Translater
23 ستمبر 2025
چارلی کرک کا قتل : امریکہ میں بڑھتا سیاسی تشدد!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی چارلی کرک کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔واردات یوٹا کے اورم میں واقع یوٹا ویدی یونیورسٹی میں طلباءکی میٹنگ سے ٹھیک دوران ہوا ۔اس قتل نے ایک بار پھر امریکہ کو ہلا کررکھ دیا ہے ۔یونیورسٹی میں اس وقت قریب 3 ہزار طالب علم تھے ۔جب حملہ آور نے چارلی پر سیدھا نشانہ لگایا ۔حکام نے جانچ میں پایا کہ اسنائپر نے دورا یک عمارت کی چھت پر چھپ کر جو قریب 180 میٹر دوری پرتھی سے سیدھی ایک گولی چلائی جو چارلی کی گردن میں لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے ۔کون تھے چارلی کرک ؟ چارلی ایک امریکی کنزرویٹو اور میڈیا شخصیت تھے ۔انہوں نے ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے نام کی ایک ینگ کنزرویٹو تنظیم 18 سال کی عمر میں ہی بنائی تھی وہ اس کے کوفاو¿نڈر تھے ۔وہ نوجوانوں کو سیاسی طور سے سرگرم بنانے ،مباحثوں میں حصہ لینے اور دقیانوشی نظریات کو ترغیب کرنے کے لئے جانے جاتے تھے صدر ٹرمپ کے قریبی چارلی ایک قاتل اور قتل کی وجہ کے بارے میں اب تک کچھ ٹھوس پتہ نہیں چلا لیکن یہ طے ہے کہ ان کی مقبولیت کافی تیزی سے بڑھ رہی تھی ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ انہیں کہیں ان کی بڑھتی مقبولیت تو قتل کی وجہ نہیں بنی ؟ چھت سے گولی ویسے ہی چلائی گئی جیسے جولائی 2024 میں چناو¿ کمپین کے دوران پین سلوینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر چلی تھی ۔تب گولی ٹرمپ کے کان کو چھوکر نکل گئی تھی ۔ٹرمپ نے 31 سالہ کرک کو ایک عظیم اور سرکردہ لیڈر بتایا ۔اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے سچائی اور آزادی کا شہید بتایا ۔قتل کے لئے انہوں نے کٹر لیفٹ پسندوں کے بیان بازیوں کو قصوروار ٹھہرایا ۔چارلی کرک کی آخری تقریرکا 30 سکنڈ کا ویڈیو سامنے آیا ہے ۔سفید ٹینٹ میں بینرس پر لکھا دی امریکن کم بیک اور کئی سوال بھی اور نعرے بھی لکھے تھے ۔مائیک لے کر بیٹھے کرک سوالوں کا جواب دے رہے ہیں ۔قارئین: دس سالوں میں کتنے ٹرانس جینڈر امریکیوں نے وسیع فائرنگ کی ہے ؟ کرک : بہت زیادہ قارئین کیا آپ کو پتہ ہے کہ دس سالوں میں کل کتنے ماس شوٹر رہے ؟ کرک : گینگ وائلنس کی ہے یا نہیں تبھی گولی چلتی ہے ۔کرک کے پاس بیٹھی ایک خاتون میڈیشن لیٹن نے کہا میں نے گولی کی آواز سنی ؟ ان کے جسم سے خون نکلا اور وہ گر گئے ۔پھر چیخ پکار کے درمیان افرا تفری مچ گئی۔یہ تکلیف دہ ہے کہ امریکہ میں سیاسی قتل بڑھ رہے ہیں ۔ساو¿تھ پنتھی اور لیفٹ پنتھی دونوں آئیڈیا لوجی اس سے متاثر ہیں ۔امریکہ کی تاریخ سیاسی تشدد سے بھری ہے۔60 کی دہائی میں جون ایفٹ کنیڈی ، مارٹین لوتھر کنگ جونینئر کا قتل ہوا ۔حالیہ برسوں میں یہ بار بار سامنے آیا ۔2021 میں ٹرمپ حمایتیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا ۔2021 میں ایم پیز کو 9600 سے زیادہ دھمکیاں ملیں ۔اگلے سال نینسی پلوسی کے شوہر پر حملہ ہوا اسی سال نیویارک کے گورنر عہدے کے امیدوار لی جیلیڈن کی ریلی میں چاقو حملہ کرنے کی کوشش ہوئی ۔2024 میں کمپین کے دوران ٹرمپ پر دو بار جان لیوا حملے ہوئے ۔جن میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔امریکہ کے اس گند کلچر کو کنٹرول کرنے کی کئی مرتبہ صدر کوشش کر چکے ہیںلیکن امریکہ کی یہ گند لابی اتنی طاقتور ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے حملوں کو کنٹرول نہیں ہونے دیتی ۔چارلی کرک کا قتل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے سیدھی چنوتی ہے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ حملہ ٹرمپ ،امریکی سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے بڑھا جھٹکا اور چنوتی ہے ۔
(انل نریندر)
19 ستمبر 2025
اسحاق ڈار نے ٹرمپ کے دعووں کی پول کھولی!
پاکستان سے ایسی اعتراف سامنے آیا جو نہ صرف بھارت کے آپریشن سندھور میں کامیابی ہی کا تذکرہ کرتا ہے ۔بلکہ امریکی صدرکے دعووں کو بھی مسترد کرتا ہے ۔اس سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے جو ہندوستانی فوج کے سینئر افسران دعویٰ کرتے آرہے ہیں ۔سب سے پہلے بات کرتے ہیں جیش محمد کے نمبر 2 کمانڈر مسعودی الیاسی کشمیری کی ۔ الیاسی کشمیری نے اعتراف کیا کہ دہشت گرد تنظیم کے بھاول پور ہیڈ کوارٹر پر ہندوستانی فوج کے حملے میں اسکے بانی مسعود اظہر کے پریوار کے افراد کے چیتھڑے اڑ گئے تھے ۔میں اپنے خاندان کے افراد کے مارے جانے کی بات قبول کرتا ہوں ۔منگل کو ایک یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کئے گئے ویڈیو میں جیش محمد کمانڈر الیاس کشمیری کو ہندوستانی حملے کے خلاف زہر اگلتے سناجاسکتا ہے ۔جس نے اظہر کے خاندان کے افراد مارے گئے تھے ۔یہ ویڈیو 6 ستمبر کو پاکستانی پنجاب صوبہ میں ہوئے مشن مصطفی کانفرنس کا بتایاجارہا ہے ۔کئی بندوقچیوں کے درمیان کھڑے جیش کمانڈر نے کہا اس دیش کی آئیڈیا لوجی اور جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لئے ہم نے دہلی،قابل ،کندھار پر حملہ کیا ۔اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کے بعد 7 مئی کو بھاولپور میں مولانا مسعود اظہر کے خاندان کے افراد کو ہندوستانی حملوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا ۔بتادیں کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت نے 6/7 مئی کی درمیانی رات میں آپریشن سندھور کے تحت پاکستان و مقبوضہ کشمیر میں لشکر وجیش کے ہیڈ کوارٹر سمیت 9 آتنکی اڈون کو تباہ کیا گیا تھا ۔مسعود اظہر نے خود کہا تھا کہ وہ بھاولپور و اسکی بیوی ایک دیگر بھتیجی و خاندان کے پانچ بچے شامل تھے ۔یعنی کل ملا کر دس میں سے زیادہ تر مارے گئے تھے اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستانی فوج کا نشانہ کتنا صحیح تھا ۔اب بات کرتے ہیں تاو¿ ٹرمپ کے دعووں کی ۔پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت پاکستان جنگ بندی کرانے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کی ہی پول کھول دی ۔انہوں نے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے مئی میں بھارت پاکستان کے بیچ ہوئی فوجی لڑائی کے دوران ان سے کہا تھا کہ بھارت نے جنگ بندی کے لئے تیسرے فریق کی ثالثی سے انکار کر دیا تھا کیوںکہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اشو ہے ۔جب ڈار سے بھارت کے ساتھ بات چیت یا تیسرے فریق کی ساجھیداری کو لے کر پاکستان کے رخ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔لیکن بھارت کھلے طور سے کہہ رہا ہے کہ یہ ایک باہمی معاملہ ہے خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں نیوکلیائی کفیل پڑوسیوں کے درمیان جنگ بندی کرائی ۔ٹرمپ 10 مئی کی جنگ بندی کے بعد سے تیس سے زیادہ بار دونوں دیشوں میں جنگ بندی کرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں ۔اسحاق ڈار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بھارت نے امریکہ سمیت کسی بھی دیش کی ثالثی سے صاف انکار کر دیا ہے ۔ڈار نے اس طرح سے ٹرمپ کی پول کھول دی ہے۔
(انل نریندر)
18 ستمبر 2025
نیپال فرانس کے بعد اب لندن !
پچھلے 15 روز سے کئی ملکوں میں عوام سڑکوں پر اتر ی ہوئی ہے ۔ہم نے نیپال مین دیکھا پھر فرانس میں دیکھا اور اب لندن میں دیکھا کہ کس طرح وہاں کی جنتا اپنے مطالبات کو لے کر جن آندولن کررہی ہے ۔ہر دیش میں حالانکہ آندولن کے مسئلے الگ الگ ہیں ۔نیپال میں جہاں نظام تبدیلی اشو تھا وہیں فرانس میں سرکاری پالیسیوں کا احتجاجی مظاہرہ تھا ۔اور لندن میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف پبلک ناراضگی دیکھنے کو ملی تو برطانیہ میں بھی اس طرح کے تارکین وطن کو دیش سے باہرنکالنے کی مانگ تیز ہو گئی ہے ۔سنٹرل لندن میں سنیچر کو ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔اس پروٹیسٹ کو یونائیٹڈ دی کنگڈم نام دیا گیا ۔جسے این ٹی امیگریشن لیڈر ٹامی رابنسن نے لیڈ کیا تھا ۔اسے برطانیہ کی سب سے بڑی اور ساو¿تھ پنتھی ریلی ماناجارہا ہے ۔اس احتجاجی مظاہرے کے دوران بھڑکے تشدد میں 26 پولیس والے زخمی ہوئے ۔ریلی میں ٹکراو¿ اس وقت بڑھ گیا جب مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں اور دوسری چیزیں پھینکنا شروع کر دیں ۔میٹرو پولیٹن پولیس کے مطابق چار پولیس ملازمین کو شدید چوٹیں آئی ہیں اس دوران ٹیسلا کے مالک ارب پتی ایلن مسک نے ویڈیو لنک کے ذریعے وائٹ ہال میں موجود مظاہرین کو خطاب کیا ۔وہیں پاس میں اس ریلی کے احتجاج میں اسٹینڈاپ ریس ازم انسل واد کا احتجاج کریں کے ذریعے منعقد ایک اور احتجاجی مظاہرہ ہورہا تھا جس میں قریب پانچ ہزار لوگ شامل ہوئے تھے ۔پناہ گزینوں کو جن ہوٹلوں میں جگہ دی جاتی ہے ان کے سامنے بھی یونائیٹڈ کنگڈم کی طرف سے گزشتہ دنوں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔مظاہرین سے خطاب میں ٹیسلا کے مالک ایلن مسک نے کہا ایک تو برطانیہ کمزور مالی حالت سے گزررہا ہے دوسری بات یہ ہے کہ دیش تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔اور تشدد جاری ہے ۔اور یا تو آپ لڑیں گے یا مریں گے ۔مسک نے کہا اگر یہ جاری رہا تو تشدد آپ کے پاس تک پہنچے گا ۔آپ کے پاس کوئی اس کا متبادل نہیں ہوگا ۔آپ یہاں ایک بنیادی پوزیشن میں ہیں ۔آپ تشدد چنیں یا نہ چنیں تشدد آپ کے پاس آرہا ہے ۔یا تو آپ جوابی کاروائی کریں گے یا مرجائیں گے ۔برطانوی فرقہ کو لگتا ہے کہ برطانیہ میں سرکار بدلنی ہوگی ۔چناو¿ کے لئے ابھی چار سال ہیں ۔لیکن کچھ تو کرنا ہی ہوگا ۔پارلیمنٹ کو بھنگ کرکے نئے سرے سے چناو¿ کرانا ہوں گے ۔مظاہرین برطانیہ میں ناجائز طریقہ سے رہائش پذیر کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ان کی مانگ ہے ناجائز تارکین وطن کو دیش سے باہر نکالاجائے ۔اس سال 28000 سے زیادہ پرواسی انگریزی چینل کے راستے کشتیوں میں سوار ہو کر برطانیہ آئے ہیں ۔مظاہرہ میں شامل لوگ ناجائز تارکین وطن کو پناہ دینے کے خلاف ہیں ۔حال ہی میں ایک ایتھوپیائی شہری نے 14 سال کی لڑکی سے جنسی استحصال کیا ۔جس نے لوگوں کے غصے کو اور بڑھا دیا ۔سرکار اور پولیس پر الزام ہے کہ ناجائز آورژن پر نکیل کسنے میں ناکام رہے ہیں ۔اس مظاہرہ کی وجہ سے امیگریشن قواعد کو لے کر سیاسی بحث پھر سے چھڑ گئی ہے ۔سرکار پر ناجائز آورژن کو روکنے کے لئے سخت فیصلے لینے کا دباو¿ ہے ۔16 پارٹیوں کی قیادت کررہے ٹامی رابنسن کا اصلی نام اسٹیفن یوکسلین ہے ۔وہ خود کو سرکاری کرپشن اجاگر کرنے والا صحافی بتاتے ہیں ۔حالانکہ ان پر کئی کرمنل مقدمے درج ہیں ۔دعویٰ کیا کہ برطانیہ کی عدالتوں کے بغیر دستاویز والے تارکین وطن کے حقوق کو مقامی فرقہ کے حقوق سے اوپر جگہ دی ہے ۔کورٹ آف ایپلیٹ پچھلے مہینے ایکسز کے ایپنگ میں بیل ہو گئی ۔بیل میں پناہ گزینوں کو ٹھہرانے پر روک لگی تھی جو اسے ہٹا دی گئی تھی ۔شام کے ساڑے چھ بجے رابنشن نے اپنا پروگرام ختم کیا ۔ساتھ ہی انہوں نے اسی طرح کے اگلے پروگرام کا بھی وعدہ کیا ۔42 سالہ رابنشن کو اسی سال جیل سے رہا کیا گیا تھا ۔اکتوبر میں انہیں ایک سیریائی شرنارتھی کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے سے روکنے کے حکم کی عدولی کے لئے تب جیل ہوئی جب اس شرنارتھی نے ان کے خلاف ہتک عزت کا کیس جیت لیا تھا۔ادھر برطانوی وزیراعظم سراسٹامر کا کہنا ہے کہ لوگوں کو پر امن احتجاج کرنے کا حق ہے لیکن پولیس پر حملے قابل مذمت ہیں ۔ہم برطانیہ کو ان لوگوں کے ہاتھوں میں کبھی نہیں سونپیں گے جو اسے تشدد خوف اور تقسیم کاری کی علامت کی شکل میں استعمال کرتے ہیں ۔ہم شورش پھیلانے والوں کے سامنے سرینڈر نہیں کریں گے ۔
(انل نریندر)
16 ستمبر 2025
کیا یہ نئی جنگ کی آہٹ ہے ؟
9 ستمبر 2025 یعنی منگلوار کا دن پورے مشرقی وسطیٰ خاص کر قطراور سعودی عرب کے لحاظ سے بہت اہم رہا ۔اس دن اسرائیلی فوج نے دوحہ میں حماس کے لیڈروں کو اپنا نشانہ بنایا ۔واقعہ کے بعد اسرائیل کے ذریعے کی گئی اس حرکت کی تقریباً ہر طرف سے مذمت ہوئی ۔دوحہ میں منگلوار کو ہوئے اس میزائل حملے کے بعد قطر ہل گیا ہے ۔قطر نے اسرائیل کو بری وارننگ دے دی ہے ۔قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان النیہانی نے اس حملے کو سرداری کی واضح خلاف ورزی اور خطہ میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش بتایا ۔قطری حکام کے مطابق اسرائیل کا نشانہ حماس کے نمائندوں کو بنانا تھا جو دوحہ میں جنگ بندی مذاکرات کے لئے موجود تھے ۔التھانی نے اسے ایک آتنکی حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امن عمل کا پٹری سے اتارنا اور پورے علاقہ میں بدامنی پھیلانا ہے ۔حملے میں ایک قطری شہری کی موت کی تصدیق ہوئی ہے حالانکہ حماس کے نمائندہ وفد قطر گیا ہے ۔وزیراعظم التھانی نے سیدھے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خطہ میں ایک ایسا طاقتور کھلاڑی موجود ہے جو بدامنی پھیلا رہا ہے ۔نیتن یاہو پورے خطہ کو ٹکراو¿ کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔انہوں نے اسے بین الاقوامی قانون اور اخلاقی اقدار دونوں کے خلاف بتایا،رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے بعد قطر کے امیر سے بات کی ۔ٹرمپ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے دوحہ کے تئیں اتحاد جتایا ۔قطر سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کرانے کا اپنا رول جاری رکھے ۔ادھر اسرائیل نے حملے کی بات تقریباً فوراً قبول کر لی ۔وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے بیان میں کہا کہ اسرائیل نے اسے شروع کیا ہے اور اسے انجام تک پہنچائے گا اور ہم اس کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں۔اسرائیل میڈیا نے دعویٰ کیا کہ کیا اس مہم میں پندرہ اسرائیلی جنگی جہازوں کا استعمال کیا گیا جنہوں نے دس بم گرائے اس میں ڈرون کا بھی استعمال شامل تھا ۔حملہ حماس قیادت کو نشانہ بناکر کیا گیا تھا ۔حالانکہ قطری سیکورٹی افسران سمیت چھ دیگر لوگ مارے گئے ۔اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکہ میں 9/11 حملے کے چوبیسویں برسی پر جاری ویڈیو پیغام میں قطر کی راجدھانی دوحہ پر اسرائیلی حملے کو جائز ٹھہراتے ہوئیے صفائی دی ۔اپنے پیغام میں پاکستان اور اسامہ بل لادین کا بھی ذکر کیا ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے القاعدہ کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستان میں اسامہ بلادین کو بھی مار دیا تھا ۔دو حہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے قطر سمیت دیگر ملکوں کو بھی وارننگ دے ڈالی کہ وہ شدت پسندوں کو پناہ نہ دیں ۔نہیں تو اسرائیل بیرونی ممالک میں ایسے ہی حملے جاری رکھے گا ۔بتادیں اسامہ باللادین کو 2 مئی 2011 کو امریکی بحریہ نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک کاروائی میں مار گرایا تھا ۔دوحہ حملے کو لے کر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے 7اکتوبر کو سنگین قتل عام کے لئے سیدھے طور پر ذمہ دار لوگو ںکو نشانہ بنایا ۔جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں اس کے مذاکراتی نمائندہ وفد کے افراد بھی نشانہ بنایا گیا لیکن وہ حملے میں محفوظ بچ گئے ۔نیتن یاہو نے آگے کہا کہ اکتوبر کے ماسٹر مائنڈ دہشت گردوں کے پیچھے گئے اور ہم نے یہی قطر میں بھی کیا دو آتنکوادیوں کو جو وہ آتنکوادیوں کو پناہ دیتا ہے ۔حماس کو فنڈ دیتا ہے ۔آتنکوادی لیڈروں کو شاندار محل دیتا ہے اب دنیا کے کئی دیش اسرائیل کی مذمت کررہے ہیں ۔انہیں شرم آنی چاہیے قطر کے وزارت خارجہ نے دوحہ حملے کا موازنہ القاعدہ سے کرنے کے نتین یاہو کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ بیان نہ صرف اسرائیل کے بزدلانہ حملے کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش ہے بلکہ مستقبل میں بھی سرداری کی خلاف ورزی کو جائز ٹھہرانے کی شرمناک کوشش بھی ہے ۔نیتن یاہو پوری طرح سے جانتے تھے کہ حماس کے ممبران کی میزبانی قطر کے ثالثی کوششوں کے تحت تھی اور اس کی درخواست خود اسرائیل اور امریکہ نے کی تھی ۔نیتن یاہو کے بیان میں دو بار پاکستان کا ذکر کئے جانے کے بعد کئی شوشل میڈیا یوزرس اس پر تذکرہ کررہے ہیں ۔یوزر منظور قریشی نے لکھا ہے کہ نیتن یاہو قطر کو وارننگ دے رہے ہیں کہ آتنکوادیوں کو ہمیں سونپ دو ورنہ ہم کاروائی کریں گے انہوںنے لکھا کہ دوحہ حملے کو صحیح ٹھہراتے ہوئے دو بار پاکستان کا ذکر کیا گیا ہے وہیں ایک دوسرے یوزر نے لکھا پاکستان قطر نہیں ہے اور اسرائیل امریکہ نہیں ہے ۔اس درمیان قطر سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو قطر گئے تھے ۔قطر اس اسرائیلی حملے سے تو ناراض ہے ہی لیکن خلیج کے دیگر ارب ممالک اب اس کا بدلا لینے کی تیاری کررہے ہیں ۔ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔
(انل نریندر)
13 ستمبر 2025
زین جی کا مظاہرہ ہوا ہائی جیک!
ایسا نہیں ہے کہ نیپال میں جن آندولن پہلی بار ہورہا ہے ۔ایسے جن آندولن پہلے بھی کئی بار ہوئے ہیں ۔جس طرح سے اس بار اس تحریک نے تشدد کی شکل اختیار کی ہے وہ غیر متوقع ہے ۔نیپال میں موجودہ احتجاج مظاہروں میں شامل زیادہ تر نوجوان 28 سال کی عمر سے کم کے ہیں اس لئے اسے زین جی کا آندولن کہا جارہا ہے ۔یہ پہلا موقع ہے جب نوجوان پیڑھی ایک طرح سے سڑک پر اتری لیکن کیا اتنی ناراضگی صرف شوشل میڈیا پر پابندی کو لے کر ہے ۔اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے شاید نہیں ۔شوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف سڑکوں پر اترنے سے پہلے یہ یوتھ لوگ حکمراں سرکار میں پیدا کرپشن اور دھاندلیوں کو لے کر لگاتار پوسٹ کررہے تھے ان کے لئے شوشل میڈیا اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا ایک ہتھیار تھا ۔لڑکے لوگ اہم پریواروں کے لڑکوں کی تصویریں پوسٹ کرکے سوال اٹھا نے لگے کہ ان کی زندگی کا خر چ کیسے اٹھایاجاتا ہے ۔پابندیاں نوجوانوں کے لئے اپنا ہتھیار چھیننے جیسا بھی تھیں ۔بڑھتی بے روزگار ی ایک بڑا ایشو تھا ۔شوشل میڈیا پر لیڈروں کے کرپشن اور ان کے بچوں کے ذریعے عیش وآرام کی زندگی جینے کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کئے گئے ۔پارلیمنٹ احاطہ تک پہنچے لوگوں نے نعرے لگائے کہ ہمارا ٹیکس تمہاری نہیں چلے گی ۔شوشل میڈیا پر پابندی نے آگ میں گھی کا کام کیا ۔جس کے پیچھے لمبے عرصے سے پیدا مایوسی اورناراضگی کا پتہ تھا۔جس طرح سے اس تحریک نے شکل اختیار کی اس سے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ صرف اقتدار تبدیلی کی تحریک نہیں یہ تو پورے نظام یا سسٹم بدلنے کے لئے تحریک کی شکل لے چکی ہے ۔پہلے جتنے بھی آندولن ہوئے ہیں اس میں کبھی بھی اس طرح کی آگ زنی ،توڑ پھوڑ اور بدلے کے جذبے سے مارکاٹ سنسد ،سرکاری عمارتیں جلانا جیسے واقعات پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے ان کے نشانے پر نیتا ہیں ۔چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں ۔سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس مشتعل تحریک کے پیچھے صرف گھریلو ناراضگی ہے یا پھر کچھ غیر ملکی طاقتوں نے بھی اسے ہوا دینے کی کوشش کی ہے ۔وہیں نیپال کے بہانے ساو¿تھ ایشیا میں ایک طاقت بیلنس کا کھیل تو نہیں کھیلا جارہا ہے ۔کچھ طلباءنے بھی دعویٰ کیا کہ ہماری تحریک پر امن تھی لیکن اسے بھاری عناصر نے ہائی جیک کر لیا اور تشدد کا ماحول بنا دیا ۔سودان گورنگ جس سماجی تنظیم نے حامی (ہمارے ادھیکار منچ انسیٹو ) سے جڑے ہیں اس پر اپوزیشن اور میڈیا نے الزام لگایا جسے غیر ملکی سفارتخانہ خاص کر امریکہ اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے پیسہ ملاہے ۔یو ایس آئی ڈی ، این ای ڈی اور کچھ یوروپی انجمنوں نے حامی کو درپردہ طور پر مدد دی ہے ۔منتظمین کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے ادارے جمہوری اصلاحات اور سول سوسائٹی کو مضبوط کرنے کے نام پر مغربی اثر کو پھیلانے کا کام کرتی ہیں ۔حالانکہ پبلک آڈٹ میں امریکی سرکاری ایجنسیوں سے بے نامی فنڈنگ کے ٹھوس ثبوت اب تک سامنے نہیں آئے ہیں ۔کاٹھمانڈو میں امریکی سفارتخانہ نے صفائی دیتے ہوئے کہا نیپال میں دی جانے والی کوئی بھی مدد پوری طرح شفاف اور قانوناً جائز ہے ۔یہ صرف تعلیم ،ہیلتھ اور عورتوں کو امپاور اور انتظامیہ میں صلاحیت اور تعمیر نو جیسے سیکٹر تک محدود ہے ۔روسی میڈیا ادارے آر ٹی اور اسپوتنک نے نیپال کے طلباء- یوتھ آندولن کا موازنہ یوکرین - 2002-2014 او جارجیر ( 2003) جیسے انگ انقلاب مہموں جو کہ ہیں ان آندلنوں کی غیر تسلی بخش جذبات کا استعمال کر مغربی دیشوں خاص کر امریکہ نے سیاسی اقتدار تبدیلی کی زمین تیار کی تھی ۔روس کا الزام ہے نیپال کے موجودہ حالات کا پیٹرن بھی ویسا ہی ہے جہاں کرپشن اور بے روزگاری جیسے اصل اشوز کے بیچ غیر ملکی طاقتیں اپنے مفادات پورا کرنا چاہتی ہیں ۔روس یہ بھی کہہ رہا ہے کہ امریکہ ،نیپال میں نوجوان طاقت کو ایک سافٹ ہتھیار کی طرح استعمال کر سکتا ہے ۔تاکہ بھارت اور چین دونوں پر دباو¿ بنایاجاسکے ۔یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جس طرح نیپال کی حکمراں سرکار چین کے قریب آتی جارہی تھی اس سے بھی امریکہ پریشان تھا ۔کل ملا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نیپال کا یہ نوجوان ، طلباءآندولن ہائی جیک ہو گیا ہے ۔
(انل نریندر)
11 ستمبر 2025
داغدار چنے عوامی نمائندے!
یہ اطلاع نہ صرف چونکاتی ہے بلکہ ہمیں سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے ۔کہ جن وزراءممبران پارلیمنٹ ،ممبران اسمبلی کو ہم اپنی قسمت بنانے کے لئے چنتے ہیں وہ اندر کھانے کتنے داغدار ہیں ان کے خلاف کتنے سنگین الزام عائد ہیں ۔جرائم کے معاملوں میں بھی قتل ، اغوا خواتین کے خلاف جرائم جیسے سنگین معاملے شامل ہیں ۔چناو¿ اختیار ادارہ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم (اے ڈی آر ) نے اپنی رپورٹ میں حیرت انگیز الزمات کی لمبی فہرست جاری کی ہے۔ابھی حال میں تین بل پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے تھے تاکہ سنگین جرائم معاملوں میں اگر کسی وزیراعظم ،وزیراعلیٰ یا وزیر کو تیس دن کی بھی جیل میں رہنا پڑے تو اسے از خود عہدے سے ہٹایا گیا مان لیا جائے ۔حالانکہ اپوزیشن نے اس کی جم کر مخالفت کی ہے اور اندیشہ جتایا گیا ہے کہ اگر یہ قانون بن گئے تو ان کا بیجا استعمال ہوگا ۔جس سے اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنایاجائے گا ۔فی الحال یہ قانون جے پی سی کو سونپا گیا ہے ۔اور اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی آگے کی کاروائی ہوگی ۔لیکن ہم اے ڈی آر کی رپورٹ کی طرف لوٹتے ہیں ۔اس کے مطابق دیش بھر کے 302 وزیر (تقریبا 47 فیصدی ) خود پر کرمنل کیس ہونے کی بات تسلیم کر چکے ہیں ۔ان میں 174 وزیر ایسے ہیں جن پر قتل ،اغوا اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم جیسے سنگین الزام ہیں۔وہیں مرکزی حکومت کے 72 وزراءمیں سے 29 یعنی (40 فیصدی ) نے مجرمانہ کیس ہونے کی بات مانی ہے ۔اے ڈی آر نے 27 ریاستوں تین مرکزی حکمراں ریاستوں اور مرکزی سرکار کے کل 643 وزراءکے حلف ناموں کا تجزیہ کیا ہے ۔یعنی یہ سب کیس نیتاو¿ں نے اپنے حلف ناموں میں بتائے ہیں ۔یہ سب خود اعتراف کیا گیا ہے ۔ا ے ڈی آر نے یہ بھی کہا کہ جس حلف ناموں کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی گئی ہے وہ 2020 سے 2025 کے درمیان چناو¿ میں داخل ہوئے تھے ۔ان سبھی معاملوں کی پوزیشن بدل بھی سکتی ہے ۔جن وزرائے اعلیٰ پر مجرمانہ کیس چل رہے ہیں اس فہرست میں سب سے اوپر تلنگانہ کے کانگریسی وزیراعلیٰ اندت ریڈی ہیں جن پر 89 کیس چل رہے ہیں ۔اگلا نمبر تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ اسٹالن کا آتا ہے ان پر 43 کیس چل رہے ہیں ۔آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ اور مودی سرکار کی بیساکھی بنے چندر بابو نائیڈو پر 19 کیس چل رہے ہیں ۔کرناٹک کے کانگریسی وزیراعلیٰ سدا رمیا پر 13 اور ہیمنت سورین پر 5 ،دیوندر فڑنویس پر 4 ،ہماچل پردیش کے سکھویندر سنگھ پر 4 کیرالہ کے وزیراعلیٰ پی وجین پر 2 اور سکم کے پی ایس تمانگ پر ایک ،بھگونت مان ،موہن مانجھی ،بھجن لال پر ایک ایک کیس چل رہا ہے ۔پارٹی وار کچھ پوزیشن ایسی ہے بھاجپا کے 336 وزراءمیں سے 136 ( 40 فیصد) پر مجرمانہ کیس ہیں ۔وہیں 88 ( 26 فیصدی پر ) سنگین الزام ہیں ۔کانگریس کے 61 وزراءمیں سے 45 ( 74 فیصدی ) پر کیس ہیں ۔18 ( 30 فیصدی ) پر سنگین الزام ہیں۔ڈی ایم کے 31 میں سے 27 وزیر ملزم ہیں ۔14 پر سنگین کیس درج ہیں ۔ٹی ایم سی کے 40 میں سے 13 ( 33 فیصدی ) پر کیس ہیں (20 فیصدی پر سنگین الزام ہیں ۔تیلگو دیسم پارٹی (ٹی ڈی پی کے 23 میں سے 22 ( 96 فیصدی ) منتری ملز م ہیں ان میں سے 13 ( 57 فیصدی پر ) سنگین مقدمہ درج ہیں ۔عام آدمی پارٹی کے 16 میں سے 11 ( 69 فیصدی )وزیر ملزم ہیں ۔پانچ اکتیس فیصدی پر سنگین الزام ہے ۔تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں حقیقت میں دیش میں کوئی ایسی پارٹی نہیں ہے جس میں مجرمانہ نوعیت کے نیتا نہ ہو ں ۔مجرمانہ معاملے کے اعداد شمار یہ بتاتے ہیں کہ مبینہ طور پر صاف ساکھ کا دعویٰ کرنے والوں میں سیاسی پارٹی بھی اپنے نیتاو¿ں پر لگنے والے داغ کو سنجیدگی سے نہیں لیتی ۔وہ اگر سب سے پہلے کچھ دیکھتے ہیں کہ کون آدمی یہ سیٹ نکال سکتا ہے ۔بھلے ہی اس کی ساکھ کچھ بھی ہو ۔بہرحال اے ڈی آر نے وزراءکی اوسط پراپرٹی کے بھی دلچسپ اعداد شمار پیش کئے ہیں ۔کرناٹک میں سب سے زیادہ 8 ارب پتی وزیر ہیں ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دیش میں امیر لیڈروں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی ۔یہی نہیں چناو¿ لڑنا بھی مہنگا ہوتاجارہا ہے ۔چناو¿ لڑنا عام آدمی کے بس سے باہر ہوتا جارہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایماندار کم وسائل والے لوگ اب اسمبلیوں ،لوک سبھا چناو¿ لڑنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں اور یہ حال سب پارٹیوں کا ہے اس لئے میں کہتاہوں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔
(انل نریندر)
09 ستمبر 2025
چین سے ہے سب سے بڑی چنوتی!
جب سے وزیراعظم ایس سی او کے لئے چین کی راجدھانی بیجنگ گئے ہیں تب سے پورے دیش میں ایک بار پھر ہندی -چینی بھائی بھائی کے نعرے سنائی دینے لگے ہیں۔حالانکہ ٹرمپ کے دو دن پہلے دیے گئے بیان میں وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف سے پھر دیش میں شش وپنج کی صورتحال بن گئی ہے ۔بھکتوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ٹرمپ کی جے جے کریں یا شی جن پنگ کی ؟ ہمارا خیال ہے کہ چین کبھی بھی بھارت کا بھروسہ مند دوست نہیں ہوسکتا ۔اس درمیان بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا ایک تازہ بیان آیا ہے ۔جنرل انل چوہان نے اتر پردیش کے گورکھپور میں ایک پروگرام میں کہا تھا کہ چین کے ساتھ ان سلجھا سرحدی تنازعہ بھارت کی سب سے بڑی قومی سلامتی چنوتی ہے ۔اور پاکستان کے ذریعے چلائی جارہی پراکسی وار و ہزاروںزخموں سے بھارت کو لہو لہان کرنے کی اس کی پالیسی دوسری سب سے سنگین چنوتی ہے ۔جنرل چوہان نے اس سال مئی میں پہلگام آتنکی حملے کے بعد بھارت کے آپریشن سندور کا بھی ذکر کیا ۔اور کہا ہے کہ فوج نے اس دوران آتنکی کیمپوں کو تباہ کیا تھا ۔اس آپریشن میں فوج کو فیصلہ لینے کی پوری آزادی تھی ۔جنرل چوہان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میںچین کے تیانجنگ شہرمیں ہوئی اایس سی او سمٹ میں بھارت اور چین کے رشتوں میں گرماہٹ کے اشارے ملنے کی بات کہی جارہی ہے ۔اس سمٹ میں پاکستان نے بھی حصہ لیا تھا ۔اسی سال جولائی مہینے میں ہندوستانی فوج کے ڈپٹی چیف راہل سنگھ نے کہا تھا کہ آپریشن سندھور کے دوران چین نے بھارت کی ملیٹری تعیناتی پر نظر رکھنے کے لئے اپنے سیٹلائٹ کا استعمال کیا اور پاکستان کو اس کی ریئل ٹائم جانکاری دی تھی ۔یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ہندوستانی فوج صرف پاکستان میں نہیں لڑ رہی تھی بلکہ پاکستان تو ایک مکھوٹہ تھا پیچھے کھڑا تھا چین ۔ہم پاکستان اور چین دونوں سے لڑرہے تھے ۔چین نے پاکستان کو ہر طرح کے فوجی ساز وسامان ،ہتھیار مہیا کرائے کہا جارہا ہے کہ 80 فیصدی پاکستان کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ چین کے ذریعے دیے گئے ہیں ۔ان میں وہ فائٹر جنگی جہاز بھی ہیں جن کو لے کر پاکستان دعویٰ کررہا ہے کہ اس نے ہندوستانی جنگی جہازوں کو گرایا ہے ۔جنرل چوہان نے کہا کہ دیشوں کے سامنےآنے والی چنوتیاں عارضی نہیں ہوتیں بلکہ الگ الگ شکلوں میں بنی رہتی ہیں ۔میرا خیال ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ بھارت کے ساتھ بڑی چنوتی ہے ۔اور آگے بھی بنی رہے گی ۔دوسری بڑی چنوتی ہے پاکستان کا بھارت کے خلاف پراکسی وار جس کی حکمت عملی ہے ہزار زخم دے کر بھارت کو کمزور کرنا ۔ادھر آرمی کے ڈپٹی چیف نے بھی آپریشن سندھور میں چین اور پاکستان کے بھارت کے خلاف مل کر لڑنے کی بات کہی تھی ۔بھارت پاک فوجی لڑائی کو چین نے ایک لائیو لیو کی طرح استعمال کیا تھا وہ دیکھ رہا تھا کہ جب چین کے ذریعے دیے گئے اس کے ہتھیار کیسے کام کررہے ہیں ۔چین کو چنوتی بتانے والے جنرل چوہان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت کے خلاف ٹرمپ کے 50 فیصدی ٹیرف کی چین نے مخالفت کی ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چین بھارت کے ساتھ متوازن بنائے رکھنا امریکی دباؤ کے خلاف ایک وار کا کام کرسکتا ہے ۔اور نئی دہلی کو پوری طرح واشنگٹن کی حکمت عملی گھیرے میں جانے سے روک سکتا ہے ۔یہ فوری مفادات کا میل ہے ۔کوئی گہری حکمت عملی اتحاد نہیں ہے ۔لیکن دونوں فریقین کے لئے کشیدگی بڑھانے کا موقع ضرو ر ہے ۔وزیراعظم مودی نے سات سال بعد چین کا دورہ کیا ۔اور صدر شی جن پنگ سے پچھلے دس مہینوں میں پہلی باہمی ملاقات کی تھی حالانکہ برف تو پگھلی ہے لیکن ہم ان رشتوں کو ایک دقیانوس لین دین والے نظریہ سے دیکھتے ہیں اس کے باوجود یہ رشتے بے بھروسے سے نجات نہیں ہیں ۔چین پاکستان کے ساتھ اپنے گہرے فوجی اور نیوکلیائی اشتراک بنائے ہوئے ہے ۔برہم پتر پر چین کے بڑے باندھ کی تعمیر اور اکسائی چین سے ہو کر گزرنے والی نئی ریل لائن بھارت کی سلامتی تشویشات کو بڑھاتی ہے ۔شنگھائی اشتراک انجمن جیسے کثیر علاقائی اسٹیجز پر بیجنگ نے جموں وکشمیر میں ہوئے حملے کی مذمت والے بیانوں کو روک لیا ۔لیکن بلوچستان تشدد کو اہمیت بنائے رکھی۔ان قدموں سے صاف ہے کہ چین کا موجودہ کشیدگی کو بڑھاوہ دیا ہے ۔چین بھلے ہی بھارت سے رشتے بہتر بنانے کی بات کہے لیکن اس نے اپنے سدابہار دوست پاکستان کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔یہ اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دونون ملکوں نے 8.5 ارب امریکی ڈالر پر مشتمل کے 21 سمجھوتے و جوائنٹ وینچر پر کچھ دن پہلے ہی دستخط کئے ہیں ۔اس میں چین پاک اقتصادی کوریڈور (سی پی ایس سی) پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کی شروعات شامل ہے ۔پاک وزیراعظم شہباز شریف کے چین دورہ کے آخری دن جمعرات کو بیجنگ میں اس معاہدے پر دستخط کئے گئے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...