Translater

17 فروری 2013

انشکا شنکر کا1’ بلین رائزنگ‘ ابھیان رنگ لایا

جب میرے پاس بھارت رتن سے سنمانت ستاروادک پنڈت روی شنکر کی بیٹی انشکا شنکر کا ایک ای میل آیا، جس میں اس نے خلاصہ کیا کے برسوں تک ان کا جنسی استحصال ہوتارہا، تو مجھے دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا۔ انشکا کا پیغام صاف تھا کہ بہت ہوچکا اب اور نہیں۔ انہوں نے مجھے’ 1 بلین رائزنگ‘ نام سے شروع کی مہم میں اپنی منظوری دینے کوکہا، جس کو میں نے بلاتاخیر منظور کرلیا۔ انشکا نے بتایا کے بچپن میں ایک ایسے شخص نے کئی برسوں تک اس سے جسمانی اور ذہنی استحصال کیا جس پر ان کے ماں باپ بیحد بھروسہ کیا کرتے تھے۔ بقول انشکا ایک عام عورت کی طرح مجھے بھی زبردستی چھیڑنے ، فقرے کسنے جیسے کئی طرح کی اذیتوں کا شکار ہونا پڑا۔ اس کا کہنا ہے کہ بچی ہونے کے سبب ان چیزوں سے وہ نمٹنا نہیں جانتی تھی۔31 سالہ ستاروادک نے آبروریزی کے بعد عورتوں کے خلاف جو آن لائن مہم ’1 بلین رائزنگ‘ چلائی،شاید انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوگا کہ وہ اتنی کامیاب ہوگی۔ راجدھانی دہلی میں عورتوں پر بڑھتے مظالم اور استحصال کے خلاف جمعرات کو ایک بار پھر سے بڑی تعداد میں عورتوں نے سڑکوں پر اتر کر ’1 بلین رائزنگ‘ مہم کی حمایت کرنے کے لئے اپنی آواز بلند کی۔ عورتیں ماتھے پر ’’بس عورتوں پر ظلم اب اور نہیں ‘‘ لکھی گلابی پٹی باندھ کر احتجاج کررہی تھیں۔ آبروریزی و تشدد کے لئے اکثر عورتوں کو چھوٹے کپڑے پہننے کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والے لوگوں کو دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر الگ الگ علاقے سے ساڑی ،کرتا پائجامہ، سوٹ شلوار، منی اسکرٹ پہنے پہنچی عورتوں کو دیکھنا چاہئے تھا،وہ کہہ رہی تھیں کہ مردوں کی ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کپڑوں کو دکھانے کے پیچھے محض ایک دلیل ہے کہ عورتیں کسی بھی طرح کے کپڑے پہنتی ہیں تب بھی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ عالمی سطح پر منعقدہ ’1 بلین رائزنگ‘ مہم چاہے ہر سال منعقد ہوتی تو لیکن اس بار وہ اپنے اصلی رنگ میں دکھائی دی۔ساؤتھ ایشیا سطح پر اس کی مہم میں رنگت اور جوش بھی دکھائی دیا۔ قریب 70 تنظیموں نے مل کر کام کیا۔ دہلی میں اسے کامیاب بنانے کے لئے پچھلے چھ مہینوں سے کام چل رہا تھا۔ 200 ملکوں میں ایک ساتھ یہ مہم چلائی گئی۔ یہ مہم 10 ہزار سے زیادہ لوگوں نے13 ہزار تنظیموں نے اور دیش بھر میں اسے کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ ’’جاگو رے دہلی جاگو‘‘ ،’بند کرو، بس کرو عورتوں پر تشدد اور نہیں‘‘، ’تشدد سے آزاد زندگی جینے کا حق ہمارا‘‘ جیسے جوش برے نعروں کے ساتھ شروع ہوئی موسیقی پرمبنی ’1 بلین رائزنگ‘ مہم میں شامل کئی چہرے چاہے ایک دوسرے سے انجان تھے لیکن سبھی کی مانگیں اور کوشش ایک تھی۔ اس مہم کے ذریعے پوری دنیا سے وہ کہنا چاہتی تھیں کہ عورتوں کو برابری اور یکسانیت کے ساتھ تشدد سے پاک زندگی جینے کا حق ہے۔ ویلینٹائن ڈے پر منعقدہ اس مہم کو جو باقی مظاہروں کی طرح صرف احتجاج کا نظریہ نہیں بنایا گیا بلکہ دنیا بھر میں عورتوں کے حق اور سکیورٹی کے ساتھ آئے لوگوں کے اتحاد اور چوکسی کے جشن کے طور پر منایا گیا۔ انشکا بین الاقوامی شہرت یافتہ ستار وادک پنڈت روی شنکر کی بیٹی ہیں۔ ان کے اس خلاصے سے بیحد اہم اور تمام آئینی پہلوؤں پر روشنی ڈالنی پڑتی ہے۔ پنڈت روی شنکر کسی غریب ناخواندہ اور ایک مشترکہ کنبے کے فرد نہیں تھے ، ان کے بیٹی ایسی خوشحال اور جدید طرز کی زندگی میں پلی بڑھی تھی جن کا ایک پاؤں بھارت میں دوسرا پاؤں بیرونی ممالک میں ہوتا ہے۔ لیکن انشکا کے اس سنسنی خیز انکشاف سے صاف ہوتا ہے کہ بچیوں کے جنسی استحصال کا ٹرینڈ کچھ خاص طرح کے سماج یا ماحول تک محدود نہیں ہے۔ یہ مبینہ اونچی سوسائٹی میں موجود ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس خلاصے سے عام تصور بھی غلط ثابت کرتا ہے کہ آرٹ اور کلچر وغیرہ سے وابستہ لوگ تشدد اور جرائم اور استحصال جیسی ذہنی بیماریوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ حالانکہ انشکا نے اس بے بھروسے شخص کی پہچان ظاہر کرنے سے پرہیز کیا ہے۔ باوجود اس کے وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ جنتا کی نظروں میں ہیروئن کا درجہ پاچکے لوگوں میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنی آپ بیتی سماج کے سامنے بیباکی سے رکھی ہے۔ جو ہمت انشکا نے دکھائی ہے امید ہے اس سے دیگر لڑکیاں بھی تلقین لیں گی اور سامنے آئیں گی۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انشکا کی اس مہم کی حمایت کریں اور عورتوں کے خلاف بڑھتے مظالم کو روکنے کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود دہلی آج بھی عورتوں کیلئے محفوظ شہر نہیں ہے اور یہ میں اکیلے نہیں کہہ رہا ہوں۔ دہلی کی وزیراعلی شیلا دیکشت نے وزیراعظم منموہن سنگھ و وزیر داخلہ سشیل کمارشندے کو خط لکھ کر شکایت کی ہے کے دہلی میں قانونی انتظام خاص کر عورتوں کے لئے سلامتی تشفی بخش نہیں ہے۔
(انل نریندر)

سہارا چیف کی پراپرٹی قرق کرنے کا معاملہ

سہارا گروپ کی مشکلیں کم ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے سخت تبصرے کے بعد شیئر بازار اور سیبی نے گروپ کی دو کمپنیوں اور گروپ کے چیف سبرت رائے اور دیگر تین سرمایہ کاروں کے بینک کھاتے اور ڈپازٹ کھاتے سیل بند کردئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سیبی نے سبرت رائے اور دیگر ترین سرمایہ کاروں کی منقولہ غیر منقولہ جائیداد بھی قرق کرلی ہے۔ سیبی نے یہ کارروائی عدلیہ کے حکم کے باوجود سرمایہ کاروں کو 24 ہزار کروڑ روپیہ نہیں لوٹانے کے معاملے میں کی ہے۔ اصل میں معاملے کچھ یوں ہیں سہارا گروپ کی دو کمپنیوں سہارا انڈیا ریئل اسٹریٹ کارپوریشن اور سہارا ہاؤسنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن پر سیبی کی بغیر منظوری سے بازار سے پیسے اکٹھا کرنے کا مقدمہ چلا۔ گروپ کی دونوں کمپنیوں نے تین کروڑ سرمایہ کاروں سے 17 ہزار500 کروڑ روپے اکٹھے کئے ہیں۔سپریم کورٹ نے15 فیصدی سود کے ساتھ سرمایہ کاروں کورقم لوٹانے کو کہا تھا اور حکم دیا تھا۔ کورٹ نے یہ رقم تین قسطوں میں دینے کوکہا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سہارا نے پرتی بھوتی اپیل ٹریبونل میں اپیل کی۔ سیٹ نے سیبی کا حکم برقرار رکھا۔اس کے خلاف سہارا نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ 1 دسمبر2012ء کو سپریم کورٹ نے سہاراگروپ کو تین قسطوں میں لوٹانے کی مہلت دی تھی۔ اس میں5120 کروڑ روپے فوراً ادا کرنے تھے۔ وہیں 10 ہزار کروڑ کی پہلی قسط اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں دینی تھی، باقی رقم فروری کے پہلے ہفتے میں لوٹانی تھی۔ سیبی نے بدھوار کو کہا کہ گروپ نے باقی دو قسطوں کی ادائیگی نہیں کی اس لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پربینک کھاتوں پر روک اور گروپ کے چیف سبرت رائے کی منقولہ غیر منقولہ جائیداد قرق کرنے کی کارروائی کرنی پڑی۔ دوسری طرف سہارا گروپ کا دعوی ہے کہ وہ سرمایہ داروں کو19400 کروڑ روپے پہلے ہی ادا کرچکا ہے۔ جہاں تک 5120 کروڑ روپے کی ادائیگی کی بات ہے اس میں 2620 کروڑ روپے ہی سرمایہ کاروں کو واپس دئے جانے ہیں۔ سیبی نے اس کارروائی کی اطلاع آر بی آئی و انفورسمنٹ محکمے کو بھیج دی ہے۔ ساتھ ہی سیبی نے حکم دیا ہے کہ سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے و دیگر تینوں سرمایہ کار اپنے شیئر کسی کو منتقل نہیں کرسکتے۔ سیبی نے سہارا گروپ کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سبرت و تین ڈائریکٹروں وندنا بھارگو، روی شنکر دوبے، اشوک رائے چودھری سمیت گروپ کی دو کمپنیوں سہارا انڈیا ریئل اسٹریٹ کارپوریشن، سہارا ہاؤسنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن کے بینک کھاتے و ڈپازٹ کھاتے منجد کردئے گئے ہیں۔ سیبی کی کارروائی کے ردعمل میں سہارا نے جاری بیان میں دوہرایا ہے کہ کمپنی کی کل دینداری 5120 کروڑ روپے سے زیادہ نہیں ہوگی اور کمپنی یہ رقم پہلے ہی سیبی کے پاس جمع کراچکی ہے۔ سہارا نے کہا سپریم کورٹ کے سیبی کے پاس قسطیں جمع کرنے سے متعلق حکم کو لیکر کمپنی نے بڑی عدالت میں ایک انترم درخواست دی ہے جس پر جلد ہی سماعت ہونی ہے۔ سہارا کا کہنا ہے کہ سیبی نے پرانے حقائق اور اعدادو شمار کی بنیاد پر کمپنی کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس نے نئے حقاق پر غور نہیں کیا۔ سیبی کا پرائیویٹ اشخاص کی پراپرٹی قرق کرنا صحیح قدم نہیں ہے۔
(انل نریندر)

16 فروری 2013

کون ہے ہیلی کاپٹر دلالی کا اصلی کواتروچی؟

کرپشن کے بہت سے الزامات سے جنتا کی توجہ ہٹانے کے لئے یوپی اے حکومت نے کیا کیا نہیں کیا لیکن گھوٹالوں اور اس سرکار کا ایسا رشتہ ہے جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اگستاویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں رشوت کے سنسنی خیز تازہ معاملے کے بعد گھوٹالوں کا جن ایک بار پھر یوپی اے سرکار کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ٹوجی اسپیکٹرم ، کامن ویلتھ گیمز، آدرش گھوٹالہ وغیرہ وغیرہ کے چلتے زبردست خفت جھیل چکی یوپی اے سرکار نے جس طریقے سے اقتصادی اصلاحات سے لیکر افضل گورو، افضل عامر قصاب کی پھانسی کے ذریعے اپنے سیاسی گراف کو اوپر لے جانے کی کوشش کی تھی اس کے بعدا یک بار پھر اسے نیچے گرنے کی نوبت آگئی ہے۔ اٹلی میں منگل کو36000 کروڑ روپے سے زیادہ ہیلی کاپٹر سودے میں رشوت کے معاملے میں وہاں کی ایک کمپنی کے اعلی افسر کی گرفتاری سے یوپی اے سرکار کے گلیاروں میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت ہوا جب کانگریس اس سال کئی ریاستوں میں اسمبلی چناؤ اور 2014ء میں عام چناؤ کی تیاری میں لگی ہوئی تھی۔ بجٹ سیشن شروع ہونے والا ہے ظاہر ہے کہ اپوزیشن کو ایک نیا اشو مل سکتا ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومت ہند محض12 ہیلی کاپٹروں کی خرید بھی ڈھنگ سے نہیں کرسکی۔ اس مشتبہ سودے سے ایک بار پھر ثابت ہورہا ہے کہ تمام بدنامی اور ڈیفنس سودوں میں غیر ضروری تاخیر کے باوجود بھارت سرکار ایسا کوئی سسٹم نہیں بنا سکی جس سے ڈیفنس سودوں میں گھوٹالے کی گنجائش سے بچا جاسکے۔ اس ہیلی کاپٹر سودے میں دلالی کے لین دین کی خبر آتے ہی جس طرح معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کے ساتھ ہی سودا منسوخ کرنے کے اشارے دئے ہیں اس سے حکومت اپنے بچاؤ کے موڈ میں آگئی ہے۔ اس سے دال میں کچھ کالا ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا پتہ اٹلی سے ہی چلا۔ اٹلی میں تبدیلی اقتدار نے اس گھوٹالے کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ بھارت میں تو شاید کبھی بھی اس کا پتہ نہیں چلتا۔ انڈین ایئرفورس کے وی وی آئی پی قافلے کے لئے 12 اگستاویسٹلینڈ 101 ہیلی کاپٹروں کا سودہ فروری2010 میں ہوا تھا۔ اس وقت اٹلی میں برلسکونی کی حکومت تھی۔ ان کی اتحادی سرکار میں شامل ساؤتھ پنتھی پارٹی پر الزام تھا کہ ہیلی کاپٹر سودے میں بڑی دلالی اس پارٹی کو ملی تھی۔ برلسکونی کی سرکار بدل گئی اور اٹلی میں ماریومونٹی کی سرکار بنی ہے۔اٹلی میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس معاملے کا انکشاف ہوا۔ فن میکینیکا کمپنی میں بڑے عہدے پر بیٹھے لورینزا بورگوگنی نامی شخص جو کے اورسی سے خار کھایا ہوا تھا اس نے ہیلی کاپٹر سودے میں دلالی کھائے جانے کی پول کھول دی۔ اٹلی کے باشندے اور بھارت میں ڈیفنس بازار میں گہری پکڑ رکھنے والے کارلو گیریسا اور ان کے سوئٹزرلینڈ باشندے بزنس پارٹنر گویڈوہشکے کے نام خاص طور پر اس 362 کروڑ کی دلالی میں اٹلی کے میڈیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کا کہنا ہے کارلو بھارت کے سابق ایئر چیف ایس پی تیاگی سے ملا تھا اور ان کی ملاقات ایئر چیف مارشل تیاگی کے چچیرے بھائی کے گھر ہوئی تھی۔ حالانکہ اس معاملے میں سابق ایئر چیف تیاگی کا کہنا ہے کہ وہ گیریسا سے ملے تو سودہ ہوچکا تھا۔ انہوں نے کسی طرح کی سودے بازی سے انکار کیا۔ بھارت میں بحث کا موضوع یہ ہے کہ 3600 کروڑ روپے کی اس دلالی سے بطور کمیشن 300 کروڑ روپے بنتے ہیں وہ کسے ملا؟ کون ہے بھارت کا مسٹر ٹین پرسنٹ؟ شک کی سوئی اقتدار کے گلیاروں میں کئی ہستیوں کی طرف مرکوز ہورہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ایک متنازعہ سیاسی ہستی مسٹر ٹین پرسنٹ ہیں۔ کچھ طاقتور لوگوں سے اس کی قربت ہے۔ فی الحال قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں۔ ممکن ہے اٹلی سے ہی اس کا راز کھلے۔ مسلسل برے دور سے گذر رہی کانگریس کے لئے یہ ایک نیا درد سر بن گیا ہے کیونکہ معاملہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے مائیکے اٹلی سے جڑا ہے اس لئے پارٹی زبردست صدمے میں آگئی ہے۔ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کو اس گھوٹالے میں بوفورس دلالی گھپلے کا بھوت دکھائی دے رہا ہے۔جس میں ان کے مقبول وزیراعظم سورگیہ راجیو گاندھی کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا۔ معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ایک طرف جہاں وزیر دفاع نہ آناً فاناً میں سی بی آئی جانچ بٹھانے اور قصورواروں کو کسی بھی حال میں نہ بخشنے کی بات کہی ہے، وہیں کانگریس پارٹی نے بھی دیش کو بھروسہ دلایا ہے کہ اس جانچ کو لمبا نہیں لٹکایا جائے گا بلکہ ایک یقینی میعاد میں ہی گھوٹالے بازوں کا پردہ فاش کردیا جائے گا۔ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ دیکھیں گھوٹالے میں آگے کیا کیا نکلتا ہے۔
(انل نریندر)

نارتھ کوریا کی دادا گری نے بڑھائی امریکہ، جاپان اور بھارت کی تشویش

امریکہ کی وارننگ کوٹھینگا دکھاتے ہوئے نارتھ کوریا نے منگل کو اب تک کا اپنا سب سے بڑا طاقتور نیوکلیائی تجربہ کیا ہے۔ کمیونسٹ دیش نے زیر زمین محفوظ اور بالکل صحیح طریقے سے یہ تجربہ کامیاب ہونے کا دعوی کیا ہے۔ سائنسدانوں نے زمین کے اندر ایک جدید نیوکلیائی آلے سے دھماکہ کیا۔ نارتھ کوریائی نیوز ایجنسی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قریب تین گھنٹے پہلے دیش کے پونڈچیری نیوکلیائی سینٹر کے آس پاس زیر زمین جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔ یہ جگہ چین سرحد کے قریب ہے۔ تیوچانگ نے پہلا نیوکلیائی تجربہ سال2006ء میں اور دوسرا2009ء میں کیا تھا۔ جس کے بعد اقوام متحدہ نے اس پر کئی پابندیاں لگائی تھیں۔ یہ نیوکلیائی تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی صدر براک اوبامہ نے حال ہی میں اپنی دوسری میعاد کا آغاز کیا۔ تجربے پر اوبامہ کا ردعمل کافی سخت تھا۔ ان کا کہنا ہے یہ انتہائی اکساوے کی کارروائی ہے۔ اس سے علاقائی خطے کو چوٹ پہنچتی ہے۔ ایسا قدم نارتھ کوریا کو زیادہ محفوظ نہیں بناتا۔ عالمی برادری کے فیصلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ واشنگٹن اپنے اور اتحادیوں کی حفاظت کے لئے ضرور قدم اٹھاتا رہے گا۔ تجربے پر تشویش ظاہرکرتے ہوئے بھارت نے کہا نارتھ کوریا نے اپنے عالمی وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ نارتھ کوریا کو ایسی کارروائی سے دور رہنا چاہئے جس کا خطے میں امن پر برا اثر پڑے لیکن نارتھ کوریا کو دنیا کی پرواہ نہیں ہے۔ اس نے کہا یہ تو ہمارا پہلاتجربہ تھا۔ امریکہ دشمن والی پالیسی جاری رکھتا ہے تو ہم دوسرے اور تیسرے اور زیادہ طاقتور قدم اٹھائیں گے۔ تجربہ اپنی حفاظت کے لئے کیا گیا ہے اور کوئی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اس بات جس نوعیت کا بم تجربہ کیا گیا ہے اس کے بارے میں مانا جارہا ہے کہ کوریا میزائل میں بم لگانے کا اہل ہوچکا ہے۔ ابھی دو مہینے پہلے ہی نارتھ کوریا نے ایسا میزائل تجربہ کیا تھا جس میں نیوکلیائی بم لگایاجاسکے۔ حالانکہ وہ کتنی بھی ہٹ دھرمی کا ثبوت دے لیکن وہ یہ جانتا ہے کہ اس کے بم ساؤتھ کوریا، جاپان، امریکہ کی طاقت کے مقابلے کچھ بھی نہیں ہیں۔ البتہ ان دیشوں سے ٹکرانا اس کا مقصد بھی نہیں ہے ۔اس کا مقصد تو ایک ایسا ہتھیار حاصل کرنا ہے جس کے چلتے کوئی دوسرا دیش نارتھ کوریا کی ڈکٹیٹر شپ سے ٹکرانے سے بچے۔ نارتھ کوریا کی حکومت پوری دنیا میں سب سے عجوبی ہے۔ وہاں ایسی حکومت ہے جو خود کو تو کہتی ہے سماجوادی لیکن اس کے باوجود وہاں کئی پیڑھیوں سے ایک ہی خاندان کا راج ہے۔ پورا سرکاری سسٹم اس خاندان کے سربراہ یہیلاچنڈن اور مایورلوسی پر ٹکا ہے۔امریکہ کی مشکل یہ ہے کہ اس کی کوششوں پر پانی پھر رہا ہے۔ ادھر نارتھ کوریا تو ادھر ایران ہی امریکہ کو نیچا دکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ چین نے نارتھ کوریا کے تازہ تجربے کی مذمت کی ہے لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ نارتھ کوریا اگر یہاں تک پہنچ گیا تو وہ چین کی مدد سے ہی پہنچا ہے۔ بھارت کے لئے یہ تجربہ اس لئے بھی بے چینی پیدا کرنے والا ہے کیونکہ نارتھ کوریا اپنی میزائلیں پڑوسی پاکستان کو دیتا ہے اور پاکستان کا ایٹمی ذخیرہ کافی حد تک نارتھ کوریا کی ہی دین ہے۔
(انل نریندر)

15 فروری 2013

کانگریس کو امکانی فضیحت سے بچانے کیلئے کورین استعفیٰ دے دیں

راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین اور سینئر کانگریسی لیڈر پروفیسر پی۔ جے کورین آج کچھ غلط اسباب کے سبب سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ ان کا نام ایک آبروریزی معاملے سے جڑ رہا ہے۔محترم پر الزام لگایا جارہا ہے کہ آپ سوریہ نیلی آبروریزی کانڈ میں شامل ہیں۔ پہلے بتادیں کے معاملہ آخر ہے کیا؟ رپورٹ کے مطابق 16 جنوری 1996ء کو سوریہ نیلی نے راجو نام کے ایک لڑکے کے ساتھ اناڑیالی سے کوتھامنگلم جانے والی بس پکڑی تھی۔ بس میں ایک انجان خاتون اوشا سے اس کی ملاقات ہوئی، جو اس پر پہلے سے نظر رکھے ہوئے تھی۔ کوتھامنگلم تک پہنچتے پہنچتے رات کے 8 بجکر40 منٹ ہوگئے تھے۔ اسی درمیان راجو بس سے غائب ہوگیا۔ جانچ رپورٹ کے مطابق یہ سب ایک سازش کا حصہ تھا۔ اتنی رات گئے سوریہ نیلی اکیلی گھر نہیں لوٹ سکتی تھی اس لئے اپنے پوٹائم میں مقیم ایک رشتے دار کے گھر جانے کا ارادہ بنا لیا۔ لیکن جب وہ رشتے دار کے گھر پہنچی تو گھر پر کوئی موجود نہیں تھا۔ تبھی وہاں اوشا آگئی اور سوریہ نیلی کو اس کے نام سے بلایا۔ اوشا نے سوریہ نیلی کو شری کمار نام کے ایک شخص سے ملوایا اور کہا یہ تمہیں منڈاکائم تک چھوڑدیں گے۔ شری کمار سوریہ نیلی کو ایک لانج میں لیکر گیا۔مبینہ طور پر اس نے وہاں اس سے آبروریزی کی۔ بعد میں شری کمار کی پہچان وکیل ایس ۔ایس دھرم راجن کے نام سے ہوئی۔ سوریہ نیلی کو17 جنوری کو بس سے دھرم راجن کوچی لے گیا ، جہاں سے بعد میں اسے کیٹل سے الگ الگ علاقوں میں بھیجا گیا۔ اس دوران اس کے ساتھ 40 لوگوں نے آبروریزی کی اور یہ سلسلہ 40 دنوں تک چلتا رہا۔ اب بات آتی ہے پروفیسر کورین کے ملوث ہونے کی ۔ سال1996ء میں کورین مرکزی وزیر مملکت ہوا کرتے تھے۔ 26 مارچ 1996 ء کو سوریہ نیلی نے پی ۔جے کورین کی تصویر دیکھی اور اسے آبرویزوں میں سے ایک بتایا۔ سوریہ نیلی کے مطابق19 فروری کو کماری گیسٹ ہاؤس میں کورین نے اس سے آبروریزی کی۔ 15 مارچ1996ء کو سوریہ نیلی کے خاندان نے اڈوکی کے مجسٹریٹ کورٹ میں ذاتی پٹیشن دائرکی۔ عدالت نے کورین کو سمن جاری کیا لیکن کورین ہائی کورٹ پہنچ گئے اور مجسٹریٹ کے حکم کو خارج کردیا گیا۔ کیرل کی سی پی ایم سرکار نے کورین کو راحت دینے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی۔ 17 دسمبر2007 ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو محفوظ رکھا۔ کورین شروع سے اس الزام سے انکارکرتے رہے اور اس پورے واقعے کو ان کے خلاف ایک سیاسی سازش بتا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں کورین نے خط کے ذریعے نائب صدر اور یوپی اے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو مطلع کیا ہے۔ پہلے انہوں نے کانگریس صدر سے ملنا چاہا لیکن وقت نہ ملنے کے چلتے خط لکھنا پڑا۔ عدالت کے سامنے جانے سے پہلے انہوں نے راجیہ سبھا اور کانگریس صدر کو پوزیشن واضح کرنا مناسب سمجھا۔ ایسا کرنے سے اپنے خلاف رچی جارہی سازش کے تحت17 سال پرانے معاملے کو کھولے جانے کی مہم چلائی جارہی ہے اور وہ کانگریس صدر سے مل کر اس کو روک سکیں۔ کورین کے قسمت سے ایسا ہوتا نہیں لگتا اس لئے کیرل اسمبلی کے سیاسی گلیاروں سے نکل کر اب معاملہ دوبارہ سماعت کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ اس پوری کارروائی کے دوران ایوان سے سڑک تک اور سیاسی پارٹیوں سے تنظیم تک سبھی کی اس معاملے میں رائے صاف ہے۔ ایک معاملے کی دوبارہ منصفانہ جانچ ہو اور دوسری یہ کے بے داغ ہونے تک کورین اخلاقی طور پر راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ یہ اکثریت کی رائے ہے اس لئے متاثرہ اپنے بیان پر قائم ہے اور اس معاملے میں محض ایک ملزم ضمانت پر چھوٹتے ہی فرار ہے۔ وکیل نے ایک نامعلوم جگہ سے چینل کو دئے گئے انٹرویو میں کورین کو داغی ٹھہرایا ہے۔ کانگریس صدر اور پارٹی کی مصیبت یہ ہے کہ ایک طرف تو دیش کا آبروریزوں کے تئیں ماحول بہت گرم ہے اور دوسرا بجٹ اجلاس شروع ہونے والا ہے۔ کورین کو پارٹی کی خاطر خود استعفیٰ دے دینا چاہئے اور پارٹی کو ہونے والی فضیحت سے بچانا چاہئے۔ داغ صاف ہوتے ہی لوٹ سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

یٰسین ملک ،حافظ سعید ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے

کشمیرکے مشہور علیحدگی پسند لیڈر یٰسین ملک کا تازہ دورۂ پاکستان کو لیکر ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ہندوستانی پاسپورٹ سے یٰسین ملک ان دنوں اسلام آباد گئے ہوئے۔ انہوں نے وہاں ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ آتنکی سرغنہ حافظ سعید کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر شرکت کی۔ پارلیمنٹ پر حملے کے قصوروار افضل گورو کو پھانسی دئے جانے کے بعد اسلام آباد میں ہوئی نماز جنازہ میں جماعت الدعوی کے سرغنہ اور ممبئی حملے سمیت کئی دہشت گردانہ وارداتوں کے بنیادی سازش کنندہ حافظ سعید کے ساتھ جے کے ایل ایف نیتا یٰسین ملک بھی موجود تھے۔ پاکستان میں پھانسی کی مخالفت میں 24 گھنٹے کے اندر درجن بھر پروگرام ہوئے۔ ان میں سے8 میں ملک کو سعید کے ساتھ دیکھا گیا۔ پچھلی جمعہ کی رات جب وزارت داخلہ کی ہدایت پر جموں و کشمیر پولیس پارٹی علیحدگی پسند لیڈروں کو نظر بند کررہی تھی تب بھی پاکستان میں ملک حافظ سعید کے رابطے میں تھا۔ ذرائع کے مطابق سنیچر کی صبح افضل کو پھانسی دینے کے وقت سے لیکر ایتوار کو دیر رات تک حافظ اوریٰسین کی کئی ملاقاتوں کے بارے میں خفیہ محکمے نے نگرانی رکھی ہے۔ قابل غور ہے ملک سرکاری طور پر کنبہ جاتی معاملوں سے ذاتی دورہ پر اسلام آباد گئے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس 23 جنوری سے26 فروری تک کا ویزا ہے۔ وزارت داخلہ کو اندیشہ ہے کہ اگرپاسپورٹ ابھی منسوخ کیا گیا تو اسی بنیاد پر ملک پاکستان میں ہی رک سکتا ہے۔ امکانی حکمت عملی صاف ہے۔بھارت میں علیحدگی پسند اور پاکستان میں آتنکی سرغنہ افضل گورو کی پھانسی کو انسانی حقوق کا اشو بنا سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں یٰسین ملک کی بھوک ہڑتال ، حافظ سعید کے ساتھ مشترکہ اسٹیج شیئر کرنا اور بھارت میں علیحدگی پسندوں کے سر یہ سب اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ علیحدگی پسندوں کے اس بیان سے متفق نہیں ہیں کہ گورو کو منصفانہ انصاف نہیں ملا ہے۔ سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعد ہائی کورٹ کی ڈبل بینچ کی مہر اور پھر سپریم کورٹ میں ہر پہلو کی سماعت ۔ 2006 ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 6 سال تک گورو کی پھانسی ٹلتے رہنا، یہ سب فیئر نیس دکھانے کے لئے کافی ہے۔دیش کی سب سے بڑی عدالت اور صدر کے یہاں طویل عرصے سے لٹکی رحم کی عرضی پر غور کے بعد پھانسی دینا پوری طرح سے قانونی ہے۔ دنیا کی نظرمیں بھی اس پر کوئی اشو بنتا نہیں۔ اشو زبردستی بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ اب پھانسی سے پہلے خاندان کو مطلع نہ کرنا، آخری بار ملنے کو نہ بلانا اور لاش نہ دینا وغیرہ وغیرہ اشو بنائے جارہے ہیں۔ جو لوگ اسے زبردستی اشو بنانے کی کوشش کررہے ہیں ان کو بھی فیئر ٹرائل پر کچھ بھی نہیں کہنا۔ پھانسی کے بعد کے اشو کو اچھالنا اور اسکی امکانی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ افضل گورو کی پھانسی کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔ اصل مقصد ان اشوز کے ذریعے کشمیر تنازعے کو گرماتے رہنا ہے۔ افضل ایک ہندوستانی شہری تھا ،جس پر بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں مقدمہ چلا اور سزا ملی۔ رہی بات انسانی حقوق کی تو جو لوگ اس حملے میں شہید ہوئے ہیں ان کے اور ان کے کنبے والوں کے بھی انسانی حقوق تھے۔ یٰسین ملک کے تازہ رویئے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ یہ سبھی علیحدگی پسند پاکستان کے آتنکی سرغناؤں سے ملے ہوئے ہیں اور ان کی زبان بھی بھارت مخالف ہے۔
(انل نریندر)

14 فروری 2013

اگر حکومت ، پولیس، انتظامیہ بے قصور تو قصوروار کون سے وزیر ہیں؟

دنیا میں کنبھ جیسا کوئی بڑا دھارمک اجتماع نہیں ہوتا جہاں ایک جگہ پر اتنی بڑی تعداد میں عوامی سیلاب اکٹھا ہوتا ہے۔ اس لئے اسے اپنے آپ میں ایک نرالہ سماگم مانا جاتا ہے۔ مونی اماوسیہ پر 3 کروڑ شردھالوؤں نے سنگم میں آستھا کی ڈبکی لگائی۔ ظاہر ہے کہ ایسے انعقاد کو پرامن طور سے مکمل کرانا ایک بڑا چیلنج تو ہے ہی ساتھ ہی یہ سرکار اور میلہ انتظامیہ اور ریلوے کے لئے بھی یہ ثابت کرنے کا موقعہ بھی ہے کہ وہ یہ کردکھائیں کے وہ اس بڑے میلے کا ٹھیک طریقے سے انتظام کرنے کے اہل ہیں۔ ایتوار کو الہ آباد ریلوے اسٹیشن پر مچی بگدڑ اور اس میں جان گنوانے والوں کی تعداد نے صاف کردیا کے کنبھ جیسے بڑے اجتماع کے موقعے پراکٹھی ہونے والی بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے جس طرح سے سسٹم مینجمنٹ طریقے کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کہیں نہ کہیں خامی ضرور جھلکتی تھی۔ ریلوے شہری انتظامیہ اور میلہ انتظامیہ کے درمیان کوئی ایسا تال میل نہیں نظر آیا جس سے بھاری بھیڑ کے آنے جانے کولیکر کوئی ٹھوس فیصلہ لیا جاسکے جبکہ اس بارے میں ماضی میں تمام دعوے کئے گئے تھے ۔ سوال ہے کہ کیا کنبھ جیسے بڑے دھارمک اجتماع کو لیکر ریلوے کے پاس کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا؟ یہ بات تو طے تھی کہ مونی اماوسیہ جیسے خاص موقعے پر عام طور پر زیادہ بھیڑ اکٹھی ہوگی۔ یہ بھی صاف تھا کہ لوگ دور دور سے آئیں گے۔ ٹرین جیسے وسائل سے سب سے زیادہ لوگ آئیں گے۔ پھر بھی اس طرح کی افراتفری کیوں مچی؟ نئی دہلی اور دوسرے کچھ اسٹیشنوں پر زیادہ بھیڑ جمع ہونے کے سبب پہلے بھی اس طرح کے حادثات ہوئے ہیں تب ریلوے نے انہیں روکنے کے لئے کئی طرح کے منصوبے بنائے تھے۔ الہ آباد میں ان کا استعمال کیوں نہیں ہوا؟ اگر میلہ انتظامیہ پولیس اور ریلوے پولیس کے درمیان تال میل ہوتا تو شاید ریلوے اسٹیشن پر اتنے سارے لوگ ایک ساتھ نہیں پہنچتے۔ بھیڑ کو ایک جگہ جمع ہونے کوکہا جاسکتا تھا۔ اصل میں کنبھ زون میں سسٹم سے زیادہ مسئلہ 2 سے3 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دینا ہی خطرے کی گھنٹی تھی۔ ضلع انتظامیہ کو چاہئے تھا وہ شہر کے اندر ہی اس بھیڑ کو داخل نہ ہونے دیتی۔ سرحد اضلاع پرتاپ گڑھ، جونپور، چترپور، فتح پور، کوشامبی میں بھی بھیڑ کو پہلے ہی سے روکا جاتا اور تعداد کے مطابق پہلے شہر میں داخل ہونے کی اجازت ملتی بعد میں میلہ زون میں لیکن ریاستی حکومت نے ایسی کوئی دوررس حکمت عملی نہیں بنائی۔ جتنے مسافر آئے سبھی کو کنبھ زون میں جانے کی اجازت دے دی گئی اور ٹھیک ٹھاک میلہ زون سے نکل کر اپنی ذمہ داری سے نجات پالی۔ میلہ زون سے نکلنے کے بعد تیرتھ یاتری سیدھے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے جبکہ اسٹیشن پر اتنے لوگوں کے جمع ہونے کی سہولت ہی نہیں تھی۔ اگر ریلوے انتظامیہ کو سمجھ ہوتی تو سول لائن زون اور دیگر زون میں مسافر ریلوے جنکشن کے دونوں طرف باڑہ بنا کر ٹھہرائے جاتے۔ ضرورت کے مطابق ریلوے اسٹیشن پر جانے کے لئے مسافروں کو وہاں سے بھیجا جاتا۔ لیکن اس کام کے لئے پولیس کا تعاون بھی ضروری ہوتا ہے۔ نارتھ سینٹرل ریلوے کے افسران کا کہنا ہے ضلع انتظامیہ سے پولیس منگائی گئی لیکن انہوں نے منع کردیا۔ کیونکہ میلے میں انتظام کرنا تھا اور سارا ذمہ ریلوے انتظامیہ پر تھونپ دیا گیا۔ ریلوے پولیس کا عام جنتا خاص کر تیرتھ یاتریوں سے جیسا برتاؤ ہونا چاہئے تھا اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ دراصل ریلوے پولیس کو نہ تو ایسا بتایا گیا اور نہ ہی بھیڑ کو کیسے کنٹرول کریں اس کی تربیت دی گئی۔ اس لئے بھیڑ بڑھتے ہی ریلوے پولیس بد حواس ہوگئی اور جیسے ہی اسٹیشن پر ٹرین آنے کا اعلان ہوا اور فٹ اوور برج پر دونوں طرف سے لوگوں کا ریلا آگیا۔ ریلوے پولیس نے سوجھ بوجھ سے کام لینے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج کردیا ۔ اس کے بعد جو ہونا تھا ہوا۔ سب سے بڑی حیرانی کی بات یہ ہے کہ نارتھ سینٹرل ریلوے نے اور نہ ہی الہ آباد زون ریلوے اسٹیشن پر کسی طرح کی ایمرجنسی حکمت عملی بنائی گئی اگر حادثہ ہو تو اس سے کیسے نمٹیں اور متاثروں کو کیسے ہسپتال پہنچانے کا انتظام ہو اس کے بارے میں پہلے سے سوچا جاتا۔ یہاں تو کوئی عارضی ہسپتال تھا اور نہ ہی ریلوے ہسپتال کی ایمبولنس کی تعیناتی۔ ورادات کے دو گھنٹے بعد ایمبولنس کا آنا اور اسٹریچر کی کمی نے مسافروں کو کپڑوں میں اٹھاکر ہسپتال پہنچایا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کے ریلوے انتظامیہ نے بیحد لاپروائی سے میلے کا انتظام کیا تھا جس کا نتیجہ بے قصور مسافروں کو بھگتنا پڑا۔ الہ آباد ریلوے اسٹیشن پر حادثہ کسی ایک وجہ سے تو نہیں ہوا۔یہاں لاپروائی کی کئی حدیں پارہوئی ہیں وہ ساری باتیں سامنے آنی چاہئیں تاکہ کوئی بنیادی تبدیلی لائی جاسکے۔

 (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...