Translater

11 جنوری 2012

میری دلی مہان میں نقلی سامان کا دھندہ زوروں پر ہے



Published On 11th January 2012
انل نریندر
بلا شبہ بھارت نے بہت ترقی کی ہے ہر سیکٹر میں ہم نے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ نقلی سامان بنانے کے میدان میں تو ہم سب کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ راجدھانی دہلی جو شائننگ انڈیا کا شو پیس ہونا چاہئے تھا آج نقلی سامان بیچنے کے لئے مشہور ہورہی ہے۔ دلی پولیس نے سنیچر کے روز نقلی کیڑے مار دوائی پکڑی تو ایک فرضی افسر بھی پکڑا۔ اس چھاپے ماری میں لوگوں کو حیرانی میں ڈال دیا ہے۔ راجدھانی میں خریداری کرتے وقت ذرا بچ کے رہی۔ برانڈڈ سامان سے لیکر نقلی طاقت کی دوائیں تک سب کچھ ملتا ہے۔ دلی کے بازاروں میں غیر ملکی شراب کے شوقینوں کو لگتا ہوگا کہ اسکاچ، وہسکی سستی مل گئی لیکن انہیں یہ نہیں پتہ ہوگا کہ بوتل اصلی ہے یا مال نقلی۔ نقلی نوٹ تو آئے دن ملتے ہی رہتے ہیں۔ دلی پولیس کے کرائم برانچ نے سال2011 میں ایسے گروہ کو بے نقاب کیا جو اس نقلی دھندے میں اصلی نوٹ کمانے میں لگے ہوئے تھے۔ پولیس نے ایسی پانچ یونٹ پکڑیں جو فرضی اسٹیکر بنا کر نامی گرامی اسکاچ کی بوتلوں پر لگائے جارہے تھے۔ 285 اسکاچ کی بوتلیں برآمد ہوئیں جن میں دیسی مال بھرا ہوا تھا۔ بوتل اصلی تھی اور اسٹیکر اتنے پائیدار تھے کہ کوئی دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ نمبر دو کا مال ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں نقلی دوائیں، نقلی دودھ جیسا سامان بکے لیکن میری دلی مہان میں یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ راجدھانی کے باشندے دودھ کے نام پر زہر پی رہے ہیں۔ منافع خوروں کی منمانی سے دلی کے 70 فیصدی لوگ ملاوٹی دودھ پینے پر مجبور ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ جانچ کے دوران کئی نمونوں میں صابن کے پاؤڈر کی ملاوٹ پائی گئی۔ کچھ میں اس کا گھول زیادہ ملا تو کئی میں پانی کی مقدار زیادہ بڑھائی گئی۔ یہ سنسنی خیز انکشاف راجدھانی کے مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے دودھ کے نمونے کی جانچ رپورٹ سے ہوا ہے۔بھارتیہ غذائی اسٹینڈرڈ اور تحفظ اتھارٹی کے ذریعے لئے گئے 71 نمونوں میں سے50 نمونوں میں ملاوٹ پائی گئی۔راجدھانی دہلی میں دودھ کی یومیہ کھپت 60 لاکھ لیٹر کے آس پاس ہے جس میں سب سے زیادہ 24 سے25 لاکھ لیڈر دودھ کی سپلائی مدر ڈیری سے کی جاتی ہے۔ چھ ساڑھے چھ لاکھ لیٹر کے آس پاس امول کے ذریعے اور چار چار لاکھ لیٹر دودھ گوپال جی اور دلی ڈیری یوجنا یعنی ڈی ایم ایس کے ذریعے کی جاتی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر یعنی دودھیوں اور دوسری کئی ڈیریوں کے ذریعے بھی روزانہ 18 سے20 لاکھ لیٹر دودھ دیا جاتا ہے۔تجارتی ماہرین کی مانیں تو دودھ کی مانگ و سپلائی کے فرق میں کئی کمپنیاں اور منافع خور ملاوٹی دودھ سے پورا کررہے ہیں۔ پورے دیش میں کل 1791 نمونے جانچ کے لئے سرکاری لیباریٹری میں بھیجے گئے تھے ۔69 فیصدی نمونے پیمانوں پر کھرے نہیں اترے۔ دنیا کے کسی مہذب دیش میں دودھ میں ملاوٹ ایسی نہیں ہوتی جتنی ہمارے دیش و دہلی میں ہوتی ہے۔ دہلی میں تو دوا بھی نقلی بک رہی ہے۔
نقلی دواؤں سے مریضوں کی حالت بہتر کے بجائے خراب ہو رہی ہے۔یہاں تک کہ قوت بخش دوائیں بھی نقلی بیچی جارہی ہیں۔ ان میں دھنیا پاؤڈر ملایا جارہا ہے۔ حال ہی میں فرید آباد اور بریلی میں ایسی نقلی دوا بنانے والی فیکٹریاں پکڑی گئی ہیں۔ ان معاملوں میں 20 لوگوں کو گرفتار کرکے 64 لاکھ روپے مالیات کی دوائیں اور چار مشینیں بھی ضبط کی گئیں۔ تیل میں ملاوٹ کرکے فرضی واڑہ جعلسازی کرنے والے بھی شکنجے میں آگئے ہیں۔ پولیس نے بھنڈولی کے دو ایسے کارخانوں میں 12 ہزار لیٹر بلومٹی کا تیل ،10 ہزار لیٹر سے زیادہ کالا تیل اور 33 ہزار لیٹر نقلی ایل ڈی او و 10 ہزار سے زیادہ آر پی او برآمد کیا ہے۔اتنا ہی نہیں فرضی فرینڈ شپ کلب و مساج پارلر بھی لوگوں کو چونا لگانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے تین گروہ کو بے نقاب کر 45 لوگوں کو پکڑا گیا ہے۔ ان میں 36 عورتیں 9 مرد ہیں۔ ان سے ایک کار ،2 لیپ ٹاپ، 62 موبائل برآمد کئے گئے ہیں۔ لوگوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر نقلی تقرر نامہ تک دیا جارہا ہے۔ایسے تین گروہ کو کرائم برانچ نے پکڑا ہے۔ ان میں 345 نقلی تقرر نامے اور درخواستیں برآمد ہوئی ہیں۔انٹر نیٹ پر نقلی لاٹری نکالنے کا جھانسہ دینے والے و غیر ملکی بھی پکڑے گئے ہیں ان لوگوں نے قریب 2 کروڑ کی دھوکہ دھڑی کی تھی۔ کریڈٹ کارڈ کی جعلسازی کا دھندہ بھی پکڑا گیا ہے۔ نقلی اسٹامپ پیپروں کا بھی دھندہ زوروں پر ہے چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں 1779 نقلی اسٹامپ پیپر برآمد کئے گئے ہیں۔ میری دلی مہان میں پتہ نہیں اصلی مال کتنا بکتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Food Adultration, Vir Arjun

بچوں پر راکھی ساونت، بگ باس جیسے ریئلٹی شو کے برے اثرات



Published On 11th January 2012
انل نریندر
ہم وزیر اطلاعات و نشریات محترمہ امبیکا سونی کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ ٹی وی چینلوں پر دکھائے جارہے فحاشی پروگراموں کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ آج کل ٹی وی ہر گھر میں دیکھا جاتا ہے کچھ ٹی وی سیریل تو اتنے بیہودہ ہیں جنہیں دکھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ان پروگراموں کا سیدھا اثر گھر کے بچوں اور عورتوں پرپڑتا ہے۔ ہمارے سماجی تانے بانے کو کچھ سیریل تباہ کررہے ہیں۔ لیو ان ریلیشن شپ، جھٹ طلاق اور افیئرز، خاندان میں پیسوں کو لیکر آپسی لڑائی اور نہ جانے کیا کیا دکھایا جاتا ہے۔ انہی کے چلتے میں نے یہ سیریل دیکھنے ہی بند کردئے ہیں۔پر کیا کریں گھر کی عورتیں تو جیسے ہی شام ہوتی ہے ٹی وی پر چپک کر بیٹھ جاتی ہیں اور ہر چینل پر کونسا سیریل آرہا ہے اس کی ان کو پوری جانکاری ہوتی ہے۔ امبیکا سونی نے پہل کرکے ٹیلی کاسٹ مواد شکایت کونسل کی تشکیل دی ہے۔ پچھلے چھ مہینے میں کونسل کو رئلٹی شو بگ باس اور راکھی ساونت کے غضب دیش کے عجب قصے پروگرام کے خلاف سب سے زیادہ شکایتیں ملی ہیں۔ کونسل کو راکھی ساونت کے پروگرام کے خلاف58 شکایتیں ملیں۔ وہیں بگ باس میں سنی لیون کے آنے سے36 لوگوں نے اعتراض جتایا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ لیونی کے آنے کے بعد بچے جاننا چاہتے تھے کہ وہ کیا کرتی ہے۔ ایسے میں لیونی کے بارے میں جانتے ہوئے وہ پوری صنعت کے بارے میں بھی جاننا چاہیں گے۔ اس کے بعد بی سی سی سی نے کلرس چینل کو اگلی مرتبہ اداکاروں کو چنتے وقت احتیاط برتنے کی صلاح دی ہے وہیں غضب دیش کے عجب کہانی ،سیریل کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کی کہانی بچوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ کونسل نے چینل کو شو کے لئے بہتر میٹر چننے کی رائے بھی دی ہے۔ کونسل کو ملی شکایتوں کی کل تعداد 3341 رہی۔ ان میں سے1883 کو اس بنیاد پر خارج کردیا گیا کہ وہ کسی کام کی نہیں تھیں یا پھر محض تجویزوں پر مبنی تھیں جبکہ479 شکایتوں پر کونسل نے بحث کر ان پر کارروائی بھی کی۔ زیادہ تر شکایتیں ٹی وی پروگراموں میں بڑھ رہے جنسی ٹرینڈ کو لیکرتھیں۔ کونسل نے ان شکایتوں پر کارروائی کرتے ہوئے ان کو ایسے پروگرام دیر رات یا پھر نہ دکھانے کی ہدایت دی ہے۔کونسل اب ای میل کے ساتھ ساتھ خط کے ذریعے بھی شکایتیں وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ویسے تو کونسل کا کام ٹی وی پروگراموں سے وابستہ شکایتوں کو ہی دیکھنا ہے لیکن اسے نیوز چینلوں، اشتہاروں، فلموں سے وابستہ شکایتیں بھی ملی ہیں۔ اسی طرح براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن، ایڈورٹائزنگ اسٹنڈرڈ کونسل آف انڈیا اور سینسر بورڈ کو بھیج دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے پریس کی آزادی پر حملہ و مداخلت کہہ سکتے ہیں لیکن یہ سینسر شپ نہیں۔ اگر سینسر شپ ہوتی تو ان کا ٹیلی کاسٹ ہی نہیں ہوتا۔ یہ کنٹرول ضروری ہے چین جیسے ملک میں بہت سی پابندیاں ہیں ۔ سوویت روس کے ٹوٹنے کی ایک وجہ امریکی ٹی وی چینل مانے جاتے ہیں۔ جیسا میں نے کہا کہ ہم امبیکا سونی جی کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے اس اہم سماجی کام پر توجہ دی۔ اس پر لگام لگانے کی کوشش کی ہے۔
Ambica Soni, Anil Narendra, Daily Pratap, Rakhi Sawant, Reality show, Vir Arjun

10 جنوری 2012

یوپی میں مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟



Published On 10th January 2012
انل نریندر
چناؤ کمیشن نے حکم دیا ہے کہ اترپردیش میں آزادانہ ، منصفانہ چناؤکرانے کے غرض لکھنؤ اور ریاست کے کئی حصوں میں لگی وزیراعلی مایاوتی اور بہوجن سماج کا چناؤ نشان ہاتھی کے مجسموں پر چناؤ تک پردہ ڈال دیا جائے۔ چناؤ کمیشن کا یہ فرمان اندرا گاندھی، راجیوگاندھی اور ایسے دیگرسیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے مجسموں پر بھی لاگو ہوتا ہے جن سے ووٹر متاثر ہوسکتے ہیں۔ چناؤ کمیشن نے کہا کہ چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کی وجہ سے اس حکم کو فوراً نافذ کردیا جائے۔ چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کے سبب نوئیڈا کے قومی دلت پریرنا استھل اور لکھنؤ میں 9 مقامات پر مایاوتی اور ہاتھی کے بت متاثر ہوں گے۔ بسپا میں اس کا سخت احتجاج ہونا فطری تھا۔ چناؤ کمیشن کے اس متنازعہ فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہرکرتے ہوئے بسپا کے سکریٹری جنرل ستیش مشرا نے کہا کہ اگر چناؤ نشان ڈھکنے کی بات ہے تو کیا کمیشن ہر کسی کو اپنے ہاتھ کے پنجے کٹوانے یا ڈھکنے کا حکم دے گا کیونکہ یہ کانگریس کا چناؤ نشان ہے؟ یہ ہی نہیں بھاجپا کا چناؤ نشان کمل کا پھول ہے ،تو کیا کمیشن ہر تالاب سے کمل کے پھول نکلوا لے گا؟ انہوں نے کہا سائیکل سپا کا چناؤ نشان ہے تو کیا چناؤ کمیشن اسے چلانے پر روک لگادے گا۔ مشر کا کہنا ہے کہ مرکز کی حکومت کی قریب 150 اسکیمیں گاندھی ،نہرو پریوار کے نام سے چلتی ہیں تو کیا کمیشن انہیں بھی بند کردے گا؟ یہاں ہم یہ بات قبول کرتے ہیں کہ یہ قدم بھلے ہی سبھی سیاسی پارٹیوں کو یکساں طور پر عمل کرنے کی بنیاد پر اٹھایاگیا ہے لیکن ہم اس کا وقت اور اس کے جواز پر ضرور اختلاف رکھتے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے تھے کہ چناؤ کمیشن کو اگر ایسا کوئی فیصلہ لینا ہی تھا تو اسے قریب15 مہینے پہلے جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا مایاوتی سرکار پبلک خزانے سے مختلف پارکوں میں ہاتھیوں کی مورتیاں لگوا رہی ہے ، تو کیوں نہیں اسے روکا گیا؟ ایک لمحے کے لئے یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ مایاوتی اور ہاتھیوں کی ان مورتیوں کو ڈھک دیا جائے جو سڑکوں اور چوراہوں پر لگائی گئی ہیں لیکن آخر چار دیواری سے گھرے پارکوں میں بنی مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟ پارکوں میں آنے والوں کو ان مورتیوں کے وہاں ہونے کا پتہ ہے اور ڈھکی ہوئی مورتیاں الٹے انہیں زیادہ ہی احساس کرائیں گی۔ اگر چناؤ کمیشن اتنا ہی غیر جانبدار ہے تو اس نے پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کے اعلان سے پہلے مرکزی سرکار کے ذریعے اقلیتوں کو ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کے فیصلے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ اتنا ہی نہیں کمیشن نے چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کے بعد دلتوں اور پسماندہ طبقوں کی خالی آسامیوں کو بھرنے کے لئے مرکزی حکومت کے اعلان پر بھی خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ اترپردیش کے مختلف اضلاع میں سفید سنگ مرمر کے یہ ہاتھی ''دلت وجے'' کی علامت کی شکل میں کھڑے کئے گئے ہیں۔ اب پردے میں ڈھکے یہ ہی ہاتھی اگر دلتوں کی توہین کی شکل میں ان چناؤ میں پروپگنڈہ کئے جائیں تو مقابلتاً اس کا کیا توڑ نکالیں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ بیشک بسپا اس کی مخالفت کرے گی لیکن اتنا تو ہے کہ ریاست کی نوکرشاہ برادری کو سمجھ میں آجائے گا کہ وہ تھوڑی غیر جانبداری برتے اور حکمراں حکومت کے غلام بن کر کام نہ کرے؟ لیکن اس سے کہیں بڑا مسئلہ چناؤ میں استعمال ہونے والا کالا دھن۔ پچھلے دو تین دنوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کروڑوں روپے برآمد ہوچکے ہیں جن کا استعمال چناؤ میں ہونا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر وائی ایس قریشی نے مانا کہ اترپردیش ،پنجاب، گوا میں انتخابات کو کالی کمائی سے مستثنیٰ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ خیال رہے کہ جب انا ہزارے انتخابات میں کالی کمائی کے مسئلے پر روشنی ڈالی تھی تو تمام سیاسی پارٹیوں نے انا ہزارے کی جم کر مخالفت کی تھی۔ انا نے بس اتنا کہا تھا کہ ان کے جیسا فقیر چناؤ میں کبھی جیت نہیں سکتا کیونکہ فیصلہ تو دھن اور بل پر ہوتا ہے۔ بیشک چناؤ کمیشن نے اس بار چناؤ میں امیدواروں کے خرچ پر گہری نظر رکھنے کے لئے خصوصی انتظام کئے اور انکم ٹیکس محکمے کو بھی اس میں جھونک دیا لیکن سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ عہدیداران کے خرچ کی حد طے ہے۔ لیکن وہیں سیاسی پارٹیوں پر ایسی کوئی بندش نہیں ہے۔ ایک اور مسئلے کی طرف ہم الیکشن کمیشن کی توجہ دلانا چاہیں گے وہ پیٹ نیوز کا معاملہ ہے۔ مختلف اخباروں میں ہم سیاسی پارٹیوں کے منعقدہ پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ بسپا کی مخصوص مہم کئی دنوں سے چل رہی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر عام خبروں کے درمیان ایسا پوشیدہ سندیش ہوتا ہے جو ووٹروں کو متاثر کرتا ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ کل ملاکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے شاید کوئی فائدہ ہو؟
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Elephant, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

پاکستان کے اصل سی آئی اے ایجنٹ



Published On 10th January 2012
انل نریندر
گذشتہ ہفتے پاکستان کے کچھ سینئر صحافی ہمارے دفتر میں آئے تھے۔ ہم نے ان کے خیر مقدم کے لئے شاندار پروگرام بنایا تھا۔ ان میں جناب محمود شام، ایاز بادشاہ قابل ذکر تھے۔ دراصل یہ لوگ حیدر آباد میں منعقدہ اردو ایڈیٹرز کا نفرس میں شرکت کے لئے دہلی آئے تھے۔انہوں نے دہلی میں دو دن قیام کیا۔ ان سے کافی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں طرف کی کئی نئی معلومات ملیں۔ میں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں کہا ''پاکستان آج صحافیوں چاہے وہ اخبار کے ہوں یا ٹیلی ویژن کے ہوں ،کیلئے دنیا کا سب سے خطرناک دیش بن گیا ہے۔ پاکستان میں آزادانہ رائے رکھنے والے صحافیوں کے لئے یہ ایک مشکل دور ہے۔ اپنے فرض کی تعمیل کے دوران اس پیشے سے جوڑے 11 لوگوں کو 2011ء میں مار ڈالا گیا۔ ان لوگوں کا قتل یا تو نسلی گروپوں کے درمیان ہونے والی گولہ باری یا کٹر پسندانہ تشدد یا پھر سیاسی نظریات کے چلتے کیاگیا۔ مثال کے طور پر گذشتہ برس سلیم شہزاد کے اغوا اور قتل میں سرکار کی مشینری کا ہاتھ ہونے کا الزام تھا جبکہ اس معاملے کی جانچ کے لئے قائم کمیشن ابھی ہوا میں ہی تیر چلا رہا ہے۔ سلیم شہزاد نے مسلح فورس کے ان لوگوں کا پردہ فاش کیا تھا جن کا القاعدہ یا طالبان کے ساتھ قریبی رشتہ تھا۔ پچھلے دنوں بلوچستان میں راشٹروادی نظریات یا پھر سکیورٹی فورس کے ذریعے کی جارہی ذیاتیوں کو اجاگر کرنے والے کئی صحافیوں کو قتل کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے خوفزدہ صحافیوں کو امریکہ جیسے ملکوں میں پناہ دئے جانے کی درخواست کرنی پڑی۔ کراچی میں کچھ صحافیوں کو نسلی گروپ یا سیاسی پارٹیوں کے ذریعے مل رہی دھمکیوں کے چلتے بیرون ملک میں محفوظ ٹھکانے تلاشنے پڑے۔ اس سلسلے میں میں نے پاکستان کے سینئر صحافی مسٹر نجم سیٹھی کا ایک آرٹیکل مڈ ڈے میں پڑھا انہوں نے بتایا کہ اب سکیورٹی نظام کے کرتا دھرتا لوگوں کی سمجھ پر چبھتے ہوئے سوال اٹھانے کے چلتے کچھ سینئر صحافیوں کے خلاف بربریت آمیز پروپگنڈہ چلایا جارہا ہے۔ ان کو امریکہ کی خفیہ سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے تک کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پاکستان کے موجودہ امریکی مخالف ماحول میں اس طرح کے الزامات لوگوں کو بھڑکانے کے لئے لگائے جارہے ہیں۔ مان لیجئے کہ اگر آپ نے کہہ دیا کہ ایبٹ آباد میں ہوئے امریکی حملے نے فوج کی نا اہلیت کی پول کھول دی ہے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ یا آپ نے کہہ دیا کہ سیاسی مسائل کا کنٹرول فوج پر ہونا چاہئے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ نے یہ کہہ دیا کہ فوج کو طالبان کے ساتھ کسی طرح کی امن بات چیت میں شامل نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اس سے ان کو پاکستانی خطے میں پھر منظم ہونے کا موقعہ مل جائے گا تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ڈرون جہازوں کے حملوں کے چلتے وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کے کٹر پسندوں کو ختم کرنے میں بڑی مدد کی تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ نے کہہ دیا کہ فوج کے لئے مختص بجٹ کا جو ملک کی کل رقم کا ایک چوتھائی ہے، جانچ پارلیمنٹ کی کمیٹی یا پاکستان کے آڈیٹر جنرل کے ذریعے کی جانی چاہئے تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت کو تجارتی سیکٹر میں انتہائی مطلوب ملک کا درجہ دینا چاہئے جسے بھارت نے پاکستان کو 16 برس پہلے ہی دے دیا تھا۔یا ویزا شرطوں میں ڈھیل دینی چاہئے، یا فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں کو مدد کرنے کے لئے بھارت سے ثقافتی رشتے بڑھانا چاہئیں۔ یا میڈیا گروپ کے ذریعے چلائی جارہی 'امن کی آشا' پروگرام کو سرکارکو حمایت دینی چاہئے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ سابق امریکی سفیر حسین حقانی اور آئی ایس آئی چیف شجاع پاشا کے معاملے میں ایک اور یکساں استعفے کی پالیسی اپنانے چاہئے ،ایک کے اوپر امریکی سرکار کو پاکستانی فوج کے اوپر سرکار کیلئے کنٹرول کی حمایت مانگنے کا الزام ہے جبکہ دوسرے پر عرب حکمرانوں سے منتخبہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے اپیل کرنے کا الزام ہے تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ سرکار کو قومی سلامتی سے زیادہ عوام کی حالت بہتر بنانے والی پالیسیاں بنانی چاہئیں تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔
بدقسمتی سب سے بڑی یہ ہے کہ جن لوگوں نے امریکہ کے بڑھتے اثر کو بے نقاب کیا ہے اس کی مخالفت کی ہے انہیں ہی بدنام کرنے کیلئے ان پر سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پاکستان میں آج صحافی عوام کے مفاد میں کسی بھی طرح کی آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں صحافیوں کے لئے آج کی تاریخ میں پاکستان سب سے زیادہ خطرناک ملک ہے۔ اس دنیا میں اور ان حالات میں بھی یہ صحافی اپنے فرائض کو نبھا رہے ہیں ان کو ہمارا سلام۔
Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Vir Arjun

08 جنوری 2012

بری چیف کی عمر کو لیکر غیر ضروری تنازعہ



Published On 8th January 2012
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے بحریہ فوج کے جنرل وی کے سنگھ کی عمرکو لیکر ایک غیر ضروری تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ دراصل ریکارڈ میں ان کی پیدائش کی دو تاریخیں درج ہیں۔ فوج کے سربراہ چاہتے تھے کہ ان کی یوم پیدائش سرکاری دستاویز میں16 مئی 1950ء سے10 مئی 1951ء کی جائے۔ ایسا کرنے سے ان کی ملازمت کی میعاد ایک سال بڑھ جاتی ہے۔ وزارت دفاع نے جنرل سنگھ کی جانب سے ان کے یوم پیدائش بدلنے کی عرضی کو خارج کردیا تھا۔ ان کے یوم پیدائش کو لیکر پیدا ہوئے تنازعے میں سرکار کے آجانے کے بعد اپنے عہدے کے وقار کے مطابق جنرل وی کے سنگھ صبر سے کام لے رہے ہیں لیکن کئی ایسی باتیں ہیں جو جنرل سنگھ کے حق میں جاتی ہیں۔ وزارت قانون کے ایک جوائنٹ سکریٹری کے مطابق وزارت نے یوم پیدائش سے متعلق ان کے دعوے کوصحیح ٹھہرایاتھا۔ ذرائع کے مطابق یوم پیدائش کا تنازعہ بڑھنے پر ڈیفنس وزارت نے قانون وزارت سے اس سلسلے میں رائے مانگی تھی جس پر وزارت قانون نے اپنی یہ صلاح دی تھی۔
اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ کے سابق جسٹس جے ایس ورما سمیت دیگر تین سابق ججوں نے بھی جنرل وی کے سنگھ کے دعوے کو صحیح مانا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کئی مہینوں میں یہ پہلا معاملہ وزارت کے پاس آیا تھا۔ تب ویرپا موئلی ملک کے وزیر قانون تھے اور اس وقت ایڈیشنل سکریٹری آر ایل کوہلی تھے۔ کوہلی نے اس معاملے میں عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل سنگھ کے میٹرک کے سر ٹیفکیٹ میں درج عمر کو صحیح مانا تھا۔ بتایا جاتا ہے کوہلی کی اس رائے سے جے ایس ورما اور جسٹس چندر بھوڑ اور دو دیگر جج بھی اتفاق رکھتے تھے لیکن بعد میں سرکار نے اس معاملے میں اٹارنی جنرل واہنوتی سے بھی رائے مانگی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے واہنوتی نے قانون و انصاف وزارت کی رائے کو پوری طرح سے پلٹ دیا۔ انہوں نے جنرل کی یوم پیدائش 10 مئی1950ء کو ہی صحیح بتایا تھا۔ واہنوتی کی رائے کو قطعی مانتے ہوئے وزارت دفاع نے اپنا فیصلہ لیا۔ دراصل نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں 1966ء میں داخلے کے بعد جنرل وی کے سنگھ نے سبھی دستاویزات میں اپنی یوم پیدائش1951ء درج کرائی تھی۔ اس میں صدر کی جانب سے 2009ء میں دئے گئے اعزاز پرم وشسٹ سیوا میڈل کا سرٹیفکیٹ بھی شامل ہے۔ ڈیفنس وزارت کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ کے دعوے کو قبول کرنے پر انہیں دو کے بجائے تین برس کی توسیع دینی پڑے گی جو اگلے فوج کے سربراہوں کو جانشینی سونپنے کی اسکیم میں مشکلیں کھڑی کرے گا۔ سرکار کی یہ دلیل بے تکی ہی نہیں بلکہ اس کی قلعی بھی کھولتی ہے۔
آخر اندرا گاندھی نے جنرل کرشنا راؤ کے بعد سینئرٹی میں سب سے اوپر اور بیحد معزز لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا کو نظر انداز کر جنرل وید کو فوج کا چیف بنایا تھا۔ اہلیت اور سخت رویئے کے سبب ہی تب جنرل سنہا کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ اگر جنرل سنگھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے تووہ نہ صرف ایسا کرنے والے پہلے فوج کے سربراہ ہوں گے بلکہ اس طرح ان کا موقف مضبوط ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ سرکار کے لئے شرمندگی کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں بہتر یہ ہی ہوگا کہ سرکار اس کا قابل قبول حل تلاش کرے۔ ویسے بھی سرکار کو اس تنازعے میں نہیں پڑنا چاہئے تھا۔ اس سے جنرل وی کے سنگھ اور بھارتیہ فوج کی ساکھ بھی خراب ہورہی ہے۔ یہ غیر ضروری تنازعہ جتنی جلدی ختم ہو اتنا ہی سب کے لئے اچھا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Indian Army, Vir Arjun

دہلی کے نرسری اسکولوں میں داخلے میں کروڑوں کی کمائی



Published On 8th January 2012
انل نریندر
مجھے معلوم نہیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں نرسری کے داخلوں میں اتنی دھاندلی ہوتی ہے جتنی کہ دہلی میں ہوتی ہے۔ نرسری اور کے جی کے داخلے شروع ہوتے ہی دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں کی پوباراں ہوجاتی ہے۔ ادیوگ منڈل ایسوچیم کے مطابق اس مرتبہ داخلے کے فارم بیچنے سے ہی انہیں 1200 کروڑ روپے کی کمائی ہونے کا امکان ہے۔ یہ تو محض ایک اتفاق ہے دیش بھر کے تمام پبلک اسکولوں کے اعدادو شمار کو جوڑا جائے تویہ رقم بہت بڑی بنے گی۔ ایسوچیم کے مطابق پچھلے برس پرائیویٹ سیکٹر کے ان پبلک اسکولوں میں نرسری کے مہنگے فارم بیچ کر 1 ہزار کروڑ روپے کی کمائی کی تھی لیکن اس سال یہ رقم1200 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق کسی اچھے پبلک اسکول میں نرسری میں بچے کا داخلہ کرنا کوئی بڑی جنگ جیتنے سے کم نہیں ہے۔ والدین کو کئی بڑے اسکولوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور نرسری میں داخلہ مکمل ہونے تک 20 ہزار سے25 ہزار روپے تک خرچ ہو جاتے ہیں۔ ایسوچیم کے سکریٹری جنرل ڈی ایس راوت کے مطابق داخلہ فارم کی فروخت کچھ دنوں کے اندر بند کردی جاتی ہے۔ بہت محدود دن رکھے جاتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی نامور اسکول میں بچے کے داخلے کے لئے ماں باپ دن رات ایک کردیتے ہیں۔ ایسوچیم کے سروے کے مطابق دہلی میں چھوٹے بڑے تقریباً تین ہزار پبلک اسکول ہیں جو نرسری کے داخلے کے لئے ایک پورا دستورالعمل (پراسپیکٹس)جاری کرتے ہیں جس میں داخلے کی تمام معلومات ہوتی ہیں۔ دہلی سرکار نے حال ہی میں ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے داخلے میں 25 فیصد سیٹیں اقتصادی طور سے پسماندہ خاندانوں کے بچوں کے لئے مختص کرنے کو کہا ہے۔ اس سے عام زمرے کے بچوں کے لئے داخلے میں سیٹیں محدود رہ جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ والدین کو ایک دو نہیں بلکہ کئی اسکولوں میں داخلے کے فارم پر پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ سروے کے مطابق دہلی پبلک اسکولوں میں نرسری اور کے جی داخلے کے فارم کو دہلی یونیورسٹی ،انڈین مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ، چارٹرڈ اکاؤنٹٹنٹ اور دیگر تعلیمی اداروں سے بھی مہنگے ہوگئے ہیں۔
نرسری و پری پرائمری اسکول میں داخلہ فارم کی فیس کی قیمت ہی دیکھ کر پریشان ہونے والے والدین کا درد سر یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ فارم جمع کر کے ہلکا محسوس کررہے ہیں تو آپ سنبھل جائیں کیونکہ ایڈمیشن ہونے کے بعد اب نرسری کی فیس کی مار جیب پر پڑنے والی ہے۔ مہنگائی کی مار، پراسپیکٹس کی قیمت کی مار کے بعد انہیں چوطرفہ مار سے کم نہیں لگ رہی ہے۔ قسطوں میں فیس کی ادائیگی تو تب بھی سمجھ میں آتا ہے لیکن کئی اسکولوں میں یکمشت فیس جمع کرانے کی جو شرط مقرر کی ہے وہ والدین کے گلے کی پھانس بن گئی ہے۔ نرسری کلاس بھلے ہی چھوٹی لگ رہی ہو لیکن اس کے خرچ کسی اعلی تعلیم کے خرچوں سے کم نہیں۔ سالانہ خرچ کی بات کریں تو دہلی میں ایسے اسکولوں کی کمی نہیں جو 70 ہزار سے1 لاکھ روپے تک کی فیس وصولتے ہیں۔ درمیانہ طبقے کے خاندان کے لئے اتنی رقم کا انتظام کرنا بیحد مشکل کام ہوتا جارہا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Nursery Admission, Vir Arjun

07 جنوری 2012

بھاجپا کیا ایسے لائے گی اترپردیش میں رام راجیہ؟



Published On 7th January 2012
انل نریندر
چناؤ کے وقت ہر سیاسی پارٹی کو اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھنے چاہئیں۔ ان کے ہر قدم کو مائیکرو اسکوپ سے دیکھا جائے گا اور ان کے سیاسی حریف ہر غلطی کا خوب سیاسی پروپگنڈہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اترپردیش کے قومی دیہی ہیلتھ مشن گھوٹالے میں پھنسے مایاوتی کے قریبی سابق وزیرصحت بابو سنگھ کشواہا کے بھاجپا میں شامل ہونے سے ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے اور کشواہا بھاجپا کے گلی کی ہڈی بن گئے ہیں۔ اترپردیش چناؤ سے ٹھیک پہلے ایسی متنازعہ شخصیت کو پارٹی میں لینا خطرے بھرا فیصلہ ہے۔ 15 روز پہلے پارلیمنٹ میں کرپشن کے اشو پر سب سے زیادہ شور مچانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملزم بابو سنگھ کشواہا کو پارٹی میں شامل کرنے سے بھی پرہیز نہیں کیا۔ اس کے اس الزام میں بیشک دم ہے کہ کشواہا کے بھاجپا میں آنے کے محض24 گھنٹے کے اندر ہی سی بی آئی کو ان کے ٹھکانوں پر چھاپہ مارنے کا خیال کیسے آیا؟ مگر یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ خود اس کے سینئر لیڈر بشٹ سمیا نے وزیراعلی مایاوتی اور اس کے ساتھی کشواہا کے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ کیا پارٹی پردھان نتن گڈکری کو یہ پتہ نہیں تھا کہ سابقہ پریوارکلیان منتری بابو سنگھ کشواہا کے خلاف بدعنوانی میں ملوث ہونے کے سنگین الزام لگائے گئے تھے۔ ساتھ ہی دو سابق سی ایم او اور ایک سابق ڈپٹی سی ایم او کے قتل کے معاملے میں ملوث ہونے کے الزامات بھی کشواہا پر ہیں؟ ان کو پارٹی میں شامل کرنے کو لیکر بھاجپا میں مہابھارت چھڑ گیا ہے۔ جہاں بھاجپا کے قومی صدر نتن گڈکری اور بھاجپا کے پسماندہ طبقے کے نیتا کشواہا کے بچاؤ میں کھڑے ہوگئے ہیں ۔وہیں پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج سمیت پارٹی کے کئی بڑے نیتا ان کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے اختلاف کے چلتے آخر کار پارٹی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ کشواہا کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ اگر ان کو ٹکٹ نہیں دینا تھا تو پھر ایسے داغی آدمی کو پارٹی میں لائے ہی کیوں؟ جس طرح پارٹی میں کشواہا کی اینٹری پر ہنگامہ ہوا اس سے لگتا ہے کہ یوپی میں تھوک کے بھاؤ پارٹی میں آنے والوں کی کوشش کرنے والے لوگوں کے بارے میں چھان بین ہوگی اور کئی داغیوں کی اینٹری پر اب بریک لگ جائے گا۔ شری اڈوانی اور سشما کے اختلاف کے بعد پارٹی کے اندر اب چناؤ کے وقت ہونے والے پارٹی بدل کے سلسلے میں پارٹی چوکس رہے گی۔ داغی لوگوں سے دور رہنا چاہئے۔ بھاجپا کو چاہئے کہ وہ اس بات کا بھی پروپگنڈہ کریں کہ بی ایس پی اور کانگریس کا اندرونی گٹھ جوڑ ہے اور اس کا پردہ فاش کرے۔ یہ اجاگر کیا جانا چاہئے۔ ویسے بھی بی جے پی میں آنے کے اگلے دن ہی اس شخص کے خلاف سی بی آئی کارروائی کررہی ہے یہ کارروائی دونوں مایاوتی اور کانگریس کو زیب دیتی ہے۔ بیشک یہ صحیح ہے یا نہیں لیکن بھاجپا کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ 30 دسمبر کو پارٹی کے قومی سکریٹری کرٹ سمیا کئی سو صفحے کے کاغذات کا پلندہ کشواہا کے خلاف سی بی آئی کو دیکر آتے ہیں اور اس کے چار دن بعد3 جنوری کو کشواہا کو نتن گڈکری صاحب پارٹی کے اندر آنے کی دعوت دیتے ہیں؟ افسوسناک بات یہ ہے کشواہا کا معاملہ اکیلا نہیں ہے اپنی کھوئی ہوئی زمین پھر سے حاصل کرنے کیلئے بھاجپا کی لیڈر شپ کسی حد تک تیار ہے۔کشواہا سے پہلے سابق وزیر بادشاہ سنگھ، اودھیش کمار ورما، گگن مشر جیسے سابق وزرا کو سیاسی پناہ دی گئی ۔جن کو مایاوتی نے پارٹی اور سرکار سے باہر نکالا بھاجپا نے اسے گلے لگا لیا۔ اپنے چال ، کردار، چہرے اور ساکھ کے معاملے میں دوسروں سے الگ اور پائیدار ہونے کا دعوی کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی یوپی میں اتنا گر گئی ہے کہ اس نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی تک کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں نے کرپشن کے الزامات میں پارٹی یا کیبنٹ سے برخاست کئے گئے وزرا کو اپنا ٹکٹ دینے سے انکارکردیا۔ مگر بھاجپا نے اپنے دہلی ہیڈ کوارٹر میں ان داغیوں کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا اور حد تو اس وقت ہوگئی جب بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا کہ گندے نالے بھی گنگا میں ملنے کے بعد پوتر ہوجاتے ہیں۔ حال تک یہ ہی نقوی صاحب مایاوتی اور ان کے وزرا کو علی بابا اور چالیس چور بتا رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ داغیوں کو پارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ بھاجپا صدر اور اعلی نیتاؤں کی رضامندی سے ہی ہوا ہوگا اس لئے یہ اور بھی خطرناک ہے۔ ایسی ذہنیت رکھنے والوں کو پارٹی میں شامل کرکے بھاجپا اترپردیش میں کیسا رام راجیہ لانا چاہتی ہے۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...