Translater
19 اگست 2022
نیوز چینل کا لائسنس منسوخ !
پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے اے آر وائی نیوز چینل کا آپریٹرنگ لائسنس منسوخ کر دیا ہے ۔اخبا ر ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ای ایس ایم آر اے نے یہ فیصلہ 172ویں میٹنگ کے دوران لیا ہے جس کی صدارت اتھارٹی کے چیف سلیم بیگ نے کی تھی ۔ ایک فرمان میں وزارت نے کہا کہ اے آر وائی نیوز چینل کے حق میں جاری این او سی فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے ذرائع کے بتایا کہ بیگ نے اتھارٹی کے دیگر تین ممبران کی موجودگی میں کہا تھا کہ وزارت اندونی امور نے خط مورخہ 10-11-2021کے ذریعے سے شروع میں اے آر وائی کمیونیکشن لیمیٹد کے سیٹلائٹ ٹی وی لائسنس کی تجدید کیلئے این اوسی کو منظور ی دی تھی ۔وزارت کے خط 11-08-2022سے اے آر وائی نیوز کے سلسلے میں این او سی کو واپس لے لیا گیا ہے ۔ اے آر وائی نیوز چینل انتظامیہ نے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اتحادی حکومت نے این او سی منسوخ کرکے صحافی برادری کی مالی موت کی سمت میں ایک اور قدم اٹھایا ہے این او سی منسوخ کرنے کا مطلب نیوز چینل سے جڑوے چار ہزار سے زیادہ میڈیا پیشہ ور مالی طور پر بے روزگار ہوگئے ۔واضح ہو کہ اے آر وائی نیوز چینل نے 8اگست کو اپنے ایک شو میں رپورٹ دکھائی تھی جس میں عمران خان کے ایک مشیر حکمراں پارٹی پر فوج کے خلاف مہم چلانے کا الزام لگایا تھا رپورٹ میں یہ بھی صلاح دی گئی کہ فوج کے حکام کو اپنے بڑے افسران کے ناجائز اور غیر آئینی احکامات کی تعمیل نہین کرنی چاہئے ۔یہ رپورٹ دکھانے کے کچھ گھنٹوں بعد چینل کو بند کرنے کا حکم سنا دیا گیا ای ای ایم آر اے نے کہا کہ چینل نے ایسا مواد نشر کیا ہے جو بہت زیادہ قابل اعتراض ،نفرت پھیلانے اور ملک کی بغاوت سے وابسطہ ہے جو قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے ۔ مسلح افواج کے اند ر بغاوت کو بھڑکانے کے گمران کن ادارے سے پیش کی گئی تھی۔
(انل نریندر )
جان لیوا چینی مانجھا !
ہم خبریں پڑھتے رہتے ہیں کہ آج پھر کوئی شخص چینی مانجھے کی زد میں آگیا اور اس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی ۔حال ہی میں شمال مشرقی ضلع کے علاقہ ساشتری پارک میں چینی مانجھے کی لپیٹ میں آنے سے ایک بائک سوار کاروباری کی گردن کٹ گئی ۔حادثے میں اس کی بیوی اور بچے بال بال بچ گئے ۔ اس تاجر کو فوراً ٹرومہ سینٹر لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا ۔ اس کی پہچان بپن کی شکل میںہوئی وہ ناگلوئی کے راجدھانی پارک علاقے میں اپی فیملی کے ساتھ رہتا تھا ۔اس کی بیوی اور تین بیٹیاں ہیں ۔اس سے پہلے 25جولائی 2022کو حیدر پور فلائی اوور پر چینی مانجھے سے گردن کٹنے سے کاروباری سمیت رنگا کی موت ہو ئی تھی ۔ایسے ہی تغلق آباد میٹرو اسٹیشن کے سامنے فلائی اوور پر ہی ڈیلیوری بوائے نریندر مانجھے کی زد میں آکر نیچے گر گیا تھا اس دوران پیچھے سے آرہی نا معلوم گاڑی نے اسے کچل دیا جس سے اس کی موت ہوگئی ۔اسی دن جہانگیر پوری میں بھی چینی مانجھے سے طالب علم ابھینو کی گردن کٹ گئی تھی۔روزانہ 70سے زیادہ پرندے بھی مانجھے کی زد میں آکر زخمی ہو چکے ہیں ۔چاندنی چوک میں واقع دگھمبر جین لال مندر میں پرندوں کاچیریٹبل اسپتال ہے جہاں مانجھے سے زخمی پرندے آتے رہے ہیں ۔بتادیں کہ کئی مرتبہ مانجھا پیڑ اور بجلی کی پول پر اٹک جاتا ہے جس سے معصوم پرندے اس میں الجھ کر زخمی ہو جاتے ہیں ۔کئی زخمی پرندوں پر تو کسی کی نظر نہیں جاتی جس سے ان کی زندگی کی ڈور کٹ جاتی ہے ۔مانجھے سے کٹنے کے زیادہ تر حادثے فلائی اوور پر ہی ہوتے ہیں کیوں کہ پل کے آس پاس بسی بستیوں میں سے پتنگ کٹ کر اچانک آجاتی ہے جو بائک سواروں کیلئے موت کا سبب بن رہی ہیں ۔ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ سرکار اس چینی مانجھے پر سخت پابندی کیوں نہیں لگاتی ؟ اس کے درآمد کرنے والوں پر کیس درج کیا جائے اور قتل کا مقدمہ چلا یا جائے ۔
(انل نریندر)
سچے صحافیوںکی بہت ضرورت ہے !
فیک نیوز اور غلط اطلاعات کا دور چل رہا ہے ایسے حالات میں ہمیں ایسے صحافیوں کی ضرورت ہے جو سماج کے اندیکھے پہلوو¿ں اور غلطیوں کو اجاگر کرے فیکٹ کے ساتھ سچائی کو سامنے لانے والے صحافیوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے یہ خیال سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کے تھے ۔ جسٹس چندر چوڑ طلبہ کو خطاب کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ کچھ دنو ں میں دیش کی 75ویں یوم آزادی تقریب منائی جائےگی ہم سبھی کیلئے یہ ایک اہم ترین موقع ہوگا۔ 75بر سوں میں بھارت میں ہمارے آئینی اصولوں اور اقدار کی حصول کی سمت میں سبھی میدانوں میں ترقی کی ہے ۔ پھر بھی یوم آزادی جیسا دوسرا ایونٹ نہیں ہو سکتا ۔یہ صر ف ایک خانہ پور تقریب نہ رہے بلکہ ہمیں یہ بھی محاسبہ کر نا چاہئے کہ ہم اپنی آئینی اقدار اور آزادی دلانے والی عزیم شخصیتوں کے اصولوں کو پورا کرنے میں کتنا آگے بڑھے ہیں ۔مجھے یہ بات کہنے کیلئے آپ سے بہتر سامع اور کوئی نہیں مل سکتا آ پ دنیا بدل سکتے ہیں ۔ اپنی تعلیم کے ذریعے آپ اپنے پڑوس کو بھی بدل سکتے ہیں نوجوان پیڑھی پر ہمارے اصولوں کو پورا کرنے ذمہ داری ہے۔ آزادی کے 75سال بعد بھی بھار ت میں کئی فرقے اقتصادی طور سے پسماندہ ہیں کئی شہر ی سماجی اور اقتصادی میدانوں میں برابری سے محروم ہیں ۔ جب تک ہم سماجی جمہوریت کو زندگی میں نہیں اتاریں گے تب تک آزادی کے کوئی معنیٰ نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
17 اگست 2022
بہار کی سیاست بھاجپا کیلئے بڑی چنوتی !
بھاجپا بھروسہ توڑنے ،ممبر توڑنے خریدنے کی سازش کا جے ڈی یو میٹنگ میں الزام لگا ہے کہا گیا ہے کہ بھاجپا نے ہمیشہ دوکہ کیا ہے ۔ وہ علاقائی پارٹیوں کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ بھاجپا صرف ہندو مسلم کرکے دیش کا ماحول بگاڑ رہی ہے ۔یہ کہتے ہوئے جے ڈی یو نے بھاجپا سے اپنا اتحاد توڑ دیا ہے اور آر جے ڈی کے ساتھ نئی حکومت نے حلف لے لیا ہے۔اس اتحا دکے ٹوٹنے سے دونوں بھاجپا اور جے ڈی یو کو نئی چنوتیوں کا سامنا کر نا پڑے گا۔بھاجپا کی 2024کے لوک سبھا چناو¿ کی حکمت عملی کو بہار میں نتیش کمار نے جھٹکا ضرور دے دیا ہے واضح ہو کہ چار مہینہ سے نتیش اور بھاجپا میں جو ٹکراو¿ چل رہا تھا اس نے بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کو مات کھانی پڑی ۔گٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد بھاجپا صدر جے پی نڈا نے بہار کے کور گروپ کے ساتھ میٹنگ کی ہے اور اس میں جو ہوئے واقعے سے بھاجپا کا میشن 2024بھلے ہی پٹری سے نہ اترا ہو لیکن نتیش کے جھٹکے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ساو¿تھ انڈیا میں بھاجپا کرناٹک کو چھوڑ کر دیگر ریاستوں میں پیر جمانے میں اب تک کامیاب نہیں رہی ہے اگر نمبروں کو دیکھیں تو 2024کیلئے بھاجپا کا 266لوک سبھا سیٹوں پر مقابلہ 2019کے مقابلے میں مشکل ہو سکتا ہے ۔بہار میںلوک سبھا کی 40سیٹیں ہیں 2019میںاین ڈی اے (جے ڈی یو بھاجپا اتحاد) نے 39سیٹیں جیتی تھی ۔اب مہا گٹھ بندھن بننے سے بھاجپا بنام دیگر کے درمیان 60فیصد ووٹ کا فرق ہوگا ۔ یعنی بھاجپا 20فیصدتو مہا گٹھ بندھن کے پاس 80فیصدووٹ شیئر ہے بھاجپا کے ایک جنرل سیکریٹری نے بتا یا کہ نتیش کو اتنے دن ساتھ رکھنے کی اہم وجہ یہی ہے کہ ان کا ووٹ شئیر بھاجپا کو مل جائے تو ہار نہیں ہوگی اور آر جے ڈ ی سے مل جائے تو بھی وہ ہارے گی نہیں ۔ بہار میں جے ڈی یو کے این ڈی اے سے الگ ہونے کے بعد بھاجپا نے صرف ایک ریاست میں اقتدار گنوایا ہے بلکہ اس کا ایک بڑا اتحادی بھی اس سے دور ہو گیا ہے اور جے ڈی یو میں تلخی کافی عرصے سے چلی آرہی تھی لیکن حالیہ کچھ واقعات نے دونوں پارٹیوں میں طلاق کچھ جلد ہی کرا دی ۔بھاجپا لیڈرشپ نے اسے روکنے کی کوشش کو کی لیکن اس میںکچھ زیادہ چنتا نہیں دکھائی ۔ذرائع کے مطا ق بھاجپا نیتاو¿ں کو یہ پتا چل چکا تھا کہ نیتش اب رکنے والے نہیں ہیں جو پارٹی تعداد ہے اس میں بھاجپا کسی کو توڑ کر اور دوسری پارٹیوں کو ساتھ لیکر بھی اپنی سرکا ر بنا نے کی پوزیشن میں نہیں تھی ایسے میں بھاجپا نے اب اسمبلی میں اپوزیشن کا رول ہی نبھانا بہتر سمجھا لیکن وہ نتیش پر سیدھے حملے سے بچنا چاہے گی ۔ بھا جپا کا اب پور ا حملہ آر جے ڈی پر ہوگا ۔آر جے ڈی کے کرپشن کے سابقہ معاملوں کو لیکر بھاجپا ایک بار پھر زور دار حملہ آور ہوگی اسی پیچ پر وہ اگلے لوک سبھا اور اس کے بعد بہار اسمبلی چناو¿ کی تیاری بھی کرے گی ۔ اس واقعے کے بعدبھا جپا کو بہار میں تنظیمی تبدیلی کرنا پڑے گی ۔ پارٹی اپنے دم پر چناو¿ لڑنے کی پوزیشن میں ایسی لیڈر شپ کو ابھارے گی جو سماجی اور سیاسی تجزیوں میں تو ہو بھاری ہی ہو اور ساتھ ہی اس کی سیاسی اپیل بھی بہتر ہو ایسے میں پرانے نیتا و¿ کو ایک بار پھر سے سامنے لایا جا سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
سلمان رشدی پر حملہ :ہدی متار کون ہے؟
نیو یارک میں مشہور مصنف سلمان رشدی پر حملہ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا 24سالہ مشتبہ نوجوان ہدی متار کی ہمدردی شیعہ کٹر پسندوں اور ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے مقاصد کے تئیں تھی ۔میڈیا میں آئی خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیو یارک اسٹیٹ پولیس نے مشتبہ کی پہچان نیو جرسی کے باشندے ہدی متارکے طور پر کی ہے ۔مغربی نیو یارک میں موٹاکوا سنٹی ٹیوشن میں لیکچر دینے کے دوران حملہ آور نے اسٹیج پر چڑھ کر رشدی پر چاقو سے حملہ کیا بتا یا جاتا ہے کہ حملہ آور نے کچھ ہی سیکنڈ میں آٹھ سے زیادہ بار رشدی پر حملہ کیا ۔این بی سی نیوز کے مطابق حملے کی جانچ سے وابسطہ ایک افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملزم ہدی متارکے سوشل میدیا اکاو¿نٹ کی پرائمری جانچ سے پتا چلا ہے کہ وہ شیعہ کٹر پسند اور اسلامی ریولیوشنری گارڈ (ایران)کے تئیں عقیدت رکھتا تھا ۔ اب تک متار اور اسلامی ریوولیوشنری سے سیدے تعلق ہونے کی کوئی جانکاری تو نہیں ملی ہے لیکن اس کے موبائل فول کے میسجنگ ایپ سے ایران کے مارے گئے کمانڈر قاسم سلیمانی اور ایران حکومت کے تئین ہمدردی رکھنے والے عراقی شدت پسندوں کی تصویر ملی ہے ۔سلیمانی ایک سینئر ایرانی فوجی افسر تھے جن کو سال 2020میں ہلاک کر دیا گیا تھا ۔صحافی جوشوا گڈمین اپنے خاندان کے ساتھ مغربی نیو یارک میں میٹاکوا انسٹی ٹیوشن گئے تھے لیکن یہاں ان کے سامنے مصنف سلمان رشدی پر ہوئے حملے کی واردات ہوئی ایک نیوز ایجنسی کے صحافی گڈ مین بھی اس پروگرام میں موجود تھے جہاں رشدی ایک سمپوزیم میں شامل ہونے پہنچے تھے ۔ صحافی نے اپنے موبائل فون سے واقعے کی تصویریں لیں اور اپنے انسٹی ٹیوٹ پر ہوئے حملے کی ویڈیوں بھی بھیجے ۔ وہیں میٹاکوا کاو¿نٹی کے ایگزیکٹیو پال ویڈل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مایوس کن ہے ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں ہم دوسروں کے الگ نظریات کو نہیں سن سکتے ۔ خاص کر انسٹی ٹیوٹ جیسی جگہ جہاں دنیا بھر کے مبصرین اپنے تجربات رکھنے آتے ہیں ۔ادھر کچھ ایرانیوں نے اس حملے کی تعریف بھی کی ہے اور کچھ نے سلمان رشدی پر حملے کو لیکر ملی جولی رائے دی ہے ۔تہران میں کچھ لوگوں نے مصنف پر حملے کی تعریف کی ایک شخص رضاامیر ی نے کہا کہ میں رشدی کو نہیں جانتا لیکن مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی ہے کہ ان پر حملہ کیا گیا ہے ۔کیوں کہ انہوں نے اسلام کی توہین کی ہے ۔حالاںکہ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں تشویش ہے کہ ایران دنیا سے اور کٹ جائےگا ۔جیو گرافائی ٹیچر مہاشد براتی نے کہا کہ میں مانتا ہوںکہ جنہوں نے ایسا کیا وہ ایران کو الگ تھلگ کر نے کی کوشش کررہے ہیں رشدی پر حملے کے بعد میزبان ادارے میں سیکورٹی اور احتیاط کر لیکر سوالیہ نشان کھڑے ہونے لگے ہیں ۔نیو یارک پوسٹ کی خبر کے مطابق 2001میں رشد ی نے اپنے آس پاس سیکورٹی کا گھیرا زیادہ تنگ ہونے کی شکایت کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ اپنے آس پاس بہت سیکورٹی دیکھ کر تھوڑی دقت ہوتی ہے۔
(انل نریندر )
11 اگست 2022
ایودھیا میں ناجائز زمین کی خرید و فروخت !
یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے کہ ایودھیا میں رام مندر بننے سے اس سے کروڑ وں اربوں لوگوں کی عقیدت جڑی ہوئی ہے یہ کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ شری رام مندر کی نگری ایودھیا میں زمین کا گھوٹالہ ہو لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے ایودھیا ڈولپمنٹ اتھارٹی نے اپنے دائرے اختیار علاقے میں ناجائز طور سے پلاٹ بیچنے اور ان پر تعمیراتی کام کرانے والے 40لوگوں کی فہرست جاری کی ہے ۔جس میں ایودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر اسمبلی وید پرتا پ گپتا کا نام بھی شامل ہے اتھارٹی کے وائس چیئر مین وشال سنگھ نے شنیوار کو بتایا کہ ناجائز طور زمین کی خرید و فروخت اور اس پر تعمیر کرانے والے 40لوگوں کی ایک فہرست جاری کی گئی ہے اور ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔وہیں گپتا اور اپادھیا ئے نے الزام لگا یا کہ یہ ایک سازش ہے اور انہیں غلط طریقے سے اس میں انہیں پھنسایا جا رہا ہے ۔ فہرست میںملکی پور علاقے سے سابق بھاجپا ممبر اسمبلی گھورکھناتھ بابا کا نام بھی شامل ہے غور طلب ہے کہ اس سال کے شروع میں ہوئے اسمبلی چناو¿ سے پہلے ایودھیا میں غلط طریقے سے زمین کی خرید و فروخت کا معاملہ سرخیوں میں آیا تھا ۔علاقائی ایم پی للو سنگھ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر اس معاملے کی منصفانہ جانچ ایس آئی ٹی سے تفتیش کرانے کی مانگ کی تھی ریاست کی بڑی اپوزیشن پارٹی سپا سے بھاجپا کو آڑے ہاتھو ں لیتے ہوئے اس معاملے کی جانچ کرکے قصور واروں کے خلا ف سخت کاروائی کی مانگ کی ہے ۔ پارٹی نے اپنے سرکار ی ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایودھیا میں بھاجپایوں کا پاتھ اور بھاجپا کے میئر ،شہری ممبر اسمبلی اور سابق ممبر زمین مافیا کے ساتھ مل کر بسا رہے ناجائز کالونیاں ۔ذمہ دار محکموں کی ملی بھگت پر اب تک تیس ناجائز کالونیاں بسا کر سرکار کے اربو ں روپے کی محصول کو چنا لگا یا گیا ہے ۔معاملے کی جانچ ہو اور قصوار واروں کی خلا ف کاروائی کی جانی چاہئے ۔
(انل نریندر)
روز روز شوہر سے مار کھانے کی ہمت نہیں رہی!
امریکہ میں نیو یارک کے کوئینس میں گھریلوتشدد سے تنگ آکر 32سالہ خاتون مندیپ کور نے خود کشی کر لی وہ ہندوستان کی ریاست اتر پر دیش کے ضلع بجنور کی رہنے والی تھی ۔ اپنی خودکشی سے پہلے انہوں نے ویڈیو ریکارڈ کر اپنا درد بیان کیا تھا ۔ پنجابی میں بولتے ہوئے مندیپ کور نے اس ویڈیو میں شوہر اور سسرالیوں پر خودکشی کیلئے مجبور کرنے کا الزام لگا یا ہے اس میں مندیپ نے روتے ہوئے کہا کہ پا پا میں روز روز کی مار کھاکر تھک چکی ہوں اب مجھ میں اور مار کھانے کی ہمت نہیں بچی ہے۔ میں مرنے والی ہوں ،برائے مہر بانی مجھے معاف کردینا ۔ اس ویڈویو کو 2 اگست کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی مندیپ نے چھت کے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کر لی ۔ مندیپ نے یہ بھی بتایاکہ میری چار اور دو سال کی دو بیٹیاں ہیں رنبودھ بیر سنگھ کو بیٹا چاہئے تھا ۔ مجھے کم جہیز کی بات کہہ کر پیٹا جاتا تھا میں اتنے دن سب کچھ جھیلتی رہی کہ مجھے امید تھی کہ شوہر سدھر جائے گا ۔اب آٹھ سال گزر چکے ہیں میں اپنے کو سجھانے کی کوشش کی اب میں روز روز مار نہیںکھا سکتی اس لئے خودکشی کرنے پر مجبور ہوں ۔ مندیپ کور کی خودکشی نے این آر آئی شادی میں عورتوں کو اذیت سے بچانے کیلئے سخت قانون کی ضرورت کا معاملہ پھر سے بحث میں آگیا ہے ۔ اس بارے میں بل بنا یا گیا ہے جسے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا اور اس کمیٹی نے اپنے رپورٹ بھی دے دی اب پاریمنٹ میں بل کے پیش ہونے اور پاس ہونے کا انتظار ہے ۔ یہ ایک ایسا اشو ہے جسے لیکر این آر آئی کئی برسوں سے نکتہ چینی کر رہی ہیں ۔ سرکار نے بھی کئی موقعوں پر ان کی مانگ کی نہ صرف ماننے کا بھروسہ دلایا بلکہ قانون بنانے کی پہل بھی کی لیکن اب تک تمام کو ششیں ناکام رہیں ۔این آر آئی عورتوں کو اذیت سے راحت دلانے کیلئے رجسٹریشن آف میریج آف نان ریزیڈنٹ انڈین بل ابھی پارلیمنٹ میں لٹکا ہوا ہے سبھی ریاستوں کے رجسٹرار آفس سے کہا گیا ہے کہ وہ سبھی شادی کے رجسٹریشن کو وزارت کی ویب سائٹ پر لوڈ کریں بل کے پاس ہونے کی بعد این آر آئی میں اذیت یا دھوکے کی شکار مہیلا کیلئے سنگل ونڈو سسٹم کا کام کرئے گا ۔مجوزہ بل میں کہا گیا تھا کہ سبھی این آر آئی کو شادی کے تیس دنوں کے اندر اس کا رجسٹریشن کر وانا ضروری ہوگا ۔ اگر وہ بیرون ملک رہنے والی کسی این آر آئی خاتون سے شادی کرنا ہے تو وہاں بھی شادی کے تیس دنوں کے اندر وہاں کے افسر کے سامنے رجسٹرڈ کرائے بغیر بیرون ملک کو جاتا ہے تو وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر اسے نوٹس دیا جائے گااور مانا جائے گا کہ اسے نوٹس مل گیا ہے ۔اور اس بنیاد پر قانونی کاروائی شروع ہو سکتی ہے این آر آئی شادی میں عورتوں کو اذیت دینے کا معاملہ اتنا بڑا ہے کہ یہ اسی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ 2017سے 2020کے درمیان وزارت خارجہ کو این آر آئی خواتین کی طرف سے گھریلو اذیت کی 3995شکایتیں درج ہوئی تھیں ۔ ہر ایک آٹھ گھنٹے میں بیرون ملک رہنے والی ایک ہندوستانی بیوی مدد کیلئے اپنے گھر فون کرتی ہے ۔الگ سے ان شکایتوں کیلئے ہیلپ لائن بنا نے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...