Translater
14 اگست 2021
کٹنگ ،زلزلے اور بارش سے کمزورہوتے پہاڑ!
ہماچل پردیش کے کنور ضلع میں بدھ کو قومی شاہراہ پانچ (شملہ سے کنور جانے والا راستہ)پر سکانگ پیو کے پاس اچانک پہاڑ ٹوٹ گیا اس دوران وہاں سے گزر رہی چھوٹی بڑی گاڑیوں کے ساتھ ہی سورایوں سے بھری ایک بس ملبے میں دب گئی اور حادثے میں 10لوگوں کی موت ہوگئی اس میں آٹھ افراد تو ایک ہی گاڑی میں شوار تھی حالانکہ 13لوگوں کوزندہ نکال لیا گیا جبکہ 30زیادہ لوگ بڑی مشقت کے ساتھ ملبے سے نکالے گئے قریب سو میٹر ک تک سڑک ملبے کی زد میں آگئی اور 20-30فٹ ملبے کے نیچے گاڑیاں دبی تھیں بہت سی گاڑیاں تباہ ہو گئیں ۔ڈپٹی کمشنر کنور ضلع عابد حسین نے بتایا کہ راحت رسانی ملازمین بس اور بلیرو کار کو نکالنے میں لگے ہوئے تھے بارش کی وجہ سے کافی دقت آئی اور پہاڑوں سے چٹانیں کھسنے کے سبق جگہ جگہ راستے بلاک ہوگئے جس سے عام زندگی ٹھہر گئی اور پہاڑ کے گرنے سے قومی شاہراہ 36گھنٹے تک جام رہی جس میں ہزاروں گاڑیاں راستے میں رکی رہیں گوری کنڈ مارگ اور جوشی مٹھ ملاری ہائیو پر مسلسل چٹانیں کھسنے کا سلسلہ جار ی رہا تلخ تو حقیقت تو یہ ہے کہ سڑک اور زیر تعمیر کے پروجیکٹ کے لئے مشینیں جاری ہیں اور راستے میں پتھروں کی کٹنگ ہو رہی ہے زلزلے و بارش سے دیو بھومی ہماچل پردیش کے پہاڑ مسلسل کمزور ہوتے جا رہے ہیں ایسے میں جدید تکنیک کے ذریعے ٹریجڈی والے علاقے میں امکانی چٹانیں کھسنے کا پہلے سے پتہ لگانا آسان ہو سکتا ہے کنور ضلع انتظامیہ نے خستہ حال ہو چکے اپنے علاقے کے پہاڑوں کا کبھی ماہرین سے سروے کرانا بھی مناسب نہیں سمجھا اور زبردست لا پرواہی کا نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے ۔
(انل نریندر)
ججوں کی تقرریاں نہ ہونے سے سپریم کورٹ ناراض!
سپریم کورٹ نے دیش بھر کی ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی پڑی آسامیوں کو لیکر ناراضگی ظاہر کی اور مرکزی سرکار کو پھٹکار لگائی بڑی عدالت نے یہاں تک کہا کہ ججوں کی تقرری نہ کرکے مرکز نے جمہوریت کے تیسرے ستون عدلیہ کو ہی ٹھپ کر دیاہے اور اگر یہی رویہ جاری رہا تو انتظامی کام کاج بھی ٹھپ ہوگا جسٹس سنجے قول اور جسٹس ہری کیش رائے کی بنچ نے کہا سرکار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس طرح سے کام نہیں چلے گا آپ نے حدیں پار کردی ہیں اگر آپ جوڈیشل سسٹم کو ٹھپ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا سسٹم بھی چوپٹ ہوجائے گا ۔ آپ جمہوریت کے تیسرے ستون کو رکنے نہیں دے سکتے ۔ بنچ نے مرکزی سرکار کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالی سیٹر جنرل مادھوی وکن نے کہا کہ ججوں کی بھاری کمی ہے لیکن آپ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے وقت آگیا ہے کہ آپ اسے محسوس کریں ججوں کی تقرری نہیں ہوتی ہے تو اہم معاملوں کو جلد نپٹارہ بھی تقریباًنہ ممکن ہوجائے گا اینٹی ڈوپن فیس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک فیصلے کے خلاف مرکز کے ذریعے دائر ایک اپیل پر عدالت سماعت کر رہی تھی چیف جسٹس این وی رمن نے جمعہ کو ہی ججوں کے (ٹریبنل )کے جوڈیشل کو ممبران کی تقرری میں تاخیر پر مرکزی سرکار پر تلخ تبصرہ کیا تھا انہوں نے تو سرکار سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ ٹریوبنل کو جاری رکھنا چاہتی ہے یا بند کر نا چاہتی ہے ۔ بنچ نے کہا سرکار یہ دلیل نہیں دے سکتی ہے کہ کوئی جج معاملے کی جلد ی سے سماعت کرنے میں اہل نہیں ہے ، چونکہ سرکار ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کرتی ہے دیش میں 25ہائی کورٹ میں ججوں کی کل 455آسامیاں ہیں جبکہ منظور آسامیاں 1098ہیں قریب 40فیصد آسامیاں خالی ہیں دہلی، الٰہ آباد، کولکتہ ، مدھیہ پردیش ، پٹنہ ہائی کورٹ کی حالت بے حد خراب ہے ہم نے چیف جسٹس کے سامنے معاملہ رکھا کہ سفارشوں کو عمل تک پہونچنے میں مہینوں اور سالوں لگ جاتے ہیں اور اس کے بعد مہینوں اور برسوں بعد کوئی فیصلہ نہیں ہوپاتا ۔ ہائی کورٹوں میں ججوں کی تعداد اتنی محدود ہے جہاں ان کے لئے اہم ترین معاملوں میں تیزی سے انصاف کرنا نا ممکن ہوجا تا ہے سپریم کورٹ کا کہنا صحیح ہے اس لئے جب جج درکار نہیں ہونگے تو مقدموں کو فیصلہ کیسے ہوگا؟ تبھی تو لٹکے پڑے مقدموں کی بھر مار ہو تی جارہی ہے لاکھوں مقدمے ہائی کورٹ میں پینڈنگ میں چل رہے ہیں جج بھی ایک دن میں اتنے کیس نمٹا سکتے ہیں یہ تو ہمیں معلوم نہی کہ مسئلہ کہاں پر ہے ہم تو اتنا جانتے ہیں پینڈنگ مقدموں کا مسئلہ دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے سرکار کو بلا تاخیر اس مسئلے پر توجہ دیکر حل نکالنا چاہئے ۔
(انل نریندر)
سوامی ناتھن کی سفارشیں لاگو ہوں!
سرکار پر کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ پورہ نہ کرنے کاا لزام لگاتے ہوئے منگل کے روز راجیہ سبھا میں کم سے کم ایم ایس پی سسٹم کی تحریری گارنٹی دینے کے بارے میں سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشیں لاگو کرنے کی مانگ کی گئی وہیں سرکار کی طرف سے کہا گیا کہ تینون نئے زرعی قوانین کسانوں کی بہبود کے لئیے ہی لائے گئے ہیں اور انہیں مختلف کمیٹیوں کی سفارشوں اور ماہرین سے غور و خوض کرکے تیار کیا گیا ہے راجیہ سبھا کی میٹنگ دو بار ملتوی ہونے کے بعد دوپہر دو بجے شروع ہوئی تو پیگاسس جاسوسی تنازع سمیت مختلف اشو پر بحث کی مانگ کو لیکر اپوزیشن کے ممبران کا ہنگامہ پھر شروع ہوگیا اس وقت چیئر کی کرسی پر بیٹھے چیئر مین بھونیشور کلیتا نے ہنگامے کے درمیان ہی دیش میں زرعی سے متعلق مسئلوں اور ان کے حل پر مختصر بحث شروع کرائی بحث شروع ہوتے ہی بھاجپا کے وجے لال سنگھ تومر نے کہاکہ جو لوگ کسانوں کی مفادات میں بات کرتے ہیں اور کسانوں کو برباد انہوں نے ہی کیا ہے پچھلے قریب 70برسوں کے دوران دیش میں زیادہ تر وقت تک کانگریس نے حکومت کی لیکن کسانوں کو نہ تو سینچائی کے وسائل دیئے اور نہ ہی ذخیرہ اندوزی کا سسٹم دیا گیا اور نہ ہی کسانوں کے مسئلے حل کئے گئے تومر نے کہا مودی سرکار کسانوں کی بہبود کے لئے پابند ہے اس لئے تینوں زرعی قوانین لائے گئے تاکہ کسانوں کی حالت سدھرے۔ بی جو جنتا دل کے پرسون آچاریہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہنگامے کے با وجود میں کسانوں کے مسئلے پر بولنے کا موقع نہیں چھوڑنا چاہتا کیونکہ ان کے ساتھ نہ انصافی ہوگی اس دیش کی بڑی آبادی کسانوں کی ہے جو اب تک بنیادی سہولیات سے محروم ہے سرکار ان کی بہبود کے لئے کئی قدم اٹھا رہی ہے سرحدی کسانوں کے اپنے مسائل ہیں انہوں نے کسان سمان ندھی رقم بڑھانے و سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں کو لاگو کرنے کی مانگ کی تینوں زرعی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے آچاریہ نے کہا کہ ایم ایس پی کی تحریری گارنٹی دی جانی چاہئے انہوں نے کہا آپ نے کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ یہ وعدہ اب تک پورہ نہیں ہوسکا۔
(انل نریندر)
13 اگست 2021
پروازیں بند ہوں پہلے ہندوستانی افغانستان چھوڑیں!
طالبان کے بڑھتے حملوں کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے افغانستا ن میں مقیم ہندوستانی شہریوں کو ہوائی سروس بند ہونے سے پہلے وطن واپس لوٹنے کی صلاح دی ہے کابل میں ہندوستانی سفارت خانے نے ہندوستانی کمپنیوں سے اپنے پروجیکٹوں کو ہندوستانیوں کو ہٹانے کو کہا ہے ادھر بھارت نے افغانی یا غیر ملکی کمپنیوں میں کام کر رہے ہندوستانی پیشوار افراد کو واپس وطن لانے کی تیار ی شروع کر دی ہے واضح ہو افغانستان میں طالبان کے بڑھتے قہر کے ساتھ شہروں کے لئے پروازیں بند کی جا رہی ہیں اس لئے تشدد کا مرکز بنیں مزاریں شریف سے اپنے شہریوں اور سفارتی اسٹاف کا واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسپیشل جہاز سے لایا جائے گا افغانستا میں مقیم ہندوستانی شہریوں سے وہاں ناظم الامور رابطہ قائم کرنے کی اپیل کی گئی ہے وہاں اب صرف مقامی اسٹاف کے ذریعے ہی کام کاج ہوگا اس وقت قریب 1500ہندوستانی افسرا ور ملازم افغانستان میں ہیں پچھلے مہینے بھی سرکار نے قندھار میں قائم ہندوستانی سفارت خانے سے 50سفارت کاروں کواور سیکورٹی ملازم کو طالبان اور فوج میں بڑھتی لڑائی کے درمیان واپس بلا لیا تھا افغانستا ن میں ہندو¿ں اور سکھوں کی تاریخ سینکڑوں برس پرانی ہے افغانستا میں طالبان اور آئی ایس آئی ایس غیر مسلموں وار شیعوں کو نشانہ بنایا ہے پچھلے سال مارچ میں قابل میں ایک گردوارے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں پانچ لوگ مارے گئے تھے 1980کی دہائی میں وہاں دولاکھ ہندو سکھ رہتے تھے 1988میں طالبان کے عروج کے بعد سے ان پر حملے شروع ہوئے انہیں اغوا کیا جانے لگا قتل کیا گیا اس وجہ سے وہاں سکھوں کی ہجرت شروع ہوئی اور 2016میں 1350لوگ ہی بچے اکتوبر2018چناو¿ میں صرف 580ہندو سکھ ووٹر تھے اب گھر نہ چھوڑنے والے سکھوں کی تعداد نہ کے برابر رہ گئی ہے۔
(انل نریندر)
قانون واپس نہیں تو بھاجپا کو گدی چھوڑنی پڑے گی!
بھارتی کسان یونین کے قومی ترجمان راکیس ٹکیت نے کہا اگر تینوں زرعی قانون واپس نہیں ہوتے اور ایم ایس پی نہیں بنتی تو کسان بھاجپا کو گدی چھوڑنے پر مجبور کریں گے اور وہ کسانوں کے بیچ جاکر سرکار کی اصلیت کھولی جائے گی کسان سے بننے والے سرکار کسان مخالف کام کر کے اقتدار میں بنی نہیں رہ سکتی انگریز بھارت چھوڑو تحریک کے موقع پر راکیس ٹکیت نے کہا بھاجپا کے جھوٹ کو بے نقاب کیا جائے گا ہم کسی بھی پارٹی کے مخالف نہیں ہے لیکن مزدورا ور کسان مخالف پارٹی کے خلاف آج سے ہم نے کھیتی سے کمپنی راج کو اکھاڑنے کی قمر کس لی ہے جس کی شروعات پانچ ستمبر کو مظفر نگر کی کسان پنچایت سے ہوگی غازی پور بارڈر پر جاری کسان آندولن کو تقریباًسال بھر ہونے کے قریب ہیں ہریانہ اور مظفر نگر کے کسان نیتاو¿ں کے ساتھ بیٹھ کر آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی آٹھ مہینے سے بیٹھے کسانوں کے مسئلہ کا حل نکلنا چاہئے سرکار کا یہ اڑیل رویہ ٹھیک نہیں ہے دیش کے ان داتاو¿ں سے سرکار کو اس طرح زیب نہیں دیتا کسانوں کے مطالبات پر غور کرنا ہوگا اور بیچ کا راستہ نکالنا ضروری ہے ان کی کچھ جائز مانگوں پر سمجھوتے کا راستہ نکالا جائے۔
(انل نریندر)
بحث سوشل میڈیا میں نہیں صرف عدالت میں !
سپریم کورٹ نے مبینہ پیگاسس جاسوسی معاملے کی آزادنہ جانچ کی مانگ کرنے والے کچھ لوگوں سے سوشل میڈیا پر برابر بحث چھیڑنے پر اعتراض جتایا ہے بڑی عدالت نے کہا جب عدالت جانچ کر رہی ہے تو کچھ ڈسیپلین ضروری ہے اور انہیں سسٹم پر بھروسہ ہونا چاہئے بحث عدالت میں ہونی چاہئے چیف جسٹس این وی رمن کی سر براہی والی تین رکنی بنچ نے کہا کہ کچھ سوال پوچھے جا سکتے ہیں وہ پریشان کن یا حوصلہ افزا ہو سکتے ہیں دونوں فریقین کو تھوڑی سی دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر ان کے پاس اٹھانے کے لئے کچھ نقطے ہیں تو وہ ایک حلف نامہ دائر کرکے ایسا کر سکتے ہیں بنچ ہر ایک پہلو پر غور کرے گی لیکن سسٹم میں بھروسہ ہونا چاہئے اسی درمیان این رام سمیت دیگر عرضی گزاروں کے وکیل کپل سبل نے کہا پچھلی سماعت نے کیلیفورنیا عدالت کے حکم میں ہندوستانی صحافیوں کے نام نہ ہونے کی بات کہی تھی جبکہ عرضی میں اس کا ذکر تھا سبل نے کہا اس بات پر ان کا ٹرول ہوا ہے اس پر چیف جسٹس آف انڈیا رمن نے کہا اسے بے وجہ میسیج میں لایا گیا بحث کی حد کو پار نہیں کر نی چاہئے تھی وہ سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں تو انہیں سسٹم پر یقین کر نا چاہئے اس معاملے میں بنچ کے وکیل ایم ایل شرما ، ممبر پارلیمنٹ جان برنداس ایڈیٹر گلڈ آف انڈیا صحافی این رام اور پر ن جوائے گوا ٹھاکر تا پردیش کمار سنگھ وغیرہ کی عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی سماعت کے دوران آر ایس ایس کے سابق وچارک کے این گوندا آچاریہ کے وکیل وکاس سنگھ نے بنچ کو مطلع کیا کہ 2019میں پیگاسس نگرانی کی جانچ کے لئے وہ بھی عدالت گئے تھے لیکن ان کی عرضی پر غور نہیں کیا گیا سنگھ نے بتایا کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھی گئے کہیں سے کچھ نہیں ہوا اس پر بڑی عدالت پیر کے روز دیگر عرضی گزاروں کی عرضی پر سماعت کو دیگر عرضیوں کے ساتھ گوندا آچاریہ کی عرضی پر سماعت کے لئے تیار ہوگئی عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ میں دلیل دی تھی کہ پیگاسس کی رپورٹ صحیح ہے تو یہ اشارہ کرتی ہے کہ صحافیوں اور سیاستدانوں اور یہاں تک کہ عدلیہ پر بھی نامناسب نگرانی کی گئی تھی اور اس لئے یہ معاملہ جمہوری اور آئینی گارنٹی کی بنیادوں پر حملہ کرتا ہے مرکزی سرکار کی طرف سے پیش وکیل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ جاسوسی معاملے کی جانچ کے مطالبے کی عرضیوں پر سرکار سے ہدایت لینے کے لئے تھوڑا سا وقت دیا جائے ان کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مہتا کو 16اگست تک کا وقت دے دیا اسی دن معاملے کی سماعت ہوگی عدالت میں دعویٰ کہ سرکار نے پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال کرنے سے صاف طور سے انکار نہیں کیا ہے ان کے پاس یہ ماننے کے لئے مضبوط ثبوت ہیں کہ وہ جاسوسی کا شکار ہوئے ہیں ۔
(انل نریندر)
12 اگست 2021
دہلی پولس کی ڈیوٹی اب تین شفٹ میں ہوگی!
دہلی پولس ملازمین اکثر لمبی ڈیوٹی کے چلتے ٹینشن میں رہتے ہیں عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کے شکار ہونے لگتے ہیں ایسے میں کئی پولس ملازمین نے تو خود کشی کرنے راستہ بھی چن لیا ہے مگر میں اب دہلی پولس کمشنر راکیس استھانا نے پولس ملازمین کے دلوں میں امید کی کرن جگائی ہے در اصل گزشتہ سنیچر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تمام کانسٹبل تکے کے پولس ملازمین تک کو خطاب کیا ہے اور اپنی بات رکھی جس بات سے پولس والوں کو دل جیتا وہ تھا پولس کی ڈیوٹی کم کرنا ذرائع کا کہنا ہے یہ ڈیوٹی تین شفٹوں میں دینے کی تجویز رکھی ہے اور اس تجویزکے مرکزی سرکار سے منظوری ملتے ہیں پولس ملازمین کو ایک دن میں آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دینی ہوگی جس میں صاف ہے کہ ڈیوٹی کے چلتے اپنے گھر والوں کو وقت نہ دینے کہ چوٹ ہمیشہ ملازمین کے من میں رہتی ہے اس سے انہیں چھٹکارہ مل جائے گا۔ پولس کمشنر نے ایک بڑی بات یہ بھی کہی کہ دہلی میں ہونے والی پوسٹنگ خاص طور پر ایس ایچ او کی تقرری ہونے کی کاروائی میں صاف ستھرا پن لایا جائے گا جو انسپکٹر پوس علاقوںمیں تعینات ہیں انہیں پچھڑے علاقوں میں بھیجا جائے گا اور جو پچھڑے علاقے میں رہتے ہیں وہ عالی شان بستیوں میں لگایا جائے گا جن انسپکٹروں کو کنارہ کیا جا تا رہا ہے اب انہیں اہم ذمہ داری سونپی جائےگی اس موقع پر نئے پولس کمشنر راکیس استھانا نے یہ بھی اعلان کیا کہ جمعہ کو ایک اوپن ہاو¿س منعقد کیا جائے گاجس میں کوئی بھی پولس ملازم اپنا اشو یا شکایت کو لیکر ان سے سیدھا مل سکے گا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...