Translater

21 مارچ 2018

بیشک عدم اعتماد سے نمٹنے میں سرکار اہل ہے تب بھی۔۔۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جاری تعطل12 ویں دن بھی برقرار رہا۔ اس کے چلتے تیلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے ذریعے سرکار کے خلاف لائے گئے تحریک عدم اعتماد کے پرستاؤ پر ایوان میں ہنگامہ کے چلتے کوئی کام نہ ہوسکا۔ حالانکہ سرکار کی طرف سے صاف طور پر کہا گیا کہ اسے تحریک عدم اعتماد کے پرستاؤ سمیت کسی بھی اشو پر بحث سے کوئی پرہیز نہیں ہے یہ بات شیشے کی طرح صاف ہے۔ تیلگودیشم، وائی ایس آر کے پروستاؤ سے نریندرمودی کی حکومت گرنے والی نہیں ہے لیکن اس سے این ڈی اے میں دراڑ ضرور اجاگر ہوگی اور اپوزیشن اتحاد کا ماحول ضرور بنے گا۔ تیلگودیشم پارٹی کے این ڈی اے سے ناطہ توڑ لینے کے باوجود ابھی بھاجپا کے بھی 274 ایم پی ہیں۔ این ڈی اے سرکار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کوئی اثربھلے ہی نہ پڑے لیکن حالیہ ضمنی چناؤ کے نتیجوں خاص کر اترپردیش کے گورکھپور اور پھولپور و بہار کے ارریہ میں بھاجپا کی کراری ہار کے بعد آنے والے انتخابات کے پیش نظر اس نے اپوزیشن کو ماحول گرمانے کا یکساں موقعہ تو دے دیا ہے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو خاصی جلدبازی میں ہیں اور ریاست کو اسپیشل درجہ کے معاملہ میں کسی کو اور کوئی موقعہ نہیں دینا چاہتے۔ تب تو اور بھی نہیں جب وائی ایس آر کانگریس کی شکل میں ایک مضبوط حریف سامنے ہو۔ جس کے نیتا جگموہن ریڈی سے ناراض ریاست کی جنتا کو یہ بتانے میں سرگرم ہوں کے چار سال تک مرکز اور ریاست دونوں میں اقتدار میں رہنے کے باوجود چندرابابو نائیڈو ریاست کو کچھ نہیں دلا سکے۔ ریڈی کی یہ سرگرمی نائیڈو کے گلے کی پھانس بن گئی ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ان کے اتحاد کے ووٹ شیئر اور وائی ایس آر کانگریس کے ووٹ شیئر میں محض ڈھائی فیصدی کا فرق انہیں بے چین کررہا ہے۔ ظاہر ہے نائیڈو نہ تو وائی ایس آر کانگریس کو کوئی موقعہ دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی جنتا کو یہ سوال پوچھنے کا موقعہ مرکز کا پچھل پنگو بننے کے باوجود وہ ریاست کو کچھ نہیں دلا سکے؟ ایسے میں سرکاراور اتحاد سے ناطہ توڑنا ہی سب سے آسان طریقہ تھا۔ ادھرترنمول کانگریس اور مارکسوادی پارٹی نے بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا وعدہ کرکے مغربی بنال کی اپنی سیاسی دشمنی کو کنارے کردیا ہے۔ دیکھنا ہے کہ سماجوادی پارٹی جس کے لوک سبھا ممبران کی تعداد اب7 ہوگئی ہے وہ کیا فیصلہ لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شرومنی اکالی دل اور اپیندر کشواہا کی پارٹی آر ایل ایس پی کا موقف کیا ہے؟ وہ پارٹیاں این ڈی اے کا حصہ ہوتے ہوئے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے رویئے سے ناراض ہیں۔ اس درمیان انا ڈی ایم کے نے کاویری مینجمنٹ بورڈ کی مانگ اچھالتے ہوئے سرکار کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بورڈ نہیں بنایا تو احتجاج میں ووٹ کرے گی۔ دیکھا جائے تو ٹی ڈی پی، وائی ایس آر،سی پی آئی اور انا ڈی ایم کے کی مانگیں ایک طرح سے چناوی موقعہ پر کی جانے والی سودے بازی کی حکمت عملی ہیں۔ دوسری طرف مرکزی سرکار کا یہ کہنا اصولی طور سے ٹھیک ہوسکتا ہے کہ 14 ویں مالیاتی کمیشن میں مخصوص ریاست کا درجہ جیسی کوئی سہولت نہیں ہے لہٰذا تیلگودیشم پارٹی کی مانگ پوری نہیں ہوسکتی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریاست اتنے اہل اور خود کفیل بنے کے انہیں مرکز کی بیساکھی کی ضرورت نہ ہو۔ اس کے لئے مرکز اور ریاست دونوں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔ تبھی بات چیت مثبت طور سے ہوسکے گی۔ وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے ٹھیک ہی کہا کہ چناوی سال ہے اور ایسا احتجاج اور عدم اعتماد ریزولوشن کی روایت کا ایک حصہ ہے۔ ظاہر ہے بھاجپا اپنی نمبروں کی طاقت اور تنظیم کے ذریعے سے ایسی چنوتیوں سے نمٹنے میں اہل ہے۔ یہ این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات اور مودی سرکار کی ساکھ زیادہ تیزی سے بگاڑیں گے۔ موجودہ سرکار کے چار سال کی میعاد پوری ہونے سے پہلے عدم اعتماد پرستاؤ سے کئی پارٹیوں کی جھجھک ٹوٹے گی اور وہ آنے والے چناؤ کے لئے اپنے دوست اور دشمن کا فیصلہ کرسکیں گی۔ یہ سب اس لئے بھی ہورہا ہے کیونکہ اپنے چار سال کی میعاد میں ضمنی چناؤ میں بھاجپا کی ہار سے سبھی کو اچھلنے کا موقعہ مل گیا ہے۔
(انل نریندر)

سکما حملہ منظم تھا

چھتیس گڑھ کے سکما ضلع میں حال ہی میں سکیورٹی فورسز پر بڑا حملہ کر ماؤ وادیوں نے ایک بار پھر اپنی موجودگی کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ اس حملہ میں سی آر پی ایف یعنی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی کوبرا بٹالین کے 9 کمانڈو شہید ہوگئے۔ دھماکہ کے لئے 75 کلو گرام دھماکو استعمال کیا گیا۔ دھماکو مواد اتنا طاقتور تھا کہ گاڑی ہوا میں 40 فٹ اونچے اڑ گئی اور گرنے کے بعد اس کے پرخچے اڑ گئے۔ سکما کے وستارم میں جس منظم طریقہ سے اینٹی مائن وہیکل (اے ایم وی) یعنی بارودی سرنگ تلاش کرنے والی گاڑی کو اڑاگیا۔ یہ ان کے منظم ہونے کا ہی نتیجہ مانا جارہا ہے۔ اس حملہ میں قریب 100 نکسلی ماؤ وادی شامل تھے۔ سی آر پی ایف چیف آر آر بھٹناگر نے کہا کہ یہ نکسل حملہ ٹالا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم معاملہ کی تفصیل میں نہیں جانا چاہئیں گے۔ ان علاقوں میں پیرا ملٹری فورسز سے کہا گیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور اپنی کارروائی جاری رکھیں۔ بھٹناگر کا کہنا ہے بیحد افسوسناک واقعہ تھا، اسے ٹالا جاسکتا تھا۔ ہم اب ان حالات کی جانچ کررہے ہیں کیسے کارروائی کو چلایا جائے۔ انہوں نے کہا وستارم اورپلوڑی کے درمیان پانچ کلو میٹر لمبی زیرتعمیر سڑک پر گاڑی اڑانے کے بعد دوسرے ایم پی وی میں سوار جوانوں نے نکسلی دستے کو منہ توڑ جواب دیا۔ نکسلیوں کا یہ دستہ پھنسے ہوئے یا زخمی جوانوں کو اور نقصان پہنچانے کے لئے جنگل میں موجود تھے۔ اس سال کی شروعات میں چھتیس گڑھ میں کارروائی کی کمان سنبھالنے والے پولیس ڈائریکٹر جنرل بستر کو جلدہی نکسلیوں سے آزاد کرانے کی بات کہی تھی لیکن 24 جنوری کو نکسلیوں نے نارائن پور میں حملہ کرکے چار جوانوں کو مار ڈالا تھا۔ اس کے بعد دتے واڑہ میں وزیر اعلی نے اگلے پانچ سال میں پردیش کو نکسل سے نجات دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب سکما حملہنے ان کے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ ایک سال میں یہ پانچواں بڑا حملہ ہے۔ پچھلے سال سکما ضلع میں ہیں ایک مہینے کے اندر دو بڑے حملہ کر نکسلیوں نے 36 جوانوں کو مار ڈالا تھا۔ سکما حملہ کے بعد مرکزی وزیر مملکت داخلہ ہنسراج اہیر نے مانا کہ نکسلیوں سے نمٹنے کے لئے ہمارے جوانوں کو جدیدترین ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ سرکار سکیورٹی فورسز کو نئے سازو سامان سے لیس کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے کہیں نہ کہیں ہماری سکیورٹی فورسز کے پاس ضروری ہتھیار اور ٹریننگ کی کمی ہے جس کی وجہ سے نکسلی آسانی سے حملہ انجام دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

20 مارچ 2018

نتیش بنام تیجسوی: پہلا راؤنڈتیجسوی کے نام

بہار میں ارریہ لوک سبھا سیٹ اور جہان آباد اسمبلی سیٹ کا نتیجہ جو آیا ہے وہ جولائی میں اقتدار کا تجزیہ بدلنے کے 8 ماہ بعد پہلے چناؤ کا ہے۔ بڑی جیت حاصل کر آر جے ڈی نیتا اور بہار کے سابق نائب وزیراعلی تیجسوی یادو نے نہ صرف ریاست کی سیاست میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی بلکہ نتیش کمار سے اتحادٹوٹنے کے بعد دونوں کے درمیان سیدھی لڑائی کے پہلے راؤنڈ میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اب تیجسوی کی قیادت پر شبہ نہیں ہوگا اور 2019 سے پہلے آر جے ڈی کے لئے یہ ایک بڑی راحت کی بات ہے۔ پچھلے چناؤ میں جہان آباد اسمبلی اور ارریہ لوک سبھا سیٹ پر آر جے ڈی کا قبضہ تھا۔ اس بار کے ضمنی چناؤ میں وہ اپنی دونوں سیٹیں بچانے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح بھگوا اسمبلی سیٹ بھی پھر بھاجپا کی جھولی میں آگئی۔ اس طرح پارٹی وار دیکھیں تو آر جے ڈی ۔بھاجپا اپنی اپنی سیٹیں بچانے میں کامیاب رہے۔ ہاں سیاسی گٹھ جوڑ کے لحاظ سے دیکھیں توضمنی چناؤ کمپین کے محاذپرایک طر ف جہاں این ڈی اے کی طرف سے وزیر اعلی نتیش کمارتھے تو دوسری طرف مہا گٹھ بندھن کی طرف سے چارہ گھوٹالہ کے معاملہ میں جیل میں ہونے کے باوجودآرجے ڈی صدر لالو پرساد یادو کی ساکھ داؤ پر تھی۔ سامنے سے لالو پرساد یادو کے لڑکے تیجسوی یادو کمپین کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے۔ اس میں ارریہ لوک سبھا سیٹ پر ساکھ کی لڑائی تھی۔ کہنے کو آر جے ڈی کے لیڈر سرفراز عالم اور بھاجپا کے پردیپ سنگھ میدان میں تھے لیکن وہاں وزیر اعلی نتیش کمار اور نائب وزیر اعلی سنیل کمار مودی نے کافی زور لگایا۔ بہار کے اس ضمنی چناؤ کو تیجسوی کے لئے میک یا بریک مانا گیاتھا۔ انہوں نے لالو پرساد یادو کے جیل جانے کے بعد پورے چناؤ کو اپنے دم خم پر لڑا۔ دونوں سیٹوں پر ڈیرا ڈال کر چناؤ کمپین کو لیڈ کیا۔ ان کے سامنے بی جے پی اور جے ڈی یو کا مضبوط اتحاد تھا اور نتیش کمار اور سشیل کمار مودی کے علاوہ تمام وزرا دونوں سیٹوں پراین ڈی اے کو جتانے کیلئے جی توڑ محنت کررہے تھے۔این ڈی اے کا خیال تھا کہ اس ضمنی چناؤ میں آر جے ڈی کو ہرانے کے بعد 2019 کی چنوتی بہت آسان ہوجائے گی لیکن نتیجہ ٹھیک الٹ ہوگیا۔ یہ نتیجہ صرف آرجے ڈی کے لئے آکسیجن کا کام کرے گا بلکہ این ڈی اے کے لئے بھی کئی چنوتیاں سامنے لائے گا۔ تیجسوی نے اس ضمنی چناؤ کا استعمال آرجے ڈی کیلئے سوشیل انجینئرنگ کو درست کرنے کے لئے کیا تھا۔ مسلم یادو کی پارٹی کے بیکریٹ سے نکلنے کے لئے تیجسوی اس بار نتیش کی دلت اور انتہائی پسماندہ ووٹ بینک میں سیند لگانے کے لئے کئی داؤ کھیلے تھے۔ پہلا راؤنڈ تیجسوی کے نام رہا۔
(انل نریندر)

کیجریوال کی معافی پر مچا واویلا

عام آدمی پارٹی اور اس کے سینئر لیڈر اروند کیجریوال کو اس لئے دہلی کی جنتا نے بھاری اکثریت سے اسمبلی چناؤ میں جتایا تھا کیونکہ وہ ایمانداری اور شفافیت کے نئے تجربہ کے دعوی اور وعدے کے ساتھ سیاست میں اترے تھے۔ جنتا کو یہ امیدنہیں تھی کیجریوال کسی جھوٹ یا افواہ کے سہارے اپنی سیاست چمکانے میں یقین رکھتے ہیں لیکن کیجریوال نے اقتدار میں آتے ہی آناًفاناً میں دوسرے لیڈروں پر الزام لگانے شروع کردئے۔ اروند کیجریوال نے پارٹی کے قیام کے پہلے دن سے ہی اس وقت کی وزیر اعلی شیلا دیکشت پر بڑا زبانی حملہ کیا تھا وہیں بعد میں رابرٹ واڈرہ ،بھاجپا نیتا نتن گڈکری جیسے بڑے نیتاؤں و صنعت کاروں پر الزام لگادئے۔ میڈیا نے بھی کیجریوال کے سنسنی خیز الزامات کو توجہ دی تھی۔ اس کا نتیجہ ہتک عزت کے مقدموں کے طور پر سامنے آیا۔ پنجاب اور دہلی اسمبلی کے لئے چناؤکمپین کے دوران کیجریوال نے اس حکمت عملی پر کام کیا۔ تازہ معاملہ پنجاب میں شرومنی اکالی دل لیڈر اور سابق ریاستی وزیر بکرم سنگھ مجیٹھیا سے اروند کیجریوال کے معافی مانگنے سے وابستہ ہے۔ غور طلب ہے کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی چناؤ کے دوران مجیٹھیا کو منشیاتی چیزوں کے اسمگلروں کا سرغنہ کہا تھا۔ حالانکہ اس وقت ان کے پاس اس الزام کی کیا بنیاد تھی یہ صاف نہیں۔ اب کیجریوال نے مجیٹھیا سے جمعرات کے روز باقاعدہ تحریر میں معامی مانگ لی ہے۔ اپنے معامی نامے میں کیجریوال نے مجیٹھیا سے کہا ہے کہ وہ سبھی الزام بے بنیاد نکلے اس لئے وہ معافی مانگتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں غلطی کا احساس ہونے پر معافی مانگ لینا سنجیدگی اور سادگی کا ثبوت ہے لیکن اگر کیجریوال کو دیگر نیتاؤں سے معافی مانگی پڑے تو یہ فہرست لمبی ہے۔ ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ انہوں نے مرکزی وزیرنتن گڈکری اور کانگریسی نیتا کپل سبل سے بھی معافی مانگی ہے۔معافی ناموں کی شروعات ہے ۔ اب آگے وہ کس سے معافی مانگتے ہیں یہ دیکھنے کی بات ہے۔ فی الحال کیجریوال کے خلاف مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور نتن گڈکری اور سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت سمیت36 لوگوں نے ان پر ہتک عزت کے مقدمے ڈال رکھے ہیں۔ اس میں سے کئی معاملوں میں کیجریوال کو اپنی بات ثابت کرنے کے لئے ثبوت دینا ہوگا۔ مجیٹھیا سے معافی مانگنے کے بعد ان کی اپنی پارٹی میں بغاوت جیسی حالت بن گئی ہے۔ پارٹی کے باغیوں میں شمارکئے جانے والے کمار وشواس اور کپل مشرا کے علاوہ پارٹی ایم پی سنجے سنگھ نے بھی کیجریوال کی معافی کی مخالفت کی ہے۔ عاپ ایم پی بھگونت مان نے جمعہ کو پنجاب یونٹ کے صدر کے عہدے اور اسمبلی پارٹی کے لیڈر اروڑہ نے بھی نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لوک انصاف پارٹی نے بھی عام آدمی پارٹی کے ساتھ پنجاب میں اتحاد توڑلیا ہے ۔ غور طلب ہے کہ عام آدمی پارٹی کے کئی نیتاؤں پر ہتک عزت سمیت کئی طرح کے معاملہ چل رہے ہیں۔ ان میں کیجریوال سمیت کئی نیتاؤں کو ان مقدموں میں کافی وقت برباد کرنا پڑ رہا ہے اس لئے پارٹی نے ان معاملوں کو نپٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے متبادل سیاست کی دہائی دے کر جنتا کے درمیان مقبول ہونے والے اروند کیجریوال یا ان کے ساتھی اگر اپنے ہی الزامات کو لیکر واضح اور ٹھوس نہیں ہوتے تب انہیں ایسے الزام لگانے کی ہڑبڑی کیوں ہوتی۔ شاید یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی ریاست کے وزیر اعلی نے اس طرح غیر ضروری الزام لگا کر پبلک طور سے معافی مانگی ہو؟ ابھی تو معافی ناموں کی شروعات ہے۔
(انل نریندر)

18 مارچ 2018

اپنے ہی گھر میں گھرتی جارہی ہے بھاجپا

لوک سبھا ضمنی چناؤ میں ملی کامیابی کے بعد اپوزیشن اب مودی سرکار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری میں ہے۔ وائی ایس آر کانگریس نے سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس دیا ہے۔ ادھر تیلگودیشم پارٹی نے جمعہ کو بھاجپا کے ساتھ اپنے چار سال پرانے اتحاد کو ختم کرلیا ہے۔ این ڈی اے سے الگ ہوگئی ہے۔ وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو کے ذریعے بھاجپا این ڈی اے سے الگ ہونے کا اعلان کرنے کے کچھ گھنٹے کے بعد ہی پی ڈی پی نے لوک سبھا میں مودی سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پیش کی ہے۔ این ڈی اے سرکار سے تیلگودیشم پارٹی کا ناطہ توڑ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیا بھاجپا اتحادیوں میں بڑھ رہی بے چینی کا یہ پیغام ہے؟ بھاجپا کی ایک سب سے پرانی ساتھی پارٹی شیو سینا تو یہی مانتی ہے کہ آنے والے عام چناؤ میں مہاراشٹر میں بھاجپانے تال میل سے انکار کردیا ہے۔ یہ ہی نہیں شیو سینا اب گووا کے آر ایس ایس کے چیف رہے سیمادیو ولیگرکر کے ساتھ دونوں سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا ارادہ جتایا ہے۔ بہار میں حال تک بھاجپا کے اتحادی رہے جیتن رام مانجھی نے تین دن پہلے ہی اپنی پارٹی ’ہم‘ کاانضمام آرجے ڈی میں کر لیا ہے۔ اسی ریاست میں بھاجپا کی ایک اور اتحادی رالوکپا بھی ان سے ناراض چل رہی ہے۔ ایسی حالت یوپی میں سہلدیو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہے۔ جس کے صدر اوم پرکاش راجبھر ہیں۔ پہلے انہوں نے گجرات اسمبلی چناؤ میں 8 سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ پھر انہوں نے یوپی سرکار پر نقلی مڈبھیڑ کرانے کا الزام لگایا ۔ حال ہی میں انہوں نے 2019 چناؤ بھاجپا سے الگ ہوکر لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ آج این ڈی اے کی کل48 پارٹیاں ہیں جن میں سے صرف13 پارٹیوں کی لوک سبھا میں نمائندگی ہے۔ لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 331 ہوگئی۔ یعنی 35 ایسی پارٹیاں ہیں جن کا ایک بھی ایم پی نہیں ہے۔ ناراض شیو سینا اور ٹی ڈی پی کو ہٹا دیا جائے تو این ڈی اے میں شامل بی جے پی کے علاوہ دیگر کسی پارٹی کے لوک سبھا ایم پی کی تعداد دہائی میں بھی نہیں ہے۔ مسلسل ضمنی چناؤ ہارتی بھاجپا کے لئے اب یہ بھی مشکل ہورہی ہے کہ پارٹی کے اندر بھی ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ بھاجپا کے اندر مخالفانہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ نیتاؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی بڑبولے پن کا شکار ہوگئی ہے۔ ضمنی حقیقت سے دور ہوتی جارہی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر و اعظم گڑھ سے سابق ایم پی رماکانت یادو نے کہا کہ ضمنی چناؤ میں ہار کے لئے دلت اور پسماندہ کو نظرانداز کرنے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خبردار کیا کہ پارٹی اگر وقت رہتے نہیں سنبھلی تو 2019 میں بھی پارٹی کو کراری ہار ملے گی۔ بھاجپا کے ممبران پارلیمنٹ نے بھی سرکار اور پارٹی کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے ایم پی برجبھوشن شرن سنگھ نے کہا کہ ہار پر وہ زیادہ کچھ نہیں کہیں گے مگر نیتاؤں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہار سے ورکر خوش کیوں ہے؟ اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے کہا کہ بھاجپا بہت تیزی سے فرش پر آنے لگی ہے۔ مستقبل میں ہمارے کسی مورچہ میں شامل ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ضمنی چناؤ میں کرارے ہار کے بعد شیو سینا نے پھر بھاجپا پر طنز کسااور کہا یہ تو صرف ٹریلر ہے فلم ابھی باقی ہے۔ تیجسوی یادو کا کہنا ہے جنتا نے مرکز اور بہارمیں دو انجن والی این ڈی اے سرکار کو مسترد کردیا ہے۔ نتیش کمار کو وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ بھاجپا ایم پی شتروگھن سنہا نے کہا غرور، غصہ اور زیادہ خوداعتمادی جمہوری سیاست کے قاتل ہے۔ چاہے وہ حکمراں دوست یا اپوزیشن کے نیتا ہی کیوں نہ ہوں۔ شیو سینا نے تو اگلے عام چناؤ کے بعد لوک سبھا میں بھاجپا کانگریس کی تعداد کی بھی پیشگوئی کردی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اترپردیش اور بہار ضمنی چناؤ کے نتیجے اپوزیشن میں جوش پیدا کریں گے۔ حالانکہ بھاجپا کو ٹکر دینے کے لئے اپوزیشن کے پاس کوئی اہل شخص نہیں ہے۔
(انل نریندر)

1765 ایم پی اور ایم ایل اے پر 3045مقدمہ التوا میں

ہندوستانی سیاست کا آئینہ دکھاتے ہوئے ہمارے نمائندہ کتنے صاف ہیں ان اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے۔ محترم صاحبان کے جرائم کا لیکھا جوکھا سیاست کو جرائم سے پاک بنانے کی امید کو دھاراشاہی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ دیش بھر میں 1765 ایم پی اور ممبران اسمبلی کے خلاف3045 مجرمانہ مقدمہ التوا میں ہیں۔ اس تعداد سے زیادہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ان سبھی پر درج معاملہ 3045 ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ ان میں کئی ایم پی اور ممبران اسمبلی ایسے ہیں جن پرایک سے زیادہ معاملہ درج ہیں۔ سرکار نے ان اعدادو شمار کے ساتھ سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر ان کا ازالہ فاسٹ ٹریک عدالتوں میں ایک سال کے اندر کرنے کا عزم دوہرایا ہے۔ اس معاملہ میں اترپردیش پہلے اور تامل ناڈو دوسرے ،بہارتیسرے، مغربی بنگال چوتھے، آندھرا پانچویں نمبر پر ہے۔ ویسے کل مجرمانہ معاملہ 3816 تھے جن میں سے 771 نمٹ چکے ہیں۔ کورٹ نے مرکز سے 2014 میں نامزدگی بھرتے وقت مجرمانہ مقدمہ التواہونے کا اعلان کرنے والے ممبران اسمبلی اور ایم پی کے مقدمات کی پوزیشن پوچھی تھی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ میں 10 مارچ 2018 کے حکم کے مطابق ایک سال میں نپٹائے گئے مقدموں کی جانکاری مانگی تھی۔ کورٹ نے یہ ہدایت بھاجپا نیتا اور وکیل اشونی اپادھیائے کی عرضی پر دی تھی۔ جس میں سزا یافتہ عوام کے نمائندوں کے چناؤ لڑنے پر تاحیات روک لگانے کی مانگ کی گئی تھی۔ ابھی سزا کے بعد جیل سے چھوٹنے کے 6 سال تک چناؤ لڑنے کے نا اہل ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی تعداد کچھ اور بڑھی ہوگی جن کے خلاف مجرمانہ معاملہ درج ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اس طرح کے معاملہ نپٹانے کے لئے کچھ راستوں میں مخصوص عدالتوں کی تشکیل ہوگئی ہے۔ کچھ ریاستوں میں ہونا باقی ہے لیکن بات تب بنے گی جب ایک یقینی میعاد میں ان معاملوں کا نپٹارہ کیا جاسکے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے انتظامیہ مشینری کی باگ ڈور جن جن نمائندوں کے ہاتھ میں ہے ان کا انتخاب اہلیت پرنہیں بلکہ ذات و طبقہ ودھن بل اور دبنگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جیل جانے اور ضمانت پر باہر آنے پر جشن منتا ہے۔ جو جتنا بڑا پیسہ والا اور دبنگی ہو اتنا ہی بڑا جشن، یہ ہی اس کی طاقت کا پیمانہ بنتا ہے۔ کبھی سیاست کی پاکیزگی کا خواب پورا ہوگا اس میں شبہ ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ محض قانون سے ہی ختم ہوگا؟ یہ کام دراصل سیاسی پارٹیوں کا ہے۔ انہیں سوچنا ہوگا کہ کیا وہ صحیح معنوں میں دیش کی سیاست کو صاف ستھرا کرنا چاہتی ہیں؟ لیکن جب تک امیدوار کا انتخاب اس کی دیدہ دانستہ دھن بل اور دبنگی پر ہوتا رہے گا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔
(انل نریندر)

17 مارچ 2018

ضمنی چناؤ کا سندیش:متحد اپوزیشن بھاجپا کو ہٹا سکتی ہے

لوک سبھا کی تین سیٹوں کے نتیجے بھاجپا اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ یہ چناؤ نتیجہ بھاجپا کے لئے پیغام تو ہے ہی صرف ادھنائک وادی پرچار سے چناؤ نہیں جیتے جاسکتے۔ ذات پات ،سماجی تجزیہ اور نرم گوئی اور ورکروں و عوام کی امیدوں پر کھرا اترنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ اترپردیش میں بھاجپا نے بھلے ہی دو سیٹیں ہاری ہیں لیکن یہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ و نائب وزیر اعلی کیشوپرساد موریہ کی ہار ہے۔ وزیر اعلی یوگی کے لئے تو گورکھپور شخصی ہار ہے۔ گورکھپور سیٹ پچھلے 27 برسوں سے گؤ رکھشک مٹھ کے پاس ہے۔ یہ کہا جاتا ہے یہاں سے یوگی ہار ہی نہیں سکتے۔ آدتیہ ناتھ خود پانچ بار گورکھپور پارلیمانی حلقہ سے چناؤ جیتتے آرہے تھے اور 1991 سے وہاں بھاجپا کا قبضہ رہا ہے۔ نتیجے بتا رہے ہیں کہ بھاجپا کے چناوی انتظامات نے سپا اور بسپا کے لئے اتحاد کو صحیح سے نہیں پرکھ سکے۔ بھاجپا یہ نہیں سمجھ پائی کے اترپردیش کی ان دو بڑی پارٹیوں کے ووٹروں کااکٹھا ہونا بھاجپا کیلئے بڑی چنوتی بن سکتا ہے۔ نتیجوں سے صاف ہے کہ سپا اپنے امیدواروں کے حق میں بسپا کے ووٹوں کو منتقل کروانے میں کامیاب رہی ہے۔ اترپردیش کی پھولپور لوک سبھا سیٹ بھاجپا کے پاس چار سال بھی نہیں رہی۔ دیش کو آزادی ملنے کے بعد 1952 میں پہلی بار ہوئے عام چناؤ کے 62 سال بعد بھاجپا کو 2014 میں پھولپور میں کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ سابق وزیر اعظم جواہرلعل نہرو کے حلقہ پھولپور سے کیشو پرساد موریہ نے 2014 میں ریکارڈ 3لاکھ8 ہزار ووٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ پہلا موقعہ تھا جبکہ بھاجپا کا کمل اس سیٹ پرکھلا تھا۔ ضمنی چناؤ کی ریلیوں میں موجودہ ایم پی کیشو پرساد موریہ اس بات کا ذکر نہیں کرنا بھولتے تھے کہ اتنے ووٹوں کے فرق سے نہرو کبھی نہیں جیتے۔ اس سے زیادہ فرق سے جنتا نے انہیں جتا کر دیش کی سب سے بڑی پنچایت میں بھیجا تھا۔ 19 فروری کو شیلندر سنگھ پٹیل کوامیدوار بنائے جانے کے بعد کیشو پرساد موریہ لگاتار الہ آبا دمیں ٹکے رہے اور پارلیمانی حلقہ کا شاید ہی کوئی علاقہ بچا ہوگا جہاں ان کا اقتدار نہ ہو۔ یہاں بھی سپا اور بسپا کی حمایت نے بھاجپا کے سبھی داؤ پیچ بگاڑ دئے۔ بھاجپا نیتا کمپین کے دوران بھلے ہی کھل کر اتحاد کو نہ مانتے رہے ہوں لیکن انہیں بھی اندراندر سپا۔ بسپا کے ساتھ آنے کاڈر ستا رہا تھا۔ بھاجپا کی ہار کے لئے کم پولنگ بھی بڑی وجہ رہی۔ شہری نارتھ اور ویسٹ میں 2014 کے عام چناؤ اور 2017 کے اسمبلی چناؤ کے مقابلہ کم ووٹنگ ہوئی ہے۔ پارٹی پالیسیوں سے ناراض بھاجپا ورکر ووٹ ڈالنے ہی نہیں نکلے۔ یہ ہار یوگی کی ہے یا مرکز کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ناراضگی کی ہے۔ آج سبھی طبقہ کے لوگ مرکز کی پالیسیوں سے پریشان ہیں۔ وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلی یوگی دونوں کے طریقہ کار سے بھاجپا ورکر ناراض ہیں۔ ناراضگی کا ہی نتیجہ ہے کہ گورکھپور اور پھولپور میں ووٹنگ فیصد کم ہوا۔ شہروں میں لوگ ووٹ ڈالنے ہی نہیں آئے۔ بھاجپا ورکر عام جنتا کے کام نہیں کرا پائے۔ سینٹرل اسکولوں میں داخلہ کا معاملہ ہو، گیس کنکشن کا ہو، یا نقل پر پابندی کا ہو یا کوئی دیگر پریشانی ہو، انہیں نہ تو وزیر اعلی سے ملنے کی اجازت ہے اور نہ ہی پی ایم سے۔ اس ہار سے بھاجپا کو اس بات کا اندازہ لگ گیا ہے کہ اترپردیش میں بسپا اور سپا کا اتحاد ہونے سے دونوں پارٹیوں کا ووٹ بینک متحد ہوسکتا ہے۔ بدھوار کو لوک سبھا کی تین سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ بھاجپا کو ملی ہار کے پیچھے ایک سیاسی ٹرینڈ بھی ہے جو پارٹی کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ 2014 میں بی جے پی نے 282 لوک سبھا سیٹیں جیتی تھیں لیکن بدھوار کو لوک سبھا چناؤ کے نتیجوں کے بعد اب تک پارٹی 6 سیٹیں گنوا چکی ہے۔
2014 لوک سبھا چناؤ کے بعد 11 ریاستوں میں 19 لوک سبھا سیٹوں پر چناؤ ہوئے ہیں۔ ان میں 8 سیٹیں بھاجپا کے پاس تھیں لیکن اب ان میں سے صرف2 سیٹیں ہیں برقرار رکھ سکی ہے 6 سیٹوں پر اسے ہار ملی ہے۔ بھاجپا صرف بروڈہ اور شہڈول سیٹ ہی جیت پائی ہے۔ 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو 282 سیٹیں ملی تھیں اب اس کے پاس 274 سیٹیں رہ گئی ہیں۔ کہنے کو تو محض دو ریاستوں کی پانچ سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہیں لیکن ان نتیجوں نے دیش کے مستقبل کی سیاست کی کہانی لکھنے کا کام بھی کیا ہے۔ نریندر مودی ۔ امت شاہ کی جیت کے تیز رفتار گھوڑے کوروکنے کی کوشش میں لگی اپوزیشن کے لئے اترپردیش اور بہار کے ان اہم ترین ضمنی چناؤ کے نتیجوں نے سنجیونی کا کام کیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے لئے یہ نتیجے بیحد اہم ہیں۔ اپوزیشن کو اب سمجھ میں آنے لگا ہے کہ اس کا بکھراؤ ہی بھاجپا کی جیت کی بڑی وجہ ہے۔ ضمنی چناؤ میں بھاجپا سے اپوزیشن نے سیدھی لڑائی لڑی اور نتیجے سامنے ہیں۔ پھولپور اور گورکھپور و ارریہ تینوں کی لوک سبھا سیٹوں پر اپوزیشن کا ایک ہی امیدوار تھا۔ تینوں جگہ بھاجپا کے ساتھ سیدھی لڑائی تھی اور تینوں میں بھاجپا ہار گئی۔ ان تینوں سیٹوں کے نتیجوں سے یہ صاف پیغام ملتا ہے کہ اگر اپوزیشن متحد ہوکر چناؤ لڑے تو 2019 میں بھاجپاکو روکا جاسکتا ہے۔ بھاجپا قیادت کے لئے ابھی بھی وقت ہے اپنے برتاؤ کو بدلنے کا۔ یہ غرور بھی ٹوٹنا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...