Translater

30 نومبر 2011

خوردہ میں ایف ڈی آئی کا فیصلہ سرکار کو ٹال دینا چاہئے



Published On 30th November 2011
انل نریندر
خوردہ بازار میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی منظوری کا اشو منموہن سنگھ سرکار کے لئے بڑا سیاسی درد سر بن گیا ہے۔ پارلیمنٹ سے لیکر سڑکوں تک حکومت کوایف ڈی آئی کے معاملے پر سخت اختلاف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوپی اے سرکار کے ملٹی برانڈ ریٹیل میں 51 فیصدی اور سنگل برانڈ ریٹیل میں 100 فیصدی کی اجازت دیکر کیبنٹ نے ایسی مصیبت مول لے لی ہے کہ کانگریس کے مخالفین تو ایک طرف سرکار کی کچھ اتحادی پارٹیاں بھی اس کے خلاف منظم ہوگئی ہیں۔ ہمیں تو یہ سمجھ میں نہیں آیا ایسے وقت میں جب یہ حکومت مہنگائی، بلیک منی اور بیرونی ممالک میں جمع پیسے کو واپس لانے ، جن لوک پال کے مسئلے سے گھری ہوئی تھی اسے بھی اسی وقت یہ ایف ڈی آئی کا مسئلہ لانا تھا؟ حکومت کی ٹائمنگ پر حیرانی ہورہی ہے۔ پہلے کرپشن، گھوٹالوں، مہنگائی کے مورچے پر یوپی اے سرکار کی ناکامیوں کا اثر اس کی رہنمائی کررہی کانگریس کی صحت پر بھی پڑنے لگا ہے۔ سرکار کے فیصلوں کے چلتے ایک کے بعد ایک نئی مشکل پیدا ہونے سے کانگریس پارٹی کے چہرے پر بھی بل پڑنے لگا ہے۔ پارٹی کے لئے سب سے بڑی پریشانی اگلے سال پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہیں۔ پنجاب اور جھارکھنڈ میں تو اگلے دو تین مہینے میں چناؤ ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد اترپردیش جیسے پردیش کے ملک کے سامنے سب سے بڑی ریاست کا چناؤ ہے۔ جس میں پارٹی کی ہار جیت پر سکریٹری جنرل راہل گاندھی کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر اعظم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ بغیر تیاری کے ہوم ورک کئے اتنے بڑے قدم کو اٹھایا جائے؟ اس لئے تعجب فیصلے پر نہیں بلکہ اس فیصلے کی ٹائمنگ پر ہے کہ مخالفین کی بارش کے بیچ سرکار نے ریٹیل کی پتنگ اڑانے کا جو خطرہ اٹھایا ہے ۔ بھارت کا منظم اور غیر منظم خوردہ کاروبار یقیناًبہت بڑا ہے۔ 2008-09 میں کل خوردہ بازار 17594 ارب روپے کا تھا۔2004-05 کے بعد سے اوسطاً 12 فیصدی سالانہ بڑھ رہا ہے۔ 2020ء تک 53517 ارب روپے کا ہونے کا امکان ہے۔ نبارڈ کی رپورٹ بتاتی ہے منظم ریٹیل قریب855 ارب روپے کا ہے۔ اس میں 200 فٹ کے چھوٹے اسٹور سے لیکر 25 ہزار فٹ تک کے ملٹی برانڈ ہائپر مارکیٹ(بگ بازار، اسپنسر، ایزی ڈے، ریلائنس ) وغیرہ آتے ہیں۔ خوردہ کاروبار میں تیزی سے پیداوار کے باوجود ریٹیل اس اربوں کے کاروبار میں پچھلی ایک دہائی میں صرف پانچ فیصدی حصہ لے پایا ہے۔ مگر اس پانچ فیصدی حصے نے قریب ایک کروڑ روزگار پیدا کئے ہیں جو2020ء تک بڑھ کر1.84 کروڑ ہوجائیں گے۔ خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کمپنیوں کا خوف پرانا ہے۔ چھوٹے ملکوں میں چیزکوم، والمورٹ، ٹرانسکو وغیرہ جارحانہ طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ جیسے ریٹیل کے بڑے دوکانداروں کے اثر کی کہانیوں سے یہ ڈر اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ منظم ریٹیل اگر صارفین کی سہولت اور بے کاروں کو روزگار کے پھول دیتا ہے تو بدلے میں غیر منظم اور چھوٹے تاجروں کے کاروبار کو کانٹوں میں گھیر لیتا ہے۔ بھارت کے معاملے میں اس خطرے کو کچھ حقائق کے تحت پرکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں کل ریٹیل کا قریب 61 فیصدی حصہ غذائی اجناس(اناج، دال، سبزی، چائے، کافی، انڈا، چکن، مسالے) خوردہ کاروبار کا حصہ ہیں۔ یہ قریب11 ہزار ارب روپے کا بیٹھتا ہے۔ اس کاروبار پر غیر منظم سیکٹر کا راج ہے۔ ریٹیل کو لیکر صارفین کے برتاؤ کو نبارڈ کے ایک تازہ سروے میں قریب سے پکڑا گیا ہے۔ دیش کے 23 شہروں میں مختلف عمر و نوجوان صارفین کے درمیان ہوا یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ میٹرو شہروں میں قریب 68 فیصدی اناج، دال، مسالے اور 80 سے90 فیصدی دال، سبزیاں، دودھ، گوشت، انڈے وغیرہ چھوٹی دوکانوں سے خریدے جاتے ہیں۔ دوسرے درجے کے شہروں میں یہ 79 فیصدی اور 92 سے98 فیصدی (پھل، سبزی ،دودھ )وغیرہ کے درمیان ہے یعنی ریلائنس، بگ بازار، اسپنسر، ای ڈی جے جیسے بڑی کمپنیوں غذائی اجناس کے معاملے میں صارفین کا دل نہیں جیت پائیں۔ غذائی اجناس کا کل کاروبار میں منظم ریٹیل دو فیصدی سے بھی کم ہے۔ نبارڈ کے سروے کے مطابق غیر منظم ڈیلر صارفین کے گھر سے اوسطاً280 میٹر کی دوری پر واقع ہیں جبکہ منظم سیکٹر کی دکانوں کی دوری اوسطاً ڈیڑھ کلو میٹر ہے۔منظم خوردہ سے مہنگائی گھٹے گی ایسا نہیں لگتا۔ بیشک کچھ ملکوں میں ایسا ہوا ہو لیکن ہمیں نہیں لگتا بھارت میں اس کا مہنگائی پر کوئی خاص اثر پڑنے والا ہے۔ زیادہ تر خوردہ سامان کی خرید مقامی منڈیوں ، تھوک تاجروں، ایجنٹوں کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور یہاں قیمتیں کم کرنے کی خاص گنجائش نہیں ہوتی۔ اس لئے غذائی اجناس کے معاملے میں منظم و غیر منظم سیکٹر کی قیمتوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارتیہ صارفین کا 80 فیصدی استعمال خرچ اور اس خرچ پر بڑھتی مہنگائی کو ریٹیل انقلاب سے کوئی مدد نہیں ملنے والی ہے۔ کسانوں کو بھی اس کا کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوا کیونکہ اسٹور اور سپلائی کا ڈھانچہ نہیں ہے۔
دیش کے درمیانے اور چھوٹے شہروں میں ریڑھی، ٹھیلہ لگانے، پھل سبزی بیچنے والے چھوٹے دوکاندار اور کسان اپنے مستقبل کو لیکر اگر فکر مند ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے بھارت کے خوردہ کاروبار سے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کو روزگار ملتا ہے ۔ اگر ایک خاندان میں پانچ افراد کو بھی بنیاد مانا جائے تو 18 کروڑ لوگ اس خوردہ کاروبار پر منحصر ہیں۔ سرکار کیلئے ان کا متبادل سسٹم ایک بہت بڑا سوال ہے۔ ان سوالوں کے باوجود منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار اپنے فیصلے پر اٹل ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کے اندر اور باہر تلخ مخالفت کے باوجود وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر کانگریس کور گروپ کی میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ سرکار ایف ڈی آئی کے کیبنٹ کے فیصلے واپس نہیں لے گی۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی اس میٹنگ میں سونیا گاندھی، منموہن سنگھ، پرنب مکھرجی، آنند شرما، احمد پٹیل موجود تھے۔ سیاسی مخالفت کے چلتے ریٹیل میں غیر ملکی دوکانیں کھولنا آسان نظر نہیں آرہا ہے۔ مغربی بنگال ، یوپی کے بعد تاملناڈوکے ذریعے غیر ملکی دوکانوں کی اجازت نہ دینے کے اعلان سے مخالف ریاستوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔ جن ریاستوں نے ایف ڈی آئی کی کھل کر مخالفت کی ان میں خاص ہیں اترپردیش، مدھیہ پردیش،گجرات، کرناٹک، تاملناڈو، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ وغیرہ۔ بھاجپا، انا ڈی ایم کے، ڈی ایم کے، لیفٹ پارٹی، سماج وادی پارٹی و ترنمول کانگریس سبھی اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ایف ڈی آئی کے مسئلے کو اپنے وقار کا سوال نہ بنائے اور اپنے فیصلے کو ٹال دے۔ ابھی اس مسلے پر بحث بہت ضروری ہے۔ اس کے فائدے نقصان کا صحیح تجزیہ ہونا چاہئے تبھی یہ قابل قبول ہوگا۔ صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں پورے دیش میں اس مسئلے پر اتفاق رائے ہونا  ضروری ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, FDI in Retail, Manmohan Singh, Pranab Mukherjee, Rahul Gandhi, Vir Arjun

یوپی میں چھڑا راہل اور مایاوتی کے درمیان مہا بھارت



Published On 30th November 2011
انل نریندر
کانگریس کے نوجوان جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے اترپردیش میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیا لگتا ہے۔ تبھی تو وہ اپنی زبان پر کنٹرول کھوچکے ہیں۔ کشی نگر میں جس زبان میں راہل گاندھی نے بہوجن سماج پارٹی پر حملہ کیا وہ زبان راہل جیسے مہذب ،سمجھدار شخص کو زیب نہیں دیتی۔ پتہ نہیں وہ کس کے کہنے پر اس طرح کی زبان بول رہے ہیں؟ کشی نگر میں پردیش کے پانچ روزہ دورہ کے آخری دن سنیچر کو ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے اترپردیش میں حکمراں بہوجن سماج پارٹی کی سرکار پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ہاتھی گھاس کھاتا ہے لیکن لکھنؤ کا ہاتھی پیسہ کھا رہا ہے۔ راہل نے کہا مایاوتی نے لکھنؤ میں جادو کردیا ہے۔ عام طور پر ہاتھی گھاس کھاتا ہے لیکن لکھنؤ کا ہاتھی پیسے کھا رہا ہے۔ یہ پیسہ دہلی سرکار کا نہیں لکھنؤ سرکار کا بھی نہیں ہے ، یہ پیسہ غریبوں کا ہے، آپ سب کا ہے۔ راہل نے پسماندگی کے لئے 20 سال سے اقتدار میں ہی غیر کانگریسی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کرپشن اور پچھڑی پن کا الزام اپنے آپ میں صحیح ہوسکتا ہے لیکن دگوجے سنگھ کی زبان بولنا راہل گاندھی کو زیب نہیں دیتا۔ راہل کے الزامات کا بہن جی نے کرارا جواب دیا ہے۔ ایتوار کو لکھنؤ میں بولتے ہوئے انہوں نے راہل گاندھی کو نشانے پر لیا۔ ان پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ بسپا چیف نے کہا جس پارٹی نے40 سال کے عہد میں ریاست کا بھلا نہیں کیا وہ پانچ سال یا دس سال میں ریاست کی تصویر کیسے بدل سکتی ہے؟ انہوں نے کہا اگر کانگریس کی سرکار بنتی ہے تو پانچ سال میں ریاست کو ملک کی نمبر ون ریاست بنادیں گے۔ کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کانگریس پردیش میں اپنی قابل رحم حالت سے اتنا گھبرا گئی ہے کہ اس کے نیتاؤں اور اس کے یووراج راہل کو دہلی میں پارلیمنٹ چھوڑ کر یہاں آکر قسم قسم کی ناٹک بازی کرنی پڑ رہی ہے۔ راہل نے اپنے دورے میں کہا تھا لکھنؤ میں بیٹھا ہاتھی مرکز کی ترقیاتی اسکیموں کے لئے بھیجا گیا پیسہ کھا گیا۔ ہماری پارٹی کی پالیسیوں اور مینڈیٹ نے کانگریس کا پردیش میں جینا محال کردیا ہے۔مجھے لگتا ہے بسپا کا چناؤ نشان ہاتھی اسے خواب میں بھی کھدیڑ تا ہے ستاتا ہے۔ مایاوتی نے کہا کانگریس کو ہمیشہ بسپا کا خوف رہتا ہے اور کانگریسیوں کو بسپا کا ہاتھی خواب میں روندھتے ہوئے دکھائی دیتا ہوگا۔ کانگریس نیتا جو غلط سلط بولتے ہیں اس پر میں تو نوٹس نہیں لیتی لیکن پردیش پردھان سوامی پرساد موریہ کو غصہ ضرور آتا ہے۔ انہوں نے کہا بسپا کے جن آدھار سے گھبرائے راہل پارلیمنٹ چھوڑ کر یوپی میں جو ناٹک بازی کررہے ہیں ، یوپی کے لوگوں کو بھکاری کہنے پر انہوں نے کہا کہ40 برسوں میں یوپی کے لوگوں نے زیادہ ہجرت کی۔ جب یہاں کانگریس کا راج تھا تو وہ لوگوں کی ہجرت کے لئے ذمہ دار ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ چناؤ میں بسپا کے اس نعرے کو حقیقت میں بدل دے گی کہ'چلے گا ہاتھی اڑے دھول ،نہ رہے گا پنجہ نہ رہے گا پھول اور نہ رہے گی سائیکل'
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Mayawati, Rahul Gandhi, Vir Arjun

29 نومبر 2011

اجمل قصاب پر اب تک 100 کروڑ روپے خرچ ہوئے



Published On 29th November 2011
انل نریندر
26 نومبر کو مجھے ایک دوست سے ایس ایم ایس ملا کہ شرد پوار کو تھپڑ مارنے والے ہروندر سنگھ کوجلد ہی سزا ہو جائے گی اور درجنوں بے قصوروں کو مارنے والے اجمل قصاب کو اتنے برس گذرنے کے بعد بھی سزا نہیں ہوئی۔26/11 کے آتنکی حملے کے تین سال بعد بھی اجمل قصاب کو پھانسی نہیں ہوسکی۔پھانسی دینا تو دور رہا اسے ہم پال پوس رہے ہیں، بریانی کھلا رہے ہیں۔ خبر ہے کہ قصاب پر حکومت ہند اور مہاراشٹر سرکار نے اب تک 100 کروڑ روپے خرچ کردئے ہیں۔ اس سیاہ دن کا محض ایک زندہ ملزم قصاب اس وقت ممبئی کی جیل میں بند ہے۔ یہ خرچ اس کی اسپیشل سکیورٹی ، اسپیشل وارڈ اور اچھے کھانے پینے اور وکیل کی فیس پر کیا گیا ہے جبکہ بدقسمتی دیکھئے کہ حملے کے متاثرین کے ورثاء کو13.73 کروڑ روپے ہی دئے گئے ہیں۔ حملے میں مارے گئے لوگوں کے ورثاء نے جمعہ کو مہاراشٹر کے گورنر سے مل کر ان کو حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کی اپیل کی۔ اسی دن 26/11 کی تیسری برسی پر مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان سے ملنے جارہیں ۔متوفی افراد کی بیواؤں اور رشتے داروں کو حراست میں لیکر حوالات میں ڈال دیا گیا۔ یہ لوگ وزیر اعلی کو ان کے سرکاری وعدے کی یاد دلانے جارہے تھے جو اب تک پورے نہیں ہوئے۔ صرف قصاب کو ہی اب تک پھانسی نہیں دی گئی بلکہ مہاراشٹر سرکار نے متوفین کے ورثاء سے جو وعدے کئے تھے وہ بھی پورے نہیں کئے۔ حراست میں لئے گئے لوگوں میں 26/11 کے علاوہ ممبئی میں اب تک تین آتنکی واردات میں متاثرہ افراد کے لوگ شامل تھے۔ان کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعے دہشت گردی کا شکار خاندان کو دی جانے والی تین لاکھ روپے کی رقم بہت سے خاندانوں کو اب تک نہیں ملی کیونکہ ریاستی حکومت نے متاثرین کو یہ پیسہ دلانے کی پہل ہی نہیں کی۔اس مارچ کی قیادت کررہے سابق ایم پی کرٹسومیا کے مطابق 26/11 کے حملے میں مرے 163 لوگوں میں سے صرف61 کے رشتہ داروں کو ہی یہ معاوضہ مل سکا ہے۔ اسی طرح فروری 2010ء میں پنے میں ہوئے جرمن بیکری کانڈ میں مارے گئے 17 لوگوں میں سے صرف11 کے رشتے داروں کو اب تک معاوضہ رقم ملی ہے۔26/11 کو ہوئے آتنکی حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہے لوگ اب بھی قصوروار ٹھہرائے گئے پاکستانی بندوقچی اجمل قصاب کو پھانسی پر چڑھائے جانے کا انتظار کررہے ہیں۔ وہ اس بات سے حیرت زدہ ہیں کہ آخر کار سرکار قصاب کو کیوں بچانے میں لگی ہے؟ 13 سالہ لڑکی دیویکاشیکھرن نے کہا کہ'' قصاب کو ابھی تک کیوں نہیں پھانسی پر لٹکایاگیا؟ ہماری حکومت آخر کس چیز کا انتظار کررہی ہے؟ کیا ایک اور26/11 جیسے حملے کا انتظار ہے؟ دیویکا کے والد نٹور لال یہاں چھترپتی شیواجی ٹرمنل پراپنی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ ٹرین کا انتظار کررہے تھے اسی دوران آتنک وادیوں نے ریلوے اسٹیشن پر گولیاں چلانی شروع کردیں۔ آتنک وادیوں کی ایک گولی دیویکا کے داہنے پاؤں پر لگی ، جو عدالت میں گواہی دینے کے دوران سب سے نوجوان چشم دید گواہ تھی۔ دیویکا کو طویل عرصے تک بیساکھی کے سہارے چلنا پڑا۔ اوبرائے ہوٹل میں اپنے پتی پنکج کو کھونے والی کلپنا شاہ کیلئے آتنک وادیوں کو معاف کرنا یا بھولنا اس کے لئے آسان نہیں۔ انہوں نے کہا میں اپنے شوہر کو روزانہ یاد کرتی ہوں اور ان کی کمی زندگی بھر رہے گی۔ 26/11 میں مارے گئے باپو صاحب ٹورگڑے کی بیوی ارونا نے کہا میرے شوہر اے ٹی ایس میں افسر تھے ان کی شہادت نے مجھے اور مضبوط بنا دیا۔ میں نے وقت کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے لیکن حملوں کے تین سال بعد بھی میں یہ نہیں سمجھ پائی کہ اجمل قصاب اب تک کیوں زندہ ہے۔ شہید پولیس ملازم ارون چتتے کی بیوی منیشا چتتے کا کہنا ہے کہ میری بڑی بیٹیوں کو پتہ ہے ان کے پاپا اب شہید ہوگئے ہیں لیکن چھوٹی اب ان کی فوٹو دیکھتی رہتی ہے کہ شہید کیا ہوتا ہے؟ میں جاننا چاہتی ہوں کہ قصاب کو پھانسی کب دی جائے گی۔''
26/11, Anil Narendra, Daily Pratap, Qasab, Vir Arjun

کشن جی نے مرنے سے پہلے اپنی اے کے 47 سے 41 گولیاں داغی تھیں



Published On 29th November 2011
انل نریندر
جس دن ماؤ وادی لیڈر کشن جی کی مڈبھیڑ میں موت کی خبر آئی تھی کہ اسی دن اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس کے کچھ حمایتی ضرور یہ کہیں گے کہ یہ مڈبھیڑ فرضی تھی۔ ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کشن جی کی مڈبھیڑ پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ماؤوادیوں اور کشن جی کے خاندان کے علاوہ کئی سیاسی پارٹیوں نے بھی اس مڈبھیڑ کو فرضی قراردیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے پر پوزیشن صاف کرنے اور واقعہ کی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ ماؤوادیوں کے ترجمان آکاش نے کہا کہ کشن جی کو حراست میں لینے کے بعد ہلاک کیا گیا۔تیلگو شاعر اور ماؤ وادیوں سے ہمدردی رکھنے والا واروٹا راؤ نے کہا کہ کشن جی کو دو دن پہلے ہی حراست میں لیا گیا تھا بعد میں اس کو مارا گیا۔ مارکسوادی لیڈر گوروداس داس گپتا نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو خط لکھ کر پوچھا ہے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ کرشن جی کو جمعرات کی دوپہر 12 بجے ہی حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں اس کوگولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ داس گپتا نے چدمبرم سے فون پر بھی اس سلسلے میں بات کی۔ سپا جنرل سکریٹری موہن سنگھ نے بھی مڈبھیڑ کو فرضی بتایا ہے ۔ انہوں نے کہا بڑے نکسلیوں کے قتل عام سے ماؤ وادکا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ حقیقت تو یہ ہے بڑیشول کے جنگل میں جس جگہ سکیورٹی فورس کے ساتھ مڈبھیڑ میں کشن جی کی مڈبھیڑ ہوئی اس جگہ سے مڈبھیڑ کے ثبوتوں سے فرضی ہونے کے دعوؤں کی ہوا نکل جاتی ہے۔ واردات کی جگہ پر ملے کارتوس کے خالی کھوکھے ، دستی بموں کے خول اور پیڑوں پر گولیوں کے نشان اور گولیوں سے پتیوں میں ہوئے سراخ اور آپریشن میں کشن جی اور اس کے ساتھیوں کا سامنا کرنے والے کوبرا فورس کے جوانوں سے صاف ہوگیا ہے کہ اس جگہ آمنے سامنے کی لڑائی ہوئی ہوگی۔ مغربی بنگال پولیس کی کرائم برانچ کو سنیچر سے سرکاری طور سے مڈ بھیڑ کی جانچ سونپی گئی ہے۔ پورسٹ مارٹم میں بھی مڈبھیڑ میں موت کی پہلی نظرمیں تصدیق ہوئی ہے۔ کشن جی کے پیٹ اور چہرے پر گولیوں کے نشان ہیں ۔ اس کی ہڈی میں تین گولیاں لگیں۔ پیر اور ہاتھ کے کچھ حصوں میں دستی بم پھٹنے سے زخم ہیں۔ مڈبھیڑ کے دوران کشن جی کی اے کے 47 رائفلز سے 41 گولیاں چلائی گئیں۔ اس رائفلز سے چلے کارتوس کے یہ خول کشن جی کی لاش کے آس پاس پڑے ملے۔ کشن جی کی ساتھی رہی سمترا مہتو خود کو گھرتے دیکھ اپنی رائفل اور بیگ چھوڑ کر بھاگی تھی۔ اس کو ایک دو گولیاں لگیں۔ اب تک اس کو تلاش نہیں کیا جاسکا۔ کوبرا فورس کے جوانوں میں دو ماؤوادیوں کو گولی لگنے سے گرتے دیکھا گیاتھا ۔ کشن جی آخری مرتبہ جس پیڑ کے نیچے چھپ کر گولیاں چلا رہا تھا اس کا تنا گولیاں لگتے ہی پوری طرح چھل گیا تھا۔ کشن جی کے پیر اور ٹھڈی پر گولیاں مارنے والے کوبرا فورس کے کمانڈو ناگیندر سنگھ کے داہنے پنجے سے چلائی گئی گولی بند گئی تھی۔کشن جی وہاں اپنے زونل کمانڈروں جے انت اور رنجن منڈا، آکاش، وکاس وغیرہ کے ساتھ میٹنگ کرنے کے لئے پہنچا تھا۔اس کے ساتھ75 دیگر ماؤ وادیوں کا سکیورٹی گھیرا تھا۔ لیکن آخری موقع پر جب بڑیشول گاؤں میں کساولی کھال کی طرف سے45کمانڈو کی ٹیم نے اسے گھیرلیا ، تب اس کے ساتھ میں صرف15 لوگ رہ گئے تھے۔ سکیورٹی فورس کے پیروں تلے آئے سوکھے پتے جب کھڑکے تو ماؤوادی کی ٹیم نے گولیاں چلانی شروع کردیں۔ جوابی گولیاں چلیں تو گلابی رنگ کی شلوار قمیص پہنے ایک عورت ماؤوادی اپنی رائفل چھوڑ کر بھاگ نکلی اور اس کے پیچھے پیچھے باقی سب الگ الگ سمتوں میں فرار ہوگئے۔ کشن جی کا انتم سنسکار یڈوپلی میں ہوا۔ اس سے پہلے کشن جی کی بھانجی پیپا راؤ نے مدناپور میڈیکل کالج ہسپتال میں رکھی اس کی لاش کی پہچان کی۔ کشن جی کی مڈ بھیڑ تو ایسے ہوئی اب سیاسی اسباب سے اسے فرضی کہیں یا کچھ اور کہیں یہ الگ بات ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kishanji, Naxalite, Vir Arjun

27 نومبر 2011

حکومت کو نکسل مخالف آپریشن میں ملی اہم کامیابی



Published On 27th November 2011
انل نریندر
سرکار کواپنی اینٹی نکسلی آپریشن میں ایک شاندار کامیابی ملی ہے۔ سی پی آئی (ماؤوادی) کی ملٹری یونٹ کے چیف پولٹ بیورو کے ممبر کوٹیشور راؤ عرف کشن جی کو سکیورٹی فورس نے مڈ بھیڑ میں مار گرایا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس مڈ بھیڑ کی تصدیق کے ساتھ ہی بھارت میں نکسل تحریک کا ایک باب کا صفایا ہوگیاہے۔ سی آر پی ایف کی نکسل مخالف کمانڈو بٹالین 207 کوبرا کے جوانوں نے کشن جی کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ بنیادی طور سے آندھرا پردیش کا باشندہ کوٹیشور راؤ عرف کشن جی طویل عرصے سے نکسل تحریک سے جڑا تھا۔ پچھلے تین سال سے اس نے مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق کشن جی نے دو نکسلی ماؤ وادی کمیونسٹ پارٹی اور پیپلز وار گروپ کے آپس میں انضمام میں اہم کردار نبھایا تھا۔ قریب چھ سال پہلے ہوئے اس انضمام کے سبب نکسلیوں کی طاقت کافی بڑھ گئی تھی۔ کشن جی کے دونوں نیپال کے ماؤ وادی کے ذریعے چین سے بھی روابط میں تھا۔ پریم گنج ضلع کے ناگپلی گاؤں سے نکسلواد کا سفر شروع کرنے والا کشن جی گوریلا جنگ کا ماہر تھا۔ اس نے بنگال سے مہاراشٹر تک کمان سنبھال رکھی تھی۔ اس کا خاص مقصد تھا کہ مغربی مدنا پور ،باکوڑہ اور پرولیا بیلٹ کو جھارکھنڈ، اڈیسہ اور چھتیس گڑھ سے جوڑنا تھا۔ کشن جی کی موت کے بعد نکسلی تشدد سے متاثرہ ریاستوں بہار، اڈیسہ، چھتیس گڑھ و اترپردیش میں جمعہ کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ نکسلی حملے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے ایسا کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رام نواس نے بتایا کہ نکسلی بدلے کی کارروائی کرسکتے ہیں۔ نکسلی 40 ہزار کلو میٹر علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور بستر علاقے میں وہ عام لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وہاں ان کی یکساں حکومت چلتی ہے۔ کشن جی کی موت سے نکسلی ماؤ وادی مسئلہ تو ختم نہیں ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ ان کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے جس سے انہیں نکلنے میں وقت ضرور لگے گا۔ سرکار کی نکسل مخالف کارروائی میں یہ ایک شاندار کارنامہ ضرور ہے۔
Andhra Pradesh, Anil Narendra, Chhattis Garh, China, Daily Pratap, Kishanji, Maharashtra, Naxalite, Nepal, Odisa, Vir Arjun, West Bengal

شرد پوار کو تھپڑآخر کیوں پڑا؟



Published On 27th November 2011
انل نریندر
جمعرات کو نئی دہلی کے این ڈی ایم سی سینٹر میں افکو کے ایک پروگرام میں بطور مہمان خصوصی آئے مرکزی وزیر زراعت نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس دن ان کے ساتھ کیا گذرنے والی ہے۔ پروگرام کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرنے کیلئے پوار جب باہر کی طرف نکلے تو تبھی ایک سکھ شخص نے آگے بڑھ کر ان کے گال پر طمانچہ جڑدیا۔ پوار کو سمجھ میں نہیں آیا آخر اچانک ہوا کیا۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھ گئے۔ وزیر کے اسٹاف کی دھکا مکی سے ناراض اس شخص نے اپنی کرپان نکال لی اور احتجاج کے طور پر اپنے ہاتھ کی نس کاٹنے کی کوشش کی۔ این ڈی ایم سی کے گارڈوں نے اس شخص کو بڑی مشکل سے قابو کر پولیس کے حوالے کیا۔ حملہ آور کا نام ہروندر سنگھ ہے اور وہ دہلی کے وجے وہار میں رہتا ہے۔ وہ نعرے لگا رہا تھا ''و ہ بھرشٹ ہیں ، میں یہاں منتری کو تھپڑ ہی مارنے آیا تھا،وہ سبھی بدعنوان ہیں۔ اس نے آگے کہا کہ آج گورو تیغ بہادر کی شہادت کا دن ہے۔ حالات اور بھی برے ہوسکتے تھے میں نے ہی روہنی عدالت میں سکھرام کو بھی مارا تھا۔ میں سکھ ہوں ،چپل نہیں ماروں گا، صرف بھاشن دیتے ہیں بھگت سنگھ کو بھول گئے جس نے قربانی دی، مارو مارو مجھے خوب مارو میں پاگل ہوں۔ ان کے پاس گھوٹالے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، میں غلط نہیں ہوں۔
شرد پوارپر طمانچے کی گونج نے دہلی کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپوزیشن نے اس واقعے کی مذمت کی ہے لیکن اسے مہنگائی سے پیدا غصہ قراردے کر سرکار پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ وہیں کانگریس نے اس واقعے کے لئے بھاجپا نیتا یشونت سنگھ کو غیر ذمہ دارانہ بیان پر نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پوار سے بات چیت کر پورے واقعے کی مذمت کی۔ کانگریس کے پارلیمانی وزیر ہریش راوت نے کہا یشونت سنہا کے بیان ' مہنگائی نہیں رکی تو تشدد ہوگا'واپس لینا چاہئے۔ایسی رائے بنانا غلط ہے وہیں بھاجپا نیتا یشونت سنہا نے کہا کہ یہ شخص میرے بیان سے پہلے ہی سکھرام کو تھپڑ مار چکا ہے۔ ایسے میں اسے مجھ سے جوڑا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ بھاجپا کی لیڈر سشما سوراج کا تبصرہ تھا کہ بھاجپا اس کی مذمت کرتی ہے۔عدم تشددکے ذریعے ناراضگی جتائی جانا چاہئے۔پوار عمر کے سبب احترام کے لائق ہیں وہیں سب سے دلچسپ تبصرہ انا ہزارے کا تھا۔ انہوں نے پوار پر حملے کی اطلاع ملنے پر پہلے رد عمل کے طور پر پوچھا کہ ''صرف ایک تھپڑ؟'' بعد میں انہوں نے اس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پوار کو تھپڑ پڑنا جمہوریت پر طمانچہ ہے۔ جنتا میں اس واقعہ ا کیا رد عمل ہوا ہے کچھ تبصرے پیش ہیں۔مرکزی وزیر شرد پوار کو پڑا تھپڑ کسی نیتا یا منتری پر نہیں بلکہ ان کے ذریعے بنائے گئے سسٹم پر ہے جس سے عام لوگوں کا پورا بجٹ بگڑ گیا ہے۔ وہ عام آدمی کیا کرے جس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا ہو۔ دہلی والوں نے اسی طرح کی رائے زنی کی ہے۔ مہنگائی گھروں کے کچن کے ساتھ لوگوں کے خوابوں پر بھی حملہ کررہی ہے۔ایک انسان اپنے بچے کو پڑھا کر کچھ بنانے کے خواب دیکھنے سے پہلے یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے پیسے کیسے کیسے بچائیں۔ کیرل کی ایک طالباکا نظریہ ہے میور وہار کی ایک ورکنگ خاتون نے کہا یہ تھپڑ ایک عام آدمی کا نہیں پورے دیش کی جنتا کا ہے ۔ دیش کے نیتاؤں اور وزرا کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جنتا اپنے طریقے سے جواب دینا سیکھ رہی ہے۔ اسے پانچ سال تک بہلا پھسلا کر بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ کوٹلہ فیروز شاہ کی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ پریشانی ہے تو لوگ ایسا کرنے کے لئے مجبور ہورہے ہیں۔ وزیر دفتر میں بیٹھ کر جو پالیسی تیار کرتے ہیں وہ عام آدمی کی کمر توڑنے والی ہوتی ہے ایسے میں لوگ کیا کریں ۔ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ سیوا نگر میں ایک سیاسی ورکر کا کہنا تھا پریشانی اپنی جگہ ہے لیکن ہر جگہ تھپڑ مارنا ٹھیک نہیں ہے۔ سبق سکھانا ہے تو چناؤ میں سکھائیں۔ لوگ بھی کیا کریں جب ان کے نمائندے امید پر کھرے نہیں اترتے تو وہ تیش میں آجاتے ہیں اور یہی تیش تھپڑ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک تاجر کی رائے تھی سرکار جب سورہی ہو تو اسے جگانے کیلئے اس بہتر طریقہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ کے وکیل آر کے شرما کا خیال ہے کہ لوگوں کا غصہ جائز ہے۔ وزیر ، نیتا اور ان کے رشتے دار کروڑوں اربوں میں کھیل رہے ہیں ۔ عام آدمی بھرپیٹ کھانے سے پہلے بھی سوچتا ہے کہ حالت خطرناک ہے اور دیش کے پالیسی سازوں کو اب سنجیدگی سے جنتا کے دکھ درد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ میکس ہسپتال کے ڈاکٹر سمیر پاریکھ کا کہنا ہے کہ اپنی ناراضگی نکالنے کا یہ طریقہ کاپی کیٹ یعنی نقل کرنا کہا جاسکتا ہے۔ جب لوگ دوسرے کی نقل کرتے ہیں وہ کسی پر حملہ کرتے ہیں اور اسے چوٹ پہنچاتے ہیں تو وہ ایک بھدی پبلسٹی کے بھوکے ہوتے ہیں۔ حملہ کرنے والا پہلے کے واقعے سے کہیں نہ کہیں ضرور ترغیب پا چکا ہے اور اسے لگتا ہے کہ اسے بھی لوگوں کی توجہ مل سکتی ہے۔
شرد پوار پر ہوئے حملے سے سیاسی پارہ بھی تیز ہوگا۔ پوار کی پارٹی این سی پی اندر خانے کانگریس سے سخت خفا ہے ۔ اسے لگ رہا ہے کہ جس طرح سے کانگریس نے پوار کو مہنگائی کی علامت بنایا ہے اس کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے۔ اگرچہ فوری طور پر کانگریس کے نیتا پوار کے بچاؤ میں اترے لیکن این سی پی اس واقعے سے بہت مایوس ہے۔ وزیر ہیوی صنعت پرفل پٹیل نے کہا بڑے نیتاؤں کی سلامتی پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے اور ان پر حملے کے بعد مہاراشٹر میں کچھ علاقوں میں پارٹی ورکروں کے مشتعل رویئے پر پٹیل نے صبر و تحمل رکھنے کی اپیل کی۔ معاملے کے پیچھے بھاجپا کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کسی سیاسی پارٹی کا ہاتھ ہے اس بارے میں پارٹی اس لئے بھی ناراض ہے کہ کانگریس مسلسل مہنگائی کے مسئلے پر شرد پوار کو ہی آگے رکھتی تھی۔ بیشک بدعنوانی اور مہنگائی سے دیش پریشان ہے اور غصے میں ہے لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ہم چاروں طرف آگ لگانا شروع کردیں اور جو سامنے آئے اس پر ٹوٹ پڑیں۔ اس سے حل تو کیا نکلے گا ہاں چاروں طرف بدامنی ضرور پھیل جائیگی۔ وہیں سیاستدانوں کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عوام کا موڈ کیا ہے۔ ہمارے سامنے مشرقی ایشیا کی مثال ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری نے دیش میں آگ لگا دی ہے۔ سیاستدانوں کو اس ٹرینڈ سے ڈرنا چاہئے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Daily Pratap, Maharashtra, Manmohan Singh, NCP, Sharad Pawar, Sonia Gandhi, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yashwant Sinha

26 نومبر 2011

بھنوری دیوی کے بعد راجستھان میں ایک اور سیکس اسکینڈل



Published On 26th November 2011
انل نریندر
بھنوری دیوی کا اتنے دن بعد بھی کوئی سراغ نہیں لگ سکا وہ کس حالت میں ہے، زندہ بھی ہے یا نہیں؟ جودھپور ضلع کے جالیواڑہ ہیلتھ سینٹر میں ملازم نرس بھنوری دیوی گذشتہ یکم ستمبر سے مشتبہ حالات میں لاپتہ ہے۔ سی بی آئی اس معاملے میں راجستھان کے برخاست وزیر مہیپال مدرینا اور اس کی بیوی لیلا مدرینااور کانگریس ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ ، اس کی بہن اندرا سمیت کئی لوگوں سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ سی بی آئی نے اس مقدمے میں شہاب الدین اور سوہن لال سمیت تین لوگوں کوگرفتار بھی کیا ہے ۔ یہ تینوں عدالتی حراست میں ہیں۔ 24 نومبر کو اس مقدمے کی راجستھان ہائی کورٹ میں تاریخ تھی۔ سی بی آئی کو عدالت میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنی تھی۔ سی بی آئی نے عدالت سے کہا کہ اسے اپنی جانچ رپورٹ پیش کرنے کے لئے کچھ اور دنوں کی مہلت چاہئے۔ عدالت نے اس کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اسے وقت دے دیا۔ اب اگلی سماعت15 دسمبر کو ہونے والی ہے۔ جسٹس گووند ماتھر ، جسٹس ایم کے جین کی ڈویژن بنچ نے لاپتہ بھنوری دیوی کے شوہر کی عرضی پر بند کمرے میں سماعت شروع کی۔ سی بی آئی کو اس معاملے میں کوئی قابل توقع کامیابی اب تک نہیں مل سکی۔ 200 سے زیادہ پولیس ملازمین نے لوہاور کے چھوٹے موٹے علاقوں تقریباً 20 کلو میٹر تک کھیتوں و جھاڑیوں میں بھنوری کی باڈی کی تلاش کی۔ ساتھ ہی فورنسک سائنس لیباریٹری کے ماہرین سے بھی پوچھ تاچھ کی۔ جنہوں نے ملزم شہاب الدین کی اس بلیرو گاڑی کی بھی جانچ کی تھی جس میں بھنوری دیوی کا اغوا کیا گیا تھا۔ دراصل سی بی آئی یہ ایک قیاس آرائی کی بنیاد پر تفتیش میں لگی ہوئی ہے کہ اسی بلیرو کارمیں تو بھنوری کے ساتھ کوئی انہونی تو نہیں ہوئی؟
ابھی بھنوری دیوی کا معاملہ سلجھا نہیں تھا کہ ایک اور سیکس اسکینڈل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کا خلاصہ سرسہ کے سب ڈویژن ڈبوالی کے گاؤں ابوبراہر کی متاثرہ لڑکی نے کیا۔ اس معاملے میں عدالت کے حکم پر راجستھان کے ایک سابق وزیر سابق ایم پی اور لڑکی کے شوہر اور دیو سمیت 18 لوگوں کے خلاف مقدمہ جے پور کے ویشالی نگر تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ ابوبراہرکی لڑکی نے 19 نومبر کو جوڈیشیل مجسٹریٹ ڈویژن دو جے پور کی عدالت میں اپنا حلف نامہ دیکر اس معاملے میں انصاف کی اپیل کی تھی۔ لڑکی نے ہنومان گڑھ کے باشندے اپنے شوہر اوم پرکاش گودارا پر الزام لگایا تھا کہ وہ اپنا پراپرٹی ڈیلر کا کاروبار بڑھانے کے لئے اسے نشے کی گولیاں کھلا کر اونچے لوگوں کو اسے پیش کرتا تھا۔ اس کے بعد عدالت کے حکم پر 21 نومبر کی رات جے پور تھانہ ویشالی نگر میں معاملہ درج کیا گیا۔ معاملے کی جانچ کررہے انسپکٹر نے بتایا کہ جن کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ان میں خاتون کا شوہر اوم پرکاش گودارا ، سابق وزیر جوگیشور گرگ، سابق ایم پی نیہال چند میگھوال، راجستھان یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق پردھان پشپندر بھاردواج، بھاجپا نیتاؤں کے پرائیویٹ سکریٹری رہے وویک آنند، ڈی ایس پی انل رائے ، پولیس انسپکٹر مہاویر سنگھ سمیت18 لوگ شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف دفعہ376/328/343/328/506 آئی پی سی اور120 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ سرخیوں میں آیا بھنوری دیوی معاملے کی طرح ایک اور سیکس ریکٹ سے راجستھان کی سیاست میں نیا طوفان کھڑا ہوسکتا ہے۔ جہاں تک بھنوری دیوی کا سوال ہے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اسے زمین نگل گئی ہے یا آسمان کھا گیا؟ اخباروں میں شائع خبر کے مطابق بھنوری دیوی کا قتل ہوچکا ہے لیکن اس حقیقت کے لئے سی بی آئی کو ابھی ثبوت اکٹھے کرنے ہیں یہ بات سی بی آئی نے جمعرات کو جودھپور ہائیکورٹ میں اپنی پیش رفت رپورٹ میں عدالت سے کہی ہے۔ اسی پر عدالت نے اسے15 دن کا وقت دے دیا ہے۔ ادھر ابوبراہر کی لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ اس کے شوہر نے اس کی 34 سی ڈی بنائی ہیں۔ ان کے ذریعے وہ متعلقہ لیڈروں کو بلیک میل کرتاتھا۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, Daily Pratap, Rajassthan, Sex, Sex Racket, Sex Scandal, Vir Arjun

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...