Translater

22 مئی 2020

اظہار رائے کی آزادی کا اصول ہے صحافت کی آزادی

سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ صحافت کی آزادی آئین میں دیئے گئے بولنے اور اظہار رائے کی آزادی کا اخلاقی اختیار اصل بنیاد ہے۔ بڑی عدالت نے یہ بھی کہاکہ بھارت کی آزادی اس وقت تک محفوظ ہے جب تک اقتدار کے سامنے صحافی کسی بدلے کی کارروائی کا خوف مانے بنا اپنی بات کہہ سکتا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندر چور، جسٹس ایم آرشاہ کی بینچ نے یہ سخت رائے زنی ریپبلک ٹی وی کے مدیر ارنب گوسوامی کے معاملے میں کہی۔ اس نے کہا ایک صحافی کے خلاف ایک ہی واقعہ کے سلسلے میں بہت سے مجرمانہ مقدمے دائر نہیں کئے جاسکتے۔ اسے کئی ریاستوں میں راحت کے لئے چکر لگانے کے لئے مجبور کرنا صحافت کی آزادی کا گلا گھونٹنا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس وقت عارضی راحت دی جب عدالت نے پال گھر میں دو سادھوؤں اور تین تین افراد کے ذریعے پیٹ پیٹ کر قتل کے واقعہ سے متعلق پروگرام کے سلسلے میں ناگپور میں درج ایف آئی آر کے علاوہ باقی سبھی جگہ معاملے منسوخ کردیئے لیکن اس کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے سے انکار کردیا۔ ناگپور میں درج ایف آئی آر  ممبئی میں منتقل کردی گئی۔ جس کی جانچ ممبئی پولیس کررہی تھی۔ عدالت کی بینچ نے 56صفحات کے فیصلے میں کہاکہ یہ ایف آئی آر منسوخ کرانے کے لئے ارنب گوسوامی کو نوڈل عدالت کے پاس جانا ہوگا۔ حالانکہ بینچ نے گوسوامی کو کسی طرح کی سزا سے متعلق تین ہفتے کی سرپرستی فراہم کردی ہے۔ جسٹس چور نے فیصلے میں کہادفعہ 19 (ایک) (اے) کے تحت صحافیوں کو بولنے واظہار رائے کی آزادی کے لئے ملے حق اعلیٰ سطح کے ہیں۔ لیکن یہ لامحدود نہیں۔ اس نے کہا میڈیا کو بھی مناسب پابندیوں کے دائرے میں رہ کر ہی جواب دہ ہیں۔ بینچ نے کہا حالانکہ ایک پترکار کے بولنے اور اظہار رائے کی آزادی بالاتر پائیدان پر نہیں ہیں۔ لیکن بطور سماعت ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے پہلے کا وجود دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر میڈیا کو ایک نظریہ اپنانے کے لئے مجبور کیاگیا تو شہریوں کی آزادی کا وجود نہیں بچے گا۔
 (انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...