Translater

15 فروری 2022

پنجاب کے ڈیرے !

پنجاب اسمبلی چناو¿ 20فروری کو ہونا ہے ۔ یہاں سیاست پورے شباب پر ہے بھاجپا ،کانگریس ،عآپ ،شرومنی اکالی دل سبھی اپنی اپنی کامیابی کیلئے مہنت کرنے کے ساتھ ہی دیگر جگت لگانے میں لگی ہوئیں ہیں۔سبھی پارٹیوںکو ریاست کی سیا ست میں ڈیروں کی حمایت درکار ہے ۔10مارچ کو پتہ چل جائے گا کہ وزیر اعلیٰ کی گدی کس کے ہاتھ لگے گی۔ پنجاب کی سیاست صرف پارٹیوں یا ذات پات تجزیہ پر ٹیکی ہے تو ایسا نہیں ہے ۔صوبے کی سیاست میں ڈیروں کا فیصلہ کن رول ہے اور یہ کسی بھی پارٹی کا کھیل بنا اور بگاڑ سکتے ہیں۔ سکھ دھرم کے علاوہ پنجاب میں مختلف دھارمک فرقے ہیں جنہیں ڈیرا کہا جاتاہے ڈیرے کافی عرصے سے پنجاب دھارمک آستھا کا مرکز بنے ہوئے ہیں ۔یہ ڈیرا چیف ہوتے ہیں جنہیں بابا یا گرودیو وغیرہ کہا جاتاہے پنجاب میں ایسے چھ ڈیرے ہیں جن کے نہ صر ف لاکھوں کروڑوں لوگ ماننے والے ہیں بلکہ ان کا سیاسی رسوخ بھی ہے ۔پنجاب کی ایک چو تھائی آبادی کسی نہ کسی ڈیرے سے وابسطہ ہے ۔یہ ڈیرے ہیں -ڈیرا سچا سودا،رادھا سوامی ست سنگھ،بیاس ،نور محل ڈیرا (دویہ جیوتی جاگرتی سنستھان )۔سنت نیرنکاری میشن ۔نامدھاری فرقہ اور ڈیرا سنکھنڈ بلا ۔یہ ڈیرے بہت اثر و رسوخ والے ہیں اور چناو¿ کے دوران 68اسمبلی حلقوں میں اپنا اثر رکھتے ہیں ۔ جبکہ 30-35ایسے فرقے ہیں ۔جنتا میں کسی بھی امیدوار کا کھیل بنا اور بگاڑ سکتے ہیں ۔پنجاب کی آبادی 2.98کروڑ ہے اس میں سے قریب 53لاکھ ووٹر ایسے ہیں جو ڈیروں کو مانتے ہیں ۔ڈیروں کو ماننے والے لوگ بابا یا گورو کے حکم کی تعمیل ایسے کرتے ہیں جیسے وہ بھگوان کا آدیش ہو ۔کچھ ڈیرے پنجاب میں تو ایسے بھی ہیں جو سیدھے سیدھے سیا سی پارٹیوں کی حمایت کرتے ہیں وہ اپنے ماننے والوں تک یہ بھی پیغام پہنچا رہے ہیں کہ چناو¿ میں کس کے آگے بٹن دبانا ہے اور جس کس کے نہیں ۔مانا جاتاہے کہ ڈیرے غریب طبقوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن کئی بار دونوں کے عقیدت مندوں کے بیچ تکرار اور جھگڑا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔جیسے سکھ دھرم کو ماننے والوں اور ڈیرا نرنکاری کے عقیدت مندوں کے درمیان 1978میں تشدد دیکھنے کو ملا تھا ۔اس کے علاوہ 2001میں ڈیرا منیار والا ،ڈیرا سچا سودا (2008-09)ڈیرا نو رمحل 2002اور ڈیرا سنکھنڈ بلن 2009-10)کے تشدد کے واقعات بھی لوگ بھولے نہیں ہیں ۔ڈیروں کا جھگڑا بھی کم نہیں تھا اس کڑی میں یہ جو سب سے متنازعہ ڈیرا ذہن میں آتاہے وہ ہے ڈیرا سچا سودا سرسہ کے اس ڈیرے کے چیف گرمیت رام رحیم تھے ان کو سادھویوں کے ریپ معاملے میںقصور وار ٹھہرا یا گیا تھا وہ جیل میں تھے ان کو پچھلے ہفتے پیرول پر چھوڑا گیاہے ۔اس کے علاوہ جرنلسٹ رام چندر چھتر پتی اور ڈیرا کے ماننے والے راجویر سنگھ کے قتل کو لیکر مقدمہ چل رہا ہے۔ (انل نریندر)

شراب پینے والوں کی چاندی!

راجدھانی دہلی میں نئی شراب پالیسی لاگو ہو جانے کے بعد شراب کے شوقین لوگوں کی تو جیسے بلے بلے ہو گئی ہے۔اس کی بانگی جمعہ کو دہلی کے کئی علاقوں میں دیکھنے کو ملی ۔ شراب کے ٹھیکو کے باہر اکٹھا بھیڑ اور پیٹی پر پیٹی فری لے جاتے شراب کا وڈیو دن بھر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا رہا یہی نہیں کئی جگہوں پر تو پولیس کو لوگوں کی بھیڑ کنٹرول کرنے کےلئے ہلکا پھلکا لاٹھی چارج کر نا پڑا ۔دراصل نئی شراب پالیسی کی وجہ سے شراب کے داموں میں بھار ی گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے اور شراب کی قیمتوں میں30سے 40فیصدی تک کی چھوٹ نے لوگوں کو شراب کی دکانوں کی طرف دوڑنے پر مجبور کر دیا ہے سبھی ریٹیلر ٹھیکو ں نے شراب کے اسٹاک پر چھوٹ دینا شروع کردی ہے ۔نئی شراب پالیسی کے سبب اب شراب ٹھیکہ مالک شراب اسٹاک کی قیمت خود طے کرتے ہیں۔ ایسے میں کئی شراب ڈیلروں نے شراب کی قیمتوں میں زبردست چھوٹ دینا شروع کردی ہے ۔اب دہلی میں گروگرام اور نوئیڈا کے مقابلے میں بھی سستی شراب ملنے لگی ہے ۔وہاں بھی شراب ٹھیکہ مالک ملکی وغیر ملکی برانڈ میں ڈسکاو¿ نٹ دے رہے ہیں۔جمعہ کو سوشل میڈیا پر کئی ایسے وڈیو شیئر کئے گئے ہیں جس میں دکھایا گیا کہ شراب کی دکانوں پر پیٹی کے ساتھ ادھا اور پووے بالکل مفت کا وڈیو میں ایک شخص بتارہاہے کہ نند نگری کی ایک شراب کی دکان میں یہ آفر مل رہا ہے ۔جس کی وجہ سے فلائی اوور کے اوپر سے لیکر نیچے دکان تک بھاری بھیڑ دکھائی دے رہی ہے۔ عالم یہ تھا کہ شراب کے گاہکوں کو دکان سے تھوڑا دور کھڑے ہونے کیلئے تھوڑا بہت طاقت کا استعمال کرنا پڑا ۔ بتایا جاتا ہے کہ لوگ ہاتھوں میں شراب کی پیٹیاں لے جارہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق دہلی میں کئی شراب کی دکانوں نے مقابلہ جاتی قیمتوں پر شراب دینا شروع کر دی ہے۔ (انل نریندر)

14 فروری 2022

افسروں کے تبادلے کے عوض میں دس کروڑ روپے نقد!

پنجاب کے وزیراعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی کے بھتیجے بھوپیندر سنگھ عرف ہنی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ریاست میں حکام کے تبادلے اور ریت ڈھلائی کام کے بدلے دس کروڑ روپے نقد لئے تھے ۔یہ دعویٰ انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ نے جاری بیان میں کیا ہے ۔ہنی حراست میں ہے اس کے علاوہ ایجنسی نے 18 جنوری کو ہنی اور دیگر لوگوں کے خلاف چھاپہ ماری کی تھی ۔ان کے گھروں سے 7.9 کروڑ نقد اور ہنی سے وابسطہ شخص سندیپ کمار کے یہاں سے قریب دو کروڑ روپے ضبط کئے تھے ۔ایجنسی نے کہا ای ڈی نے چھاپے کے دوران قدرت دیپ سنگھ ،بھوپیندر عرف ہنی کے والدسنتوک سنگھ اور رندیپ سنگھ کے بیان ریکارڈ کئے تھے اس سے یہ پتہ چلا کہ ضبط کردہ دس کروڑروپے بھوپیند ر سنگھ کے تھے اس نے یہ بھی قبول کیا ضبط رقم اس نے حکام کی تعیناتی تبدلے اور ریت کی کھدائی کے کام کے بدلے ملی تھی ۔ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ اب خود بھوپیندر سنگھ ہنی نے مان لیا ہے کہ اس نے ریت کھدائی اور ڈھلائی کے کام اور حکام کے تباد لے و تقرری کرانے کے بدلے نقدی کی شکل میں رقم ملی تھی ۔ (انل نریندر)

دس سیکنڈ میں ملبہ میں تبدیل ہو جائے گی 32 منزلہ ٹوین ٹاور

نوئیڈا-ٹوین ٹاور کو گرانے کی سمت میں کاروائی شروع ہو گئی ہے ۔ممبئی کی ایڈ ایفس کمپنی سے سپر ٹیک نے معاہدہ کیا ہے ۔دھماکو بارود لگا کر اس عمارت کو گرایا جائے گا ۔آنے والے کچھ دنوں میں کمپنی سائٹ پر مشینی ساز و سامان اور دیگر سامان پہوچانے کا سامان شروع کردے گی ۔22 مئی کوصرف ایک دھماکہ ہوگا اور محض دس سیکنڈ میں ٹوئین ٹاور ملبے میں تبدیل ہو جائے گا ۔گزشتہ بدھوار کو سی ای او ریتو ماہیشوری کی سربراہی والی میٹنگ میں ٹوین ٹاور کو گرانے کو لیکر ملبہ ہٹانے کی پوری حکمت عملی پر غور و خوض ہوا ۔22 اگست تک بلڈر یا اسٹو مسماری کا کام سونپا گیا ہے ۔کمپنی کے انجینئروں نے بتایا کنٹرول بلاسٹ سے ٹوین ٹاور کو گرانے کی وجہ خالی جگہ میں گرایا جائے گا ۔ماہرین کی دیکھ بھال میں دھماکو بم لگائے جائیں گے ۔اس میں 90 دن کا وقت لگے گا اور اس کے بعد محض د س سیکنڈ میں پوری عمارت نیست و نابود ہو جائے گی ۔دھول کے غبار کو گرنے تک دھند چھائے رہنے کی امید ہے اور آس پاس رہنے والوں کو کچھ دنوں کے لئے یہاں سے کسی دوسری جگہ شفٹ کیا جا سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

حد بندی کمیشن کی انٹرنل رپورٹ پر مچا وابیلا!

اگر حد بندی کمیشن کی انترم رپورٹ ڈرافٹ میں تبدیلی نہیں کی گئی تو جموں و کشمیر کے سیاسی لیڈروں کی چناوی راہیں مشکلات بھریں ہو سکتی ہیں ۔حد بندی کمیشن کی انترم رپورٹ نے جموں وکشمیر میں اپوزیشن ہی نہیں بھاجپا ورکوں میں بھی ناراضگی پیدا کردی ہے ۔حد بندی کمیشن نے اپنے وابسطہ ممبران کو جو انترم رپورٹ کا مسودہ بھیجا ہے اس پر نہ صرف اپوزیشن پارٹیان اعتراض کر رہی ہیں بلکہ بھاجپا نیتاو¿ں کو بھی اعتراض ہے ۔بھاجپا میں بھی کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں تین نفری حد بندی کمیشن کا قیام 6 مارچ 2020 کو کیا گیا تھا ۔چیف الیکشن کمشنر انل چندر اور جموں کے چناو¿ کمشنر کے کے شرما بھی اس کے ممبر ہیں ۔دسمبرمیں یہ خبر آئی تھی کہ جموں وکشمیر میں سات اسمبلی سیٹیں بڑھائے جانے کی سفارش کی گئی ہے ۔6 سیٹیں جموں علاقہ اور ایک سیٹ کشمیر میں بڑھے گی ۔زیادہ تر اسمبلی سیٹوں کے حلقے کی دوبارہ سے تعین کیا گیا ہے ۔انترم مسودہ کو لیکر وادی کشمیر اور جموں سمانگ میں سیاست تیز ہو گئی ہے ۔جموں سمانگ میں اس بات کی بھی حیرانی جتائی جا رہی ہے کہ آخر جموں پونچھ پارلیمنٹری حلقہ کا پونچھ و راجیوری کا زیادہ تر علاقہ ساو¿تھ کشمیر کے اننت ناک پارلیمانی حلقہ سے کیسے جوڑ دیا گیا ہے ؟ لوگوں کا الزام ہے چونکہ گزشتہ لوک سبھا چناو¿ میں پونچھ اور راجیوری علاقہ سے کانگریس کے امیدوار رہے رمن بھلا کو بھاجپا سے کافی زیادہ ووٹ ملے تھے ۔جموں ضلع میں بھارت پاک سرحدسے لگے ستیل گڑھ و مٹھ علاقہ سے 2014 کے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کے چودھری شام لال اور چودھری سکھ نندن جیتے تھے ۔دونوں جاٹ لیڈرہیں یہ دونوں اسمبلی حلقہ کسان اور کسانی کے لئے جانے جاتے ہیں ۔پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی کا الزام ہے اس پارلیمانی سیٹ کی حد بندی بھاجپا اورآر ایس ایس کے ایجنڈکے مطابق کی گئی ہے ۔لگتا ہے جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کا تو اس سے بھی بڑھ کر کہناہے کہ انترم رپورٹ بھاجپا کے لئے تیار کرائی گئی لگتی ہے ۔انترم رپورٹ کو لیکر دوسری طرف سچیت گڑھ علاقہ کے بھاجپا ورکر بھی خاصہ ناراض ہیں ۔اس اسمبلی سیٹ کو کمیشن کی انترم رپورٹ میں ختم کر دیا گیا ہے ۔آر ایس ایس پورا اسمبلی سیٹ کافی عرصہ سے رزرو تھی ۔اب بشنا اسمبلی سیٹ ختم کئے جانے سے مقامی شہری ناراض ہیں اس حلقہ کے کئی مقامی بھاجپا نیتا و وکروں نے احتجاجی مظاہرے کرکے بھاجپا سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔کمیشن کی میعاد پوری ہونے جا رہی ہے اس لئے یہ قواعدچھ ماہ سے پہلے پوری کرنے کی تیاری ہے ۔ممکن ہے 14 فروری کے بعد حدبندی کمیشن کی انترم رپورٹ کبھی بھی ظاہر کرنے کے لئے جنتا کے سامنے رکھی جا سکتی ہے ۔اس سے پہلے تو سب کی ناراضگی دور کرنی ہوگی ۔ (انل نریندر)

13 فروری 2022

بے روزگاری سے 9 ہزار دیوالیہ ہونے سے 16 ہزار افراد نے کی خودکشی!

مرکزی سرکار نے تین برس میں مالی تنگی کے چلتے دیوالیہ ہونے اور بے روزگاری کے سبب خودکشی کرنے والوں کی تفصیل بدھ کو پارلیمنٹ میں پیش کی۔حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ سال 2018 سے 2020 کے درمیان بے روزگاری کی وجہ سے 9140 لوگوں نے اپنی جان سے ہاتھ دھویا ۔وزیر مملکت نتیا نند رائے نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے حوالے سے بتایا کہ 2018 سے 2020 کے درمیان دیوالیہ ہونے اور قرض کے دباو¿ کے سبب 16 ہزار لوگوں نے خودکشی کی تھی ۔یہ جانکاری راجیہ سبھا ممبر سکھرام سنگھ یادو چھایا ورما اور نشاد کے سوالوں کے تحریری جواب میں دی ہے ۔وزیر کا کہنا تھا ذہنی کشیدگی کم کرنے کے لئے دیش بھر میں قومی ذہنی صحت پروگرام چلایا جا رہا ہے ۔روزگار پیدا کرنے کے لئے بھی پروگرام چلائے گئے ہیں رائے نے بتایا کہ یہ تعداد این سی آر کے معلومات پر مبنی ہے ۔قرض میں دبے لوگوں کی خودکشی کا ٹرینڈحالانکہ ایک جیسا نہیں تھا ۔موجودہ پارلیمانی سیشن کے دوران اپوزیشن ممبران نے کئی مرتبہ بے روزگاری کا اشو اٹھایا ان کا کہنا تھا بے روزگاری سے پریشان لوگوں کو بجٹ میں راحت پہونچانی چاہیے ۔اور بے روزگاری سے نمٹنے کے لئے درکار قدم اٹھانے چاہیں ۔ (انل نریندر)

آشیش مشرا کو ضمانت کسانوں کےلئے بڑ ا جھٹکا!

ہائی کورٹ نے لکھیم پور کھیری تکونیا کانڈ میں ملزم بنائے گئے مرکزی وزیر مملکت داخلہ اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کی ضمانت عرضی منظور کر لی ہے ۔عدالت نے اسے پرسنل بونڈ اور دو ضمانت داخل کرنے پر رہا کرنے کاحکم دیا ۔یہ حکم جسٹس راجیو سنگھ کی سنگل بنچ نے جمعرات کو پاس کیا ۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایف آئی آر میں الزام ہے کہ تین اکتوبر 2021 کو ہوئی واردات میں وزیر مملکت داخلہ کا بیٹا آشیش مشرا کی بائیں سیٹ پر بیٹھا شخص گولی چلا رہا تھا اور اس کی گولی سے ہی گوریندر سنگھ ناتھ کے ایک شخص کی مو ت ہو گئی ۔جب کہ متوفین یا واردات کی جگہ پر موجود کسی بھی شخص کو گولی سے چوٹ نہیں آئی ۔واردات میں پانچ لوگوں کی موت اور 13 لوگ زخمی ہوئے تھے ۔عدالت نے اپنی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کے بیان کا ذکر بھی کیا ہے ۔عدالت نے اہم رائے زنی کی کہ اگر بچاو¿ فریق کی پوری کہانی قبول کر لی جائے تو صاف ہے کہ واردات کی جگہ پر ہزاروں مظاہرین موجود تھے ایسے میں یہ بھی ممکن ہے کہ ڈرائیور نے بچنے کے لئے گاڑی منگائی ہو اور وہ واردات ہو گئی ہو ۔یعنی کہ مخالف وکیل کی طر ف سے دلیل بھی دی گئی تھی مظاہرین میں کئی لوگ تلواریں اور لاٹھیاں لے کر آئے تھے ۔بحث کے دوران یہ بھی کہا گیا تھا ایسا کوئی بھی ثبوت ایس آئی ٹی نے نہیں اکٹھا کیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ آشیش مشرا نے کسی کوبھی گاڑی چڑھانے کے لئے اکسایا ہو ۔عدالت نے آگے کہا تھا کہ کار میں بیٹھے تین لوگوں کے قتل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔کیس ڈائری کے ساتھ موجود فوٹو سے پتہ چلتا ہے کہ ڈرائیور ہر ی اوم مشرا اور سبھے مشرا اور شیام سندر کاقتل مظاہرین نے کتنی بے رحمی کیا ہے ۔اس واردات کی جانچ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس راکیش کمار جین کی نگرانی میں ہوئی ۔آشیش مشرا کی ضمانت کے معاملے میں کہا جا رہا ہے کہ اتر پردیش کے ان کسان لیڈروں نے سنجیدگی کا ثبوت نہیں دیا جن کو اس کی ذمہ داری دی گئی تھی ۔اسی سلسلے میں ہائی کورٹ میں کسانوں کے وکیل کے رول پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں ۔متحدہ کسان مورچہ کے کسان نیتا تو یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا کسانوں کا وکیل اس معاملے کی سماعت کے دوران غیر حاضر تھا ؟ اس معاملے میں متحدہ کسان مورچہ میں یوپی کے بڑے کسان لیڈر یودویر سنگھ کو فون اور ایس ایم ایس بھی کیا لیکن ان کا جواب نہیں آیا ۔بتایا جا رہا ہے کہ اس معاملے کے اسٹیٹس کے بارے میں یوپی کے کسان لیڈروں نے مشترکہ کسان مورچہ کے لیڈروں کو یقینی طور سے جانکاری نہیں دی ایسا کس وجہ سے ہوا اس پر مورچہ کے نیتا کچھ نہیں بولتے حالانکہ کسان مورچہ کے آشیش مشراکو ہائی کورٹ سے ملی ضمانت کو بڑے جھٹکے کی شکل میں لے رہے ہیں ۔جہاں مشترکہ کسان مورچہ کے نیتا ملزم کی ضمانت خارج کرانے کے لئے سپریم کورٹ جانے کے بارے میں قانونی رائے مشورہ لے رہے ہیں وہیں یوپی کے چناو¿ میں بھاجپا کے خلاف چلائی جا رہی مہم اور تیز کرنے والے ہیں ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...