Translater

07 نومبر 2019

پاک چین کو ہندوستان کا واضح پیغام:پی او کے ہمارا ہے

مرکزی حکومت نے نو تشکیل شدہ مرکزی حکمراں ریاستوں جموں وکشمیر و لداخ کا نیا نکشہ جاری کر دیا ہے ،جس میں ان دونوں ریاستوں کو دکھایا گیا ہے۔اب بھارت میں 28ریاستیں اور نو مرکزی حکمراں پردیش بن گئے ہیں ،وزارت داخلہ نے 31اکتوبر کو بنے ان دونوں ریاستوں کا سرکاری نقشہ سنیچر کے روز جاری کیا ،نوٹیفیکش میں وزارت نے صاف کیا کہ یہ بٹوارہ 1947میں آزادی کے وقت والے جموں وکشمیر کی جغرافیائی پوزیشن کی معیاد پر کیا گیا ہے،سروے جنرل آف انڈیا نے نقشہ میں صدر جمہوریہ ہند رامناتھ کووند کے ذریعہ جاری قانون کی بنیاد پر مرکزی حکمراں ریاست لیہ میں سابقہ جموں وکشمیر ریاست میں لیھ اور کارگل ضلعوں کو شامل کیا گیا ،وہیں باقی حصے کو مرکزی حکمراں ریاست جموں کشمیر میں رکھا گیا ہے۔اس کے تحت گلگت ،اور درج فہرست برادریوں کے علاقے لیہ ضلع کا حصہ ہیں ،کارگل لداخ کا دوسرا ضلع ہے ۔وہیں جموں وکشمیر میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے میر پور اور مظفر آباد ضلعوں کو شامل کیا گیا ہے ،وزارت داخلہ کے مطابق 1947کے وقت والے سابق جموں وکشمیر ریاست میں 14ضلع تھے یہ کوماﺅ ،جموں ،اودھمپور ،ریاسی ،اننت ناگ،بارہمولہ ،پونچھ،میرپور، مظفرآباد ،لیح اور لداخ،گلگت،چیلہاس،اور قبائلی علاقہ تھے ،اقصائی چن بھی لداخ ہی میں ہے،جبکہ مقبوضہ کشمیر کے دو ضلع مظفر آباد ،میر پور کو جموں و کشمیر کا حصہ بنایا گیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر اس پورے حصے کو عام بول چال میں گلگت ،بلچستان کہا جاتا ہے ،جموں و کشمیر کی تشکیل نو کو لے کر پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان اور چین کے ساتھ بڑھی تلخی کے بعد یہ نیا نقشہ دونوں ملکوں کو بھارت کا کرارا جواب مانا جا رہا ہے ،حال ہی میں جموں وکشمیر کے راجوری میں سرحد پار جوانو ں کے ساتھ دیوالی منانے گئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی کسک میرے اندر ہے ،پاکستان حکومت جموں و کشمیر اور لداخ کو الگ حکمراں ریاست بننے کے بعد ہندوستان کی طرف سے نیا نقشہ جاری کئے جانے کے بعد بوکھلا گئی ہے پاکستانی وزیر خارجہ نے بیان جا ری کر اس نقشہ کو غلط اور قانونی طور سے ناکارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے تجاویز کی خلاف ورزی ہے ،اس نے کہا کہ پاکستان ان سیاسی نقشوں کو خارج کرتا ہے ،جو اقوام متحدہ کے نقشوں سے میل نہیں کھاتا ہم دھراتے ہیں کہ ہندوستان کی طرف سے اُٹھایا گیا کوئی بھی قدم جموں کشمیر کی متنازع پوزیشن کو بدل نہیں سکتا ،جسے اقوام متحدہ کی منظوری حاصل ہے ،سیکورٹی کونسل کے تجاویز کے مطابق اتفاق رائے فیصلے کے اپنے حق کا استعمال کرنے کے لئے ہندوستانی جموں وکشمیر کے لوگوں کی جائز جد و جہد کی حمایت جاری رکھے گا ،بتا دیں کہ بھارت کے اس نئے نقشہ میں پی او کے سمیت پورے کشمیر علاقہ کو اپنے حصے کی شکل میں دکھایا گیا ہے ۔

(انل نریندر)

06 نومبر 2019

عمران خان کی کرسی بچانے اتری پاک فوج

جمیتہ علماءاسلام کے چیف مولانا فضل الرحمان کی رہنمائی میں ان کے ہزاروں حمایتی راجدھانی اسلام آباد میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پی ایم ایل (نون)اور سابق صدر آصف علی زرداری کی پی پی کی ملی حمایت سے گد گد مولانا نے عمران کو استعفی دینے کے لئے دو دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے وہیں پوری اپوزیشن متحد ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔وہیں پاک فوج کھل کر عمران کی حمایت میں آگئی ہے ،اس نے مولانا اور ان کے حمایتوں کو خبرادار کر دیا ہے کہ دیش میں کسی بھی طرح کی بد نظمی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی مولانا کے آزادی مارچ پر پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا مولانا رحمان ایک سینر لیڈر ہیں انہیں یہ صاف کرنا چاہیے کہ وہ کس ادارے کے بارے میں بیان دے رہے ہیں ؟پاکستان کی فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو آئین کے تحت جمہوری طریقہ سے چنی گئی حکومت کی حمایت کرتی ہے اس لئے کسی کو بھی دیش میں گڑبڑ پھیلانے نہیں دی جائے گی ۔انہوںنے 2018کے عام چناﺅ میں فوج کی تعیناتی کا بچاﺅ کیا فوج کے سربراہ غفور نے کہا کہ عام چناﺅ میں آئینی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے فوج کی تعیناتی ہوئی تھی اگر چناﺅ نتیجوں میں دھاندھلی کو لے کر کسی اپوزیشن پارٹی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو انہیں سڑکوں پر اترنے کے بجائے مناسب اسٹیج پر اپنی بات رکھنی چاہیے ،اور شکایت درج کرانی چاہیے کہ جمہوری اشو جمہوری طریقے سے ہی حل کئے جانے چاہیے ،مولانا فضل الرحمان نے فوج کے ترجمان غفور پر ہی جوابی نکتہ چینی کی کہ ایسے بیان سے بچنا چاہیے جو فوج کی غیر جانبدای کی خلاف ورزی کرتی ہے ،ایسا بیان فوج کی طرف سے نہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے آنے چاہیں ،اگر عمران نے 48گھنٹے کے اندر استعفی نہیں دیا تو ہم اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ آگے کی حکمت عملی طے کریں گے ،ادھر عمران خان نے اپنی پارٹی کی میٹنگ بلائی جس میں مارچ سے پیدا صورتحال پر غور و خوض کیا گیا ،عمران نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ سے دیش دکھی ہے ،ایسے میں میں مظاہروں کی رہنمائی کرنے والوں کو جیل میں ڈال دوں گا انگریزی اخبار ڈون کے مطابق وزیر تکنیکی تعلیم افتخار محمود نے کہا کہ اگر اپوزیشن کی کوئی خاص مانگ ہے تو اس پر بات چیت ہو سکتی ہے وزیر اعظم کے استعفی پر نہیں ،انہوںنے کہا کہ سرکار نے بات چیت کے لئے ایک ٹیم بنائی ہے جو احتجاج میں شامل نیتاﺅں سے بات کرئے گی ،ادھر اب اپوزیشن لیڈروںنے بھی مارچ کے بارے میں حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ سرکار کے خلاف مارچ کیسے آگئے برقرار رکھا جائے ؟

(انل نریندر)

جھارکھنڈ میں کیا بھاجپا نئی تاریخ بنائے گی؟

جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو گیا ہے ۔اس ریاست کے لئے 30نومبر سے 20دسمبر تک پانچ مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور 23دسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑا نے پانچ مرحلوں میں چناﺅ کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ میں 80اسمبلی سیٹوں میں سے 67سیٹیں نکسلی متاثرہ علاقوں سے ہونے کے سبب ریاست میں پچھلے دو اسمبلی انتخابات کی طرز پر اس مرتبہ بھی پانچ مرحلوں میں بھی پولنگ کرائی جائے گی ۔اس اعلان پر حکمراں اور اپوزیشن فریقوں میں سیاست شروع ہو گئی ہے ۔بھاجپا اور آل جھارکھنڈ پارٹی نے جہاں چناﺅ کمیشن کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے وہیں کانگریس نے اس پر نکتہ چینی کی ہے بھاجپا کے پردیش جنرل سیکریٹر ی دیپ پرکاش کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ میں پانچ مرحلوں میں چناﺅ سے منصفانہ پولنگ ہو پائے گی ،اور رائے دہندگان بے فکر ہو کر ووٹ ڈالیں گے اور ووٹ کا فیصد بھی بڑھے گا ۔آج سو پارٹی کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر دیو شرن بھگت نے کہا کہ جھارکھنڈ نکسلی متاثرہ علاقہ ہے اور انتظامی نظریہ سے چناﺅ کرانے میں سہولت ہوگی ۔الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ رائق خیر مقدم ہے ۔کانگریس کے نگراں صدر راجیش ٹھاکر نے کہا کہ چناﺅ کمیشن نے پانچ مرحلوں میں چناﺅ کر ا کر بھاجپا کی مانگ کو مانا ہے ،اور اپوزیشن پارٹیوں سے لی گئی رائے کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے ۔اپوزیشن کی سبھی پارٹیوں نے ایک مرحلے میں چناﺅ کرانے کی مانگ کی تھی ۔صرف بھاجپا نے پانچ مرحلوں میں کرانے کا مطالبہ کیا تھا ۔حالانکہ چناﺅ کمیشن مہارشٹر کی 248اسمبلی سیٹوں پر ایک ساتھ اور ایک دن میں کروا سکتا ہے ۔تو جھارکھنڈ میں تو 81اسمبلی حلقے ہیں وہاں پانچ مرحلوں میں کیوں؟ایک مرتبہ پھر چناﺅ کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔دوسری بات اس سے یہ طے ہو گیا ہے کہ جھارکھنڈ میں نکسل واد انتہا پر ہے ،وزیر اعلیٰ نے جو مسلسل نکسلی کے خاتمے کی بات کیا کرتے تھے وہ جھوٹی ثابت ہوئی ہے ،اب اسمبلی چناﺅ کے اعلان سے صاف ہو گیا ہے ،دہلی میں اسمبلی انتخابات اپنے طے وقت پر ہی ہوں گے جیسا کہ ہریانہ مہاراشٹر ،قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ دہلی میں بھی اسمبلی چناﺅ جھارکھنڈ کے چناﺅ کے ساتھ ہوں گے دہلی چناﺅ کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی اسمبلی چناﺅ کےلئے فائنل ووٹر لسٹ 6جنوری کو آئے گی ۔اس کے بعد ہی دہلی اسمبلی چناﺅ کا اعلان کیا جا سکتا ہے ،اور امکان ہے کہ یہ دس جنوری تک ہو سکتا ہے ،کیونکہ 15فروری سے پہلے ہر حال میں چناﺅی خانہ پوری کی جانی ہے ۔دہلی اسمبلی کی معیاد 22فروری کو پوری ہو رہی ہے ،اس برس اسمبلی چناﺅ میں بھاجپا جہاںجھارکھنڈ میں 6سے زیادہ سیٹیں جیتنے پر قائم ہے وہیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی قیادت والے اتحاد کے صدر بابو لال مرانڈی کے تیور سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ 43سے 45اور کانگریس 25سے 27اور آر جے ڈی و لیفٹ پارٹیاں 5-5سیٹوں پر چناﺅ لڑ سکتی ہیں ۔جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے کار گزار صدر ہمینت سورین کی قیادت میں اپوزیشن چناﺅ لڑ ئے گی اور کانگریس ،آر جے ڈی ،اور جے ایم ایم اے میں اس پر رضا مندی تقریبا طے ہو گئی ہے اس کے بعد سیٹوں کے بٹوارے کا فارمولہ طے ہوگا۔اتحادکے خاکے کااعلان سات نومبر تک ممکن ہے ہیمنت سورین نے کہا کہ چناﺅ میں لیڈر شپ کے ساتھ ہی جانا چاہیے ۔وہیں آر جے ڈی کے ریاستی صدر نے بھی اس پر حامی جتائی ہے ،بھاجپا کے لئے یہ چناﺅ ایک بار پھر ساکھ کا سوال بن گیا ہے ،جھارکھنڈ کی 19سالہ تاریخ میں کچھ برسوں کو چھوڑ کر بھاجپا ہی اقتدار میں رہی ہے ۔بھاجپا اس مرتبہ پھر کامیاب ہو کر آنا چاہے گی ۔اگر وہ کامیاب ہوتی ہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو جائے گی ۔لوک سبھا چناﺅ میں کامیابی کے بعد بھاجپا اپنی جیت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے ،اس درمیان ہریانہ میں اس نے سرکار پھر سے بنائی اور مہاراشٹر میں بنانے کی کوشش جاری ہے ،جھارکھنڈ میں بننے کے بعد بھاجپا نے غیر قبائلی وزیر اعلی ٰ بنا کر تجربہ کیا تھا وہ اس حکمت عملی پر پھر سے چناﺅ میدان میں اترے گی ،اس کے بعد دہلی کے چناﺅ ہونے ہیں ۔جھارکھنڈ میں جیت سے اسے دہلی میں اپنے موافق ماحول بنانے میں مدد ملے گی ۔

(انل نریندر)

05 نومبر 2019

برطانیہ میں پانچ برسوں میں تیسرا عام چناﺅ !

برطانیہ میں وسط مدتی چناﺅ کرائے جانے کے وزیر اعظم بورس جونسن نے ایک ریزولیوشن ہاﺅ س آف کامنز میں پیش کیا اس کے حق میں 418اور مخالفت میں محض 20ممبران نے ووٹ دیا اپوزیشن لیبر پارٹی نے بھی اس پرستاﺅ کی حمایت کی ۔اگر اس کو پارلیمنٹ کی منظوری مل جاتی ہے تو ایوان کو طے معیاد سے پہلے تحلیل کر دیا جائے گا ۔میڈیا رپوٹس کے مطابق عام چناﺅ عام چناﺅ اگر 12دسمبر کو ہوتے ہیں تو نتیجہ اگلے دن 13دسمبر کو آجائے گا خیال رہے کہ برطانیہ میں پچھلے پانچ برسوں میں یہ تیسرا عام چناﺅ ہے ۔1923کے بعد پہلی بار دسمبر میں عام چناﺅ ہوں گے اور چناﺅ میں اشو بریگزیٹ سے برطانیہ سے نکلنے کا ہوگا ۔واضح ہو کہ یورپی یونین نے برگزیٹ کے لے آرٹیکل پچاس کی معیاد مدت 31جنوری تک بڑھا دی ہے ۔اس فیصلے کامطلب ہے کہ اب بغیر سمجھوتے کے بریگزیٹ پر آگے نہیں بڑھا جا سکے گا ۔جانسن اپنی اسکیم کے ایک قدم اور قریب پہنچ گئے تھے ۔جب ممبران پارلیمنٹ نے باقاعدہ ووٹ کے ذریعہ ان کے پرستاﺅ کی حمایت کی تھی ۔لیبر پارٹی کے ایم پی چاہتے تھے کہ چناﺅ 9نومبر کو کرائے جائیں پارٹی کا کہنا ہے کہ 9دسمبر کو چناﺅ ہونے سے یونیورسٹیوں کے طلباءکو ووٹ دینے میں آسانی ہوگی ۔کیونکہ تب تک تعلیمی سیشن چل رہا ہوگا۔لیبر پارٹی کے نیتا جریمی کاربن کا کہنا ہے کہ ہم جلدی چناﺅ کے لے تیار ہیں ۔اس سے پہلے ممبران نے تین مرتبہ اس کی مخالفت کر کے اس کے آگے بڑھنے سے روک دیا تھا جلدی چناﺅ کا بریگزیٹ پر کیا اثر پڑے گا ؟بی بی سی کی نامہ نگار گگن سبھروال کہتی ہیں کہ بریگزیٹ کی سمت میں آگے کیا ہوگایہ تو بارہ دسمبر کے چناﺅ اور اس کے نتیجوں پر منحصر ہوگا۔چناﺅ کے بعد دو تین طرح کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں ۔آنے والے چناﺅ میں موجودہ وزیر اعظم بورس جونسن اگر اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر وہ اپنی شرائط پر یورپی یونین سے الگ ہوں گے اگر کوئی دوسری پارٹی کامیاب ہوتی ہے یا کوئی دوسر وزیر اعظم بنتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ برطانیہ کے لوگوں کے سامنے بریگزیٹ مسئلے پر دوسرے ریفرنڈم پرستاﺅ رکھے ۔نو ڈیل بریگزیٹ یعنی بغیر کسی سمجھوتے کے برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے آثار بھی ہیں ۔لیکن برطانیہ کے بہت سے لوگوں اور کاروباریوں اور ممبران کا کہنا ہے کہ اگر اگلے سال برطانیہ بنا کسی سمجھوتے کے یورپی یونین سے باہر ہوتا ہے تو اس کا برطانیہ کی معیشت پر مثبت اثر ہوگا ۔برطانیہ میں سردیوں کے موسم میں چناﺅ عام طور پر نہیں ہوتے ۔لیکن اگر ہوئے تو یہ بہت مشکل ہوں گے ۔چناﺅ ایسے میں ٹھیک ٹھاک کرانا اپنے آپ میں چنوتی ہوگی ۔ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ 12دسمبر کو ہونے والے چناﺅ کے وقت کرسمس اور شادیوں کا وقت ہوگا ۔بریگزیٹ اشو پہلے سے ہی دو وزیر اعظم کی کرسی لے چکا ہے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ بورس جونسن کا یہ داﺅں کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟

(انل نریندر)

آخرواٹس ایپ جاسوسی کس نے کس مقصد سے کرائی؟

اظہار رائے اور پرایوسی کے بنیادی جمہوری حقوق کو لے کر طرح طرح کے خدشات کے درمیان تازہ واٹس ایپ جاسوسی کا نیا چونکانے والا خلاصہ بے حد تشویش پیدا کرنے والا ہے ۔دنیا بھر میں1.5ارب لوگ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں لیکن مانا جا رہا ہے کہ یہ حملے خاص لوگوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے تھے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ٹیکنالوجی سے واٹس ایپ میں سیندھ لگا کر ہندوستانی صحافیوں وکیلوں اور انسانی حقوق رضا کاروں کی جاسوسی کے معاملوں میں متعدد انکشاف ہوئے ہیں ۔اپوزیشن نے تو اسے اشو بنایا ہی ہے ۔لیکن سرکار کے لئے یہ بھی باعث تشویش بنا ہوا ہے کہ فون اور موبائل پر بات چیت ٹیپ کرنے کی جائز ناجائز مثالیں تو مسلسل آرہی ہیں ان میں سرکاری ایجنسیوں کی ہی ساجھیداری بھی رہی ہے ۔سرکاری ایجنسیاں عموماََ اسے دیش کے مفاد میں آتنکی اور مجرمانہ سرگرمیوں پر روک رکھنے کے لحاظ سے جائز ٹھہراتی رہی ہیں ۔عدالتیں حالانکہ باربار ہدایت دیتی رہی ہیں کہ اس کے بہانے شخصی اظہار رائے اور پرائیوسی کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے ایسے دور میں واٹس ایپ بھروسہ دلاتا رہا ہے کہ اس پر کئی گئی بات چیت یا بھیجے گئے میسج محفوظ ہیں ۔لیکن اب پتہ چل رہا ہے کہ اسرائلی کمپنی این ایس او کے اسپائی مشین کے ذریعہواٹس ایپ پر بات چیت اور میسج ٹیپ کیا جاتا رہا ہے اس معاملے میں اور بھی چونکانے والی بات یہ ہے کہ شہریوں کی پرائیوسیوں پر ہوئے حملے ہم کو تب ملی جب خود واٹس ایپ نے امریکہ میں اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ اس کمپنی کے ذریعہ ڈیبلپ کئے گئے سافٹ وئیر کے ذریعہ دنیا بھر میں 1400لوگوں کے فون سے اطلاعات چرائی گئیں ہیں ۔فیس بک کی بالا دستی والے سندیش بھیجے کے پلیٹ فارم واٹس ایپ نے کہا کہ بھارت میں صحافیوں اور انسانی حقوق رضا کاروں پر پیکاسس کے ذریعہ نظر رکھی جا رہی تھی ۔یہ نظر کون کس لئے رکھے گا اسے سمجھنا مشکل نہیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری سلامتی کے خیال رکھنے والوں (سرکار )کی بھول ہے ۔واٹس ایپ نے بھی کہا ہے کہ کئی متعلقہ لوگوں کو جاسوسی کی اطلاع دی ہوئی ہے ۔بھیما کو ڈار کے کیس میں ملزمان کے وکیل میہال سنگھ راٹھور ،رضاکار وہیل میڈیا ،آنند تیلٹنڈے و صحافی سدھانت نے ایسے پیغام ملنے کا دعوی کیا ہے کانگریس نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستانی صحافیوں اور سماجی رضا کاروں کی جاسوسی سے جڑے معاملے پر خود نوٹس لے کر مرکزی سرکار کی جوابدہی طے کرئے ۔جاسوسی کے معاملے میں پتہ لگنے کے بعد پارٹی نے مرکز کی این ڈی اے مرکزی سرکار پر الزام لگایا کہ وہ دیش کی قیادت کا اختیار کھو چکی ہے فی الحال اس جاسوسی کے دائرے میں تقریبا 1400لوگوں کے نام آئے ہیں ان میں 1200تو بھارت کے ہی ہیں ۔جن لوگوں کو بھارت میں نشانہ بنایا گیا ہے اس میں زیادہ تر انسانی حقوق رضا کار وکیل،دانشور اور صحافی شامل ہیں ۔بہت سے ایسے ہیںجو قبائلیوں اور دلتوں کے حقوق کے لئے آگے آگے رہتے ہیں اور صحافی بھی جو ڈیفنس معاملوں پر نظر رکھتے ہیں یا آزاد خیالی کے لئے جانے جاتے ہیں ۔بھیما کورے گاﺅں معاملے اور ایسے ہی کئی دیگر معاملوں کو یاد کریں تو صاف ہو جاتا ہے کہ شبہے کی سوئی کس طرف اشارہ رک رہی ہے ۔حالانکہ بھارت سرکار نے واٹس ایپ سے اس کی جوابدہی طلب کی ہے ۔لیکن اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اسپای ویر کو صرف اور صرف سرکاری ایجنسیوں کو بھیجتی ہے ایسے میں سرکار کو بھی اپنی جوابدہی صاف کرنی چاہیے ۔سوال اُٹھتا ہے کہ اگر دانشور ،صحافی یا انسانی حقوق رضا کاروں کی بھی رائے ویسی اور اظہار رائے کی آزادی بھی محفوظ نہیں رہے گی تو ہماری جمہوری اقدار کا کیا ہوگا؟حالانکہ کچھ وقت پہلے سپریم کورٹ نے آدھار سے وابسطہ فیصلے میں پرائیویسی کے حقوق کو بنیادی حقوق کے زمرے میں ڈال کر ادھار کے استعمال کو صرف فلاحی اسکیموں تک محدود کر دیا تھا ۔دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو ایسے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو یہ دیکھنا بھارت سرکار کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ابھی تک سرکار کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا سرکار کو صاف الفاظ میں اپنے اوپر لگے الزامات اور شک کی سوئی اس کی طرف گھومنے پر جواب دیش کو ہی دینا ہوگا ۔

(انل نریندر)

03 نومبر 2019

وادی کشمیر میں سیب تاجرٹرک ڈرائیور دہشتگردوں کے نشانے پر

جموں و کشمیر میں دہشتگردوں میں پچھلے پندرہ دن میں چھ ٹرک ڈرائیوروں کو موت کی سلا دیا دو سیب کے غیر ریاستی تاجروں اور دو غیر ریاستی مزدوروں کو بھی قتل کر دیا ۔اس عرصے میں دس قتل نے سیکورٹی فورسیز کی ان دعوں کی دھجیاں ضرور اڑا دی ہیں جو غیر ریاستی مزدوروں و تاجروں اور ٹرک ڈرائیوروں کو پوری سیکورٹی دینے کا دعوی کر رہی تھی ۔حالانکہ اب ان قتل کے لئے سیکورٹی فورس کمونی کیشن ذرائع کی دستیابی یعنی فون اور موبائل سیوا پر ہٹائی کو پابندی کو ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے کہ آتنکی ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب رہے اور وہ ایسے واقعات کو انجام دینے لگے ہیں ۔جو دہشت پھیلا رہے ہیں ۔سیکورٹی حکام جب ایسے الزام تراشی کرتے ہیں تو وہ ان آتنکی حملوں ،قتلوں کو بھول جاتے ہیں جو کمونی کیشن ذرائع پر روک لگائے جانے کی میعاد میں بھی ہوئی تھی ،دراصل ان قتل کے واقعات نے سیکورٹی نظام کی ایک طرح سے پول کھول دی ہے ۔5اگست کو ریاست کے ٹکڑے کرنے اس کی پہچان ختم کئے جانے کی کوشش کے بعد کشمیر میں لاک ڈاﺅن کی خاطر غیر سرکاری طور پر دو لاکھ کے قریب سیکورٹی جوان تعینات کئے گئے تھے ایسے میں ریاست سے باہر آئے ایک ٹرک ڈرائیور کا سوال تھا کہ چپے چپے پر سیکورٹی جوان تعینات کرنے کے بعد بھی آتنکی حملہ کرنے میں کامیاب ہیں تو سیکورٹی فورس کی غیر موجودگی میں کیا ہوگا ۔آتنکی سرح پار سے ملی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے سیب کی فصل کو کشمیر سے باہر نہیں دینا چاہتے وہ جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے کشمیر کی معیشت پوری طرح سے لڑ کھڑاجائے گی جو پہلے 85دنوں میں لاک ڈاﺅن اور کمیو نی کیشن کی وجہ سے دس ہزار کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنے کو مجبور ہوئی ہے ۔اور معیشت کو نست و نابود کر وہ کشمیریوں کو بھارت کے خلاف بھڑکانہ چاہتے ہیں ۔جب کشمیریوں پر ان کی دھمکیاں اور وارنگ بے اثر ہوئی تو انہوںنے غیر ریاستی شہریوں اور ٹرک ڈرائیوروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جو معیشت کو بنائے رکھنے میں ساجھے دار ہیں ۔نتیجہ سامنے تھا پندرہ دن میں چھ ٹرک ڈرائیوروں کا قتل اور سیب تاجروں پرحملے ہوئے اور اس کے باوجود بھی تابر توڑ حملے جاری ہیں ۔سیکورٹی نظام چست کرنے کا دعوی کرتے رہے ہمارے حکام ۔لیکن وہ محض کاغذی ثابت ہو رہے ہیں ۔حالانکہ پولس کہتی ہے کہ ٹرک ڈرائیوروں کی حفاظت کے لئے نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔اور انہیں محفوظ مقامات پر رہنے کے لے کہا گیا ہے لیکن ملنے والی اطلاعات بتاتی ہیں کہ آتنکی آنے والے چند دنوں میں مزید حملوں کو انجام دے کر غیر ریاستی شہریوں کو کشمیر آنے سے پوری طرح روک سکتے ہیں ۔اگر یہ خبریں صحیح ہیں تو جموں وکشمیر انتظامیہ کو ریاست میں غیر کشمیری مزدوروں اور تاجروں اور سیاحوں کی آمد کو بر قرار رکھنے کے لے ان کی حفاظت کے لئے باقاعدہ حکمت عملی اپنانی ہوگی ۔تاکہ وہ ریاست میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکیں ۔

(انل نریندر)

نربھیا کے قاتل پھانسی کے پھندے کے قریب

پورے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے نربھیا گینگ ریپ معاملے میں تہار جیل حکام نے قصورواروں کو مطلع کر دیا ہے کہ انہوںنے سبھی قانونی خانہ پوری کرلی ہیں ۔اور انہیں کبھی بھی اب پھانسی دی جا سکتی ہے ۔اس سزا کے خلاف ان کی کوئی بھی اپیل کسی بھی عدالت میں التوا میں نہیں ہے ۔صدر کے پاس دائر عرضی کے لئے ان کے پاس صرف پانچ نومبر تک کے لئے وقت ہے ۔اب قصوروار صرف صدر جمہوریہ کے ذریعہ انہیں معاف کرنے پر ہی پھانسی سے بچایا جا سکتا ہے ورنہ ان کی موت کی سزا طے ہے ۔جیل انتظامیہ نے سبھی ملزمان کو نوٹس ہندی و انگریزی میں پڑھ کر سنایا تھا اس کا ویڈیو بھی بنایا گیا ہے ۔جیل کے ڈائرکٹر جنرل سندیپ گوئل نے بتایا کہ اگر قیدیوں کی جانب سے رحم کی اپیل نہیں دائر کی جاتی ہے تو جیل انتظامیہ پٹیالہ ہاﺅس کورٹ میں درخواست دائر کر کے چاروں قیدیوں کے نام سے ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کی مانگ کرئے گا ۔جیل ہیڈ کوارٹر کی جانب سے چاروں قصوروار مکیش،اکشے کمار سنگھ،ونے شرما اور پون کمار اس وقت تہاڑ جیل میں بند ہیں اس لئے انہیں مطلع بھی کر دیا گیا ہے ۔16دسمبر 2012کو نربھیا کے ساتھ ہوئے اجتماعی بد فعلی معاملے میں چاروں ملزمان کو موت کی سزا سنائی گئی ہے اس کے بعد سے ہی ان میں سے دو تہاڑ جیل نمبر دو اور ونے شرما جیل نمبر 4میں بند ہے۔جبکہ پون کمار منڈولی جیل نمبر 14میں بند ہے ۔موت کی سزا سنائے جانے کے بعد ان لوگوں نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی عرضی لگائی تھی ۔ضلع کورٹ نے جولائی 2018میں مسترد کر دیا تھا ۔اس کے بعد چاروں ملزمان کے پاس صرف صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کا راستہ بچا ہے ۔جیل انتظامیہ کے مطابق چاروں قیدیوں میں اگر کسی ایک قیدی نے رحم کی اپیل دائر کر دی تو آخر فیصلہ کرنے تک سبھی قیدیوں کی پھانسی ڈالی جا سکتی ہے ۔حالانکہ رحم کی اپیل کا فائدہ صرف اس قیدی کو ملے گا جن کی طرف سے عرضی دائر ہوگی ۔نربھیا کی ماں نے جیل انتظامیہ کی طرف سے نر بھیا کے گناہ گاروں کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے کارروائی شروع کرنے کا خیر مقدم کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ قریب ایک برس سے پٹیالہ ہاﺅس کورٹ میں پھانسی کو لے کر قانونی لڑائی لڑ رہی ہے ۔آخر اس معاملے میں قصورواروں کو پھانسی کیوں نہیں دی جا رہی ہے ۔یہ سماعت ابھی بھی جاری ہے لیکن اس درمیان جیل انتظامیہ کے ذریعہ جاری نوٹس دل کو تھوڑ ی تسلی ضرور دے رہا ہے ۔امید کر سکتی ہوں کہ قصورواروں کو پھانسی دینے میں اب مزید تاخیر نہیں ہوگی ۔میں تو امید کرتی ہوں کہ 16دسمبر کے دن ہی قصورواروں کو پھانسی کے تختے پر لٹکایا جائے تاکہ سماج میں بیٹیوں پر بری نظر رکھنے والوں کے درمیان ایک پیغام ضرور جائے ۔اس حادثے کو سات برس ہونے کو ہیں ۔اور ابھی تک ہم قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔جس دن بھی قصورواروں کو پھانسی کے تختے پر چڑھایا جائے گا اس دن یقینی طور سے نربھیا کی آتما کو تھوڑی بہت تسلی ضرور ملے گی پورا دیش ان درندوں کی پھانسی کا انتطار کر رہاہے ۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...