Translater

30 اکتوبر 2013

کہیں گاندھی میدان کی یہ ریلی مودی کو دہلی کے تخت تک نہ پہنچا دے؟

ہم پٹنہ کی عوام کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ دیش کو دہلا دینے والی دہشت گردوں کی اب تک کی سازشوں میں سے ایک کو نہ صرف انہوں نے ناکام کیا بلکہ ہمت سے اس کا مقابلہ بھی کیا۔ بہار کی عوام نے یہ ثابت کردکھایا کہ مٹھی بھر دہشت گرد کبھی بھی اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ پٹنہ کے گاندھی میدان میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں چاروں طرف بم پھٹتے رہے، لوگ زخمی ہوکر گرتے رہے، لیکن نہ تو کوی بھگدڑ مچی اور نہ ہی کوئی اپنی جگہ سے ہلا۔ بموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں لوگ گاندھی میدان پہنچتے رہے۔ اسٹیج پر موجود بھاجپا لیڈر شپ کی بھی تعریف کرنی ہوگی کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بم پھٹ رہے ہیں انہوں نے لاکھوں لوگوں کی بھیڑ کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ داد تو نریندر مودی کو بھی دینی پڑے گی جو اتنے پریشان کن حالات کے باوجود نڈر ہوکر ایک گھنٹے تک بولتے رہے۔ اس واردات سے نتیش کمار بری طرح سے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے کوئی الرٹ نہیں ملا۔ اگر ہم ان کی بات مان بھی لیں تو بھی وہ اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ آخر انہوں نے اور ان کی انتظامیہ نے اتنی بڑی ریلی سے بچنے کیلئے کیا تیاری کی تھی؟ پہلا دھماکہ صبح میں ہوا جب آپ تیار بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ بم لیکر میدان کے اندر آتنک وادی اتنی آسانی سے کیسے گھس آئے؟ کیسے انہوں نے میدان کے اندر مختلف مقامات پر بم لگائے؟ بم بھلے ہی کم طاقت کے رہے ہوں لیکن ان میں ٹائمر لگا ہوا تھا۔ ایک کے بعد ایک دھماکوں سے دہشت کی لہر پھیل جاتی اور بھگدڑ بھی ہوتی۔ لاکھوں لوگوں کی قسمت اچھی تھی کے ایسا نہیں ہوا، ہوتا تو اس کا نتیجہ کتنا تباہ کن ہوتا، یہ سوچ کر بھی دل گھبراجاتا ہے۔ نتیش کو نریندر مودی کی ریلی پر اس لئے بھی خاص توجہ دینی چاہئے تھی کیونکہ اس میں کسی بھی طرح کی گڑ بڑی ہونے پر سیدھا الزام ان پر لگتا کے انہوں نے جان بوجھ کر حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے۔ کہیں ایسا تو نہیں اقلیتوں کے ووٹ کے چکر میں نتیش نے اس ریلی پر اتنی توجہ نہیں دی جتنا دینا ضروری تھا؟ حساسیت کی حد یہ تھی کہ ایمرجنسی حالات میں لوگوں کو باہر نکالنے کا کوئی انتظام بھی انتظامیہ کے پاس نہیں تھا۔ ارون جیٹلی نے اپنے بیان میں یٰسین بھٹکل کی گرفتاری کا ذکر کیا۔اس کو جب رسول میں گرفتار کیا گیا تھا تو نتیش کمار نے نہ تو گرفتاری دکھانے کی حامی بھری اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی کیس درج کرنے کو تیار ہوا۔ یہ صرف اس لئے کہ اقلیتی ووٹ ناراض نہ ہوجائے۔دراصل آئی ایس آئی کی ٹیم نے جاکر بھٹکل کو حراست میں لیا۔ اس درمیان اس کے کچھ اور ساتھی بھی بھاگ نکلے۔ نتیش کمار کی اس خوش آمدی کی پالیسی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ بہار اب آتنکیوں کا گڑھ بنتا جارہا ہے۔7 جولائی کو بودھ گیا میں اسی طرح کے دھماکے کئے گئے تھے ابھی تک اسکا کوئی سراغ تلاش کرنے میں بہار پولیس ناکام ہے۔ خفیہ ذرائع کے مطابق بہار اور جھارکھنڈ میں لمبے عرصے سے سرگرم انڈین مجاہدین جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر ہے لیکن بہار پولیس انتظامیہ اپنے نکمے پن کے چلتے چار مہینے کے اندر مسلسل دوسری بڑی واردات ریلی میں دھماکوں کو روکنے میں ناکام رہی۔ یہ ہی نہیں بہار پولیس کے کام کرنے کے طور طریقے پر بھی آئی ایس آئی سوال اٹھائے ہیں۔ خاص طور پر میدان میں ملے غیر مستعمل بموں کو ناکارہ کرنے کے طریقے پراس نے اعتراض بھی اٹھایا ہے۔ کیونکہ ان بموں سے کئی سراغ ملتے لیکن پولیس نے انہیں بوری میں بھر کر ناکارہ کرنا بہتر سمجھا۔ سچائی تو یہ ہے کہ18 فیصدی اقلیتی ووٹ بینک کے چکر میں نتیش بوکھلا گئے ہیں اور ان کی سرکار و انتظامیہ پرپکڑ ڈھیلی پڑتی جارہی ہے۔ اسی ووٹ بینک کے چکر میں نتیش نے بھاجپا سے گٹھ جوڑ ختم کیا اور اکیلے اپنے دم خم پر سرکار چلانے کی کوشش کی۔ جب سے انہوں نے نریندر مودی کو لیکر یہ اتحاد توڑا تبھی سے ان کی مقبولیت کا گراف گھٹ رہا ہے۔ رہی بات نریندر مودی کی، وہ تو میں نتیش جی کو وہ پرانا قصہ دوہرانا چاہتا ہوں کے لالو جی نے اسی ووٹ بینک کے چکر میں اڈوانی کی رتھ یاترا روکی تھی اور انہیں گرفتار کرلیاتھا اوردہلی کے بھاجپاکوتخت تک پہنچانے میں یہ ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ کہیں ایتوار کی گاندھی میدان کی یہ مودی ریلی انہیں گدی تک نہ پہنچا دے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو بلا شبہ اس میں شری نتیش کمار کاقابل قدر اشتراک ہوگا۔
(انل نریندر)

نیراراڈیا ٹیپ میں سنسنی خیز انکشاف اور پیشرفت!

عزت مآب سپریم کورٹ نے یہ ثابت کردیا ہے قانون سب کے لئے برابر ہے اور ملزم کا عہدہ، تعلق، پیسہ وغیرہ کسی کی وہ پرواہ نہیں کرتا۔ سرخیوں میں چھائے نیرا راڈیا ٹیپ کودبانے کی کتنی کوششیں ہوئیں۔ مشہور صنعتکار رتن ٹاٹا نے تو باقاعدہ یہ عرضی دائر کی کے اس کیس کی سماعت میڈیا کور نہ کرپائے لیکن سپریم کورٹ نے اسے مسترد کردیا۔ عدالت نے پچھلی تاریخ یعنی 17 اکتوبر کو کہا کہ صنعتی گھرانوں کے لئے رابطے کاکام کرنے والی نیرا راڈیا کی افسروں، صنعتکاروں، لیڈروں کے ساتھ ریکارڈ کی گئی بات چیت میں پہلی نظر میں گہری سازش کا پتہ چلتا ہے۔ عدالت نے اس کے ساتھ سی بی آئی کو 6 اشو کی جانچ کے احکامات دئے جو ذاتی مفاد کے لئے کرپٹ طریقے اپنانے سے متعلق ہے۔ جی ایس سنگھوی کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے کہا کہ پہلی نظر میں اس میں سرکاری حکام اور پرائیویٹ صنعتکاروں کی ملی بھگت سے گہری سازش دکھائی پڑتی ہے۔ سی بی آئی نے نیرا راڈیا کے ٹیلیفون ٹیپ سے ملی جانکاری کی بنیاد پر 8 نئی ابتدائی جانچ(پائی) معاملے درج کئے گئے۔ ایک (پائی) جارکھنڈ کے سنگھ بھوم ضلع کے انکولا میں لوہے و ابرق کان ٹاٹا سٹیل کو الاٹمنٹ کرنے میں مبینہ بے ضابطگیوں پر غور کرنے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ کرپشن کے ایک معاملے میں ضمانت پر چل رہے مدھو کوڑا اور جھارکھنڈ کے نامعلوم افسران کو اس میں ملزم کے طور پر نامزد کیاگیا ہے۔ دوسری پائی آرآئی ایل (ریلائنس) کے اس وقت کے ہائیڈرو کاربن ڈائریکٹر جنرل وی کے سبل کے ذریعے مبینہ طور پر حمایت لینے اور مسلسل ناجائز فائدہ پہنچانے کو لیکر سبل اور آر آئی ایل اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کیاگیا ہے۔ایک پائی جہاز رانی سیکٹر میں دلالوں و بچولیوں کے کام کرنے و رشوت خوری کے سلسلے میں راڈیا، ایئرانڈیا کی سابق افسر رمیش نامبیار اور دیپک تلوار و وزارت کے حکام کے خلاف بھی معاملہ شروع کیاگیا ہے۔ ایک بازار میں مبینہ طور پر سانٹھ گانٹھ اور یونیٹیک کے شیئروں میں گراوٹ کو لیکر راڈیا کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے جانچ سابق ٹیلی کام سکریٹری پردیپ بیجل اور نیرا راڈیہ کے درمیان پائپ لائن ایڈوائزری کے نئے ممبر کی تقرری کے بارے میں بات چیت کو لیکر ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم اور سی بی آئی جانچ سے بوکھلائے ٹاٹا گروپ کے سابق چیئرمین رتن ٹاٹا نے ایک بار پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی کی سربراہی والی بنچ کے سامنے رتن ٹاٹا کی طرف سے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ بڑے لیڈروں ،افسروں اور کاروباریوں اور صحافیوں کے ساتھ نیرا راڈیا کی ٹیپ کی گئی بات چیت صنعتی وفاداری کے سبب ہی میڈیا میں لیک ہوگئی تھی۔ سالوے نے یہ سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے آگے کہا کہ ٹاٹا ٹیلی کمیونی کیشن کوبھی ٹیلیفون کی بات چیت سننے کے لئے ہر سال 10 سے15 ہزار روپے ملتے ہیں۔ انہوں نے ٹیپ کی گئی بات چیت لیک کرنے والوں کا پتہ نہ لگنے پر مرکزی سرکار کی نیت پر سوال اٹھایا۔دیش امید کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاستدانوں، افسروں، صحافیوں ،افسران کے بیچ اس ملی بھگت کی پوری سچائی سامنے آئے گی۔ اگر سی بی آئی کو آزادانہ طور سے جانچ کرنے دی جائے گی۔ غنیمت ہے کہ پورا معاملہ سپریم کورٹ دیکھ رہا ہے اس لئے اس میں زیادہ گڑ بڑی کی گنجائش نہیں ہے۔
(انل نریندر)

29 اکتوبر 2013

ہنکار ریلی سے پہلے بم دھماکوں کا نشانہ تھی مچھلی نمبر5

نتیش کمارکے گڑھ بہار میں بی جے پی کے پی ایم اِن ویٹنگ کی ’ہنکار‘ریلی میں دھماکہ ہونے کا تو امکان سبھی ظاہر کررہے تھے۔ آخر نتیش نے انہی نریندر مودی کولیکر بی جے پی سے تال میل ختم کیاتھا۔ دھماکہ تو ہوا لیکن ایک کی جگہ کئی دھماکے ہوئے۔ مودی کی ریلی سے پہلے دھماکے ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ایتوار کو سلسلہ وار ان دھماکوں سے پٹنہ دہل گیا۔ صبح9 بجے سے شام پونے چھ بجے تک کل 9 دھماکے ہوئے ان میں6 افراد کی موت ہوگئی اور100 افراد زخمی ہوگئے۔ ریلی میں شامل ہونے آئی بھیڑ دھماکوں کے باوجود ریلی کی جگہ پرڈٹی رہی۔ حالانکہ بم پھٹنے سے تھوڑا افراتفری کا ماحول بننا فطری تھا۔ بم دھماکوں کی خبرآتے ہی اس پر سیاست شروع ہونے میں دیر نہیں لگی۔ کچھ نے کہا یہ کام آر ایس ایس کا ہوگا جو ووٹوں کو پولرائزیشن کرنے کے لئے دھماکے کروارہے ہیں۔ کچھ نے کہا یہ بہار کی اندرونی کھینچ تان کا نتیجہ ہے لیکن پولیس کے بڑے ڈرامائی ڈھنگ سے دھماکوں کی ایک کڑی ہاتھ آگئی۔ یہ کہ ایتوار کی صبح قریب ساڑھے نو بجے پٹنہ جنگشن کے ایک سلب شوچالیہ میں دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے ساتھ ہی ایک شخص اس سے نکل کر بھاگا۔ دھماکے کی آواز سن کر آس پاس کھڑے پولیس والوں نے اسے دبوچ لیا۔ تب یہ کسی کو پتہ نہیں تھا کے شوچالیہ میں اندر کیا ہوا۔ اندرج انے پر پتہ چلا کہ کنڈی لگے دروازے والے شوچالیہ میں ایک شخص خون سے لت پت پڑا ہے۔ شبہ ہونے پر مشتبہ کو پولیس نے اپنی گرفت میں لیکر پوچھ تاچھ کی تو پتہ چلا وہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین سے تعلق رکھتا ہے۔ پکڑ میں آئے اس مشتبہ نوجوان نے پوچھ تاچھ میں انکشاف کیا کے رانچی سے لائے گئے بم میں بیٹری لگانے کے لئے شوچالیہ میں دولوگ گئے تھے اسی دوران ایک بم پھٹ گیا۔ دھماکے کے بعد اپنا بم شوچالیہ میں ہی پھینک کر وہ وہاں سے بھاگا اور پکڑا گیا۔ پٹنہ میں جتنے بم پھٹے وہ صبح ہی لگائے گئے تھے۔ بس سے اترنے کے بعد آتنکیوں کا گروپ الگ الگ بٹ گیا تھا۔ انہوں نے طے جگہ پر بم نصب کئے۔ ابتدائی جانچ کی بنیادپرکہا جاسکتا ہے پٹنہ کے سلسلہ وار دھماکوں کے پیچھے رانچی سے آئے انڈین مجاہدین کے دستے کا ہاتھ ہے۔ ریلی میں فدائی حملے کی تیاری تھی اور نشانے پر تھے مچھلی نمبر5 ۔ جی ہاں مچھلی نمبر5 اور کوئی نہیں بلکہ نریندر مودی ہیں۔ وہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اورا نڈین مجاہدین کے نشانے پر ہیں۔ خفیہ محکمہ شروعاتی طور پر پٹنہ میں ہوئے دھماکوں کو آتنک وادی حملہ مان رہا ہے۔ سبھی دھماکے اے آئی ڈی سے کئے گئے۔ یہ سیمی اور آئی ایم کی جگل بندی بھی ہوسکتی ہے۔ خفیہ محکموں کو سمستی پور کے باشندے تحسین اختر عرف مونو اور پاکستانی باشندہ وقار اسد کی تلاش ہے۔ تحسین یاسین بھٹکل کا بایاں ہاتھ ہے۔ اب یہ انڈین مجاہدین کا بڑا کمانڈر ہے ۔ جس طرح کے بموں کا ریلی میں استعمال ہوا ایسے بموں کا استعمال انڈین مجاہدین پچھلے پانچ برسوں سے کررہا ہے۔ کچھ دن پہلے بودھ گیا میں جو بم دھماکے ہوئے تھے وہ بھی بہت ہی کم طاقت کے تھے۔ اس میں بھی انڈین مجاہدین کا ہاتھ تھا۔ خفیہ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کا پلان تھا کے بم دھماکے کے بعد بھگدڑ مچے گی اور کئی لوگ مارے جائیں گے۔ دہشت گردوں نے کچھ بم ایسے لگائے تھے جنہیں بھگدڑ ہونے پردھماکہ کرنا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ ان بموں کو سکیورٹی ایجنسیوں نے ڈفیوز کردیا۔ لشکر نے مودی کا کورڈ نام مچھلی نمبر5 رکھا ہے۔ خفیہ ذرائع کے مطابق اس بات کا انکشاف عشرت جہاں مڈبھیڑ کے دوران لشکر کمانڈر مزمل کی امجد علی اور ذیشان جوہر کی بات چیت سے ہوا۔ خفیہ ذرائع کے مطابق یاسین بھٹکل کی گرفتاری کے بعد انڈین مجاہدین کے گرگے پریشان ہوگئے اور انڈین مجاہدین کے بائیں ہاتھ تحسین اختر عرف مونو وقار کی تلاش ہے۔ بودھ گیا، ممبئی اور حیدر آباد دھماکے میں بھی دونوں مطلوب ہیں۔ایس ایس پی منو مہاراج نے امتیاز کے پکڑے جانے کے بعد بتایا کے انڈین مجاہدین کے 8 ممبر بم کے ساتھ دو مرتبہ گاندھی میدان پہنچے تھے۔ پولیس وہاں پہنچ کر ایک بم کو ہی ناکارہ کر پائی۔ اس کے بعد اختر بم وہیں رکھ کر چلا گیا۔ یہ سب ٹائم بم تھے۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ بم دھماکے کے قصورواروں اور سازشیوں کو ہر حال میں بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا بھاجپا کی ریلی کو چنا جانا بہار کے ماحول کو بگاڑنے کی سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کوئی ہے جو ریاست میں گڑ بڑ کرانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا ہمارا سیاسی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن سبھی پارٹیوں کومتحد ہوکر ایسی طاقتوں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ بھاجپا نیتاؤں نے ریلی کے دوران لوگوں سے ایسے ہی اپیل کی، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس واردات کے پیچھے آتنکی سازش سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ابھی کچھ پکے طور پر کہنا مشکل ہے۔ ایک بار پھر ہماری خفیہ مشینری فیل ہوئی ہے اور آتنکی اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔
(انل نریندر)

آخر راہل گاندھی کے مشیرکون ہیں ، جو ان کی تقریر لکھوا رہے ہیں؟

مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی تقریر کون لکھ رہا ہے اور کس کی فیڈ بیک پر شہزادے بول رہے ہیں؟ ایک کے بعد ایک ایسا متنازعہ بیان شہزادے دے رہے ہیں جس سے انہیں جواب دینا بھاری پڑ رہا ہے لیکن کانگریس پارٹی کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ راہل سرخیاں بٹورنے کی دلچسپی میں جگہ جگہ پر سنسنی خیز بیان دے رہے ہیں۔ پچھلے دنوں اندور کی ایک ریلی میں انکشاف کیا کہ مظفر نگر فسادات متاثرین سے پاکستان کی بدنام خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی رابطے میں ہے تاکہ نوجوانوں کو دہشت گردی کے لئے تیار کیا جاسکے۔ شہزادے کے اس تبصرے سے سیاسی حلقوں میں طوفان مچ گیا ہے۔کیونکہ راہل نے مظفر نگر متاثرین کے لئے سیدھے طور پر بھاجپا کے خلاف انگلی اٹھائی ہے۔ ایسے میں راہل کی متنازعہ زبان پر بھاجپا نے زور دار طریقے سے حملہ شروع کردیا ہے۔ راہل گاندھی کے دعوے پر بھاجپا نے جمعہ کو کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کو یہ جواب دینا چاہئے کہ خفیہ افسران کس حیثیت سے کانگریس ایم پی راہل گاندھی کو خفیہ جانکاریاں فراہم کررہے ہیں۔ وہ ایم پی یا ایک پارٹی کے عہدیدار کو جانکاری کیسے دستیاب کراسکتے ہیں؟ لیکن کانگریس کی مشکل کچھ مسلم لیڈروں کے بھڑک جانے سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اترپردیش کے سینئر کیبنٹ وزیر اعظم خاں نے مطالبہ کیا کہ اس بیان پر کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کو معافی مانگنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ راہل کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے۔ ایک طرف تو وہ بھاجپا کو مظفر نگر فسادات کے لئے قصوروار مانتے ہیں وہیں دوسری طرف ایک معاملے کوجوڑ کر مسلمانوں کی ایمانداری پر شبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا راہل کا بیان نفرت کا نیا باب کھولے گا۔ راہل معافی مانگیں نہیں تو سونیا گاندھی اس بیان کے لئے مسلمانوں سے معافی مانگیں۔ اعظم خاں نے تو الزام لگادیا ہے کہ راہل گاندھی ووٹ بینک کے لالچ میں اول جلول رائے زنی کرکے مسلمانوں کے لئے خطرہ بڑھا رہے ہیں۔ مسلم پرسنل لابورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق نے کہا اس طرح کی افواہ پھیلاکر راہل نے جانے انجانے میں سنگھ پریوار جیسی حرکت کردی ہے۔ اچھا یہ ہی رہے گا کہ بھارت سرکارراہل کے تبصرے پر اپنی صفائی پیش کرے اور بتائے کے ان کی باتوں میں کتنا دم ہے؟جمعیت العلماء ہند کے سینئر لیڈر محمود مدنی نے کہا کہ یہ آئی ایس آئی کا جملہ اچھا کرراہل سبھی مسلمانوں کو شبہات کے گھیرے میں کیوں کھڑا کرنا چاہتے ہیں؟ ویسے بھی تمام طاقتیں مسلمانوں کو شبہ کے نظر سے دیکھتی ہیں۔ راہل نے بھی آئی ایس آئی والوں پر بات اٹھا کر پورے مسلم سماج کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ کانگریس کی اندرونی حالت یہ بھی ہے کہ راہل کے بیان سے سبھی ہکے بکے ہیں۔ بہتسوں کا خیال ہے کے سزا پائے ممبران اسمبلی کو راحت دینے کے بجائے سامعین پرراہل کا اندور میں بیان بھی کانگریس کی مشکلیں بڑھائے گا۔آرڈیننس پہاڑ دینے کے لائق بیان سے کیبنٹ اور وزیر اعظم تک پر سوال کھڑے ہوئے تھے۔ اندور والا بیان سیاسی نقصان کا اشو ہے۔ دیش کے خفیہ سسٹم پر بھی انگلی کھڑا کرتا ہے۔ اگر سرکار یا پارٹی راہل کے بیان کو صحیح مانتی ہے یعنی وہ کہہ دیتی ہے کہ آئی ایس آئی کے ذریعے مسلم لڑکوں کے رابطے میں ہونے کی بات صحیح ہے تو یہ سرکاری خفیہ قانون کی کارروائی بھی لیک کرسکتی ہے۔ خبریں ہیں کہ انٹیلی جنس بیورو اور وزارت داخلہ کے افسروں نے ایسی کسی اطلاع سے انکار کیا ہے۔ واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو وزارت داخلہ یا انٹیلی جنس بیورو اسکی تصدیق نہیں کرسکتے۔ تصدیق کرنے پرپہلی مار اس افسر یا ملازم پر پڑے گی جس نے راہل گاندھی (ایک ایم پی) کو یہ خفیہ اطلاع دی ہے۔ دوسرے ایک بار پھر یہ بات اٹھے گی کے پردے کے پیچھے سے سرکار کو راہل گاندھی ہی چلا رہے ہیں۔ تیسرے اس طرح کی تصدیق کے بعد کوئی بھی اسے کورٹ لے جاسکتا ہے۔ سرکاری خفیہ ایکٹ کی باتیں بھی اٹھ سکتی ہیں۔ یہ سب سوچ سمجھ کر نریندر مودی نے دو دن پہلے جھانسی میں راہل کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ اب کانگریس کو اس کے چوطرفہ نقصان کی کاٹ نکالنے میں راتیں کالی کرنی پڑیں گی۔ یہ بھی مانگ اٹھ رہی ہے کہ تنازعے کو ختم کرنے کے لئے راہل گاندھی معافی مانگ لیں۔ اگر وہ ایسا کرتے بھی ہیں تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کے تنازعہ ختم ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

27 اکتوبر 2013

مسلم مذہبی پیشوا مولانا کلب صادق کی لائق تحسین پہل!

لوک سبھا چناؤ سے پہلے مسلم مذہبی پیشوا و آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق نے یہ کہہ کر سب کو چونکادیا ہے کہ نریندر مودی کا ماض�ئ گزشتہ کو بھلایا جا سکتا ہے۔ اس ہمت افزا بیان کے لئے ہم مولانا کلب صادق کی تعریف کرتے ہیں وہیں اس بیان سے تنازعہ ضرور کھڑا ہوگا کیونکہ آج تک کسی بھی مذہبی مسلم پیشوا نے اس طرح کے بیان دینے کی ہمت نہیں دکھائی۔مولانا صادق نے کہا کہ تمام اختلافات کے باوجود نریندر مودی سے بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ وہ خود کو بدلیں تو ہم بھی بدلنے کو تیار ہیں۔ آگے وہ کہتے ہیں دیش کے سامنے ہندو اور مسلمان کا اشو چھوٹا ہوتا ہے جبکہ چین اور پاکستان سے خطرہ بڑا اشو ہے۔ ایسے میں نریندر مودی بڑے سوالوں پر اپنا نظریہ سامنے رکھیں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ جمعرات کو یونیٹی کالج کے دفتر میں ایک ہندی اخبارسے خاص بات چیت میں انہوں نے کہا کہ مودی ہندو ۔مسلم کا سوال چھوڑیں۔ غریبی ، کرپشن ، فرقہ پرستی اور نا انصافی پر اپنا ایجنڈا اور پلان سامنے رکھیں ،اس پرہم غور کرنے کو تیار ہیں۔ ویسے یہ پہلا موقعہ نہیں جب مولانا صادق نے اپنی مسلم لائن کے خلاف بولنے کی ہمت دکھائی ہے۔ تین طلاق ،فیملی پلاننگ، پرسنل لاء ،بندے ماترم جیسے اشو پر جب تب ایسا بولتے رہے ہیں۔ جس پر مسلم سماج بھناتا رہا ہے اور سوچنے پر مجبور بھی ہوتا ہے۔ صادق نے کہا کہ تاریخ میں ایسی تمام مثالیں ہیں جن کا ماضی تو اچھا نہیں رہالیکن بعد میں انہوں نے خود کو سدھار لیا۔ چنگیزی نے پہلے تو اسلام کے پرخچے اڑادئے لیکن بعد میں سدھر گئے۔ کیا ان کے ماضی گذشتہ کو نظر انداز نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا جہاں تک مودی کی بات ہے صرف وعدوں اور بیانوں سے کام چلنے والا نہیں۔ مسلم لیڈر شپ پر سوال کھڑا کرتے ہوئے مولانا کلب صادق فرماتے ہیں کہ مسلم لیڈر شپ یا تو جاہل ہے یا بدعنوان۔ اسی سے مسلم برادری پچھڑ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم سماج میں شادی و طلاق کے معاملوں میں عورتوں کے ساتھ بہت ناانصافی ہورہی ہے۔ زیادہ تر مذہبی پیشوا اپنی ذمہ داروں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ بات چیت میں وہ خود کو مسلم لیڈر شپ پر نکتہ چینی کرنے سے بھی نہیں روک پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں شیعہ ہوں۔ شیعوں میں حضرت پیغمبر کے بعد حضرت علی کے پیغام کے معنی ہیں۔ حضرت علی ؑ نے کہا تھا کہ وہ ہر ایک سے دوستی کے لئے تیار ہیں لیکن جاہل اور بدعنوان شخص سے نہیں۔ افسوس ہے کہ آج کی زیادہ تر لیڈر شپ یا تو جاہل یا کرپٹ ہے۔ یہ پہلو مسلم برادری کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔لیڈر شپ صاف ستھرے ہاتھوں میں آئے تو قوم کی صورت کی بدل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے شادی و طلاق کے معاملوں میں کہا مسلم سماج میں عورتوں کے ساتھ بہت ناانصافی ہوئی ہے۔ شادی کو اتنا مہنگا کردیا گیا ہے کہ تمام مسلم بچیاں اب شادی سے محروم ہورہی ہیں۔ طلاق کوتو مردوں کے ہاتھوں میں ناانصافی کا آسان اور سستا اوزار دے دیاگیا ہے۔ مولانا کی باتوں پر مسلم بھائیوں کو غورکرنا چاہئے لیکن جو مسلم لیڈر جمے بیٹھے ہیں وہ مولانا پر اب طرح طرح کے الزامات لگا کر ان کی باتوں کو سنجیدگی سے سوچنے کے بجائے ان کو ہوا میں اڑانے کی کوشش میں لگ جائیں گے۔ مولانا کے نظریات کا خیرمقدم ہے۔
(انل نریندر)

غلط علاج کی وجہ سے ہوئی موت پر سب سے بڑا طبی معاوضہ!

سپریم کورٹ نے غلط علاج کی وجہ سے ایک خاتون کی موت پر کولکاتہ کے ایک معاملے میں ریکارڈ توڑنے والا میڈیکل جرمانہ عائد کرتے ہوئے کروڑوں روپے کا معاوضہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس کے ۔پرساد اور وی گوپال گوڑا کی ڈویژن بنچ نے طبی علاج میں لاپرواہی کے چلتے ڈاکٹر کنال ساہا کی اہلیہ انورادھا کی اے ایس آرآئی ہسپتال اور تین ڈاکٹروں کو سال1998ء میں طبی علاج میں لاپروائی کے معاملے میں 6.08 کروڑ روپے بطور معاوضہ دینے کافرمان سنایاہے۔یہ جرمانہ اب تک بھارت کی تاریخ میں سب سے بڑا معاوضہ ہے۔ معاملہ کچھ ایسے تھا مارچ1998ء میں پیشے سے سائیکلوجسٹ انورادھاساہا اپنے شوہر ڈاکٹرساہا کے ساتھ بھارت چھٹیاں منانے آئی تھیں۔ ڈاکٹر ساہا امریکہ کے اوہویو میں ایڈس ریسرچ رساں ہیں۔ 25 اپریل 1998ء کو کھال پر دانے ہونے کی شکایت پر ڈاکٹر مکھرجی سے رابطہ قائم کیا۔7 مئی 1998ء میں ڈاکٹرمکھرجی نے ڈیپومینڈرال انجکشن لگوانے کا مشورہ دے دیا۔ اس انجکشن کے لگتے ہی انورادھا کی طبیعت خراب ہونے لگی اور 11 مئی 1998ء کو انہیں اے ایم آر آئی ہسپتال میں بھرتی کرایاگیا۔ طبیعت بگڑنے پر انہیں ممبئی لے جایا گیا۔28 مئی کوممبئی کے برج کینیڈی ہسپتال میں انورادھا کی موت ہوگئی۔ موت کی وجہ غلط علاج تھا۔ ڈاکٹر کنال ساہا کو اب ہرجانے کے طور پرکل 11.41 کروڑ روپے ملیں گے۔ سپریم کورٹ نے کولکاتہ کے اس ہسپتال اور تین ڈاکٹروں کو لاپروائی کے لئے ذمہ دار مانا ہے۔ سبھی کو 8 ہفتے میں پیسہ دینے کوکہا گیا ہے۔ اس سے پہلے نیشنل کنزیومر ڈسپیوٹ ریڈرسل کمیشن نے 2011ء میں ساہا کے حق میں فیصلہ سنایاتھا اور ہرجانے کی رقم1.7 کروڑ روپے طے کی تھی۔ اب کورٹ نے اس رقم کو بڑھاتے ہوئے ہسپتال کو6 فیصدی شرح سود کے ساتھ چکانے کو کہا ہے۔ کس کو کتنی رقم چکانی ہے ۔ڈاکٹر بلرام پرساد کو 10 لاکھ روپے،ڈاکٹر سکو کمار مکھرجی کو10 لاکھ روپے، ڈاکٹر بیدناتھ ہلدر کو 5 لاکھ روپے باقی رقم اے ایم آئی آر ہسپتال کو چکانی پڑے گی۔ سپریم کورٹ نے نجی ہسپتالوں اور نرسنگ ہوم میں طبی لاپرواہی کے روزانہ بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ریاست اور مرکزی سرکاروں سے کہا ہے کہ ان کے لئے باقاعدہ قانون بنائے جائیں۔ عدالت نے کہا ڈاکٹروں کے برتاؤ پر قابو کرنے کے لئے ایم سی آئی ہے لیکن ہسپتالوں پر کنٹرول کے لئے کوئی قانون نہیں ہے۔ فیصلہ قلمبند کرتے ہوئے جسٹس گوپال گوڑا نے کہا کہ ہم یہ پہلے فیصلہ دے چکے ہیں کہ صحت کا حق آئین کی دفعہ21 کے تحت شہریوں کو بنیادی حق ہے ۔ایسے میں ہر سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال،پالی کلینک اور پرائیویٹ نرسنگ ہوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو اپنی پوری صلاحیت اور استعداد کے ساتھ عمدہ علاج کریں۔ اگر ہسپتال اور نرسنگ ہوم تک دیگر متعلقہ طبی ادارے بھاری بھرکم پیسہ لینے کے بعد بھی اچھی صحت اور بہتر زندگی جینے کی امید میں آئے مریضوں کے ساتھ یہ لاپروائی برتتے ہیں تو ان سے سختی سے نمٹا جائے۔عزت مآب عدالت نے کہا مریض چاہے کسی بھی اقتصادی اور سماجی حیثیت کا ہو اسے عزت کے ساتھ علاج کرانے کا حق حاصل ہے۔ یہ اس کا بنیادی حق ہی نہیں بلکہ اس کا انسانی حق بھی ہے۔ ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہیں عزت مآب جج صاحبان کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے اس مسئلے کی طرف نہ صرف توجہ دی ہے بلکہ اسکے دوررس نتائج بھی ملیں گے۔ ڈاکٹروں کی جوابدہی طے ہونی چاہئے۔ لاکھوں مریض ہربرس غلط علاج کے سبب پورے دیش میں مرتے ہیں اور ان کے بارے میں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اس فیصلے سے اتنا تو ہوگا کے ڈاکٹراب غلط انجکشن لگانے سے، ہسپتال غلط دوا دینے سے پہلے دس بار سوچیں گے توصحیح۔
(انل نریندر)

26 اکتوبر 2013

مہنگائی کرپشن بے روزگاری اہم نہیں اہم ہے تو جذبات!

ہمارے سیاستداں چناؤ کے موقعے پر سبھی طرح کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں یہ سبھی جانتے ہیں کانگریس پارٹی 2014ء میں اقتدار میں دوبارہ آنے کے لئے ایڑی چوٹے کے دم کے ساتھ سبھی طریقے اپنانے میں ماہر ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور زمرہ جوڑ دینا چاہئے وہ ہے جذباتیات۔ جذباتی باتیں کرکے بھولی بھالی عوام کوا پنی طرف کھینچنے کی کوشش بھی اکثر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے یووراج راہل گاندھی لگتا ہے اب اس جذباتی ٹرینڈ کا سہارا لینا چاہ رہے ہیں۔ شخصی طور سے راہل سے دیش کے نوجوانوں کو بہت امیدیں ہیں۔ وہ مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری و قانونی نظام بجلی ،پانی ،پیاز کے بڑھتے دام جیسے برننگ اشوز کو نظرانداز کرکے جذبات کا سہارا لینے پر اتر آئے ہیں کیونکہ کچھ معنوں میں اس طرح کا حملہ کاؤنٹر پروڈیکٹنگ بھی ہوسکتا ہے۔ کھیڑلی (الور) میں راہل نے بغیر نام لئے بھاجپا پر فرقہ پرستی کو فروغ دینے کا الزام لگایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ دیا کے اس پارٹی کی نفرت کی سیاست دیش کے تانے بانے کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اندیش جتایا کے ان کو دادی اور والد کی طرح مارا جاسکتا ہے۔ راہل مہاتما گاندھی اور چاچا سنجے گاندھی کا نام جوڑنا شاید بھول گئے۔ انہوں نے اپنی دادی اندرا گاندھی اور والد راجیو گاندھی کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود تشدد اور دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں اس لئے وہ ان سبھی بچوں اور ماتاؤں کے درد کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو فساد اور دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں۔ تشدد کا جذبہ غصے کی وجہ سے بڑھتا ہے اور اس طرح کا غصہ بھاجپا عام لوگوں کے دلوں میں بھر کر لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑوانا چاہتی ہے۔ گجرات،کشمیر، مظفر نگر میں دنگے بھڑکا دیں گے۔ اس کے پہلے شروع میں بھی انہوں نے اپنی تقریر میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کا قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کے والد اور دادی کے قتل کے بعد ان کے لئے بھی خطرہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا پنجاب کا ایک ممبر اسمبلی حال ہی میں ان کے دفتر میںآیا اور ان سے کہا اگر وہ 20 سال پہلے ملے ہوتے تو اس نے غصے میں کانگریس نائب صدر کا قتل کردیا ہوتا۔ راہل جی سے ہم سوال کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں بتائیں کے ان کی دادی اور والد یعنی اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل میں کس طرح ان لوگوں کا کہیں سے بھی رول جو مبینہ طور پر نفرت پھیلانے کی سیاست کرتے ہیں؟ یہ تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ راہل گاندھی کو بھاجپا فرقہ پرست نظر آتی ہے لیکن اس طرح کے بے تکے غلط الزامات لگانے سے وہ خود کو ہلکا ثابت کررہے ہیں۔ اندرا جی کو کس نے مارا اور کیوں مارا ،یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ اس طرح راجیو گاندھی کا قتل لبریشن ٹائیگرنے کیا۔آج اسی کی حمایتی ڈی ایم کے آپ کی حکومت کی اہم ساتھی ہے۔ راہل کبھی کبھی تو چونکانے والی باتیں بول جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے یہ سنسنی خیز دعوی کیا کہ مظفر نگر فسادات میں متاثرہ کنبوں کے نوجوانوں سے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے رابطہ قائم کرلیا ہے۔ راہل کو یہ انتہائی اہم خفیہ جانکاری کس نے دی؟ وہ یوپی اے سرکار کا تو حصہ ہے نہیں؟ ایک وقت تھا جب راہل گاندھی کی ریلیوں میں بھیڑ ہوا کرتی تھی اور لوگ انہیں سنجیدگی سے سنا کرتے تھے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ ہلکی باتیں کرنے لگے ہیں جن کا شاید ہی عوام پر کوئی اثر پڑے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...