Translater

31 اگست 2021

70برس میں بنے اثاثے بیچ رہی ہے مودی سرکار !

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے نیشنل مونو ٹرائزیشن پائپ لائن میں (این ایم پی )لانچ کی اس کے ساتھ ہی مخلف سیکٹر کی سرکاری کمپنیوں میں حصہ داری بیچ کر یا پراپرٹی کو پٹے پر دیکر کل 6لاکھ کروڑ روپئے کا نشانہ ہے وزارت مالیات نے اس کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پٹے پر دینے کی کاروائی چار سال یعنیٰ 2025تک مرحلے وار طریقے سے چلے گی نرملا سیتا رمن نے صاف کیا جن سڑکوں ، ریلوے اسٹیشن یا ایئر پورٹ کو پٹے پر دیا جائے گا اس کا مالکانہ حق سرکار کے پاس ہی رہے گا۔ پٹہ ایک طے میعاد کے لئے ہوگا اس کے بعد اس کے بعد پورا اسٹرکچر سرکار کے پاس آجائے گا ۔ سڑکوں ، ریلوے سے سب سے زیادہ تین لاکھ کروڑ روپئے اکٹھا کرنے کی تیار ی ہے۔ ہائیوے 1.6لاکھ کروڑ ، ریلوے 1.5لاکھ کروڑ پاور ٹرانس مشن 45ہزار کروڑ ، پاور جنریشن 39832کروڑ کا نشانہ رکھا ہے ۔ ٹیلی کام 35100کروڑ ویئر ہاوسنگ 28900کروڑ مل سکتے ہیں ۔ نیشنل گیس پائپ لائن 24462کروڑ پروڈیکٹ پائپ لائن 22504کروڑ ، کھدان 28474کروڑ جہاز رانی 20782کروڑ ہوائی اڈے 12828کروڑ اسٹیڈیم 11950کروڑ ارب ریل اسٹیٹ 15000کروڑ ان میں زیادہ تر پراپرٹی دہلی میں ہے ۔ سرکار کے اس فیصلے کی اپوزیشن نے نقطہ چینی کی ہے ، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس پروگرام کو دو چار صنعت کاروں کا حق بڑھانے والے قدم بتایا ہے ساتھ ہی کہا 70سال میں جنتا کے لاکھوں کروڑ روپئے سے بنے اثاثوں کو مودی سرکار کے اپنے چہیتے صنعت کاروں کو بیچ رہی ہے بھاجپا کا نعریٰ تھا 70سال میں کچھ نہیں ہوا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیر خزانہ نے دیش کے سامنے نیشنل مونوٹرائزیشن پائپ لائن پروگرام کے ذریعے رکھ دی ہے راہل نے ایک ایک اثاثے کو گنایا اور کہا کہ انہیں بنانے میں 70سال لگ گئے ہیں جنہیں اب چار لوگوں کو بیچا جا رہا ہے صنعت کاروں کا اس کا سودا کیا جا رہا ہے راہل نے کہا کہ دیش کے نوجوانوں سے مرکز نے پہلے بھی روزگار چھینا ہے اور اس پروگرام سے دیش میں بے روزگاری بڑھے گی یہ دیش کے نوجوانوں پر حملہ ہے انہوں نے کہا کورونا پر دیش کو آگاہ کیا گیا تھا اس وقت میرا مذاق اڑایا گیا اس بار بھی یہ پروگرام ایک طرفہ دائر اختیار بڑھانے سے روزگار کے دروازے بند کرنے والا ہے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ سرکار نے بغیر کسی ٹارگیٹ اور پیمانہ طے کیا ہے اتنا وہ فیصلہ پبلک سیکٹر نہیں بیچے گا نرملا سیتا رمن نے کہا کہ اس سے چھ لاکھ کروڑ روپئے اکٹھا کئے جائیں گے جبکہ وزیر اعظم گذشتہ تین یوم آزادی تقریب میں سو لاکھ کروڑ روپئے کا انفرا اسٹرکچر پائپ لائن کا اعلان کر چکے ہیں یہ بڑا گھوٹالہ ہے جس پر سبھی دیش واسیوں کو بحث کرنی چاہئے وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے اس پروگرام کو لیکر تنقیدکرتے ہوئے دعویٰ کیا یہ دیش کے اثاثے بیچنے کی سازش ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی یا بھاجپا کہ پراپرٹی نہیں ہے ممتا نے اسے چانکانے والا اور افسوس ناک فیصلہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان پراپرٹیوں کو بیچنے سے ملے پیسوں کا استعمال چناو¿ کے دوران اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف کیا جائے وہیں وزیر خزانہ سیتا رمن نے اپوزیشن کی سخت نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کانگریس سرکار نے بھی کیا تھا موتری کرن ۔ (انل نریندر)

29 اگست 2021

اب نارکو ٹیرارزم کا خطرہ !

دہلی پولس دیش کی سبھی اینٹی نارکوٹیکس ایجنسیاں اب پہلے سے زیادہ الرٹ پر ہیں افغانستان پر طالبان قبضی کے بعد بھارت نے نارکو ٹیرا رزم کو لیکر بڑے خطرے کے طور پر خفیہ ایجنسیوں نے آگاہ کیا ہے اس بات کی تصدیق نارکوٹیکس کنٹرول اور دہلی پولس کے اعلیٰ افسروں نے کی ہے دہلی سمیت بھارت کی سبھی سر حدوں اور سمندری علاقوںمیں مزید چوکسی بڑھانے کے احکامات ہیں ساتھ ہی ڈرگس کے نئے روٹ پر کون سے ہاٹ اسپاٹ ہو سکتے ہیں ان کی پہچان کی جا رہی ہے خفیہ ایجنسیوں کو الیکٹرانک اور شخصی سرویلانس بڑھائے جانے کو کہا گیا ہے ذرائع نے بتایا انٹر نیشنل ڈرگ سینڈی کیٹ ہینڈلروں کے لئے این سی آر سمیت کئی بڑے شہر ابھرتی مارکیٹ ہے اسے ایسے بھی دیکھ سکتے ہیں کی پچھلے مہینے جولائی میں دہلی پولس کی اسپیشل سیل نے فریدآباد میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر ڈرگ کا اب تک کا سب سے بڑا ذخیرہ بر آمد کیا ہے یہ این سی آر سے مہنگی تھی اس کی مقدار قریب 54کلو بتائی جا تی ہے جس کی قیمت 25سو کرروڑ روپئے ہیں اس سپلائی کا ماسٹر مائنڈ ایک افغانی تھا جس کے ساتھ اس ڈرگ کے کاروبار میں تین ہندوستانی بھی شامل تھے ڈرگ کنٹرول اب بھارت میں کافی پیر جمع چکا ہے اس کے ایک ہفتے بعد جموں کشمیر پولس کی اینٹی نارکوٹیکس ٹاسک فورس نے 22جولائی کو دو کلو ہیروئن بر آمد کی تھی پکڑے گئے لوگوں نے بتایا کہ افغانستان میں تیار ہوئی ہیروئن کی پیکنگ پاکستان میں ہوئی تھی ڈی آر آئی نے افغانستان کی بنی ہیروئن کے چھ پیکٹ پکڑے تھے اسپیشل سیل کا کہنا یہ ایک ہی سینڈی کیٹ اور اس سے جڑے نیٹ ورک کا حصہ ہے جو بڑے پیمانے پر کام کر رہے ہیں دہلی پولس سمیت سبھی ناکوٹیکس ایجنسیاں ہندوستان کے میں ایجنسیاں اس کی ہلچل پر نظر رکھے ہوئے ہیں لہذاد ہلی ہی نہیں بلکہ سیکورٹی ایجنسیوں بھی ڈاٹا تیار کیا ہے ذرائع کے مطابق افغانستان سے پاکستان ساحل پر لائی جاتی ہے یہاں سے چھوٹی بوٹ کے ذریعے دوسرے ساحلی کنارے تک پہونچائی جاتی ہے پھر پاکستان کے راستے دہلی حیدرآباد بنگلورو اور دیگر شہروں میں بھیجی جاتی ہے اب جب افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے تو ان کی بڑی آمدنی کا ذریعہ ڈرگس ہے تو بھارت کے لئے نارکوٹیرا رزم کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے جہاں ان نشیلی دواو¿ں کو روکنے کی ضرور ت ہے وہیں اس کے پیسے سے دہشت پھیلانے والوں پھر گہری نظر رکھنی پڑی گی آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ بڑھ سکتا ہے اس لئے ہندوستانی ایجنسیوں کو پہلے سے زیادہ چوکس ہونا پڑے گا۔ (انل نرندر)

بم دھماکوں سے دہل اٹھا کابل ہوائی اڈہ!

طالبان کے قبضے سے بھاگ رہے ہزاروں لاچار لوگوں کو نشانہ بنا کر جمعرات کے روز دو فدائی دھماکوں سے کابل ہوائی اڈہ دہل گیا ان میں سو سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی متعدد زخمی ہوئے ہیں جس وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے وہیں بم دھماکے سے ایک دن بعد یعنیٰ جمعہ سے افغانستان سے شہریوں کو واپس لانے کے لئے پھر سے پروازیں شروع ہو گئی آتنکی گروپ تنظیم خراسن نے حملے کی ذمہ داری لی ہے وہیں وائٹ ہاو¿س کور کرنے والے صحافی جیک ملر نے دعویٰ کیا کہ دھماکوں میں 11امریکین مرین اور ایک کمانڈو کی بھی مو ت ہوئی ہے یہ امریکی تاریخ میں ایک دن میں سب سے زیادہ امریکین مرینو کی موت ہے کئی ملکوں کو حملے کی خفیہ اطلاع پہلے سے تھی انہوں نے لوگوں کو کابل ایئر پورٹ سے دور رہنے کی ہدایت بھی دی تھی لیکن بگڑتے حالات کے سبب کابل چھوڑنے کی جد وجہد میں لگے لوگا اس ہدایت کو نظر انداز کر بڑی تعداد میں ہوائی اڈے کے آس پاس جمع تھا پہلا دھماکہ ہوائی اڈے کے مشرقی گیٹ پر ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ بیرن ہوٹل کے پاس ہوا اس فدائی حملے کے لئے پاکستان بھی شبہ کے دائرے میں آتا دکھائی دے رہا ہے افغان زرائع کے مطابق امن عمل کے دوران کئی خطرناک اور جاں باز آتنکی چھوڑے گئے تھے یہی آتنکی کابل حملے کے لئے ذمہ دار ہو سکتے ہیں اس میں پاکستان کی آئی ایس آئی ایس چہرہ امیر مولوی عبداللہ فاروقی بھی شامل ہے سال 2019ملاوی ضعی عرف ابو عمر خراسانی کی جگہ اپریل 2019میں آئی ایس کے چیف بنایا گیا تھا صدر جو بائیڈن بے حد غصے میں ہیں حملے کے بعد وائٹ ہاو¿س سے اپنے خطاب میں انہوں نے امریکی فوجیوں کی جان کا بدلہ لینے کا عہد کیا ہے کہا ہم حملہ آوروں کو پکڑ کر سزا دیں گے اس حملے میں انجام دینے والے دھیان رکھیں ہم تمہیں بخشیں گے نہیں ہم تمہیں پکڑ کر ہر حال میں سزا دیں گے بائیڈن نے کہا کابل ایئر پورٹ پر ہوئے اس خوف ناک حملے کے پیچھے آئی ایس آئی ایس کا ہاتھ ہے بائیڈن نے یہ بھی کہا حملے میں طالبان اور اسلامک اسٹیٹ میں ملی بھگت کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کابل سے فوجیوں کو نکالنے کی کاروائی کو 31اگست تک نکالنے کے لئے وہ اب بھی پابند ہیں افغانستا ن میں اسلامک اسٹیٹ سے متلعق اسلامی اسٹیٹ خراسان صوبہ چننے کابل ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری لی ہے دہشت گرد گروپ نے ایک فدائی حملہ آور کی تصویر جاری کی ہے اور کہا کہ یہ وہی حملہ آور ہے جس نے حملے کو انجام دیا تصویر میں حملہ آور کو آئی ایس آئی کا جھنڈے کے سامنے دھماکو بیلٹ کے ساتھ کھڑا دیکھا جا سکتا ہے جس کے چہرے پر ایک کالا کپڑا بندھا ہوا ہے اس میںصرف اس کی آنکھ دکھائی دے رہی ہے سوال اب یہ ہے کہ امریکی اس حملے کا بدلا کیسے لیگا؟ایک طرف تو اسے 31اگست تک افغانستان چھوڑنے کی مجبوری ہے دوسری طرف بدلہ لینے کی بات کر رہے ہیں ؟ممکن ہے کہ ہوائی حملے کرے یا طالبان کے ساتھ کئی بے قصور افغانی بھی مارے جا سکتے ہیں ؟بری طرح پھنسا ہوا ہے امریکہ اتنی جلد بازی میں افغانستا چھوڑنے کی قیمت ادا کر رہا ہے امریکہ ؟ (انل نریندر)

28 اگست 2021

افغان جنگ کے اصل ونر :امریکی ڈیفنس کمپنیاں!

افغانستان جنگ میں امریکی ڈیفنس کمپنیاں کمائی کے معاملے میں ونر بن کر ابھر رہی ہیں امریکہ کو بھلے ہی 2ٹریلین ڈالر سے زیادہ گنوانے پڑے ہوں لیکن پرائیویٹ ڈیفنس کمپنیوں نے موٹا منافعہ کمایا ہے 20سال تک چلی جنگ کے بعد کمپنیوں کے شیئر دام بڑھ کر اوسطاً دس گنا سے زیادہ ہو گئے براو¿ن یونیورسٹی کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق دو ہزار ایک سے اب تک افغانستا ن جنگ میںامریکہ نے کل2.26ٹریلین ڈالر یعنیٰ2260ارب ڈالر خرچ کئے ہیں یومیہ نقصان کے حساب سے یہ نمبر 30کروڑ امریکی ڈالر ہے دا انٹر سیپٹ کی رپورٹ کے مطابق پانچ کمپنیوں نے سب سے زیادہ منافع کمایا ہے جس میں گوئنگ کمپنی سب سے آگے ہے رپورٹ کے مطابق ستمبر 2001میں جس نے ان کمپنیوں کو دس ہزار ڈالر کا سرمایہ لگایا آج اس کا اثاثہ ایک لاکھ یعنی97795ڈالر ہو گیا یہ وہی تاریخ جب صدر جارج بش نے افغانستان میں فوجی کاروائی کے دستاویز پر دستخظ کئے تھے اس کے بعد سال 2021نے امریکہ نے افغانستان فوج پر کل 83ارب ڈالر خرچ کئے یعنیٰ ہر سال 4ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوا بڑی پانچ کمپنیاں ہے بوئنگ نے 975فیصدی ، رتھون نے 331فیصدی اور لاکیڈ مارٹنگ نے منافع 1235فیصدی منافع کمایا بہر حال مثال کے طور پر ڈائر کورتھ کو افغانستا کو پولس فورس کو ٹریننگ دینے اورہتھیار سے مسلح کرنے کے لئے ڈھائی ارب ڈالر کا ٹھیکہ ملا تھا افغان جنگ کل بڑی کمپنیوں کو لئے تو بہت فائدے مند رہی ۔ (انل نریندر)

31کی لاسٹ ڈیڈ لائن !

دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ معیشتوں کی موجودگی والی طاقتور گروپ جی سیون نے منگل کو کہا کہ وہ 31اگست کی ڈیڈ لائن تک کابل ایئر پورٹ خالی نہیں کریں گے بلکہ طالبان کو اس کے بعد بھی اڑان بھرنے و باہر جانے کے خواہش مند افغان شہریوں کو محفوظ راستہ دینا ہوگا برطانوی وزیر اعظم بورس جانشن نے اس کے بارے میں بتاتے ہوئے سبھی ملکوں نے اسے طالبان سے کسی بھی حمایت کی پہلی شرط مانا ہے وہیں طالبان نے پھر دوہرایا ہے کہ 31اگست کے بعد کسی کو اب ملک سے نکلنے نہیں دیا جائے گا ہوائی اڈے کی طرف جانے والی سبھی سڑکوں کو بند کر دیا جائے گا جانشن نے بتایا کہ جی سیون گروپ کی ورچول میٹنگ میں سبھی نے طالبان سے نمٹنے کے لئے ایک پلان پر اتفاق رائے جتایا ہے ہم نے نہ صرف نکلنے کو ایک مشترکہ نقطہ نظر اپنانے پر بھی رضا مندی جتائی بلکہ طالبان سے جڑنے کے طریقے کو لیکر ایک روٹ میپ پر بھی ہامی بھرنے کے لئے شرط کو کچھ طالبان لوگ نہیں مانیں گے لیکن ہمارے حساب سے کچھ اقتصادی فائدہ سمجھ میں آئے گا کیونکہ جی سیون سے رابطے کا بہت ہی اچھا موقع افغانستان کے لئے ہے اور افغانستان دوبارہ دہشت گردی کا ہوا نہیں دے سکتا افغانستان ایک نارکو یعنی منشیات والا ملک نہیں رہ سکتا لڑکیوں کو 18سال کی عمر تک تعلیم دینی ہوگی کیا امریکی صدر جو بائیڈن سے ان کے طالبان بحران سے نمٹنے کے طریقے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی میعاد توسیع کرنے سے انکار کرنے کو لیکر دیگر جی سیون کے نیتاو¿ں نے میٹنگ میں ناراضگی ظاہر کی وہیںامریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر بلیم گے برنس نے 23اگست کو کابل میں طالبان کے چیف ملا غنی برادر سے ملا قات کی حالانکہ سی آئی اے کی طر ف سے ان کے ڈائریکٹر کی طالبان لیڈروں سے ملاقات کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی لیکن بائیڈن انتظامیہ کے ایک افسر نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ طالبان نے 31اگست تک امریکیوں کو نکالنے کے لئے الٹی میٹم دے دیا ہے اس سے بائیڈن انتظامیہ فکر مند ہے ملا برادر طالبان و امریکہ کے درمیان ہم نے امن مذاکرات کے دوران اہم ثالث رہا ہے جس کی بنیاد پر ڈونالڈ ٹرم نے امریکی فوج کو افغانستان سے نکالنے کا سمجھوتا کیا تھا امریکی سی آئی کے چیف کی یہ ملاقات یہ عام ملاقات نہیں تھی ممکن ہے کہ انہوں نے ملا برادر سے وقت میعاد بڑھانے کے لئے درخواست کی ہو وہیں صدر جو بائیڈن نے کہا امریکی فوج کوہر حال میں 31اگست تک افغانستان سے واپسی کرنی ہوگی اور فوج کی واپسی جلد شروع کرنی ہوگی کیونکہ فوج پر آتنکی حملوں کا ڈر بڑھ رہا ہے اس لئے جتنے جلدی ہو سکے فوج کی واپسی پوری ہوجائے امریکہ کا رخ جی سیون ممالک کے بلکل بر عکس ہے بیشک جی سیون ممالک کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں افغانستان میںموجود ہیںلیکن جب تک امریکی فوج وہاں نہیں رہتی وہاں سے لوگون کو نکالنا مشکل لگتا ہے۔ (انل نریندر)

ای ڈی اور سی بی آئی جانچ میں دیری!

سپریم کورٹ نے بدھوار کو ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف ای ڈی -سی بی آئی کے ذریعے درج معاملوں کی جانچ اور سماعت کے لئے دھیمی رفتار پر سخت رویہ اپنایا ہے چیف جسٹس این وی رمن اور ڈی وائی چند چوڑ اور جسٹس سوریا کانت کی بنچ نے کہا کہ جانچ ایجنسیوں کی اسٹیٹس رپورٹ نہ انصافی پر مبنی ہے اس میں 10-15سال تک چارج شیٹ نہ داخل کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے ای ڈی یا سی بی آئی یقینی کرے کی سماعت جلدی پوری ہو عدالتوں میں دوسو سے زیادہ معاملے پڑے ہیں اور کئی اثاثہ جمع کرنے کے معاملے میں ای ڈی نے جائیداد کرک کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا چارج شیٹ داخل کئے بنا کروڑوں روپئے کی املاک کو کرک کرنے سے کوئی مقصد پورہ نہیں ہوگا جواب میں سرکاری وکیل تسار مہتا نے کہا ای ڈی کے کئی معاملوں نے اکثر غیر ملکی کاروائی کی ضرورت ہوتی ہے بڑی عدالت کے وکیل اشون اپادھیائے کی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہی ہے دیگر جرائم اور معاملوں میں قصور وار پائے گئے عوام کے نمائندوں پر تا حیات پابندی لگانے اور ان کے مقدموں کا جلد نمٹارہ کرنے کی درخواست کی ہے سپریم کورٹ نے کہا قانون کے تحت ریاستی سرکاروں کو غلط نیتی جرائم کے معاملوں کو واپس لینے کا حق ہے بڑی عدالت نے کہا کہ ایسے معاملوں کو واپس لینے کے خلاف نہیں ہے لیکن ایسے معاملوں پر متعلقہ ہائی کورٹ کی طرف سے غور کیا جانا چاہئے سپریم کورٹ نے ایم پی اور ممبران اسمبلی کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی کی طرف سے درج معاملوں کی جانچ اور سماعت میں غیر ضروری تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکز سے کہا وہ ضروری انسانی وسائل اور بنیادی سہولیت دستیاب کرائے ماضی اور حال میں ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف درج معاملوں میں دیری ہوتی جا رہی ہے کچھ مجرمانہ معاملے تو 15سال پہلے درج ہوئے تھے ایسے میں قصور ثابت ہونے پر تاعمر قید کی سزا ہوسکتی ہے لیکن ایسے معاملوں میں جانچ کی سمت میں سی بی آئی اورای ڈی کی دھیمی کاروائی بہت پریشانی کھڑی کر دیتی ہے اور سی بی آئی کے پاس ایم اور ایم ایل کے خلاف 163مجرمانہ معاملے التوا میں ہیں جبکہ ای ڈی کے پاس 122کیس ہیں جو دس سے گیارہ سال پہلے درج ہوئے تھے لیکن ابھی تک اس میں چارج شیٹ تک دائر نہیں ہوئی ہے سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ بہت معنیٰ رکھتا ہے چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ہم ان ایجنسیوں کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہتے کیونکہ ہم ان کا وقار گرانا نہیں چاہتے لیکن یہ سب بہت کچھ کہتا ہے ایسا لگتا ہے کہ ان ایجنسیوں کو جانچ یا معاملوں کو انصاف کے انجام تک پہونچانے کی کوئی جلد نہیں ہے یہ بات سپریم کورٹ کے سامنے صاف طور پر آئی ہے آج کی حالت میں ایجنسیاں دیری کے بارے میں واضح طور پر بتانا نہیں چاہتیںیہ حالت چونکاتی نہیں بلکہ جب اپنے سسٹم میں بڑے لوگوںکے خلاف شکایت سامنے آتی ہے تب آزادانہ جانچ آسان نہیں ہوتی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی مجرم لیڈر سے ہم امید کر سکتے ہیں کہ وہ دیش میں قانون و نظام سے سنبھالنے والی ایجنسیوں کی پریشانی کو کم کر دے گا اصل تشویش یہی ہے ۔ (انل نریندر)

27 اگست 2021

جج صاحبان کو نڈر ہو کر فیصلے لینے چاہئیں !

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمن نے کہا کہ عدلیہ کی سب سے بڑی طاقت اس میں جنتا کا بھروسہ ہے اور جج صاحبا ن کو اپنے اصولوں کے طئیں پا بند رہنا چاہئے اور سبھی دباو¿ اور نا گزیں حالات کے با وجود نڈر ہوکر فیصلے لینے چاہئے در اصل آندھر پردیش کے وزیر اعلیٰ وائی ایس جگ موہن ریڈی نے ایک اہم ترین قدم اٹھاتے ہوئے حال ہی میں بھارت کے چیف جسٹس اورند بوبڈے کو خط لکھ کر جسٹس رمن پر الزام لگائے اس پش منظر میں جسٹس رمن کے تبصرے خاص معنیٰ رکھتے ہیں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اے آر لکچھمن کی تعزیتی میٹنگ میں جسٹس رمن نے کہا کہ عدلیہ کی سب سے بڑی طاقت ہے لوگوں میں اس کے طئیں بھروسہ ۔ وفاداری ، احتمام اوراعتراف وہ حاصل کرنا پڑتا ہے ایک جج کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اصولوں پراٹل رہے اور بے خوف ہوکر فیصلہ لے کسی کے دباو¿ کسی بھی جج کی یہ خوبی ہونی چاہئے کہ وہ سبھی دباو¿ کے خلاف اور سبھی ناگزیں کے حالات کے با وجود ہمت سے کھڑا ہو سابق جج کو یاد کرتے ہوئے جسٹس رمن نے کہا کہ ہم سبھی کو ان کے الفاظ سے تلقین حاصل کرنی چاہئے اور عدلیہ کی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے جس کی آج کے دور میں بہت ضرور ہے ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...