Translater

04 اگست 2019

ٹائیگر زندہ ہے :بھارت نے پیش کی مثال

کہا جا تا ہے کہ ایک وقت میں دنیا میں جتنے شیر تھے اب اس کے پانچ فیصد رہ گئے ہیں مسلسل ٹائیگرس کی گھٹتی تعداد کو لے کر کافی عرصہ سے تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے ۔اور اس میں بہتری کے لئے تمام مہم چلائی گئی ایسے وقت میں جب دنیا میں شیروں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے بھارت میں ان کی تعداد بڑھنا ایک اچھی خبر ہے ۔پیر کے روز ورلڈ ٹائیگرس ڈے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے شیروں کی شماری کے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس محاذ پر اتنے برسوں کے دوران جو کوشش کی گئی اس کا اچھا نتیجہ اب سامنے آنے لگا ہے ۔جنگلاتی تحفظ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق دیش بھر میں ٹائیگرس کی تعداد اس سال 2967پائی گئی ہے یہ 2014میں کل ٹائیگرس کی تعداد کے مقابلے 741زیادہ ہے یعنی پچھلے پانچ برسوں میں ان کی تعداد میں 33فیصد یعنی ایک تہائی اضافہ ہوا ہے ۔ظاہر ہے ٹائیگرس کی کم تعداد کو دیکھتے ہوئے ان کے تحفظ کو لے کر جس طرح کی تشویش جتائی جا رہی تھی اس لحاظ سے یہ اعداد و شمار کافی راحت بھرے ہیں حالانکہ تعداد بڑھنے کی یہ امید شیر شمار شروع ہوتے وقت ہی تھی چونکہ پہلے انتظام ٹھیک نہ ہونے کے سبب نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں شیروں کی شماری نہیں مل پاتی تھی لیکن اس مرتبہ ان کی گنتی کرانے کے لئے ٹھیک انتظامات ہوئے ۔حالانکہ دیش میں ان ٹائیگرس کی تعداد بڑھنے کی یہ اکیلی وجہ نہیں ہے ۔چھتیس گرھ میزورم کو چھوڑ کر دیش کے تقریبا سبھی حصوں میں ٹائیگرس کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔خاص کر مدھیہ پردیش کرناٹک،اتراکھنڈ،شامل ہیں۔دنیا بھر میں ٹائیگرس کی تعداد گھٹنے کی جو وجوہات ہیں وہ ہمارے سامنے موجو دہیں عام طور پر دو وجوہات مانی جاتی ہیں ۔ایک تو ان جنگلوں میں لگاتار کٹائی اور جنگلوں کا گھٹنا شامل ہے جو شیروں یا ٹائیگرس کی قدرتی رہائش گاہ ہے ۔دوسرا شیروں کا ناجائز کاروبار اور اسکی وجہ سے ان کا شکار ہے تازہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ محکمہ جنگلات ان کے بچاﺅ کے لئے کافی سرگرم ہوا ہے ۔اور اس نے ناجائز شکار اور کاروبار پر سختی برتی ہے ۔جس کے اچھے نتیجے ملے ہیں ابھی بھارت میں شیروں کی پناہ گاہوں کا کل رقبہ 3لاکھ 80ہزار مربہ کلو میٹر ہے جبکہ گنی گئی تین ہزار ٹائیگرس کو رہنے کے لئے دو سو مربہ کے حساب سے تقریبا چھ لاکھ مربہ میٹر یعنی دو گنا جگہ کی ضرورت ہے جگہ کم ہونے کے تین اثرات دیکھے جاتے ہیں ۔اور جگہ کی تنگی کے سبب شیر یا ٹائیگر س آپس میں لڑ کر مر جاتے ہیں ۔دوسرا اپنی خوراک پوری کرنے کے لئے انسانی بستیوں میں چلے جاتے ہیں اور لوگوں کے غصے کا شکار بنتے ہیں ۔کئی مرتبہ تک فاقہ کشی سے شکار ہو کر مرے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔بے شک شیروں کی نئی تعداد کے شمارات اچھی خبر دے رہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔ٹائیگرس کی بساست والے علاقوں میں انسانی آبادی سے الگ الگ طریقہ سے پھیلنے کی وجہ سے مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے ۔اور یہ آج بھی بڑا چیلنج ہے اس کے علاوہ جس سندر بن کو ٹائیگرس کے لئے سب سے بہتر مقامات میں سے ایک مانا جا رہا ہے ۔وہاں بھی بڑھتی سمندری سطح کی وجہ سے ایک بڑے جنگل کے حصہ کے ڈوب جانے کا خطرہ منڈرا رہا ہے ۔اگر یہ حالت سامنے آتی ہے تو پھر ٹائیگرس انسان کی رہائش کی طرف رخ کر سکتے ہیں اور پھر شیروں اور انسان کی لڑائی بڑھ جائے گی ظاہر ہے تازہ کارنامے کی رفتار بنائے رکھنے کے لئے ضروت اس بات کی ہے کہ ٹائیگرس کی بساوٹ کو آسان بنانے کے علاوہ ان کے تحفظ کے اقدامات یا متابادل پر بھی کام کیا جائے ۔ٹائیگرس کی بڑھتی تعدا د کے لئے ذمہ دار سبھی محکموں کو بدھائی کم سے کم بھارت میں تو ہمارے بچے شیروں کو دیکھنے سے نہیں رہیں گے ۔

(انل نریندر)

بھارت کی معیشت ڈھلان پر بے روزگاری بڑھنے لگی ہے

ہندوستان کی معیشت کی حالت تشویش ناک بنتی جا رہی ہے ۔پچھلے کچھ عرصے سے صاف اشارے مل رہے ہیں کہ اقتصادی محاذ پر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ریٹنگ ایجنسی کیریسل نے مالی سال 2019-20میںہندوستان کی اقتصادی رفتار کے اپنے انداز ے میںترمیم کی ہے ۔کیریسل میں رواں مالی سال کے لئے جی ڈی پی اضافی شرح کو 0.2فیصد تک گھٹا دیا ہے ۔ایجنسی کے مطابق جی ڈی پی گروتھ ریٹ 7.1فیصد کے بجائے 6.9فیصد رہ سکتی ہے ۔ریٹنگ ایجنسی نے صلاح دی ہے کہ مستقبل میعاد میں ترقی کے لئے حکومت کو فوری قدم اُٹھانے ہوں گے بدھ کے روز جاری سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جون 2019میں آٹھ بڑی انڈسٹریز میں ترقی پیداوار میں گراوٹ آئی ہے ۔جولائی 2019میں اسٹاک مارکیٹ کے لئے سترہ سال میں سب سے بری ثابت ہوئی ہے ۔بجٹ کے بعد کارپوریٹ کمائی ،لیکویڈیٹی کے مسئلے کے چلتے بازار میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے ۔بلو مارگ کے ڈیٹا کے مطابق پچھلے سترہ سال میں محض چار مرتبہ اگست ماہ میں جولائی ماہ سے بہتر اچھی پرفارمینس دی ہے ۔جون کے ابتدا میں ریکارڈ فی سطح کے مقابلے ابھی بازار قریب آٹھ فیصد نیچے ہے ۔بازار میں ٹیکس بڑھانے ترقی شرح پر کم توجہ دینے کے سبب بازار میں مایوسی چھائی ہوئی ہے ۔دیش کی سب سے بڑی کار کمپنی ماروتی سوزوکی نے جولائی مہینے کے دوران 33.5فیصد بکری میں گراوٹ کی بات کہی ہے ۔آٹو انڈسٹریز کی خراب حالت کے درمیان آٹو کی فروخت میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے ۔ماروتی سوزوکی کی فروخت جولائی مہینے میں گراوٹ آنے سے بے روزگاری بڑھنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے ۔ہزاروں نوکریاں ختم ہونے کا اندیشہ ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق بجاج آٹو کی کل فروخت جولائی مہینے میں 5فیصد تک کم ہو کر 38530گاڑیوں کی فروخت تک نیچے آگئی ہے ۔دو سال پہلے بازار میں پہلی بار گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے ۔کار کمپنی ہونڈئی موٹر انڈیا لیمیٹیڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ جولائی میں اس کی کاروں کی بکری 3.8فیصد کم ہو کر 57310رہ گئی ہے ۔ہنڈا کار لیمیٹیڈ کے مطابق جولائی میں اس کے کاروں کی بکری میں 49فیصدی کی گراوٹ آئی ہے ۔یہ 10250پر آگئی ہے ۔جو سال بھر پہلے اسی معیاد میں یہ تعداد 19970ہوا کرتی تھی ۔کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر دگ وجے سنگھ نے وقفہ سوالات کے دوران پارلیمنٹ میں خستہ حالی کا شکار آٹو سیکٹر کا اشو اُٹھایا تھا ۔انہوںنے کہا تھا کہ دیش کی معیشت ڈھلان پر ہے ۔اور بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے حکومت کو آٹو موبائل صنعت کو خستہ حالی سے نکالنے کے لئے قدم اُٹھانے چاہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سو سے زیادہ کار ڈیلر اپنی دوکانیں بند کر چکے ہیں ۔چاروں طرف ابھرتے منفی اشاروں سے کارو باری دنیا مایوسی کے ماحول میں کام کر رہی ہے ان منفی اشاروں کے درمیان مودی سرکار دیش کی آٹو موبائل اور کار کمپنیوں کی حالت کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔وہیں کیفے کافی ڈے کے بانی وی وی سدھارتھ کی خود کشی نے دکھا دیا ہے کہ ہماری صنعت کس کس پریشانی کے دور سے گزر رہی ہے ۔ایک طرف مندی کی مار دوسری طرف انفورس مینٹ ڈاکٹریٹ کی مار بھلے ہی سدھارتھ کی خود کشی کی بنیادی وجہ ہو یا اور کچھ بھی ہو لیکن ان کی موت کو جس طرح ایک مناسب کاروباری ماحول سے جوڑا جا رہا ہے اس سے سرکار کی غلط اقتصادی پالیسیوں کا بھی ضرور پردہ فاش ہو اہے ۔پالیس سازوں وک اس بات سے با آور ہونا چاہیے کہ مودی سرکار کے دوسرے عہد کا پہلا عام بجٹ صنعت ،تجارت،دنیا کو حوصلہ دینے سے تو دور رہا سچ تو یہ ہے کہ عام بجٹ کے کچھ تقاضوں نے کاروباری دنیا کو مایوس کرنے کا کام کیا ہے اگر صنعتی ترقی کم ہوگی تو دیش کی اقتصادی رفتار کیسے بڑھے گی ؟اس سے پہلے سے بڑھتی بے روزگاری اور بڑھے گی ویسے بھی بے روزگاری کی سطح سال در سال بڑھتی جا رہی ہے ۔ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ مودی سرکار کا نظریہ آخر کیا ہے ؟اگر مودی سرکار نے بلا تاخیر مثبت قدم نہیں اُٹھائے تو اس سے دیش کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

(انل نریندر)

03 اگست 2019

ڈاکٹروں کی ہڑتال سے مریض بے حال

نیشنل میڈیکل کمیشن یعنی نیشنل میڈیکل کونسل بل کے خلاف دہلی کے پندرہ ہزار ریزیڈینٹ ڈاکٹروں کی بے معیادی ہڑتال کے اعلان سے امرجنسی سے لے کر او پی ڈی آپریشن ٹھیتر جیسی خدمات ٹھپ ہو کر رہی گئی ہیں اس بل کے خلاف احتجاج میں ایمس ،صفدرجنگ،آر ایم ایل،سمیت کئی اسپتالوں میں ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ۔دہلی سرکار اور دہلی مونسپل کاروپور طیشن کے اسپتالوں کے ڈاکٹر بھی اس ہڑتال میں شامل ہو گئے ہیں عام طو رپر ہڑتال کے دوران اسپتال میں امرجنسی سیوا جاری رہتی ہے ۔لیکن اس مرتبہ ڈاکٹروں نے وہاں بھی علاج سے صاف منع کر دیا ہے ۔ڈاکٹروں کی ہڑتال میں انڈین میڈیکل ایسوشی ایشن ،فیڈیرشن آف ریزیڈنٹ ڈاکٹرس اسوسی ایشن اور یو آر ڈی جیسی میڈیکل انجومنیں بھی شامل ہیں ۔ڈاکٹروں نے این ایم سی بل کو لے کر آر پار کی لڑائی شروع کر دی ہے ۔مرکزی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہر ہال میں اس بل میں ترمیل کرنی ہوگی ورنہ ڈاکٹر وں کی ہڑتال جاری رہے گی ۔اندازہ ہے کہ اس ہڑتال کی وجہ سے تقریبا ہر روز 50ہزار مریض پریشان ہیں اور ہزاروں کا آپریشن نہیں ہو پایا سرکار کے ذریعہ این ایم سی بل کو لے کر ڈاکٹر ہڑتال کرنے کو مجبور ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس بل کے ایکٹ 32اور 3.5لاکھ غیر میڈیکل لوگوں کو لائسنس دے کر سبھی طرح کی دوا لکھنے و علاج کرنے کا قانونی حق دیا جا رہا ہے اس سے مریضیوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ کچھ اور مانگیں بھی ہیں ہم ترمیم کے لئے سرکار سے مانگ کر رہے ہیں لیکن سرکار خاموش ہے جس کے چلتے ہم ہڑتال کرنے کو مجبور ہیں ۔اس کے بعد آئی ایم اے کے قومی صدر شانت نو سین نے اپنے بیان میں کہا کہ بل کی دفعہ 32نہیں ہٹائی گئی تو سرکار اپنے ہاتھ خون سے رنگے گی ۔وہیں فیڈریشن آف ریزی ڈینٹ ڈاکٹرس اسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سمیدھ نے کہا کہ یہ آر پار کی لڑائی ہے اور ہم کسی صورت میں بل کو پاس نہیں ہونے دیں گے ۔اس سے ڈاکٹر برادری پر برا اثر پڑنے والا ہے یہی نہیں سماج کے لئے بھی اتنا ہی خطرناک ہے اگر ایک نان میڈیکل انسان کسی کو دوا لکھے گا تو اس کی جان تک جا سکتی ہے ۔سرکار ان علاج کرنے والے لوگوں کی زندگی پر داﺅں لگا رہی ہے ۔ہم سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ کیا وہ ایسے لوگوں سے اپنا یا ان گھر والوں کا علاج کروائیں گے ؟یہ لوگ اپنا علاج تو اچھے ڈاکٹروں اور اچھے اسپتالوں میں کرواتے ہیں اور عام لوگوں کا علاج نان میڈیکل بھروسہ چھوڑ دیتے ہیں ۔دہلی میں مرکز اور ریاست اور کارپوریشن کے اسپتالوں میں ہر دن 80سے 90ہزار مریض علاج کے لئے آتے ہیں آئی ایم اے کا دعویٰ ہے کہ دیش بھر میں ان کی شاخوں سے وابسطہ قریب ساڑھے تین لاکھ ڈاکٹروں نے متحد ہو کر نہ صرف ہڑتال کی بلکہ مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا امید کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کا جلد حل نہیں نکلے گا تو مریضوں کو بھاری قیمت چکانی پڑئے گی ۔

(انل نریندر) 

چیف جسٹس گگوئی نے وہ فیصلہ کیا جو عدلیہ میں پہلے کبھی نہیں ہوا

بڑی عدلیہ میں کرپشن کے خلاف سخت قدم اُٹھاتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے پرائیوٹ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کورس میں داخلہ دینے کی اجازت میں مبینہ کرپشن کے معاملے میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے چیئر جج ایس این شکلا کے خلاف سی بی آئی کو باقاعدہ مقدمہ درج کرنے کی اجازت دے دی ہے یہ پہلا مقوقعہ ہے جب ہائی کورٹ کے کسی موجودہ جج کے خلاف اس طرح سے سی بی آئی کو کیس درج کرنے اور جانچ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔الہٰ آباد ہائی کورٹ کے موجودہ جج جسٹس نارائن شکلا بھارت کے ایسے پہلے جج ہوں گے جن پر مقدمہ چلایا جائے گا جسٹس شکلا پر مقدمہ درج کرنے کے لئے سی بی آئی نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک خط لکھا تھا جس میں بتایا تھا کہ بھارت کے سابق جج جسٹس دیپک مشرا کی صلاح پر اس نے جسٹس شکلا کے خلاف ابتدائی جانچ شروع کی تھی اس وقت جسٹس شکلا کے ذریعہ مبینہ دھاندلیوں کا معاملہ اس وقت کے سی جے آئی یعنی جسٹس دیپک مشرا کے نوٹس میں لایا گیا تھا ۔اب یہ خط ملنے کے بعد موجودہ سی جی آئی جسٹس رنجن گگوئی نے سی بی آئی کو جسٹس شکلا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی سی بی آئی نے جسٹس گگوئی کے سامنے اس شروعاتی جانچ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ بھی پیش کیا جس میں سلسلہ وار طریقہ سے سارے واقعات کی جانکاری دی گئی تھی سی بی آئی کے ذریعہ پیش کاغذات اور خط کے پیش نظر جسٹس رنجن گگوئی نے کہا میں نے آپکا خط اور ساتھ نتھی نوٹ کو بھی پڑھا ہے۔اس خط میں جو حقائق اور حالات اور معلومات میرے سامنے رکھی گئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے میں آپ کو باقاعدہ جانچ شروع کرنے کی اجازت دینے کے لئے مجبور ہوں ۔جسٹس نارائن شکلا پر الزام ہے کہ انہوںنے مبینہ طور پر ایک پرائیوٹ میڈیکل کالج کو فائدہ پہنچایا سال 2017-18کے بیچ کے طلباءکے داخلہ کی معیاد غلط طریقہ سے بڑھائی جو سپریم کورٹ کے حکم اور موجودہ ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بھارت میں جولائی 1991تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں تھی لیکن اس کے بعد 25جولائی 1991کو سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے جج ویرا سوامی کے خلاف ایک معاملے کی سماعت کے دوران ایک تاریخی فیصلہ نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں پر بھی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جسٹس شکلا کا معاملہ اپنے آپ میں نہ صرف ایک غیر متوقعہ فیصلہ ہے بلکہ ہمت والا فیصلہ ہے کیونکہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں کبھی کسی جج پر مقدمہ نہیں چلایا گیا ۔اگر جسٹس شکلا قصوروار پائے گئے تو ان پر پوری کارروائی کے تحت تحریک ملامت بھی چلائی جا سکتی ہے ۔یہ ہندوستانی عدلیہ کے لئے آنکھیں کھولنے والا معاملہ ہوگا ۔ہم جسٹس رنجن گگوئی کو اس تاریخی فیصلے پر مبارکباد دیتے ہیں انہوںنے وہ کام کیا جو بھارت کی عدلیہ میں پہلے کبھی نہیں ہوا ۔

(انل نریندر)

02 اگست 2019

میں نے ہزاروں نوکریاں دی ،مگر میں خود کشی کرنے پر مجبور ہوا !

’کیفے کافی ڈے ‘کے چیرمین سدھارتھ کی زندگی کی انتہائی تکلیف دہ کہانی سامنے آئی ہے کرناٹک کے سابق وزیر اعلی ایس ایم کرشنا کے داماد اورکیفے کافی ڈے کے بانی وی جی سدھارتھ دیش کے لئے لڑنا چاہتے تھے لیکن خود سے یا یوں کہیں کہ وہ حالات سے نہیں لڑپائے وہ 29جولائی سے لاپتہ تھے ساو ¿تھ کبڑا کے ڈپٹی کمشنر سینتھل نے بتایا کہ سدھارتھ 29جولائی کو نیترا وتی ندی کے پل سے غائب ہوئے تھے او ر31جولائی کو ہڈوگے باز ار میں ندی کے ساحل پر ان کی لاش بد آمد ہوئی سدھارتھ مالی پریشانی سے دوچار تھے انھوں نے مرنے سے پہلے ملازمین رشتہ داروں وغیرہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں 37سال بعد بھی ایک صحیح اور فائدے والا بزنس ماڈل نہیں تیار کرسکے ۔جن لوگوں نے مجھ پر بھروسہ کیا میں انہیں مایوس کرنے کیلئے ان سے معافی چاہتا ہوں اور میں کافی وقت سے بحران سے لڑ رہا تھا لیکن آج اپنی ہار مانتا ہوں ۔میں ایک پرائیویٹ اکویٹی لیڈر پارنٹر کا دباو ¿ نہیں جھیل پارہا ہوں اس وجہ سے حالات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوگیا ۔انکم ٹیکس کے ایک سابق ڈی جی مجھے پریشان کررہے تھے اور انہوں نے کمپنی کی شیئر ز کو دوبار قرق کیا جس سے ایک کمپنی کے ساتھ معاہدہ کو بلاک کیا جاسکے اسی سبب پیسے کی کمی ہوئی میں آپ سبھی سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ مضبوط رہےں اور ایک نئے انتظام کے ساتھ بزنس چلائیں ۔ساری غلطیوں کے لئے میں ذمہ دار ہوں ۔قانو ن تو مجھے اور صرف مجھے ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے کیونکہ میں نے یہ جانکاری سب سے چھپائی اور پریوار سے بھی میرا مقصد کسی کو دھوکہ دینا یا گمراہ کرنا مقصد نہیں تھا میں ایک ناکام کاروباری ثابت ہوا میں امید کرتا ہوں کے مجھے آپ سمجھوگے اور مجھے معاف کرو گے میں نے اپنی سبھی املاک کی تفصیل او رانکا تخمینہ قیمت کی فہرست اس خط کے ساتھ لگائی ہے اور لائیو ومنٹ رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی پر 2000کروڑ روپے کا قرض سوالوں کے گھیروں میں تھا جنوری میں انکم ٹیکس نے مائنڈری کے 20لاکھ شیئر وں قرق کیاتھا اس کے ساتھ ہی ستمبر 2017میں انکم ٹیکس محکمہ نے سدھار تھ کے کئی کاروبار ی دفاتر پر چھاپہ مارا حالانکہ محکمہ انکم ٹیکس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے کسی کو پریشان کو نہیں اور شعبہ جاتی کاروائی کی ہے سدھارتھ کے جانے کے بعد سی سی ڈی کے سرمایہ کاروں نے کمپنی ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور کمپنی کا شیئر 19.99فیصدی ٹوٹ کر 154.05فی شیئر آگیا ہے اور یہ لگاتار گررہاہے سدھارتھ نے 1996میں محض پانچ لاکھ خرچ کیفے کافی ڈے کی شروعات کی تھی جو اب کروڑوں روپے کا کاروبار ہواگیا کمپنی کے چیئرمین سدھارت خود کشی نے ایک مرتبہ سوال کھڑا کردیا ہے اور سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ایک شریف انسان خود کشی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔
(انل نریندر)

اناو ¿ ریپ سانحہ :فلمی سنسنی خیز کرائم اسٹوری !

17سالہ ایک لڑکی ایک ممبراسمبلی کے گھر نوکری کے لئے بات کرنے جاتی ہے اور پھر کچھ وقت بعد وہ بتاتی ہے کہ ممبر اسمبلی کے گھر پر اس کے ساتھ ریپ کیا گیا اس کے بعد وہ لڑکی غائب ہوجاتی ہے ،ا س کے والد کی پولیس حراست میں موت ہوجاتی ہے اس کے علاوہ اس کی چاچی کی بھی موت ہوجاتی ہے اور وہ خود اپنی اس لڑائی کو لڑتے لڑتے اب وہ اپنی زندگی کیلئے بھی جنگ لڑرہی ہے ۔پڑھنے میں یہ کوئی درناک کرائم ڈرالابالی ووڈ سنیماکی کہانی لگتی ہے لیکن یہ سال 2017سے شروع ہوئی اناو ¿ رےپ متاثرہ کی اصل زندگی کی کہانی ہے ۔آج سے تقریبًا دوسال پہلے سرخیوں میں آیا یہ معاملہ ایک بار پھر اب اخباروں کی سرخیوں میں ہے اور اس مرتبہ متاثرہ لڑکی اپنی موت سے بچنے کی جنگ لڑرہی ہے اس بیحد دردناک کرائم کے شروع ہونے سے لیکر اب تک کی کہانی آپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی ۔مرکزی سرکار نے اناو ¿ آبروریزی متاثرہ کی سڑک حادثے کی جانچ کی ذمہ داری منگل کو سی بی آئی کو سونپ دی ہے واضح ہوکہ اترپردیش کے رائے بریلی میں ایک بے قابو ٹرک نے یک کار کو ٹکر مار دی جس سے اس میں سوار متاثرہ اور اس کے وکیل شدید زخمی ہوگئے جبکہ لڑکے کے دورشتے داروں کی موت ہوگئی ۔محکمہ پرسنل اور ٹریننگ محکمہ کے ایک حکم میں کہاگیاہے کہ حادثے کیلئے اکسانے اور اس کی سازش کی جانچ کیلئے یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا ہے اس سنسنی خیز کرائم اسٹوری کا ولن ہے ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر ۔سڑک حادثے میں زخمی اناو ¿ آبروریزی کی شکار لڑکی کی حالت بدستور نازک ہے وہ لکھنو ¿ کے کنگ جارج میڈیکل ہسپتال میں ابھی بھی وینٹی لیٹر پر اپنی زندگی کیلئے جنگ لڑ رہی ہے ۔اس حادثے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے معطل ممبر اسمبلی اس معاملے میں ملزم اورجیل میں بند ہے مگر جس طرح سے متاثرہ اور وکیل کی کار کو ٹکر ماری گئی اس حادثے کو پریوار والوں نے سازش بتایاہے اس پرسرکار اور جانچ ایجنسیوں کو فوری طور پر حرکت میں آنا پڑا کیونکہ یہ واقعی دل دہلانے والا کا واقعہ ہے آخر ریپ متاثرہ انصاف کیلئے جائے تو کہاں جائے ؟یہ بات کسی سی پوشیدہ نہیں کہ لڑکی سے آبرو ریزی کے واقعے کی قریب ایک سال بعد عدلت کے حکم پرہی قصورواروں کے خلا مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں جیل بھیجا گیا اگر جس طرح سے مسلسل گواہوں کو دھمکایا جارہا تھا اس سے انصاف کی باتیں تو محض خواب جیسی ہوگئی تھی اس معاملے میں پولیس کے رویہ پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں اگر پولیس اور انتظامیہ کے ذمہ یہ انتہائی اہم ترین معاملہ تھا تو اس نے فوری طور سے کیوں نہیں جانچ کی ۔پولیس یہ کہہ کر اپنا بچاو ¿ نہیں کرسکتی اقتدار سے جڑے ممبراسمبلی کا معاملہ ہونے کے چلتے ان پر کافی دباو ¿ تھا تویہ بیحد شرمناک ہے ۔جس ٹرک کارکو ٹکر ماری تھی اس کی پلیٹ نمبر کو کوئی کالی چیز لگا کر نمبر چھپایاگیا لڑکی کی حفاظت کیلئے دیئے گئے سیکورٹی جوان دیئے گئے تھے لیکن حادثے کے وقت اس کے ساتھ ایک بھی سیکورٹی جوان نہیں تھا ۔متاثرہ کے خاندا ن کا الزام ہے کہ ممبر اسمبلی سینگر کے لوگ انہیں مقدمہ واپس لینے کی لگاتار دھمکی دے رہے تھے اور یہ حادثہ باقاعدہ انجام دیا گیا ۔اس معاملہ میں لڑکی کی چاچی ایک گواہ تھی جس کی حادثے میں موت ہوگئی ۔آخر جانے کہ کلدیپ سنگھ سینگر کون ہیں ؟اپنی سیاسی زندگی شروعات میں سینگر کانگریسی تھے 2007چناو ¿ سے پہلے وہ بسپا میں چلے گئے ۔اور کانگریس کے امید وار کو بڑے فرق سے ہرادیا 2007آتے آتے اس کی ساکھ دبنگ نیتا کی بن گئی اور انہوں نے سپا کا دامن تھام لیا 2012میں سپا کے ٹکٹ پر چناو ¿ جیتا اور 2017میں بی جے پی کے ٹکٹ پر ایم ایل اے بن گئے ۔اناو ¿ بد فعلی کی شکار لڑکی کی کار کو ٹرک سے ٹکر میں معاملے میں یوپی سرکار اور بھاجپا سیاسی حریفوں کی نکتہ چینیوں کاشکار ہورہی ہے کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے منگل کو یہ اشواٹھایا اس پر بھاجپا اور دیش صدر نے کلدیپ سنگھ سینگر کو پہلے بھاجپا سے معطل کردیا تھا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سی بی آئی جانچ کے بعد ہی کیا متاثرہ کو انصاف ملے گا ؟
(انل نریندر )

01 اگست 2019

پاک اخباروں میں عمران کا دورہ امریکہ بےحد کامیاب

پاکستان سے شائع اردو اخبارات میں عمران خان کے دورہ امریکہ سے وابسطہ خبریں سب سے زیادہ سرخیوں میں رہیں ۔عمران خان پچھلے ہفتے سہ روزہ دورے پر امریکہ گئے تھے امریکی صدر ڈونڈلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے میڈیا سے خطاب میں کہا تھا بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھاکہ ان سے کشمیر کے معاملے میں ثالثی نبھانے کو کہا تھا ۔ٹرمپ کے اس بیان کے فوراََ بعد ہندوستانی وزارت خارجہ نے اسکی تردید کر دی لیکن ظاہر ہے یہ بات اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں تھی ۔اخبار ایکسپریس کے مطابق پاکستان لوٹنے کے بعد اسلام آباد ہوائی اڈے پر موجود ورکروں اور حمایتوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ آج مجھے لگا ہے کہ میں غیر ملکی دورہ کر کے نہیں بلکہ ورلڈ کپ جیت کے لوٹا ہوں عمران خان نے خود ان کی پارٹی نے تو اسے تاریخی اور کسی بھی پاکستانی نیتا کا سب سے کامیاب امریکی دورہ قرار دیا ۔لیکن پورے ہفتہ پاکستانی میڈیا میں اس بات پر خبریں چھپتی رہیں کہ آخر عمران کے امریکی دورے سے کیا حاصل ہوا؟اخبار ایکسپریس نے سرخی لگائی کہ کشمیر مسئلہ پر دنیا سرگرم چین بھی ثالثی کا حمایتی اخبار کے مطابق چین و امریکہ کے ثالثی کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی ہمایت میں اعلان کیا ہے ۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چھوئنگ نے کہا کہ چین بھارت اور پاکستان دونوں کا پڑوسی دیش ہے اس لئے چین کی دلی خواہش ہے کہ دونوں ملکوں میں کشمیر مسئلہ کا حل پر امن طریقہ سے کریں اخبار کے مطابق امریکہ کی ثالثی تجویز کا چین کے ذریعہ خیر مقدم کیا جانا بھارت کے لئے ایک سفارتی چھکہ ہے ۔اخبار دنیا میں سرخی لگی ہے بھارت کی ایک اور سفارتی ہار ،بین الا اقوامی سطح پر الگ تھلک پڑنے کا خطرہ ۔کشمیریوں کی تحریک کامیابی کی طرف بڑھنے لگی ہے ۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے کشمیر سے متعلق دئے گئے بیان سے ہندوستانی پارلیمنٹ میں زلزلہ آگیا ۔وزیر خارجہ جے شنکر نے بھلے ہی ٹرمپ کے دعویٰ کو مسترد کر دیا لیکن مودی سرکار ابھی بھی دباﺅ میں ہے ۔اخبار نوائے وقت کے مطابق امریکہ کا خیال ہے کہ عمران ٹرمپ کی ملاقات کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے ۔اخبار نے آگے لکھا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارگن اوٹس نے واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے کہا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ملاقات کامیاب رہی آگے انہوں نے کہا کہ مسئلے کو لے کر آگے بڑھا جائے ۔اسی اخبار میں چھپی ایک خبر کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے لئے فوجی مدد بحال کر دیا ہے ۔اب پاکستان کو ایف 16جنگی جہازوں کے لئے بارہ کروڑ 50لاکھ ڈالر اور لاجسٹک مدد کرئے گا ۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...