Translater

08 فروری 2012

یووراج ایک بورن فائٹر ہیں جیت ضرور ان کی ہی ہوگی



Published On 8th February 2012
انل نریندر
ٹیم انڈیا کے دھرندربلے باز یووراج سنگھ کو کینسر ہے ،پیر کو پھیلی اس خبر نے سب کرکٹ شائقین کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔تمام اخباروں میں ٹی وی چینلوں میں بس ایک ہی خبر چھائی رہی اور وہ یہ کہ 30 سالہ یووراج سنگھ کو پھیپھڑے کا کینسر ہے اور وہ امریکہ کے شہر بوسٹن میں واقع کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں علاج کروا رہے ہیں۔ میڈیا میں بتایا گیا کہ یووراج کو کہاں کینسر ہے اور کیسے ان کا علاج جاری ہے۔ جب میں نے ٹی وی چینلوں پر یہ خبر دیکھی تو مجھے پہلی بات تو یہ محسوس ہوئی ہ یووراج کی بیماری کے بارے میں ان کے فیزیو جتن چودھری بڑی باریکی سے سمجھ رہے تھے کہ یووراج کو کیا ہوا ہے اور کیسے ان کی کیموتھریپی چل رہی ہے۔ مجھے تھوڑا عجیب سا لگا، کیونکہ ایسی سنگین بیماری میں بتانے کا کام ایک فیزیو تھریپس کا نہیں ہے۔ اگربوسٹن کا کوئی سرجن بتاتا توبات سمجھ میں آتی۔ ایک فیزیو ایسی تفصیلات بتانے کے لئے مجاز نہیں ہے۔ فیزیو کا کام تو آپریشن یا سرجری کے بعد شروع ہوتا ہے۔ منگل کا دن آتے آتے کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ تازہ خبر آئی ہے کہ امریکہ میں کیموتھریپی کرا رہے یووراج کو پھیپھڑے کا کینسر نہیں ہے بلکہ ان کے پھیپھڑوں کے درمیان میں ایک عجیب قسم کا ٹیومر (پھوڑا) جو معمولی نہیں ہے اور ان کے علاج میں شامل میکس ہسپتال کے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ وہ10 ہفتے یعنی مئی کے پہلے ہفتے تک میدان میں اتر سکتے ہیں۔ یووراج کو کینسر ہونے کا خلاصہ ہونے کے بعد سے میڈیا میں کی جارہی قیاس آرائیوں پر لگام لگاتے ہوئے میکس ہسپتال ساکیت کے ڈاکٹر نتیش رستوگی نے صاف کیا ہے کہ یووراج کو کینسر تو ہے لیکن پھیپھڑوں کا کینسر نہیں ہے۔ یووراج کی بیماری کا سن کر نہ صرف بھارت میں ہی ان کے پرستار پریشان ہوگئے ہیں لیکن سرحد پار پاکستان سے لیکرتمام دنیا سے ان کی تندرستی کے لئے نیک خواہشات کا آنا شروع ہوگیا ہے۔ ایک پرستار نے کچھ یوں لکھا ''میں ایک پاکستانی ہوں اور ظاہر ہے کہ پاکستانی کرکٹ کا پرستار پاکستان اور انڈیا کا مقابلہ بھی ہمیشہ ایسا ہی رہے گا لیکن یہ کسی کی زندگی سے ضروری نہیں ہے۔یووراج ایک بہت اچھے اور دمدار کرکٹر ہیں ، میں ان کی صحت کے لئے دعاء کرتا ہوں۔ کرکٹ کی دنیا میںیووی ایک اکیلے کلین ہٹر ہیں اور جلد ہی ٹھیک ہوجاؤ گے دوست۔ابھی تمہارے بہت سکسر اور سنچری دیکھنی ہے ۔ یووراج ضرور ٹھیک ہوجائیں گے ساری دنیا میں ان کے پرستار آج دعاء کررہے ہیں۔ یووراج کو دوسرے کھلاڑیوں سے تلقین لینی چاہئے وہ ایسے کھلاڑی نہیں ہیں جو اس طرح کی مشکل کا سامنا کررہے ہیں اس سے پہلے بھی ایسے کئی موقعے آچکے ہیں جب کھلاڑیوں نے نہ صرف کینسر کو ہرایا بلکہ اپنے کھیل میں نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ امریکہ کے لاس آرم اسٹرانگ تو اس کی ایک دمکتی مثال ہیں۔ لاس کو 1996 ء میں ہی کینسر کا پتہ چلا تھا۔ یہ یووی سے خطرناک مرحلے پر تھا لیکن نہ صرف اس نے اس کا کامیابی کے ساتھ سامنا کیا بلکہ سائیکل ریسنگ کی سب سے مشکل دوڑ ٹور دی فرانس کو تقریباً سات بار جیتا۔ پچھلے سال نومبر میں ہی لاس نے سائیکلنگ سے ریٹائرمنٹ لی ہے ایک بات دکھ کی یہ ضرور ہے کہ یووراج کی بیماری کا علاج پہلے کیوں نہیں ہوا؟ یووراج پچھلے کافی دنوں سے بیمار چل رہے ہیں۔ کہا یہ جاتا رہا ہے کہ ان کے گھنٹے کی سرجری ہوئی ہے ۔ ان کا ہسپتال اور ڈاکٹروں سے پچھلے کافی عرصے سے رابطہ بنا ہوا ہے۔ پتہ نہیں کسی نے اس سے پہلے کیوں نہیں سوچا؟ ٹیسٹ وغیرہ تو ضرور ہوئے ہوں گے، کیا ہمارے ڈاکٹروں کو پتہ نہیں چلا یا پھر علاج میں غلطی ہوئی۔ بہرحال آگے دیکھیں ہمیں پورا یقین ہے کہ یووی نہ صرف اس منحوس بیماری کو ہرا دیں گے بلکہ بہت جلد میدان میں واپس لوٹ کر چھکے چوکے لگائیں گے۔ ساری دنیا کے ساتھ ہم بھی یووی کی تیزی سے تندرستی کے لئے دعاء کرتے ہیں۔ وہ ایک بورن فائٹر ہیں۔جیت ضرور ان کی ہوگی۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, Vir Arjun, Yuvraj

اور اب پرفل پٹیل پر رشوت لینے کا الزام



Published On 8th February 2012
انل نریندر
وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دوسری پاری مشکلات سے بھری لگتی ہے۔ ایک پریشانی ختم نہیں ہوتی کہ دوسری سامنے آکر کھڑی ہوتی ہے۔ اگر پی چدمبرم معاملے میں تھوڑی راحت ملی تو لمبی چین کی سانس لینے کا زیادہ وقت نہیں ملا۔ اسی کڑی میں اب باری ہے مرکزی وزیر پرفل پٹیل کی یہ معاملہ کیا گل کھلائے گا؟ کینیڈا کے ایک بڑے انگریزی اخبار ''گلوب اینڈ دی میل'' نے پرفل پٹیل کو لیکر ایک سنسنی خیزخبر شائع کی ہے۔ اس میں الزام لگایا ہے کہ چار سال پہلے اس وقت کے وزیر شہری ہوابازی کی شکل میں پٹیل نے کروڑوں روپے رشوت کی شکل میں لئے تھے اس کے بعد بھی وہ کام نہیں کیا گیا جس کے لئے یہ موٹی رقم لی گئی تھی۔ کینیڈا پولیس نے اوٹاوا کی ایک عدالت میں پرفل پٹیل کو رشوت دینے کے الزام میں ہندوستانی نژاد کینیڈیائی شہری کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔اخبار کے مطابق کینیڈا میں ہندوستانی نژاد ایک تاجر نظیرکاریگر نے سابق وزیر شہری ہوا بازی پرفل پٹیل پر قریب 1.2 کروڑ روپے کی رشوت لینے کا الزام لگایا ہے۔ اس نے ایئر انڈیا سے متعلق ایک ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے پٹیل کو یہ رقم دی تھی۔ یہ رقم اس وقت دی گئی تھی جب وہ ہندوستان کے وزیر شہری ہوا بازی تھے۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر حسن غفور کے دوست بتائے جارہے کاریگر کا کہنا ہے کہ اس نے وزیر کے قریبی لکشمن ڈھوبلے کے ذریعے ان تک رشوت پہنچائی تھی۔ کینیڈا کا فیڈرل انصاف محکمہ کاریگر کے خلاف کرپشن آف فارن پبلک آفیشیل ایکٹ کی خلاف ورزی کو لیکر مقدمہ چلائے گا۔اس ایکٹ کے تحت بیرون ملک میں رشوت دینا ممنوع ہے۔ مانا جارہا ہے کہ مقدمے میں پرفل پٹیل پھنس سکتے ہیں۔ معاملے کی آئندہ ستمبر میں سماعت ہوگی۔ ایئر انڈیا میں ای سکیورٹی کمپیوٹری کرن سسٹم کی سپلائی کے لئے گلوبل ٹینڈر مانگے گئے تھے۔ یہ ٹینڈر 100 ملین ڈالر کا تھا۔ اسے کینیڈا کی کمپنی کرائپٹو میڈرکس حاصل کرنا چاہتی تھی۔ نظیر کاریگر ہندوستان میں اس کمپنی کے مارکٹنگ انچارج تھے۔
انہوں نے اپنے پرانے دوستوں کے ذریعے رشوت دیکر ٹنڈر لینے کی تیاری کی تھی۔ نظیر نے پٹیل کو کروڑوں روپے کا رعایتی ٹیکس دیا تھا۔ دعوی کیا گیا ہے کہ نظیر نے پٹیل کو ڈھائی لاکھ ڈالر دئے تھے۔ اب کمپنی نے نظیر کے خلاف دعوی ٹھونک دیا ہے۔ منموہن سرکار برسوں سے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے چلتے بے چین ہے۔ اس گھوٹالے کے نائک اس وقت کے وزیر مواصلات اے ۔راجہ تھے۔ اس معاملے میں نئی نئی الجھنیں سامنے آرہی ہیں۔ اسی درمیان پٹیل پر لگا الزام لیڈر شپ کو ڈرانے لگا ہے۔ اب ہمارے وزیر صنعت پرفل پٹیل نے رشوت کے الزام کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے اس معاملے کی جانچ کرنے کی درخواست کی ہے۔ پٹیل نے کاریگر کے الزام کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز بتایا اور کہا کہ جب ایسا کوئی سمجھوتہ ہوا ہی نہیں تو رشوت کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ پٹیل نے وزیر اعظم سے کہا کہ جانچ اس لئے کرائی جائے تاکہ ان کا کردار صاف ہوسکے۔ پٹیل نے لکھا ہے دستاویزوں کی جانچ کرنے سے پتہ چل جائے گا کہ وزارت یا ان کے ذریعے کو ئی بھی ٹھیکہ دینے میں مداخلت نہیں کی گئی تھی۔ سچ کیا ہے اس کا جانچ سے ہی پتہ چل سکتا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Praful Patel, UPA, Vir Arjun

07 فروری 2012

مصر کے پورٹ سعید فٹبال میچ میں تشدد کے پیچھے؟



Published On 7th February 2012
انل نریندر
گذشتہ بدھوار کو ایک ایسا فٹبال میچ ہوا جیسا شاید ہی کبھی پہلے دیکھا گیا ہو یا ہوا ہو۔ مصر کے حالات پوٹ سعید میں مقامی المصری اور قاہرہ کی الاہلے ٹیموں کے درمیان میچ ہوا۔ الاہلے ٹیم کو الماصری نے 3-1 گول سے ہرادیا جس کے بعد حمایتی آپس میں بھڑ گئے۔ میچ ختم ہوتے ہی الماصری حمایتی میدان میں گھس گئے اور انہوں نے جم کر غنڈہ گردی مچائی۔ ان حمایتیوں نے پتھراؤ کیا، پٹاخے چھوڑے، بوتلیں پھینکیں جس سے کئی شائقین اور کھلاڑیوں کو چھوٹیں آئیں۔ چشم دید لوگوں نے بتایا کہ اس پورے میدان میں افراتفری پھیل گئی اور نہ صرف کھلاڑی بلکہ شائقین بھی خود کوبچانے کے لئے ادھر ادھر دوڑتے نظر آئے۔ میچ کے دوران بھڑکے تشدد میں کم سے کم74 لوگ مارے گئے جبکہ 1 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ مصر کے کھیل کی تاریخ میں یہ سب سے دردناک واقعہ ہے۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مصر میں سیاسی حالات ابھی بھی دھماکو بنے ہوئے ہیں۔ ایک عام سے فٹبال میچ میں اتنا تشدد ہوسکتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق تھا یا پھر سوچی سمجھی تشدد کرنے کی ایک چال تھی؟ بیشک زیادہ تر اموات بھگدڑ میں ہوئیں لیکن کئی لوگوں کو چاقوؤں سے بھی مارا گیا۔ اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ پہلے سے تیار اس سازش کو انجام دیا گیا ہے۔ المصری کے حمایتی چاقو لاٹھیاں لیکر الاہلے حمایتیوں پر ٹوٹ پڑے۔ دیکھا جائے تو ان کے حملہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی۔ میچ تو ان کی ٹیم نے 3-1 سے جیت لیا تھا۔ کیا دیش میں فوجی حکومت کے خلاف ہوا بنانے اور نئی آگ بھڑکانے کا یہ بہانہ تھا؟ کیونکہ میچ کے بعد سارا غصہ تو فوجی حکومت اور پولیس کے خلاف نکلا۔ مظاہرین نے فوجی حکمرانو ں کو ہٹائے جانے کی مانگ تیز کردی ہے وہیں راجدھانی میں پولیس کے ساتھ ہوئی تازہ جھڑپوں میں تین لوگوں کی موت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ لوگ پہلے ہی سے جمہوری اصلاحات کی دھیمی رفتار سے مایوس ہیں۔ میچ کے دوران ہوئے تشدد نے ان کے غصے کو چنگاری دکھا دی ہے۔ مظاہرین قاہرہ میں وزارت داخلہ کے سامنے مظاہرے پر ڈٹے تھے تبھی فوج نے ان پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ نماز جمعہ کے بعد زبردست احتجاج اور مظاہرے کے لئے لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مصری فوج نے عوام کو بانٹنے کے لئے یہ سازش رچی اور پولیس نے جان بوجھ کر وقت رہتے فساد کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ حسنی مبارک کے حمایتیوں نے مبارک کو بے دخل کرنے والی جنتا کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور بدلہ لینے کی کوشش کی۔ دراصل حسنی مبارک کو زبردستی ہٹا تو دیا گیا لیکن مصر کے اندرونی حالات کبھی بھی قابو میں نہیں آسکتے۔مسلم برادر ہڈ جو حالیہ چناؤ جیتی تھی اس نے اور وہاں کے سیکولر لوگوں میں تب سے جھڑپیں ہورہی ہیں۔ مسلم برادر ہڈ اور فوج لگتا ہے مل کر کام کررہے ہیں۔اس سے مصر کی عوام میں یہ ڈر پیدا ہورہا ہے کہ کہیں پھر سے فوجی حکومت یا مسلم برادر ہڈ کا ہٹلری عہد نہ تھونپ دیا جائے۔ عوام میں بے چینی ہے اور مصر میں عدم استحکام کا دور چل رہا ہے۔ فٹبال میچ کا واقعہ معمولی نہیں تھا اس کے پیچھے گہری سازش لگتی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Egypt, Vir Arjun

پنجاب۔ اتراکھنڈ میں37 دنوں کیلئے حکومت و انتظامیہ ٹھپ



Published On 7th February 2012
انل نریندر
بھارت کے چناؤ کمیشن نے اپنے فیصلے سے پنجاب اور اتراکھنڈ ریاستوں کے انتظامیہ کو ایک مہینے سے زیادہ وقت کے لئے پنگو بنادیا ہے۔ حالانکہ دونوں ریاستوں میں پولنگ ہوچکی ہے لیکن چناؤ ضابطہ ابھی بھی لاگو ہے۔ یہ چناؤ ضابطہ 37 دن کے لئے یعنی 6 مارچ تک چالو رہے گاجس دن ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ ایک پنجاب کے افسرکا تبصرہ تھا کہ ہم تو اپنا سارا وقت ٹی وی دیکھ کر گذار رہے ہیں، کام تو کوئی ہے ہی نہیں۔ پنجاب، اتراکھنڈ و منی پور تینوں ریاستوں میں چناؤ ہوچکے ہیں اور کسی کو صحیح سے معلوم نہیں کہ ریاست کا مالک کون ہے؟ وزیر اعلی،گورنر اور چیف الیکٹرول آفیسر یا چیف الیکشن کمیشن دہلی کون ہے، جس کے احکامات پر ریاست کا انتظام چلے؟ بدقسمتی یہ ہے کہ اس حالت کو پیدا ہونے سے بچایا جاسکتا اگر چناؤ کمیشن تھوڑی سی توجہ دیتا۔اگر پنجاب اتراکھنڈ میں چناؤ 3 مارچ کو ہوتے اور نتیجہ6 مارچ کو آتا تو اس بے یقینی کی صورتحال سے بچا جاسکتا تھا۔ سوال یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسی کونسی مجبوری تھی جس کی وجہ سے ریاستوں کے انتظامیہ کو پوری طرح ٹھپ کردیا گیا۔ چناؤ کمیشن بیشک یہ دلیل دے کہ ہم وہاں جلد ہی چناؤ کروانا چاہتے تھے کیونکہ چناؤ کی تاریخوں کو بہت سی باتوں کو دیکھ کر ہی طے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی پارٹیوں کی رائے ،دوسرے ریاستوں میں چناؤ کے انتظامات کو دیکھنا، موسم و اسکول امتحانات و چھٹیاں،تہوار وغیرہ وغیرہ؟ اکالی دل کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم تھوڑا حیران ضرور ہوئے ہیں جب 30 جنوری کو پولنگ کی تاریخ کا اعلان ہوا۔ کیونکہ ہم امید کررہے تھے کہ چناؤ 10 سے15 فروری کے درمیا ن ہوں گے کیونکہ پچھلے اسمبلی چناؤ 2002 اور 2007 میں13 فروری کو ہوئے تھے۔
اتراکھنڈ کی چناوی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا جب چناؤ ایسے وقت ہوئے جب ریاست میں کڑاکے کی سردی تھی۔ پہاڑی علاقوں میں برف پڑی ہوئی تھی۔ ریاست بننے کے بعد 2002 اور 2007 میں دو بار اسمبلی انتخابات ہوئے۔ 2002 ء میں چناؤ14 فروری کو ہوئے تھے اور نتیجہ24 فروری کو اعلان کردیا گیا۔ اسی طرح2007ء میں چناؤ21 فروری کو ہوئے تھے اور چھ دن بعد نتیجہ 27 فروری کو اعلان ہوا تھا۔ چناؤ کمیشن کے حکام نے کہا کہ ابھی تک وزیر اعلی نے چناؤ ضابطے کو نرم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ظاہر کی ہے۔ بیشک وزیر اعلی ابھی بھی نگراں وزیر اعلی ہیں لیکن وہ کسی بھی افسر کا ٹرانسفر نہیں کرسکتے اور نہ ہی صحیح معنوں میں جواب طلبی کرسکتا ہے۔ افسر شاہی اس لئے بھی وزیر اعلی کو سنجیدگی سے نہیں لیتی کیونکہ وہ کہتے ہیں پتہ نہیں یہ دوبارہ اقتدار میں آئیں بھی یا نہیں؟ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی بھون چند کھنڈوری نے چناؤ کمیشن کے ذریعے طے کردہ چناؤخوف پر اعتراض کیا تھالیکن چناؤ کمیشن نے اسی نظرانداز کردیا۔ ایسی صورت سے بچایا جاسکتا تھا اگر ان دونوں ریاستوں میں چناؤ نتائج آنے سے کچھ دن پہلے ہوتے۔اس لئے سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کا مطلب نکال رہی ہیں۔ اکالی بھاجپا کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمیشنر نے کانگریس کو خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دیا تاکہ پارٹی ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کردے۔
Akali Dal, Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Punjab, State Elections, Uttara Khand, Vir Arjun

05 فروری 2012

پہلے مرحلے کی پولنگ طے کرے گی یوپی کی سمت



Published On 5th February 2012
انل نریندر
اترپردیش میں 16 اسمبلی چناؤ کیلئے پہلے مرحلے میں 55 سیٹوں کے لئے 8 فروری کو پولنگ ہوگی۔ پہلے مرحلے کے لئے سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنے کو ایک دوسرے سے بہتر بتانے میں لگی ہوئی ہیں لیکن اگر پچھلے پانچ انتخابات کے اعدادو شمار کو دیکھا جائے تو سرکار بنانے کے لئے کم سے کم30 فیصدی ووٹوں کا نمبر پار کرنا ضروری ہوگا۔ بہرحال یوپی اسمبلی چناؤ کی جنگ اپنے شباب پر پہنتی جارہی ہے۔ گنگا جمنا، گھاگرا، رابتی اور گومتی کے پانی کے اثر کی طرح سیاست میں بھی مسلسل تبدیلی آرہی ہے۔ سیاست آگے کیا گل کھلائے گی اور کس کا پلڑا بھاری ہوگا یہ تو ووٹر ہی طے کریں گے۔ حکمراں بسپا اپوزیشن پارٹی سپا کے علاوہ کانگریس بھاجپا ، پیس پارٹی، راشٹریہ لوک دل سبھی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ حکمراں بسپا جہاں اپنی سرکار کے کام کے دم پر اور ذات پات کے تجزیئے کی بنیاد پر واپسی کا دعوی کررہی ہے وہیں سماج وادی پارٹی کو بھروسہ ہے کہ صوبے میں بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بسپا سرکار کی مبینہ ناکامیوں کے سبب چل رہی تبدیلی اقتدار کی ہوا کا اسے فائدہ ہوگا اور اس کے پیش نظر ووٹروں کی پہلی ترجیح سپا ہوگی۔ کانگریس کو امید ہے کہ 22 سال تک غیر کانگریسی سرکاریں دیکھ چکی جنتا یووراج راہل گاندھی کے کرشمے پر بھروسہ کر کے اس بار اسے ترجیح دینے والی ہے جبکہ بھاجپا کرپشن کے خلاف گاندھی وادی سماجی رضاکار انا ہزارے کی تحریک کو ملی عوامی حمایت کو اپنے حق میں مان کر زیادہ امید افزا ہے۔ جس طرح سے اقلیتوں کو ریزرویشن کے معاملے میں سبھی پارٹیوں کی کرکری ہوئی ہے اس سے بھی بھاجپا کو لگتا ہے کہ ہندو ووٹ خاص کر سورن جاتیوں کا ووٹ ان کے حصے میں آئے گا۔ اترپردیش میں اسمبلی کی کل 403 سیٹیں ہیں۔ پردیش میں سال1991 سے لیکر 2000 تک ہوئے اسمبلی کے پانچ انتخابات پر نظر ڈالیں تو نمبر ایک پارٹی بننے اور اکثریت پانے اور اس کے قریب پہنچنے کے لئے کم سے کم 30 فیصدی ووٹ کا نمبر پار کرنا ضروری ہے۔ اترپردیش کے یہ چناؤ کئی معنوں میں تاریخی ہونے جارہے ہیں۔ دیش کی سب سے بڑی ریاست میں اس بار ریکارڈ تعداد میں چھوٹی موٹی پارٹیاں بڑے دم خم کے ساتھ اتری ہیں۔ بسپا، سپا ، کانگریس اور بھاجپا کو ان سے نقصان ہونے کا امکان ہے۔ وہ انہیں صرف ووٹ کرنے والی یا ووٹ برباد کرنے والی پارٹیاں بتا رہی ہیں۔جیسے پیس پارٹی کے بارے میں بھاجپا کو چھوڑ کر تین باقی پارٹیوں کو یہ ہی لگ رہا ہے جس سے بھاجپا کو فائدہ ہونے والا ہے اس کے بارے میں باقی پارٹیاں کہہ رہی ہیں کے پیس پارٹی کو مدد تو بھاجپا سے ہی ملتی ہے۔ ریاست میں پیس پارٹی کا اس وقت وہی درجہ ہے جو اپنی ابتدائی پوزیشن میں بی ایس پی کا ہوا کرتا تھا۔ اس بار ریاست میں 150 کے قریب پارٹیاں چناؤ لڑنے کی تیاری میں ہیں جو الگ الگ ذات گروپوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔پچھلی بار قریب سوا سو پارٹیاں چناؤ لڑی تھیں جس میں چھ پارٹیاں 12 ریاستی سطح کی پارٹیاں اور 112 غیر تسلیم شدہ پارٹیاں تھیں۔ اترپردیش میں حد بندی کے بعد 113 سیٹوں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوسکتے ہیں جنہیں پانے کے لئے سیاسی پارٹیوں نے دن رات ایک کردیا ہے۔ مسلم ووٹ پانے کیلئے بھاجپا کو چھوڑ کر سبھی سیاسی پارٹیاں زور آزمائی میں لگی ہیں لیکن ابھی بھی کوئی پارٹی دعوے سے کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اسے مسلم ووٹ ایک طرفہ ملے گا۔ عام طور پر مانا جارہا ہے کہ مسلمان ایک رو میں ووٹ دے سکتے ہیں یعنی بھاجپا کو ہرانے کے لئے اس سیٹ پر جو بھی امید وار جیتتا دکھائی دے گا وہ اسے ووٹ دیں گے۔ اس طرح ہمیں لگتا ہے کہ مسلم ووٹ کانگریس، سپا، بسپا، پیس پارٹی میں بٹے گا۔ ہار جیت کا فرق بہت کم ہوگا جو امیدوار 10 ہزار ووٹ لے گا وہ جیتنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Mulayam Singh Yadav, Muslim, Uttar Pradesh, Vir Arjun

جھٹکوں پر جھٹکے جھیلنے کے عادی منموہن سنگھ اور ان کی حکومت



Published On 5th February 2012
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار کو سپریم کورٹ سے مسلسل جھٹکے لگتے جارہے ہیں۔ سینئر عدالت کا یوپی اے II- کو یہ تیسرے جھٹکے کو ملا کر پانچواں جھٹکا ہے۔ جمعرات کا جھٹکا اس لئے زیادہ بے چین کرنے والا ہے کیونکہ سی اے جی نے 1.67 لاکھ کروڑ روپے کے ٹوجی گھوٹالے کو اجاگر کر سنسنی پھیلائی تھی۔ وزیر اعظم خود اے راجہ کے بچاؤ میں آئے تھے اور پوری سرکار پہلے سی اے جی پھر پی اے سی کے پیچھے پڑگئی تھی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یوپی اے سرکار نے بیش قیمتی اسپیکٹرم (کرنیں)کو ریوڑیوں کی طرح بانٹ دیا۔ سپریم کورٹ کا جمعرات کے روز سرکار کوتیسرا جھٹکا تھا۔ اس سے پہلے چیف ویجی لنس کمشنر پی جے تھامس کی تقرری کو سپریم کورٹ منسوخ کردیا تھا تب بھی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی تنقید ہوئی تھی کیونکہ سی وی سی سلیکشن کمیٹی میں لیڈر اپوزیشن سشما سوراج کے اعتراض کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ یہ سیدھے طور پر وزیر اعظم کے لئے جھٹکا تھا۔ سپریم کورنے ٹو جی معاملے میں ہیں قصورواروں پر مقدمہ چلانے کی اجازت دینے میں دیر لگانے کو غلط قراردیا تھا اور اس میعاد کو زیادہ سے زیادہ چار مہینے طے کردیا تھا۔ اس مسئلے میں بھی پی ایم کی کرکری ہوئی تھی۔ اس مرتبہ پی ایم او کٹہرے میں ہے۔ تیسرا اور تاریخی فیصلہ جمعرات کو آیاجو سب سے بڑا جھٹکا تھا۔ اس بار بھی وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر مالیات کٹہرے میں ہیں کیونکہ جب سی اے جی نے یہ معاملہ اٹھایا تھا اور میڈیا نے اسے اچھالا تو پردھان منتری نے راجہ کو ہدایت دی تھی اور بار بار انہیں بچانے کی کوشش کی تھی۔ جب بات زیادہ بڑھی تو وہ جیل بھیج دئے گئے۔ تب منموہن سنگھ نے بچاؤمیں یہ دلیل دی کہ اتحادی حکومت کے سامنے ایسی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ تازہ فیصلے میں ٹو جی اسپیکٹرم کے عمل کو غلط قراردیا ہے یعنی وہ غلط اور طرفداری والا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم نے اس غیر قانونی اور غلط عمل کو ڈیفنس کس بنیاد پر کیا؟ کیا انہیں اخلاقی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دینا چاہئے؟ وزیر اعظم اور کتنے مخالفانہتنقیدوں کو جھیلیں گے۔ اس سے پہلے بھی جب یو پی اے I- کی حکومت تھی تب بھی سپریم کورٹ نے منموہن سرکار کو دو بار زبردست جھٹکے دئے تھے۔ ایک بار جب بہار میں این ڈی اے کی سرکار بنانے کا موقعہ نہ دیکر وہاں صدر راج لگایا تھا تب کورٹ نے گورنر کے برتاؤ کو غیر آئینی قراردیا تھا۔ دوسری مرتبہ جھارکھنڈ میں بھی یہی حالت رہی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد شیبو سورین کو استعفیٰ دینا پڑا اور این ڈی اے کی سرکار بن گئی تھی۔ کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار کے لئے ایک ساتھ نہیں بلکہ تین مورچے کھل گئے ہیں۔ سب سے پہلے اترپردیش چناؤ، دوسرے چدمبرم کا مستقبل اور تیسرے دونوں کو بچانے میں یوپی اے محاذ کی تشویش۔ اترپردیش چناؤ سے ٹھیک پہلے 122 ٹیلی کام لائسنس منسوخ ہونے کے بعد کانگریس پوری طاقت سے اپنے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا بچاؤ کررہی ہے لیکن اس کے سیاسی اثر کو لیکر اس کی جان حلق میں ضرور اٹکی ہوئی ہوگی۔ کانگریس اور سرکار دونوں نے مان لیا ہے کہ اب ان کے پاس اس مسئلے پر جارحانہ رخ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہیں سب پہلوؤں پر بحث کرنے کیلئے کانگریس کے بڑے نیتاؤں کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کانگریس لیڈر شپ مان رہا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے سے اپوزیشن کو چناؤ سے پہلے کرپشن کے اشو پر ایک ہتھیار تو مل گیا ہے۔ جس طرح سے کپل سبل نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران ڈی ایم کے کوٹے کو ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہے اے ۔ راجہ پر ٹھیکرا پھوڑا ہے اور اس سے کہیں ایک اور نیا مورچہ نہ کھل جائے۔ ممتا اور شرد پوار نے پہلے ہی ناک میں دم کررکھا ہے۔ اب پورے گھوٹالے کے لئے راجہ کو اکیلے ذمہ دار ٹھہرانا پہلے سے ناراض ڈی ایم کے کو اور اکسانا ہے، کہیں پہلے سے لگی آگ اور نہ بھڑک جائے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Supreme Court, UPA, Vir Arjun

04 فروری 2012

سپریم کورٹ نے سنائے دوررس اہم فیصلے



Published On 4th February 2012
انل نریندر
یقیناًجمعرات کا دن سپریم کورٹ کے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ عدالت کو تین معاملوں پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ یہ تینوں ہی بہت اہم تھے جن کے دوررس اثر ہونے والے ہیں۔ جمعرات کو سب سے اہم فیصلہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کا تھا۔ جس پر ملک بیرون ملک کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ اس گھوٹالے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی سی بی آئی جانچ ، ٹیلی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور ٹو جی معاملے کی نگرانی کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل کرنے کے مطالبے پر فیصلہ آنا تھا۔ ان سب کو چھوڑ کر ایک اور اہم واقعہ تھا اس دن اس جج کے ریٹائر ہونے کا آخری دن تھا جنہوں نے 15 مہینوں میں سپریم کورٹ کی اس بینچ کی شوبھا بڑھائی جس نے ہر اس رسوخ دار کو جیل کی ہوا کھلوائی جس کے بارے میں عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں بات کررہا ہوں جسٹس اے کے گانگولی کی، جن کا اپنے عہد کا آخری دن تھا۔ جمعرات کو جسٹس گانگولی کے بیباک ریمارکس تاریخ میں درج ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تینوں اشوز پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ پہلا کمپنیوں کے 122 لائسنس منسوخ کرنا،7 کمپنیوں پر بھاری جرمانہ۔ دوسرا چدمبرم کے معاملے میں فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑنا۔ تیسرا سی بی آئی جانچ کی نگرانی کا کام سی بی آئی کی دیکھ ریکھ میں برقرار رکھنا۔ تینوں فیصلوں کے دور رس اثر ہونا لازمی ہیں۔ بڑی عدالت میں تین کمپنیوں پر پانچ پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ تھونکا ہے۔چار کمپنیوں پر 50-50 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سرکار کی پالیسی عوامی مفاد کے خلاف ہے تو عدالت اسے منسوخ کرسکتی ہے۔ اپنے دائرہ اختیارکا استعمال کر کورٹ کے اس فیصلے کا مقصد ہے کے اس وقت کے وزیر مواصلات اے۔ راجہ کے وقت میں لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیاں متاثر ہوں گی۔ کورٹ نے کہا 10 جنوری2008 ء کو لائسنس منمانے اور غیر آئینی طریقے سے جاری کئے گئے تھے، جنہیں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہیں بڑی عدالت نے پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی جانچ کی مانگ پر فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑدیا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس میں واقع اسپیشل عدالت کودودن میں فیصلہ سنانے کوکہا گیا ہے ممکن ہے خصوصی عدالت اپنا فیصلہ سنیچر4 فروری یعنی آج سنادے۔بڑی عدالت نے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ٹرائی کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ماہ میں ٹوجی لائسنس الاٹ کرنے کے لئے نئی سفارشیں دے۔ جسٹس جی ۔ایس سنگھوی، جسٹس اے۔ کے گانگولی کی بنچ نے سرکار سے ٹرائی کی سفارشوں پر ایک ماہ کے اندر عمل کرنے کوکہا ہے۔ فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے عرضی گذار جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے کہا یہ سرکار کی اجتماعی ناکامی ہے۔ اس نے وارننگ کو نظرانداز کیا۔ بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ یہ ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری یوپی اے سرکار کا فیصلہ تھا۔ٹرائی کے چیئرمین جے ایم شرما نے کہا اس فیصلے سے پانچ فیصدی لیڈروں پر اثر پڑے گا۔ یعنی اب موبائل کالیں مہنگی ہوجائیں گی یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب اترپردیش اسمبلی چناؤ سر پر ہیں۔ یقینی طور سے اپوزیشن اسے بھنانے کی کوشش کرے گی اور اسے ایک ایسا نیا اشو مل گیا ہے جس سے یوپی اے سرکار کی پریشانی بڑھ جائے گی کیونکہ یہ دور رس فیصلے ہیں ان کے اثر کو سمجھنے میں بھی ٹائم لگے گا۔ لیکن فیصلے سے صنعتی دنیا میں زلزلہ آگیا ہے۔ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اتنی بااثر صنعتی کمپنیوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ اس درمیان ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت میں ڈاکٹر سوامی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا ٹو جی معاملے میں60 فیصدی رقم سونیا گاندھی نے لی ہے اور اس کا ثبوت ان کے پاس ہے۔ اب سب کی نظریں 4 فروری کو پٹیالہ ہاؤس میں واقع خصوصی عدالت پر ٹکی ہوئی ہیں جس میں پی چدمبرم کی قسمت کا فیصلہ آئے گا۔ چدمبرم کی نجی سیاست اس فیصلے پر ٹکی ہے کچھ حد تک یوپی اے سرکار کا مستقبل بھی اس پر منحصرہے۔ اگر چدمبرم پر مقدمہ چلتا ہے تو یقینی طور سے اس کا اثر منموہن سرکار پر پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے سرکار کیسے لڑتی ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...