Translater

07 مارچ 2018

وجود بچانے کیلئے ببوا نے کی بوا کی حمایت

جب دشمن کی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہو اور سوال خود کے وجود پر کھڑا ہوجائے تو دشمنوں کو آپسی تلخی بھلا کر قریب آنا ہی پڑتا ہے۔ ایسی ہی حالت سے لڑ رہی سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی دونوں کو احساس ہوگیا ہے ایک اور ایک گیارہ ہوکر وہ بھاجپا پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔ ان دونوں پارٹیوں کے درمیان 22 سال سے سیاسی دشمنی چلی آرہی ہے۔ بتا دیں کہ اس سے پہلے 1993 میں سپا ۔بی ایس پی ایک ساتھ چناؤ لڑ چکے ہیں تب مقصد رام لہر کو روکنا تھا۔ تب ایس پی۔ بسپا کے اتحاد نے سرکار بنائی تھی اور بھاجپا نمبروں میں پچھڑ گئی تھی۔ گیسٹ ہاؤس کانڈ کے بعد اتحاد ٹوٹا تو دونوں پارٹیاں کبھی ساتھ نہیں آئیں۔ حالانکہ اکھلیش یادو کئی بار کھلے اسٹیج پر اتحاد کرنے کی تجویز دے چکے ہیں لیکن بہن جی نے انکار ہی کیا۔ غور طلب ہے کہ پچھلے اسمبلی چناؤ میں سپا کو 28فیصد اور بی ایس پی کو22 فیصد ووٹ ملے تھے۔ دونوں کے اتحاد کو جوڑ لیں تو یہ 50 فیصد ووٹ ہوجاتا ہے ایسی صورت میں بھاجپا کے لئے ضمنی چناؤ میں سپا کے امیدواروں کو ہرانا بیحد مشکل ہوجائے گا۔ گورکھپور اور پھولپور سیٹیں یوگی آدتیہ ناتھ اور کیشو پرساد موریہ کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی ہیں۔ اس ٹیکنیکل گٹھ جوڑ کا سب سے پہلا اثر تو راجیہ سبھا چاؤ میں دکھائی پڑ سکتا ہے جس میں بھاجپا کو8 سیٹوں سے ہی اکتفا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سینٹرل چناؤ کمیشن نے یوپی سے خالی راجیہ سبھا کی 10 سیٹوں پرچناؤ کا پروگرام اعلان کردیا ہے۔
اسمبلی میں اپنی طاقت کی بنیاد پر بھاجپا8 سیٹیں آسانی سے جیت سکتی ہے۔ سپا۔ بسپا کو الگ الگ خیمہ میں رہنے کی صورت میں بھاجپا ایک اور سیٹ لینے کی کوشش کرسکتی ہے۔ ریاستی اسمبلی میں اکیلے بھاجپا کے 324 ممبر اسمبلی ہیں اس کے ایک ممبر اسمبلی لوکیندر سنگھ چوہان کی حال ہی میں ایک حادثہ میں موت ہوگئی تھی۔ بڑی اپوزیشن پارٹیوں میں سپا کے پاس 47 ، بسپا کے پاس19، کانگریس کے پاس7 ، آر ایل ڈی کے پاس 1 ممبر اسمبلی ہے اس طرح اگر یہ چاروں اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوجائیں تو راجیہ سبھا کی سیٹ جیت سکتی ہیں۔ ادھر اترپردیش کی دو لوک سبھا سیٹوں گورکھپور اور پھولپور میں 11 مارچ کو ضمنی چناؤ ہونا ہے۔ ایسا بھی مانا جارہا ہے یہ چناؤ 2019 چناؤ کے لئے دونوں پارٹیوں کی ملی جلی سیاست کا حصہ ہے۔ حالانکہ مایاوتی نے یہ بھی کہا ہے اسے گٹھ بندھن نہ سمجھا جائے یہ تو صرف گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا ضمنی چناؤ کے لئے ہے۔
(انل نریندر)

تریپورہ کی ہار لیفٹ کے تابوت میں کیل

تریپورہ کی ہارکے بعد لیفٹ پارٹیوں کے لئے اپنے سیاسی وجود کو بچانے کو لیکربحران کھڑا ہوگیا ہے۔ ان کے لئے یہ ہار تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتی ہے۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل سیتا رام یچوری نے بنگال چناؤ کی طرز پر تریپورہ میں بھی کانگریس کے ساتھ مل کر چناوی سمر میں اترنے کی تجویز رکھی تھی لیکن پارٹی کے پولٹ بیورو نے تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ مغربی بنگال چناؤ کی حالت ہوجائے گی جہاں پارٹی کی حیثیت تیسرے و چوتھے نمبر پر ہوگئی ہے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس نے لیفٹ پارٹیوں کی طرز پر ہی کراری مات دی تھی۔ لیفٹ فرنٹ کی اتحادی پارٹیو ں کو ریاست کے پنچایت و شہری کارپوریشنوں کے چناؤ میں تیسرے و چوتھے مقام پر تشفی کرنی پڑی تھی۔ تریپورہ کی 20 سال کمان سنبھالنے والے منک سرکار کو لگتا ہے کہ پرانی بنی کامیابیوں پر ہار کے اشو بھاری پڑے۔ انتہا پسندی کی آگ سے جھلس رہی ریاست میں امن بحال کرنا ان کی بڑی کامیابی تھی لیکن اس کے ساتھ لوگوں کی توقعات بھی بڑھ رہی تھیں جسے پورا کرنے میں سرکار کامیاب نہیں رہی۔ سرکاری ملازم ناراض تھے کیونکہ ابھی تک فورتھ پے کمیشن کے تحت تنخواہ نہیں مل پا رہی ہے جبکہ بھاجپا نے انہیں ساتواں پے کمیشن دینے کا وعدہ کیا ہے۔ نئے طلبا میں روٹی روزی کو لیکر مایوسی تھی۔ بھاجپا لوگوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہی ہے کہ ہم ریاست میں ترقی لیکر آئیں گے۔ بھلے ہی منک دادا کی ساکھ بے داغ رہی ہو لیکن بھاجپا لوگوں کو یہ سمجھانے میں بھی کامیاب رہی ہے کہ ان کی سرکار کے وزرا نے کرپشن کو بڑھاوا دیا ہے اور پچھڑی جاتیوں کے لوگوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ راجدھانی اگرتلا اور دوسرے شہروں میں لوگ کہتے تھے منک سرکار اچھے آدمی ہیں لیکن اب تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ لیفٹ پارٹیوں نے اپنی آئیڈیالوجی کے فروغ اور پھیلاؤ کے لئے ہندی اکثریتی علاقوں میں جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ان کی یہ اسکیم دھری کی دھری رہ گئی۔ لیفٹ مورچہ کچھ ریاستوں تک ہی محدود رہا۔ جن دوسری ریاستوں میں سرگرم بھی تھا ایک ایک کرکے وہاں سیاسی زمین کھسکتی رہی لیکن لیفٹ پارٹیوں نے ان کی کوئی خبر نہیں لی لہٰذا لوگوں کو فکر ستاتی چلی گئی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بنگال کے بعد اب تریپورہ میں بھی پارٹی کو کراری ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ منک سرکار کو دیش کی لیفٹ پارٹیوں کی تاریخ میں سیا سی وجود کے نابود ہونے کے طور پریاد کیا جائے گا۔
(انل نریندر)

06 مارچ 2018

امیروں اور غریبوں میں بڑھتی خلیج

بینکوں سے قرضہ لیکر بیرون ملک بھاگ جانا اور خود کو دیوالیہ اعلان کرنے والے بڑے گھرانوں کے مقابلہ دیش کے چھوٹے صنعتکاروں اور غریبوں کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔ مرکزی وزیر دیہی ترقی سیکریٹری امرجیت سنگھ نے بینکوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی پرفارمینس کی بنیاد پر غریبوں کی مالی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے ان پر داؤ لگائیں تو بہتر ہوگا۔ خود مالیاتی گروپ بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش میں لگے غریب قرض چکانے کا زیادہ مادہ رکھتے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ خواتین خود ہیلپ گروپ کا مظاہرہ شانداررہا ہے۔ انہیں غربت سے آزاد کرنے میں بینکوں کا رول اہم ہے۔ سنگھ نے کہا کہ نارتھ اور مشرقی ریاستوں میں خواتین خود ہیلپ گروپوں کو بینکوں کا پورا تعاون نہیں مل رہا ہے۔ ویسے پچھلی تین دہائیوں سے سرکاریں بدلتی رہی ہیں لیکن امیروں کی خوشحالی اور غریبوں کی بدحالی بڑھنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے۔ اس عام تصور پرآک فیم اینڈیا کی تازہ رپورٹ میں اعدادو شمار کی مہر لگادی ہے۔ ادارہ کی طرف سے حال ہی میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق اس دیش کے جی ڈی پی کے 15 فیصد کے برابر سرمایہ صرف ارب پتیوں کے بٹوے میں ہے۔ رپورٹ میں دیش کی اس اقتصادی بدحالی کیلئے ایک کے بعد ایک سرکاروں کی غیرمتوازن پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ آک فیم نے کہا کہ پچھلے تین دہائیوں میں دیش کے سب سے بڑے دھن کبیروں نے پشتینی اثاثہ اور اپنے ہی دیش میں چالبازیوں سے جمع کردہ رقم کے بلبوتے پر پیسہ کا انبار کھڑا کرلیا ہے۔ دوسری طرف سماج کے سب سے نچلے پائیدان پر کھڑے غریبوں کی بڑھتی غربت انہیں اور بھی نیچے لے گئی ہے۔ آک فیم انڈیا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نشا اگروال نے بتایا کہ سال 1991 میں اقتصادی اصلاحات کے جو طریقہ اپنائے گئے، امیروں اور غریبوں کے درمیان بڑھی خلیج انہی طریقوں کا نتیجہ ہے۔ نئے اعدادو شمار کے مطابق ارب پتیوں کے پاس کل سرمایہ جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو محض پانچ برس پہلے تک 10 فیصدی تھا۔ دی وائڈننگ گیپس : انڈیا ان اکوالٹی رپورٹ2018 میں آکس فیم انڈیا نے بتایا کہ سال2017 کے اعدادو شمار کے مطابق دیش میں 101 ارب پتی (کل اثاثہ 1 ارب ڈالر سے زیادہ یعنی 6500 کروڑ روپے اور اس سے زیادہ) ہے۔ رپورٹ کا دعوی ہے کہ آمدنی اور کھپت اور اثاثہ جیسے سبھی پیمانوں پر بھارت دنیا کے سب سے زیادہ اقتصادی کمزوری والے دیشوں کی قطار میں ہے۔
(انل نریندر)

سائی بابا نے توڑیں دھرموں کے بیچ کی دیواریں

مورخوں کے مانیں تو سائی خود کون تھے، کس دھرم میں پیدا ہوئے تھے اس کی کوئی ٹھوس جانکاری نہیں ملتی ہے۔ سائی بابا پر لکھے گئے کچھ پرانے گرنتھوں کی بنیاد پر مانا جاتا ہے کہ شرڈی کے سائی بابا کا جنم 1838 سے1842 تک کے درمیان ہوا تھا۔ایک فقیر کی زندگی جیا کرتے تھے سائی۔ سائی نام انہیں تب ملا جب وہ کم عمر میں شرڈی آگئے تھے۔ شرڈی میں ہی وہ ایک پرانی مسجد میں رہنے لگے تھے۔ مسجد میں رہنے کی وجہ سے بہت سے لوگ انہیں مسلمان مانتے تھے لیکن خود سائی نے اس مسجد کو دوارکا سائی نام دیا تھا اس وجہ سے بہت سے لوگ انہیں ہندو دھرم کا مانتے تھے۔ ظاہر ہے کہ سائی نے کبھی خود کو کسی ایک مذہب سے نہیں باندھا۔ سائی کے بھکتوں میں کون کس مذہب کا ہے یہ کوئی نہیں جانتا لیکن سائی بابا کو ماننے والے ہر دھرم کے ہیں۔ یہ بھکت اپنی اپنی عقیدتوں کے مطابق سائی کی بھکتی کرتے ہیں۔ سائی بابا کے بھکتوں میں شرڈی کے مندر کے درشن کی خاص وجہ بھی ہے۔ سائی 18 سال کی عمر میں شرڈی آگئے تھے اور 15 اکتوبر 1918 کو چرسمادھی میں لین ہونے تک وہیں رہے۔ ان کے دہ تیاگنے کے محض چار سال بعد 1922 میں اس پوتر مندر کو سائی کی سمادھی کے اوپر بنایا گیا۔ بھکتوں کا مقصد صرف ایک تھا کہ مندر کے ذریعے سائی کے اپدیشوں اور ان کی تعلیمات کو بہتر طریقے سے پھیلایا اور فروغ دیا جائے۔ آج دنیا بھر سے جو لوگ اس مندر میں درشن کے لئے پہنچتے ہیں تازہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ سالانہ2 کروڑ سے زیادہ بھکت شرڈی کے سائی مندر میں آتے ہیں۔ ان بھکتوں کے چڑھاوے کی وجہ سے ہی سائی دھام کی گنتی دیش کے کچھ سب سے امیر مندروں میں ہوتی ہے۔ ان کے مندر اب شرڈی میں نہیں بلکہ دیش کے ہر کونے ہر گلی میں مل جائیں گے۔ سائی کے بھکت ان کے چمتکاروں کی کہانیاں سناتے ہیں۔ کوئی سائی کو دیکھنے کا دعوی کرتا ہے تو کوئی سائی کی شرن میں آنے کے بعد اپنی زندگی میں آئے مثبت پہلوؤں کی داستاں سناتا ہے۔ سائی کا کہنا ہے سب کا مالک ایک بے شک سائی جیسے یوگی ایشور سے قریب ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھکت انہیں ایشور کی طرح پوجتے ہیں۔سائیں کے بھکت سچے من سے سائی کی شرن میں آتے ہیں اور اپنی زندگی میں بہتری محسوس کرتے ہیں۔ ان کے لئے ہر مسئلہ کا حل سائی کے پاس ہے۔ دیش بھر میں سائی بابا کے مندروں کی بڑھتی تعداد بھکتوں کے بڑھتے بھروسہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
(انل نریندر)

04 مارچ 2018

کارتی گرفتار ۔چدمبرم نشانہ پر

آئی این ایکس کمپنی کو قانونی حد سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دلانے کے معاملہ میں سابق وزیر مالیات پی چدمبرم کے ارد گرد شکنجہ کسنا شروع ہوگیا ہے۔ اس معاملہ میں سی بی آئی نے ان کے بیٹے کارتی چدمبرم کو گرفتار کرلیا ہے۔ منی لانڈرنگ کے مبینہ ملزم سی بی آئی پچھلے کافی عرصہ سے کارتی چدمبرم پر جس طرح سے شکنجہ کس رہی تھی اسے دیکھتے ہوئے گرفتاری بہت حیرت انگیز بھلے ہی نہ ہو لیکن اس کے وقت کی ضرور اہمیت ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے آئی این ایکس میڈیا معاملہ میں کارتی کے خلاف اس کے پاس پختہ ثبوت موجود ہیں۔ کیونکہ یہ معاملہ پی چدمبرم کے وزیر مالیات رہنے کے دور کا ہے اور اسی دور کے ایئر سیل ۔ میکسز سودے بازی میں کارتی کی مبینہ شمولیت کے ثبوت کے بارے میں سی بی آئی بتا رہی ہے ایسے میں دیر سویر سابق وزیر کو بھی اگر شکنجے میں کس لیا جائے تو تعجب نہ ہوگا۔ حالانکہ سی بی آئی کی ایف آئی آر میں ان کا نام نہیں ہے ۔ بیشک کارتی چدمبرم کی گرفتاری قانونی خانہ پوری کے تحت کی گئی ہو لیکن حکومت نے انہیں گرفتار کروا کر پارلیمنٹ کے نئے سیشن میں اپوزیشن کو ڈیفنس کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔ سرکار کو یہ اچھی طرح پتہ ہے کہ آنے والے سیشن میں اپوزیشن پی این بی گھوٹالہ اور اس کے ملزمان نیرو مودی، میہول چوکسی اور پہلے مفرور للت مودی اور وجے مالیا کے دیش بلائے جانے کا سوال اٹھائے گی۔ اس طرح سے کرپشن کے محاذ پر سرکار کی جارحیت بے اثر نظر ہوتی نظر آرہی تھی لیکن کارتی چدمبرم کی گرفتاری سے سرکار نے کانگریس کو پھر کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہا ہے۔ اب اس مسئلہ کا استعمال کرناٹک اور آنے والے اسمبلی چناؤ میں ہوگا۔ کارتی چدمبرم نے گرفتاری کے میمو پر دستخط کرتے ہوئے اس پر لکھایہ ساری قواعد ان کے والد پی چدمبرم کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ سی بی آئی نے کہا ہے کہ کارتی جانچ میں تعاون نہیں دے رہے ہیں اور بار بار بیرون ملک جارہے ہیں۔ بچاؤ کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ان کے موکل دوبار سی بی آئی اور دو بار انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔ ان سے سی بی آئی 22 گھنٹے اور ای ڈی33 گھنٹے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ وہ کورٹ کی اجازت سے بیرون ملک گئے اور ہر بار واپس آئے ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ کارتی کی گرفتاری کرپشن کے ایک معاملہ کو اس کے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہوئی ہے جسے سیاسی چشمے سے نہ دیکھا جائے۔
(انل نریندر)

فائرننگ میں دولہے کی موت

خوشی کے موقعہ پر ہوائی فائرننگ کا رواج کبھی کبھی خطرناک ثابت ہوجاتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ چاہے شادی کا موقعہ ہو یا سالگرہ کا، وجے جلوس ہو ، کچھ لوگ اپنی بندوقوں سے ہوائی فائرننگ کرکے خوشی مناتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا کرنا بہت خطرناک بھی ہوجاتا ہے۔ گذشتہ بدھوار کودہلی کے دلشاد گارڈن میں گھوڑ چھڑی رسم کے دوران بارات میں ایک رشتہ دار نے گولی چلادی۔وہ ہوا میں گولی چلا رہا تھا لیکن جب گھوڑے پر چڑھا دولہا زمین پر آگرا تب اسے احساس ہوا کہ اس کی گولی دولہے کو لگ گئی ہے، دولہا کی گھوڑے سے گرتے ہی موت ہوگئی۔ اس کو حادثہ کہیں یا اتفاقی واردات۔ سماج کے سامنے یہ سنگین سوال ضرور کھڑا ہوتا ہے کہ ہم خوشی اس طرح کیوں مناتے ہیں جو کسی کے لئے جان لیوا بن جائے؟ کیا بغیر گولی چلائے خوشی کا اظہار نہیں کیا جاسکتا؟ اس معاملہ میں مانڈ نائک ایک لڑکے کو پولیس نے حراست میں لیکر پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔ رشتہ داروں کے الزامات کے بعد پولیس نے لڑکے کو حراست میں لے لیا ہے۔ حالانکہ اصل ملزم عادل ابھی بھی فرار ہے۔ رشتہ داروں کا الزام ہے دولہا دیپک کمار کو گولی مارنے کے پیچھے مانڈو کا ہاتھ ہے۔ اس کے اشارے پر ہی عادل نے گولی ماری تھی۔ پولیس واردات والے دن کا ویڈیو دیکھ کر اس کی چھان بین کررہی ہے۔ معاملہ کی جانچ سے وابستہ ایک پولیس افسر نے بتایا رشتہ داروں کا الزام تھا مانڈو علاقہ کا دبنگ تھا اس کا دیپک کے خاندان سے جھگڑا چل رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا دیپک کی شادی فیرد آباد میں ہوئے۔ گھوڑ چڑھی کے دوران مانڈو نے بارات میں جانے کے لئے خاص کر جان بوجھ کر اپنے دوست بلائے تھے۔ رشتہ داروں کا الزام تھا کہ مانڈو کے اشارہ پر ہی عادل نے نشانہ بنا کر دیپک کو گولی ماری جس سے اس کی موت ہوگئی۔ دہلی، اترپردیش، مدھیہ پردیش سمیت شمالی ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں اس طرح کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اعدادو شمار کو دیکھیں تو 2005 سے 2014 کے درمیان دیش بھر میں 15 ہزار سے زیادہ لوگ اس طرح کے واقعات کا شکار ہوئے تھے اور ان میں دوتہائی اموات اترپردیش میں ہوئیں تھیں۔ دراصل خوشی میں گولیاں چلانے کے واقعات ایسے سماج اور کلچرکی طرف اشارہ کرتے ہیں جس سے اپنی خوشی کو طاقت کا مظاہرہ کرنے اور رعب جمانے کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔ دیپک کے کیس میں تو لگتا ہے یہ غلطی نہیں طے شدہ حکمت عملی کے تحت قتل کیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

02 مارچ 2018

کیا اس بار بی جے پی تریپورہ میں لیفٹ پارٹیوں کو صاف کرے گی

نارتھ ایسٹ ریاستیں میگھالیہ اور ناگالینڈ میں اسمبلی چناؤ کے لئے منگل کے روز ووٹ پڑ گئے۔ ناگالینڈ میں تشدد کے کچھ واقعات ہوئے ہیں تو میگھالیہ میں پولنگ پوری طرح پرامن رہی۔ دونوں ہی ریاستوں میں قریب 75فیصدی پولنگ ہوئی۔ ناگالینڈ میں حکمراں ناگا پیپلز فرنٹ اور بھاجپا کے درمیان ہوئے ٹکراؤ میں ایک آدمی کی موت ہوگئی۔ دونوں ریاستوں کے چناؤ افسران نے بتایا کہ پچھلے اسمبلی چناؤ میں ناگالینڈ میں 90.57فیصدی اور میگھالیہ میں 89فیصدی ووٹ پڑے تھے۔ ناگالینڈ میں اس بار 59 سیٹوں کیلئے 227 امیدوار جبکہ میگھالیہ میں اتنی ہی سیٹوں کے لئے 32 عورتوں سمیت 370 امیدوار ہیں۔ اکھلوٹو اسمبلی حلقہ میں حکمراں این پی ایف اور این ڈی سی پی حمایتیوں کے درمیان جھگڑے میں ایک شخص کی موت ہوگئی جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔ ریاست کے مون ضلع کے تجت گاؤں میں ایک پولنگ مرکز پر صبح پونے چھ بجے دیسی بم پھینکا گیا جس کے دھماکہ کی زد میں آکر ایک شخص زخمی ہوگیا۔ نتیجے 3 مارچ کو آئیں گے۔ تریپورہ میں پہلے ہی چناؤ مکمل ہوچکا ہے۔ بھاجپا تریپورہ میں مارکسوادی پارٹی سے اقتدار چھین پائے گی؟ ناگالینڈ میں این پی اے ایف اپنا اقتدار بچا پائے گی اور کیا کانگریس میگھالیہ میں حکمراں مخالف لہر سے لڑ پائے گی۔ ان سبھی سوالوں کے جواب سرکاری طور سے تو 3 مارچ کو ہی ملیں گے لیکن ایگزٹ پول کے نتیجے بتاتے ہیں تریپورہ میں بھاجپا سرکار بننے کے پورے آثار ہیں۔ 25 سال سے جھنڈا گاڑھے لیفٹ پارٹی کی حکومت اس بار بھاجپا اور آئی پی ایف ٹی محاذ کو جھٹکا دے سکتی ہے۔ جن کی بات نیوز ایکس کے ایگزٹ پول میں 60 ممبری اسمبلی میں بھاجپا آئی پی ایف ٹی کو 35 سے 40 سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ لیفٹ پارٹیاں 50 سے گھٹ کر 14سے23 کے درمیان سمٹ سکتی ہیں ۔ دوسری طرف سی ووٹر کے مطابق تریپورہ میں لیفٹ پارٹیوں کو 26 سے 24 سیٹیں، بھاجپا اتحاد کو 24 سے32 سیٹیں اور کانگریس کو 2 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ میگھالیہ میں ایکسز مائی انڈیا نیوز 24 کے ایگزٹ پول میں بھاجپا کو 30 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے جبکہ کانگریس 20 پر سمٹ سکتی ہے۔ سی ووٹر کے مطابق میگھالیہ میں کانگریس کو 13 سے 19 ، نیشنل پیپلز پارٹی کو 17 سے23، بھاجپا کو 4سے8 ، یو ڈی پی ایچ ،ایس پی ڈی پی کو 8سے12 اور دیگر کو 9 سے 5 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ ناگا لینڈ میں جن کی بات نیوز ایکسز کے ایگزٹ پول میں بھاجپا ۔ این ڈی پی پی اتحاد کو 60 میں سے27-32 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے جبکہ این پی ایف کو 20-25، کانگریس کو 2 سیٹیں مل سکتی ہیں دیگر کو 5-7 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ سی ووٹر کے پول کے مطابق بھاجپا ۔این ڈی پی پی محاذ کو 25-31 ، اے پی ایف کو 19-25، کانگریس کو 4 اور دیگر 6-10 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ یہ ایگزٹ پول کتنے کھرے اترتے ہیں یہ 3 مارچ کو پتہ چل جائے گا۔ بھاجپا نے نارتھ اسٹیٹ میں بہت دم لگایا ہے دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس کیا اپنا گڑھ بچا پاتی ہے۔ بیشک ان تین ریاستوں کی قومی پس منظر میں اتنی اہمیت نہ ہو لیکن پھر بھی یہ اشارہ ضرور ملیں گے کہ ان ریاستوں میں ہوا کس کے حق میں بہہ رہی ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...