Translater

01 اگست 2020

کورونا کو لیکر ڈبلیوایچ او کا کردار مشتبہ کیوں ؟

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کہہ رہے ہیں ڈہلو ایچ او کے ہیڈ ایڈلنم کو چین نے خرید لیا ہے برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے کہا ایک انٹیلی جنس فرم ہے جو کہ یہ دکھاتی ہے ڈبلو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل ناکری ٹریڈوس کو چین کے ساتھ ہوئے سودے کے بعد ملی اب یہ صاف ہو چکا ہے ۔2017میں چین کے لابی کے اثر کے سبب ہی اس تنظیم کے چیف ٹریڈوس چنے گئے تھے اس لئے ڈبلو ایچ او کا رول کورونا کو لیکر شروع سے مشتبہ رہا ہے ۔ 9جنوری 2020کو تنظیم کے سرکاری ٹیوٹر ہینڈل سے کہاگیا کہ نیا کورونا وائرس یقینی طور سے سامنے آتے رہے ہیں ہمنے ایسے پہلے بھی ہوتے دیکھا کورونا وائرس اس وقت کنبوں کو علاوہ جانوروں میں بھی ہے اس پر کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ 11جنوری کو تنظیم نے ایک ٹراویل ایڈوایزری جاری کی کہ اوہان آنے جانے والوں کے لئے سیکورٹی کے کسی خاص ہیلتھ کی دیکھ بھال کا کوئی مشورہ نہیں لیا گیا ۔ یعنی اوہان آرہے لوگوں کی جانچ کو غیرضروری بتا رہا تھا ۔ کورونا کو لیکر ڈبلیو ایچ او جس طرح بیان بدل رہا ہے اس سے دنیا گمراہ ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

ملیشیاءکے سابق وزیر اعظم کو بارہ سال کی جیل !

ملیشیاءکی ایک عدالت نے منگل کے روز دیش کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو انکے عہد میں سرکاری سرمایہ کاری فنڈ گھوٹالے کے معاملے میں قصور قرار دیا ہے اور 12سال جیل کی سزا سنائی ساتھ ہی 4.94کروڑ کا جرمانہ بھی کیا عدالت نے غبن رقم کو لوٹ مانتے ہوئے یہ فیصلہ دیا نجیب ملیشیاءکے پہلے ایسے لیڈر ہیں جو کرپشن کے الزام میں قصور قرار دئے گئے ہیں جسٹس محمد غزالی نے نجیب کو طاقت کے بیجا استعمال کے لئے 12سال اور اعتماد ختم کرنے کے تین معاملے میں10-10سال کی سزا سنائی ہے حالانکہ جج موصوف نے حکم دیا کہ تمام سزائیں ساتھ ساتھ چلیں گی یعنی نجیب کو 12سال جیل کیاٹنی ہوگی فیصلے سناتے وقت نجیب رزاق خاموش تھے اور انکے چہرے پر کویہ فکر نہیں تھا انہوں نے فیصلے کو دوسری عدالت میں چیلینج کرنے کی بات کہی سزا سنائی جانے سے پہلے انہوں نے حلف کے ساتھ کہا کہ انہیں کرپشن کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی یہ فیصلہ نئے اتحاد میں نجیب کی پارٹی اتحاد میں شامل ہونے کے پانچ ماہ بعد آیا عربوں ڈالر کے گھوٹالے کو لیکر جنتا کی ناراضگی کا سبب 2018میں نجیب کی پارٹی کو اقتدار سے باہر ہونا پڑا تھا اب تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے یہ فیصلہ نجیب پر چل رہے دوسرے مقدموں پر بھی اثر ڈالے گا ۔ نجیب کا کہنا ہے کہ دلال بینکروں نے انہیں بھٹکا دیا یہ انکے ساتھ سیاسی معاملہ ہے ہم عدالت میں اپیل کریں گے میں اس کے لئے تیار ہوں ملیشیا ءکی عدالت نے یہ تو دکھا ہی دیا کہ اپنے عہد میں کوئی کرپشن کرے گا اسے اقتدار سے ہٹنے کے بعد اسے اپنی کرنی کی سزابھگتنی ہوگی ۔ ہم پاکستان میں تو دیکھ ہی رہے ہیں کی عمران سرکار نے میاں نواز شریف کو جیل میں ڈالا ہوا ہے بھارت میں یہ دیکھنے کو کم ملتا ہے ۔اپنے سیاسی حریفوں کو پریشان کرنا یہاں بھی ہوتا ہے لیکن کرپشن میں کسی کو جیل ہوئی ہو یہ کم ہی دیکھ نے کو ملا ہے (انل نریندر)

طالبانیوں سے بچنا ہے تو بھارت آ جائیں !

افغانستان راکچھس ذہنیت والے تیزی سے پنپ رہے طالبانیوں کے چنگل سے آزادہونے کے بعد سکھوں کا ایک جتھہ دلی آ گیا ہے اب بھارت میں شہریت ترمیم قانون کے تحت اِنہیں شہریت ملنے میں آسانی ہو جائے گی ۔ افغانستان میں ہندو اور سکھوں کا رہنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے ان پر طالبانی غنڈے بے حساب ظلم و ستم ڈھاتے تھے اور ان پر اسلام قبول کرنے کے لئے ٹارچر کیا جاتا تھا انکی بچیوں کو اغوا کرنے اور زبردستی نکاح کروا کران سے اسلام قبول کروایا جاتا ہے افغانستان مین ہندو مندر اب شاید ہی بچا ہو ۔ کچھ گرودوارے فی الحال بچے ہوئے ہیں آئے دن ہندو اور سکھوں کا قتل عام جاری ہے۔ کچھ دھائیوں کے دوران افغانستا ن طالبان کے بڑھتے اثر کے سبب تباہ ہو گیا یقین مانئے کہ وہ پاکستان کے بر عکس ایک اصلاح پسند دیش تھا اقتدار کی دھائی تک ریڈیو قابول سے ہندی بھجن تک سننے کو ملتے تھے ۔ اس وقت تک افغانستا ن اور ایران بہت حد تک جدید ملک ہوا کرتے تھے آج جیسی خطرناک مذہبی کٹریت ان دیشوں میں نہیں تھی قابل میں تب تک ہندو اور سکھ بھی اچھی طرح رہتے تھے ۔بھلے ہی معمولی تعداد میں کم و بیش ٹھیک ٹھاک زندگی گزار رہے تھے ۔ ایران تو رضا پہلوی کے دور حکومت میں ایک دم ملک جدید ملک تھا۔افغانستان میں بادشاہ ظاہر شاہ کے معذول ہونے کے بعد وہاں کبھی امن نہیں لوٹا ۔اکبر خاں کے خاندان میں کوئی اور اورنگ زیب پید اہوجائے کہا نہیں جاسکتا وقت پلٹا اور کٹر پسندی نے اصلاح پسندی کے پر خچے اڑا دیئے افغانستان میں بچے سکھوں کی چاہت ہے کہ انہیں جلد سے جلد بھارت کی شہریت مل جائے آپ کو راجدھانی دلی میں گورودوارہ سیس گنج اور بنگلہ صاحب اور دیگر بڑے گورودوارہ افغانی سکھ مل جائیں گے اس سے اچھا کچھ نہیں ہو سکتا کہ افغانستان میں بچھے ہوئے سارے سکھ بھارت آجائیں وہ یہاں اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کریں ۔وجہ یہ کی انہیں افغانستان میں دیر سویر مار دیا جائے گا اگر یہ مسلمان نہیں ہوتے آخر ان کا قصور کیا ہے؟جب مذہب کے نام پر دیش کا بٹوارہ ہو ہی گیا تو مذہب کے بنیاد پر آبادی کے تبادلے کس وجہ سے لا پرواہی تھی آج ان مصیبت زدہ ہندو سکھوں کا شراپ تو نہیں اور ان کے خاندان کے لگے گا اس لئے یہ بلا تاخیر افغانستا ن چھوڑ دیں ۔ (انل نریندر)

31 جولائی 2020

بھارت ہی نہیں ،سبھی پڑوسی چین سے پریشان !

چین کی فروغ والی پالیسی کے سبب چین کا سرحدی تنازع صرف بھارت و بھوٹان ہی سے نہیں بلکہ سبھی 18پڑوسیوں سے ہے یہاں تک کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جیسے عالمی ادارے اور دنیا کے دباو¿ کو بھی ٹھینگا دکھا تا رہا ہے۔ اسپائلی جزیرہ تنازع میں فلپن کے حق میں آئے بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کو درکنار کر رکھا ہے حکام کے مطابق لداخ میں پی ایم مودی کے فروغ وادی پالیسی ذکر کرنے پر تلملائے چین نے فوری طور پر بیان نہیں تو دیا ۔جب کہ پی ایم نے چین کا نام نہیں لیا چین نے کہا تھا کہ اس نے اپنے چار پڑو سیوں کے ساتھ سرحدی تنازع پر ا من طریقے سے سلجھا یا ہے جب کہ حقیقت میں اسکے بلکل بر عکس ہے ۔شروعات کرتے ہیں بھارت سے چین کا سرحدی تنازع۔3500کلومیٹر لمبی ایل اے سی پر ہے ۔ چین لداخ سے لیکر اروناچل پردیش تک کہیں بھی تنازع کھڑا کردیتا ہے ۔تازہ تنازع مشرقی لداخ کے چار مقامات پر ہے۔ اس کے علاوہ چین نے اکسائی چن پر اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہے۔بھوٹان:کچھ دن پہلے ہی بھوٹان کے مشرقی حصے میں اپنی داعویداری جتا رہا ہے ۔جاپان کے ساتھ ساو¿تھ چین ساگر ،سینکاکواور تکاو¿جزیرہ پر پرانا تنازع ہے جاپان کی ایئر فورس اور ی زیڈ کو لیکر ٹکراو¿ بنا رہتا ہے ری زیڈ ساو¿تھ چین ساگر تک پھیلا ہو ہے چین اپنی دادا گیری دکھا کر برنائی کے ری زیڈ کے خاصے حصے کو اپنا حصہ بنا چکا ہے ۔ملیشیاء:اس سے لگنے والے ساو¿تھ چین ساگر ری زیڈ کی دعوہ داری لاو¿س میں چین مالوش کو 1271سے 1567 تک راج کرنے والے اپنے یونان پرخوں کا حوالہ دیکر پورے لاو¿س کو چین کا حصہ قرار دے چکا ہے کمبوڈیا میں بھی لاو¿س کی طرح 1368سے1644تک راج کرنے والا منگ پرخے کا حوالہ دیکر اپنا حصة مانتا ہے ۔چین کی دلیل ہے اس عہد میں کمبوڈیا اور لاو¿س میں تھا تھائی لینڈ میں میکانگ نہیں یہ چین زبردستی اپنے مال بردار جہاز سے جاتا ہے چین یونان سے ساو¿تھ ایسٹ ایشیاءتک اپنا مال بھیجنے کے لئے اس روٹ کا استعمال کرےا ہے ویتنام میکالوفیلڈ ساحل ،پاراسیل اور اسپائلے جزیروں کو لیکر تنازع کے ساتھ ساو¿تھ چین ساگر میں چینی دخل کا ویتنام سخت مخالف رہا ہے۔نیپال:دو لاکھا نے دوپلر اور ماو¿نٹ ایوریسٹ علاقے میں دو پلرکو لیکر نیپال سے بھی پرانا جھگڑا ہے چین نیپال کے کچھ حصے کو تبت کا حصہ مانتاہے ۔تائیواں :لاو¿س کی طرح یونان پرخے کی بنیاد پر پورے تائیواں پر اپنی دعویداری کرتا ہے۔اور قزاخستان کے 34000مربع کلومیٹر علاقے پر دعویداری ۔ساو¿تھ کوریا :مشرقی چین ساگر میں ماو¿نٹ پک ٹو ،مال ٹنگڑی ندی پر تنازع ۔پورے نارتھ کوریا پر دعویداری ۔فی الحال 7250کلومیٹر کو لیکر کرگستان سے جھگڑا ہے ۔اور وہ فی الحال 7250مربع کلومیٹر کو لیکر تاجگستان میں کشیدگی بنا کر وہ 2002میں 1122مربع کلومیٹر اس سے زمین چھین چکا ہے ابھی کئی علاقوں میں چین کی دعویداری ہے۔ اس لئے کہنا صرف بھارت سے ہی چین کا جھگڑا ہے غلط ہوگا اس کے آگے بڑھنے کی پالیسی نے کئی دیشوں سے اسکا جھگڑا شروع کردیا ہے ۔ (انل نریندر)
جس کا ایک عرصے سے انتظار تھا آخر وہ گھڑی پوری ہو گئی جب جنگی جہاز رافیل فرانس سے 8500کلو میٹر کی اڑان بھر کر انبالا پہنچ گئے ہیں جیسے ہی گجرات میں انڈین ایئر فورس میں انٹری کی وہ سخوئی 30جنگی جیٹ نے انہیں اپنے گھریے میں لے لیا اور انبالا تک ساتھ ساتھ آئے اور کچھ سیاسی تنازع اور الزام در الزام کے پس منظر میں جدید میزائیلوں و خطر ناک بموں سے آراستہ جنگی جہاز رافیل کی پہلی خیپ کی بھارت پہونچنا قابل خیر مقدم تو ہے ہی سرحد پر چین کے ٹکراو¿ کے درمیان ہندوستان فضائیہ میں شامل کرنے کی سیاسی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ اس سے بھارت کی فوجی طاقت میں زبردست اضافہ ہونے والا ہے۔ ابھی فرانس سے پانچ جہاز آئے ہیں لیکن سبھی 36جنگی جہازوں کے اگلے سال انڈین ایئر فورس کے بیڑے میں شامل ہونے کی امید ہے۔ جب پاکستان میں بالا کوٹ میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فضائیہ نے جوابی کاروائی کی تب رافیل کی کمی محسوس ہوئی اگر اس وقت رافیل جہاز ہوتے تو وہاں اور زیادہ نقصان ہوتا یہی نہیں بعد میں رافیل فضائیہ میں شامل ہوجاے گا تو ہماری مار صلاحیت کافی بڑھ جائے گی ۔رافیل چوتھی پانچویں پیڑھی کے درمیان ایک کثیر مقصد جنگی جہاز ہیں ۔جو ایک ساتھ کئی رول ادا کرسکے گا ۔یہ میزائیلوں سے آراستہ ہونگے جو ہوا کے ساتھ ساتھ زمین پر مار کرنے میں اہل ہونگے ان میزائیلوں کی رینج اتنی زیادہ کہ دشمن کے جہاز اس کے سامنے بچاو¿ کی پوزیشن میں ہونگے ۔فرانس کے پانچ رافیل جنگی جہازوں کی آمد صرف اس لئے محدود نہیں ہے ۔صرف ہماری ایئر فورس کی مار صلاحیت اچھا اضافہ ہونے والا ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ وہ ایسے وقت میں آیا ہے کی جب چین قبضہ کرنے اور اڑیل رویہ اپنائے ہوئے ہے۔حقیقت میں رافیل جہازوں کو لیکر اتنی بحث ہو رہی ہے ۔بلا شبہہ انڈین ایئر افورس کی طاقت تب اور بڑھے گی جب تمام جہاز فوج کے بیڑے میں شامل ہونگے ۔لیکن اتنا تو طے ہے کہ پانچ جنگی جہاز بھی ہماری فوج کا حوصلہ بڑھانے میں ضرور کام کریں گے ۔کیونکہ یہ سب سے جدید جنگی جہاز ہیں جس کا توڑ نا تو چین کے پاس ہے اور نہ ہی پاکستان کے پاس ۔فی الحال اگر پاکستان چین کے ساتھ دو سرحدوں پر جنگ چھڑی تو بھارت کو کافی تعداد میں جنگی جہازوں کی ضرورت پڑے گی ۔یہ افسوس ناک ہے کہ پچھلے برسوں میں ہتھیاروں کی خرید پر اتنی سیاست ہوئی جس سے فوج کا جدید کاری متا¿ثر ہوئی ہے رافیل بھی اس سیاست سے اچھوتا نہیں رہا ۔کوئی ضروری بات نہیں ہوگی کہ اب تمام سیاسی پارٹیوں میں رافیل کو لیکر کریڈٹ لینے کی ہوڑمچھے ۔ (انل نریندر)

30 جولائی 2020

دہلی میں بجلی کے بھاری بھرکم بل

لاک ڈاﺅن کے دوران عارضی پوری دہلی پریشان ہے اور بہت سے بجلی گراہکوں کو ہزاروں روپئے کے بل آرہے ہیں ۔جبکہ عام دنوں میں یہ سیکنڑوں میں آیا کرتے تھے آج جس کا 400روپئے کا بل آتا تھا اس کا 1200روپئے میں آرہا ہے ۔فیکٹریوں کا تو برا حال ہے اور انہیں بل لاکھوں میں آرہے ہیں یا چار مہینے کا بل اکھٹا آرہا ہے ۔بجلی کا بل نہ بھرنے پر کنکشن کاٹنے کی دھمکی دی جا رہی ہے ۔جب کاروباری ادارے بند تھے تو کس بات کا بجلی کمپنیاں بل اصول رہی ہیں ؟بجلی کے بھاری بھرم بلوں کے خلاف عوامی تحریک کے تحت بی جے پی نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر دھرنا دیا ۔حالانکہ پولیس نے رہائش گاہ سے تھوڑا پہلے ہی بیریکیٹ لگا کر روک دیا بعد میں سبھی مظاہرین کو حراست میں لے کر سویل لائن بھیجا اور چھوڑ دیا گیا ۔بھاجپا کے پردیش صدر آدیش گپتا نے کہا کہ تازہ مالی بحران کے وقت جب لوگ سرکار سے بجلی کے بلوں میں راحت کی امید کر رہے تھے ان کو راحت دینے کے بجائے انہیں بھاری بھرکم بل بھیج کر ان سے دھوکہ کیا انہوںنے سرکار نے مانگ کی کہ اس سال مارچ سے لے کر نومبر تک فیکس چارج معاف کیا جائے اور گھریلو گراہکوں کے لیے بجلی بلوں پر سبسڈی کو بحال کی جائے اور بلوں کی میٹر ریڈینگ کے مطابق بل بھیجے جائیں بجلی کے کنکشن کاٹنے کی وارنگ دینے والے نوٹسوں کو واپس لیا جائے اور بقایا بلوں کو قستوں میں ادا کرنے کی سہولت دی جائے اگر ایسا نہیں ہوتا تو بی جے پی ورکر سی ایم کی رہائش گاہ کی بجلی کاٹ دیں گے ۔ (انل نریندر)

پی ایم کیئر فنڈ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا

مرکزی سرکار نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں پی ایم کیئر فنڈ کا زوردار بچاﺅ کیا اور کہا کہ کووڈ وبا سے ڈرنے کے لئے یہ ایک مرضی سے تعاون دینے کا فنڈ ہے ۔اور اسے قومی آفت اورریاستی آفت راحت فنڈ کے لئے بجٹ میں مختص رقم کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا ہے جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس سنجے کول اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ کے سامنے مرکز کی جانب سے سرکاری وکیل تشار مہتا نے پی ایم کیئر فنڈ کے بارے میں تفصیل رکھی بنچ نے کووڈ 19وبا کےلئے اس فنڈ کے تحت اکھٹی رقم قومی راحت فنڈ میں منتقل کرنے کے لئے غیر سرکار تنظیم کی عرضی میں درخواست پر سماعت پوری کرلی ہے ۔بنچ کا کہنا تھا کہ فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا ۔خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے 28مارچ کو پی ایم کیئر فنڈ بنایا تھا جس کا مقصد کورونا جیسی وبا سے نمٹنے کے لئے پیسہ اکھٹا کرنے اور متاثرہ لوگوں کو ریلیف دینے کا تھا وزیر اعظم اس فنڈ کے سر پرست چیئرمین ہیں اس کے علاوہ وزیر داخلہ ،وزیر دفاع اور وزیر مالیات اس کے سرپرست ممبر ہیں ۔تشار مہتا نے کہا کہ این ڈی آر ایف ،ایس ڈی آر ایف کے لئے بجٹ کے ذریعہ پیسہ مختص کی جاتا ہے ۔عرضی میں پوچھا گیا تھا کہ پی ایم کیئر فنڈ میں کتنے پیسے جمع اور کتنے خرچ کئے گئے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے پی ایم کیئر فنڈ میں عطیہ دینے والوں کی بھیڑ لگ گئی اور ان میں صنعتکاروں سے لے کر بالی ووڈ اداکاروں نے بھی دل کھول کر پیسہ دیا ۔عام آدمی تک کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے لئے بنائے گئے اس فنڈ میں مسلسل پیسہ آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک اس فنڈ میں ہزاروں کروڑ روپئے خرچ ہو چکے ہیں ۔وہیں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو سوال کر رہے ہیں کہ جب پہلے سے ہی پی ایم نیشنل ریلیف فنڈ موجود ہے تو الگ سے پی ایم کیئر فنڈ بنانے کی ضرورت کیوں پڑی ؟یا دونوں میں آخر فرق کیا ہے ؟وزارت کارپوریٹ نے کہا ہے کہ پی ایم کیئر فنڈ میں جمع پیسے کو سی ایس آر مانا جائے گا ۔جبکہ سی ایم ریلیف فنڈ میں جمع رقم کو بھی سی ایم آر مانا جائے ۔لیکن کاپوریٹ وزارت نے ایسا کرنے سے منع کردیا ۔پی ایم نیشنل ریلیف فنڈ کا با قاعدہ سی اے جی آڈیٹ کرتی ہے ۔جبکہ کیئر س میں ایسی کوئی سہولت نہیں ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے دائر عرضی میں پوچھا گیا کہ اس ٹرسٹ کا ٹرسٹی کون ہے؟اور کس طرح یہ کام کرتا ہے اس کی نگرانی کورٹ ایس آئی ٹی کرئے سپریم کورٹ میں اب معاملے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے ۔اور عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...