Translater

26 ستمبر 2018

مودی کا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی داؤ

ہمارے دیش میں پبلک ہیلتھ سروسز کی بدحالی کسی سے چھپی نہیں ہے۔ جو سرکاری اسپتال ہیں ان کی خدمات کا برا حال سب کو معلوم ہے اور نجی اسپتالوں میں علاج کتنا مہنگا ہے اس کے چلتے غریب آدمی علاج کرانے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔ چھوٹی سے چھوٹی بیماری کے لئے لاکھوں کا بل بن جاتا ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ اچانک موت کے منہ میں اسی وجہ سے چلے جاتے ہیں۔اس مسئلہ سے نجات پانے کے لئے وزیر اعظم نے ایک ہیلتھ اسکیم آیوشمان بھارت یعنی ’’آروگیہ ‘‘ کی شروعات کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے رسمی شروعات کے بعد منگل 23 ستمبر سے پنڈت دین دیال اپادھیائے جینتی سے دیش کے25 راجیوں میں یہ یوجنا لاگو ہوگئی۔ یوجنا کے مطابق دیش میں 10 کروڑ کنبوں کا پانچ لاکھ روپے کا بیمہ سرکار مفت کرے گی اور اس کے بدلے علاج کیش لیس ہوگا۔ سرکار کے مطابق پورے دیش میں 15 ہزار سے زیادہ اسپتالوں نے آیوشمان یوجنا سے جڑنے کے لئے پینل میں شمولیت کے لئے درخواست دی ہے۔ سرکار کا ٹارگیٹ ہے کہ اسکیم لانچ ہونے کے ایک ہفتے کے اندر کم سے کم ایک کروڑ سے زیادہ کنبوں کو بیمہ کارڈ مل جانا چاہئے۔ اس کے لئے خاندانوں کی نشاندہی کرنے کا کام کردیا گیا ہے۔ مریضوں کو کیش لیس سہولت لینے میں دقت نہ پڑے اس کے لئے سبھی ضلعوں میں ایک کو آرڈی نیشن کمیٹی بنانے کو کہا گیا ہے جو معاملہ نمٹانے کو دیکھے گی۔ مریض پورے دیش میں کہیں بھی اسپتال میں اس کیش لیس سہولیت سے علاج کراسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس اسکیم کو گیم چینجر بتایا ہے۔ اگر یہ صحیح طرح لاگو ہوجاتی ہے تو اس کا بی جے پی کو بھاری فائدہ ہوگا۔ لیکن دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ پرائیویٹ اسپتال اصلیت میں غریبوں کا مفت علاج کرتے ہیں یا نہیں؟ دوسری بات یہ جو بیمہ کمپنیاں ہیں وہ کیش کلیم سیٹل کرنے میں ایماندار بھی ہیں ؟ عام طور پر کلیم سیٹل کرتے وقت بیمہ کمپنیاں اسے سیٹل نہ کرنے کا بہانہ بناتی رہتی ہیں اور پھر راجیوں میں اس کی کامیابی میں بڑا رول ہوگا۔ اس کیم پر موجودہ مالی سال میں قریب ساڑھے تیس کروڑ روپے کا بوجھ پڑنے والا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے لئے مرکزی سرکار 60فیصدی اور ریاستی سرکار40 فیصدی پیسہ مہیا کرائے گی۔ ہیلتھ اور تعلیم سے وابستہ ایسی اسکیموں کے ٹارگیٹ تک نہ پہنچنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ ریاستی حکومتیں اپنے حصے کا پیسہ دستیاب نہیں کراپاتی۔ اور نہ یوجنا کو ٹھیک سے لاگو کرنے کی سمت میں سنجیدگی دکھاتی ہیں۔ اس لئے اس سمت میں ریاستی سرکاروں کی مستعدی بہت ضروری ہے۔ مودی سرکار اور بی جے پی 2019 عام چناؤ سے پہلے اس اسکیم کو گیم چینجر کی شکل میں دیکھ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی نے پارٹی اور سبھی بی جے پی حکومتوں کو اگلے کچھ مہینے تک پوری توجہ اس اسکیم پر بہتر طریقے سے عمل درآمد کرنے کو کہاہے۔
(انل نریندر)

جاسوسی کے شبہ پر چینی تاجر گرفتار

پچھلے کچھ دنوں سے دیش کے خلاف جاسوسی کرنے کی خبریں سرخیوں میں چھائی ہوئی ہیں۔ اب دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جاسوسی کے الزام میں ایک چینی شہری تاؤلنگ عرف چارلی پینگ (39 سال) کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم قریب سات برس سے چارلی پینگ کے نام سے بھارت میں رہ رہا تھا۔ الزام ہے کہ یہ چین کے لئے جاسوسی کررہا تھا۔ پولیس نے اس کے پاس سے فرضی طریقے سے بنوایا گیا ہندوستانی پاسپورٹ، آدھار کارڈ، پین کارڈ برآمد کیا ہے۔ پولیس نے ملزم کو نارتھ دہلی کے مجنوں کا ٹیلہ علاقہ سے 13 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔ اسپیشل سیل کے حکام کے مطابق چارلی پینگ گوڑ گاؤں میں رہ رہا تھا اور وہیں سے منی ایکسچینج کمنی چلا رہا تھا۔ چالی پینگ پانچ سال سے بھارت میں مقیم تھا۔ جمعرات کو پینگ کو چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ دیپک سہراوت کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کا ریمانڈ پیر تک بڑھانے جانے کا فیصلہ سنایا گیا۔ پولیس نے بتایا پینگ مشتبہ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ پوچھ تاچھ کے لئے پولیس کو اور وقت کی ضرورت ہے۔ پولیس اس کے فارچونر کار ، ساڑھے تین لاکھ روپے انڈین کرنسی ، دو ہزار ڈالر اور بائیس ہزار تھائی کرنسی برآمد ہوئی ہے۔ اسپیشل سیل کے ڈی سی پی پرمود کشواہا نے بتایا کہ پولیس جانچ کررہی ہے۔ ملزم نے آدھار کارڈ بنوانے کے لئے کونسے کاغذات لگائے تھے اس کی نارتھ ایسٹ ریاستوں اور ہماچل پردیش میں مشتبہ سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ چین کے نان جنگ ایریا کے رہنے والے چارلی پنگ نے منی پور کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم حوالہ کاروبار سے جڑا تھا۔ پولیس اس بات کی جانچ کررہی ہے کہ ملزم چین کے لئے جاسوسی کررہا تھا یا نہیں؟پینگ قریب ڈیڑھ سال پہلے دیش کی سکیورٹی ایجنسیوں کے راڈار پر آگیا تھا۔ ملزم کے کئی موبائل فون کو سرویلنس پر رکھا گیا۔ پولیس مانتی ہے کہ ملزم نے جاسوسی کرنے کے لئے بھارت کے گورو گرام میں پورا سیٹ اپ لگا رکھا تھا۔ ان کی کمپنی میں 8سے10 ملازم تھے۔ ملزم کی جس طرح کا لائف اسٹائل و ملازمین کی تنخواہ وغیرہ کا خرچہ جو کہ ماہانہ 8 سے10 لاکھ روپے تھا، جاسوسی کا شک پیدا کرتا ہے۔ پولیس جانچ کررہی ہے ملزم کے پاس پیسہ کہا سے آتا تھا۔ وہ چین میں فون کے ذریعے کئی لوگوں کے رابطے میں تھا۔ وہ ہر روز تین فون کرتا تھا۔ پولیس یہ بھی پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہیں پینگ پیپلز لبریشن آرمی آف چائنا یا پیپلز آرمڈ پولیس فورس سے تو کوئی ناطہ نہیں ہے۔ پینگ سے ملے سراغ کی بنیاد پر جگہ جگہ چھاپہ ماری کررہی ہے۔ یہ پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ پاسپورٹ اور آدھار کارڈ حاصل کرنے میں اس کی کن کن لوگوں نے مدد کی تھی۔
(انل نریندر)

25 ستمبر 2018

رافیل ڈیل میں انل امبانی کو لیکر طوفان

کیا رافیل جہاز سودا ہندوستانی سیاست میں ایک ایسا جن بن گیا ہے جو مرکزی سرکار کی تمام کوششوں کے باوجود بھی بوتل میں بند نہیں ہو پارہا ہے۔وقتاً فوقتاً اس سے کچھ نہ کچھ ایسی معلومات سامنے آتی جارہی ہیں جنہیں لیکر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے سامنے لگاتار مشکل سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ رافیل سودے میں قیمت بڑھنے کا اشو تو اپوزیشن پچھلے کئی مہینوں سے اٹھا ہی رہی تھی لیکن جمعہ کو میڈیا کے سامنے آئے فرانس کے سابق صدر فرانسوا ں اولاندکے ایک بیان نے پورے معاملہ پر نئے سوال اور شک و شبہات پیدا کردے۔ فرانس کے میڈیا نے دیش کے سابق صدر اولاند کا بیان آیا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ رافیل جنگی جہاز بنانے کے معاہدے کے لئے بھارت سرکار نے ہی ریلائنس ڈیفنس کا نام تجویز کیا تھا۔ فرانس کے پاس اس سلسلہ میں کوئی متبادل نہیں تھا۔ فرانسیسی میگزین ’میڈیا پارٹ‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اولاند نے مبینہ طور سے کہا کہ انل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس کمپنی کو اس سودے میں شامل کرنے میں ہمارا کوئی رول نہیں تھا۔ حکومت ہند نے اس کمپنی کا نام پیش کیا تھا اور ڈسالٹ نے امبانی سے سمجھوتہ کیا۔ ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں تھا میں تو سوچ بھی نہیں سکتا ہوں کہ اس سے جولی گائے (ان کی گرل فرینڈ) کی فلم کا کوئی تعلق بھی ہوسکتا ہے۔ بتادیں کہ 2016 میں بھارت میں یوم جمہوریہ تقریب میں اولاند کے شامل ہونے سے دو دن پہلے ہی امبانی کی ریلائنس اینٹنٹمنٹ نے گائے کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا۔ اس دورہ کے دوران بھارت کو 36 رافیل جنگی جہاز سپلائی کے لئے اولاند نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کئے۔ فرانس کے سابق صدر اولاند کے بیان کو لیکر جو ہلچل ہے وہ بے وجہ نہیں ہے۔ جس وقت رافیل سودا ہوا تھا اس وقت اولاند ہی فرانس کے صدر تھے۔ ان کے کسی بیان کو مسترد کرنے کا سیدھا مطلب ہے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس وقت فرانس کے صدر ڈیل کے بارے میں سچ نہیں بول رہے ہیں؟ مرکز کی نریندر مودی سرکار کے عہد میں ہوئے رافیل سودے پرکانگریس پارٹی شروعات سے ہی سوال اٹھاتی رہی ہے۔ اولاند کے بیان کے بعد تو راہل گاندھی اور زیادہ جارحانہ ہوگئے۔ سنیچر کو انہوں نے پی ایم کو چور اور کرپٹ تک کہہ دیا۔ انہوں نے کہا اولاند پی ایم کو چور کہہ رہے ہیں لیکن وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جواب میں 15 سے زیادہ مرکزی وزراء نے راہل کے پورے خاندان کو چور کہہ کر ٹوئٹ کیا ہے۔ راہل نے کہا پی ایم نے رافیل سودے پر نجی طور پر بات چیت کی اور بند کمرے میں سودے کو بدل دیا۔ فرانسواں اولاند کے سبب ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ مودی نے نجی طور پر اربوں ڈالر کا ایک سودا ایک بینکرپٹ کو دے دیا۔ وزیر اعظم نے بھارت کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے ہمارے فوجیوں کے خون کی توہین کی ہے۔ پہلے جہاں کانگریس کے نیتا ہی زیادہ بول رہے تھے لیکن اب پوری اپوزیشن حملہ آور ہوگئی ہے۔ بی جے پی کے نیتا کہتے ہیں راہل گاندھی بوفورس سودے کو لیکر سورگیہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی پر لگے الزامات کا بدلہ لینے کے لئے رافیل سودے کو اچھال رہے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وار کی دھار امیدوں کے حساب سے بیشک اب تک لوگوں کے درمیان اتنا اثر نہیں کررہی ہے لیکن اولاند کا بیان ایک اوزار کی شکل میں اپوزیشن کو ضرور ہاتھ لگ گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں کانگریس کے علاوہ سی پی ایم، آر جے ڈی، بہوجن سماج پارٹی، سماج وادی پارٹی، پی ایم سی و دیگر پارٹیاں اس اشو پر حملہ آور ہوجائیں گی۔ خود بھاجپا میں ہی ہلچل ہونا شروع ہوگئی ہے۔ سبرامنیم سوامی نے کہا کہ فرانسواں اولاند کا دعوی اگر صحیح ہے تو بہت سنگین معاملہ ہے۔ پی ایم مودی کا سب سے بڑا سرمایہ بے داغ ایمانداری ہے لیکن انل امبانی کا رافیل سودے میں ہونا ضرور شک کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد پی ایم کی طرفداری کرنے اترے اور کہا چور کہنے والے راہل گاندھی خود کرپٹ اور زمین نیشنل ہیرالڈ شیئر گھوٹالہ میں ملزم ہیں۔ کرپشن میں ڈوباگاندھی خاندان ہی دیش میں کرپشن کا خالق ہے۔مودی سرکار نے کرپشن اور بچولیوں کے دروازے بند کردئے یہ ہی راہل کا درد ہے۔ سرکار کی طرف سے وزارت دفاع نے جمعہ کو دوہرایا کہ رافیل کے کمرشل سودے و فیصلہ سے نہ تو بھارت سرکار کا کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی فرانس کی سرکار کا۔ وزارت نے ٹوئٹ کیا کہ اولاند کے اس دعوے کی جانچ کی جارہی ہے۔ آنے والے دنوں میں الزام تراشیوں کا سلسلہ مزید تیز ہوگا اور تلخ تیور بھی دکھائی دیں گے۔
(انل نریندر)

ای وی ایم کے بھروسے پر امریکہ میں بھی تنازعہ

دیش میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) سے لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ میں پولنگ کو لیکر وقتاً فوقتاً اس کے بھروسے کو لیکر شبہات جتائے جاتے رہے ہیں۔ بدھ کو چیف الیکشن کمیشنر اوپی راوت نے جے پور میں اخبار نویسوں کو پھر یقین دلایا کہ ای وی ایم بھروسے لائق ہے۔ انہیں ہم نے ہائی ٹیک کردیا ہے۔ این تھری ای وی ایم مشین زیادہ سینسیٹیو ہے۔ مشین کو کوئی ٹیمپر کرنے کی کوشش کرے گا تو مشین فیکٹری موڈ میں چلی جائے گی اور ایسا ہونے پر امکانی مشین کو بدل دیا جائے گا۔ امریکہ جیسے مضبوط جمہوری دیش میں بھی ای وی ایم کے بھروسے کو لیکر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ ایسا ہی ایک تنازعہ کورٹ پہنچ گیا ہے۔ امریکہ میں 14 ایسے صوبے ہیں جہاں ٹچ اسکرین ووٹنگ مشین چناؤ میں استعمال میں لائی جاتی ہے۔ اس میں سے ایک صوبہ ہے جارجیا جہاں ان ووٹنگ مشینوں کے بھروسے اور سکیورٹی نہ ہونے کا معاملہ وہاں کی ضلع عدالت پہنچا تو اس نے ان کے غیر محفوظ ہونے کی بات تو مانی لیکن فیصلہ دیا فی الحال ای وی ایم سے ہی یہاں کے وسط مدتی چناؤکرائے جائیں۔ پیرکو ہی سامنے آئے ایک سروے سے پتہ چلا کہ 56 فیصدی امریکیوں کو بھروسہ ہے کہ ای وی ایم چناؤ کو غیر محفوظ بناتی ہے جبکہ 68 فیصد نے مانا کہ بیلٹ پیپر سے چناؤ کہیں زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔ اس طبقہ میں تین میں سے ایک امریکی مانتا ہے کہ آنے والے وسط مدتی چناؤ میں کوئی بھی دیش بیلٹ پیپر یا نتیجے بدل سکتا ہے۔ ضلع عدالت کی جج ایم ای ٹیٹن برگ نے جارجیااور ریاستی چناؤ محکمہ کے حکام کو صحیح سلامت چناؤ کو لیکر ان کی تیاریوں پرپھٹکار بھی لگائی ہے۔ ٹچ اسکرین ووٹنگ مشین کا استعمال کرنے والی14 ریاستوں میں سے جارجیا بھی ایک ہے لیکن ان مشینوں میں پیپر ٹریل کا بندوبست نہیں ہے لہٰذا ووٹر اس بات کی تصدیق نہیں کرپاتا کہ ان کا ووٹ ان کی پسند کے امیدوار کو گیا ہے یا نہیں؟ امریکہ میں سائبر سکیورٹی کی ماہرین نے اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی مشینوں کے ہیک ہونے کا امکان پورا ہے۔ اگر ہیکر ووٹ کی کل تعداد میں ہیر پھیر کرے یا کوئی تکنیکی گڑ بڑی ہوجائے تو اصلی ووٹوں کا کوئی بیک اپ ان میں نہیں ہوتا۔ این پی سار ویب سائٹ کے مطابق کیٹن برگ نے حالانکہ جارجیا میں محفوظ چناؤ کو لیکراپنی تشویشات رکھیں لیکن انہوں نے چناؤ اتنے نزدیک ہونے کے سبب 15 اکتوبر سے ہونے والی پولنگ کو پوری طرح ٹچ اسکرین ووٹنگ مشین کے بجائے بیلٹ پیپر سے کرانے کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ ریاست میں بیلٹ پیپر سے پولنگ نہ کرانے کے فیصلہ میں جو اہم بنیاد بنی ان میں سب سے اہم تھی چناؤ کا اتنا نزدیک آنا۔ بتادیں کہ جارجیا ان 21 ریاستوں میں شریک نہیں ہے جہاں 2016 میں صدارتی چناؤ میں روسی ہیکروں نے سیند لگائی تھی۔
(انل نریندر)

23 ستمبر 2018

ناپاک حرکت کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت

کچھ لوگوں کو امید تھی کہ شاید پاکستان میں نظام بدلنے سے بھارت ۔ پاک رشتوں میں نئی شروعات ہوگی۔ عمران خاں کی قیادت میں نئی سرکار بننے کے بعدان کے بھارت کے ساتھ رشتے بہتر بنانے کی بات کرنے سے لگا کہ شاید دونوں ملکوں میں امن مذاکرات پھر سے شروع ہوں گے لیکن پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا۔ پاکستانی فوج یہ ماحول بننے ہی نہیں دے گی۔ پاکستان نے پھر بزدلانہ کارروائی کو انجام دیا ہے۔ منگلوار کوجموں و کشمیر کے سانبہ ضلع کے رام گڑھ سیکٹر میں پاک رینجرس نے ایسی گھناؤنے حرکت کی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہوگی۔ ایک بار پھر بربریت کا ثبوت دیتے ہوئے ہمارے بی ایس ایف جوان کو پکڑ لیا اور 9گھنٹے تک تڑپایا۔ جوان نریندر سنگھ (57 )کی لاش لہو لہان حالت میں ملی۔ ان کا گلا کٹا ہوا تھا، ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی، آنکھ نکالی گئی تھی، پیٹھ پر کرنٹ لگانے سے جھلسنے کے نشان تھے۔ شہید کے جسم میں تین گولیاں لگی ہوئی تھیں۔ ایک گولی شروعاتی حملہ میں لگی تھی لیکن باقی دو گولیاں اذیتیں دینے کے بعد ماری گئیں تھیں۔ جوان نریندر سنگھ کے لاپتہ ہونے کے قریب9 گھنٹے بعد ان کی لاش ملی تھی۔ یہ پہلی بار ہے جب جموں میں بین الاقوامی سرحد پر بی ایس ایف کے کسی جوان کے مردہ جسم سے دشمن نے اس طرح کی حرکت کی ہے۔ نریندر سنگھ بی ایس ایف کی 176 ویں بٹالین کے ہیڈ کانسٹیبل تھے۔ ہریانہ ضلع سونی پت کے رہنے والے ہیں۔ اس حملہ کے پیچھے پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم (بیٹ) کا ہاتھ ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی بیٹ ٹیم میں پاک رینجرس کے ساتھ آتنکی بھی رہتے ہیں۔ اکثر ہندوستانی جوانوں میں دہشت پیدا کرنے کے لئے ایسی بربریت آمیز کارروائی کرتے ہیں۔ جوان نریندر سنگھ کا قتل جس طریقے سے کیاگیا اس سے صاف لگ رہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ رشتوں کو بہتر بنانے کے بجائے اکساوے کی کارروائی کررہا ہے۔ یہ اچانک فائرنگ میں کسی جوان کی موت نہیں ہے۔ جیسے خبر یں آئیں ہیں ان سے تو یہی لگتا ہے پاکستانی فوجیوں نے منظم طریقے سے گھات لگا کر ہندوستانی جوان کو نشانہ بنایا۔ اس پر تین گولیاں داغیں اور پھر گلا کاٹ کر ان کی موت کو یقینی کردیا۔ ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ ایسی بربریت پہلی بار نہیں ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن میں پاک فوجیوں نے ہندوستانی جوانوں کو مار ڈالا اور پھر ان کا سر کاٹ کر لے گئے تھے۔ ان کی لاش کو تہس نہس کرڈالا۔ پاکستانی حرکتوں سے ایسا لگتا ہے کہ نہ اسے کسی اخلاقیت کی پرواہ ہے اور نہ بین الاقوامی قوانین کو ماننا وہ ضروری سمجھتا ہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے پاکستان باتوں سے ماننے والا نہیں ہے۔ پہلے کی طرح پاکستانیوں کے گھر میں گھس کران کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ ہمیں اب بچاؤ کی پوزیشن کے بجائے حملہ کی پوزیشن میں آنا ہوگا۔ پاکستان کی اس بزدلانہ حرکت کا جواب بھارت کو فوراً دینا چاہئے۔ اس کے لئے ہمیں چاہے بارڈر کراس کیوں نہ کرنا پڑے۔ رہی امن بات چیت کی تو وہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک پاک ایسی حرکتیں بند نہیں کرتا۔ اپنی سرزمیں کو ان آتنکیوں کو استعمال کرنے سے نہیں روکتا۔ انتظار کرنے کا وقت چلا گیا۔
(انل نریندر)

چرچ کے بجائے سڑک پر کیوں ہیں کیرل کی راہبائیں

کیرل جیسی ریاست میں جہاں پچھلے سال 100 سے زیادہ بار ہڑتال کی گئی۔ راہباؤں کو انصاف دلانے کے لئے دھرنے پر بیٹھنا اپنے آپ میں ایک تاریخی واقعہ ہے۔ دھرنے پر بیٹھنے والی پانچ سسٹرمشنریز آف جیسس سے جڑی ہوئی ہیں یہ لیٹن کیتھولک آرڈر کے تحت آتی ہے جس کا ہیڈ کوارٹر 1994 میں جالندھر میں بنا تھا۔ کیرل میں چرچ کی تین برانچیں( کانوینٹ) ہیں۔انہی کانوینٹ میں یہ رہتی ہیں۔ 44 سال کی راہبہ جنہوں نے بشپ فرنکوملکل پر آبروریزی کا الزام لگایا ہے۔ بشپ چرچ کی اس برانچ کی پیٹن ہیں اور اس طرح سب سے طاقتور اتھارٹی بھی ہیں۔ اس معاملہ میں شکایت اسی سال جون میں کیرل پولیس میں درج کرائی گئی تھی۔ یہ معاملہ 2014 کا ہے۔ شکایت میں راہبہ نے بتایا ہے کہ ملکل جب بھی جالندھر سے آتے تھے وہ ایک کمرہ کا استعمال کیا کرتے تھے۔ اسی میں راہبہ کو یرغمال بنا کر ریپ کیا گیا۔ جنسی استحصال کا یہ سلسلہ 2016 تک چلتا رہا۔ سسٹر انوپما کے مطابق آخر میں متاثرہ راہبہ نے مدر جنرل کو زبانی طور سے شکایت کی تھی۔ اس کے بعد پادری اور دوسرے پادریوں کے سامنے بات رکھی گئی اور ان کی صلاح پر کاآرڈینل جارج النچری جو سائرو مالابار کے کیتھولک چرچ کی چیف اور ریاست کے چیف کیتھولک عہدے دار ہیں انہیں خط بھیجا۔ الٹا متاثرہ اور اس کے سپورٹ کررہے لوگوں کے خلاف شکایت درج کرا دی گئی۔ ملزم جالندھر کے بشپ فرنکو ملکل کو اب ویٹیگن نے ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ریپ معاملہ میں جانچ شروع ہونے اور چوطرفہ تنقیدوں اور راہباؤں کے دھرنے پر بیٹھنے کے بعد کیا گیا ہے۔ پولیس نے بدھ کو ملکل سے پوچھ تاچھ کی۔ 54 سالہ ملکل کے خلاف مختلف انجمنوں اور راہباؤں نے گرفتاری کرنے کے لئے بدھوار کو 12 ویں دن بھی اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ یہ اکلوتا معاملہ نہیں جب کیرل کے چرچ سے جڑا اسکینڈ سامنے آیا ہے۔ ریاست میں عیسائی آبادی بیشک 18 فیصدی ہے مگر یہ بڑا اثر رکھتی ہے۔ جو بھی اسکینڈ سامنے آئے ان میں زیادہ تر متاثرہ کے بتائے چرچ ملزم کے ہی حق میں فیصلہ لیتا دکھائی دی۔ ان میں فادر رابن کا معاملہ بھی اہم ہے۔ ان پر نابالغ طالبہ سے ریپ اور حاملہ کرنے کا الزام لگا تھا۔ رابن کا اتنا اثر تھا کہ چرچ نے شروعات میں ہیں متاثرہ کے والد پر دباؤ ڈالا کہ وہ پولیس کے سامنے بتائیں کہ بیٹی سے ریپ انہوں نے خود کیا۔ حالانکہ بعد میں جاکر وڈاککمچیری کو گرفتار کیا گیا تو متاثرہ نے بیان بدل ڈالا۔ پچھلے مہینے ہی اس نے عدالت میں کہا کہ تعلق رضامندی سے بنائے۔ یہ اس لڑکی اس وقت بالغ تھی۔ پادری اکثر خوف دکھا کر کام کرتے ہیں جبکہ انہیں ماننے والا آنکھیں بند کر ان کی جائز ناجائز باتیں مانتا ہے۔ متاثرہ کو یقین دلایا جاتا ہے کہ اگر اس نے مخالفت کی تو چرچ اور ایشور کا قہر ٹوٹے گا۔ راہباؤں کے دھرنے میں سماج کے ہر طبقے کی حمایت مل رہی ہے۔ چرچ میں اس طرح کی حرکتوں کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔
(انل نریندر)

22 ستمبر 2018

مہلاؤں کو تین طلاق سے نجات

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں تین طلاق بل پاس نہ ہو پانے کے بعد اب مرکزی حکومت نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے۔ کل تین ترامیم کے ساتھ کیبنٹ نے تین طلاق (طلاق بدت) کو قانونی شکل دینے کے لئے مرکزی حکومت نے آرڈیننس پاس کردیا ہے۔ اب مارچ 2019 تک اسے ہی قانون کی طرح برتا جائے گا۔ کچھ وقت پہلے مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں اس سلسلہ میں جو بل پاس کرایاتھا اس کے کچھ پہلوؤں پر تنازعہ تھا۔ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے تین طلاق پر سماعت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی بتایا تھا اور پارلیمنٹ کو اس پر قانون بنانے کے لئے کہا تھا لیکن لوک سبھا میں پاس ہونے کے باوجود راجیہ سبھا میں یہ بل اٹک گیا تو مرکزی سرکار اب اس بارے میں آرڈیننس لے آئی ہے اور چھ مہینے میں اسے پارلیمنٹ میں پاس کرانا ضروری ہوگا۔ مسلم انجمنوں اور کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے آرڈیننس میں کچھ ترمیم کی گئیں ہیں۔ جیسے تین طلاق کے معاملہ میں گرفتاری تبھی ہوگی جب اس کی شکایت بیوی یا کوئی اور خونی رشتے دار کرے گا۔ ایسے ہی عورت اگر چاہے تو سمجھوتہ کا بھی متبادل کھلا ہے۔ اس کے تحت بیوی کا موقف سننے کے بعد مجسٹریٹ میاں کو ضمانت دے سکتا ہے۔ کل ملاکر اس کے تقاضوں کو توقع کے مطابق لچیلا بنایا گیا ہے۔ جو بل سرکار نے لوک سبھا میں پاس کروایا تھا اس میں سہولت یہ تھی کہ کیس کوئی بھی درج کرکے بغیر وارنٹ کے گرفتاری ہوسکتی تھی۔ یہ غیر ضمانت جرم تھا جس میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ان تقاضوں کو لیکر پوری اپوزیشن نے مانگ کی تھی کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے تاکہ ہر پہلو پر غور ہوسکے۔ جب زیادہ تر مسلم ممالک نے ایک ساتھ بول کر دی جانے والی تین طلاق کو اپنے یہاں ختم کردیا ہے تب بھارت میں اس کے برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ آزادی کے بعد ہمارے یہاں ہندو خواتین کو تو شادی یا جانشینی وغیرہ سے جڑے قانونی حق دئے گئے ہیں لیکن مسلم عورتوں کو اس سے ری ایکشن کے ڈرکی وجہ سے الگ رکھا گیا ہے۔بھلے ہی مسلم خواتین کے لئے قانون کی طرح یہ آرڈیننس بھی میل کا پتھر ثابت ہونے والا ہے۔ اس کے گھناؤنے جرم بنائے جانے سے ڈر بھی قائم ہوگا جیسے کیس درج ہوتے ہی تین طلاق دینے والے کو جیل ہوجائے گی تو متاثرہ کو گزارہ بھتہ کون دے گا؟ شوہر کی پراپرٹی قرق کرنے کا راستہ ضرور کھلا ہے لیکن یہ بھی گزارہ بھتہ کی ذمہ داری طے کرنے کے لئے ہی جتنا لمبا ہے اور گھماؤ دار ہے۔ ایسے میں متاثرہ کی تکلیف اور بڑھ جائے گی اور اسے الگ طرح کی اذیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جدید دنیا میں اور وہ بھی ایک جمہوری نظام میں شہریوں کے لئے الگ الگ قاعدوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ویسے بھی ایسے قواعد کی تو قطعی نہیں جو مسلم خواتین کو استحصال کا شکار بناتے ہیں۔ ایسے میں اس پر عام رائے بنانے کی کوشش بہتر رہے گی۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...