Translater

29 جولائی 2020

جمہوریت میں اختلاف کی آواز نہیں دبائی جا سکتی !

سپریم کورٹ نے راجستھان کے سیاسی واقعات کے چلتے ایک اہم ترین سوال پوچھا ؟سچن پائلٹ سمیت کانگریس کے 19باغیوں کو راحت دیتے ہوئے نا اہلی سے متعلق اسمبلی اسپیکر کے نوٹس کے خلاف راجستھان ہائی کورٹ کی سماعت پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے پوچھا کیا اختلاف کی آواز دبانا جمہوریت کو ختم کرنا نہیں ہے ؟جسٹس ارون مشرا ،جسٹس بی آر گوائی ،جسٹس کرشن مراری کی بنچ نے کہا کہ اسمبلی ممبران اسمبلی چنے ہوئے ہوتے ہیں کسی پارٹی کے چنے ممبر اسمبلی کیا اپنا اختلاف نہیں ظاہر کر سکتے ۔بنچ نے پوچھا پورے معاملے میں بڑا سوال یہ ہے کہ آخر جمہوریت کو کیسے کام کرنا چاہیے ؟یہ جمہوریت سے وابسطہ اہم ترین سوال ہے ۔بے حد سنجیدہ اشو ہے ہم اسے مفصل طور پر سننا چاہتے ہیں سمارعت کے دوران اسپیکر کی طرف سے سینئر وکیل ہریش سالوے پیش ہوئے اسپیکر سے بنچ کے پوچھا کہ آپ تو نیوٹرل پارٹی ہیں آپ کو سپریم کورٹ آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ہائی کورٹ نے 29جولائی تک محفوظ رکھاتھا آپ ایک دن کا انتظار کیوں نہیں رکھ سکتے ؟کانگریس کے اندر کی اندرورنی پھوٹ کے چلتے اسمبلی اسپیکر باغی گروپ کے 19ممبران کو نا اہل قرار دینے کا نوٹس جاری کرنا۔اور اس کی مخالفت میں پائلٹ گروپ کا ہائی کورٹ جانا اور پھر عدالت کا جوں کہ توں پوزیشن برقرار رکھنے کا حکم پاس کرنا ادھر اسمبلی اسپیکر کا سپریم کورٹ جانا اور اس کے ذریعے دیگر تمام پیچیدگیوں پر غور و خوض کی کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ اختلاف کے حق کو ترجیح سے اٹھانا وغیرہ قدم رہے جو ایک طرف جہوریت کی موجودہ پوزیشن کو لیکر گہری تشویش میں ڈالتے ہیں اور ساتھ ہی امید جگاتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے جمہوریت کے جس اختلاف کے جس حق کی بات کہی ہے وہ ایک اہم ترین آئینی حق ہے ۔ایک صحت مندجمہوریت کے لئے اس کا حق تھا جس کا ضمیر کے لحاظ سے استعمال ہونا بے حد ضروری ہے ۔لیکن بدقسمتی سے اقتدار کی موجودہ سیاست کی جو پوزیشن ہے وہ پوری طرح سے اس حق کے خلاف ہے دیش کی سیاست چلانے والے سبھی لوگوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کیونکہ دیکھاجائے تو ہماری جمہوریت کا مستقبل اسی پر ٹکا ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

28 جولائی 2020

اوئیگر مسلمانوں کے بعد اب عیسائیوں پر مظالم !

چین میں حکومت نے اوئیگر مسلمانوں کے بعد اب عیسائیوں کو ٹارچر کرنا شروع کر دیا ۔حکومت نے اپنے ایک نئے فرمان میں کہا ہے عیسائی اپنے گھروں میں عیسیٰ مسیح کی تصوریریں اور گرجا گھروں سے کروس کا نشان و مورتیا ں ہٹا دیں ان کی جگہ ماو¿تانہ تنگ اور صدر شی جنگ پنگ کی تصوریریں لگائیں ۔فرمان نا ماننے والوں پر سخت کاروائی کی جائے گی ۔پچھلے 1مہینہ میں حکام نے پانچ ریاستوں میں گرجا گھروں سے سینکڑوں مذہبی علامتی سمبل زبردستی ہٹا دئیے ہیں جہاں اس کی مخالفت ہوئی وہاں یہ علامتیں توڑ دی گئیں ۔تازہ معاملے میں ڈو ای نین شہر کے شیوانگ گرجا گھر سے مذہبی علامت ہٹانے کے لئے قریب 100ملازمین کی ٹیم کرین لیکر پہونچی تھی لوگوں نے اس پر احتجاج کیا اس پر حکام نے 80سالہ خاتون سمیت دیگر لوگوں کی پٹائی کرڈالی ۔عیسائیوں کی تنظیم چائنا ایڈ نے گرجا گھروں پر کاروائی کی تصاویر جاری کی ہیں ۔ادھر حکام کاکہنا ہے کہ علامتوں کے ذریعے کسی مذہب کی پہچان نہیں ہونی چاہیے ۔سرکار نے دیش میں برابری قائم کرنے کے لئے مذہبی علامت ہٹانے کے احکام جاری کئے ۔چین کی کمیونسٹ پارٹی کے 8.5کروڑ ورکر ہیں انہیں سرکار کی طرف سے سخت وارننگ ہے کہ وہ کسی مذہب پر عمل نا کریں ۔چین میں قریب 40کروڑ بودھ تاو¿ اور 20.7کروڑ عیسائی اور 1.5کروڑ مسلمان ہیں انہیں گرجا گھروں مندروں اور مساجد کے باہر ہی پرارتھنا کرنے کی اجازت ہے ۔مذہبی مقامات پر جانے والے زائرین سے ٹیکس لیتی ہے ۔مغری صوبے سنگ زیانگ میں اوئیگر مسلمانوں کے لئے نظر بندی بستی بنا رکھی ہے جہاں سینکڑوں عمارتیں ہیں اور ان اذیت خانوں میں مسلمانوں کو رکھا جاتا ہے سرکار نے دیش میں اسلام کے چینی کرن کے لئے باقاعدہ پانچ سالہ منصوبہ بنایا ہے اس کا مقصد اسلام کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے نظریات کے مطابق ڈھالنا ہے ۔ (انل نریندر)

55فیصد پریوار محض دو وقت کی روٹی ہی جٹا پائے!

کووڈ19-وبا کے دوران پیدا چنوتیوں کو لیکر کئے گئے ایک سروے میں بتایاگیا ہے کہ ماہ اپریل سے لیکر 15مئی کے درمیان 24ریاستوں اور د و مرکزی حکمراں ریاستوں میں قریب 55فیصدی دو وقت کا کھانا جٹا پائے ۔دیش میں 5568کنبوں پر کئے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔بچیوں کے حقوق کے لئے لڑنے والی این جی او ورلڈ ویزن ایشیا پوسٹک کے ذریعے جاری اسٹڈی میں بتایا کہ ایرئیے میں سب سے زیادہ حساس ترین بچے کووڈ کے اثر سے متاثر پائے گئے ۔نتیجتاً ہندوستانی کنبوں پر معاشی و ذہنی اور جسمانی دباو¿ نے بچوں کے خلاع کے سبھی پہلوو¿ں پر مضر اثر ڈالنا شروع کر دیا جن میں غذاءاور کفالت اور صحت دیکھ بھال کیلئے ضروری دوائیں اور صاف صفائی وغیرہ اور اطفال حقوق و حفاظت جیسے پہلو شامل ہیں اس اسٹڈی میں 1اپریل سے لیکر 15مئی تک سروے کیا گیا جس سے خاص طور سے یہ بات سامنے آئی کہ کووڈ کے چلتے 90فیصد سے زیادہ والدین دیکھ بھال کرنے والے کنبے کے افراد کا گزر بسر پوری طرح سے متاثر ہو ا ہے سروے میں پایاگیا ہے کہ مکمل طور پر سب سے زیادہ مار دیہاڑی مزدوروں پر پڑی اور اس کے چلتے ان کی روزی چھنی اور دیہات اور شہری غریبوں کے لئے یہ سب سے بڑی پریشانی بن گئی ۔دیہاڑی مزدوری اس سروے کا سب سے بڑا حصہ تھے ۔اسٹڈی میں بتایا کہ 67فیصدی والدین و دیکھ بھال کرنے والے کنبوں کے افراد نے پچھلے ہفتوں میں کام چھوٹ جانے یا آمدنی میں کمی کی بات مانی ہے اس رپورٹ سے نتیجہ سامنے آیا ہے کہ کنبوں میں سے 55.1فیصدی خاندان دن میں محض دو وقت کی روٹی ہی کا انتظام کر پائے جو ایک سنگین چنوتی کے سبب غذائی سپلائی تک ان کی محدود پکڑ کو ظاہر کرتا ہے ۔اسٹڈی میں سامنے آیا ہے کہ محض 56فیصدی لوگ ہی اپنی ہیلتھ سے متعلق چیزیں ہی لے پائے جبکہ 40فیصدی کبھی کبھی ایسا کر پائے ۔ (انل نریندر)

پرواسی مزدور فنڈ میں 3200کروڑکی گڑبڑی!

دہلی ہائی کورٹ میں سی اے جی نے مزدوروں کی فلاح کیلئے بنے فنڈ کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کے معاملے میں اپنی رپورٹ داخل کر دی ہے ۔سی اے جی کی طرف سے کہا گیا ہے دہلی سرکار نے اس مشکل وقت میں بھی پرواسی مزدوروں کو ان کا حق دینے کے بجائے 3200کروڑروپئے کے فنڈ میں گڑبڑی کی جس وجہ سے ہی پرواسی مزدور دہلی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے دہلی بلڈنگ کنشٹرکشن ویلفئیر بورڈ کی آڈٹ رپورٹ سونپتے ہوئے ہائی کورٹ کو یہ جانکاری دی گئی ہے ۔دہلی سرکار کے وزارت محنت کے دہلی بلڈنگ کنشٹرکشن ورکرس ویلفئربورڈ کے تحت تمام گڑبڑیاں ہوئی ہیں ۔لاک ڈاو¿ن کے دوران پرواسی مزدوروں کے فنڈ میں ہیرا فیری کرکے دہلی سرکار کے اسٹاف اور ٹیکسی ڈرائیورں کو بانٹ دیا گیا ۔واضح رہے کہ اس معاملے میں دہلی سرکار اور ویلفئیر بورڈ کو اس معاملے میں نوٹس دیا تھا ۔عدالت نے دہلی سرکار سے دو ہفتہ میں جواب مانگا تھا سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فنڈ کو دوسر ی مد میں منتقل کرنے اور وقت پر ٹیکس جمع نا کرنے و اس فنڈ کا استعمال محکمہءمحنت کے ملازمین کی تنخواہ وغیرہ کی مد پر خرچ کرنے کی وجہ سے پرواسی مزدوروں کو ان کا حق نہیں مل سکا ۔جبکہ اس فنڈ کا استعمال کوروناوبا کے دور میں مزدوروں کی فلاح کے لئے خرچ کیا جانا تھا ۔ان کے لئے فلائی فنڈ کے 3200کروڑ روپئے کو دوسری مد میں خرچ کر دیاگیا سی اے جی نے کہا کہ اس کی سی بی آئی جانچ کرائی جائے ۔اس نے دلیل دی سال 2016-17میں 186کروڑ روپئے اور سال 2017-18میں 200کروڑ روپئے جمع کرائے گئے تھے ۔مگر مزدوروں کے رجسٹرڈ نا ہونے سے مزدوروں کو اسکیم کا فائدہ نہیں ملا ۔رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیا ہے سال 2006-7کا انکم ٹیکس رٹرن صحیح وقت پر جمع نا کرنے کی وجہ سے 700لاکھ روپئے کا گھاٹا ہوا اس پر سے 433.17لاکھ رپئے کا سود و 27.69لاکھ روپئے دئیے گئے ۔آمدنی کی جانکاری چھپانے کے لئے دینا پڑے اس نے کہا انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے میں دیری کی وجہ سے بورڈ کو 4893.79لاکھ روپئے بطور سود دینا پڑا ۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2007-08کے بعد سے انکم ٹیکس ریٹرن نہیں داخل ہوئی ۔ (انل نریندر)

26 جولائی 2020

کورونا نے نیٹ فلیکس ،امیزن اور ہوٹ اسٹار کو جمنے کا موقع دیا

سنیما یا بڑے پردے کا جادو ہندوستانیوں کے سر پر چڑھ کر بولتا ہے اسی لئے ٹی وی آنے کے بعد بھی بالی ووڈ کی اہمیت کم نہیں ہوئی یہی نہیں آن لائن اسٹریمنگ سروس دینے والی غیر ملکی کمپنیوں نیٹ فلکس اور امیزن شروع میں ہی بھارت میں اپنی جڑیں جماتی جا رہی ہیں لیکن کورونا بحران نے جہاں سنیما حالوں پر پابندی لگانے پر مجبور کیا وہیں زیادہ سے زیاد ہ ان آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارموں پر لوگ شو دیکھ رہے ہیں ۔ہندوستانی فلم اور ٹی وی پرڈیوسروں نے موقع کا فائدہ اُٹھا کر ایک سے ایک اچھا ٹی وی سیریل بنا کر ان کمپنیوں کو دینا شروع کر دیئے ہیں ۔او ٹی ٹی پر مبنی پلیٹ فارم بالی ووڈ کے نامور اداکاروں پرڈیوسروں اور ڈائرکٹروں کو لبھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔امیتابھ بچن کی بنائی گئی فلم گلابو ستابو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے کے لئے تیار تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ گھروں میں قید تھے تو اسے امیزن کی پرائم اسٹریمنگ سروس پر ریلیز کرنا پڑا پرڈیوسروں کے لئے بھی یہ فائدے کا سودا رہا ۔او ٹی ٹی پر ریلیز فلموں کو ایک طے منافع ملا نیٹ فلکس وغیرہ پلیٹ فارم تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں ۔ہندوستانی بلاک بسٹر کے ذریعہ بھارت کے 130کروڑ لوگوںمیں اپنی یہ کمپنیاں پکڑ بنانا چاہتی ہیں اور بنا بھی رہی ہیں ۔سنیما گھروں میں جو فلمیں ریلیز ہونے والی تھیں ڈزنی کے پاس سات ایسی فلمیں ہیں نیٹ فلکس اور ڈزنی اور امیزن یہ جانتی ہیں کہ بھارت میں سب سے زیادہ فلمیں بنتی ہیں اور سب سے زیادہ ٹکٹ بھی بکتے ہیں اسی لئے اس گروپ نے سیندھ لگائی جائے ان کمپنیوں کی وور شپ میں زبردست اضافہ ہوگا ۔دیکھنایہ ہے کہ جب سنیما گھر پوری طرح سے کھل جائیں گے تب پرڈوسروں کا کتنا زور آن لائن پلیٹ فارموں پر رہے گا؟خیر اب ٹی وی سیریل بننے میں کمی نہیں آنے والی بے شک سنیما ہال کھل بھی جائیں لیکن دونوں کے ناظرین الگ الگ ہیں ۔ (انل نریندر)

مرکزی وزیر شیخاوت کے خلاف جانچ کے احکامات

ریاست میں سیاسی گھماسان کے درمیان اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب جے پور کی ایک عدالت نے راجستھان پولیس کو 9سو کروڑ روپئے کے کریڈیٹ سوسائٹی گھوٹالے میں شامل ہونے کے الزام میں مرکزی وزیر گجندر سنگھ شیخاوت کے رول کی جانچ کے احکامات دئے ہیں ۔گہلوت سرکار گرانے کے لئے خرید و فروخت سے متعلق مبینہ آڈیو کلپ میں گجندر سنگھ کا نام آنے کے بعد راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور پہلے ہی شیخاوت کو نوٹس بھیج چکا ہے ۔کیا ہے گھوٹالہ؟سوسائٹی نے راجستھان میں اور گجرات میں 26برانچوں کے ذریعہ بڑے منافے کا لالچ دےکر قریب146991 سرمایہ کاروں سے رقم جمع کی ایس او جی کی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ سوسائٹی کے کھاتے میں جالسازی کر 55ہزار لوگوں کو قریب11سو کروڑ روپئے کا قرض دکھایا گیا ہے ۔سنجیونی سوسائٹی کے ڈائرکٹروں کی شکایت کے بعد پچھلے سال گھوٹالے کا پتہ چلا تھا۔سوسائٹی کے بانی اور ایم ڈی وکرم سنگھ شیخاوت کو ایس او جی نے گرفتار کیا تھا ۔گجندر سنگھ شیخاوت اور وکرم سنگھ پراپرٹی کے کاروبار میں پارٹنر تھے حالانکہ گھوٹالہ سامنے آنے سے پہلے ہی دونوں الگ ہو گئے تھے۔شکایت کرنے والوں کا الزام ہے کہ سنجیونی کریڈیٹ سوسائٹی کی بڑی رقم شیخاوت اور ان کے پریوار کے کمپنیوں کو ٹرانسفر کی گئی ایڈشنل سیشن جج پون کمار نے منگلوار کو ایڈشنل جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کو بتایا گیا کہ سنجیونی کریڈیٹ سوسائٹی گھوٹالے کی شکایت پر ایس او جی کو بھیجنے کے لئے کہا شیخاوت اور ان کی بیوی اور دیگر کا نام سنجیونی کریڈیٹ کواپریٹو سوسائٹی سے وابسطہ شکایت میں رکھا گیا ہے ۔سرمایہ کاروںکو ایک سال پہلے 900کروڑ روپئے کی رقم گنوانی پڑی تھی ۔23اگست 2019میں پہلی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سے جے پور ایس او جی معاملے کی جانچ کر رہی ہے ۔چارج شیٹ میں پہلے شیخاوت کا نام نہیں تھا ۔لیکن بعد میں عدالت نے بھی شیخاوت کا نام شامل کرنے کی درخواست کو خارج کر دیا تھا ۔اس کے بعد عرضی گزار ایڈیشنل ضلع عدالت میں پہنچے تھے اور درخواست میں منی ٹریل کا الزام لگایا تھا کہ ایف آئی آر میں جن کمپنیوں کا نام تھا وہ مبینہ طور پر مرکزی وزیر کجندر سنگھ شیخاوت سے جڑی تھیں ۔راجستھان سیاسی دنگل میں گہلوت سرکار نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر تم ہمیں بے نقاب کرنے کے لئے ای ڈی ،سی بی آئی و انکم ٹیکس کا نا جائز استعمال کر سکتے ہو تو یہ کام تو ہمیں بھی آتا ہے ۔ (انل نریندر)

رام کے کام میں کیسا مہورت؟

بھگوان رام کی ایودھیامیں عظیم الشان مندر کے مہورت پر سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔اس کے جواب میں بھاجپا کی فائر برانڈنیتا اوما بھارتی نے جمعرات کو کہا کہ رام کے کام میں کیسا مہورت؟ایودھیا میں رام جنم بھومی پر رام للا کا عظیم الشان مندر بنے یہ دیش دنیا کے کروڑوںہندوﺅںکا خواب تھاکافی جد و جہد اور کئی قربانیوں کے بعد رام مندر کے تعمیر کی گھڑی قریب آرہی ہے رام مندر ٹرسٹ کی جانب سے مندر کےلئے بھومی پوجن 5اگست کوطے کیا گیا ہے ۔وشو ہندو پریشد اس تاریخی پل کو یادگار بنانی چاہتی ہے ۔بھومی پوجن کے موقع لوگوں کی شردھا ہیلورے مارے گی ۔ایسے میں سینکڑوں برس کے سپنے کو پورا ہونے کے تاریخی موقع پر ماحول دیوالی جیسا ہوگا۔اور سنگھ پریوار میں پانچ اگست کو پورے دیش میں رام اتسو منانے کی تیاری کی ہے ۔اس دن کے لئے را م بھگتوں سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اپنے گھروں میں کم سے کم پانچ دیپ جلائیں ۔او ر پریوار کے افراد کے ساتھ بھجن پوجن کریں لوگوں کا منھ میٹھا کرائیں ۔کورونا کے سبب ایودھیا میں چنندہ لوگ ہی بھومی پوجن کے موقع پر موجود ہو سکیں گے۔ ایسے میں سبھی رام بھگت گھر بیٹھے ہی ٹی وی کے ذریعہ سیدھے اس کالائیو دیکھ سکیں گے وشو ہندو پریشد کے ایک سنیئر افسر نے بتایا کہ اس تاریخی دن کا انتظار برسوں سے رام بھگت کر رہے تھے ۔جب یہ دن طے ہو گیا ہے تو اسے شاندار طریقے سے منایا جائے انہوں نے اپیل کی کہ رام بھگت کورونا وبا کو دیکھتے ہوئے جسمانی دوری بنائیں و ماسک پہننے کے قاعدے کی تعمیل کریں ۔جے شری رام (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...