Translater

07 مئی 2014

امیٹھی میں داؤ پر لگی پرینکا ۔راہل گاندھی کی ساکھ!

دیش کے آٹھویں مرحلے کی پولنگ آج یعنی 7 مئی کو ہورہی ہے اس کے لئے سبھی پارٹیاںآخری دور کی تیاریوں میں لگ گئی ہیں۔ اس میں اترپردیش کی 15 سیٹوں پر ووٹ پڑیں گے جن میں سب سے اہم سیٹ امیٹھی ہے۔ جہاں سے کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی کا مقابلہ بھاجپا کی لیڈر اسمرتی ایرانی اور عام آدمی پارٹی کے امیدوار کمار وشواس سے ہے۔ یہاں پر داؤ پر ہے کانگریس پارٹی کی ساکھ۔ پچھلے چناؤ میں کانگریس کو سب سے زیادہ کامیابی یہیں سے ملی تھی۔چار بار سابق پردھان منتری رہے راجیو گاندھی اور ایک بار سونیا گاندھی ،دو بار راہل گاندھی کو یہاں کی عوام نے اپنا نمائندہ چنا ہے۔ ظاہر ہے کہ گاندھی خاندان کے تئیں عوام میں خاص پریم ہے۔ یہاں اس بار مودی کی لہر کے بھروسے اسمرتی ایرانی راہل گاندھی کو ٹکر دے رہی ہیں لیکن عام آدمی پارٹی کے تیز طرار امیدوار کمار وشواس جو پچھلے پانچ مہینے سے یہاں جمے ہوئے ہیں، کو بھی سرسری طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے حلقے کے 100 سے زیادہ دیہات کا دورہ کیا اور لوگوں تک اپنی بات پہنچائی ہے۔ امیٹھی کو کنبہ پرستی کے چنگل سے آزاد کرانے کی اپیل کی ہے۔ بسپا نے یہاں دھرمیندر پرتاپ سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ راہل کی بہن پرینکا گاندھی واڈرا امیٹھی میں مسلسل کمپین کررہی تھیں اور کافی حد تک یہاں سے راہل کے ساتھ ساتھ بہن پرینکا کی بھی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی نے کہا کہ جب تک زندہ ہوں دیش و امیٹھی کے لئے وقف رہوں گا۔ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن وہ جب تک زندہ رہیں گے امیٹھی آتے جاتے رہے ہیں۔ ادھر ایتوار کو امیٹھی گئیں بہن پرینکا نے ایک ساتھ جائس قصبے میں روڈ شو کیا ۔ دو کلو میٹر تک بھائی بہن نے اس میں شرکت کی۔ لوگوں کو کانگریس کے حق میں کرنے میں پورا زور لگایا۔ سال2009 ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو سب سے زیادہ7 ، بسپا کو5، سپا کو3 سیٹیں ملی تھیں۔ اس مرحلے کی15 سیٹوں میں سے راہل گاندھی نے امیٹھی میں 3.70 لاکھ ریکارڈ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس مرتبہ حالات تھوڑے بدلے ہوئے ہیں۔ پچھلی بار کمزور رہی بھاجپا اس مرتبہ کانگریس کے ساتھ ساتھ اور بسپا ، سپا ، عام آدمی پارٹی کو چنوتی پیش کررہی ہے۔امیٹھی میں اسمرتی ایرانی کے ذریعے راہل گاندھی کی گھیرا بندی کی جارہی ہے۔ اسمرتی کو مودی لہر کا زیادہ سہارا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ڈاکٹر کمار وشواس تو امیٹھی سے جیت کا دعوی کررہے ہیں۔ دراصل اترپردیش کی اعظم گڑھ، امیٹھی، جونپور اور مچھلی شہر، الہ آباد ، پھولپور، مرزا پور، کوشانبی سمیت 33 لوک سبھا سیٹیں ہیں جہاں مودی کی اگنی پریکشا ہے ۔ ان کے علاوہ آٹھویں مرحلے کی15 سیٹوں میں سے10 سیٹوں پر دبنگی امیدواروں نے بھی نریندر مودی کی لہر پر حملہ کیا ہوا ہے۔ ان سیٹوں پر 43 امیدوار ایسے ہیں جن پر مجرمانہ مقدمے قائم ہیں۔ دونوں مودی اور راہل گاندھی کا مستقبل اس مرحلے کے چناؤ میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔ راہل گاندھی کوتودوہری چنوتی ہے۔ ایک اپنی سیٹ بچانا اور اگر کسی وجہ سے وہ ہار جاتے ہیں تو ان کا اور ان کی پارٹی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ اسمرتی ایرانی ایک کمزور امیدوار ہیں جو محض مودی لہر پر کھڑی ہیں۔ کمار وشواس نے اس چناؤ میں امیٹھی میں سب سے زیادہ محنت کی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کانگریس کی اس انتہائی مضبوط سیٹ پر کیا سیند لگ سکتی ہے؟
(انل نریندر)

بینی پرساد،اکبر ڈمپی و آ ر پی این سنگھ کی ساکھ داؤ پر!

آج یعنی7 مئی کو آٹھویں مرحلے کے ہورہے چناؤ میں اترپردیش کے کئی اہم پارلیمانی حلقوں میں چناؤ ہونا ہے۔ ان میں فیز آباد، گونڈا، پھولپور جیسے اہم حلقے اس مرحلے میں آر ہے ہیں۔ ایودھیا کی تمام ساکھ اپنے اندر سمیٹے فیز آباد پارلیمانی سیٹ کی بھاجپا کے لئے ایک الگ ہی اہمیت ہے۔ پچھلی لوک سبھا اور پھر ایودھیا سے اسمبلی چناؤ گنوا چکے بھاجپا کے للو سنگھ کو پھر امید ہے۔ اس چناؤ میں ایودھیا کے کئی بڑے اکھاڑوں کے سنتوں کی بھی خاص اہمیت رہے گی۔ پہلے تین مرحلوں کے چناؤ میں مودی لہر کا یہاں بھی اثر پڑنا فطری ہی ہے لہٰذا دیگر مقامات کی طرح فیز آباد میں بھی بھاجپا امیدوار سے زیادہ گلی محلوں میں تذکرہ مودی کا ہی ہے۔ یہاں مسلم ووٹ اچھے خاصے ہیں نہ تو کانگریس اور سپا کے روایتی ووٹ ہیں، براہمن اگر موجودہ ایم پی کانگریس کے تھے نرمل کھتری کے ساتھ ساتھ چلے گئے تو وہ جیت سکتے ہیں کیونکہ ان کی برادری کا دبدبہ ہے۔ بھاجپا ۔کانگریس کے درمیان سپا کے مترسین یادو بھی سخت ٹکر دیں گے۔ ملکی پور سے ایم ایل اے مترسین یادو سپا کے روایتی ووٹ بینک کے لئے مفید امیدوار ہیں۔ بسپا امیدوار جتندر سنگھ ببلو کی مجرمانہ ساکھ ان کے راستے میں روڑا بن سکتی ہے۔ فیز آباد میں 25 فیصدی دلت ووٹ ہیں کل ملاکر یہاں مقابلہ سخت ہے۔بھاجپا کے لئے فیز آباد جیتنے کی خاص اہمیت ہے۔ گونڈا پارلیمانی سیٹ پر کیرتی وردھن 2004 سے یہا سپا سے ایم پی بنے تھے تو پچھلی مرتبہ لوک سبھا میں بسپا کے ٹکٹ پر جیت کر پہنچے تھے۔ اس بار وہ بھاجپا کے ٹکٹ پر تال ٹھونک رہے ہیں۔ مودی لہر کے سہارے 18 ویں لوک سبھا میں پہنچنے کا خواب لئے کیرتی وردھن سنگھ اپنی ہر ریلی میں سپا کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ علاقائی ایم پی بینی پرساد ورما پانچ سال کے اپنے کام کی رپورٹ کارڈ رکھ رہے ہیں۔ سپا کی امیدوار نندتا شکلا اور بسپا سے احمد اکبر ڈمپی مقابلے میں ہیں۔ وہ بسپا کے روایتی ووٹ بینک کے علاوہ مسلمان ووٹوں کی امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن اس میں سیند لگا رہے ہیں بسپا سے 3-4 مہینے پہلے نکالے گئے مسعود عالم خاں ، وہ پیس پارٹی سے چناؤ میدان میں ہیں۔ کل ملا کر مقابلہ کانٹے کا ہے۔ بینی پرساد ورما، امن اور عدم تشدد کا پیغام دینے والے مہاتما بودھ کی مہا پرینوارن استھلی کشی نگر میں اس بار چناؤ دنگل زبردست ہے۔ یہاں کے ایم پی اور مرکزی وزیر مملکت کنور آر پی این سنگھ اس بار اپنے گھرمیں تین طرف سے گھرتے نظر آرہے ہیں۔ آر پی این سنگھ کا تعلق پڈرونا راج گھرانے سے ہے۔ ان کے والد جہاں اندرا گاندھی، راجیو گاندھی کے قریبیوں میں سے شمار کئے جاتے تھے وہیں وہ خود راہل گاندھی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ بسپا نے یہاں پہلے براہمن امیدوار کی شکل میں ڈاکٹر سنگم مشر کو میدان میں اتارا ہے۔ بھاجپا نے پوروانچل کے سرکردہ سیاستداں رہے راج منگل پانڈے کے لڑکے اورگڈو پانڈے کو چناؤ میدان میں اتارکر 90 کی دہائی کی یاد تازہ کردی۔ 1999ء سے یہ لوک سبھا میں مسلسل یہاں سے بھاجپا کا سکہ چلا ہے۔ اس حلقے کی سب سے زیادہ مارا ماری مسلم ووٹوں کو لیکر ہے۔ کانگریس ۔ سپا اور بسپا تینوں کے ذریعے اقلیتوں کو رجھانے کی پوری کوشش جاری ہے لیکن ان سب کے درمیان مرکزی وزیر مملکت آر پی این سنگھ کے خیمے کا ماننا ہے کہ اقلیتی ووٹر مودی لہر کی دھار میں کشی نگر پارلیمانی حلقے میں آخری وقت میں کانگریس کے ساتھ جڑیں گے۔
(انل نریندر)

02 مئی 2014

اب کانگریس کا فوکس چناؤ بعد مودی کو روکنا ہے!

کانگریس نے ایک طرح سے اس لوک سبھا چناؤ2014ء میں اپنی ہار مان لی ہے۔ یہ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ کانگریس نے چناؤ کے بعد سرکار کے بارے میں رونما واقعات پر اب اپنی زیادہ توجہ دینی شروع کردی ہے۔ کانگریس نے صاف کردیا ہے کہ اگر وہ چناؤ ہارگئی تو وہ بھاجپا کا کھیل بگاڑنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔اس کے لئے چناؤ بعد بننے والے تیسرے مورچے کی سرکار کو باہر سے حمایت دینے سے لیکر اس میں شامل ہونے تک کے تمام متبادل کو کھلا رکھا ہے۔ کانگریس لیڈر مودی کو چناؤ بعد بھی وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لئے پوری کوشش کرے گی۔ کانگریس کے لیڈروں کے بیانوں سے صاف ہوگیا ہے ۔ذرائع کی مانیں اگر این ڈی اے 220 سے230 سیٹوں پر سمٹ جاتی ہے تو کانگریس غیر این ڈی اے پارٹیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی حکمت عملی پر کام کرے گی بشرطیکہ اس صورت میں کمانگریس کے پاس بھی 100 سے120 سیٹیں ہوں۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی کو 140 کے آس پاس سیٹیں ملتی ہیں تو وہ204 کی طرح این ڈی اے مخالف اتحاد کی قیادت کرنے کے رول میں آسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس علاقائی پارٹیوں کو اس طرح کے اشارے بھی دے رہی ہے کہ انہیں مودی کی لیڈر شپ سے کہیں زیادہ توجہ کانگریس کی قیادت میں ملے گی۔ ذرائع نے کہا اگر کانگریس کنگ میکر کے رول میں نہیں آتی ہے تو بھی پی ایم عہدے کو لیکر اس کا موقف لچیلا ہے۔ وہ خود کو علاقائی پارٹیوں کے لئے بھاجپا سے بہتر متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ کپل سبل ،مہاراشٹر میں پرتھوی راج چوہان اور یوپی میں سلمان خورشید نے یہ ہی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی ہے۔ پارٹی کے لوگ مانتے ہیں کہ اگراین ڈی اے225 سیٹوں تک سمٹ گیا تو بھی باقی اکثریت حاصل کرنے کے لئے اسے مودی کو میدان سے ہٹانا ہوگا کیونکہ ان کے نام پر جے للتا بھلے ہی متفق ہوجائیں لیکن ممتا اور مایاوتی کسی بھی حال میں رضا مند نہیں ہوں گی کیونکہ یوپی اور بنگال میں یہ دونوں ہی ہیں۔ جہاں تک مسلم ووٹروں کا سوال ہے کسی بھی حال میں انہیں نظرانداز نہیں کرسکتیں جبکہ سپا ۔ لیفٹ تو کبھی بھی بھاجپا کا ساتھ نہیں دینے والے ہیں اور نتیش نے تو مودی سے تازہ دشمنی لے لی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کانگریسی سرکردہ لیڈر مسلم اکثریتی علاقوں میں اس بات کا اشارہ کررہے ہیں کہ اگر وہ کانگریس کو ووٹ نہیں دے سکے یا نہ دینا چاہیں تو وہ ایسی پارٹی ایسے امیدوار کی حمایت کریں جو بھاجپا کو روک سکتے ہیں اور کسی بھی حال میں چناؤ بعد بھاجپا سے ہاتھ ملا سکیں۔ بہرحال ایک دلچسپ رپورٹ بہار کے بارے میں شائع ہوئی ہے دربھنگہ: ہم بہاری لڑکے اب کسی اودھو یا راج ٹھاکرے کے ذلالت سہنے والے نہیں۔ ہمارا ضمیر تو کانپ جاتا ہے۔ ہماری روح کانپ جاتی ہے جب ہم ممبئی یا مہاراشٹر میں امتحان دینے کی بات آتی ہے۔ یہ ہی نظریہ بہار سمیت ان ریاستوں کے لڑکوں کا ہے جو علاقائی واد کے شکار ہیں لیکن اب مودی کی لہر ایسے نوجوانوں میں بھی بھروسہ اور امید جگا رہی ہے تبھی تو دربھنگہ کے راج میدا ن میں مودی کی تقریرسننے کے بعد نوجوان کہتے ہیں کہ ہمیں بہار میں ہیں ترقی کے مواقع ملیں تاکہ ہمیں ممبئی یا کسی اور جگہ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ مرکز میں تو ہمیں ایک طاقتورپی ایم چاہئے جو ترقی کرسکے اور ہمارے لڑکوں کی امید کو پورا کرسکے اس لئے مودی کو بھی ایک موقعہ دینے میں ہرج کیا ہے؟ نوجوانوں نے کہا کہ اس بار ہم امیدوار نہیں نریندر مودی کا منہ دیکھ رہے ہیں۔ لڑکوں کو امید ہے کہ مودی ترقی کو سبھی ریاستوں میں پہنچائیں گے تاکہ نوجوانوں کا مستقبل بہتر ہو ہم اس اندھیرے کی کال کوٹھری سے باہر نکلیں۔مودی نوجوانوں کے ہیروں ہیں اور اگر انہوں نے ووٹ مودی کو دیا تو کانگریس کی ساری اسکیمیں دھری رہ جائیں گی۔
(انل نریندر)

نتیش کی حکمت عملی اور لالو رابڑی کی ساکھ داؤ پر لگی!

بہار میں تین مرحلوں میں پولنگ ہونے کے بعد چناوی تصویر بہت کچھ صاف ہوگئی ہے۔ 20 سیٹوں پر ابھی پولنگ ہونا باقی ہے۔ ان میں سے7 سیٹوں پر 7 مئی کو ووٹ پڑیں گے۔ یہ سیٹیں ہیں سیہور، سیتامڑی،مظفر پور، مہاراج گنج، سارنگ، حاجی پور اور اجیارپور۔ بہار اس مرتبہ کثیر ذات پرستی اوریکدم ترقی کے ساتھ کئی فیصلے کرنے جارہا ہے۔ ذات پرستی کا کارڈ چلا تو لالو پرساد یادو کو فائدہ اور ترقی کا کارڈ چلا تو نریندر مودی۔اگرداؤ پر ہے تو وہ نتیش کمار کی حکمت عملی، جہاں سے بھاجپا پوری طرح سے نریندر مودی لہر پر منحصر ہے۔ وہیں لالو نے ایم وائی تجزیوں کو پٹری پر لانے کی پرزور کوشش کی ہے تو نتیش کمار کی پارٹی جنتادل (یو) یہاں ووٹوں کے پولارائزیشن کو لیکر پھنسی ہوئی ہے۔ بہار میں چائے اور پان کی دوکان سے لیکرریل گاڑی میں مونگ پھلی بیچنے والوں تک کے لئے فی الحال یہ ہی ٹائم پاس ہے۔ لیکن کون کہاں سے جیتے گا اس سے زیادہ بحث نتیش کمار اور جنتادل (یو ) حکمت عملی پر ہورہی ہے۔ جے ڈی یو کے بھاجپا سے الگ ہونے کے نتیش کے فیصلے کی تنقید ہورہی ہے جسے اقلیتی ووٹوں کے لئے نتیش اور ان کی پارٹی نے بازی کھیلی۔ وہ طبقہ نتیش سے زیادہ لالو پرساد یادو پر بھروسہ کرتا لگ رہا ہے۔ ایسے میں جنتادل(یو) زیادہ تو حلقوں پر تیسرے کھلاڑی کے طور پر مانی جارہی ہے۔ آج بہار کی دو اہم سیٹوں کی بات کررہا ہوں۔ بہار کی سارنگ پارلیمانی سیٹ پر سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی میدان میں ہیں انہیں لالو پرساد یادو کی پارلیمانی وراثت سنبھالنے کے لئے ایک بار پھر اگنی پریکشا کے دور سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ جب چارہ گھوٹالے میں پھنسنے کے بعد لالو پرساد پہلی بار جیل گئے تھے تو انہوں نے چولہا چوکا سنبھالنے والی اور سیاست کی اے بی سی ڈی نہ جاننے والی اپنی بیوی رابڑی دیوی کو ریاست کے وزیر اعلی کی کرسی سونپ دی تھی۔ ٹھیک اسی طرح چارہ گھوٹالے میں سزا ہونے کے بعد لالو کے چناؤ لڑنے پرپابندی لگی تو انہوں نے اپنی سیٹ سے رابڑی کو چناؤ میدان میں اتاردیا۔ وہیں یہاں لالو سے پچھلے دو چناؤ ہارنے والے راجیو پرتاپ روڑی کو بھاجپا نے پھر سے رابڑی دیوی کے خلاف میدان میں اتاردیا ہے۔ 1996ء میں روڑی پریوار کامیاب ہوئے اور واجپئی سرکار میں وزیر بنے۔فی الحال پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری کا ذمہ سنبھالنے والے نمو کے نورتن میں شامل روڑی کو چناؤ جیتنے پرمرکز میں اہم وزارت ملنے کاپروپگنڈہ زور شور سے کیا جارہا ہے۔رابڑی روڑی کے علاوہ تیسریامیدوار جنتا دل(یو) کے سلیم پرویز ہیں جو پچھلی بار بسپا سے جڑے تھے۔ تب کامیاب ہوئے لالو یادو کو2 لاکھ74 ہزار ووٹ اور جبکہ روڑی کو2 لاکھ22 ہزار ووٹ ملے تھے۔ اب ہم چلتے ہیں بہار کی دوسری اہم سیٹ حاجی پور۔ سب کو چونکاتے ہوئے اچانک بھاجپا اور این ڈی اے کے جہاز پر سوار لوک جن شکتی پارٹی کے نیتا رام ولاس پاسوان حاجی پور سے اپنے اور پرایوں کے جھگڑے میں الجھے ہوئے ہیں اور اسی سے اپنی جیت کا راستہ تلاش رہے ہیں۔ کل تک جو آر جے ڈی ورکر اور حمایتی پاسوان کا جھنڈا اٹھا رہے تھے آج وہ ان کے خلاف مورچہ لگائے نظر آرہے ہیں۔ پاسوان کے خلاف ایک طرف موجودہ ایم پی اور جنتادل(یو ) کے امیدوار 93 سالہ رام سندر ہیں تو دوسری طرف کانگریس کے امیدوار سنجیو ٹوہنی بھی خم ٹھوک رہے ہیں۔ تذکرہ تو یہ بھی ہے کہ بہار کی سیاست کے دو مخالف مکھیہ منتری نتیش کمار اور آر جے ڈی چیف لالو یادو پاسوان کے خلاف اندر خانے ہاتھ بھی ملا لیں تو کوئی تعجب نہ ہوگا۔ اصل لڑائی بہار میں مودی بنام لالو بنام نتیش ہے اور داؤ پر زیادہ ساکھ لالو اور نتیش کمار کی لگی ہے۔
(انل نریندر)

01 مئی 2014

کنفیوز کجریوال کولگتے جھٹکے پر جھٹکے!

اروند کیجریوال کو دسمبر میں جوغیر متوقع شاندار کامیابی ملی تھی اور جنتا نے ان سے جو امیدلگائی ہوئی تھی وہ اب آہستہ آہستہ ہوا ہوتی جارہی ہے۔ خود کیجریوال جس ارادے سے دہلی کے وزیر اعلی کے کرسی کو لات مار کر وارانسی پہنچے اور قومی سیاست میں دھماکہ کرنے کا وہ خواب ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔ پچھلے دنوں کیجریوال اینڈ کمپنی کو دوہرا جھٹکا لگا پہلا وارانسی سے اور دوسرالکھنؤ سے۔ پہلے وارانسی کی بات کرتے ہیں مختار انصاری کے چناوی میدان سے ہٹنے کے بعد وارانسی سیٹ سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسلم ووٹوں کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے اروند کیجریوال نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ ان کی ساری امیدیں ان مسلم ووٹوں پر لگی ہوئی تھیں۔ ’آپ‘ حمایتی امید لگا بیٹھے تھے کہ اروند کیجریوال کی صاف ستھری ساکھ کے علاوہ قومی ایکتا دل کے حمایتیوں کا کانگریس کے مقابلے کیجریوال کے تئیں نرم رخ ہے اور یہ بڑی تعداد میں ان کی طرف آجائیں گے اور نریندر مودی کے خلاف چناؤ میں ان کی حمایت کریں گے لیکن منگل کے روز کانگریس امیدوار اجے رائے کو اپنی حمایت کا اعلان کردیا۔ کانگریس کے قومی نیتاؤں سے لمبی بات چیت کے بعد قومی ایکتا دل کے زونل پردھان محمد سلیم کے مکان پر اخبار نویسوں سے بات چیت میں قومی ایکتا دل کے قومی صدر و سابق وزیر افضال انصاری نے کانگریس کو حمایت دینے کا اعلان کردیا اور کہا کہ ہم نے سانجھہ امیدوار کے اشو پر سبھی سیاسی پارٹیوں کو خط لکھا مگر کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ مجبوراًمودی کو بنارس میں رکنے کے لئے میں نے چناوی میدان سے قومی ایکتا دل کے امیدوار مختار انصاری کو چناؤ میدان سے ہٹا لیا۔ ان کا فیصلہ بڑا فیصلہ تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کانگریس کے قومی سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ سمیت کانگریس کے بڑے لیڈروں نے مجھ سے رابطہ قائم کیا۔ دوسرا جھٹکا کیجریوال کو تب لگا جب عام آدمی پارٹی کے بانی ممبر اور قومی کونسل کے نمائندے اشونی اپادھیائے اور 2400 دیگر پارٹی کے ممبران نے پارٹی چھوڑ دی۔ اپادھیائے نے الزام لگایا کہ جس نظریئے کو لیکر عام آدمی پارٹی بنی تھی اور جس سے راغب ہوکر تمام لوگ پارٹی سے جڑے تھے، وہ کہیں کھو گئی ہے اور عام آدمی خود کو ٹھگا محسوس کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی کے چلتے پارٹی کے 8 وارڈ کے کنوینر 40 مقامی امیدواروں سمیت 2400 ورکروں نے باقاعدہ پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپادھیائے نے آپ کے بانی ممبر منیش سسودیا، یوگیند یادو، میدھا پاٹکر، ویرا سانیال، اور شازیہ علمی پر سنگین الزام لگاتے ہوئے اروند کیجریوال سے 22 سوال پوچھے۔ انہوں نے پوچھا کہ جن لوک پال بل کے لئے کیجریوال نے جان بوجھ کر غیر آئینی راستے کو کیوں چنا؟ دہلی لوک آیکت کو کیوں مضبوط نہیں کیا گیا؛ اس کے علاوہ ریفرنڈم کرائے بغیر وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ کیوں دیا؟ اپادھیائے نے کانگریس سے سانٹھ گانٹھ کا الزام لگاتے ہوئے کہا آپ نے کرپشن مخالف اور اقتدار مخالف رجحان والے ووٹ بانٹنے کے لئے 455 امیدوار کھڑے کئے ہیں جبکہ بھاجپا نے410، کانگریس نے اس سے بھی کم امیدوار کھڑے کئے ہیں، اس کے لئے پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ انہوں نے دعوی کیا کہ سسودیا کے کبیر فاؤنڈیشن کا رجسٹریشن 2007ء میں ہوا تھا پھر انہوں نے2005ء میں فورڈ فاؤنڈیشن سے 44 لاکھ اور 2006 ء میں 32 لاکھ روپے کیسے حاصل کئے؟ اپادھیائے نے یہ بھی سوال کیا کیجریوال کی پارٹی راجستھان میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کو زمین گھوٹالے کے معاملے میں کلین چٹ دینے والے یدھویر سنگھ کو حصار لوک سبھا سیٹ سے امیدوار بنایا؟ لگتا ہے کہ کیجریوال آج کل کنفیوز ہوگئے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے پہلے انہیں لوگوں کی رائے لینی چاہئے تھی، دو دن بعد کہتے ہیں کہ امبانی اڈانی کو جیب میں لیکر گھومنے والوں نے ان کی سرکار گرائی۔ کیجریوال کرپشن اور کالی کمائی کی مخالفت تو کرتے ہیں لیکن ووٹروں سے کہتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹی رشوت میں کمبل، ساڑی وغیرہ دیں گے وہ لے لو لیکن ووٹ جھاڑو کو ہی دینا۔ آگے سنئے کہتے ہیں کہ کانگریس میں سودے بازی ہوگئی ہے اس لئے کانگریس مودی پر اور بھاجپا گاندھی خاندان کے خلاف نہ تو ان کے حلقوں میں کمپین کررہی ہے اور نہ ہی کچھ بول رہے ہیں لگتا ہے کہ کیجریوال نہ تو ٹی وی دیکھ رہے ہیں اور نہ ہی نیوز پیپر۔ جھٹکے پر جھٹکے لگنے سے لگتا ہے اروند کیجریوال بوکھلا گئے ہیں۔
(انل نریندر)

تین سابق وزیر اعلی و بیٹا اور وزیر اعلی کی بیوی اترا کھنڈ سے چناوی میدان میں!

عام طور پر اتراکھنڈ میں عام چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کے درمیان ہی مقابلہ ہوتا آرہا ہے۔ اس بار بھی ہے لیکن چناؤ سے ٹھیک پہلے لیڈر شپ تبدیلی اور ستپال مہاراج پارٹی بدلنے سے بنے حالات سے وزیر اعلی ہریش راوت کی ساکھ اور سرکار دونوں داؤ پر لگی ہیں۔ اترا کھنڈ لوک سبھا کے لئے 7 مئی کو پولنگ ہوگی اس بار کا چناؤ 2004 اور2009 سے زیادہ دلچسپ ہے کیونکہ بھاجپا نے اپنے سابق وزرائے اعلی میجر جنرل (ریٹائرڈ) بھوون چندر کھنڈوری کو پوڑی پارلیمانی حلقے سے کوشیاری کو نینی تال سے اور ڈاکٹر رمیش پوکھریال کو ہری دوار سے چناؤ میدان میں اتارا ہے۔بھاجپا پردیش میں اپنی سیکنڈ لائن تیار کرنا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان دنوں سینئر لیڈروں کو چناؤ میدان میں اتارنے کے پیچھے ارادہ صاف ہے کہ اگر پردیش بھاجپا کے تینوں سینئر لیڈر کامیاب ہوتے ہیں تو ان تینوں کی سیدھی مداخلت پردیش کی سیاست میں کم ہوجائے گی۔ اس سے پردیش میں گروپ بندی پر لگام لگے گی۔ ریاست کی پانچ سیٹوں پر کانگریس اور بھاجپا کے امیدواروں پر ترقی کو نظرانداز کرنا اور ذات پات کو بڑھاوا دینے سمیت کئی طرح کے الزام لگائے جارہے ہیں۔ اس بار چناؤ میں ایک بڑااشوقریب ایک سال پہلے 15-16 جون کو اتراکھنڈ میں آئی قدرتی آفت سے نمٹنے میں ناکامی بھی ہے۔ کانگریس کے وزیر اعلی وجے بہوگنا کو اسی لئے کرسی چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد قدرتی آفت سے متاثرہ لوگوں کا درد کم نہیں ہوا۔ یہ چاہے پہاڑ کے ہوں یا میدانی علاقوں کے ہوں۔ لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر کانگریس کے سینئر لیڈر شپ نے وجے بہوگنا کو وزیر اعلی کی کرسی سے ہٹایا۔ تاکہ یہ پیغام جاسکے کہ قدرتی آفت کے بعد راحت رسانی میں کوتاہی برتنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ مگر ہریش راوت بھی متاثرین کی باز آبادکاری سے متعلق ٹھوس قدم نہیں اٹھا پائے جس وجہ سے ان کی پریشانی کم ہوسکے۔2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں قدرتی آفت سب سے بڑا اشو ہے اس کا جواب ووٹر دونوں کانگریس اور بھاجپا سے مانگ رہی ہے۔ اب بات کرتے ہیں کچھ اہم سیٹوں کی۔ پوڑی گڑھوال پارلیمانی سیٹ بھوون چندر کھنڈوری کے لئے نئی نہیں ہے وہ یہاں سے چار بار ایم پی رہ چکے ہیں۔ بھگت سنگھ کوشیاری نینی تال سے چناؤ لڑ رہے ہیں ، کانگریس نے 2009ء میں کامیاب رہے اپنے ایم پی کی۔سی بابا کو پھر سے میدان میں اتارا ہے۔ اگر بابا پھر کامیاب ہوتے ہیں تو ان کی ہیٹ ٹرک ہوگی۔ کوشیاری حال ہی میں راجیہ سبھاکے ممبر بنے اور پہلی بارلوک سبھا کا چناؤ لڑ رہے ہیں۔سابق وزیر اعلی ڈاکٹررمیش پوکھریال نشنک ہری دوار سے چناؤ میدان میں ہیں اور پہلی بار لوک سبھا کا چناؤ لڑ رہے ہیں۔ یہ سیٹ کانگریس کے لئے بیحد اہم ہے کیونکہ یہاں سے وزیر اعلی ہریش راوت کی اہلیہ رینوکا راوت چناؤ میدان میں ہیں۔ سال2009ء میں چناؤ میں یہیں سے ہریش راوت کامیاب ہوئے تھے۔ ہری دوار میں عام آدمی پارٹی کے ریاست کے سابق ڈی جی پی کنچن چودھری بھٹاچاریہ بھی چناؤ میدان میں اترے ہیں جبکہ بسپا سے حاجی محمد اسلام اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔وزیر اعلی کی بیوی رینوکا راوت کو یہاں سے لڑنے سے ہری دوار وی آئی پی سیٹ ہو گئی ہے جبکہ کانگریس کے امیدوار کے طور پر دوسری بار میدان میں اترے سابق وزیر اعلی وجے بہوگنا کے لڑکے ساکیت بہوگنا کے لئے بھی اس بار سخت چنوتی ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ اس چناؤ میں نہ صرف ہریش روات ان کی پارٹی کا مستقبل داؤ پر لگا ہے بلکہ ان کی سرکار کی عمر بھی16 مئی کے چناؤ نتائج پر منحصر کرے گی۔ بہرحال تین سابق وزیر اعلی، وزیر اعلی کی بیوی و سابق وزیر اعلی کا بیٹا چناؤ میدان میں ہے۔ کل ملا کر اتراکھنڈ لوک سبھا چناؤ دلچسپ بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

30 اپریل 2014

آج کا چناؤ وی آئی پی مرحلہ کہا جاسکتا ہے!

16ویں لوک سبھا کے لئے پولنگ کے ساتویں مرحلے میں ووٹ تو89 سیٹوں پر پڑرہے ہیں لیکن یہ کئی معنوں میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس مرحلے میں کانگریس صدرسونیا گاندھی، بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی، پارٹی صدر راجناتھ سنگھ،سابق پردھان لال کرشن اڈوانی، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، جنتادل (یو) کے شرد یادو، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، جیسی مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مستقبل داؤ پر ہے۔ان 89 سیٹوں میں سے سب سے زیادہ سیٹیں کانگریس کے قبضے میں ہیں۔بھاجپا کے پاس اس وقت 19 سیٹیں ہیں جن میں سے15 سیٹیں تو گجرات کی ہیں اس طرح بھاجپا کے پاس گجرات کو چھوڑ کر کل 4 سیٹیں ہیں۔ یہیں سے بھاجپا کو اچھی امید ہے اور اپنے مقررہ نشانے تک پہنچنے کے لئے یہ مرحلہ اس لحاظ سے بھاجپا کے لئے اہم ہے۔ اس مرحلے میں گجرات کی سبھی 26 سیٹوں پر ایک ساتھ پولنگ ہورہی ہے۔ جس سیٹ پر سب کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں وہ ہے ودودرہ،جہاں سے نریندر مودی میدان میں ہیں۔ یہاں ان کا مقابلہ کانگریس کے لیڈر مدھو سودن مستری سے ہے۔ اس مرحلے میں جن دیگر سیٹوں پر ووٹ پڑرہے ہیں وہ 9 ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس میں آندھرا پردیش کی17 سیٹیں بھی شامل ہیں۔یہ سبھی سیٹیں آندھر کا بٹوارہ کر بنائے گئے تلنگانہ ریاست میں آتی ہیں۔ اسی دن تلنگانہ کے لوگ اپنی نئی ریاست کے ممبران اسمبلی کو بھی چنیں گے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ سے کانگریس کو بہت امیدیں ہیں۔ اترپردیش کی14 سیٹوں پر جہاں کانپور سے بھاجپاکے لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کا سخت مقابلہ مرکزی وزیر کوئلہ سری پرکاش جیسوال سے ہے تو وہیں رائے بریلی سے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اپنی جیت کے ووٹ کے فرق کو بڑھانے کی چنوتی ہے۔ پنجاب کی سبھی13 سیٹوں پر پولنگ ہے۔ امرتسر میں کانگریس نے سابق وزیر اعلی امرندر سنگھ کو بھاجپا کے سرکردہ لیڈر ارون جیٹلی کو اتارا ہے۔ کیپٹن کی بیوی اور مرکزی وزیر پرنیت کور، محترمہ امبیکا سونی کی قسمت داؤ پر ہے۔ مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی اور فلم اداکارہ ونود کھنہ ، پریش راول کی قسمت کا فیصلہ بھی30 اپریل کو ہوگا۔ ادھر بہارمیں سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی، جنتا دل (یو) پردھان شرد یادو اور لوک جن شکتی پارٹی کے پردھان رام ولاس پاسوان کی بھی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ بہار کی ان9 سیٹوں سے ریاست کے لوگوں کا موڈ بھی پتہ چلے گا۔ نتیش کمار بنام نریندر مودی کے اثر کا بھی ٹیسٹ ہوگا اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ آر جے ڈی چیف لالو یادو کا سیاسی اثر اس ریاست میں اب بھی ہے یا نہیں۔ ہاں وہیں مغربی بنگال کی 9 سیٹوں میں شری رامپور سیٹ پر مشہور موسیقار بپی لہری کا مقابلہ ترنمول کانگریس کے کلیان بینرجی سے ہے۔ ان کے علاوہ صحافی پائنیر کے مدیر چندن مترا بھی ہاوڑہ سے چناؤ میدان میں ہیں۔ دیکھنا یہاں یہ بھی ہوگا کہ لیفٹ پارٹیوں کا رخ کیا ہوتا ہے۔ حال ہی میں سابق وزیر اعلی بدھ دیب بھٹاچاریہ بھی ہیں کیا ان کا اپنے ووٹروں کو یہ اشارہ تھا کہ آپ بھاجپا امیدوار کو ووٹ سے دے سکتے ہیں جہاں آپ کو لگے کیالیفٹ امیدوار ترنمول کانگریس کو ہرا نہیں سکتے۔ حالیہ دنوں میں ترنمول لیڈر ممتا بنرجی اور نریندر مودی کے درمیان تلخ بیان بازی کا دور چلا۔ اس کا پولنگ پر کتنا اثر پڑتا ہے یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ کل ملا کر بیشک 543 میں سے89 سیٹوں پر آج ووٹ پڑ رہے ہیں یہ سبھی کے لئے اہم ہیں جن میں کئی سیاسی سرکردہ ہستیوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔
(انل نریندر)

اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!

یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ...