Translater

12 جولائی 2011

کراچی میں دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 12th July 2011
انل نریندر
پاکستان کے شہر کراچی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ پاکستان کی کاروباری مانے جانے والی راجدھانی کراچی میں پچھلے پانچ چھ روز سے جاری تشدد میں ہزاروں خاندان پھنس گئے ہیں۔ کئی مقامات پر پھنسے لوگوں کو نیم فوجی فورس کی مدد سے علاقوں سے نکالا گیا ہے۔ حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ جمعہ کے روز حکومت نے دیکھتے ہی گولی مارنے کا فرمان جاری کردیا ہے۔ اس کے باوجود تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب تک مرنے والوں کی تعداد100 کے پار ہوچکی ہے۔ تشدد زدہ علاقوں میں ہزاروں لوگ اپنے گھروں میں بند ہیں اور وہ محفوظ مقامات کے لئے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ فسادیوں کے ذریعے راکٹ داغنے اور گولہ باری سے ملک کی کمرشل راجدھانی میں پانچ دن سے تمام کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ کئی مقامات پر پھنسے ہوئے لوگوں نے مقامی ٹی وی چینلوں کو بتایا کہ انہوں نے چار دنوں سے کچھ کھایا پیا نہیں اور سڑکیں بند ہونے سے مسلسل گولیاں چل رہی ہیں جس وجہ سے وہ محفوظ مقامات کی طرف نہیں جا پارہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ) نے تشدد کے خلاف ایک دن کا ’یوم ماتم‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود زیادہ تر دکانیں بند رہیں اور لوگ گھروں سے نہیں نکلے۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس برس جون تک کراچی میں1138 لوگ مارے گئے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تشدد کو کنٹرول کرپانے میں ناکام رہنے کیلئے پاکستان حکومت کی مذمت کی ہے۔
کراچی میں تازہ تشدد کے کئی اسباب ہیں۔ ایم کیو ایم کی جانب سے حکمراں محاذ چھوڑنے کے بعد حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی ) کے ساتھ ٹکڑاؤ بڑھ گیا ہے۔ اس کے بعد اقتدار میں شامل پشتو زبان بولنے والی اے ایم پی حمایتیوں اور اردو زبان بولنے والے ایم کیو ایم حمایتیوں میں نسلی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ 1947ء میں بھارت سے مہاجرین کی شکل میں پاکستان آئے تھے۔ اردو بولنے والے مسلمانوں کو پاکستان میں اتنے برس گذرنے کے باوجود آج بھی مہاجر کہا جاتا ہے۔ مہاجروں کی قیادت ایم کیوایم کرتا ہے۔ مہاجر اپنے ساتھ دوہرے برتاؤ کے سبب شروع سے ہی پشتونوں اور پنجابیوں کے ساتھ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ادھر پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے پچھلے پانچ دنوں سے کراچی کو دہلادینے والے تشدد کے واقعات کے لئے طالبان کو ذمہ دار قراردیا ہے۔ ان واردات میں کم سے کم اب تک 100 لوگوں کی جانیں تلخ ہو چکی ہیں۔ رحمان ملک نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کہا کہ لوگوں کو دہشت اور کشیدگی میں پہنچانے کیلئے پاکستان میں سرگرم طالبانی لوگ بھی ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’’طالبان نے اپنے خلاف سکیورٹی فورس کے آپریشن کے دوران کچھ مقامات کو خالی کردیا لیکن پولیس اور قانون پر تعمیل کرنے والی ایجنسیاں ان کی تلاش کررہی ہیں۔ ‘‘ ملک نے دعوی کیا کہ کراچی کے شمالی حصے میں طالبان کا نیٹ ورک سرگرم ہے۔ وہ دیش کے سب سے بڑے شہر میں آتنک واد کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ آج اگر کراچی جل رہا ہے تو اس کے لئے پاکستان حکومت اور ان کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ تشدد کے چلتے پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری شہر کراچی کو زبردست اقتصادی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جیو نیوز نے خبردی ہے کہ کراچی میں کاروباری ادارے بند رہنے سے ہر روز 10 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔جیسے بیج بوؤ گے ویسی ہی فصل کاٹو گے۔ اگر کراچی کا حال بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے تو اس کے لئے خود پاکستان ذمہ دار ہے۔
Tags: Amnesty International, Anil Narendra, Daily Pratap, Karachi, MQM, Pakistan, Taliban, Terrorist, Vir Arjun

سلواجوڈوم، کویا کمانڈو توڑنے کا حکم



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 12th July 2011
انل نریندر
شاید چھتیس گڑھ میں سلواجوڈوم اور کویا کمانڈو کو توڑنے کے سپریم کورٹ کے حالیہ دئے گئے حکم کے پیچھے نظریہ یہ ہی رہا ہوگا کہ ماؤوادی ہوں یا کوئی دیگر علیحدگی پسند تنظیم اس سے لڑنے کیلئے حکومت قانون کا راستہ نہیں ترک کرسکتی۔ کویا کمانڈو کے تحت ایسے قبائلی نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا ہے جو نہ تو اچھے پڑھے لکھے تھے اور نہ ہی انہیں کسی باقاعدہ سرکاری فورس کی طرح تربیت دی گئی اور صرف تین ہزار روپے مہینے کا بھتہ دے کر انہیں ماؤ وادیوں سے لڑنے میں جھونک دیا گیا۔ اس سے ایک طرف یہ لڑکے اور ان کے رشتے دار ماؤ وادیو ں کے نشانے پر آگئے ہیں دوسری جانب جائز طریقوں اور قانون کے تئیں جوابدہی سے ان کے ناواقفیت رہنے کی وجہ ان کی کارروائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق اکثر سوال کھڑے ہوتے تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ حکومت ماؤ وادیوں سے ایسے نہیں لڑ سکتی۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا دوسرا پہلو بھی ہے کہ سب سے بڑی تشویش تو چھتیس گڑھ میں اسپیشل پولیس افسر (ایس پی او) جن کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے کی سلامتی کو لیکر فکرمند ہوگئی ہے۔ چھتیس گڑھ انتظامیہ و پولیس افسران نے بتایا تقریباً 4800 اسپیشل پولیس افسر اب نکسلیوں سے کیسے مقابلہ کرپائیں گے۔ وہ نہتے ہو جائیں گے اور نکسلیوں کے لئے آسانی سے نشانہ بن سکتے ہیں۔ راجدھانی میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹر میں ریاست کے سب سے زیادہ نکسلی متاثرہ علاقے بستر کے پولیس افسران کی میٹنگ میں جس میں بستر خطے کے سبھی ضلعوں کی پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ڈائریکٹر جنرل پولیس و ریاست کے اعلی پولیس افسر شامل تھے۔ میٹنگ میں سپریم کورٹ کے حکم پر تعمیل کو لیکر غور و خوص ہوا۔ سبھی کی رائے تھی کہ جب ایس پی او کی تقرری کی گئی تب انہیں ٹریننگ دی گئی اور انہیں ہتھیار بھی دئے گئے۔ ریاست میں نکسلیوں کے خلاف لڑائی میں ایس پی او نے اہم کردار نبھایا اور کئی تھانوں میں ایس پی او کی بدولت ہی پولیس کو تب نقصان ہوا اور کچھ مقامات پرپولیس نے کامیابی حاصل کی۔ وہیں ایس پی او کے مقامی ہونے کے سبب وہ سکیورٹی فورس کے لئے ابھی تک مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ ایس پی او وہاں کی مقامی بولی جانتے ہیں۔ وہاں کی جغرافیائی پوزیشن سے واقف ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کون نکسلیوں سے ملے ہوئے ہیں اور کون نہیں۔ یہ ہی نہیں علاقے کے کویا کمانڈو کی تشکیل ہونے کے بعد نکسلیوں کے لئے یہ سب سے بڑے درد سے ثابت ہوئے ہیں اور نکسلی انہیں اپنا سب سے بڑا دشمن مانتے ہیں۔ ایسے میں اگر ان سے ہتھیار لئے جائیں تو ان کی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی۔
چھتیس گڑھ کے علاوہ جھارکھنڈ، اڑیسہ اور آندھرا پردیش جیسی کئی اور ریاستیں بھی نکسلی تشدد سے بری طرح متاثر ہیں۔ لیکن چھتیس گڑھ کو چھوڑ کر سلواجوڈوم جیسا تجربہ اور کہیں نہیں ہوا۔ آندھرا پردیش میں اسپیشل فورس کی تعیناتی سب سے کارگر ثابت ہوئی ہے۔ اس طرح کی پہل پر کسی عدالت کو اعتراض نہیں ہے۔ سلواجوڈوم کو اگر سپریم کورٹ نے مسترد کیا ہے تو اس کی بنیادی آئینی ہے جو کام پولیس یا سکیورٹی فورس کا ہے اس میں شہریوں کو نہیں لگایا جاسکتا۔ ماؤوادی یا نکسلی مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکومت ہند کی کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے۔ اس ٹال مٹول والی پالیسی کی وجہ سے سکیورٹی فورس کو بھی یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس مسئلے سے کیسے نمٹے۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم یقینی طور سے ان انسانی حقوق تنظیموں کی جیت ہے جو سلواجوڈوم کو منسوخ کروانے پر بہت دنوں سے لگی ہوئی تھیں۔ جہاں اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت کو سلامتی کے جائز اور آئینی طریقوں سے ہی ماؤ وادیوں سے نمٹنا بہتر ہوگا اور اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے پرائیویٹ ملیشیا (فوج) بنانا حل نہیں ہے۔ وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کوئی دوررس و کارگر ماؤ وادی ، نکسلی تشدد سے نمٹنے کی ٹھوس پالیسی بنائے۔
Tags: Anil Narendra, Bastar, Chhattis Garh, Daily Pratap, Salwa Judam. Maoist, Supreme Court, Vir Arjun

10 جولائی 2011

عامر خان تم نے ’’دہلی بیلی‘‘ فلم کیا سوچ کربنائی؟



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th July 2011
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے عامر خان کی فلم ’’دہلی بیلی‘‘ کافی موضوع بحث ہے۔ فلم کے مقالے ، مناظر اور گانوں کو لیکر تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ میں نے آخر اس فلم کو دیکھنے ، سمجھنے کیلئے ہمت کی۔ میں نے فلم دیکھی اور مجھے فلم دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ مجھے عامر خان سے ایسی بے ہودہ فلم بنانے کی کبھی امید نہیں تھی۔ سنیما ہالمیں بیٹھ کر فلم دیکھنا مشکل ہوگیا۔ فلم کی نہ تو کوئی کہانی ہے اور نہ ہی کوئی جواز۔ نہ تو یہ مزاحیہ، نہ گینگسٹر اور نہ ہی خاندانی فلم ہے۔ کہا جارہا ہے اسی لئے اسے فلم'A' کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے تاکہ نوجوان اور بچے اسے دیکھ نہ سکیں۔ لیکن سبھی جانتے ہیں کہ کتنے سنیما ہالوں میں یہ قانون کتنی سختی سے نافذ ہوتا ہے؟کیا کانپور، پٹنہ، ریواڑی یا پٹیالہ جیسے شہروں میں سنیما گھروں میں نوجوانوں کو جانے سے کوئی روکتا ہے؟ اس کا ایڈلٹ فلم ہونے کا کوئی بہانا نہیں ہے۔ فلم کے کچھ مناظر کسی پورن گرافی فلم سے ملتے ہیں۔ مقالوں میں اتنی گالیاں ہیں کہ ناظرین کو شرم آجاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آج کی نوجوان پیڑھی کو یہ سب اچھا لگتا ہو لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم ایسی فلمیں دکھا کر آخر سماج اور نوجوان پیڑھی کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ کہا یہ بھی جارہا ہے کہ فلم باکس آفس میں بہت اچھی جارہی ہے۔ باکس آفس سے ناظرین کو کیا تعلق؟ باکس آفس سے تو پروڈیوسر، ڈسٹری بیوٹر کا تعلق ہوتا ہے۔ میں نے کبھی بھی فلم کو اس لئے نہیں دیکھا کہ باکس آفس میں وہ سپر ہٹ ہے۔ نوجوان پیڑھی کو یہ فلم بہت پسند آرہی ہے۔ عامر خان اگر پوری پورن فلم (ننگی) بنا دیتے تو شاید اس سے بھی زیادہ ہٹ ہوتی اور زیادہ پسند کی جاتی۔ سوال انہیں یہ پوچھنا چاہئے کہ کہاں تو انہوں نے ’’لگان‘‘ اور ’رنگ دے بسنتی‘ جیسی بڑی اچھی فلمیں بنائیں اور کہاں یہ کوڑا کڑکٹ؟ عامر خان جی آپ اپنے بچوں کو کیا معاشرہ دینا چاہتے ہیں؟ طالبعلم زندگی کے بارے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے لیکن آج بھی طالبعلم و طالبات کے معاملے میں ماحول، سنیما، ٹی وی الگ الگ اثرات رکھتے ہیں۔ اس دور میں طاقت، توانائی، اہلیت کے امکانات بھرپور رہتے ہیں اور والدین کے ساتھ سماج اور قوم بھی اس نوجوان پیڑھی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس فیصلہ کن دور میں پڑھائی لکھائی کے ساتھ عمدہ نظریات، عمدہ کلچر اور عمدہ معاشرہ سونے پر سہاگا جیسے ہیں۔ لیکن ان کے لئے ماحول ملنا تھوڑا مشکل ہوجاتا ہے سنیما نوجوانوں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ ’دہلی بیلی‘ جیسی فلموں سے ہم اپنی نوجوان پیڑھی کو آخر کیا معاشرہ دینا چاہتے ہیں؟ یہ معاشرہ ہی نوجوانوں کی زندگی کے آخر تک کام آتا ہے۔ کیا ہمیں اس طرف دھیان دینا نہیں چاہئے؟ یا پھر محض فلم ہٹ ہونے سے ہی آپ کا تعلق رہ گیا ہے؟ اگر محض باکس آفس کو ہی دیکھا جائے تو شاید ’دہلی بیلی‘ فلم میں ڈی کے باس ، گانے، گالیوں کے استعمال اور فحاشیت پھیلانے کا الزام بے معنی نظر آئے گا۔ عامر خان نے دہلی میں اپنی پریس کانفرنس میں تب یہ کہا کہ پچھلے تین دنوں میں فلم نے26 کروڑ روپے کا کاروبار کیا ہے تو ان کا یہ ہی مطلب رہا ہوگا کہ میں بھارت کے سینسر بورڈ سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس فلم کو سرٹیفکیٹ کیوں دیا؟ ’ڈی کے باس بھاگ بھاگ‘ گانا اتنا بھاگا ہے کہ لفظ فحاشی اور بھدے ہونے کے باوجود اب رکنے والا نہیں۔ وزارت اطلاعات نے بھی سینسر بورڈ سے پوچھا ہے کہ آخر کیسے اس گانے کو پاس کردیا گیا ہے جبکہ اس گانے میں صاف طور پر گالیوں کی بھرمار ہے۔وزارت اطلاعات کو سینسر بورڈ سے یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے اس فلم کو کس بنیادپر ، کیا سوچ کر سرٹیفکیٹ 'A' دیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ جواب دے کہ اس لئے ہم نے اسے ایڈلٹ فلم کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ لیکن دیش کے کتنے ایڈلٹ فلم دیکھ رہے ہیں؟ سینسر بورڈ کے ممبر و صحافی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری پنکج شرما بھی اس فلم اورعامرخان سے ناراض ہیں۔ ناراضگی کا عالم یہ ہے کہ وہ خود سینسر بورڈ کے ممبر ہونے پر بھی افسوس ظاہر کررہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ سماج میں کئی سماجی برائیاں بھی ہیں تو کیا ہم انہیں بھی فلموں کے ذریعے پیش کریں گے، جیسا عامر خان اس فلم کے ذریعے سے گالیوں اور فحاشیت کا پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے اس فلم پر اپنا تحریری اعتراض سینسر بورڈ کے چیئرمین کے سامنے رکھا ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس فلم پر سینسر بورڈ اور وزارت اطلاعات و نشریات کو پھر سے سوچناچاہئے۔ یہ وزارت اطلاعات و نشریات وزارت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
فلموں کا نوجوانوں پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ فلم کی بات تو چھوڑیئے ٹی وی سیریلوں کا بھی اثر پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں دہلی کی باشندہ ایک خاتون نے سی آئی ڈی سیریل دیکھ کر اپنے محبوب کو راستے سے ہٹانے کیلئے ایسی خونی سازش رچی کے پولیس بھی چکرا گئی۔ خاتون کی شناخت کرشنا 43 سال کی شکل میں ہوئی ہے۔ کرشنا نے اپنے محبوب کی 46 لاکھ میں سپاری دی۔ اسے اپنے ساتھ دوبئی سے دہلی لے کر آئی اور یہاں کرائے کے قاتلوں کو کمرہ دلوایا۔ محبوب کو یہاں لے کر آگئی اور شراب میں نشے کی گولیاں ملا کر پلانے کے بعد اس کو قتل کرکے وہاں سے فرار ہوگئی۔ یہ پوری کہانی اس نے سی آئی ڈی سیریل میں دیکھی تھی۔جس پر اس نے خود عمل کرلیا۔ جس وقت ’دہلی بیلی‘ ریلیز ہوئی تھی اسی وقت امیتابھ بچن کی فلم ’بڈھا ہوگا تیرا باپ‘ بھی ریلیز ہوئی تھی۔ یہ کتنی صاف ستھری فلم ہے۔ ان کے اینگری ینگ مین والے پرانے انداز کو نئے انداز میں دکھانے کی ایک اچھی کوشش ہے۔ ذرا اس کو مہذب کے دائرے سے باہر نکل کر دیکھیں تو اس فلم میں نیا نظریہ اور روشن خیالی کو ہمارے سامنے رکھا ہے۔ عام طور پر فلمی کہانیاں گہرائی میں جاکر ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش کرتی ہیں اور اسی میں ان کی خوبصورتی بھی ہے لیکن اس فلم میں وہ کئی بار زندگی کے ایسے کسی پہلو کو اجاگر کردیتی ہے جو عام سماجی نظریئے سے ہمیں نہیں دکھائی دیتا۔بڈھا ہوگا تیرا باپ‘ میں ایک بزرگ جرائم پیشہ سے نمٹتا ہے۔ سماج کو غلط عناصر سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک طرح سے فلم ایک بزرگ کی خود اعتمادی اور جوابدہی کے احساس کو دکھاتی ہے۔ ’دہلی بیلی‘ میں عامر خان کی کیا جوابدہی ظاہر کرتی ہے؟ ڈبل معنی ، مقالے ،ہاٹ سین اور گالیوں بھرے گانے کو لیکر اس فلم پر پابندی لگانے کی مانگ کو لیکر داخل عرضی پر سماعت کے بعد مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے عامر خان کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے 12 جولائی تک جواب دینے کے لئے وقت دیا ہے۔ عرضی گذار ڈاکٹر اجے سیٹھ کا کہنا ہے کہ لوگ خاص طور سے عامر خان کو ایکٹنگ کی دنیا کا بھگوان مانتے ہیں اور انہوں نے کئی مشعل راہ فلمیں بنائی ہیں لیکن ان کی نئی پروڈیوس کردہ فلم ’دہلی بیلی‘ فحاشی ہے۔ اور اس میں گالیوں کا بھی خوب استعمال کیا گیا ہے جو کہ ہندوستانی معاشرے کے خلاف ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں کچھ بلو فلم جیسے مناظر ہونے کے باوجود سینسر بورڈ نے اسے کلیئر کردیا ہے۔ اس سے پہلے بھاری مخالفت کے سبب نیپال میں بھی اس فلم پر پابندی لگادی گئی تھی۔ میں نوجوان پیڑھی سے معافی چاہوں گا کہ میرے دقیانوسی نظریات سے شاید وہ متفق نہ ہوں۔
Tags: Aamir Khan, Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Belly, Vir Arjun

کیسے بنا شری پدمنابھ سوامی مندر



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th July 2011
انل نریندر
سپریم کورٹ نے سات رکنی کمیٹی کو ترواننت پورم میں واقع شری پدمنابھ سوامی مندر کے تہہ خانوں کو کھولنے پر پابندی لگادی ہے۔ جسٹس آر وی روندرن اور جسٹس اے کے پٹنائک کی ڈویژن بنچ نے عرضی گذار شراون کوٹ کے راجہ رہے ،راجہ مارتنڈ ورما اور کیرل حکومت سے کہا ہے کہ وہ قدیم مندر کے تقدس اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے مناسب تجاویز کے ساتھ عدالت آئیں۔ اور راجہ مارتنڈ ورما کے وکیل نے جرہ کے دوران کہا کہ مندر پبلک پراپرٹی ہے اور راج پریوار کے کسی بھی فرد نے بیشمار دولت یا پراپرٹی پر کسی کے حق کا دعوی نہیں کیا ہے اور اس کا کوئی بھی حصہ خاندان کے کسی فرد سے وابستہ نہیں ہے۔ پراپرٹی بھگوان پدمنابھ سوامی کی ہے۔ مندر کی پراپرٹی کے بارے میں مورخوں کا کہنا ہے کہ اس خزانے کی تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے تو اس کی قیمت لگانا مشکل ہوگا پھر بھی کہا جارہا ہے کہ اس کی بازار مالیت 1 لاکھ کروڑ سے 10 گنا زیادہ ہوگی۔
پدمنابھ سوامی مندر شراون کوٹ شاہی فیملی نے بنوایا تھا۔ بھگوان وشنو کا یہ مندر کیرل کے قلعے کے اندر ہی بنا ہوا ہے۔ اس مندر کو 108 دویہ دشمے میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ دویہ دیشم یعنی وشنو جی کا گھر۔ یہاں بھگوان وشنو کی سوتی ہوئی مورتی ہے۔ شراون کوٹ کے راجہ اپنے آپ کو وشنو کا بھگت کو سیوک مانتے ہیں۔ مندر کے بننے کی کئی کہانیاں ہیں۔ اس میں سے ایک جو سب سے زیادہ مشہور ہے وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ دیواکر منی نے بھگوان کرشن کی تپسیا کی تھی اور انہیں درشن دینے کو کہا۔ بھگوان ایک شرارتی بچے کی شکل میں انہیں درشن دینے آئے اور پوجا کے لئے رکھے شیو لنک کو نگل گئے۔ منی نے غصے میں اس بچے کا پیچھا کیا لیکن وہ جاکر ایک بڑے پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔ اچانک وہ پیڑ گرگیا اور بھگوان وشنو کی مورتی میں بدل گیا۔ منی سمجھ گئے کہ وہ بھگوان وشنو کا ہی اوتار تھا۔ منی نے بھگوان سے کہا یہ مورتی بہت لمبی ہے اسے تھوڑا چھوٹا کریں تاکہ میں اور دوسرے بھگت ایک بار میں اس کے درشن کرسکیں۔ اتنا کہتے ہی وہ مورتی چھوٹی ہوگئی لیکن پھر بھی اس کا قد کافی بڑا رہا۔ آج بھی اس مورتی کو تین گیٹ والے مندر میں رکھا گیا ہے۔ اس کے دروازے سے وشنو جی کا سر دکھائی دیتا ہے۔ اسے شیو جی کی طرح پوجا جاتا ہے ، دوسرے دروازے سے پیٹھ دکھائی دیتیہے ، جس کی نابھ میں کمل کا پھول نکل رہا ہے اسے بھرما کا سوروپ کہتے ہیں اور تیسرے دروازے سے بھگوان وشنو کے پیر دکھائی دیتے ہیں ، جسے موکش کا دوار مانا جاتا ہے۔ کیرل کا یہ مندر کھجوراہوں کے مندروں جیسی فنکاریوں اور مورتی سے بھرا ہے۔ اسی وجہ سے ترواننت پورم کا نام ملا۔ ترواننت پورم یعنی بھگوان کا پوتر گھر۔
کیرل کے شری پدمنابھ سوامی مندر سے سونے کی اب تک کی سب سے بڑی برآمدگی ہوئی ہے۔ ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ خزانے کی اس برآمدگی نے ایک بحث چھیڑ دی ہے کہ پوجا استھلوں پرایشور کو کیا حقیقت میں گولڈ کی ضرورت ہے؟ لوگ پیلی چمکدار دھات کی پوجا کررہے ہیں یا پھر اپنے بھگوان کی۔ اب یہ مندر دنیا کا سب سے امیردھارمک استھل بن گیا ہے۔ویٹیکن کے بعد شاید پچھلے ہفتے سے اس بحث نے بھی زور پکڑا ہے کہ آخر یہ سونا کس کا ہے؟ بھگوان کا ہے یا پھر کیرل کے عوام کا؟
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Kerala, Kerala High Court, Raja Martande Verma, Shri Padmanabh Swami Temple, Supreme Court, Treasure, Vir Arjun

09 جولائی 2011

کیا راہل کی پدیاتراسے کانگریس کو یوپی میں فائدہ ہوگا؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th July 2011
انل نریندر
 ماننا پڑے گا کے راہل گاندھی اپنے یوپی مشن 2012ء پر پوری طرح اتر چکے ہیں۔ وہ دن رات ایک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بھٹہ پارسول سے راہل گاندھی کی کسان سندیش یاترا رنگ لانے لگی ہے۔ وہ گاؤں گاؤں پیدل یاترا کررہے ہیں۔ یوپی میں بگڑتے امن و قانون نظم اور ترقی کے مسئلے کے مقابلے مایا سرکار کی زمین تحویل پالیسی پر زبردست چوٹ کرکانگریس نے یوپی میں ایک طرح سے ہلہّ بول دیا ہے۔ راہل گاندھی نے دہلی سے ملحق گریٹر نوئیڈا کے بھٹہ پارسول گاؤں سے اپنی کسان سندیش یاترا شروع کی ہے جو علی گڑھ جا پہنچی ہے۔ راہل کے مطابق اس پد یاترا کا مقصد بھٹہ سے آگرہ اور علیگڑھ تک ہورہے زمین ایکوائر اور اس سے پیدا ہورہی پریشانیوں کو سمجھنا اور متاثرہ لوگوں کے نظریات جاننا ہے۔ بھٹہ پارسول وہی گاؤں ہے جہاں کچھ دن پہلے اپنی زمین کو تحویل میں لئے جانے کی مخالفت کررہے کسانوں کی مشتعل بھیڑ پر پولیس نے گولیاں چلائی تھیں جس میں چار لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ اسی واقعہ کے بعد راہل گاندھی بھی وہاں جاکر دھرنے پر بیٹھے تھے اور انہوں نے گرفتاری بھی دی تھی۔ بھارت میں بہت دنوں کے بعد کسی لیڈر نے پد یاترا کی ہے۔ آج کل تو نیتا لوگ ہیلی کاپٹروں یا کاروں کے قافلے کے ساتھ محض رسم ادائیگی زیادہ کرتے ہیں۔ ایسے میں راہل کا پد یاترا کرتے ہوئے گاؤں میں جانا اور کسانوں کے ساتھ دال روٹی کھانا را ت میں پلنگ پر ہی سونا ، ان کے مسائل کو سننا ، نہ صرف اترپردیش کے لئے ہیں ایک سیاسی واقعہ ہے بلکہ پورے دیش میں اس کا ایک سندیش جارہا ہے۔ یوں تو پدیاترا کی روایت نئی نہیں ہے۔ سب سے پہلے اس کی بنیاد مہاتما گاندھی نے رکھی تھی، ان کے بعد ونوبابھاوے ، بابا آمٹے، سابق وزیر اعظم چندر شیکھر اور اداکار سے نیتا بنے سنیل دت کی طویل پد یاترائیں بھی کافی سرخیوں میں رہی ہیں۔ اب دہائیوں کے بعد راہل گاندھی کی شکل میں کوئی سیاستداں کسانوں کے سوالوں کو لیکر پد یاترا پر نکلے ہیں۔ کانگریس کے شہزادے راہل دھول ، دھوپ، بارش اور مٹی اور گرمی کے درمیان گاؤں کی گلیوں کی خاک چھان رہے ہیں تو دوسری طرف کانگریسی انہیں مل رہے ہیں۔کانگریس عوامی حمایت کے بلبوتے پر اقتدار کی واپسی کا سپنا دیکھنے لگی ہے۔ یہاں تک کہ 9 جولائی یعنی آج علیگڑھ کے نمائش میدان میں کسان مہا پنچایت کے لئے تیاریاں پوری ہوچکی ہیں۔ یووراج کے کرشمے کو دیکھنے کیلئے وہاں لوگ دور دور سے پہنچ رہے ہیں۔ کانگریسیوں کو لگنے لگا ہے کہ اگلے سال ہونے والے یوپی اسمبلی چناؤ میں پارٹی حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو سیدھے ٹکر دینے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جنتا سے یہ براہ راست رابطہ رنگ لائے گا اور 21 سال بعد اترپردیش کے اقتدار میں واپسی ممکن ہو سکے گی۔ یہاں تک کہ علیگڑھ میں راہل کی گرفتاری کے امکان سے بھی کانگریسی کافی خوش ہیں۔ پارٹی کے لیڈروں کا خیال ہے کہ اگر مایاوتی راہل کو گرفتار کرتی ہیں یا کوشش کرتی ہیں تو ان کے عہد کیلئے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ حالانکہ انتظامیہ کی طرف سے آرہی خبروں کے مطابق دفعہ144 نافذ ہونے کے باوجود راہل کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
کسانوں کو انصاف دلانے کے مقصد سے راہل کی پد یاترا سے وزیر اعلی مایاوتی بے چین ضرور ہوں گی۔ ادھر عدالتی فیصلوں نے بہن جی کی سرکار کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ ادھر راہل کو مل رہی عوامی حمایت بہن جی کے لئے تشویش کا موضوع ضرور بن گئی ہیں۔ بیشک بہن جی اور ان کے حکمت عملی ساز یہ دلیل دیں کہ مغربی اترپردیش ہمیشہ سے اجیت سنگھ کا گڑھ رہا ہے، جاٹ بیلٹ ہے جو بسپا کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر راہل گاندھی کی پد یاترا سے جاٹ ووٹ کانگریس کو جاتا ہے تو بسپا کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا۔ یہ ووٹ تو ان کے خلاف پڑنا ہی تھا۔ لیکن بہن جی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ راہل کی پدیاترا کا اثر محض گریٹر نوئیڈا سے لیکر علیگڑھ بیہٹ تک ہی محدود نہیں رہے گا۔ اس کا اثر پورے اترپردیش پر پڑے گا۔ اگر میں یہ کہوں کہ پوری ریاست میں کسان بیلٹوں پر اثر پڑے گا تو شاید غلط نہ ہو۔ کسان بھولے بھالے ، سیدھے سادے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک بار ان کے ساتھ حقہ پانی لے لو اور بڑے بزرگ سر پر ہاتھ رکھ کر آشیرواد دے دیں تو وہ اتنی آسانی سے نہیں پلٹتے۔ راہل کی محنت ضرور رنگ لائے گی۔ راہل نے آج کے دوسرے سیاستدانوں کو بھی ایک طرح سے بے نقاب کردیا ہے۔جو جنتا کے مفادات کی کسانوں کے مفاد کی باتیں تو لمبی چوڑی کرتے ہیں لیکن کچھ نہیں کرتے۔ راہل نے یہ سب کر کے دکھا دیا ہے۔
 Tags: Aligarh, Anil Narendra, Bhatta Parsaul, Congress, Daily Pratap, Greater Noida, Mayawati, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

ڈی ایم کے کا تیسرا کرپٹ وکٹ ڈاؤن، مارن کا استعفیٰ



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th July 2011
انل نریندر
وپی اے کی کچھ اتحادی پارٹیوں نے منموہن سنگھ حکومت کا ساتھ و حمایت اس لئے دی تھی کہ وہ دیش کو لوٹ سکیں۔ ان کا واحدمقصد پیسہ کمانا تھا اور ہے۔ ان میں خاص ہے ڈی ایم کے حالانکہ این سی پی بھی اسی زمرے میں آتی ہے لیکن فی الحال ڈی ایم کے کا نمبر لگا ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں ڈی ایم کے کو آخر کار تیسرا وکٹ گنوانا پڑا۔ مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا معاملہ جیل میں بند اے راجہ اور ڈی ایم کے ایم پی کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی سے بھی ایک قدم آگے ہے۔ دیا ندھی مارن نے یوپی اے حکومت میں مرکزی وزیر مواصلات رہتے ہوئے کمال ہی کرڈالا۔ سی بی آئی نے بدھوار کو سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرتے ہوئے بیان دیا کہ مارن نے ایئر سیل کمپنی کی حصہ داری ملیشیائی کمپنی میکسس کو فروخت کروائی۔ پھر اسے لائسنس دے کر بدلے میں 675 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اپنے سن ٹی وی میں کروا دی۔ سی بی آئی کے وکیل کے کے وینوگوپال نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی بنچ کو بتایا کہ 2006 ء میں ٹیلی کام وزیر رہتے ہوئے مارن نے چنئی کی کمپنی ایئر سیل کی لائسنس درخواست جان بوجھ کر التوا میں رکھی۔ اسے اپنی حصے دار ملیشیائی کمپنی میکسس کو بیچنے کے لئے مجبور کیا۔ میکسس ، ایئرسیل کو لائسنس دینے کے بدلے میں اپنی ڈی ٹی ایم کمپنی سن ٹی وی کے لئے بڑا سرمایہ حاصل کیا۔ مارن کا فارمولہ آسان تھا ۔ اس ہاتھ لو اس ہاتھ دو۔ میکسس کے وی آنند کرشنن مارن کے رشتہ دار ہیں اس لئے مارن نے ان کے ذریعے یہ فائدے کا سودا کیا۔ دیکھئے یہ کھیل مارن نے کیسے کھیلا۔ دباؤ بنانے کیلئے پہلے تو مارن نے ایئر سیل کے ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس درخواست کو دو سال تک روکے رکھا۔ پھر 2006 ء میں ایئر سیل کو اپنی حصے دار میکسس کو بیچنے کے لئے مجبور کیا۔ بدلے میں میکسس نے اپنی ایک ساتھی کمپنی کے ذریعے مارن کی سن ٹی وی میں 675 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے عوض میں ایئر سیل کی 74 فیصدی حصے داری کو لیکر میکسس کو 23 سرکل کے لائسنس دے دئے۔ کنی موجھی تو کل 200 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں شامل تھیں، دیا ندھی مارن نے تو 675 کروڑ روپے کا براہ راست گھپلہ کیا ہے۔
یہ دوسرا موقعہ ہے جب مارن کو وزارت چھوڑنی پڑی ہے۔ اس سے پہلے انہیں 2007ء میں عہدہ اس وقت چھوڑنا پڑا تھا جب کروناندھی خاندان میں اندرونی اختلافات کا شکار ہوئے تھے۔ چنئی سینٹرل سے لوک سبھا کے ممبر مارن عام چناؤ کے بعد مئی 2009ء میں پھر سے کیبنٹ میں شامل ہوئے لیکن اس بار انہیں ٹیلی وزارت نہیں ملی جیسا کے وہ چاہتے تھے۔ بلکہ انہیں کپڑا وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کانگریس نے بدھوار کو جہاں دیاندھی مارن کے استعفے پر تبصرہ کرنے سے منع کردیا وہیں یہ بھی کہا کہ ڈی ایم کے پارٹی کے ساتھ ان کا اتحاد جاری رہے گا۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ بنیادی حقیقت کی ترجیحات پر سیاسی اتحاد قائم ہوتا ہے۔ ہمارا اتحاد ڈی ایم کے کے ساتھ سال2004 سے جاری ہے اور اس صورت میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
کیا اسے محض اتفاق ہی مانا جائے گا کہ منموہن سرکار سے ان تمام کرپٹ وزیروں کا صفایا سپریم کورٹ کے کہنے پر ہورہا ہے یا یہ سب کسی طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے؟ ڈی ایم کے کے بعد اب اگلا نمبر این سی پی کے بدعنوان وزیروں کا ہونا چاہئے۔
Tags: 2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, Manmohan Singh, NCP, Supreme Court, Vir Arjun

08 جولائی 2011

مرلی دیوڑا کے سامنے کرسی چھوڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 8th July 2011
انل نریندر
کمپنی امور کے وزیر مرلی دیوڑا نے شخصی اسباب کا حوالہ دیکر منموہن وزارت سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے اپنی پیشکش میں کہا ہے کہ وہ اب پارٹی کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ان کی جگہ ان کے صاحبزادے ملن دیوڑا کو وزارت میں وزیر مملکت کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ مرلی دیوڑا کے استعفے کے پیچھے دراصل کچھ اور وجوہات ہیں۔ انہوں نے یوں ہی استعفیٰ نہیں دیا۔ بطور وزیر پیٹرولیم ریلائنس پیٹرولیم کو فائدہ پہنچانے میں ان کے کردار پر کمپٹرولر و آڈیٹر جنرل (کیگ) کی جانب سے سوال اٹھائے جانے کے بعد ان کا جانا طے تھا۔ اس کے اشارے انہیں مل چکے تھے۔ 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی طرح کیگ میں ریلائنس انڈسٹریز کی جانب سے لگائے جارہے کے جی ڈی۔6 تیل سیکٹر کی لاگت بے تحاشہ بڑھا کر سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے پر انگلی اٹھائی ہے۔ کیگ کی رپورٹ کے مطابق حکومت کو امبانی بھائی چلا رہے ہیں نہ کہ یوپی اے۔ یہ اس حکومت میں کھلے عام ہو رہی لوٹ پاٹ کی علامت ہے۔ کیگ رپورٹ میں لاگت بڑھنے کی میعاد کے دوران وزارت پیٹرولیم میں امبانی حمایتی مرلی دیوڑا وزیر تھے۔ سرکار اس معاملے میں کسی بھی کارروائی سے بچنے کے علاوہ تاخیر کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے اور اس سرکار کے بچے ہوئے تین برسوں کی میعاد کے دوران امبانی بھائیوں کو پوری سرپرستی ملتے رہنا یقینی ہے۔ کیگ نے کے جی ڈی ۔6 سیکٹر کی لاگت میں بھاری بھرکم اضافے پر اعتراض کیا ہے۔ سی بی آئی نے بھی 2009 میں الزام لگائے تھے کہ ہائیڈرو کاربن ڈائریکٹر جنرل وی کے سبل نے آر آئی ایل کو فائدہ پہنچاتے ہوئے کہ جی ڈی 6 سیکٹر کی لاگت 2.4 بلین ڈالر سے بڑھا کر 8.8 بلین ڈالر کی اجازت دی تھی۔ ستمبر اور دسمبر2006 ء میں یہ اجازت دی گئی تھی اور سی بی آئی پی آر نمبر6 2009 کے ذریعے سی بی آئی کی بد عنوانی انسدادیونٹ نے ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کو شخصی فائدہ و خدمات کے سلسلے میں دائر کی گئی تھی۔ ان سب کے باوجود منموہن سنگھ میں امبانی یا پھر کسی صنعت کار کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ اس لئے امبانی کیگ کی رپورٹ یا کسی دیگر ایجنسی کی رپورٹ سے نہیں ڈرتے، ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ کیگ کی جس رپورٹ میں مرلی دیوڑا پر انگلی اٹھائی گئی ہے سرکار پارلیمنٹ کے آنے والے اجلاس میں اسے اپنے لئے نئی مصیبت کی شکل میں دیکھ رہی ہے۔ بتاتے ہیں کہ اسے ڈر یہ ستا رہا ہے کہ اپوزیشن اسے ضرور اشو بنائے گی اور پارلیمنٹ میں سرکار کی فضیحت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا پارٹی نے انہیں (مرلی دیوڑا) کو خود ہی ہٹنے کے لئے پہلے ہی اشارے دے دئے تھے۔غور طلب ہے کہ مرلی دیوڑا نے وزارت کا عہدہ اس وقت چھوڑا ہے جب وزیر اعظم منموہن سنگھ کیبنٹ میں توسیع کو قطعی شکل دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ مرلی دیوڑا نے جو کچھ کرنا تھا وہ کرلیا ہے، اب ان کے بیٹے کو کیبنٹ میں شامل کیا جاتا ہے یا نہیں یہ بہت سی دیگر باتوں پر منحصر کرتا ہے۔ مرلی دیوڑا کے عہد میں امبانی بھائیوں کا ٹکڑاؤ تیل کی ریکارڈ قیمتوں کے ارن ویدانتا سودے میں دیری خاص باتیں رہیں۔ جب امبانی بندھوؤں کے درمیان ٹکراؤ شباب پر تھا تب انل امبانی نے بطور وزارت پیٹرولیم دیوڑا پر ریلائنس انڈسٹریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ بتاتے ہیں دیوڑا نے کچھ ہفتے پہلے ہی کانگریس اعلی کمان کے سامنے اپنا استعفیٰ رکھا تھا۔ استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے یا نہیں اس کو لیکر ابھی سسپینس بنا ہوا ہے۔
Tags: Anil Narendra, CAG, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Mukesh Ambani, Murli Deora, Sonia Gandhi, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...