (तब यूनाइटेड प्रोवेंस) पीडब्ल्यूडी विभाग ने कराया था। 1924 में पुराना लक्ष्मण झूला पुल बाढ़ में तबाह हो गया था। पुराना पुल 284 फुट लंबा था, जो वर्तमान पुल से थोड़ा नीचे था। मियाद पूरी कर चुके 90 वर्ष पुराने लक्ष्मण झूला पुल को आमजन के लिए खतरा मानते हुए शासन ने इसे बंद करने के आदेश दो दिन पहले जारी कर दिए थे। लेकिन लोगों के विरोध को देखते हुए लोक निर्माण विभाग नरेंद्र नगर खंड को पुल के दोनों ओर बल्लियां लगाकर सिर्प पैदल चलने की छूट देनी पड़ी। रविवार को पुल पर दोपहिया वाहन नहीं चले, लेकिन पैदल आवाजाही पूरे दिन जारी रही। यमकेश्वर क्षेत्र की विधायक रितु खंडूरी ने भी अधिकारियों के साथ पुल की व्यवस्था का जायजा लिया। इसके बाद ही लोनिवि के अधिकारी भी पुल को बंद करने का फैसला ले चुके हैं। मुख्यमंत्री त्रिवेंद्र सिंह रावत ने देहरादून में शनिवार को कहा कि ऋषिकेश के पवित्र शहर गंगा नदी पर प्रतिष्ठित लक्ष्मण झूला पुल के पास एक नए पुल का निर्माण किया जाएगा।

بزرگوں کو تیرتھ یاترا کرانے کا کجریوال کا سپنا !

 دہلی سرکا رکی تیرتھ یاترا یوجنا کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اس اسکیم کے تحت بزرگوں کو مفت میں تیرتھ یاترا کرانے کا پورا فائدہ دہلی سرکا ر کو ہی ملے گی وزیر اعلی اروند کجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور وزیر محصول کیلاش گہلوت نے تیرتھ یاترا یوجنا کے تحت شردھالووں کی پہلے ٹرین کو 12جولائی کے دن صفدر جنگ ریلوے اسٹیشن روانہ کیا گیا افتتاح میں سلیپر کلا س میں یاترا کرانے اسکیم بنائی گئی تھی لیکن وزیر اعلی اروند کجریوال خود اس میں تبدیلی کرائی اور یقینی کیا کے سبھی سینئر شہری مختلف تیرتھ یاترا ائیر کنڈیشن کوچ میں جائےں گے ۔ٹرین کو روانہ کرتے ہوئے وزیر اعلی کجریوال کا کہنا تھا کہ میرے سپنے ایک قدم پورا ہوا ہے انکا خواب ہے کہ دہلی کے سبھی بزرگوں کو انکی خواہش کے مطابق کم سے کم ایک تیرتھ یاترا کراسکے ۔12جولائی کو ایک ہزار بزرگوں کو یاترا کراکر خود خوش نصیب محسوس کررہے ہیں ماں باپ کا احسان کوئی اولاد ادانہیں کرسکتا لیکن تیرتھ یاترا کردے تو انکا کچھ نا کچھ بھلاہوجاتاہے ۔ابھی تیرتھ یا ترا کے لئے پانچ روٹ طے کئے گئے ہیں ۔دہلی ،متھرا ،ورند اوند ،فتح پو ر سکری ،دہلی ،ہریدوار ،ریشی کیٹ نیل کنٹھ دہلی ۔دہلی اجمیر ،پشکر ،دہلی امرتسر ،وگھا بارڈر ،آنا پور صاحب دہلی ویشنودیوی ،جموں دہلی وغیرہ شامل ہے تیرتھ یاترا کی شروع دہلی ،امرتسر،وادگھا بارڈر سے آنند پور صاحب روٹ سے شروع ہوئی ہے ۔یہ پورا سفر تین دن کا ہوگا اس دوران سارا خرچ دہلی سرکار برداشت کرے گی جس میں کھانا پینا آنا جانا ہوٹل وغیرہ سہولت شامل ہیں کسی میڈیکل ایمرجنسی یا مدد کے لئے ایک میڈیکل ٹیم بھی ساتھ گئی ہے کوچ میں دورضا کار شردھالووںکی مد د کے لئے جارہے ہیں۔ کجریوال کے اس قدم سے میں اتنا خوش ہوں کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو دنیا کو سینہ چیر کر دکھاتا کہ میں کتنا خوش ہوں یہ کہتے ہئے 75سال کی باشندہ شکنتلاچہرے سے خوشی جھلکتی ہے کجریول زندہ آباد ۔صفدرجنگ اسٹیشن میں داخل ہوتے بھوگل کے باشندہ راج بالا بھی کہتی ہےں میں بہت خوش ہوں کیوں نا میرا بیٹا (وزیر اعلی اروند کجریوال) تیرتھ یاترا لے جارہے ہیں اس عمر میں کوئی تیرتھ یاتراکرائے اس سے خوشی کی بات کوئی او رکیا ہوگی ۔کچھ بزرگوں کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ جو کام ہماری اولاد نے آج تک نہیں کیا وہ کجریوال نے کردکھایا ۔
(انل نریندر)

کر۔ناٹک:کورٹ روم لائیو !

سپریم کورٹ نے بھلے ہی کرناٹک کے سیاسی بحران پر بھلے ہی 16جولائی مقرر کی تھی لیکن اس دوران انہوں نے اسمبلی اسپیکر کوکوئی فیصلہ لینے سے منع کردیا چیف جسٹس رنجن گگوئی کی تین نفری بنچ نے جمعہ کو کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر رمیش کمار سے کہاکہ حکمراں اتحاد کے 10باغی ممبران اسمبلی کے استعفے اور ان کی پوزیشن کے مسئلہ پر منگل تک کوئی فیصلہ نہ لیں بنچ کے اہم ترین اشو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملہ پر 16جولائی کو آگے غٰور کرے گی تب تک اسمبلی میں جوں کی توں پوزیشن برقرار رکھنی چاہئے عدالت نے جمعہ کے روز سوال کیا کہ کیا اسمبلی اسپیکر کو بڑی عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کرنے کا حق ہے ؟10باغی ممبران اسمبلی کے استعفے کے معاملہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دینے کے عدالت کے حکم کے خلاف اسپیکر کے آر شرما کی عرضی پر یہ سو ال کیا تھا ۔سماعت کے دوران باغی ممبران کی طرف میں سینئر وکیل مکل روہتگی اسپیکر کے آر رمیش کی طرف سے وکیل ابھیشک منو سنگھوی اور وزیر اعلی کمار سوامی کی طرف سے راجیو دھون نے پیش ہوکر اپنی دلیلیں رکھیں ۔پیش ہے سماعت کے دوران لائیو کورٹ روم ڈرامہ !سنگھوی کا کہنا تھا کہ استعفی نااہل ٹھہرائے جانے سے بچنے کیلئے واحد ایک پیترا ہے انہوں نے قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اسپیکر آئینی عہدہ پر ہیں اور وہ باغی ممبران کو نااہل قرار دینے کیلئے داخل عرضی پر فیصلہ کے لئے آئینی طور پر مجاز ہیں اس دلیل پر چیف جسٹس رنجن گگوئی سخت ریمارکس دیئے اور پوچھا کیا اسپیکر کورٹ کے دائرے اختیارکو چیلنج کررہے ہیں ؟سنگھوی نے بتایا اسپیکر کے پاس کانگریس نے باغی ممبران اسمبلی کی نااہل ٹھہرانے کے لئے عرضی دی ہے اور اسپیکر کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ کانگریس کے عرضی پر غور کرے ۔اس پر ایک دوسرے وکیل راجیو دھون بولے کے باغی ممبران اسمبلی نے فوری سماعت کی مانگ اس لئے کی تھی کہ انکے کرناٹک سرکار اقلیت میں ہے او رکس بنیاد پر ممبران اسمبلی نے سپریم کورٹ کو دخل دینے کے لئے کہا ؟استعفے کو منظور کرنے سے پہلے اسپیکر کو یہ جانچ کرنی ہوتی ہے کہ یہ استعفی مرضی سے دیا گیا ہے یا نہیں ؟سنگھوی :اسپیکر کو پہلے ممبران اسمبلی نااہلی پر فیصلہ لینا ہے یہ انکا فرض ہے اور انہیں اختیار بھی ہے دھون ممبران نے اسپیکر پر دوہرا رویہ اپنانے کا الزام بھی لگایا ۔عدالت نے وزیر اعلی کا موقوف سنے بنا ہی جمعرات کو حکم دے دیا کہ ممبران اسمبلی عرضی سماعت کے لائق نہیں ہے ۔اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو مطمئن کرے کہ استعفے مرضی سے دیئے گئے ہیں باغی ممبران کا موقوف رکھ رہے سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ اسپیکر استعفے پر اپنا فیصلہ نہیں لٹکا سکتے اور وہ جان کر فیصلہ میں دیری کررہے ہیں روہتگی نے کہا کہ صر ف ایک لائن کے استعفے ہیں اور ان کی منظور ی میں چند منٹ لگیں گے اور کچھ خاص حالات کو چھوڑ دیں تو اسپیکر کو کورٹ میں جواب دیناہوگا وکیل کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے ممبران کو سپریم کورٹ سے وقت دیئے جانے پر سوال اٹھایا اسپیکر کو استعفوں پر فیصلہ کے لئے ایک یا دودن دیئے جاسکتے ہیں ۔معاملہ پر 16جولائی کو سماعت ہوئی ہے ابھی معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دیا ہے ۔
(انل نریندر)

باہوبلی کے سہارے چاند چھونے نکلابھارت !

ستیش بھون اسپیس سینٹر کے لانچنگ پیڈ ۔2پرچندر یان ۔2کولے جانے والے بھارت کے بھاری راکٹ کی لانچنگ 15جولائی صبح اندھیرے اتوار کو 6بجکر 51منٹ پر الٹی گنتی شروع ہوگئی ۔ہندوستانی ریسرچ آرگنائزیشن (اسروکے چیئرمین کے سیون نے بتایا کہ تقریبًا 44میٹر لمبا اور 640ٹن وزنی جیوسنکر نس سیٹر لائٹ گاڑی ،مارک تین کا ایک کامیاب فلم کے ہیرو کی طرح کھڑا ہے ۔راکٹ 3.1ٹن کا چندریان چلا ئی گاڑی ہے اس راکٹ کو بہوبلی ضمنی نام دیا گیا ہے 6سے 7ستمبر کو یہ جب چاند کے جنوبی پول پر اترے گا توبھارت ایسا کرنے والا پہلا دیش بن جائے گا اس سے پہلے سویت روس،امریکہ ،چین چاند پر پہنچ چکے ہیں حالانکہ ان کی لینڈنگ ساو ¿تھ پول پر نہیں ہوئی ہے ۔چندریان نے 19پلوڈس ہیں ان میں 25گرام کا ایک اعلی ناسہ کا بھی ہے جو زمین سے چاند تک کی دوری ناپے گا ۔جی ایس ایل وی مارک III جیوسنکر نس سیٹلائٹ وہیکل بھارت میں سب سے طاقتور راکٹ ہے چند ریان ۔2کو چاند کے مدار تک یہی لے جائے گا ۔اس کا نام بہوبلی اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ 4ہزار کلو وزنی سیٹلائٹ لے جانے کی یہ صلاحیت رکھتاہے ۔اس سے بھی دوگنا وزن زمین کے نچلے مدار میں 6کلو میٹر تک لے جاسکتا ہے ۔43.43میٹر کی اونچائی ہے یہ کرایوجینک انجن اور دوبوسٹر سے لیس ہے ۔چاند کو ہم بہت زیادہ نہیں جانتے اور ساو ¿تھ پول کے بارے میں تو جانکاری صفر ہی ہے اب بھارت کا چندریان۔ 2چاند کے اسی پول پر اپنے لینڈر وکرم کو اتارنے جارہا ہے ۔محض پانی کے امکان اور اس علاقے میں اب تک کسی مشن کا نہیں پہنچنا اسے سنسان رہنے والے اس علاقہ میں پہنچ کر بھارت چندریان 2-کے ذریعہ اپنی ہمت کا ثبو ت دے گا چند ریان ۔ون نے پانی کے ذرات تلاشتے ہوئے جہاں اپنا سفر ختم کیا تھا وہیں چند ریان 2-اسکے آگے شروعات کرےگا ۔اسروکے مطابق چاند پر کتنا پانی ہے او رکہاں کہاں ہے اور اس کی سطح در سطح کے نیچے اس کے امکان کیا ہیں چندر یان 2-اس کے لئے آگے کی اسٹڈی کرے گا وکرم لینڈر اور پرگیان راور کومان جینس سی اور سپی لمپس این نام کے دو کریٹروں (وسیع ذخیرہ )کے درمیان آسانی سے اتارا جائے گا سافٹ لینڈنگ یعنی انجن کے سہارے آلات کو باقاعدہ طریقہ سے سطح پر اتار نا وہیں اسرو کے مطابق چند ریان کو ساو ¿تھ پول میں چند ریان 2-مشن کو مرکوز رکھنے کی وجہ یہاں کے زیادہ تر حصہ کا اندھیرے میں رہناہے یہاں چاند کے نارتھ پول سے بھی زیادہ اندھیرا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ چاند کے اتنے سے دور ساو ¿تھ پول تک آج تک کوئی مشن نہیں اتار اگیا ۔اسرو کے مطابق اس کا سب سے بڑا فائدہ ہندوستانی مشن یہاں کئی نئی چیزوں کی ریسرچ کرسکتا ہے ۔تقریبًا ایک برس تک چند ریان 2-چاند کے چکر لگاتے ہوئے ڈاٹا اکٹھا کرے گا اس مشن پر تقریبًا ایک ہزار کروڑ روپے کی لاگت آئے گی ۔مشن کا مشکل حصہ چاند کی سطح پر کامیاب اور محفوظ لینڈنگ ہے چند ریان 2-چاند کی سطح سے 30کلو میٹر کی اونچائی سے نیچے آئے گا اس میں 15منٹ لگیں گے ۔یہ وقت زندگی اور موت کا ہوا کیونکہ مشن کی کامیابی اسی پر ٹکی ہے ہم اسرو سمیت تمام دیگر ایجنسیوں کے سائنسدانوں کے اس تاریخی مشن پر بدھائی دیتے ہیں او رامید کرتے ہیں چند ریان 2-اپنے مشن میں کامیاب رہے بھارت کا یہ عظیم کارنامہ ہے ساری دنیا نظر یں اس مشن پر لگی ہونگی ۔

(انل نریندر

14 جولائی 2019

امریکی پابندیوں سے ایران بربادی کے دہانے پر

امریکی پابندیوں کے چلتے ایک سمندری ملک ایران بربادی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور اس کی معیشت اتنی خستہ حال ہو چکی ہے کہ یہاں لوگوں کو پیٹ بھرنے اور پینے کے پانی کے لئے بھی ترسنا پڑ رہا ہے ۔یہاں 25ہزار روپئے کی ایک روٹی بک رہی ہے معیشت کے معاملے میں اس ملک کی حالت بھی وینو زیولا جیسی ہونے والی ہے بس فرق اتنا ہے کہ اس دیش کے لوگ امریکہ کے خلاف متحد ہیں اور سرکار دیش کے شہریوں کو راحت پہنچانے کے لئے ہر ممکن مدد دے رہی ہے ۔ہم یہاں یہ بات کہہ رہے ہیں کہ تیل سے مالا مال والے ملک ایران کی اس دیش کی کل قومی آمدنی کا آدھا حصہ کچے تیل کے فروخت سے آتا ہے ۔امریکہ پابندیوں کی وجہ سے ایران کے تیل باہر فروخت ہونے والی آمدنی بالکل بند ہو چکی ہے ۔اپنے نیوکلیائی پروگراموں کی وجہ سے ایران کو تقریباََ چالیس سال سے مسلسل مختلف طرح کی امریکہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔بارہ جون اسی سال امریکہ کے ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد ایران پر پابندیا ں اور سخت کر دی گئی ہیں دراصل امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران نیوکلیائی پاور بنے امریکہ کے مطابق ایران کا نیوکلیائی طاقت بننا پوری دنیا کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے ان پابندیوں کے باوجود ایران امریکہ کو اکسانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہا ہے ۔اب ایران کے ذریعہ یورینیم سمجھوتے کے تحت حد کو توڑنے کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ایران کے صدر حسن روحانی پہلے سے ہی یہ وارنگ دے رہے تھے کہ وہ اپنے عزم سے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔بھاری دباﺅ کے بعد ایران نے امریکہ سمیت سیکورٹی کونسل کے پانچوں مستقل ممبران جرمنی،اور یوروپی یونین کے ساتھ اپنا نیوکلیائی پروگرام محدود کرنے سے متعلق معاہدے پر 2015میں دستخط کئے تھے لیکن امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یک طرفہ فیصلہ لیتے ہوئے ایک سا ل پہلے معاہدے سے خود کو الگ کر لیا تھا اور ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں لگا دی تھیں در اصل ایران ہمیشہ سے دعوی کرتا آرہا ہے کہ اس کا نیوکلیائی پروگرام اس کی اپنی توانائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہے ۔لیکن سبھی اس کی سرگرمیاں مشتبہ ضرور رہی ہیں ۔حقیقت میں اس نے یونینیم کو 20فیصد تک افزودگی کرنے کے صلاحیت حاصل کر لی ہے جس سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اس کے پاس نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی صلاحیت ہے ۔ایرانی صدر حسن روحانی چاہتے ہیں کہ ان کے دیش کی معیشت کے اہم سیکٹر تیل اور دھات کو امریکی دباﺅ سے آزاد کیا جائے مگر وہ جو طریقہ اپنا رہے ہیں اس سے پریشانی بڑھی ہے موجودہ بحران کو دور کرنی کی سمت میں فرانس آگے آگیا ہے ۔اس نے ایران کے صدر سے بات کی ہے اور جلد مغربی ممالک کا ایک نمائندہ وفد ایران جائے گا اور وہاں اس بحران کا پر امن حل نکالا جانا ضروری ہے ۔ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ ٹکراﺅ و کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے ایران کی حمایت و مخالفت میں کھڑے ملکوں کے درمیان لائن کھینچی ہوئی صاف ہے ۔روس،چین،جیسے دیش امریکی کارروائی کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں جبکہ یوروپی ممالک میں بھی زیادہ تر امریکی کارروائی سے لوگ متفق نہیں ہیں ۔معاملہ شاید اتنا نہیں بگڑتا اگر سبھی دیش 2015کے سمجھوتے کی ایمانداری سے تعیمل کرتے لیکن امریکہ کا مقصد کچھ اور ہے اور کسی نہ کسی بہانے ایران پر حملہ کرکے تیل کے زخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور اس کی یہ ہٹ دھرمی کا اشارہ ہے ۔

(انل نریندر)

بچوں کے سنگین جنسی استحصال پر سزائے موت سے کتنا فرق پڑے گا؟

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی مرکزی کیبنیٹ نے بدھ کے روز کئی اہم ترین فیصلے لیے ان میں اطفال جنسی جرائم روک (پاسکو)قانون میں ترمیم کو لے کر بے قابو یوجنا پابندی بل کو منظوری بھی ہے جو اس سے متعلق آرڈینینس کی جگہ لے گی ۔پاسکو قانون میں ترمیم کیا جانا کافی اہم ترین قدم ہے ۔مجوزہ ترامیم میں بچوں سے سنگین جنسی استحصال کرنے والوں سے سزائے موت اور نابالغو کے خلاف دیگر جرائم کے لئے سخت سزا کی سنگین سہولت رکھی گئی ہے ۔پچھلے کچھ برسوں سے نا بالغوں کے ساتھ جنسی استحصال اور تشدد کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں اسی کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پورن سائیٹوں پر بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کی فحاشی مناظر نے دنیا بھر میں برائیاں بڑھائی ہیں بھارت بھی اس کا شکار ہو رہا ہے ۔کچھ پیسے والوں اور بااثر لوگوں کے ذریعہ اپنی ذہنی چاہت مٹانے کے لئے بچوں کےساتھ غیر انسانی طریقے سے جنسی استحصال کرنے کے واقعات یا باتیں سامنے آنا ہمارے پورے سماج کے لئے باعث تشویش ہونا چاہیے ۔حالانکہ دہلی میں نربھیا کانڈ کے بعد جنسی اذیت سے متعلق قوانین کو کافی سخت کیا گیا تھا تب مانا تو یہ گیا تھا کہ اس سے جرائم کے کرنے سے لوگوں میں خوف پیدا ہوگا اور جنسی تشدد کے واقعات میں کمی بھی آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد سے کم عمر کے بچوں کے جنسی اذیت اور ان کے قتل کے واقعات بڑھے ہیں اس لئے مانگ کی جا رہی تھی کہ پاسکو قانون کو اور سخت بنایا جائے ۔مودی سرکار کا پاسکو قانون کو سخت کرنے کے لئے ترامیم کو منظوری دیا جانا صحیح سمت میں اُٹھایا جا رہا قدم ہے لیکن سرکار ،عدلیہ ،پولس ،و سماج کو بھی ساتھ کھڑا ہونا ہوگا ،مذوجہ ترامیم میں بچوں کا سنگین جنسی استحصال کرنے والوں کو سزائے اور نا بالغوں کے خلاف دیگر جرائم کے لئے سخت سزا رکھی گئی ہے اس سے اطفال پورن گرافی پر بھی لگام لگانے کے لئے سزار اور جرمانے کے سہولت شامل ہے ۔سخت قانون ایسے جنسی جرائم کے لئے خوف پیدا کرنے کا رول بھی نبھائے گا لیکن قانو ن کافی نہیں ہے بلکہ قانون سخت بنانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ ،اور پولس کی جوابدہی بھی ضروری ہے ہمارے دیش میں قانون تو موجود ہے لیکن ساتھ ساتھ اس کو لاگو کرنے کی کاروائی پر جب تک سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا جب تک بچوں پر جرائم تھمنے والے نہیں ہیں ۔مجرم کو سزا دلانے میں برسوں کا وقت لگ جاتا ہے ۔اور اپیلوں کا ایسا سلسلہ چلتا ہے کہ ابھی تک نربھیا کانڈ میں قصور وار قرار دئے جا چکے جرائم پیشہ لڑکوں کو سزا نہیں مل پائی معاملہ عدالتوں میں لٹکا ہوا ہے۔اس قانون میں یہ سہولت شامل کیا جانا بھی ضروری ہےکہ سزا ملنے کے بعد کتنے مہینوں کے اندر عدالتی کارروائی پوری کر لی جائے چاہے ہمیں اس کے لئے اشپیسل فاسٹ ٹریک عدالتوں کو اتنے اختیار دینے پڑیں کہ ایک مرتبہ عدالت ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرلے اور اس میں اپیلوں کا سلسلہ نہیں چلایا جا سکے ۔بے شک کچھ لوگ انسانی حقوق تنظیم والے کہیں کہ جرائم پیشہ کو اپنا بچاﺅ کرنے کا پورا حق ملنا چاہیے یہ صحیح ہے لیکن ایک مرتبہ سزا ہو جائے تو اپیلوں کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔دنیا کے کچھ ملکوں میں ایسی سہولت ہے جب تک ایسے دو چار درندوں کو پھانسی نہیں ہوتی یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔سرکار کے قانون میں ترامیم کا خیر مقدم ہے جب تک پولس اور عدالتی کارروائی کو بہتر نہیں بنایا جاتا یہ تھمنے والا نہیں ہے ۔پولس کبھی کبھی جانچ میں اتنی تاخیر کر دیتی ہے کہ تب تک مجرم ثبوتوں کو ہی ضائع کر دیتا ہے پھر کئی بار رسوخ دار لوگوں کے اثر میں آکر بھی کئی معاملے دبا دیئے جاتے ہیں یا فریقین میں سمجھوتہ کروا کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے ۔ماں باپ کو بھی اپنے بچوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ کہاں جاتے ہیں کس کے ساتھ جا رہے ہیں اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے سب کو مل کر اس پیچیدہ مسئلے کو ختم کرنے میں مدد کرنی ہوگی سرکار تو قانو بنا سکتی ہے اسے عمل میں لانے کا کام عام لوگوں کا زیادہ ہے ۔

(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...