Translater

25 مئی 2011

اوبامہ کی دھمکی کا پاکستان نے اسی انداز میں دیا جواب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے امریکہ آپریشن اسامہ کارروائی دوہرانے میں دیر نہیں کرے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران اوبامہ نے کہا اپنی سلامتی کے لئے وہ پاکستان میں دوبارہ اپنی فوج بھیجنے سے نہیں چوکیں گے۔ بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرتے ہیں لیکن امریکہ کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کے خلاف سازش اور رچی جائے،اس پر امریکہ کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کا سرغنہ پاکستان میں پایا جاتا ہے تو امریکہ فوج کو دوبارہ بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے تئیں پاکستان کا جو دوہرا پیمانہ اس کی بڑی بھول ہے۔ اسی وجہ سے بھارت اسے اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس ذہنیت سے دور ہٹ کر کام کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس بات کو محسوس کرے اس کے لئے سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اس کے گھر کے اندر ہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں روکے تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ پاشا نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل موٹیل کے ساتھ سنیچر کو ہوئی بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاشا نے موٹیل سے کہا کہ اگر آپ ڈرون حملے نہیں روکیں گے تو ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہوں گے۔ پاشا نے حال ہی میں پاکستانی ہوائی سرحد میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو امریکہ اور پاکستان کے فوجی اشتراک کو ایک جھٹکا بتایا۔ پاکستان کے دورے پر آئے موٹیل سی آئی اے کے آپریشنل افسر اور آئی ایس آئی افسروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔
دراصل ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی دوہری پالیسی کو سمجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا بھروسے مند اتحادی بتاتا ہے ، دوسری جانب آتنکوادیوں کو پوری سکیورٹی اور ٹریننگ ، پیسہ دیتا ہے۔ وہیں امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین کو آگے کردیتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چین کے تئیں دکھائی گئی بھائی چارگی نے کچھ امریکی ممبران کی بھنویں چڑھا دی ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کو اپنا سب سے اچھا دوست بتانے والا پاکستان امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مدد کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹ کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں سینیٹر جم رش نے کہا ہمارے ذریعے خرچ کئے گئے ایک ڈالر میں سے 40 فیصد ادھر سے آتے ہیں۔ امریکی لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم سے 40 فیصد ادھار لیکر اسے پاکستان کو نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد بھی پاکستان سرکار چین کو اپنا بھروسے مند دوست مانتا ہے۔

Tags: America, Anil Narendra, China, CIA, Daily Pratap, ISI, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Shuja Pasha, Vir Arjun

جیسے بیج بوؤگے ویسی ہی فصل کاٹوگے!

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستان کے اندرونی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، شاید ہی اب کوئی دن ایسا جاتا ہو جب وہاں دہشت گردانہ واقعات نہ ہوتے ہوں۔ ایتوار کی رات کو پاکستانی ساحلی شہر کراچی میں انتہائی محفوظ مانا جانے والا ایک بحریہ کا ایئر بیس مہران ہوائی اڈے پر دہشت گردوں سے زبردست حملہ کیا۔ سکیورٹی فورس سے16 گھنٹے مڈ بھیڑ چلی اور تب جاکر پاکستانی کمانڈو نے ان دہشت گردوں پر قابو پایا اور اس ہوائی اڈے کو آزاد کرالیا۔ اس حملے میں 10 سکیورٹی جوان اور4 آتنکی مارے گئے۔ مڈ بھیڑ کے درمیان چار دہشت گردوں نے خود کو اڑالیا۔ کراچی کا یہ حملہ ممبئی میں26/11 حملے جیسا ہی تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ حملہ بہت بڑا تھا اور طویل چلا تھا، لیکن یہ حملہ چھوٹا اور جلد ختم ہوگیا۔ یہ حملہ اس لئے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ ایک فوجی ایئر بیس پر حملہ ہوا ہے اور یہاں گھس کر تقریباً15 گھنٹے تک سکیورٹی فورس کا مقابلہ کرکے طالبان نے پاکستانی اقتدار اور فوج کو سنگین چیلنج کیا ہے۔ پاکستان میں فوج ، آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر، پولیس عمارتیں، ملٹری کالج تقریباً سبھی محفوظ ٹھکانے آتنک وادی حملوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر پر اکتوبر2009 میں ہوئے حملے کے بعد یہ سب سے خطرناک حملہ تھا۔
یہ حملہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ٹھکانا ان چنندہ اہم ٹھکانوں میں سے ایک ہے جہاں سکیورٹی انتظام ہمیشہ چاق چوبند رہتے ہیں کیونکہ یہاں پاک فوج سے وابستہ کچھ اہم ادارے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پی ایم ایس مہران جہاں آتنکوادیوں نے حملے کو انجام دیا وہ پاکستانی بحریہ اور ایئر فورس کا مضبوط اڈہ ہے۔ یہ پاک بحریہ کا پہلا بحری ایئر اسٹیشن ہے۔یعنی یہ پاکستانی بحریہ کے ہوائی دستوں کا اڑان بھرنے کا ٹھکانا ہے۔ یہ ہی نہیں اس سے بالکل پاس میں واقع پاکستان فیضل ایئر بیس ہے، یہیں پر پاکستانی ایئر فورس کی ساؤتھ کمان موجود ہے۔ اس حملے نے امریکہ کوبھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں سب سے محفوظ مانے جانے والے کراچی کے مہران بحری اڈے کی سلامتی کے انتظام کو بھانپتے ہوئے آتنک وادیوں نے جس طرح سے یہ واردات کی اس سے امریکہ و مغربی ممالک میں یہ خدشہ زیادہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ نہیں ہیں۔ اور ان ہتھیاروں کا سب سے بڑا حصہ کراچی کے ان ٹھکانوں میں ہی محفوظ رکھا گیا ہے۔ امریکہ کو اب یہ ڈر لگنے لگا ہے کہیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار آتنکوادیوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ کراچی کا یہ حملہ پاک ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کیلئے طالبان کی یہ ڈریس ریہرسل ہوسکتی ہے۔ آتنکیوں نے سوچا ہو کہ کیوں نہ ہم اس بیس پر حملہ کرکے تجربہ کریں کہ کیا اگلی بار ہم ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں؟
ہمارے بڑے بوڑھے کہتے ہیں جیسا بیج بوؤگے ویسی ہی فصل کاٹو گے۔ پاکستان آج دنیا کی سب سے بڑی ٹیرر فیکٹری بن چکا ہے۔ یہاں بچوں تک کو جہادی بنایا جارہا ہے اور اس کام کے لئے پیسہ دے رہے ہیں سعودی عرب اور متحدہ ارب عمارات۔ پاکستان کے بڑے اخبار ڈان نے وکی لکس کے حوالے سے ایتوار کو یہ خبر دی کہ خلیجی ممالک سے ان تنظیموں کو ہر سال تقریباً10 کروڑ ڈالر کی رقم مل رہی ہے۔ اس رقسم سے پاکستان کی جہادی تنظیمیں اپنے کیمپ چلا رہی ہیں۔ آج پاکستان اپنے بنے ہی جال میں پھنس گیا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے؟ ادھر کنواں تو ادھر کھائی ہے۔
 Tags: Pakistan, Anil Narendra, Vir Arjun, Terrorist, 26/11, Taliban, ISI, Daily Pratap,

24 مئی 2011

القاعدہ کا مصری کنکشن: سیف العدیل

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
 
24مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد اس انتہا پسند تنظیم نے اپنا نیا لیڈر چن لیا ہے۔ القاعدہ کا مصری رابطہ کار سامنے آگیا ہے۔ بن لادن کا جانشین ہے مصر کا ایک سابق فوجی افسر اس کا نام ہے سیف العدیل۔ یہ بن لادن کے مارے جانے کے قریب 15 روز بعد عارضی طور پر لیڈر چنا گیا ہے۔عدیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ1981 ء میں مصر کے سابق صدر انور سعادات کے قتل کے لئے ذمہ دار تنظیم اسلامک جہاد کا ممبر رہ چکا ہے۔ وہ افغانستان میں 1980 کی دہائی میں سوویت روس کی فوج کے خلاف لڑائی میں بھی شامل رہا۔2001ء میں طالبان کے زوال کے بعد وہ ایران بھاگ گیا تھا۔ سی این این میں دو دہائی سے زیادہ وقت سے القاعدہ سے واقف نعمان کے حوالے سے بتایا کہ سیف العدیل القاعدہ کا روپوش لیڈر ہے۔ خبر کے مطابق العدیل کی تنظیم میں طویل عرصے سے اہم کرداررہا ہے۔
ادھر اسامہ کو زندہ یا مردہ پکڑنے سے امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ 25 لاکھ ڈالر یعنی11 کروڑ روپے کا انعام کسی کو نہیں دیا جارہا ہے۔ امریکی حکام نے یہ سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اسامہ کے خاتمے کی وجہ کوئی مخبر نہیں بلکہ جدید ترین مشینیں اور خفیہ ایجنسیاں تھیں۔ اس فیصلے سے ان قیاس آرائیوں پر روک لگ گئی جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ انتہا پسند تنظیم سے وابستہ کسی شخص نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو اسامہ تک پہنچایا۔ اسامہ بن لادن امریکہ کی موسٹ وانٹڈ دہشت گردوں کی فہرست میں سب سے اوپر شامل تھا۔
ویب سائٹ بی بی سی ، کوم کو ڈاٹ یو کے نے اسامہ کے ذریعے ان کی موت سے کچھ عرصے پہلے مبینہ طور پر ریکارڈ کیا گیا ایک آڈیو ٹیپ جاری کیا ہے۔ لادن کا یہ آڈیو ٹیپ 12 منٹ کا ہے جسے ایک اسلامی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ ٹیپ میں لادن نے تیونس اور مصر کے مخالف مظاہرین کو نصیحت دی ہے لیکن شام اور لیبیا اور یمن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لادن نے کہا مجھے لگتا ہے کہ اللہ کی مرضی سے پوری مسلم دنیا میں تبدیلی کی لہر چلے گی۔ آپ کے سامنے دو راہیہ ہے۔ مسلم فرقے کے ساتھ کھڑے ہونے اور خود کو حکمرانی کی توقعات ، انسانی قوانین اور مغربی بالا دستی سے نجات کرانے کا ایک واحد اور سنہرہ تاریخی موقعہ ہے۔ لادن نے کہا توآپ کس کا انتظار کررہے ہیں؟
لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے عارضی چیف سیف العدیل نے دھمکی دینے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق سیف نے لادن کی موت کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔ اخبار نے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے لیڈر لندن میں بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ احسان کے مطابق العدیل کا خیال ہے برطانیہ یوروپ کی ریڑھ ہے اور اسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں لندن پر بڑا حملہ کرکے یوروپ سمیت پوری دنیا کو ہلایا جاسکتا ہے۔ اس درمیان یہ بھی خبر ہے کہ طالبان القاعدہ لیڈر پاک سرحد سے ملحق افغانستان کے علاقوں میں ملے ہیں اور آگے کی حکمت عملی پر غور خوض ہوا ہے۔ العدیل کو ایمن الظواہری اور الیاس کشمیری کو نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
Tags: Al Qaida, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap, Egypt, Osama Bin Ladin, Aiman Al Zawahiri,

۔34سال بعد رائٹرس بلڈنگ میں لوٹے ایشور

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
24مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
مغربی بنگال میں شکروار کو پہلی خاتون وزیر اعلی کی شکل میں حلف لے کرمحترمہ ممتا بنرجی نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ 34 سال بعدبھگوان مغربی بنگال میں لوٹے۔ ممتا بنرجی نے شکروار کو ٹھیک1.01 منٹ پر ایشور کے نام پر عہدۂ راز داری کا حلف لیا۔ اس سے پہلے لیفٹ مورچہ کے وزراء نے 34 سال کے عہد میں بھگوان کا نام نہیں لیا وہ ہمیشہ حلف آئین کے نام پر لیتے رہے۔ آخر اس وقت 1.01 منٹ کے پیچھے کیا خاص بات ہے؟ نجومیوں کا کہنا ہے کہ یہ وقت ممتا بنرجی کے لئے اچھا ہے جو انہیں پانچ سال کی پوری پاری مکمل کرائے گا اور تھوڑا ہوشیار رہتے ہوئے اپنی حلف برداری تقریب کے بعد عوام کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے روایت توڑ کر ممتا بنرجی راج بھون سے رائٹرس بلڈنگ یعنی وزیر اعلی کے دفتر تک جلوس کی شکل میں پیدل گئیں۔ ان کے حمایتیوں کی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے رائٹرس بلڈنگ کے سبھی دروازے کھول دئے گئے۔ راج بھون میں دوپہر ٹھیک 1بجکر1 منٹ پر گورنر ایم کے نارائنن نے ممتا کو وزیر اعلی کی حیثیت سے عہدے کا حلف دلایا۔ اپنے روایتی ٹریڈ مارک ساڑی، ربڑ کی چپل اور سفید سوتی شال اوڑھے ممتا نے بنگلہ زبان میں ایشور کے نام پر حلف لیا۔ لیفٹ کے راج میں سیاسی تشدد کا شکار ہوئے خاندانوں کے لوگوں کو خاص طور پر بلایا گیا تھا۔ ممتا بنرجی کے کالی گھاٹ میں واقع گھر سے راج بھون تک ایک کلو میٹر کے راستے میں دونوں طرف جمع بھیڑ ان کی حمایت میں نعرے لگا رہی تھی۔
ممتا نے اپنی 43 نفری کیبنٹ میں اقلیتوں، دلتوں، آدی باسیوں ، پسماندہ طبقوں اور خواتین یعنی سماج کے سبھی طبقات کو مناسب نمائندگی دی ہے۔ جو کہنے کو تو کسی کتابی اصولوں کے مطابق لیفٹ مورچہ کی شکل میں مغربی بنگال میں سرو سماج طبقے کی حکومت تھی لیکن ممتا بنرجی کی حلف برداری تقریب دیکھ کرکہا جاسکتا ہے کہ عام طور سے عوامی حکومت اب قائم ہوئی ہے۔1977 میں پہلی بار لیفٹ مورچہ سرکار بننے پر اس کی وزیر اعلی جوتی بسو سے بے عزتی کا بدلہ18 سال بعد ممتا نے لیا ہے۔ ممتا نے تب قسم کھائی تھی کہ وہ ریاست کے وزیر اعلی کی شکل میں ہیں رائٹرس بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھیں گی۔ سنگور اور نندی گرام تحریک کے ذریعے جنتا میں اپنی پکڑ بنانے والی ممتا کا خواب پورا ہوا۔ وہ ریاست کی 11 ویں وزیر اعلی بنیں۔ تقریباً ڈھائی دہائی تک مغربی بنگال میں جس لیفٹ فرنٹ سرکار کے خلاف ممتا نے مسلسل جدوجہد کی اس فرنٹ کے سینئر لیڈروں کو حلف برداری تقریب میں بھی مدعو کرکے ممتا نے سیاسی سوجھ بوجھ کا اشارہ دیا۔ وہ ٹکراؤ سے نہیں میل جول اور بات چیت کے راستے سے چلیں گی۔ ممتا نے اپنی حلف برداری میں نندی گرام اور سنگور تحریک میں مارے گئے لوگوں کے رشتے داروں کے علاوہ مخصوص مہمانوں کی شکل میں سونا گاچھی علاقے کی سیکس ورکر اور رکشہ پولروں کے نمائندوں کوبھی مدعو کرکے با آور کرایا کہ وہ اب واقعی ایک نئے مغربی بنگال کیلئے کام کریں گی۔ ممتا کے سامنے چنوتیوں کی انبار ہے ۔ تشدد اور مالی محاذ پر خراب حالات قابو سے باہر بتائے جارہے ہیں۔ سرکاری خزانہ خالی ہے۔ پوری گاڑی ہی پٹری سے اتری ہوئی ہے۔ گاڑی کو واپس پٹری پر لانا آسان کام نہیں ہوگا۔ ممتا بنرجی کی شاندار کامیابی پر ہماری مبارکباد اور امید کے اب شاید ان کی لیڈر شپ میں مغربی بنگال کی قسمت سنور جائے۔
Tags: Anil Narendra, Cpi, CPM, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

22 مئی 2011

پاکستان نے پھر کھیلا بیجنگ کارڈ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

22مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
چاروں طرف سے گھرے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا بیجنگ کارڈ کھیل دیا ہے اور آج کل پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بیجنگ میں ماتھا ٹیکنے گئے ہوئے ہیں۔ چین پچھلے کچھ برسوں سے پاکستان کا کافی بھروسے مندملک بنا ہوا ہے۔ چین نے گیلانی کے موجودگی میں امریکہ کو وارننگ دے ڈالی۔ چین نے امریکہ کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان سے دور رہے۔ اس کے ساتھ چین نے پاکستان کو بھی یقین دلایا کہ وہ اس کی حفاظت اور مدد کیلئے سب کچھ کرے گا۔ امریکہ پاکستان کی سرداری کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ’’دی نیشن‘‘ نے یہ جانکاری دی ہے۔ میڈیا کی ایک خبر میں کہا گیا ہے ایبٹ آباد میں القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے خلاف چلائی گئی امریکی کارروائی کے سلسلے میں چین نے صاف طور پر خبردار کیا ہے کہ پاکستان پر کئے گئے کسی بھی حملے کو وہ چین پر حملہ سمجھے گا۔ یہ وارننگ بھرا پیغام واشنگٹن میں چین امریکہ سیاسی مذاکرات کار اور اقتصادی امور پر ہوئی بات چیت کے دوران رسمی طور سے چینی وزیر خارجہ نے دے دیا ہے۔ امریکہ کی پاکستان کی سرداری اور اتحاد کا احترام کرنے کی بھی نصیحت دے دی ہے۔چین کے وزیراعظم بن جیاباؤ نے یوسف رضا گیلانی کو گریٹ ہال آف دی پیپلز اپنی رسمی بات چیت کے دوران اس بارے میں بتایا۔
چین دنیا کا سب سے بڑا بنیا ہے۔ وہ بغیر کسی لالچ کے کوئی کام نہیں کرتا۔ اگر آج وہ پاکستان کی اتنی کھلی مدد کررہا ہے تو اس کی قیمت میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی زمین کو آہستہ آہستہ ہڑپتا جارہا ہے۔ پاکستان کشمیر کے ہمارے حصے کو چین کو تھماتا جارہا ہے۔ چین نے پہلے ہی ہزاروں کلو میٹر رقبہ اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ بھارت کے ناردن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کے وی پنٹائک نے حال ہی میں ایک سیمینار میں کہا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی فوجیوں کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور لائن آف کنٹرول میں ان فوجوں کی موجودگی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چین پی او کے میں مسلسل تعمیر کراتا جارہا ہے۔ چین پی او کے کے اندر کئی سڑکیں اور ہوائی اڈے اور ہائیڈرو پاور بجلی گھر شامل ہیں۔ بھارت بدقسمتی سے آج چین اور پاکستان دونوں کا دشمن نمبر ایک ہے۔ امریکہ کا نمبر ہمارے بعد آتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 1962 میں ہند ۔ چین جنگ کے دوران چین میں شمالی علاقے کے 38 ہزار مربع کلو میٹر اکسائی چن کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے اگلے سال پاکستان نے بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لئے چین سے ایک سمجھوتہ کرکے پی او کے کی 5120 مربع کلو میٹر علاقہ چین کی ترقی کیلئے سونپ دیا تھا۔ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ علاقہ سلامتی کے لحاظ سے سیاسی طور سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان امریکہ کو آنکھ دکھانے کے لئے ہمیشہ بیجنگ کارڈ کھیلتا ہے۔ چین نے پاکستان کو نیوکلیائی سے لیکرہر طرح کی مدد دی ہے۔ حالانکہ کھلے طور پر چین کوئی ایسا کام شاید نہ کرے جس سے امریکہ ناراض ہوجائے لیکن بھارت اس کی کسی گنتی میں نہیں۔ پاکستان ہمیشہ بلیک میلنگ کرکے اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔ کبھی امریکہ کو القاعدہ ۔طالبان کے خلاف لڑائی کا ناٹک کرکے ، کبھی چینی کارڈ کھیل کر۔
Tags: Aksai Chin, America, Anil Narendra, Beijing, China, Jammu Kashmir, Pakistan, Vir Arjun

کنی موجھی بھی پہنچ گئیں تہاڑ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
اسپیشل سی بی آئی جج نے شکروار کو ڈی ایم کے ایم پی اور کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی اور کلیگنر ٹی وی کے ڈائریکٹر شرد کمار کی ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ضمانت عرضی مسترد کرتے ہوئے انہیں فوراً گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ کنی موجھی تہاڑ جیل میں بیرک نمبر6 میں رکھی گئی ہیں ، جہاں پاک جاسوس کانڈ میں گرفتار مادھوری گپتا بھی ہیں، کے ساتھ رہیں گی۔ قابل ذکر ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں سابق ٹیلی کمیونی کیشن وزیر اے راجہ، شاہد بلوا، سدھارتھ بلوا اور سنجے چندرا اے ڈی اے جی کے دو اعلی افسر پہلے ہی سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ 43 سالہ کنی موجھی اور شرد کمار کوسنیچر کو 10 بجے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ کنی موجھی بھی عدالت کا حکم سن کر ایک دم صدمے میں آگئیں اور رونے لگیں۔ ان کے خاندان کے ممبران اور ان کے شوہر اروندر نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ عدلت کے حکم سنائے جانے پر ڈی ایم کے کے کچھ حمایتی رونے لگے اور چلانے لگے اور عدالت نے اپنے 144 صفحات کے حکم میں کہا کہ گواہی دینے والے زیادہ تر لوگ کلیگنر ٹی وی کے ملازم ہیں، جنہیں لالچ دیا جاسکتا ہے۔
اس سے پہلے سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں کنی موجھی پر الزام لگایا کہ انہیں غیر قانونی طریقے سے کلیگنر ٹی وی کو قریب200 کروڑ روپے کے لین دین کا پتہ تھا۔ ایک پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے اس چینل کو200 کروڑ روپے دئے گئے جس کی واقفیت کنی موجھی کو تھی۔ قابل ذکر ہے اس گھوٹالے میں سابق وزیرمواصلات اے راجہ جوڈیشیل ریمانڈ میں ہیں۔ یہ گھوٹالہ چھوٹا موٹا نہیں1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کا ہے۔ ادھر اے راجہ اب دنیا بھر میں مشہور ہوگئے ہیں۔ کہتے ہیں نام کمانے کا ایک طریقہ بدنام ہونا بھی ہے۔ تبھی تو تہاڑ جیل میں سابق وزیر مواصلات اے راجہ کی سیاسی گلیاروں میں کوئی خبر نہ لے رہا ہو لیکن نامور میگزین ’’ٹائم‘‘ نے انہیں یاد کیا ہے۔ اس میگزین نے انہیں دنیا کے سب سے بدنام لیڈروں کی فہرست میں اہمیت کے ساتھ جگہ دی ہے۔ ٹائم نے اقتدار کے بیجا استعمال کے دنیا کے دس بڑے معاملوں میں شامل لوگوں کی ایک فہرست بنائی ہے۔ اس میں بھارت کا نام روشن کرنے کے لئے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ دوسرے نمبر پر ہے۔ سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے عہد کے دوران واٹر گیٹ سے جڑے معاملے کوخاص اہمیت دی گئی ہے۔بدنام نیتاؤں کے کلب میں منموہن سنگھ سرکار سے استعفیٰ دے چکے ڈی ایم کے لیڈر اے راجہ نے لیبیائی صدر معمر قذافی ، نارتھ کوریا کے لیڈر کنگ جونگ اور روشن خیالی کے لئے بدنام اٹلی کے وزیر اعظم سلوبرلسکونی کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ٹائم نے اسپیکٹرم گھوٹالے پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ ’’حال کے کچھ مہینوں میں بھارت کی یو پی اے سرکار اس بڑے گھوٹالے سے ہل گئی ہے۔ اس معاملے نے اقتدار پر پکی پکڑ رکھنے والی سرکار کو چنوتی دی ہے۔‘‘ الزامات کی وجہ سے پچھلے سال راجہ کو استعفیٰ دینا پڑا۔
کروناندھی کاسامراجیہ بکھر رہا ہے۔ ان کو اسمبلی چناؤ کو بھی بھاری شکست ملی ہے۔بیٹی اور وفادار دونوں جیل میں ہیں۔ خاندان ٹوٹنے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دیکھتے ہیں آگے آگے ہوتا ہے کیا؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Corruption, DMK, Kalaignar TV, kani Mozhi, Karunanidhi, Manmohan Singh, Richard Nixon, Water Gate Scandal

21 مئی 2011

صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا عوام کو صحیح جواب چاہئے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
21مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
حکومت ہند کی جانب سے پاکستان کو سونپی گئی 50 مشتبہ مطلوب بھگوڑوں کی فہرست میں 2003 میں ممبئی کے مولنڈ سمیت کچھ مقامات پر ہوئے دھماکوں میں نامزد وجیہی القمر خاں کو لیکر ہوئی گڑ بڑی کو معمولی کلیریکل غلطی کہہ کر معاملے کو رفع دفع نہیں کیا جاسکتا۔ وزارت داخلہ کے اس کلنڈر سے بھارت کی پاکستان سمیت پوری دنیا میں بے عزتی ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمارے دیش کی خفیہ ایجنسیوں میں آپسی تال میل میں کتنی کمی ہے۔ یہ ہماری سمجھ سے تو باہر ہے لیکن کیسے ان مطلوب بھگوڑوں کی فہرست بغیر صحیح جانچ پڑتال چیکنگ ، کراس چیکنگ کے بغیر جاری کردی گئی؟ اس فہرست میں ممبئی حملے کے ایک ملزم وجیہی القمر خاں جو کہ نہ صرف بھارت میں موجود ہے بلکہ ضمانت پر رہا بھی ہوگیا، اس کا نام اس فہرست میں کیسے آگیا؟ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کا غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں ہے۔ انہیں ان تین باتوں کا جواب دینا ہوگا۔ پہلی یہ کہ یہ فہرست کس نے بنائی تھی؟ کیا یہ کام کسی آرام پسند اور ضرورت سے زیادہ تنخواہ لینے والے بابو نے کروایا تھا ، جسے یہ معلوم ہے کہ اس کی نوکری نہیں جاسکتی اور اسے کسی کی پرواہ نہیں؟ دوسرا کیا یہ فہرست آئی بی ، راء اور این آئی اے و سی بی آئی میں پہلے بانٹی گئی تھی؟ اگر انہیں یہ فہرست دکھائی گئی تھی تو سی بی آئی کیوں خاموش رہی اور اس نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وجیہی القمر خاں نامی شخص ممبئی کے مولنڈ علاقے میں موجود ہے اور فی الحال ضمانت پر رہا ہوا ہے۔اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کیا کررہی تھی جبکہ اس کا کام ہے جو ملزم ایسے سنگین معاملے میں ضمانت پر ہے اس پر گہری نگاہ رکھی جائے جو لگتا ہے اس نے نہیں کیا؟ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ وجیہی القمر خاں فی الحال رہتا کہاں ہے؟ جب تک ان سوالوں کا جواب چدمبرم نہیں دیتے تب تک اس معاملے میں غفلت کہاں ہوئی ہے ، کا پتہ نہیں چلے گا؟
انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں میں آپسی کوئی تال میل نہیں ہے اور ہمیشہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ سی بی آئی جیسی ایجنسی کو حکمراں پارٹی نے اپنے سیاسی مفاد کی تکمیل پر زیادہ توجہ دینے پر لگایا ہوا ہے بہ نسبت ملک دشمنوں کے خلاف نگرانی رکھنے کے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اپنی ذمہ داری نہیں بچ سکتے۔ وہ بیشک اب کہیں کہ وزیر داخلہ چدمبرم نے انہیں اندھیرے میں رکھا لیکن وزیر اعظم کا کام ہے کہ اتنے اہم مسئلے پر خود توجہ دیں۔ پاکستان تو ہمیشہ سے یہ ہی کہتا آرہا ہے کہ بھارت کی مانگ پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعہ دیش کی ساکھ پر سوال بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہم کہتے رہے ہیں کہ ہم ثبوت دیتے آئے ہیں لیکن بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کو پاکستان کی زمین سے انجام دیا جارہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کی غلطی پاکستان کو اپنا موقف مضبوط کرنے کا موقعہ دے سکتی ہے۔ کیونکہ یہ ماننے کو وہ تیار نہیں ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے حملوں کو انجام دینے والوں کو اس نے پناہ دے رکھی ہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھارت اتنی لمبی مطلوب بھگوڑوں کی فہرست کیوں بناتا ہے؟ ہمیں تو گنے چنے مٹھی بھر ان سرغناؤں یا آتنکیوں کی چھوٹی فہرست دینی چاہئے جو ہمارے دیش کی سلامتی کے لئے سب سے زیادہ اہم ہوں۔
Tags: Anil Narendra, CBI, Dawood Ibrahim, India, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, RAW, Vir Arjun, Wanted List

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...