Translater

26 مارچ 2017

بخیریت وطن لوٹنے پر پیرزادہ نے سنائی آپ بیتی

اوپر والے کے رحم و کرم اور اپنے اچھے اعمال کی وجہ سے خدا کے بندے صوفی حضرت نظام الدین اولیا ؒ درگاہ کے سجادہ نشین آصف علی نظامی اور ناظم علی نظامی پیر کے روز بخیریت بھارت واپس لوٹ آئے اور واپسی کے بعد دونوں نے سب سے پہلے حضرت نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ پر چادر چڑھا کر دعا مانگی پھر گھروالوں کے ساتھ وزارت داخلہ جا کر مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج کا شکریہ ادا کیا۔ صحیح سلامت وطن واپسی کے بعد پیرزادہ آصف علی نظامی اور ان کے بھتیجے سید نظامی نے ان کی گمشدگی کو لیکر پاکستان کے ذریعے پھیلائے گئے جھوٹ کی پول کھول دی۔ آپ بیتی بیان کرتے ہوئے سید آصف نظامی نے بتایا کہ وہ ان کے بھتیجے ناظم 6 مارچ کو اپنی بہن قمر جہاں کے یہاں کراچی پہنچتے تھے۔13 مارچ کو آصف و نظام دونوں فلائٹ سے لاہور گئے۔ وہاں بابا فرید گنج کے دربار میں زیارت کرنے کے بعد اگلے دن داتا دربار میں زیارت کی۔15 مارچ کو دونوں واپس کراچی کے لئے نکلے لیکن ایئرپورٹ پر کاغذات میں کمی بتا کر خفیہ ایجنسیوں نے ناظم کو حراست میں لے لیا۔ یہاں سے انہیں منہ پر کالا کپڑا ڈال کر نامعلوم جگہ پر لے جایا گیا۔ ادھر آصف کراچی پہنچ گئے جہاں ایئرپورٹ پر انہوں ن نے اپنے گھر ٹیلی فون کر نظامی کے بارے میں گھروالوں کو اطلاع دی۔ ایئرپورٹ سے ہی آصف اور ان کے پاکستانی ساتھی حماد کوبھی یرغمال بنالیا۔ قریب تین دن تک دونوں کو نامعلوم جگہ پر رکھا گیا۔ وہاں روزانہ ان سے الگ الگ لوگ پوچھ تاچھ کرتے رہے اور ان سے بھارت۔ پاکستان آنے والے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ جمعہ کو لمبی پوچھ تاچھ کے بعد انہیں چھوڑدیا گیا۔ بعد میں انہیں پتہ چلا کہ اس پر خوب ہنگامہ ہوگا ہے۔ دونوں بولے شاید بھارت کے دباؤ میں ہی ان کو چھوڑا گیا۔ سید آصف نظامی کے بھتیجے ساجد نظامی نے بتایا کہ پاکستانی اخبار’ امت‘ میں ان کے چچا آصف و بھائی ناظم کے خلاف آرٹیکل شائع ہوا تھا۔ دونوں کو ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ بتایا گیا تھا۔ یہی نہیں اخبار میں کراچی کے پختون علاقے میں سرگرم ایم کیو ایم پارٹی کا ممبر بھی بتایا گیا۔ سجادوں نے سشما سوراج اور مودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا وزیر خارجہ کو واقعہ کی پوری جانکاری دی گئی۔ اس اردو اخبار کی کاپی بھی سونپی گئی جس میں انہیں ’را‘ کا ایجنٹ بتایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مودی سرکار اسے سنجیدگی سے نہیں لیتی تو شاید وہ ہندوستانی واپس نہ آپاتے۔ سجادوں کا قصہ ہر ہندوستانی کے لئے آنکھیں کھولنے والا ہے۔ جو لوگ پاکستان کے دن رات گن گاتے ہیں وہ اب پاکستان کی اصلیت کو سمجھ لیں گے۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ کے فیصلے سے ترنمول کانگریس سکتے میں

کولکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس کو کرارا جھٹکا دیتے ہوئے سی بی آئی سے نارد اسٹنگ معاملہ کی جانچ کرنے کے احکامات کو عزت مآب سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ ممتا بنرجی کی رہنمائی والی ریاستی حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ کے 17 مارچ کے حکم کے خلاف دائر ایک الگ اپیل میں دی گئی بنیادوں سپریم کورٹ نے بیحد افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عرضی سرے سے خارج کرنے لائق ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیر کی سربراہی والی بنچ میں اسے کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ یہ بنگال کی تاریخ میں ممکنہ طور پر پہلا موقعہ تھا جب کسی حکومت نے پارٹی کے نیتاؤں کے بچاؤ کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہو۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کسی نیتا کے بچاؤ میں سرکار کی طرف سے اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتادیں پچھلے سال ناردا اسٹنگ آپریشن کے سامنے آنے کے بعد بنگال کی سیاست میں طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ اس ویڈیو میں ترنمول کانگریس کے کئی درجن بھر ممبران پارلیمنٹ، وزرا و نیتاؤں کو رشوت کے طور پر لاکھوں کی رقم لیتے ہوئے دکھایا گیا۔ ممتا سرکار نے اسے فرضی قراردیا اور اسے اسٹنگ کرنے والے ناردا نیوز کے سی ای او میتھیوز سیمول کے خلاف معاملہ درج کرایا تھا۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے سیمول کو راحت دے دی ہے لیکن سینٹرل فارنسک لیباریٹری میں جانچ سے ویڈیو فٹیج کی سچائی بھی ثابت ہوگئی تھی لیکن تب سرکار اور پارٹی لگاتار اس ویڈیو کو فرضی بتا رہی ہے۔ممتا شروع سے ہی کہتی رہی ہیں کہ نوٹ بندی کے خلاف ان کی مہم کی وجہ سے ہی مرکزی سرکار سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ جیسی ایجنسیوں کو ترنمول کانگریس کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ پچھلے سال اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے اس ویڈیو کے سامنے آنے کے باوجود اپوزیشن اسے مضبوط چناوی اشو بنانے میں ناکام رہا تھا۔ ممتا اور ان کے نیتا اسے فرضی اور سیاسی سازش قرار دے کر چناؤ میں بھاری کامیابی حاصل کی تھی لیکن اب سی بی آئی کے ہاتھوں میں کیس جانے کے بعد اچانک ترنمول کانگریس کے کئی لیڈروں اور وزرا سے پوچھ تاچھ اور گرفتاری کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اب سپریم کورٹ میں منہ کی کھانے کے بعد ترنمول کانگریس اس معاملے سے سیاسی طور پر نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں لگی ہے۔ تازہ حکم کے بعدممتا اور مرکز کے درمیان نئے سرے سے ٹکراؤ کا اندیشہ ہے۔ شاردا اور راج ویلی چٹ فنڈ گھوٹالے کے بعد اب یہ تیسرا ایسا گھوٹالہ ہے جس میں ترنمول کانگریس کے کئی اثر دار لیڈر سی بی آئی کے شکنجے میں آسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

25 مارچ 2017

برطانوی پارلیمنٹ پرحملہ

بلجیم کی راجدھانی بروسیلزپر آتنکی حملہ کی پہلی برسی پر بدھوار کو لندن برطانوی پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آور نے فرانس کے نیس شہر میں ہوئے ٹرک حملے جیسا حملہ کرنے کی کوشش کی۔ کار سوار حملہ آور نے تیز رفتار سے کار پارلیمنٹ کی طرف جانے والے ویسٹ مسٹر برج پر درجن بھر پیدل مسافروں کو کچل دیا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق کار کی ٹکر اتنی زبردست تھی کہ کچھ لوگ ٹیمس ندی میں جا گرے۔ یاد رہے جولائی 2016ء میں نیس میں ٹرک سوار خودکش حملہ آور نے 83 لوگوں کو کچل ڈالا تھا۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ کو بدھوار بروسیلز کے ہوائی اڈے پرہوئے فدائی حملے کی پہلی برسی پر نشانہ بنایا گیا۔ برسیلز حملے میں تین فدائی حملہ آوروں نے دھماکہ کیا تھا جس میں 36 لوگ مارے گئے تھے۔ لندن حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے لی ہے۔ آتنکی تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ خلیفہ کے سپاہی نے اس حملے کو انجام دیا۔ برطانوی پرائم منسٹر ٹیزا نے ہاؤس آف کامنس کو بتایا کہ حملہ آور آئی ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر تھا اور اس نے اکیلے ہی واردات کو انجام دیا تھا۔ برطانوی پولیس کے مطابق 52 سالہ خالد مصطفی برطانیہ میں پیدا ہوا تھا اور یہاں کٹر پسندی خطرے کو لیکر ایک بار پھر اس کی جانچ بھی کی گئی تھی۔ واردات میں ایک حملہ آور سمیت 4 لوگوں کی موت ہوچکی ہے اور 40 لوگ زخمی ہوئے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ پر حملے کی کوشش کے درمیان ہاؤس آف کامنس میں قریب400 ممبران پارلیمنٹ موجود تھے ۔ وہ سبھی آس پاس ہورہی وارداتوں اور اس کے بعد پولیس چھان بین کے درمیان کئی گھروں تک پارلیمنٹ بھون کے اندر بند رہے۔ ٹیریزا حکومت نے خارجی امور کے وزیر ٹیبیس ایلبٹ نے پارلیمنٹ کمپلیکس کے باہر آکر حملہ آور کے چاقو سے زخمی ہوئے پولیس ملازم کا بہتا خون روکنے کی کوشش بھی کی۔ بتایا جاتا ہے تمام کوششوں کے باوجود بری طرح زخمی پولیس والے نے بعد میں دم توڑ دیا۔ آئی ایس کے خلاف مہم کے بعد برطانیہ آتنکی حملے کو لیکر دوسرے سب سے زبردست الرٹ پر تھا۔
لندن میں مئی 2013ء میں ایسے ہی ایک واقعہ میں دو برطانوی آتنک وادیوں نے ایک فوجی پر چاقو سے حملہ کر اس کی جان لے لی تھی جبکہ جولائی2005ء میں لندن کے ایک میٹرو اسٹیشن پر ہوئے حملے میں 22 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ پچھلے کچھ عرصے پورا یوروپ آئی ایس کے نشانے پرہے۔ کبھی بروسیلز تو کبھی فرانس تو کبھی برطانیہ تو کبھی جرمنی۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ برطانیہ میں ہورہے آتنکی حملے برطانیہ میں پیدا ہوئے شہری ہی کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

جتنابڑاجرائم پیشہ اتنی بڑی اس کی پہنچ

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس جے۔ ایس۔ کھیر کے ایک تبصرے نے ہمارے عدلیہ سسٹم کی بدنصیبی اجاگر کردی ہے۔ جسٹس کھیر نے خود کہا ہے کہ ہمارا دیش بھی عجب ہے جہاں جرائم پیشہ شخص جتنابڑا ہوتا ہے اس کی پہنچ بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔ جسٹس کھیر نے بدفعلی کے متاثرین اور تیزاب حملہ کے شکار یا اپنے گھر کے ایک واحد روزی روٹی کمانے والے شخص کو گنوانے والوں کے حالات پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا جرائم پیشہ افراد کے آخری قدم تک انصاف کے لئے پہنچ ہوتی ہے لیکن متاثرین کو یہ سہولت نہیں ملتی۔ ادارے کے سرپرست کے طور پر میری اپیل ہے کہ اس برس کو متاثرین کیلئے کام کا برس بنایا جائے۔ اس کے لئے معاون قانونی ورکروں کو بھی نچلی عدالت میں بھیج کر متاثروں کو ان کے حقوق کے بارے میں واقفیت کرائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آتنکی معاملوں کے قصورواروں کے لئے قانون کے تحت ہر ضروری قانونی مدد دستیاب ہے یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی ہر متبادل کا استعمال کرنے کے بعد ہی انہیں قانونی مدد ملتی ہے۔ حقیقت میں چیف جسٹس 1993ء بم دھماکوں کے قصوروار یعقوب میمن کا ذکر کررہے تھے حالانکہ انہوں نے کسی خاص معاملے کا ذکر تو نہیں کیا لیکن ان کا اشارہ صاف تھا۔ جسٹس کھیر نے کہا کہ ہمارا دیش بھی عجب ہے جرائم پیشہ جتنا بڑا ہو ،بے چینی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں قصوروار جس کی نظرثانی عرضی بھی خارج ہوگئی ،کے باوجود اس کے سپریم کورٹ انصاف کی اس حدتک گیا جہاں تک پہنچا جاسکتا تھا۔ بتادیں چیف جسٹس کا اشارہ ممبئی دھماکہ کے قصوروار یعقوب میمن کی طرف تھا جس معاملے میں رات کو آخری سماعت ہوئی کیونکہ اگلی صبح اسے پھانسی ہونی تھی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ کسی متاثر کو قانونی حق کیلئے اس کے پاس جانے کی بات نہیں کرتا۔ عام طور پر ہوتا یہی ہے کہ سبھی ملزمان کوئی وکیل دیاجاتا ہے۔ گرفتاری کے بعد سے ہی اس کے پاس قانونی مدد پہنچتی ہے۔ 
بدفعلی کا شکار متاثرہ کے بارے میں بھی چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ انہیں برسوں سے اس بات کا تعجب ہے کہ متاثرہ کا کیا ہوتا ہو؟ اس فیملی کا کیا ہوتا ہوگا جسے دیکھنے والا کوئی نہیں رہا؟ ہم کیوں نہیں ایسے متاثر تک پہنچ سکتے ہیں؟ جسٹس کھیر نے کہا کہ متاثروں کے لئے قومی سطح اور ریاستی سطح پر فنڈ تیار کرنے کیلئے پارلیمنٹ نے سی آر پی سی کی دفعہ 357-A شروع کی ہے۔ متاثروں کو معاوضے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاملے میں خاص کر جرائم کے معاملے میں نمائندگی ملنی چاہئے۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2017

ایودھیا سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ عقیدت کا ہے

یہ صحیح ہے کہ رام مندر۔ بابری مسجدتنازعہ پر کئی بار سمجھوتہ کی کوشش ہوئیں ہیں لیکن وہ سبھی ناکام رہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برسوں سے چلے آرہے اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش چھوڑدی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس حساس ترین اور عقیدت سے وابستہ اشو پر فریقوں سے بات چیت کرکے مسئلے کا حل اتفاق رائے سے نکالنے کو کہا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو عدالت کوئی حل نکالنے کیلئے ثالثی کو بھی تیار ہے۔ یہ ریمارکس منگلوار کو چیف جسٹس جے ۔ ایس ۔کھیر ، جسٹس ڈی۔ وائی چندرچور اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی رام جنم بھومی تنازعہ معاملہ کی جلد سماعت کرنے کی مانگ پر دئے ہیں۔سوامی نے کورٹ سے کہا کہ معاملہ چھ برسوں سے التوا میں پڑا ہے اس مسئلے پر روزانہ سماعت کر جلد نپٹارہ کرناچاہئے۔ چیف جسٹس کھیر نے سوامی سے کہا کہ اتفاق رائے سے کسی حل پر پہنچنے کے لئے آپ نئے سرے سے کوشش کرسکتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو آپ کو اس تنازعے کو ختم کرنے کے لئے کوئی ثالث بھی چننا چاہئے۔ اگر فریق چاہیں تو میں دونوں فریقین کے ذریعے چنے گئے ثالثوں کے ساتھ بیٹھوں تو میں اس کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اس مقصد کیلئے میرے ساتھی ججوں کی خدمات بھی لی جاسکتی ہیں۔ عزت مآب عدالت نے 31 مارچ کو اگلی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب سپریم کورٹ نے معاملہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے عدالتی کارروائی کی حد کو سمجھا ہے۔ اس سے پہلے 1994ء میں مرکز میں نرسمہا راؤ سرکار نے آئین کے سیکشن 143(A) کے تحت سپریم کورٹ کی رائے مانگی تھی اس پر پانچ ججوں کی بنچ نے سرکار سے پوچھا تھا کیا اس کی رائے کو حکم مان کر لاگو کیا جائے گا؟ مرکز کا کہناتھا کہ ایسی صورت میں وہ اپنی رائے نہیں دے گی کیونکہ معاملہ کافی حساس ترین ہے اس لئے یہ مانا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے منگلوار کو جو کہا وہ ایک طرح سے اس کی پہلی کی گئی بات کا ہی توسیع شدہ حصہ ہے۔فرق اتنا آیا ہے کہ اس درمیان اس مسئلے پر ہائی کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور اس فیصلے کو چنوتی دینے والی بہت ساری عرضیاں سپریم کورٹ میں پہنچ چکی ہیں ساتھ ہی یہ دباؤ بھی ہے کہ فیصلہ جلد ہونا چاہئے۔ دیش کی آزادی کے دو تین سال بعد سے چلے آرہے اس تنازعہ کو سلجھانے کا اس سے بہتر متبادل نہیں ہوسکتا لیکن جیسا کہ پہلے ہوتا آیا ہے سپریم کورٹ کی یہ رائے آنے کے ساتھ ہی اس مسئلے پر سیاست شروع ہوگئی ہے۔ سرکار کے ساتھ راشٹریہ مسلم منچ نے عدالت کی صلاح کا خیر مقدم کیا ہے لیکن بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مثبت رویہ نہیں رہا۔ یہ کوئی ظاہرانہ نہیں ہے بلکہ ایک غیر معمولی بات ہے کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کا کوئی حل نہ ہو۔ آخر دنیا کے بڑے بڑے مسئلے یہاں تک کہ برسوں سے لڑی جا رہی جنگوں کا بھی مسئلہ میز پر بیٹھنے سے نکلتا ہے لیکن اب دقت یہ ہے کہ اس مسئلے سے پوری تاریخ جوڑ دی گئی ہے۔ تنازعہ کی تاریخ اور کشیدگی اور سیاست ، دوکانداری کی تاریخ جڑ گئی ہے۔ یہ لڑائی جو کبھی مقامی ہوسکتی تھی جذبات کے کھیل نے اسے قومی اشو بنا دیا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کے سیاسی مفادات اب اس مسئلے سے جڑ گئے ہیں۔ ان کے لئے اس مسئلے کے ختم ہوجانے کا مطلب ہوگا کہ ان کی دوکانداری و سیاست ختم ہوجائے گی۔عدالت کے باہر بات چیت کے ذریعے مسئلہ کے حل کی بات تبھی آگے بڑھ پاتی ہے جب دونوں فریقوں میں اتفاق رائے قائم ہوجائے۔ 
بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے وکیل ظفریاب جیلانی کا بیان تو یہی بتاتا ہے کہ مسئلہ آسان نہیں ہے۔ 60 سال کی قانون لڑائی کے بعد یکم اکتوبر 2010ء کو الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ متنازعہ2.77 ایکڑ زمین کا ایک تہائی حصہ مسجد بنانے کے لئے وقف بورڈ کو دے دیا جائے حالانکہ اس فیصلے پر ہندوتووادی تنظیموں کے دعوے کومضبوط کرنے والا مانا گیا لیکن کوئی بھی فریق اس فیصلے سے مطمئن نہیں تھا۔ اس کے بعدسے مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جہاں فیصلہ کب آئے گا کون بتا سکتا ہے اس لئے بات چیت سے حل نکالنے کی چیف جسٹس کی تجویز کی اہمیت ظاہر ہے لیکن جہاں کوئی بھی فریق ذرا بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہو وہاں بات چیت کی پہل کرنا بھی ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ایودھیا تنازعہ کو آپسی اتفاق رائے سے حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش شروع ہو پائے گی یا نہیں لیکن یہ خیال رہے کہ ایسی کوئی کوشش تبھی کامیاب ہوسکتی ہے جب بابری مسجد کے پیروکار رام جنم بھومی پر اپنا دعوی چھوڑنے کو تیار ہوں گے۔ جب تاریخی و آثار قدیمہ کے ثبوت متنازعہ جگہ میں مندر ہونے کی گواہی دے رہے ہیں اس کی کچھ حد تک تصدیق الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں بھی ہوچکی ہے لیکن وشو ہندو پریشد اور نرموہی اکھاڑے سے ایسی کوئی توقع کا مطلب نہیں کہ وہ بھائی چارگی کے نام پر مندر کے دعوے سے پیچھے ہٹ جائیں۔ ایسی توقع کی حیثیت اس لئے بھی نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ صدیوں پرانا ہے اور زمانے سے مسجد کے حمایتی بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ رام کا جنم ایودھیا میں ہوا تھا حالانکہ بابر یا پھر اس کے سیناپتی کا ایودھیا سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا پھر بھی اس قدیم نگری میں مسجد کی تعمیر ہوسکتی ہے یہ ٹھیک ہے ایودھیا تنازعہ کا حل نکالنے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں، لیکن اسی بنیاد پر ایک اور کوشش سے پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی تجویز کو ایک نئے موقعہ کے طور پر لیا جانا چاہئے۔ یہ موقعہ توقع کے حساب سے نتیجہ دے سکتا ہے۔ کیونکہ ایودھیا مسئلہ اب سیاست کا اشو نہ رہ کر عقیدت کا اشو بن گیا ہے ۔ اگر بھگوان رام کا مندر ایودھیا میں نہیں بنے گا تو کہاں بنے گا؟
(انل نریندر)

23 مارچ 2017

مودی سے خوفزہ مسلمان،صبر و امید رکھیں

فائر بینڈ ہندوتو لیڈر کی ساکھ رکھنے والے یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش کی کمان سنبھالتے ہی ایکشن میں آگئے ہیں۔ ان کے وزیر اعلی بننے سے جہاں عام طور پر خوشی اور امید کا ماحول ہے وہیں مسلم فرقے میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ یوگی کی ساکھ سے یہ طبقہ خوفزدہ ہے۔ یوگی کے عہدہ سنبھالتے ہی کچھ مسلم کٹر پسند لیڈروں نے انہیں اور ڈرانا شرو ع کردیا ہے جبکہ ایسا کرنے کی فی الحال ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ بیشک یوگی کی ساکھ ایک فائر بینڈ ہندوتو وادی کی ہے لیکن حلف لینے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے سب کو ساتھ لیکر چلنے اور بغیرامتیاز کے کام کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اس پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلمانوں کی تشویش دور کرنے کیلئے کئی مسلم دانشور بھی آگے آئے ہیں اور انہوں نے مثبت نظریئے کے ساتھ آگے بڑھ کر نئی حکومت کا خیر مقدم کرنے کی اپیل کی ہے اور امید جتائی ہے کہ بغیر امتیاز کے کام کاج ہوگا اور اکثریتی اور اقلیت میں کوئی فرق نہیں سمجھا جائے گا۔ ان کی رائے میں مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک مثبت نظریئے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ بھاجپا’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے اس لئے امید کی جاسکتی ہے یوگی کسی کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کریں گے۔ مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ کئی بار سیاست میں سخت الفاظ کا استعمال ہوتا ہے لیکن جب ذمہ داری ملتی ہے تو پھر سب کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے۔ مشہور شاعر اور اردو سے وابستہ انور جلال پوری کہتے ہیں جمہوریت میں جنتا جو فیصلہ کرتی ہے اسے تسلیم کرنا چاہئے۔ کسی کے بارے میں اس کا کام دیکھے بغیر رائے قائم کرلینا غلط ہے۔ چناؤ کے وقت زبان الگ ہوتی ہے جیت کے بعد الگ۔ جب ذمہ داری ملتی ہے تو توازن بنا کرچلنا پڑتا ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ مسلمان مایوس ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک آئین سے چلتا ہے امید کیجئے کہ سب اچھا ہوگا۔ کرامت حسین پی جی کالج کے سابق پرنسپل اور مصنف صبا انور کہتی ہیں کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور جنتا کا مینڈیٹ سر آنکھوں پر ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ یوپی کو بدلنے سے پہلے یوگی آدتیہ ناتھ خود کو بدلیں گے۔ ابھی تک یوگی بھلے ہی ایک ہندو وادی لیڈر رہے ہوں لیکن اب وہ یوپی کے وزیر اعلی ہیں۔ ریاست کے ہر طبقے کی ذمہ داری اب ان کے کندھوں پر ہے۔ اس میں ہندو مسلمان کو ہم الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے یقین ہے یوگی بھی ایسا ہی کریں گے۔ شیعہ کالج کے سینئر لیکچرر طالب زیدی کہتے ہیں کہ یوپی کی جنتا نے تبدیلی کے نام پر بھاجپا کو اقتدار سونپا ہے۔ باقاعدہ طور سے یوگی ایک کٹر وادی ہندو لیڈر ہیں مگر جو بھی اپنے مذہب کے تئیں کٹر ہوتا ہے وہ دوسرے مذہب کی بے حرمتی نہیں کرتا کیونکہ مذہب انسانیت کے خلاف بات نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو بھاجپا یا یوگی کے تئیں اپنے نظریئے سے اوپر اٹھ کر مثبت آئیڈیالوجی کے ساتھ بڑھنا چاہئے۔ مہنت آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلی بننے پر اسلامی درسگاہ دارالعلوم سمیت دیو بند کے علماؤں نے کہا ہے کہ وزیر اعلی بنے کے بعد مہنت کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے سب کو ساتھ لیکر چلنے کا حلف لیا ہے اس لئے وہ اس کی عزت رکھیں۔ بتادیں مہنت آدتیہ ناتھ کا ٹریک ریکارڈ بھی اس معاملے میں بہت حوصلہ افزاء ہے۔ ان کا سب سے بھروسے مند سیوک ایک ہندوستانی بے سہارا مسلمان ہے جو بچپن سے ہی مہنت کے ساتھ رہا ہے۔ مہنت جی نے اسے اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ گورکھ ناتھ مندر کو عام طور پر لوگ صرف ہندوتو کا مرکز مانتے ہیں لیکن مندر کمپلیکس فرقہ وارانہ بھائی چارے کا مرکز بھی ہے۔ کمپلیکس میں کئی مسلم کنبے پیڑھیوں سے رہتے ہیں۔ گورکھ ناتھ مندر کا سب سے پرانا ملازم دوارکا تیواری ہے۔ گورکھ پیٹ کو اصلاح پسند روایت کا حصہ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو لوگ گورکھ پیٹ کو اپنے ڈھنگ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں سماجی خدمت کے تئیں اشتراک کو دیکھنا ضروری ہے۔ ہم بس اتنا کہتے ہیں مسلمان بھائیوں مہنت آدتیہ ناتھ کو وقت دیں ، ابھی سے کوئی رائے قائم نہ کریں۔ یوگی جی کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مذہب کے نام پر، ذات کے نام پر اور فرقے کے نام پر اترپردیش میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوگا۔ سبھی کو یکساں مواقع ملیں گے۔
(انل نریندر)

پہلی بار مسلم خواتین نے حقوق کی آواز اٹھائی

تین طلاق کے اشو پر یہ خوشی کی بات ہے کہ مرکزی سرکار کی مہم رنگ لانے لگی ہے۔ اب تو مرکزی سرکار کو کھل کر مسلم خواتین کی حمایت ملنے لگی ہے۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں اپنے چناؤ مینوفیسٹو میں شامل کر جہاں تین طلاق کے اشو کو سامنے رکھا وہیں اب آر ایس ایس سے جڑے ہوئے مسلم راشٹریہ منچ نے اس معاملے پر بڑی تعداد میں مسلم خواتین کی حمایت حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے۔ سنیچر کو دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں مسلم ویلفیئر منچ کے ذریعے منعقدہ مسلم خواتین کانفرنس میں پہلی بار سینکڑوں کی تعداد میں مسلم عورتیں پردے سے باہر نکلیں اور تین طلاق کے خلاف اپنی آوازیں بلند کیں۔ مسلم عورتوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے برابری کے حق کے ساتھ تعلیم اور اقتصادی انحصاریت پر زوردیا۔ کانفرنس پوری طرح سے قومیت کے رنگ میں رنگی نظر آئی۔ بھارت ماتا کی جے کے نعرے گونجے، وندے ماترم کا گائن ہوا۔ مسلم راشٹریہ منچ مہلا ونگ کی صدر شہناز حسین نے کہا کہ اترپردیش میں جس طرح سے مسلم بہنوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت کی ہے اس سے دیش کی بہت سے مسلم بہنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارے سماج میں عورتیں تین طلاق کو لیکر ڈری سہمی رہتی ہیں۔ پتہ نہیں کہ کب شوہر طلاق طلاق کہہ کر انہیں اپنی زندگی سے نکال دے۔ اب مرکز میں ایک ایسی حکومت ہے جس نے مسلم خواتین کی بے رحمانہ حالت پر توجہ دی ہے اس سے ان کا حوصلہ بڑھا ہے۔ کانفرنس میں سپریم کورٹ کی ایڈیشنل سالیسٹرجنرل پنکی آنند سے عورتوں نے خاص طور پر قانون پر جانکاری لی۔ پنکی آنند نے بتایا بھارت کے آئین میں مرد اور عورتوں کو برابر کا درجہ حاصل ہے ، لیکن مسلم خواتین کو اس درجے سے محروم رکھا گیا ہے۔ مسلم ویلفیئر منچ کے کنوینر یاسر گیلانی نے کہا کہ مسلم خواتین تین طلاق کے حق میں نہیں ہیں اور اس اشو پر وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔ وہ ہر صورت میں ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ سپریم کورٹ اور ضلع کورٹ میں تین طلاق کے اشو پر قانونی لڑائی لڑنے والی سہارنپور کی عطیہ صابری نے دعوی کیا کہ اسمبلی چناؤ میں انہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا ۔ اب پی ایم مودی تین طلاق کے اشو پر اپنا وعدہ نبھائیں۔ عطیہ کا کہنا ہے بیٹا پیدا نہ ہونے پر ان کے شوہرنے نہ صرف مجھے مارا پیٹا بلکہ بدچلن بھی ٹھہرادیا۔ میرے ماں کے گھر لوٹنے پر شوہر واجد نے ایک کاغذ پر تین طلاق لکھ کر بھیج دیا۔ دارالعلوم دیوبند نے بغیر ان کی رائے جانے تین طلاق پر میرے شوہر کے رخ کی حمایت کردی اور اسے صحیح ٹھہرایا۔ اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...