Translater

22 فروری 2012

ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد کی چنوتی سے



Published On 22nd February 2012
انل نریندر

یہ دکھ کی بات ہے کہ دہشت گردی سے موثر ڈھنگ سے لڑنے کے لئے تیار کئے جارہے نیشنل کاؤنٹر ٹیریرزم سینٹر (این سی ٹی سی) پر سیاسی گرہن لگ گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سلامتی کی کیبنٹ کمیٹی (سی سی اے) نے اس سال11 جنوری کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے طاقتور قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایجنسی یکم مارچ2012ء کو وجود میں آجائے گی۔ یہ دہشت گردی کے خطروں کا پتہ لگانے کے علاوہ تلاشی آپریشن شبے کی بنیادپر لوگوں کو گرفتار کرسکے گی۔ اس کو یہ اختیارات غیر قانونی سرگرمی انسداد قانون کے تحت حاصل ہوں گے۔ دہشت گردی کی سازش کا پتہ لگانا، دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کا پتہ لگانا اس کا مقصد ہے۔ یہ سی بی آئی ، این آئی اے نیٹ گریٹ سمیت ساتوں سینٹرل مسلح فورسز سے اطلاعات حاصل کرسکے گی۔ اس کا سربراہ ڈائریکٹر کہہ لائے گا جو انٹیلی جنس بیورو ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مساوی عہدے کا ہوگا۔ این سی ٹی سی اطلاع اکٹھا کرنے کے لئے دوسری ایجنسی پر منحصر کرے گا۔ آدھے درجن سے زیادہ غیر کانگریسی وزرائے اعلی نے اس مرکز کے قیام پر اعتراض ظاہر کیا ہے اور اندیشہ جتایا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کھڑے کئے جارہے اس یونیفائڈ کمان کا کہیں قتل نہ ہوجائے۔ اس مجوزہ دہشت گردی انسداد مرکز کو ریاستوں کے معاملوں میں مداخلت اور آئین کی مریادا کی خلاف ورزی بتایا جارہا ہے اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ این سی ٹی سی نام سے بحث میں آئے اس قومی آتنک واد انسداد مرکز کے خلاف ٹھیک اس وقت آواز بلند ہورہی ہے جب اس کے باقاعدہ کام کرنے کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے۔ یکم مارچ سے سرگرم ہونے جارہے این سی ٹی سی کے خلاف ریاستی حکومتوں کی سرگرمی یکایک بڑھ گئی ہے۔ چند دن پہلے تک صرف ممتا بنرجی، نوین پٹنائک کو ہی یہ مرکز راس نہیں آرہا تھا لیکن اب سارے بھاجپا حکمراں وزرائے اعلی اور تملناڈو کی وزیر اعلی کو بھی یہ لگنے لگا ہے کہ ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ ہونے جارہا ہے۔ ہماری رائے میں اس مرکز کا احتجاج کرنے والوں کی دلیلوں میں بھی دم ہے۔ کچھ معنوں میں تو یہ پوٹا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ 
بغیر ریاستوں کو اطلاع دئے اس میں کسی کو بھی گرفتار کرنے کی سہولت ہے۔ اس سے ریاستوں کا خوفزدہ ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ اس یوپی اے سرکار اور خاص کر وزیر داخلہ پی چدمبرم کی ساکھ اتنی گر چکی ہے کہ ان پر اب کوئی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ اگر یہ کرنا ہی تھا تو پوٹا کیوں ہٹایا؟ 26/11 حملوں کے بعد دیش میں ایک ماحول ایسا بنا تھا کہ اگر اسی وقت اس مرکز کو قائم کرلیا جاتا تو شاید اتنا احتجاج نہ ہوتا۔ ادھر یوپی اے سرکار سوتی رہی اور اتنے سال گزر گئے اب آکر اسے ہوش آیا ہے۔ اس احتجاج کی اصلیت میں ریاستوں کی یہ مشکل ہے کہ مرکزی حکومت اس قانون کے تحت اپنا سیاسی ایجنڈا ان پر ٹھونپ سکتی ہے۔ یہ دہشت گردی انسداد نظام مرکز کے خفیہ محکمے انٹیلی جنس بیورو کے تحت چلے گا۔ ان ریاستوں کو اندیشہ ہے کہ سی بی آئی کی طرح اسے بھی کہیں مرکز کی اقتدار پر قابض پارٹی کے مفاد کا ذریعہ نہ بنا دیا جائے۔ ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد سے۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Mamta Banerjee, NCTC, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

جوالہ مکھی کے ڈھیر پر بیٹھا مشرقی وسطیٰ



Published On 22nd February 2012
انل نریندر

مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ کی جوالہ مکھی کے ڈھیر پر کھڑا ہوتا جارہا ہے۔ نیوکلیائی چھڑیں بنانے میں لگے ایران نے جہاں اپنے جنگی بیڑے جدہ بندرگاہ سے شام کے ساحل کے قریب تعینات کردئے ہیں۔ وہیں ایرانی ریولیوشنری گارڈ ز نے دوروزہ زمینی فوجی جنگی مشقیں شروع کر امریکہ اور پڑوسی اسرائیل جیسے کٹر مخالفوں کو منہ توڑ جواب دینے کی تیاری کرلی ہے۔ ادھر برطانیہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ جنگی بیڑے ایران نے سوئس سمندر کے راستے بھومدے ساگر کے کنارے بسے شام بھیجے ہیں تاکہ اس کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر کسی طرح کا حملوں کا جواب دے سکیں۔ ادھر نارتھ کوریا نے بھی فوجی مشقوں کی صورت میں حملے کی وارننگ دے ڈالی ہے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی اِرنا نے دیش کے بحریہ کے چیف ایڈمرل حبیب اللہ سیاری کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران بھومدے ساگر میں اپنے جنگی بیڑے تعینات کرکے مخالفین کو علاقے میں اپنی طاقت کا احساس کرادیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی بحریہ اسلامی انقلاب کے بعد دوسری بار سوئس دریا کے راستے بھومدے ساگر تک پہنچی ہے۔ایران کے ریولوشنری گارڈز کا کہنا ہے کہ اس نے ممکنہ باہری خطروں سے دیش کی حفاظت کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے لئے دو روزہ ایک زمینی مشق شروع کردی ہے۔ یہ ریولوشنری گارڈز ایران کی سب سے طاقتور فوجی یونٹ ہے۔ غور طلب ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔
امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کل ہی ایران کو سخت وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے ہرموز آبی معاہدہ توڑا یا نیوکلیائی ہتھیار بنائے تو اس کے خلاف کارروائی کے ہر متبادل کھلے ہیں۔ پینیٹا نے کہا ہم صاف کرچکے ہیں کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا سکتا، ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے کہ وہ بین الاقوامی کاروبار کے اہم آبی راستے ہرموز آبی معاہدے کو توڑے۔ اس علاقے سے دنیا کے پانچویں حصے کا تیل کاروبار ہوتا ہے۔ یہ بین الاقوامی آبی خطہ ہے ہم ایران کو اسے بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
قابل غور ہے کہ امریکہ نے عراقی تیل ذخائر کو ہڑپنے کے لئے کویت کے ذریعے عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کو خطرناک کیمیاوی ہتھیار ختم کرنے کے بہانے سے نیست و نابود کردیا تھا جبکہ جان و مال اور تیل کنوؤں کی بھاری تباہی کے باوجود عراق میں ایسا کوئی ہتھیار نہیں ملا۔ ایران کو ڈر ستا رہا ہے کہ امریکہ اس کے نیوکلیائی پلانٹس میں خطرناک ہتھیار بنانے کے الزام کے بہانے اسرائیل کے تعاون سے اس پر کبھی بھی چڑھائی کر سکتا ہے۔ ایران نے بھی ایسے کسی طرح کے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ ادھر خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان برطانیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ایران کے نیوکلیائی اداروں کو تباہ کرنے کے لئے پہلے کوئی حملہ کرنے کی منفی پہل نہ کرے اور ایسا کرنا اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے مشہور اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ دراصل لیون پینیٹا سے بات چیت کے بعد ہمارے ایک صحافی نے لکھا ہے پینٹاگان کے چیف کا یہ ماننا ہے کہ اس بات کا ٹھوس اندیشہ ہے کہ اپریل، مئی یا جون کے مہینے میں اسرائیل سرکار ایران پر حملہ کرے گی۔ مشرقی وسطیٰ جوالہ مکھی کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Egypt, Iran, Israil, Middle East, Syria, USA, Vir Arjun

21 فروری 2012

مہاراشٹر کے منی چناؤ میں بھگوا بھاری پڑا


Published On 21st February 2012
انل نریندر
مہاراشٹر کے 10 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی حالانکہ قومی سیاست میں اتنی اہمیت نہ ہو لیکن اس کا اثر ضرور پڑے گا۔ مہاراشٹر میں تو خیر یہ ایک طرح سے اسمبلی منی چناؤضرور مانا جاسکتا ہے ان انتخابات کے نتیجوں سے جہاں شیو سینا ۔ بھاجپا محاذ خوش ہوگا وہیں یہ کانگریس ۔ این سی پی محاذ کے لئے ایک جھٹکا ہے۔دیش کی آدھے سے زیادہ ریاستوں کے سالانہ بجٹ والی ملک کی سب سے بڑی میونسپل کارپوریشن ممبئی مہانگر پالیکا(بی ایم سی) کے اقتدار کے بالکل قریب پہنچ کر شیو سینا نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ چناؤ ہوا ہوائی دوروں سے نہیں بلکہ ووٹروں کو پولنگ مرکزوں پر لے جاکر جیتے جاتے ہیں۔ 10 میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ میں شیو سینا۔بھاجپا محاذ نے پانچ شہروں میں بھگوا پرچم لہرایا ہے۔ کانگریس اور این سی پی کو چار چہروں میں ہی کامیابی ملی ہے۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا کی غیر متوقع طور سے ناسک میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ شیو سینا اور بھاجپا و آر پی آئی نے مل کر227 سیٹوں والی بی ایم سی میں 107 سیٹیں جیت کر سب سے بڑے محاذ کے طور پر کامیابی درج کرائی۔ کانگریس اور این سی پی نے پہلی بار یہاں مل کر چناؤ لڑا اور منہ کی کھائی۔ چناؤ نتائج آتے ہی کانگریس پارٹی میں رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ پارٹی کے لیڈر ایک دوسرے پر ہار کار ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں۔ ممبئی کانگریس یونٹ کے پردھان کرپا شنکر کا مقامی ایم پی سنجے نروپم اور پریہ دت کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ کرپا شنکر سنگھ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے سرپر ہار کار ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پورا چناؤ شری چوہان کی لیڈر شپ میں لڑا گیا تھا تو پھر وہی ہار کے ذمہ دار مانے جانے چاہئیں جبکہ دہلی میں بیٹھے کانگریس کے دوسرے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ممبئی کو غیرمراٹھی لیڈروں کے حوالے کرنے کا خمیازہ اٹھانا پڑا ہے۔ مراٹھی مانش کے نام سے شیو سینا اور ایم این ایس جیسی پارٹیاں کامیاب رہی ہیں ان کا خیال ہے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھی لیڈر شپ کو ممبئی میں پنپنے نہیں دیا گیا۔ اسی وقت ممبئی کے دو کانگریسی لیڈر ہیں اور دونوں کرپا شنکر اور سنجے نروپم نارتھ انڈیا کے ہیں۔ مرلی دیوڑا راجستھان سے ہیں تو پریہ دت پنجاب سے ہیں۔ ایسے میں مراٹھا ووٹ کس وجہ سے کانگریس کو ملتا؟ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ممبئی کی ہار کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اعلی کمان نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر حصوں میں ہار کے اسباب کی جانچ کے لئے ممبئی کانگریس کمیٹی، پردیش کانگریس کمیٹی اور وزیر اعلی سے الگ الگ رپورٹ مانگی ہے۔ پارٹی کا ایک گروپ آپسی گروپ بندی مان رہا ہے۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے بطور وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو صوبے میں بھیجے جانے کے فیصلے کو ریاست کی سیاست میں سرگرم اثر رکھنے والے تمام لیڈر ابھی تک پچا نہیں پائے ہیں۔ کانگریس این سی پی کے درمیان بہتر تال میل نہ رہنے کو بھی ہار کا سبب مانا جارہا ہے۔ سابق وزیر اعلی اشوک چوہان ، ولاس راؤ دیشمکھ کے الگ الگ خیمے میں صوبے میں پرتھوی راج چوہان کے کردار کو صحیح دل سے نہیں قبول کرپائے۔ تنازعات کے گھیرے میں آئے کرپا شنکر جیسے نیتاؤں کا بچاؤ بھی پارٹی کے حق میں نہیں گیا۔ چناؤ کے دوران صدر کے بیٹے راجندر سنگھ شیخاوت سے کروڑوں روپے ملنا بھی پارٹی کو تنازعوں میں ڈال دیا ہے۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے چناؤ میں پوری طاقت جھونکی تھی۔ ان پر مخالفین چٹکی بھی لے رہے تھے کہ وہ گلی کوچوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ نتیجے یوپی چناؤ کے دوران آئے ہیں لہٰذا پارٹی کے لئے یہ ایک مزید جھٹکا ہے۔ حالانکہ پارٹی نے اس بات سے انکار کیا کہ چناؤ نتیجوں کا اثر یوپی کے چناؤمیں پڑے گا۔پارٹی نے کہا راہل گاندھی کی کوششوں اور یوپی کے چناؤ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ انچارج موہن پرکاش نے کہا کہ یہ اسمبلی چناؤ نہیں تھا بلکہ مقامی بلدیاتی چناؤ تھا جہاں نتیجے مقامی اسباب پر منحصر کرتے ہیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Maharashtra, MNS, Shiv Sena, Vir Arjun

امریکی پارلیمنٹ کو اڑانے کی سازش ناکام بنائی


Published On 21st February 2012
انل نریندرامریکہ نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ وہ9/11 آتنکی حملے کے بعد کتنا چوکس ہے۔ اس کا دہشت گردی مخالف آپریشن تب رنگ لایا جب ایس بی آئی نے امریکی پارلیمنٹ (کیپیٹل ہل) کو اڑانے کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ امریکہ کے محکمہ انصاف کے مطابق خودکش حملہ کرکے امریکی پارلیمنٹ کو اڑانے کی سازش رچنے والے ماسکو کے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ 29 سالہ امین الخلیفی کے طور پر اس کی پہچان کی گئی ہے۔ خلیفی کو امریکی پارلیمنٹ کے پارکنگ لاٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ خلیفی ایک بموں سے بھری جیکٹ پہن کر ہاتھ میں مشین گن لے کر امریکی پارلیمنٹ کو اڑانا چاہتا تھا۔ اسے یہ نہیں معلوم تھا جو بموں سے لدی وردی اس کو دی گئی اور جو ہتھیار دئے گئے وہ سب نقلی تھے۔ دراصل ایف بی آئی نے ایک اسٹنگ آپریشن کے تحت پہلے سے ہی اپنے ایک ایجنٹ کو القاعدہ کے اس گروہ میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔ وہی انڈر کور ایجنٹ القاعدہ کا ورکر بن کر خلیفی کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا رہا۔ اسی نے خلیفی کو یہ نقلی ہتھیار دئے جب وہ اپنے پلان کے مطابق کیپیٹل ہل کی پارکنگ ایریا میں پہنچا تو اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ امریکہ کی ایف بی آئی اور جوائنٹ ٹریریزم ٹاسک فورس کا یہ مشترکہ آپریشن کامیاب رہا۔ خلیفی کو اجتماعی تباہی کے ہتھیار کا استعمال کرکے پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے اور عام جنتا پر گولہ باری کرنے کی کوشش کا ملزم بنایا گیا ہے۔ امریکی اٹارنی نال میکس برائٹ نے کہا خلیفی کو لگ رہا تھا کہ وہ القاعدہ کے لئے کام کررہا ہے لیکن وہ القاعدہ کا فرضی آپریشن چلا رہی ایف بی آئی کے شکنجے میں پھنس چکا تھا۔ خلیفی کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو اسے عمر قید کی سزا مل سکتی ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق خلیفی 1999ء میں ویزا پر امریکہ آیا تھا لیکن ویزا کی میعاد ختم ہونے کے باوجود وہ یہاں ٹکا رہا۔ اس نے کبھی بھی امریکہ کی شہریت حاصل کرنے کے لئے درخواست نہیں دی تھی۔ ایف بی آئی کے جنوری 2011ء کے حلف نامے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مصدقہ ذرائع نے اسے بتایا کہ خلیفی نے ورجینیا کے ایک گھر میں کچھ لوگوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ایک شخص نے اسے اے کے ۔47 دو ریوالور اور دھماکوں سامان دئے۔ خلیفی نے ہتھیار لیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے۔ہمیں جنگ کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔ خلیفی کو ایک ریستوراں پر بھی حملہ کرنا تھا لیکن پچھلے ماہ اس نے اپنی اسکیم بدل دی اور اس نے پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کرنے کی منشا ظاہر کی۔ ا س نے مغربی ورجینیا میں باقاعدہ حملے کی ریہرسل بھی کی تھی۔ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے لئے اس نے17 فروری کا دن چنا تھا۔ پچھلے ماہ اس نے کیپیٹل ہل کے آس پاس چکر لگا کر موزوں جگہ کی تلاش بھی کرلی تھی لیکن اسے حملے سے پہلے ہی دھرلیا گیا۔ امریکہ کی سکیورٹی اور خفیہ مشینری کتنی مضبوط ہے یہ ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے۔
9/11, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Terrorist, USA, Vir Arjun

19 فروری 2012

یوپی کے ہیلتھ مشن گھوٹالے نے لی ساتویں بلی


Published On 19th February 2012
انل نریندراترپردیش میں ہوا 5700 کروڑ روپے کا نیشنل رورل ہیلتھ مشن (این آر ایچ ایم) گھوٹالہ ایک کے بعد ایک زندگی لے رہا ہے۔ محکمہ صحت کے 7 فروری سے لاپتہ خزانچی مہندر شرما 50 سال ، کی خون سے لت پت لاش بدھوار کی رات لکھیم پور ضلع سے برآمد ہوئی ہے۔ بمشکل 24 گھنٹے گذرے کے جمعرات کی رات دہلی کے کاروباری سردار رنجیت سنگھ (50 سال ) نے لکھنؤ کے ایک ہوٹل میں نشیلی گولیاں کھا کر خودکشی کرلی۔ بدھ کو ہی سی بی آئی نے این آر ایچ ایم گھوٹالے کے سلسلے میں ان سے لمبی پوچھ تاچھ کی تھی۔ ان کی لاش کے پاس دو صفحات کا خود کشی نامہ ملا ہے۔ اس 5700 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں پہلے کئی لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ 20 اکتوبر 2010ء کو لکھنؤ کے محکمہ خاندانی بہبود کے سی ایم او ڈاکٹر ونود آریہ کو دن دہاڑے مار ڈالا گیا۔ اسی محکمے کے دوسرے سی ایم او ڈاکٹر وی پی سنگھ کو 2 اپریل 2011ء کو قتل کردیا گیا۔ ڈاکٹر آریہ کے قتل کے بعد ڈاکٹر سنگھ اسی محکمے کے تھے۔ فروری2011ء میں سی ایم او بنے تھے۔ ان قتلوں کے الزام میں گرفتار ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر سچان جون2011ء میں مشتبہ حالت میں لکھنؤ کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ سنیل کمار ورما جو این آر ایچ ایم کے پروجیکٹ منیجر تھے نے جنوری2011ء میں لکھنؤ میں اپنے گھر میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ بنارس میں ڈپٹی سی ایم او سلیش یادو کی پچھلے مہینے ایک سڑک حادثے میں موت ہوگئی تھی۔ اس گھوٹالے میں ریاستی حکومت کے دو وزراء اننت کمارمشر، بابو سنگھ کشواہا کے نام آنے پر انہیں عہدے سے ہٹنا پڑا۔ این آر ایچ ایم گھوٹالے کی جانچ جس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ٹھیک اسی طرح سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سی بی آئی کا شکنجہ جب کھیری کے افسروں پر کسنے لگا تو ان کے دل کے مطابق کام پورا نہ کرنے پر دسگواں سی ایم سی کے سینئر کلرک مہندر شرما کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ الزامات کے گھیرے میں محکمے کے سربراہ سمیت کئی میڈیکل افسر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ کلرک یونین کے پردھان پر بھی رشتے داروں نے نشانہ لگاتے ہوئے سمجھوتہ کرانے کے لئے دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ خاندان والوں نے پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کی مانگ کی ہے تاکہ سازش اجاگر ہوسکے۔ این آر ایچ ایم گھوٹالے سے وابستہ چھٹی موت کو سی بی آئی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اس نے صاف کردیا ہے کہ محکمہ صحت کے خزانچی مہندر شرما کے قتل کی اترپردیش سی آئی ڈی جانچ کررہی ہے اور ہماری اس پر نظر ہے۔ ضرورت پڑنے پر وہ اسے اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔ ادھر مایا کیبنٹ سے ہٹائے گئے وزیر بابو سنگھ کشواہا نے کہا کہ قتلوں کے پیچھے مایاوتی، ان کے وزیر نسیم الدین ، کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر، داخلہ سکریٹری کنور فتح بہادر و آئی اے ایس افسروں کی سانٹھ گانٹھ ہے۔ میں نے اس سازش کے بارے میں مایاوتی کو بتایا تو انہوں نے مجھے دھمکایا اور زبان بند رکھنے کو کہا۔ پتہ نہیں اس گھوٹالے کو لیکر ابھی کتنی جانیں اور جائیں گی؟ اب تک ہوئی اموات میں سے پانچ کا قتل کیا گیا ، ایک نے خودکشی کی اور تین مشتبہ حالت میں مارے گئے ہیں۔
Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Dr. Sachan, NRHM, Uttar Pradesh, Vir Arjun

کانگریس کے نئے اینگری ینگ مین راہل گاندھی


Published On 19th February 2012
انل نریندراترپردیش اسمبلی چناؤ مہم کے دوران ہم نے کانگریس کے یووراج راہل گاندھی کے کئی انداز دیکھ لئے ہیں۔ کہاں تو ایک خاموش مہذب چہرہ جو دلتوں کے گھر روٹی پانی کھا پی کر ان کے درد کو سمجھنے والا، نرم گو مزاج کا تھا اور کہاں وہ اب داڑھی بڑھا کر فلمی انداز میں اسٹیج پر کاغذ پھاڑ رہے ہیں۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ راہل کا غصہ تھوڑا اور بڑھنے کے ساتھ ہی نہ صرف نظر آنے لگا ہے بلکہ ان کے تیوروں میں بھی جارحیت آگئی ہے۔ یہاں تک کہ اب وہ اسٹیج سے ہی پارٹیوں کے وعدوں کے کاغذ پھاڑ کر اپنا غصہ کھلے عام لوگوں میں احساس کرانے لگے ہیں۔ شاید وہ یوپی کے نوجوانوں کو بہلانا پھسلانا چاہتے ہیں۔ ''خاموش مزاجی تمہیں جینے نہیں دے گی، اس دور میں جینا ہے تو کہرام مچادو''ان کے اسی تیور پر کانگریس نے انہیں ''اینگری ینگ مین'' کے لقب سے نواز دیا ہے۔ راہل کانگریس کے ''یووراج '' تو ہیں ساتھ ہی ساتھ وہ کانگریس پارٹی کے چناوی مہم کے اکیلے سپر اسٹار بھی ہیں۔ ویسے بھی اس بار گاندھی خاندان نے بھی اپنی پوری طاقت چناؤ میں جھونک دی ہے۔ محترمہ سونیا گاندھی ،راہل ،پرینکا و رابرٹ وڈیرا سبھی اس بار میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ اتنی طاقت تو گاندھی خاندان نے شاید پہلے کبھی نہ جھونکی ہو۔ خیر کانگریس کو راہل کے کرشمے کا انتظار ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یوپی میں جیسے جیسے چناؤ کے مرحلے ختم ہورہے ہیں کانگریس کا حوصلہ اور جذبہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ 

کانگریس تو اب دعوی کررہی ہے کہ اترپردیش میں چناؤ اب صرف راہل بنام دیگر تک رہ گیا ہے۔ اس لئے سپا بسپا سے لیکر بھاجپا تک کے لیڈر اپنی تقریروں میں صرف راہل گاندھی پر ہی نشانہ لگا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ راہل بابا نے تو خواب ہی پا لیا ہے کہ اس چناؤ میں کانگریس کو اپنے دم پر تاج تک پہنچالیں گے اور ایسے میں جب جب رکاوٹیں دکھائی پڑتی ہیں تو انہیں غصہ آجاتا ہے۔ اب اس غصے کو بھنانے کا سیاسی پن بھی انہوں نے سیکھ لیا ہے اس لئے اب وہ جب اینگری نوجوان لیڈر کے تیور دکھاتے ہیں تو سامنے بیٹھے لوگ خوب تالیاں بجاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی اس دن لکھنؤ کی ایک چناوی ریلی میں ہوا۔ ڈی اے وی کالج کے میدان میں منعقدہ چناؤ ریلی میں ہلکی داڑھی والے راہل گاندھی نے مائک تھاما اور اس کے بعد وہ کسی بالی ووڈ ہیرو کی طرح بول پڑے۔ چہرے پر غصے کے انداز کو لیکر وہ بولے کے سپا ،بسپا نے سالوں سے صرف وعدے کئے ہیں حقیقت میں کچھ نہیں کیا۔ اسی کے چلتے آپ کے حالات بدتر ہوئے ہیں۔ میرے ہاتھ میں سپا کی چناوی فہرست ہے یہ ہی کہ چناؤ جیتے تو سڑک دیں گے، بجلی دیں گے، روزگار دیں گے۔ اگر روزگار نہیں دے پائے تو بڑھی ہوئی بے روزگاری بھتہ دیں گے۔ یہ وہی لسٹ ہے جو پچھلے چناؤ میں بھی سپا نے آپ لوگوں کو دی تھی۔ آپ لوگوں کو کام چاہئے وعدے کی لسٹ کی ضرورت نہیں۔ ایسے میں سپا کی یہ فہرست میں پھاڑ رہا ہوں۔ یہ کہہ کر انہوں نے ہیرو گری کے انداز میں ہاتھ میں لیا کاغذ پھاڑ کر نیچے پھینک دیا۔ راہل کے اس ایکشن پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ بھاجپا کے قومی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ ایسا کرکے راہل نے اپنا بچپنا دکھایا ہے۔ یہ ہی لگتا ہے کہ انہیں ابھی سیاسی سوجھ بوجھ نہیں ہے۔ سب سے اچھا تبصرہ سپا کے یوپی پردھان اکھلیش یادو کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل کا غصہ ایک ڈرامہ ہے اور اسٹنٹ ہے ،کبھی پرچہ پھاڑتے ہیں تو کبھی لوگوں کو اپنی ریلی سے چلے جانے کو کہتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دن وہ اسٹیج سے کود جائیں۔ راہل گاندھی کے یہ تیور کیا رنگ دکھاتے ہیں اس کا پتہ تو ووٹوں کی گنتی پر ہی چلے گا۔
Akhilesh Yadav, Angry Young Man, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Priyanka Gandhi Vadra, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

18 فروری 2012

ایران کے مشتعل رویئے کا مغربی ممالک کیا جواب دیں گے؟



Published On 18th February 2012
انل نریندر
ایران کسی کے آگے جھکنے والا نہیں ہے یہ ہی اس کی روایت رہی ہے اور اسی روایت پر وہ قائم ہے۔ مغربی ممالک کے بڑھتے دباؤ کا لگتا ہے الٹا اثر ہوا ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ مشتعل ہوگیا ہے۔ ایران نے مغربی ممالک کے خلاف بدھ کے روز سخت رویہ اختیار کرلیا ہے۔ امریکہ اور یوروپی ممالک کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے نہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کا اعلان کیا بلکہ یوروپی ملکوں کی تیل سپلائی روکنے کی دھمکی بھی دے دی۔ تہران میں ایک تقریب کے دوران ایرانی صدر احمدی نژاد نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بے وجہ کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے، ان میں اب کوئی دم نہیں بچا ہے۔ ضرورت پڑی تو ایران اسے بھی سبق سکھا سکتا ہے۔ خلیجے فارس میں فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بعد ایران نے بدھ کو اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کی نمائش بھی کی۔ مغربی ممالک کے ذریعے مسلسل دی جارہی دھمکیوں اور پابندیوں کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس نے نیوکلیائی بھٹی میں استعمال ہونے والے چوتھی پیڑھی کے ملکی سینٹری فیوز(ایندھن کی چھڑیں) بنا لی ہیں۔ خودصدر احمدی نژاد نے نارتھ تہران میں واقع نیوکلیائی بھٹی میں سینٹری فیوز لگایا اور ایران کے سرکاری ٹی وی نے اس کو براہ راست دکھایا۔ محمود احمدی نژاد نے بعد میں اعلان کیا کہ جلد ہی تہران دنیا کی چنندہ نیوکلیائی طاقتوں میں شمار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 9 ہزار سینٹری فیوز تیار کر لئے ہیں اور بھٹی میں سینٹری فیوزچھڑیں لگانے کے بعد احمدی نژاد نے کہا ایران پر پابندی لگائی گئی ہیں اور مزید بندیشیں لگانے کی تجویز ہے لیکن اس سے تہران کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ مغربی ممالک نہیں چاہتے علم اور ترقی پوری دنیا میں پھیلے جو دیش ترقی کرنا چاہتے ہیں انہیں ان دباؤ اور اڑچنوں سے لڑنا پڑے گا۔
ایران دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ عراق، کویت کے تیل کنوؤں پر قبضہ کرنے کا فارمولہ امریکہ لگتا ہے یہاں بھی آزمانا چاہتا ہے لیکن روس ، چین اور ہندوستان کا ساتھ ملنے کی وجہ سے وہ براہ راست کارروائی نہیں کرپارہا ہے۔ یوروپ کی 18 فیصدی تیل کی ضرورت ایران سے درآمدسے ہوتی ہے۔بدھ کو خبر آئی کے ایران نے نیدر لینڈ، اٹلی، اسپین، یونان، پرتگال اور فرانس کی تیل سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ادھر امریکہ ۔اسرائیل کا خیال ہے کہ ایرانی ایٹمی ہتھیار اس لئے بنا رہے ہیں تاکہ اسرائیل پر حملہ کرسکیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا فروغ دینے والا ملک ہے۔اس کی آتنکی مہم اجاگر ہوچکی ہے وہ ہمارے بے قصور سفارتکاروں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایران کے خلاف لکشمن ریکھا کھینچنی چاہئے۔ وہ دنیا کے امن اور استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ امریکہ بھارت پر ایران کے خلاف کھڑا ہونے کے لئے دباؤ بنا سکتا ہے لیکن بھارت کو اس دباؤ میں نہیں آنا چاہئے۔ ایران کے ساتھ رشتوں کو کیسے چلانا ہے اس پر کسی تیسرے ملک کی مرضی نہیں چلے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور یہ مغربی دیش احمدی نژاد کی تازہ دھمکیوں اور اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے ارادوں سے کیسے نمٹتے ہیں؟ وسطی ایشیا میں حالات کشیدہ بنتے جارہے ہیں، چھوٹی سی بھی چنگاری آگ میں بدل سکتی ہے۔
Ahmedi Nejad, America, Anil Narendra, Atom Bomb, Atomic Reactor, Daily Pratap, Iran, Vir Arjun

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...